Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 12)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
انس تھانے میں بیٹھا کیسز کو نپٹا رہا تھا کہ اورہان نے اس کو کال کی۔ اس نے کال ریسیو کر کے فون کان سے لگایا۔
“انس تم نے مجھ سے جو کیس ڈسکس کیا تھا اس کی تفصیلات بھیجو۔”
“خیریت تو ہے؟”
“ہاں مجھے کسی پر شک ہے ۔ بس دیکھنا چاہ رہا ہوں کہ یہ صرف شک ہی ہے یا حقیقت بھی یہی ہے۔”
“تمہیں کس پر شک ہے؟”
“یہ تمہیں مل کر بتاوں گا ۔ ابھی فون پر نہیں بتا سکتا۔”
“چلو ٹھیک ہے ، میں تفصیلات بھیجتا ہوں۔”
یہ کہہ کر اس نے کال کاٹی اور موبائل فون میں موجود چند کاغذات کی تصاویر والا پی ڈی ایف اورہان کے نمبر پر سینڈ کر دیا۔ وہ ابھی تک تشویش میں مبتلا تھا بھلا اورہان کو اس معاملے میں کس پر شک ہو سکتا ہے۔ وہیں اورہان کے موبائل پر جب پی ڈی ایف ریسیو ہوا تو اس نے فورا اسے کھولا۔
وہ اس وقت اپنے گھر میں اپنے کمرے میں موجود تھا۔ آج اسے کنسٹرکشن سائٹ پر جانا تھا کیونکہ کام تقریبا ختم ہو چکا تھا اور اس نے آج کام مکمل کر کے عریش کو انفارمیشن کرنا تھا۔ اس لیے اس نے سیدھا گھر سے ہی فیکٹری جانا مناسب سمجھا۔
اس نے فائل لیپ ٹاپ میں ٹرانسفر کی اور اب وہ فائل سامنے رکھے جو ایاز نے اس کو لا کر دی تھی ایک نظر لیپ ٹاپ پر اور دوسری نظر فائل پر ڈالے تفتیشی انداز میں سوچ بچار کر رہا تھا جس سے اسے کے ماتھے پر لکیریں بنتی اور ختم ہوتی نظر آ رہی تھی نچلے لب کو دانتوں سے کاٹتے وہ اب پریشان ہو رہا تھا۔ یہ سب اس کی سوچ کے عین مطابق تھا مگر وہ اس پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ یہ کوئی سازش بھی تو ہو سکتی تھی تاکہ ایک اچھے انسان کا امیج بگاڑا جائے۔ اور بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کے ویسے بھی ڈھیروں دشمن ہوتے ہیں۔
اس نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو فورا لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھ کھڑا ہوا اسے فلحال اپنا کام مکمل کرنا تھا اور وہ اس میں دیری نہیں کر سکتا تھا۔ بلیو جینز پر بلیو ہی ڈریس شرٹ پہنے ، کہنیوں تک آستین موڑے وہ آج بلیزر پہنے بغیر ہی سائٹ پر چلا گیا۔
وہاں سارا کام فائنل کر کے اس نے شکر کا سانس لیا ۔ آخرکار اینٹوں اور سیمنٹ کے ملاپ سے ایک معمولی اور ادنی سی جگہ خوبصورت سانچے میں ڈھل چکی تھی۔ مگر اس میں نہ جانے کتنے لوگوں کی خون پسینے کی محنت شامل تھی اور آج وہ فیکٹری اپنی تکمیل کو پہنچی جو عنقریب بہت سے لوگوں کو روزگار دینے والی تھی۔ اور یہ بات پھر سے اس کو پریشان کر رہی تھی کیا عریش سلطان ایسا ہی ہے جیسا دکھائی دیتا ہے یا حقیقت کچھ اور ہے؟ کیا وہ دنیا کی نظر میں جتنا اچھا ہے حقیقتا بھی ایسا ہی ہے؟
اس نے عریش کو کال کر کے ساری معلومات فراہم کی۔ دوسری جانب عریش تو اس دن کے انتظار میں تھا۔ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اورہان وقت سے پہلے کام مکمل کر لے گا۔
“نائس جاب مسٹر اورہان ، آپ نے وقت سے پہلے اپنا کام مکمل کر لیا۔”
“تھینکس ، لیکن اپنے ٹارگٹ کو وقت سے پہلے حاصل کر لینا ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔”
“آپ کے کامیاب بزنس مین ہونے پر مجھے کوئی شک نہیں رہا۔”
عریش مسکرا کر کھلے دل سے اس کی تعریف کر رہا تھا۔
“مگر آپ کے کامیاب سیاست دان ہونے پر مجھے ابھی شک ہے۔”
اورہان نے سنجیدگی سے اس کو جواب دیا تو عریش کی مسکراہٹ تھم گئی۔
“یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں مسٹر اورہان؟”
آخر میں دباو ڈال کر اس کا نام لیا۔ وہ اپنی قابلیت پہ ایک حرف بھی نہیں سن سکتا تھا۔
” وقت آنے پر بتاوں گا ۔ ہر چیز کا علم ہو جائے تو تجسس نہیں رہتا۔ کیوں مسٹر عریش؟”
“چلیں پھر وقت پر ہی بات کریں گے۔”
“افتتاح کی تقریب کس دن منعقد کر رہے ہیں؟”
وہ جو اورہان کو لے کر اب شک میں مبتلا ہو رہا تھا اس بات سے اس کا دھیان کسی اور جانب چلا گیا۔
“جلد از جلد کیونکہ مجھے اب مزید انتظار نہیں کرنا۔”
اورہان کو یہی محسوس ہوا کہ وہ سیاسی نمائش کے لیے جلدی تقریب رکھنا چاہتا ہے یہ جانے بغیر کہ اس وقت اس کی سوچوں کا محور سیاست نہیں بلکہ وہ لڑکی ہے جو کب سے اورہان کی سانسوں میں بسی ہے۔ جس کی عزت کا یہ عالم ہے کہ اس کا نام بھی وہ کبھی لے نہیں پاتا۔ جس کو نہایت عزت سے وہ اپنی ہمسفر بنانے کا خواہشمند ہے۔
اسی وقت اورہان کے آفس آیا جائے تو بلیک جینز کے ساتھ شارٹ شرٹ پہنے ڈائی شدہ بالوں کی فرنچ چوٹی بنائے ایک لڑکی ہیل کی ٹک ٹک کرتی آفس داخل ہوئی۔ ریسیپشن پہ پہنچ کر اورہان کے بارے میں پوچھا۔
“میم ، سر آج آفس نہیں آئے۔”
اس بات پر زویا نے منہ بگاڑا۔
“کب تک آ جائیں گے؟”
تمیز سے استفسار کیا۔
“کچھ کہا نہیں جاسکتا میم، آپ کو ان سے کوئی کام تھا؟”
“وہ میں خود ہی اس سے مل کر بتاوں گی۔”
“میم آپ اپنا نام بتا دیں ہم سر کو انفارم کر دیں گے۔”
“کوئی ضرورت نہیں، مجھے اورہان کا نمبر دے دو میں خود اس سے بات کر لوں گی۔”
“لیکن ہم سر کا نمبر ان کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتے۔ آپ کو کوئی پیغام دینا ہے تو بتا دیں یا پھر کسی اور دن آ کر سر سے مل لیں۔”
“وہ ایکچوئلی اورہان کا نمبر میرے فون سے ڈیلیٹ ہو گیا ہے۔ میں اس کی بہت پرانی دوست ہوں۔”
جھوٹ بولا تاکہ شاید وہ اس جھوٹ پر یقین کر کے اورہان کا نمبر اسے دے ہی دے۔ریسیپشن پر کھڑے لڑکے نے اس کو اب گھور کر دیکھا وہ کسی اینگل سے اورہان کی دوست نہیں لگتی تھی اور آج تک کسی لڑکی نے آ کر یہ نہیں کہا تھا کہ وہ اورہان کی دوست ہے۔
“میم میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں سر اورہان کی اجازت کے بغیر ان کا نمبر کسی کو بھی نہیں دے سکتا پھر چاہے کوئی بھی آ کر یہ کہے کہ وہ سر کی دوست ہے۔”
چبا چبا کر کہا اور آخر میں طنز کیا کیونکہ اس لڑکی کے تیور صاف صاف بتا رہے تھے کہ وہ اس کے معصوم سر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے مت دو ، میں خود اورہان سے مل لوں گی اور تمہاری تو اسی دن چھٹی کرواوں گی۔”
زویا نے لہجے میں اتراہٹ سمو کر کہا۔ گویا اورہان تو اس کے ایک اشارے پہ اس لڑکے کو فارغ کرنے والا ہو جیسے۔
“جیسی آپ کی مرضی میم۔”
اس کو اپنے سر کی نیچر کا بخوبی اندازہ تھا اس لیے وہ ایسے نقالوں کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ وہیں زویا جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی فرق صرف اتنا تھا واپسی پہ اس کا منہ پھولا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انس ابھی تک یہی سوچ رہا تھا کہ آخر اورہان کو اس سلسلے میں کس پر شک ہو سکتا ہے۔اس نے اورہان کو کال کی اور مشکوک انسان کے بارے میں پوچھا تو اس نے اس کو ملنے کے لیے کہا۔ یہ بات وہ فون پر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ دونوں نے ریسٹورنٹ میں ملنے کا پروگرام سیٹ کیا۔
آج انس وقت سے پہلے ریسٹورنٹ موجود تھا اپنے مخصوص ٹیبل پر بیٹھے اب وہ اورہان کا انتظار کر رہا تھا۔ دس منٹ کے انتظار کے بعد اورہان بلیک جینز کے ساتھ براون ڈریس شرٹ پہنے ٹیبل تک آیا۔
“واہ بھئی آج تو انس مجتبٰی وقت سے پہلے موجود ہیں۔”
وہ خاصا متاثر ہوا تھا۔
“ایک تو میں تمہاری اس سسپینس ڈالنے والی عادت سے بہت تنگ ہوں ۔ فون پر بھی تو بتا ہی سکتے تھے۔”
وہ ناراض دکھائی دے رہا تھا۔
“بس کر یار اب روٹھی محبوبہ والا منہ تو نہ بنا۔”
“کیا مطلب تیرا میں تجھی روٹھی محبوبہ دکھائی دے رہا ہوں؟”
ڈارک گرین ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنے تیکھے نین نقوش اور چمکتی گندمی رنگت والا انس ،کالے بال جو بے انتہا سلکی ہونے کی وجہ سے ہوا سے لہرا رہے تھے، بائیں کلائی میں گھڑی پہنے وہ خود کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔
“ہاں نا ایویں مجھے مشکوک کر رہا ہے۔”
“تو صبر رکھ تجھے بھابھی کے سامنے مشکوک کروں گا۔ پر یہی تو مسئلہ ہے بھابھی ہے ہی نہیں۔”
مسکرا کر کہتے ہوئے آخری الفاظ پہ اس کی مسکراہٹ دم توڑ گئی وہ دکھی ہو گیا اب وہ اورہان کو زچ کیسے کرے۔
“کوئی نہیں بہت جلد بھابھی بھی آ جائے گی۔ تو صبر رکھ۔”
“کیا سچ میں ؟ مجھے تو یقین نہیں آ رہا کہ اورہان حیدر عظیم اس وقت اپنی شادی کی بات کر رہا ہے۔”
“چل چل تجھے مشکوک شخص کے بارے میں بتاتا ہوں۔”
اپنی طرف سے اس موضوع سے جان چھڑانی چاہی۔
“نہیں تو رہنے دے مجھے پہلے یقین کر لینے دے۔”
“اب تو اوور ہو رہا ہے۔ ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے؟”
حالانکہ جانتا تھا کہ پورا دھماکہ کر کے ہٹا ہے۔ اتنا تو انس کو اس کے بارے میں علم تھا کہ وہ کوئی بھی بات بے مقصد نہیں کہتا ۔ اگر آج اس نے بھابھی کا لفظ بولا ہے تو ضرور بہت جلد وہ شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور وہ اس سے کبھی عام مردوں کی طرح یہ سوال نہیں کرنے والا تھا کہ بھابھی کون ہے؟ کہاں دیکھی؟ محبت کرتے ہو یا ماں باپ کی پسند ہے؟ وغیرہ وغیرہ کیونکہ وہ دونوں عورتوں کی عزت کرنا بخوبی جانتے تھے اور انہیں علم تھا کہ عورت چاہے گھر کی ہو یا باہر کی اسے مردوں میں ڈسکس نہیں کیا کرتے۔
“کب بلا رہا ہے ؟”
“کدھر؟”
نہایت معصومیت سے پوچھا۔
“ایک نمبر کا میسنا ہے تو ، شادی کی بات کر رہا ہوں۔”
“تجھے بلاوے کی ضرورت ہے کیا۔ جب شادی کروں گا تو سب سے پہلے تجھے بتاوں گا۔”
یہی مان تو انس کو بہت عزیز تھا وہ اس کی قدر کرتا تھا۔
“انتظار رہے گا ۔”
“مجھے بھی” زیر لب کہا ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اب اسے اپنے گھر والوں سے اپنی پسند کا اظہار کر دینا چاہیے ۔ وہ اس کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتا تھا۔
“اچھا اب بتا جلدی کس پر شک ہے تجھے۔”
فوری تجسس نے اس کو آن گھیرا۔
“عریش سلطان “
دو لفظی جواب اور انس مجتبٰی تو بے یقینی کی کیفیت میں اسے دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریش نے افتتاح کی تاریخ فائنل کر کے مہرماہ کو کال ملائی۔ جو اس وقت نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی اور نماز والی چادر کو الماری میں ہینگ کر رہی تھی۔ چادر لٹکا کر اس نے فون اٹھایا جس پر مسٹر عریش سلطان کالنگ لکھا آ رہا تھا۔
“اسلام علیکم “
عریش نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام مسٹر عریش “
“آپ نے مجھے پہچان لیا مجھے خوشی ہوئی۔”
“وہ دراصل آپ کا نمبر سیو کر لیا تھا۔ ورنہ انسان تو پوری عمر لگا کر بھی انسانوں کو پہچان نہیں سکتے۔ اور آپ سے تو خیر صرف دو ملاقاتیں ہی ہوئی ہیں۔”
“ہمیشہ کی طرح لاجواب کر دیا آپ نے۔”
“جی بتائیں کس لیے فون کیا۔ فیکٹری کا کام مکمل ہو گیا؟”
“جی بالکل صحیح پہچانا آپ نے۔ آپ کو مدعو کرنے کے لیے ہی کال کی ہے ۔ امید ہے آپ انکار نہیں کریں گی۔”
تاریخ اور وقت جاننے کے بعد اپنی روٹین کو دیکھتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
“انشاءاللہ میں ضرور آوں گی۔”
“مجھے آپ کا انتظار رہے گا۔”
اس کے لہجے میں بے چینی جھلک رہی تھی۔
“اللہ حافظ “
وہ اس سے کوئی فضول بات نہیں کر سکتا تھا اس لیے اس کے بات نہ کرنے کے ارادے سے ہی اس نے بھی اسے اللہ کی امان میں دیا۔
“خدا حافظ “
دونوں جانب سے فون رکھ دیا گیا۔ عریش کی خوشی کی تو انتہا نہیں تھی ایک تو اس کا سیاسی کیریئر اس فیکٹری کے بعد مزید پروان چڑھنے والا تھا دوسرا مہرماہ سرفراز کے وہاں آنے کا سوچ کر ہی اسے مسرت ہو رہی تھی۔ آخر اتنے دنوں بعد وہ اس کو اپنے سامنے دیکھے گا ۔
اور آخر وہ دن آ ہی گیا جب اورہان حیدر عظیم اور اس کے ورکرز کی محنت اور ذہانت سے بنی فیکٹری کا افتتاح تھا۔ اس نے اس پراجیکٹ پہ پوری جان لگا دی تھی چونکہ یہ عام عوام کے لیے تھا اس لیے اس نے اپنا سارا پرافٹ بھی اس بلڈنگ پر لگا دیا تھا۔ اس نے پیسہ کمانے کے لیے اس پیشے کو منتخب نہیں کیا تھا۔ وہ عام لوگوں کے لیے نرم جذبات رکھتا تھا اور جس حد تک اس سے ہو سکتا وہ ان کی مدد کرتا تھا۔
عریش سلطان کے سیاسی کیریئر میں ایک نئی تعمیر کا اضافہ ہوا تھا۔ آج وہ پورے ٹھاٹھ سے کالا سوٹ زیب تن کیے کالی کھیڑی پہنے اپنی بلیک پراڈو سے اترا تھا۔ پیچھے ہاتھوں میں اسلحہ تھامے گارڈز موجود تھے جو اس کی حفاظت کو یقینی بنا رہے تھے۔ اس کی بارعب شخصیت لوگوں کو سحر میں مبتلا کر رہی تھی ۔ اتنی دیر میں اس کے مقابل وائٹ اوڈی آ کر رکی جس میں سے وہ بادشاہوں کی سی شان لیے بلیک جینز پر سفید ڈریس شرٹ اور سفید ہی بلیزر پہنے اترا ایک ہاتھ سے سیاہ چشمہ اتارا اور چلتا ہوا عریش کے عین مقابل آ کر کھڑا ہو گیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سیاہ اور سفید کو مد مقابل کھڑا کر دیا گیا ہو۔
عریش نے مسکرا کر اورہان کی جانب دیکھا تو جواباً وہ بھی مسکرایا۔
“مبارک ہو آپ کو مسٹر عریش سلطان۔”
اس نے کھلے دل سے اس کو مبارک باد دی ابھی وہ اس کو مجرم قرار نہیں دے سکتا تھا جب تک اسے ٹھوس ثبوت نہ مل جاتے کیونکہ جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے وہ انسان ملزم تو ہوتا ہے لیکن مجرم نہیں اور عریش سلطان اس وقت اورہان کی نظر میں ملزم ضرور تھا مگر مجرم نہیں۔
“آپ کو بھی مبارک ہو آخر اس فیکٹری کو اتنا اچھا نقشہ بھی تو آپ نے ہی دیا ہے۔”
اس نے بھی کھلے دل سے اورہان کی تعریف کی۔
ابھی وہ کچھ کہتا کہ عریش جو ایک ہی جانب پوری توجہ سے دیکھ رہا تھا اس نے اس کی نگاہوں کا پیچھا کیا تو اس کی نظر آنے والی گاڑی کی طرف اٹھی تو وہ حیرت سے اس جانب دیکھتا رہا۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی تو وہ اس گاڑی کو مکینک سے ٹھیک کروا کر اسے دے کر آیا تھا۔عریش گاڑی کی جانب آیا اور خود اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور وہ تو ادھر ہی منجمند ہو گیا۔ مہرماہ عریش سے کب ملی؟
اچانک اس کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔ کہیں مریم آپی کی شادی پہ تو نہیں؟
ادھر مہرماہ جو آ تو گئی تھی مگر اب اتنے پروٹوکول پہ عجیب سی الجھن کا شکار ہو رہی تھی ایک مشہور سیاست دان اس کی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کو ریسیو کر رہا تھا آس پاس موجود لوگوں کی نگاہیں بھی اسی جانب تھی جہاں وہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے اس کی گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا تھا۔ وہ سرمئی عبایا پہنے سرمئی حجاب لپیٹے میک اپ سے پاک چہرہ لیے گاڑی سے نکلی۔ اس کی نگاہیں اورہان کی جانب اٹھی تو اسے خود کو دیکھتا پایا۔
اورہان ابھی تک اس کو دیکھ رہا تھا اور اس کی نگاہوں میں ایک تنبیہ تھی جو مہرماہ کو اس وقت سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ تو خود حیرت کا شکار تھی کہ اسے اتنا پروٹوکول کیوں مل رہا ہے؟
اسے فورا یہاں سے جانا تھا وہ میڈیا کی نظر میں نہیں آنا چاہتی تھی۔ اس نے یقینا یہاں آ کر غلطی کر دی تھی۔
“مس مہرماہ آپ کے آنے کا بہت انتظار تھا بہت شکریہ آنے کے لیے۔”
وہ تو اس کو سامنے دیکھ کر بے حد خوش تھا۔ اتنے دنوں بعد اس کو دیکھا تھا تو چاہ رہا تھا کہ وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو۔
“سوری مسٹر عریش لیکن میں زیادہ دیر نہیں رکوں گی۔”
گھبراہٹ کے باوجود ہمت سے کہا۔ لوگوں کی نگاہیں خود پر محسوس کر کے اسے وحشت ہو رہی تھی۔
“لیکن کیا ہوا؟”
اس نے میڈیا کو منع کیا ہوا تھا کہ صرف افتتاح کے وقت ہی فوٹیج بنے گی اور اس کام کے لیے اس کے آدمی بھی میڈیا والوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
“وہ دراصل۔۔”
اتنی دیر میں اس کے فون پہ بیل ہوئی۔ نمبر جانا پہچانا بھی نہیں تھا اس نے عریش سے ایکسکیوز کیا اور کال ریسیو کر لی۔
“آپ ابھی یہاں سے چلی جائیں پلیز۔ ابھی کچھ مت پوچھیں گا۔ یقین ہے نا مجھ پر؟”
وہ اس کو پہچان چکی تھی۔اس نے نگاہیں اردگرد دوڑا کر اس کو دیکھنا چاہا مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا۔
اتنی دیر میں فون کے سپیکر سے دوبارہ آواز ابھری۔
“یقین ہے ناں مجھ پر؟”
“ہوں “
ہلکی آواز میں کہا ساتھ اثبات میں سر بھی ہلایا اور وہ جو چھت پر کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا اس کے بچگانہ انداز سے سر ہلانے پر کھلے دل سے مسکرایا۔ اس کا جواب اس کے اندر سکون اتار گیا تھا۔ مہرماہ سرفراز کے لیے وہ قابل یقین تھا۔
“اب میری بات سنیں کوئی بھی بہانہ کریں لیکن یہاں سے فورا جائیں۔”
“مگر مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا۔”
وہ روہانسی ہو چکی تھی۔
“اچھا ریلیکس،آپ کی ایمرجنسی میٹنگ ہے اور آپ کا وہاں پہنچنا بہت ضروری ہے۔”
“مگر میری تو کوئی میٹنگ نہیں۔”
سمجھ داری سے اسے بتایا۔
“آپ کو اس وقت بہانہ کرنا ہے۔”
“لیکن یہ جھوٹ ہے۔”
آہ کیوں تھی وہ اتنی سمجھ دار۔۔۔
“اچھا آپ کو ایسی گیدرنگ نہیں پسند اس لیے آپ ابھی جا رہی ہیں۔”
اس کی بات پہ مہرماہ کو جھٹکا لگا۔ وہ کیسے جان گیا تھا کہ مہرماہ تھوڑی دیر پہلے یہی بات عریش سے کہنے والی تھی۔
“آپ سن رہی ہیں؟”
“ہا ۔۔ ہاں ، آپ کو کیسے پتا مجھے ایسی تقریبات نہیں پسند؟”
وہ میکانکی کیفیت میں پوچھ بیٹھی۔
“وقت آنے پر آپ کو اس کا جواب دوں گا۔ ابھی آپ فورا یہاں سے جائیں۔”
“ٹھیک ہے ۔”
وہ عریش کے پاس گئی جو کسی اور کے ساتھ کھڑا بات کر رہا تھا مگر نظریں مہرماہ کی جانب ہی تھیں۔ اس وقت صرف چند لوگ ہی آئے تھے اس لیے ہجوم نہ ہونے کے برابر تھا اور عام عوام کو باہر روک کر رکھا گیا تھا۔
“ایکسکیوز می میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔”
وہ جس سے بات کر رہا تھا اس سے معذرت کر کے اس کی جانب آیا جو اس سے بات کرنے کے لیے اسی کی جانب آ رہی تھی۔
“مس مہرماہ آپ مجھے پریشان لگ رہی ہیں۔”
“وہ مجھے ایسی تقریبات سے سخت الجھن ہے میں آ تو گئی ہوں مگر مزید یہاں نہیں رک سکتی اس لیے معذرت مجھے ابھی جانا ہو گا۔”
دور سے اورہان کی نظریں عریش کی ہر حرکت نوٹ کر رہی تھی۔ جس کا ہنستا مسکراتا چہرہ مہرماہ کے الفاظ پر بجھ گیا تھا۔
“مگر تھوڑی دیر تو رک ہی سکتی ہیں اور میں یقین دہانی کرواتا ہوں میڈیا پر آپ کی تصویر یا ویڈیو نہیں آئے گی۔”
اسے یہی محسوس ہو رہا تھا کہ شاید مہرماہ کیمراز سے الرجک ہے۔اسی لیے اس نے گارڈز کو خصوصی طور پر تاکید کی تھی کہ مہرماہ کی کوئی بھی تصویر میڈیا پہ نہیں آنی چاہیے۔
“سوری لیکن پلیز مجھے جانا ہے مجھے یہاں اچھا محسوس نہیں ہو رہا۔”
اسے عریش کی کسی یقین دہانی کی پرواہ نہیں تھی۔ اسے اورہان نے پہلی بار کسی کام کو کرنے کے لیے کہا تھا وہ اس پر بھروسہ کرتی تھی اگر اس نے اسے یہاں سے جانے کے لیے کہا ہے تو کوئی وجہ تو ضرور ہے ورنہ آج تک اس نے کبھی مہرماہ سے فون پر رابطہ نہیں کیا تھا۔
” میں آپ کو روک تو نہیں سکتا نہ ہی ایسا کوئی حق رکھتا ہوں۔ شکریہ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر میرے بلانے پر یہاں آئیں۔”
تھوڑی دیر پہلے والا ہنستا مسکراتا اب عجیب ویران دکھائی دے رہا تھا ۔مہرماہ شرمندہ ہو رہی تھی مگر اسے اس وقت بس ایک ہی جملہ یاد تھا۔
“یقین ہے ناں مجھ پر”
وہ اس کو تقریب میں بلانے کے لیے عریش کا شکریہ ادا کر کے اس کو مبارک دے کر واپس اپنی گاڑی میں آئی اور فورا گاڑی زن سے بھگا کر لے گئی۔ پیچھے عریش کا سارا موڈ خراب ہو چکا تھا لیکن اورہان حیدر عظیم اب اس لڑکی کو اپنا ہمسفر بنانے کے لیے مزید دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے فیصلہ لے لیا تھا۔اور اب اسے فوری اس پر عمل درآمد کروانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
