Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 21)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
اورہان کی ضمانت ہو چکی تھی۔ باہر نکل کر اس نے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا پھر انس کے گلے لگا۔انس کی تو خوشی دیدنی تھی گھر میں بھی سب کو اطلاع مل چکی تھی۔ سب اس کے گھر آنے پر بہت خوش تھے۔ ایک مشکل ترین مرحلہ سے گزر ہو چکا تھا۔ اب اس کیس سے بھی جلد از جلد نجات حاصل کرنا ضروری تھا۔
اورہان کے کہنے پر انس اس کی وائٹ اوڈی اور فون لے آیا تھا۔ انس اپنی گاڑی میں بیٹھا اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔ جب سے اورہان لاک اپ میں تھا اس نے ایک منٹ بھی سو کر نہیں دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں کی سرخی اس بات کی گواہ تھی۔ اورہان کے ہی اصرار پر اس نے گھر کی راہ لی۔اورہان کا کہنا تھا اسے ریسٹ کی اشد ضرورت ہے۔ جس پر وہ بھی انکار نہیں کر سکا۔
اورہان ایک دن لاک اپ میں رہنے کے بعد اب کھلی فضا میں سکون محسوس کر رہا تھا۔ وہ گاڑی ڈرائیو کر کے واپس گھر کی جانب آ رہا تھا جب اس کے فون پر بپ ہوئی اس نے موبائل سکرین کو دیکھا تو ایک غیر شناسا نمبر سے آیا میسج جگمگا رہا تھا ۔اس نے تجسس کے ہاتھوں فورا اس کو کھولا۔
“اگر اپنے دشمن کے بارے میں جاننا چاہتے ہو۔ تو ابھی اس جگہ پر پہنچ جاو۔
تمہارا خیر خواہ۔”
ساتھ میں پتا بھی درج تھا جو اس کے لیے حیرانی کا باعث تھا۔ اورہان کو اپنے دشمن کے بارے میں جاننا تھا کیونکہ اس کے بغیر وہ کبھی اس میس سے نہیں نکل سکتا تھا۔
جب تک مخالف کا علم نہ ہو آپ کبھی جیت نہیں سکتے۔
اسے بھی اس کیس سے رہائی چاہیے تھی۔ لیکن اگر کوئی اتنا ہی اس کا خیر خواہ ہے تو وہ اسے اتنے مشکوک انداز میں کیوں بلا رہا ہے۔ اسے یہ بات کھٹک رہی تھی۔ مگر اس شخص سے ملنا ضروری تھا کیونکہ یا تو وہ دشمن کے بارے میں بتا سکتا ہے یا وہ خود ہی دشمن ہو سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کو اپنے مخالف کا علم ہو جانا تھا۔
اس نے گاڑی کا رخ میسج والے ایڈریس کی جانب موڑ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرفراز ولا میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ زاویار ریسٹ کر رہا تھا جبکہ باقی تمام افراد اورہان کے گھر آنے کی خوشی میں حیدر صاحب کی طرف جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ مہرماہ سرفراز جو کہ مہرماہ اورہان بن چکی تھی ، اپنے محرم کو صحیح سلامت واپس آ جانے پر آمنے سامنے خود اس کو مبارکباد دینا چاہتی تھی۔ اسی لیے وہ بھی تیار ہو رہی تھی۔
ان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا کہ میڈیا والوں نے اورہان پر کتنا کیچڑ اچھالا۔ وہ شروع سے اورہان کو جانتے تھے ، اس کی عادات و اطوار سے خوب واقف تھے۔ اور بزنس مین ہونے کی بدولت سرفراز صاحب اور ان کی فیملی حسد کی بنا پر کی جانے والی دشمنیوں سے بخوبی واقف تھے۔
وہیں گرے بنگلے میں قدم دھرا جائے تو صوفیا بیگم کی طبیعت اب جا کر سنبھلی تھی۔ فاریہ اپنے بھائی کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک دن کے بعد نہیں بلکہ ایک سال کے بعد آ رہا ہے۔
مہرماہ اور اس کی فیملی بھی حیدر صاحب کے گھر آ چکی تھی۔ مہرماہ نے سفید رنگ کا سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا جس پر سفید موتیوں کا ہلکا سا کام ہوا تھا۔ چونکہ یہ رنگ اس کا اور اورہان کا پسندیدہ تھا اس لیے اس نے خاص سفید رنگ کا انتخاب کیا تھا۔اب سب کو اورہان کا انتظار تھا کیونکہ انس نے انہیں اطلاع دے دی تھی کہ اورہان گاڑی لے کر نکل چکا ہے۔ وہ بس آنے ہی والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورہان کی وائٹ اوڈی ایک فیکٹری کے سامنے آ کر رکی۔ وہ یہ فیکٹری کیسے بھول سکتا تھا جو اس نے خود بنائی۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی تو اس نے عریش سلطان کے پراجیکٹ پہ کام کرتے ہوئے اس فیکٹری کا نقشہ بنایا تھا اور خود اپنی آنکھوں کے سامنے اس کی تعمیر کروائی تھی۔
جو کوئی بھی ہے اس نے آخر اس فیکٹری کا انتخاب ہی کیوں کیا؟
ابھی اس سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔
رات کے اس پہر یہ جگہ کافی ویران تھی۔ اس نے اس نمبر پر میسج کیا کہ وہ آ چکا ہے۔ فورا جواب آیا کہ وہ فیکٹری کے اندر آ جائے۔ اس نے گہرا سانس بھر کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل کر فیکٹری کے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔اندھیرا ہونے کے باعث ایک پتھر سے ٹھوکر لگی اور اسی وقت زمین پر کچھ گرا تھا۔اندر گھپ اندھیرا تھا جس کی وجہ سے اس نے موبائل کی ٹارچ آن کر لی تھی۔
وہ ایک جگہ پر رک گیا اور اردگرد نظر دوڑائی ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے اور کسی نے اس سے محض مذاق کیا ہے۔
“کوئی ہے یہاں پر؟”
اونچی آواز میں پوچھا مگر جواب ندارد۔۔۔
اس نے اسی طرح دو سے تین بار پکارا۔
جواب نہ ملنے کی صورت میں اس نے واپسی کے لیے قدم بڑھائے کہ اس کے موبائل پر پھر سے میسج آیا۔
“مسٹر اورہان بس اتنا ہی صبر ہے؟”
اس نے اس نمبر پر میسج کرنا شروع کیا۔
“تم جو کوئی بھی ہو اگر مجھے کچھ بتانا چاہتے ہو تو بتاو ، ورنہ میرا وقت ضائع نہیں کرو۔ کیونکہ اگر یہ مذاق ہوا تو تمہیں اس مذاق کی سزا چکانی پڑے گی۔”
” میں تو ڈر گیا ۔ ویسے اتنا وقت لے کر کہاں جاو گے۔ تمہارے پاس اب وقت ہی تو نہیں بچا۔”
اس سے پہلے کہ اورہان اس کی بات سمجھتا اور اپنے قدم باہر کی جانب اٹھاتا ایک بلند آواز آئی جیسے کسی نے مائک میں اونچی آواز میں بولا۔
“آئی ایم ویری سوری اورہان ، لیکن یہ ضروری تھا۔”
یہ آواز تو جانی پہچانی تھی ۔ اورہان نے اس آواز کو پہچاننے کی کوشش کی مگر یک لخت پوری فیکٹری روشن ہو گئی اور یہ روشنی مصنوعی نہیں اصلی تھی ۔ بھڑکتی ہوئی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اتنی اچانک یہ سب ہونے پر اورہان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو گئی اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے بھاگتا فیکٹری کی بھاری چھت ایک جھٹکے سے گری اور سب ملیا میٹ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرے بنگلے میں موجود سبھی افراد خوشی خوشی اورہان کا انتظار کر رہے تھے۔
“انس تو کہہ رہا تھا کہ وہ نکل گیا ہے۔ کہاں رہ گیا یہ لڑکا؟”
حیدر صاحب کو اپنے لاڈلے سپوت پہ اب غصہ آ رہا تھا جو اتنے گھنٹوں سے گھر واپس نہیں آیا تھا۔
“آنے ہی والا ہو گا۔”
سرفراز صاحب نے ان کا غصہ دور کرنے کے لیے کہا۔
“حیدر آپ اس کو فون کریں ناں ، اتنی لاپرواہی کا مظاہرہ تو وہ کبھی بھی نہیں کرتا تھا۔”
صوفیا بیگم کو فکر نے آن گھیرا تھا۔
“مجھے لگتا ہے کہ واقعی اب اسے فون کر کے پوچھ ہی لینا چاہیے۔”
سرفراز صاحب نے صوفیا بیگم کی بات کی تائید کی۔ حیدر صاحب نے فون ملایا لیکن نمبر بند جا رہا تھا۔
“نمبر تو بند ہے۔”
“آپ انس سے پوچھیں ناں “
حیدر صاحب نے اب کی بار انس کو فون کیا جو فون کو سائلنٹ پر لگائے حالات سے بے خبر سو رہا تھا۔ کافی دیر بیلز جاتی رہیں مگر مسلسل کال نہ اٹھائے جانے پر گرے بنگلے میں پریشانی پھیل گئی۔
“کہیں بھائی ہمیں سرپرائز تو نہیں دینا چاہتے؟”
فاریہ نے اپنے دل کی بات بتائی۔
“یہ کیسا سرپرائز ہے اس نے تو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اتنا تو بچپن میں بھی تنگ نہیں کرتا تھا۔”
حیدر صاحب جھنجھلاہٹ کا شکار ہو رہے تھے ان کا میچور سپوت بچگانہ حرکات کرنے سے تو کوسوں دور تھا۔
مہرماہ نے بھی اپنے فون سے کال کی مگر اورہان کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا اور انس کال ہی نہیں اٹھا رہا تھا۔
کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ اچانک حیدر صاحب کو یاد آیا کہ انس کے والد کا نمبر بھی انہوں نے ڈائری میں لکھ رکھا تھا۔ انہوں نے فون بک سے مجتبٰی صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ تھوڑی تاخیر سے ہی سہی لیکن کال اٹھائی جا چکی تھی۔
“السلام علیکم مجتبٰی بھائی”
“وعلیکم السلام، خیریت تو ہے اتنی رات کے وقت فون کیا۔”
مجتبٰی صاحب جو سوئے ہوئے تھے رات کے اس پہر حیدر صاحب کی طرف سے کال آنے پر پریشان ہو گئے تھے۔ اس بات پر حیدر صاحب نے ٹائم دیکھا تو رات کا ایک بج رہا تھا۔
“معذرت بھائی صاحب ، انس کو کب سے کال کر رہے ہیں وہ اٹھا نہیں رہا۔ کیا انس گھر پر ہی موجود ہے؟”
“اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ اور انس تو کافی دیر سے گھر آ کر سویا ہوا ہے۔ کافی تھکا ہوا تھا گھر آ کر بتا رہا تھا کہ اورہان کی ضمانت منظور ہو گئی ہے اور اسی نے اسے زبردستی گھر آرام کرنے کے لیے بھیجا۔ ویسے بہت بہت مبارک ہو اورہان گھر آ گیا۔”
” یہی تو مسئلہ ہے مجتبٰی بھائی ، اورہان گھر ہی تو نہیں آیا۔”
“کیا مطلب اس بات کا ؟ کہاں ہے وہ؟”
“ہم کافی دیر سے اس کا نمبر ٹرائی کر رہے ہیں۔ انس نے بتایا تھا کہ وہ گھر کے لیے نکل چکا ہے۔ مگر یہ وقت آن پہنچا ہے لیکن اورہان گھر نہیں آیا۔”
” آپ ہولڈ کریں میں انس کو جگاتا ہوں شاید اسے کچھ علم ہو۔”
مجتبٰی صاحب ، انس کے کمرے میں داخل ہوئے جو دنیا جہان سے بے خبر گہری نیند سو رہا تھا۔ مجتبٰی صاحب کے زور زور سے ہلانے پر اس نے آنکھیں کھولیں۔
“کیا ہوا بابا ۔ اتنی رات کے وقت آپ یہاں، کیا کچھ ہوا ہے؟ امی اور سعد ٹھیک ہیں ناں؟”
وہ بوکھلا گیا تھا۔
” کچھ نہیں ہوا تمہاری امی اور سعد کو ، یہ حیدر بھائی سے بات کرو انہیں تم سے کچھ پوچھنا ہے۔”
مندی مندی آنکھوں کو کھولے اس نے پریشانی میں فون تھاما۔ کسی انہونی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ حیدر صاحب کی بات سن کر وہ بھی سخت پریشانی کا شکار ہوا۔ اورہان اس کے ساتھ ہی تو نکلا تھا اور وہ سیدھا گھر ہی جا رہا تھا تو رات کے ایک بجے تک بھی اس کا گھر نہ پہنچنا یہ خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا۔
“انکل میں ابھی اورہان کی تلاش میں نکلتا ہوں۔ آپ حوصلہ رکھیں۔”
وہ فورا اٹھا اور اسی رف حلیے میں گھر سے نکل پڑا۔ اس کے بابا نے اس کے ساتھ چلنے کا کہا مگر اس نے انہیں گھر ہی رکنے کو کہا۔
وہ سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔ حیدر صاحب اور سرفراز صاحب بھی ایک گاڑی میں اورہان کی کھوج میں نکل پڑے تھے۔
گھر میں سب لوگوں کا حلق تک خشک ہو چکا تھا۔ کوئی کسی کو تسلی دے رہا تھا تو کوئی اللہ کے سامنے اپنی عرض پیش کر رہا تھا۔ سب ہی اورہان کے صحیح سلامت گھر آ جانے کے لیے دعاگو تھے۔ وہ سب ہی اس بات سے واقف تھے کہ اورہان کا کوئی مخالف ہے جو اسے جیل سے رہا ہونے نہیں دینا چاہتا تھا۔ زاوی کا گھر آ جانا ان کے لیے ایک معجزہ ہی تھا۔ کیونکہ زاوی کے مطابق وہ وہاں سے فرار ہو کر آیا تھا۔ ورنہ وہ کبھی ان کی قید سے رہائی حاصل نہیں کر پاتا یا شاید مہرماہ کے کیس سے دستبرداری کے عوض وہ اس کو رہا کر دیتے مگر یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا۔
“پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی میرے گھر کو ، سب کچھ ٹھیک تھا۔”
صوفیا بیگم کی آنکھیں نم تھی۔ اور ماریہ بیگم ان کی حالت کو سمجھ سکتی تھی کیونکہ زاوی کی کڈنیپنگ پہ ان کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی۔
“اللہ سب بہتر کرے گا صوفیا ، تم ہمت کرو۔ دیکھو تمہیں روتا دیکھ کر فاریہ بھی پریشان ہو رہی ہے۔”
فاریہ تو صوفہ کی ایک سائیڈ پر دبک کر بیٹھی تھی۔ وہ مزید کسی حادثہ کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ بہت مشکل سے یہ وقت گزرا تھا۔ یہ ایک دن اور رات ان پر بہت بھاری ثابت ہوا تھا مگر اب کی رات مزید تکلیف دہ تھی۔ پہلے تو یہ تسلی تھی کہ وہ صحیح سلامت ہے مگر اب تو اورہان کا کوئی آتا پتا ہی نہیں تھا۔
انس کی گاڑی تار کول کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی وہ مارا مارا پھر رہا تھا ساتھ ہی بار بار اورہان کا نمبر ڈائل کر رہا تھا جو مسلسل بند جا رہا تھا۔ اس کی گاڑی شہر کی حدود سے باہر آ چکی تھی جب ایک جگہ پر دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ اس نے گاڑی اس جانب بڑھا دی۔ وہاں لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ آس پاس کے رہائشی اور راہ گیر ٹھہر کر اس بھڑکتی ہوئی آگ کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ لوگ آگ بجھانے کی کوشش کررہے تھے تو کوئی فائر بریگیڈ کو کال ملا رہا تھا۔اس سارے ہجوم میں اس کی نظر اس گاڑی پہ جا ٹھہری جو کہ اس کے دوست کی تھی۔ گاڑی دیکھ کر اسے یہی محسوس ہوا کہ اورہان آگ دیکھ کر رک گیا ہو گا۔ اس نے اپنی گاڑی سائیڈ پر لگائی اور اس سارے ہجوم میں اپنے دوست کو ڈھونڈنا شروع کیا۔
مگر ایک ایک کو دیکھنے پر بھی اسے اورہان نہیں دکھا۔ اتنی دیر میں حیدر صاحب کی کال آئی۔
“بیٹا، اورہان کا کچھ پتا چلا؟”
“جی انکل ، ایک فیکٹری کے باہر اورہان کی کار کھڑی ہے مگر وہ کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہا ہے۔ اور فیکٹری میں آگ لگی ہوئی ہے۔”
“مجھے ایڈریس بھیجو میں فورا آ رہا ہوں۔”
انس نے ان کو لوکیشن بھیج دی تھی اور خود اس کی گاڑی کی جانب آیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ کھل گیا جس پر اسے حیرت ہوئی کیونکہ اورہان کبھی گاڑی کو لاک کیے بغیر نہیں چھوڑتا تھا اور یہ تو اس کی فیورٹ کار تھی وہ اتنی لاپرواہی نہیں کر سکتا تھا۔
انس نے گاڑی میں دیکھا شاید اورہان کا فون اندر ہو مگر فون موجود نہیں تھا۔ اس کو اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔ کہ ایک آواز اس کے کان کے پردوں کے پار ٹکرائی۔
“فیکٹری کے اندر کوئی موجود ہے۔ آگ لگنے سے پہلے میں نے یہاں سے گزرتے ہوئے کسی کو اندر جاتے دیکھا تھا۔ کافی اونچا لمبا مرد تھا۔ فائر بریگیڈ کے ساتھ ہیلپ کے لیے ایمبولینس کو بھی کال کردو۔”
کوئی اونچی آواز میں کسی کو تاکید کر رہا تھا۔ اور انس کے دل کی دھڑکن سست ہو رہی تھی۔
“نہیں اورہان نہیں ہو سکتا۔”
وہ سر دائیں بائیں ہلائے اپنے خیالات کی نفی کر رہا تھا۔ مگر اس کا دماغ اس بات کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔
وہ فیکٹری کی جانب آیا کہ اس کی نگاہ ایک چمکتی چیز پر پڑی اس نے جھک کر زمین سے وہ چمکتی چیز اٹھائی جو کچھ اور نہیں اس کے دوست کی گھڑی تھی جو اس نے اپنی شادی کی شاپنگ کے دوران لی تھی اور اس کو پہچاننے میں اسے ایک لمحہ بھی نہیں لگا تھا کیونکہ یہ گھڑی اورہان نے انس کی پسند سے ہی لی تھی۔ اس لمحے انس کے دل کی کیفیت عجیب ہو رہی تھی۔ شک، یقین میں تبدیل ہو رہا تھا اور اس سے پہلے کہ لوگ ریسکیو کا انتظار کرتے وہ بھڑکتی آگ میں اندر کی جانب بھاگا۔ جب لوگوں نے کسی کو اندر بھڑکتی آگ میں جاتے دیکھا تو وہ فورا اس کو پکڑنے لگے۔
“چھوڑو مجھے ، میرا دوست اندر ہے۔ اسے میری ضرورت ہے۔”
وہ ان کو پیچھے دھکیلتا ہوا پھر آگ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اسے اس وقت کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی ۔ اگر وہ اپنی جان دے کر بھی اپنے دوست کی جان بچا سکے تو یہ اس کے لیے کافی تھا۔
“صبر رکھو بھائی، ابھی ریسکیو ٹیم آتی ہی ہو گی۔”
“نہیں، نہیں ہے مجھ میں صبر ۔ تمہیں سمجھ کیوں نہیں آ رہا میرا دوست اندر ہے۔”
وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا۔ تین سے چار لوگوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔اور وہ لوگ اس کو اندر جانے نہیں دے رہے تھے۔ کیونکہ اندر جو کوئی بھی تھا نہ جانے وہ زندہ بچا بھی تھا یا نہیں، اس کے لیے وہ کسی دوسرے انسان کو آگ میں جاتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ مگر وہ اس انسان کی کیفیت نہیں سمجھ پا رہے تھے جسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ اس کی جان سے پیارا اس کا یار شاید اس وقت اندر تھا۔ وہ باہر کیسے رہ سکتا تھا۔ وہ کیسے چھوڑ سکتا تھا اسے جس نے کبھی اسے نہیں چھوڑا تھا۔
اتنی دیر میں حیدر صاحب کی گاڑی اس جگہ آ کر رکی۔ وہ دونوں گاڑی سے باہر آئے۔ اورہان کی گاڑی پر نگاہ پڑی تو دل کو تسلی ہوئی کہ وہ یہیں کہیں ہو گا مگر انس کو اس حال میں دیکھ کر ان کو خدشات لاحق ہوئے۔ وہ تقریبا بھاگتے ہوئے انس تک پہنچے۔
“انس کیا ہوا ہے؟ اورہان کہاں ہے ؟ تم نے کہا تھا وہ یہیں ہو گا۔”
انس جس کو لوگوں نے سنبھالا ہوا تھا وہ ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“انکل یہ مجھے اندر جانے نہیں دے رہے ۔ اورہان اندر ہے ، یہ دیکھیں اس کی گھڑی۔ اگر وہ اندر نہیں ہوتا تو اب تک نظر آ جاتا۔ میرا دل کہہ رہا ہے اسے میری ضرورت ہے۔”
انس نے کس دل سے یہ بولا تھا یہ وہی جانتا تھا۔ اگر وہ سچ میں اندر ہوا اور اسے کچھ ہو گیا ہوا۔۔۔ نہیں، یہ سب وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
یہ الفاظ سنتے ہی حیدر صاحب کا ہاتھ ان کے دل پر پڑا تھا۔ سرفراز صاحب ان کی حالت سمجھ سکتے تھے۔
“حیدر اچھا سوچو۔ اورہان ٹھیک ہو گا۔ وہ اندر نہیں ہو گا۔ وہ مدد کی غرض سے یہاں رک گیا ہوا گا۔ تم تو جانتے ہو وہ کتنا ہمدرد ہے ہر ایک کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے۔”
سرفراز صاحب خود بھی ڈرے ہوئے تھے مگر اس وقت انہیں حوصلہ سے کام لینا تھا۔ وہ ان کو لے کر سائیڈ پر آئے اور ان کو تسلی دینے لگے یا شاید خود کو تسلی دے رہے تھے۔
آخر کار بے حد تاخیر کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آ چکی تھی جو آگ بجھانے میں مصروف ہو چکی تھی ریسکیو ٹیم بھی فیکٹری کے اندر جا رہی تھی تاکہ معلوم کر سکے کہ اندر کوئی موجود تو نہیں ۔ تاکی اگر کوئی اندر ہے تو اس کو بچانے کی کوشش کی جا سکے ۔ مگر جتنی دیر آگ لگی رہی تھی اندر موجود کسی بھی ذی روح کے بچنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔
گھر میں اطلاع دے دی گئی تھی ہر ایک آنکھ اشک بار تھی۔ سب کے دل مٹھی میں آئے ہوئے تھے۔اور سبھی اورہان کے محفوظ ہونے کی دعا مانگ رہے تھے۔
وقت ان کے دل کی دھڑکنوں کی مانند ایک بار پھر دھیمی رفتار اختیار کر چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
