429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 23)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

سب اپنے اپنے طور پر اپنے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اورہان کی تلاش میں مگن تھے۔ حیدر صاحب اور سرفراز صاحب خود بھی اس کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے تھے اور اپنے کولیگز اور بزنس پارٹنرز سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ ان کی مدد کرے۔ زاویار اپنے دوستوں کے ساتھ مختلف جگہوں پر اس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ خواتین گھر میں موجود اس کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

مہرماہ نے یونیورسٹی سے لیو لے لی تھی اور انہیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا تھا کہ فلحال ان حالات میں وہ پڑھا نہیں سکتی۔ وہ اس کنڈیشن میں یونیورسٹی جانے سے قاصر تھی۔ اس کا دل و دماغ ہر وقت ایک ہی انسان کو مانگ رہا تھا۔وہ تھا تو سب حسین تھا اب نہیں تھا تو سب بے معنی ہو رہا تھا۔ لیکن وہ اس سب میں اپنے سٹوڈنٹس کا نقصان نہیں کر سکتی تھی۔

انس اپنی ٹیم کے ساتھ اورہان کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔ عریش سلطان کی نظر اس کے ایک ایک قدم پر جمی تھی۔ وہ کسی ثبوت کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ ہر ایک ثبوت کو مٹا دیا گیا تھا۔

انس نے سب سے پہلے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنا چاہی کیونکہ فیکٹری تو بری طرح تباہ ہو چکی تھی اور فیکٹری کے آس پاس کوئی گھر یا بلڈنگ بھی موجود نہیں تھی۔ اس لیے وہ تھوڑے فاصلے پر موجود ایک رہائشی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں آیا۔ اس نے وہاں کے کیمروں کی فوٹیج دیکھنی تھی تاکہ اندازہ لگا سکے کہ اورہان یہاں تنہا آیا تھا یا کوئی اور بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔ اس کے ساتھ مشکوک فرد کی شناخت کے لیے بھی یہ ضروری تھا۔ وہ اس وقت پولیس وردی میں ملبوس تھا جس کے باعث اپارٹمنٹ مینجمنٹ نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا اور اس کے معاملہ بیان کرنے پر وہ اسے کنٹرول روم میں لے گئے تھے۔ وہاں جا کر انس نے حادثہ والی رات کی فوٹیج آن کروائی اور غور سے دیکھنا شروع کی۔

یہ ہفتہ کی رات کی فوٹیج تھی جب رات کے تقریبا دس بجے کے قریب وائٹ اوڈی اس راستے سے گزرتی دکھائی دی۔ انس نے فورا فوٹیج روکی اور زوم کر کے دوبارہ دیکھی پھر سلو موشن میں بھی فوٹیج پلے کی اور اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ اورہان تنہا ہی اس فیکٹری کی جانب گیا تھا۔

یہ بات انس کو مزید کھٹک رہی تھی کہ اورہان رات کے اس پہر آخر کیوں اس ویران اور سنسان جگہ پر موجود فیکٹری میں جائے گا؟

کہیں اس کے پیچھے ان لوگوں کا ہی ہاتھ تو نہیں جو اس پر الزام لگوا چکے تھے؟

کیا وہ کسی سازش کا حصہ بن چکا ہے؟

کیا کوئی ہے جو صرف اس کو برباد ہی نہیں بلکہ زندہ ہی نہیں دیکھنا چاہتا؟

کیا وہ زندہ ہے بھی یا ۔۔۔؟

اس سے آگے وہ سوچ نہیں سکا اور سوچنا چاہتا بھی نہیں تھا۔ یہ دو دن انہیں بھر پور صبر سے کام لینا تھا اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا تھا۔ مگر وہ ان دو دنوں میں اپنے یار غار کو ہر قیمت پر تلاش کرنا چاہتا تھا۔

مگر ان دو دنوں بعد ان پر کیا قیامت برپا ہونی تھی اس کا اندازہ شاید کسی کو بھی نہیں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن کس کرب اور اذیت سے گزرے تھے یہ تو وہ خود جانتے تھے یا ان کا خدا۔ مگر دل کی امید کسی صورت ماند نہیں پڑی تھی۔ انس نے ہر جگہ چھان ماری تھی۔ اورہان کے بزنس پارٹنرز اور کلاس فیلوز سے بھی مل کر دیکھ لیا تھا مگر کسی کو اورہان کی گمشدگی کا بھی علم نہیں تھا۔

انس اس وقت حیدر صاحب کی طرف ہی موجود تھا جب اس کو ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ اس نے ایک جھٹکے سے کال ریسیو کی۔ دو دن سے یہی ہوتا آ رہا تھا جب بھی گھر کے کسی فرد کو کسی نامعلوم نمبر سے کال آتی تھی وہ اسی طرح فون کال ریسیو کرتے تھے ۔انہیں یہی محسوس ہوتا تھا کہ کال کی دوسری جانب اورہان موجود ہو گا اور اس کی ہنستی مسکراتی آواز سے ان کے دل کی ساری ویرانی دور ہو جائے گی مگر ابھی تک یہ محض ایک سراب ہی تھا۔

کال کی دوسری جانب ایک اطلاع موصول ہوئی تھی۔ جس کو سنتے ہی اس کے چہرے کی رنگت زرد ہو رہی تھی۔ سب اس کے تاثرات پر غور کر رہے تھے۔

انس نے کال بند کی اور سب کو خود کی جانب متوجہ پایا۔

“کیا ہوا بیٹا، کس کی کال تھی؟”

یہ پوچھنے والے سرفراز صاحب تھے۔

“انکل ہسپتال سے کال آئی ہے ۔ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آ گئی ہے۔”

“انہوں نے بتا دیا ناں کہ وہ میرا بیٹا نہیں ہے۔”

نہایت آس لیے صوفیا بیگم نے اس سے استفسار کیا۔

“وہ کہہ رہے ہیں کہ ہسپتال آ کر رپورٹ لے لیں۔”

“چلو جلدی۔”

حیدر صاحب فورا باہر کی جانب گئے ان کے پیچھے ہی انس بھی بھاگا۔ سرفراز صاحب بھی فورا باہر آئے انہیں اسی وقت گھر پہنچنا تھا۔ کیونکہ سرفراز ولا میں بھی کسی بڑے کا ہونا ضروری تھا معلوم نہیں کہ کیا خبر موصول ہو۔

انس نے گاڑی ڈرائیو کی۔ حیدر صاحب اس کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان تھے۔ ہر وقت ہشاش بشاش رہنے والے کی حالت اس وقت اتنی ویران تھی کہ انس نے جب ڈرائیو کرتے ہوئے ان کو دیکھا تو اس کی آنکھیں نم ہونا شروع ہو گئی۔

ہسپتال پہنچ کر اس کی راہداریوں سے گزرتے ہوئے اک لمحے کے لیے ان کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔ ایک ڈر تھا جو رگ و پے میں سرایت کر رہا تھا۔ انس نے ریسیپشن سے ڈاکٹر کے کمرے کا معلوم کیا اور ٹیسٹ رپورٹ لینے ڈاکٹر کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ حیدر صاحب بھی اس کے ساتھ ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ ایک لمبا سانس کھینچ کر انس نے دروازہ کھولا۔

اب منظر کچھ یوں تھا کہ ڈاکٹر اپنی راکنگ چئیر پر موجود تھا اور نظر کا چشمہ ناک پر ٹکائے رپورٹ کو غور سے پڑھ رہا تھا۔ ایک نظر اٹھا کر ان دونوں کی جانب دیکھا جن کی خوشی اور غم اس رپورٹ کے نتائج پر منحصر تھے۔ پھر ایک آہ بڑھتے ہوئے رپورٹ کے نتائج بتانا شروع کیے۔

“مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈیڈ باڈی مسٹر اورہان حیدر عظیم ہی کی ہے۔”

ڈاکٹر کے الفاظ اور لہجے سے افسوس جھلک رہا تھا۔ مگر حیدر صاحب اور انس کو تو جیسے کسی نے زندہ قبر میں دفن کر دیا تھا۔

موت کی خبر ۔۔۔ اپنے بیٹے کی موت کی خبر۔۔۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر۔۔۔ اتنی جھلسی ہوئی ڈیڈ باڈی کہ آخری دیدار بھی ممکن نہیں۔۔۔

(ابھی تو اورہان کا رشتہ لینے جائیں بابا)

اس کی شرارت میں ڈوبی آواز۔۔۔

(بابا مجھے معلوم ہے آپ اب بھی ینگ مین ہیں۔ مجھ بیچارے پہ رحم کریں)

اس کا بابا کے ساتھ مذاق۔۔۔

(آپ کا بیٹا آپ سے کبھی بڑا نہیں ہو سکتا بابا)

اس کی بابا کے لیے عزت۔۔۔

حیدر صاحب کا دل پھٹنے کے قریب تھا۔ ان کا بیٹا ۔۔۔ ان کا اورہان۔۔۔ ان کی جان۔۔۔ ان کا مان۔۔۔ ان کا لاڈلا۔۔۔

کیا سچ میں وہ یہاں اس فانی دنیا سے رخصت ہو چکا تھا؟

کیا اب وہ کبھی بھی اس کو اپنے سامنے دیکھ نہیں پائیں گے؟

کیا اب وہ کبھی مسکرا کر ان کے گلے نہیں لگا کرے گا؟

کیا دوبارہ وہ ان سے کوئی فرمائش نہیں کرے گا؟

کیا اچھے لوگ اتنی جلدی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں؟

کیا کوئی ان کے بیٹے جتنا پیارا اور فرمانبردار ہو سکتا تھا؟

اس کی مسحور کن ، مسکراتی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی تھی۔

“نہیں، نہیں یہ ممکن نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا ۔ تم جھوٹ بول رہے ہو ناں۔ میرا بیٹا نہیں ہو سکتا وہ۔”

وہ آہستہ آواز میں بڑبڑا رہے تھے اور آخر میں ان کی آواز اونچی ہو چکی تھی۔ وہ اس ڈاکٹر کی بات ماننے کو تیار نہیں تھے۔

“آئی ایم سو سوری ۔میں سمجھ سکتا ہوں آپ ایک باپ ہیں، یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے ۔ میری اللہ سے دعا ہے وہ آپ کو صبر دے۔”

ڈاکٹر کی بات سننے کی بجائے وہ اب انس کی جانب متوجہ تھے۔

“انس تم بتاو ان کو ، ان سے غلطی ہوئی ہے۔ وہ میرا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ رپورٹ درست نہیں ہے۔”

وہ انس سے پوچھ رہے تھے جو ظاہری طور پر تو ان کے ساتھ ہی بیٹھا تھا مگر اس کا ذہن اس وقت ماضی میں گم تھا۔

(یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آزمائش کے وقت میں ہی نہ رہوں)

سلاخوں کے پیچھے موجود اس شخص نے یہ الفاظ کیسے کہہ دیے تھے؟

یہ کیا کہہ گیا تھا وہ۔۔۔

کیا وہ جانتا تھا کہ اب اس دنیا میں اس کا وقت ختم ہونے کے قریب تھا؟

کیا وہ اس کو اندھیری غار میں تنہا چھوڑ گیا تھا؟

کیا دو دوستوں کی محبت اور خلوص کی داستان اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی؟

کیا یار غار کا سفر ختم ہو چکا تھا؟

اس کا دل اس سب کی نفی کر رہا تھا۔

جب حیدر صاحب کے پکارنے پر بھی اس کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو انہوں نے اسے جھنجھوڑا۔ وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا تو حیدر صاحب کے الفاظ پر اس کا دل چاہا کہ کاش وہ کبھی ہوش میں نہ آتا۔

“تم نے کہا تھا تم اسے صحیح سلامت ڈھونڈ کر لاوں گے۔”

وہ اس سے جواب طلب کر رہے تھے۔ اور اس کی زبان ہلنے سے انکاری ہو چکی تھی۔

“تم بول کیوں نہیں رہے؟”

وہ اس کو گریبان سے پکڑ چکے تھے۔ جس پر انس نے آہستگی سے ان کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کر دیے بالکل اسی انداز میں جیسے اورہان کیا کرتا تھا۔ گویا یہ احساس دلایا کہ ان کا ایک بیٹا اب بھی موجود ہے۔

انس کے گلے لگتے ہی ان کے ہاتھوں کی گرفت اس کے گریبان پر کمزور پڑ گئی۔ اور وہ چھوٹے بچوں کی طرح اس کے گرد زور سے بازو حائل کر گئے۔

یہ منظر اس حد تک درد ناک تھا کہ وہاں موجود ڈاکٹر کی آنکھ سے آنسو نکل پڑے۔ اپنی ناک سے چشمہ اتار کر انہوں نے ٹشو پیپر سے آنسو صاف کیے۔ ہسپتال کے عملے میں سے ایک نرس جو ہاتھوں میں ایک پیکٹ لیے ان تک آ رہی تھی۔ وہ بھی وہیں رک چکی تھی جب وہ دونوں الگ ہوئے تو وہ نہایت دکھی انداز میں ان تک آئی۔

“سر میت کی تمام چیزیں جل کر بھسم ہو چکی تھی سوائے اس ایک انگوٹھی کے۔”

اس نے ایک ٹرانسپیرنٹ لفافہ ان کے آگے بڑھایا جس میں انس کی دی گئی ایک انگوٹھی موجود تھی جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اورہان کو پہنائی تھی۔

انس نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس لفافے کو تھاما اور کسی متاع جان کی مانند اسے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں تھام لیا۔ اور حیدر صاحب کو سہارا دیے ہسپتال کی سرد اور وحشت ناک راہداریوں سے گزرتا باہر آیا اور دل سے دعا کی کہ خدا دشمن کو بھی اس اذیت سے محفوظ رکھے۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر حیدر صاحب کو بٹھایا جن کی آنکھوں میں اب صدیوں کی تھکن موجود تھی۔

خود بھی گاڑی میں آ کر بیٹھا اور گرے بنگلے کی طرف گاڑی کا رخ موڑ دیا۔ جہاں سب اس خبر سے بے خبر ایک اچھی خبر سننے کے منتظر تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس کی گاڑی گرے بنگلے کے باہر آ کر رکی۔ اس نے فورا باہر نکل کر حیدر صاحب کی طرف کا دروازہ کھولا اور انہیں تھام کر گھر کے اندر بڑھا۔سب لوگ لاوئنج میں ہی جمع تھے اور ان کے کان صرف یہ سننا چاہتے تھے کہ وہ اورہان نہیں ہے۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

ان دونوں کی حالت کو دیکھ کر ہی ان کے دل ڈر چکے تھے۔ ان کی چھٹی حس انہیں کسی بری خبر کی اطلاع دے رہی تھی۔ صوفیا بیگم اور فاریہ بھاگ کر حیدر صاحب کی جانب آئیں ۔

“حیدر بتائیں وہ میرا اورہان نہیں ہے۔”

ان کے کان یہی جواب سننا چاہتے تھے۔

“بابا ، بھائی کو ڈھونڈ لائیں۔ مجھے پتا ہے وہ میرے بھائی نہیں تھے۔”

فاریہ اپنے بابا سے التجا کر رہی تھی کہ وہ کہہ دیں کہ وہ آگ میں جھلسی ہوئی ڈیڈ باڈی اس کے بھائی کی نہیں ہے۔ مگر حیدر صاحب کی خاموشی انہیں کچھ اور ہی پیغام دے رہی تھی۔

“آپ ہی کچھ بتا دیں پلیز”

اپنے بابا کی مسلسل خاموشی پر وہ اب انس کی جانب متوجہ ہوئی تھی جس کی نگاہیں فرش پر ہی جمی ہوئی تھی۔ جو فاریہ کو مزید ڈرا رہی تھی۔ انس کی خاموشی پہ صوفیا بیگم آگے بڑھی اس سے پہلے کو وہ انس سے کچھ پوچھتی سائرن کی آواز ان کی سماعت سے جا ٹکرائی اور دیکھتے ہی دیکھتے دو لوگ ہاتھوں میں سٹریچر تھامے اندر کی جانب آتے دکھائی دیے۔ میت کو لاوئنج کے عین وسط میں رکھ کر انس کے کندھے پر تھپکی دے کر وہ لوگ یہاں سے چلے گئے اور صوفیا بیگم اسی جگہ زمین پر بیٹھتی چلی گئیں ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو چکے تھے۔

فاریہ جہاں کھڑی تھی ادھر سے ہل نہیں سکی۔

(میری گڑیا)

ہاں یہی تو کہا کرتا تھا اس کا بھائی اسے۔۔۔

تو کیا اس کو نہایت پیار اور مان سے گڑیا پکارنے والا اس دنیا میں نہیں رہا تھا؟

فون کب سے چنگھار رہا تھا مگر کوئی بھی اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔ کسی کو اس وقت کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔ سب کے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفقود ہو چکی تھی۔ ایمبولینس کی آواز سن کر سوسائٹی والے ان کے گھر جمع ہو رہے تھے۔ ایک انکل نے کسی کو متوجہ نہ پا کر فون کی مسلسل بیل پر خود ہی کال ریسیو کر لی۔

” حیدر کیا رپورٹ آئی ہے؟”

فون کی دوسری جانب سرفراز صاحب بول رہے تھے اور ان کے تمام گھر والے ان کے پاس ہی موجود تھے۔ فون سپیکر پر لگا ہوا تھا۔

“حیدر کے بیٹے کی میت گھر آئی ہے اور۔۔۔”

وہ آگے بھی کچھ بول رہے تھے مگر ان سب کے کان تو سائیں سائیں کرنا شروع ہو گئے تھے۔ سرفراز صاحب کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا۔

ماریہ بیگم کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا تھا۔ مہرماہ نے لڑکھڑا کر گرنے سے قبل پلر کا سہارا لیا تھا۔ زاوی کی سانس ایک پل کے لیے رک چکی تھی۔ یہ خبر ان پر قیامت بن کر وارد ہوئی تھی۔ ساری امیدیں دم توڑ گئیں تھی۔ سارے چراغ بجھ چکے تھے۔ ہر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

زاوی نے آگے بڑھ کر اپنی بہن کو تھام کر صوفہ پر بٹھایا جس کے ہاتھ اب تھر تھر کانپ رہے تھے۔ اور ہاتھ ہی نہیں اس کا پورا جسم کانپنا شروع ہو چکا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کی تو اس ساحر کا چہرہ اس کی نگاہوں کے پار لہرایا۔

اس کے لب ہولے ہولے اس کا نام پکار رہے تھے جیسے وہ پکارا کرتا تھا مگر جب وہ اس کا نام پکارتا تھا تو سب کتنا حسین تھا مگر اب۔۔۔ اب تو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہنا تھا۔ اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ پاس کھڑے زاوی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بس یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کچھ بڑبڑا رہی ہے۔ زاوی بھاگ کر کمرے میں آیا اور کمبل لے کر واپس لاوئنج کی طرف بھاگا۔ جلدی سے اس کے گرد کمبل پھیلایا کیونکہ اس کی کپکپاہٹ بڑھتی جارہی تھی۔ سرفراز صاحب اور ماریہ بیگم کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ ان کی بیٹی نکاح کے بعد ہی بیوہ ہو چکی تھی۔ ان کا داماد جن کو انہوں نے شروع سے اپنا بیٹا مانا تھا وہ ان کی بیٹی کو تنہا چھوڑ گیا تھا۔

یہ سب کیا ہو رہا تھا؟

کیا خوشیوں کی معیاد اتنی کم ہوتی ہے؟

کیا غم ، خوشی پہ قابض ہونے کے لیے ہر وقت تیار ہوتے ہیں؟

کیا زندگی اتنی آسانی سے دھوکہ دے جاتی ہے؟

کیا اس زندگی نے بھی کسی سے وفا کی ہے؟

وہ سرفراز ولا جس کی سجاوٹ ابھی تک اسی طرح موجود تھی جیسے رخصتی کے لیے کی گئی تھی ان کے رہائشیوں کی زندگی سے میل نہیں کھا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرفراز صاحب کی پوری فیملی گرے بنگلے آ چکی تھی اور یہاں تو کہرام بپا تھا۔ جوان موت کا سن کر دور دور سے لوگ یہاں جمع تھے اور افسوس کر رہے تھے۔

میت کو لان کے درمیان میں رکھا گیا تھا اور اردگرد کرسیوں پر لوگ موجود تھے۔ سارا انتظام اورہان کے بزنس پارٹنرز نے ہی کیا تھا ورنہ ان میں سے تو کسی کو بھی ہوش نہیں تھا۔

کسی کی آمد پر جب روتی ہوئی فاریہ کی نظر مہرماہ کی جانب اٹھی جس کا چہرہ مرجھاہٹ کا شکار ہو چکا تھا ایک لمحے کے لیے اس کے آنسو تھم گئے اور وہ سہارا لے کر زمین سے اٹھی۔

“مہرو آپی دیکھیں یہ سب کہہ رہے ہیں کہ یہ بھائی کی ۔۔۔”

آنسوؤں کا سلسلہ پھر سے رواں دواں ہو چکا تھا اور اس کی بات ادھوری رہ گئی۔ مہرماہ نے بہت نرمی سے اس کے گرد اپنے بازو حمائل کیے اور اس کی پیٹھ سہلائی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے سہارے پر کھڑی تھی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے کوئی زمین بوس ہوا تھا اور وہ کوئی اور نہیں اپنے بھائی کی گڑیا تھی جس کا سب سے مضبوط سہارا اس کا بھائی تھا اور آج اس سہارے کے بغیر وہ اپنے قدموں پر کھڑی نہ رہ سکی تھی۔

سارے لان میں ہلچل مچ چکی تھی۔ سب فاریہ کے اردگرد جمع ہو رہے تھے۔ مہرماہ مسلسل اس کو جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“پانی لے کر آو جلدی”

وہ اونچی آواز میں کہہ رہی تھی۔ انس شور کی آواز سن کر فورا خواتین والی سائیڈ پر آیا تو ایک جگہ پر گول دائرہ کی صورت کافی لوگوں کو اکٹھا پایا ۔ گھبراہٹ میں وہ فورا وہاں تک پہنچا۔ اور فاریہ کو ہوش و خرد سے بیگانہ دیکھ کر اس کا سانس اٹک گیا۔

“فاریہ ۔۔ کیا ہوا ہے فاریہ کو؟ اٹھو فاریہ۔ ڈاکٹر۔۔۔”

فاریہ کے لیے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے انس کی تڑپ دیکھ کر ماہ رخ جو اطلاع ملنے پر اپنی خالہ کے ہمراہ یہاں آئی تھی دو آنسو ٹوٹ کر اس کے صبیح چہرے پہ پھسل گئے۔ اور اس نے کرب سے آنکھیں موند لیں۔ معلوم نہیں یہ آنسو فاریہ کی تکلیف پہ تھے یا انس کی تڑپ پہ یا شاید یہ اس کی بےبسی کے آنسو تھے۔ سب ہی تو تکلیف میں تھے۔

کیا کوئی تھا یہاں جو پر سکون تھا؟

نہیں۔۔۔ یقینا کوئی بھی نہیں۔

ایک لڑکی پانی لے کر آئی تو مہرماہ نے اس کے چہرے پر کچھ چھینٹے گرائے جن سے وہ ہوش میں آ گئی۔ انس سکھ کا سانس بھرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور سر جھکائے واپس چلا گیا۔ فاریہ کی زبان پر اب صرف ایک ہی بات تھی۔

“مہرو آپی کہہ دیں یہ میرے بھائی نہیں ہیں۔ پلیز کہہ دیں۔”

میت کی جانب اشارہ کرتے وہ مہرماہ سے لپٹی ایک ہی بات دہرا رہی تھی۔

“صبر کرو فاریہ “

مہرماہ نے اس کو سنبھالتے ہوئے کہا ۔اس کی اپنی آنکھیں ویران ہو چکی تھی۔

وہ آنکھیں جن پر اورہان کا قلم صدیوں لکھ سکتا تھا ان کی ایسی حالت پر اورہان کے لکھے الفاظ بھی رو رہے تھے۔

کیا کوئی اس کے غم کا اندازہ لگا سکتا تھا جس کا شوہر نکاح کے بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہو؟

کیا کوئی اس جتنی ہمت اور ثابت قدمی دکھا سکتا تھا جو اپنی محبت کو کھو کر بھی ہوش میں تھی؟

آخر اس میں اتنا حوصلہ کہاں سے آتا تھا؟

“آپ کو صبر آ جائے گا؟”

یہ سوال تھا مگر اس کا جواب دینا مہرماہ کے لیے بے حد کرب ناک تھا۔

“ہاں”

یک لفظی جواب۔۔۔

“تو کیا آپ بھائی کو بھول جائیں گی؟”

اسے مہرماہ سے یہ امید نہیں تھی۔ وہ اتنی مضبوط تھی یا اسے زیادہ فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔

“تم سے کس نے کہہ دیا فاریہ کہ اگر انسان واویلا نہ کرے تو اسے دکھ نہیں ہوتا۔ جانتی ہو جو انسان بظاہر نہیں چیختا اس کا اندر چیخ رہا ہوتا ہے۔ اس انسان کی تکلیف کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا جس کے اندر طوفان برپا ہو مگر بظاہر وہ پرسکون دکھائی دے۔ اور رہی بات اورہان کو بھولنے کی تو یہ ممکن نہیں۔ مگر میں ایسا کوئی فعل نہیں کروں گی جن سے ان کی روح کو اذیت ہو۔ تم بھی نہیں کرو گی ناں؟”

اس کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ نہیں تھی مگر اس کی آواز میں نمی کا عنصر موجود تھا۔

“ہاں میں اپنے بھائی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتی۔”

“تم اورہان کی پیاری گڑیا ہو اور جتنی ان کو عزیز تھی اتنی ہی مجھے ہو۔ تم نے حوصلہ کرنا ہے ۔ دیکھو آنٹی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔”

اس نے فاریہ کو ساتھ لگاتے ہوئے صوفیا بیگم کی جانب اشارہ کیا جو اس وقت شاید یہاں موجود ہی نہیں تھیں ان کا ذہن اس دھچکے کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔ انہیں تو اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی بیٹی کس حالت میں ہے۔ ماریہ بیگم ان کے ساتھ موجود ان کو تھام کر بیٹھی تھیں جو اس وقت یوں تھیں گویا ان کی ساری دنیا ویران ہو چکی ہو۔

وہیں مردوں والی سائیڈ پر آیا جائے تو حیدر صاحب کو دیکھ کر سرفراز صاحب نہایت افسوس کا شکار ہوئے تھے۔ چند ہی دنوں میں وہ ہشاش بشاش رہنے والے اورہان کے ینگ مین، بوڑھے ہو چکے تھے۔ ان کے چہرے پہ جھریاں نمایاں ہو رہی تھی ورنہ اورہان ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ بابا آپ کا چہرہ آج بھی نوجوان لڑکوں جیسا فریش ہے۔ مگر یہ وہی تو تھا جس کی بدولت اس کے بابا ہمیشہ فریش ہوتے تھے۔ اب وہی تو نہیں رہا تھا۔

سرفراز صاحب ان کو تسلی دے رہے تھے۔ حیدر صاحب کا بھتیجا جس کی فاریہ سے منگنی طے کی گئی تھی وہی کفن دفن کا نظام دیکھ رہا تھا۔

کیونکہ انس تو اس وقت ایک کونے میں نڈھال موجود تھا۔ نہ صرف اورہان کے جانے کا غم تھا بلکہ اس کی فیملی کی یہ حالت اس کے صبر کا پیمانہ لبریز کر رہی تھی۔ ایک آگ تھی جو اس کی آنکھوں میں دہک رہی تھی۔

ہر اس شخص کو جلا کر راکھ کر دینے کی آگ جس نے اس سے اس کا یار غار چھین لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔