429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 27)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

صبح تازگی اور اجالا لیے آن وارد ہوئی تھی۔ باغات میں ہوا کے دوش پہ سبزے کی لہلہاہٹ رقص کا منظر پیش کر رہی تھی۔پرندوں کی چہچہاہٹ نے ماحول میں دھیمے سر پیش کیے ہوئے تھے۔پرندے چہچہاتے ہوئے اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل پڑے تھے۔ لوگ رزق کی تلاش کے لیے اپنے اپنے گھروں سے نکلنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ کوئی اسکول جا رہا تھا تو کسی کو دفتر جانا تھا۔ غرض ہر جانب افراتفری مچی ہوئی تھی۔

اسی افراتفری بھری صبح میں ایک کمرے میں داخل ہوا جائے تو وہ بیڈ پر کمفرٹر اوڑھ کر لیٹی نگاہیں مسلسل کمرے کی چھت پہ ٹکائے کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھ رہی تھی۔

اسے اس چھت میں بھی کسی کا عکس نظر آ رہا تھا۔ لیکن وہ عکس چھت پر نہیں اس کی آنکھوں میں سمایا ہوا تھا جسے وہ اس چھت پہ تلاش کر رہی تھی۔ کچھ پل چھت کو دیکھتے رہنے کے بعد اس نے اپنی بھوری آنکھوں کو سرخ و سفید پپوٹوں میں چھپا لیا۔

چند لمحے کچھ سوچنے کے بعد اس نے آنکھیں وا کیں اور بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک نظر اپنے مجلگے لباس کو دیکھا پھر وارڈ روب سے ایک پریس شدہ جوڑا نکالا اور واش روم میں چلی گئی۔

تھوڑی دیر بعد وہ واش روم سے باہر آئی۔ گرین کلر کی لانگ شرٹ اور ٹراوزر پہنے ، گیلے سیاہ سلکی بالوں کو تولیے میں لپیٹے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آئی۔ بالوں کو ڈرائیر کی مدد سے خشک کرنے کے بعد اس نے دوبارہ وارڈ روب کھولی اور اس میں سے ایک برقع نکالا ۔ وہی جو مریم آپی نے اسے اس کی شادی کی شاپنگ کے دوران گفٹ کیا تھا۔ برقع پہنے، حجاب اوڑھے، اپنا بیگ اٹھائے وہ کمرے سے باہر چلی آئی۔وہ سیڑھیاں اتر کے نیچے آئی تو سرفراز صاحب کو لاوئنج میں اخبار پڑھتے پایا۔ ماریہ بیگم کچن میں موجود ان کے لیے ناشتہ بنا رہیں تھیں۔

“السلام علیکم بابا”

“وعلیکم السلام بیٹا، ادھر آو میرے پاس”

سرفراز صاحب نے اخبار پر سے نظریں ہٹاتے اس کو دیکھا اور اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا جس پر مہرماہ چہرہ پہ زبردستی مسکراہٹ سجائے ان کی جانب آئی۔

“بیٹا کیا یونیورسٹی واپس جوائن کر لی ہے؟”

اس کو صبح کے وقت برقع پہنے باہر جانے کے لیے تیار دیکھ ان کو یہی خیال آیا۔

“نہیں بابا”

“پھر صبح کے وقت کہاں جا رہی ہو؟”

“بابا میں حیدر انکل کے گھر جانا چاہتی ہوں۔”

نہ جانے بتا رہی تھی یا اجازت طلب کر رہی تھی مگر اس کی بات سن کر سرفراز صاحب نے اپنی معصوم بیٹی کو بہت دکھ بھری نگاہ سے دیکھا تھا جسے اتنی سی عمر میں اتنے بڑے حادثے سے گزرنا پڑا تھا۔

“ضرور جاو بیٹا۔ آپ کو دیکھ کر وہ بھی بہت خوش ہوں گے۔”

“شکریہ بابا”

“رکو مہرو”

وہ اٹھ کر جانے ہی والی تھی جب ماریہ بیگم کی آواز پہ وہیں رک گئی۔ ماریہ بیگم ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اس کی طرف آ رہیں تھیں۔

” چائے پی کر جانا ورنہ سر درد کرے گا۔”

غالبا وہ سب سن چکی تھیں۔ اور مہرماہ نے حیران نظروں سے اپنی ماما کو دیکھا تھا جو اسے ہمیشہ جوس پینے کے لیے کہتی تھیں آج وہ خود اس کو چائے دے رہی تھیں۔

“ماما دل نہیں چاہ رہا چائے پینے کا۔ آپ مجھے ایک گلاس جوس لا دیں گی۔”

اور اب حیران ہونے کی باری ان کی تھی وہ لڑکی جو چائے کی شوقین تھی آج وہ جوس مانگ رہی تھی۔

“میں ابھی لے کر آتی ہوں۔”

ماریہ بیگم فورا کچن میں آئیں تھیں اور اس کے لیے جوس بنا کر لے کر آئیں ۔ اس نے جوس کا گلاس تھاما اور گھونٹ گھونٹ پینا شروع کیا۔ وہ دونوں اس کو جوس پیتا دیکھ رہے تھے۔اس بات سے لاعلم کہ مہرماہ سرفراز نے اورہان سے ہی محبت نہیں کی تھی اس کی ہر پسندیدہ شے سے مہرماہ کو انسیت تھی اور اپنی خواہشات تو وہ بہت پیچھے چھوڑ چکی تھی۔

جیسے چائے کو چھوڑ کر اس نے جوس کو چنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی گاڑی گرے بنگلے میں داخل ہوئی تھی۔ گیراج میں گاڑی پارک کرتے ہوئے اس کی نگاہ وائٹ اوڈی پہ گئی ۔ وہ گاڑی پارک کر کے باہر نکلی اور قدم قدم چلتی اس گاڑی کے پاس آئی۔ ایک ہاتھ کو آگے بڑھا کر گاڑی پہ پھیرا۔ بہت ساری یادیں تازہ ہو رہیں تھیں۔

اورہان کا اس گاڑی میں موجود ہونا، گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کی جانب بڑھنا،اس کو گاڑی کی چابی تھمانا، اس کا اورہان کے ہاتھ سے چابی لینا۔۔۔۔

یادیں تو کبھی ماند نہیں پڑتی۔ ہم جتنا بھی ان کو دفن کرنے کی کوشش کریں یہ قبر کھود کر واپس آ ہی جاتی ہیں۔

ایک آخری نظر گاڑی پہ ڈال کر وہ اندر کی جانب بڑھی۔ سارا لاوئنج سنسان پڑا تھا۔ وہ حیدر صاحب کے کمرے کے باہر پہنچی اور ناک کیا۔ اندر سے آنے کی اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہوئی اور بیڈ پر موجود صوفیا بیگم نے اورہان کی تصویر والے فریم سے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا اور ان کے چہرے پہ آج بہت دنوں بعد ایک مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا۔ وہ ان کے اورہان کی محبت تھی جس کو پانے کے لیے وہ اتنا بے تاب تھا۔

“مہرماہ میری جان”

وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تھیں جب مہرماہ نے فورا آگے بڑھ کر انہیں روکا۔ ان کے ہاتھوں میں موجود فریم کو بھی وہ دیکھ چکی تھی مگر اسے اپنے جذبات پہ قابو پانا آتا تھا۔

“آنٹی پلیز بیٹھ جائیں۔ کیسی طبیعت ہے آپ کی؟”

وہ ان کے پاس بیٹھی ان سے ان کا حال احوال پوچھ رہی تھی۔

“مہرماہ تمہیں بہو بنانا کر لانا چاہتی تھی مگر قسمت کو منظور ہی نہیں ہوا۔”

وہ اس کو دیکھتے ہوئے کرب سے کہہ رہیں تھیں۔

“آنٹی میں ہمیشہ آپ کی بیٹی رہوں گی اور بہو تو آپ مجھے بنا چکی ہیں ۔ دیکھیں میں آپ کے گھر بھی موجود ہوں۔”

مہرماہ کے الفاظ نے صوفیا بیگم کو پرسکون کر دیا تھا۔

” مہرماہ چھوڑ کر تو نہیں جاو گی؟”

وہ اس کا ہاتھ تھامے اپنے خدشات اس کے سامنے پیش کر رہیں تھیں۔

“نہیں آنٹی “

یہ الفاظ ٹھنڈی پھوار کی طرح ان پر برسے تھے۔اتنی دیر میں حیدر صاحب واش روم سے باہر آ چکے تھے اور مہرماہ کو دیکھ کر وہ بھی خوشگوار حیرت کا شکار ہوئے تھے۔

“السلام علیکم انکل”

“وعلیکم السلام بچے ، کیسی ہے میری بیٹی؟”

“الحمد للہ انکل میں ٹھیک ہوں۔”

“میں نورین سے چائے کا کہتا ہوں تم بیٹھو۔”

وہ کچن کی جانب چلے گئے۔مہرماہ بیڈ سے اٹھی اور وارڈ روب کی جانب آئی ایک نظر تمام کپڑوں پہ ڈال کر ایک سوٹ باہر نکالا۔

“چلیں آنٹی فورا اٹھیں “

مہرماہ نے صوفیا بیگم کو سہارا دے کر اٹھایا۔ ایک خوبصورت اور نفیس سا لائٹ پنک کلر کا سوٹ اس نے صوفیا بیگم کو تھما دیا۔

“جلدی سے فریش ہو کر یہ پہن کر آئیں۔”

“پر اس سوٹ میں کیا مسئلہ ہے؟”

انہوں نے اپنے سوٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔

” بس مجھے آپ کو اس کلر میں دیکھنا ہے۔”

وہ انہیں یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ اگر اورہان اپنی ماما کو اس طرح دیکھتا تو اسے کتنا دکھ ہوتا۔ اس کی ماما ہمیشہ تروتازہ اور نکھری ہوئی ہوتی تھیں۔ صوفیا بیگم سوٹ لیے واش روم کی جانب بڑھ گئیں۔ پیچھے مہرماہ نے سکھ کا سانس لیا اور کمرے سے باہر نکلی۔ اب اسے اورہان کی گڑیا کے پاس جانا تھا۔ وہ فاریہ کے کمرے میں آئی تو اس کو سوتے ہوئے پایا۔ دھیرے سے اس کے پاس جا کر ایک نظر اس سوئی ہوئی معصوم گڑیا کو دیکھ کر وہ کمرے سے باہر آ گئی۔ وہ لاوئنج میں موجود شش و پنج میں مبتلا کھڑی تھی جب حیدر صاحب نے اس کو پریشان کھڑے دیکھا تو اس کے پاس آئے۔

“کیا ہوا بیٹا ؟ پریشان دکھائی دے رہی ہو۔”

“وہ انکل۔۔” وہ آگے بول نہیں پا رہی تھی۔

“کیا بات ہے مہرو؟”

“انکل کیا میں اورہان کے روم میں جا سکتی ہوں؟”

ہچکچاتے ہوئے اپنا مدعا پیش کیا۔

“اس میں پوچھنے والی کونسی بات ہے بیٹا وہ کمرہ آپ کا بھی ہے۔ آپ جب بھی چاہیں جا سکتی ہیں۔ اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔”

اس بات کو سنتے مہرماہ کے دل میں درد کی ایک لہر دوڑی تھی۔ کاش کہ وہ بھی موجود تھا۔

“بہت شکریہ انکل۔”

وہ فورا اورہان کے کمرے کی جانب بڑھی۔

دروازہ کے باہر جا کر ایک لمحہ ٹھہر کر اس نے دروازہ کھول دیا۔

وہ میری نظر سے چھپیں گے کیا جو مکیں ہے میرے خیال میں

انہیں جب بھی چاہوں میں دیکھ لوں وہ کبھی سہی، وہ کہیں سہی

ایک خوشبو بھرا ہوا کا جھونکا اس کے پاس سے ہو کر گزرا۔ اس نے ایک لمبا سانس بھر کر اس خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔ اس کا کمرہ بھی اس کی طرح معطر رہتا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کمرے کے وسط میں آ چکی تھی۔ ایک نظر پورے کمرے پہ دوڑائی جس کی ہر چیز اس سے جڑی تھی جو ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا۔ سفید اور بھورے رنگ والے کمرے میں آج ایک روشنی سی چھا گئی تھی۔ اورہان نے ہمیشہ اس کو اس کمرے میں اپنی بیوی کے روپ میں دیکھنے کی خواہش کی تھی۔

مہرماہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی تو وہاں موجود پرفیومز کولیکشن میں سے ایک پرفیوم کا ڈھکن کھول کر اس کی خوشبو کو ہوا کے سپرد کیا تھا۔ یہ وہی پرفیوم تھا جو اورہان نے نکاح کے وقت استعمال کیا تھا۔ اس کی خوشبو کو اپنی سانسوں کے ساتھ اندر اتارتے اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں۔ اپنے بالکل پاس کسی کی سانسوں کی آواز محسوس کرتے اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور گھبرا کر اردگرد دیکھا۔ مگر وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

“اورہان میں نے سنا تھا کہ لوگوں کو محبت میں وہم ہو جاتے ہیں مگر کبھی سوچا نہیں تھا کہ میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہو جائے گا۔ آپ کہتے تھے ناں کہ مہرماہ آپ اتنی چائے کیسے پی لیتی ہیں پر جانتے ہیں آج چائے پینے کا دل نہیں کیا۔ آپ کے لبوں سے اپنا نام سننے کے لیے ترس چکی ہوں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی آپ میرے سامنے آ جائیں گے اور میرا نام پکاریں گے۔ اورہان مجھے آپ کی بہت یاد آ رہی ہے۔”

وہ بیڈ پر بیٹھی ہلکی آواز میں اپنے دل کا حال کہہ رہی تھی لیکن کمرے میں مکمل خاموشی کے باعث اس کی آواز بآسانی سنائی دے رہی تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں بہنا شروع ہو چکی تھی۔

“آپ کی مہرماہ آپ کے بغیر ادھوری ہے۔ آپ کے گھر والے بہت تکلیف میں ہیں۔ آنٹی، انکل نے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ فری خاموش ہو چکی ہے۔”

وہ اس کے کمرے میں بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ اس کے سامنے موجود ہو اور اس کی ساری باتیں سن رہا ہو۔

اچانک اس کی نظر تکیے کے نیچے گئی کچھ محسوس کرتے ہوئے اس نے تکیہ پیچھے ہٹایا تو ایک ڈائری نظر آئی۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر ڈائری اٹھائی اور شروع سے کھول دی۔ پہلے صفحہ پہ صرف چند الفاظ تحریر تھے۔

“اورہان کے دل کی ملکہ کے نام”

اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اگلا صفحہ کھولا۔ جس پر اس دن کا سارا حال درج تھا جب مہرماہ کی ڈگری مکمل ہوئی تھی۔ یہ بات تو اسے اورہان نے بھی بتائی تھی کہ اس روز اسے اس سے محبت ہو گئی تھی۔ اس نے صفحات آگے کرنے شروع کیے وہ بہت انہماک سے یہ الفاظ پڑھ رہی تھی۔ اپنی آنکھوں پہ کی گئی اس کی شاعری کو پڑھتے اس کی آنکھوں سے اشک گر کر ان الفاظ کو بھگو رہے تھے۔ اس نے مہرماہ اور اپنا ہر لمحہ اس ڈائری میں محفوظ کیا ہوا تھا۔ جب اس نے رشتہ بھیجا، مہرماہ سے نکاح ، اس سے ملاقات ، اس کو ملکہ کا خطاب دینا اور اس ڈائری میں موجود تحریر شدہ آخری صفحہ پہ لکھے الفاظ جس میں مہرماہ کے مکمل ساتھ کی خوشی اور ایکسائٹمنٹ درج تھی ۔ کتنی محبت کرتا تھا وہ اس سے جس کا مہرماہ نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اس نے ڈائری بند کی اور اسے سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ اس کی سسکیاں اس خاموشی میں ارتکاز پیدا کر رہی تھی۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ان کا راستہ روک رہی تھی۔ وہ غم ، وہ اذیت ، وہ دکھ ، وہ حادثہ سب تازہ ہو چکا تھا۔

اور اس بار بھی اسے اپنے آنسو خود ہی روکنے تھے۔ کیونکہ اس کی خوشی کے آنسوؤں کو بھی اپنی پور پہ چننے والا اب موجود نہیں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس نے ولید نعمان والا کیس ری اوپن کر لیا تھا۔ وہی کیس جس کے بارے میں اورہان کا شک عریش سلطان پہ گیا تھا۔ کیونکہ ایک سیاست دان دوسرے سیاست دان کا دشمن ہوتا ہے۔ اور اس بات پہ انس کو کوئی شک نہیں تھا۔ لیکن اگر عریش کسی کو برا بنانے کے لیے یہ حرکت کر سکتا تھا تو عریش کی ہی بلڈنگ اس رات کیوں جلی۔ اس سب میں انس کا شک عریش کے ساتھ ساتھ ولید نعمان پہ بھی جا رہا تھا۔ وہ ان دونوں کے ماضی کے حالات و واقعات اور ان کی کمزوریوں کو تلاش کر رہا تھا۔ اس وقت وہ رات کی سیاہی میں سڑکوں پہ گاڑی دوڑا رہا تھا جب سگنل پہ رکتے اس کی نگاہ ساتھ والی گاڑی میں موجود شخص پر گئی۔ اس کو تو وہ بھول ہی چکا تھا۔ اورہان نے اسے بتایا تھا کہ فہد ہی نے ولید نعمان والا پراجیکٹ اسے دلوایا تھا اور اسی پراجیکٹ سے ہی تو کہانی شروع ہوئی تھی۔ وہ اس وقت جینز اور ٹی شرٹ میں موجود تھا اس نے ڈیش بورڈ سے ماسک اٹھایا اور اسے اپنے چہرے پہ لگا لیا۔ سیاہ سلکی بال جو پہلے ہی ماتھے پہ گرے تھے ان کو مزید بکھیر دیا۔ اب اسے اس کا پیچھا کرنا تھا لیکن اس طرح کہ وہ کسی کی نظر میں نہ آئے۔

اس نے اپنی گاڑی فہد کی گاڑی کے پیچھے لگا دی جو اس وقت اکیلا نہیں تھا ۔ اس کے ساتھ کوئی خاتون بیٹھیں تھیں۔ فہد کی گاڑی ایک گھر کے باہر آ کر رکی تھی پھر گیٹ کھلنے پر گاڑی اندر کی جانب بڑھ چکی تھی۔

“کیا فہد اس سب میں شامل ہو سکتا ہے؟” ابھی وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس نے گاڑی واپس اپنے گھر کی جانب موڑ لی۔

اگلے روز سے اس نے ایک آدمی کو فہد کا پیچھا کرنے کے لیے کہہ دیا تھا۔ وہ آدمی اس کو فہد کے آنے جانے کے اوقات سے آگاہ کر دیا کرتا تھا۔ اس کے اوقات کار اس کو مشکوک بنا رہے تھے۔ ایک شخص جو پراجیکٹ دلوانے کا کام کیا کرتا تھا وہ اتنے عرصے سے کوئی پراجیکٹ نہیں دلوا رہا تھا۔ نہ ہی وہ کسی سیاسی شخصیت سے مل رہا تھا حالانکہ اس کا زیادہ تر وقت سیاسی اور کاروباری شخصیات میں ہی گزرتا تھا۔ اس نے فہد کے نمبر کا ڈیٹا نکلوایا تھا جس میں کچھ بھی مشکوک نہیں تھا۔ اس کی زیادہ تر کالز اور میسجز میں لڑکیوں کو کی گئی کالز اور میسجز ہی موجود تھے۔ گویا وہ ایک گھٹیا اور ٹھرکی قسم کا انسان معلوم ہوا تھا۔ مگر انس نے ابھی تک اسے شک کے کٹہرے سے باہر نہیں نکالا تھا۔ اسے فہد اور عریش کے درمیان کسی جوڑ کی تلاش تھی جو اس گتھی کو سلجھا سکتا تھا۔ لیکن وہ اس بات سے لاعلم تھا کہ فہد اور عریش دونوں اس چیز سے آگاہ ہیں کہ انس ان کی مخبری کر رہا ہے۔

پیر کی صبح جب وہ ڈیوٹی کے لیے گھر سے نکلا تو اس کا ذہن عجیب کشمکش کا شکار تھا۔ اس نے کل رات فہد کو ایک آدمی سے جھگڑتے دیکھا تھا جو اس سے یہ کہہ رہا تھا کہ وہ سب پولیس کو بتا دے گا۔ انس نے چھپ کر یہ سب سنا تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ فہد اس کو دیکھ چکا تھا۔

وہ پورا راستہ یہی سوچتا جا رہا تھا۔ تھانے پہنچ کر اپنے فرائض ادا کیے ۔ رات کو واپسی کی راہ پکڑی تو تاریک اور ویران راستے سے گزرنے کے دوران اسے ایک آدمی سڑک پہ گرا ہوا نظر آیا۔ وہ آدمی زخمی تھا ساتھ ہی اس کی بائیک بھی گری ہوئی تھی۔ غالبا وہ کسی گاڑی سے ٹکرا گیا ہو گا اور گاڑی والا اسے زخمی کرتا ہوا فرار ہو گیا ۔ اس نے فورا بریک پہ پاوں رکھا اور گاڑی سے باہر آیا۔ سڑک پہ اکا دکا گاڑیوں کا گزر ہو رہا تھا۔ وہ اس زخمی شخص کے پاس پہنچا اور مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ۔ وہ شخص جو درد سے کراہ رہا تھا اس نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں چمک آئی جو انس کو دکھائی نہیں دی کیونکہ وہ اس وقت اس کے زخموں کی جانب متوجہ تھا۔ انس نے اس انسان کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی سوال پوچھتا ایک سٹیل کا چھوٹا ٹکڑا نہایت تیز رفتار سے اس کے بازو کو چھو کر گزرا جس سے اس توازن بگڑا اور اس نے کراہ کر اپنے بازو کی جانب دیکھا جہاں سے خون ابل ابل کر باہر آنا شروع ہو چکا تھا۔ ابھی وہ سنبھلا نہیں تھا کہ ایک اور گولی اس کی ٹانگ کو چھوتی گوشت کے اندر دھنسی تھی۔ ایک دم اس کا توازن بگڑا تھا اور وہ نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ جسم سے خون اور آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو چکا تھا۔ اسے اپنی بصارت دھندلی پڑتی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے آس پاس دیکھنے کی کوشش کی مگر سر بھاری ہونے اور شدت کی تکلیف سے اس کی آنکھیں بند ہونا شروع ہو چکی تھی۔

ایک دم اس کا سر سرمئی سڑک پہ جا کر لگا تھا۔ اور اس کی آنکھوں کے پار اندھیرا چھا گیا۔ اس نے آنکھوں پہ زور ڈال کر کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام ٹھہرا۔ اس کے ذہن کے پردوں پہ اس کے اپنے نظر آ رہے تھے۔ ماما،بابا، سعد، اورہان ، فاریہ ۔۔۔

سارے منظر گڈمڈ ہو رہے تھے اور اس کا ذہن مفلوج ہونا شروع ہو چکا تھا۔ وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکا تھا۔

اس سارے واقعے سے لا علم مجتبٰی صاحب کے فون پر ایک کال آئی تھی۔

“سر ہم نے آپ کو یہ اطلاع دینے کے لیے فون کیا ہے کہ اے ایس پی انس مجتبٰی کو گولیاں لگی ہیں اور اس وقت ان کا آپریشن چل رہا ہے۔”

مجتبٰی صاحب جو صوفہ پہ بیٹھے انس کی ماما سے باتیں کر رہے تھے اطلاع ملتے ہی ان کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔

“کک۔۔۔کون سے ۔۔۔ہسپتال؟”

انہوں نے ہکلاتے ہوئے سوال پوچھا تھا اور انس کی ماما کا دل کسی انہونی کے خوف سے لرز گیا تھا۔ مجتبٰی صاحب نے فون رکھا تو وہ فورا بول پڑیں۔

“کون تھا ؟ ہسپتال کون ہے؟کیا ہوا ؟”

مجتبٰی صاحب کی خاموشی انہیں مزید پریشان کر رہی تھی۔

“آپ بتا کیوں نہیں رہے کون ہے ہسپتال؟”

“انس۔۔۔انس کو گولیاں لگی ہیں۔ اس کا آپریشن ہو رہا ہے۔ ہمیں اسی وقت ہسپتال کے لیے روانہ ہونا ہے۔ دعا کرو میرے بچے کو کچھ نہ ہو۔”

وہ برق رفتاری سے کھڑے ہوئے تھے اور سن ہوئی اپنی بیوی کو بازوؤں سے تھام کر باہر کی جانب بڑھے۔ سعد اس وقت سو رہا تھا۔ انہہوں نے دروازہ لاک کیا اور ہسپتال کی راہ لی۔

ہسپتال۔۔۔ ایک ایسی جگہ جہاں کئی لوگ زندگی پاتے ہیں اور کئی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اسی ہسپتال کے اندر داخل ہوتے مجتبٰی صاحب اور ان کی بیگم کی سانسیں سینے میں الجھی ہوئی تھیں۔ ابھی وہ اندر داخل ہی ہوئے تھے جب کچھ باوردی پولیس والے ان کے پاس آئے۔

“سر میرے ساتھ آئیں میں آپ کو آپریشن تھیٹر تک لے جاتا ہوں۔”

ایک پولیس والے نے مجتبٰی صاحب کو مخاطب کر کے کہا۔

کتنا شوق تھا انہیں جب ان کے بیٹے کی وجہ سے لوگ ان کی عزت کرتے مگر افسوس کہ آج انہیں کسی چیز کی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وہ پولیس والا انہیں لیے آپریشن تھیٹر کے باہر آیا تھا جس کی جلتی ہوئی سرخ بتی اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ ابھی آپریشن جاری تھا۔ مجتبٰی صاحب ایک جگہ پہ جمے کھڑے تھے جبکہ ان کی بیگم مسلسل کوریڈور کے چکر کاٹ رہیں تھی۔ ان کا دل ہول رہا تھا۔ وہ دونوں اپنے بچے کی زندگی کے لیے دعاگو تھے۔

آپریشن تھیٹر کی سرخ بتی بجھ چکی تھی اور ان کی سانسیں اٹک چکی تھی۔ دو ڈاکٹر اوور آل پہنے باہر نکلے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر آگے بڑھ گیا جبکہ دوسرا ان کے پاس آیا۔

“پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے۔ ان کو دو گولیاں لگی تھیں۔ ایک دائیں بازو پہ جو گوشت کو چیرتی ہوئی باہر نکل گئی اور دوسری بائیں ٹانگ میں جس کو آپریشن کے ذریعے نکال لیا گیا ہے۔ مگر خون بہت زیادہ مقدار میں ضائع ہو چکا ہے۔ اس لیے ابھی پیشنٹ بے ہوش ہے۔ امید ہے جلد ہی انہیں ہوش آ جائے گا۔ آپ دعا کریں۔”

ڈاکٹر کے یہ الفاظ کہ وہ خطرے سے باہر ہے ان کو آب حیات کی مانند محسوس ہوئے تھے۔

“ڈاکٹر صاحب کیا ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں؟”

“انہیں آپریشن تھیٹر سے منتقل کر کے جنرل روم میں لے جانے کے بعد آپ ان سے مل سکتے ہیں۔ مگر پلیز ڈسٹربنس نہ ہو۔”

“بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب “

ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا۔ اتنی دیر میں ایک میل نرس سٹریچر تھامے اسے لیے آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا۔ اپنے بیٹے کو بے ہوش، پٹیوں میں جکڑا دیکھ ان کا کلیجہ منہ کو آیا تھا۔ وہ جانتے بھی تھے کہ اس فیلڈ میں یہ سب معمولی ہوتا ہے مگر وہ ماں باپ تھے جو اولاد کی تکلیف کو ان سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

انس کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ لیکن ابھی تک وہ ہوش میں نہیں آیا تھا۔ وہ اس کے جلد ہوش میں آنے کے لیے دعا گو تھے۔

اسی وقت گرے بنگلے میں آیا جائے تو حیدر صاحب اپنے کمرے میں موجود تھے جب ان کو کسی جاننے والے کے نمبر سے ایک ویڈیو ریسیو ہوئی ۔ انہوں نے اس ویڈیو پہ کلک کیا تو ویڈیو پلے ہوئی۔

“تھانے کے اے ایس پی انس مجتبٰی کو رات کے وقت ڈیوٹی سے واپسی پہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ ان کو ہسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔”

صحافی کی آواز ان کے کانوں کو چبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے ویڈیو کو دوبارہ دیکھا اور سنا مگر وہی تصویر دوبارہ دیکھنے کو اور وہی الفاظ دوبارہ سننے کو ملے۔

وہ فورا صوفہ سے اٹھے تھے اور مجتبٰی صاحب کے نمبر پہ کال ملائی۔

“مجتبٰی بھائی ،انس کیسا ہے؟ مجھے ابھی ویڈیو موصول ہوئی جس میں انس کو گولیاں لگنے کی اطلاع دی گئی ہے۔”

“ابھی آپریشن ہوا ہے۔ خطرے سے باہر ہے مگر ابھی تک ہوش نہیں آیا۔”

“آپ مجھے ہسپتال کا ایڈریس بتائیں۔ میں ابھی آتا ہوں۔”

مجتبٰی صاحب نے انہیں ہسپتال کا پتا درج کروا دیا تھا۔ انہوں نے ایک نظر سوئی ہوئی صوفیا بیگم پہ ڈالی اور کمرے سے باہر آئے۔ فاریہ جو ان کے کمرے کی جانب ہی آ رہی تھی اپنے بابا کو پریشانی میں کہیں جاتا دیکھ کر ان کو روکا۔

“بابا آپ اتنی پریشانی میں کہاں جا رہے ہیں؟ سب ٹھیک ہے ؟”

وہ حساس دل رکھنے والی اپنے بھائی کی موت کے بعد مزید حساس ہو چکی تھی۔

“کچھ نہیں ہوا بیٹا۔ آپ ماما کے پاس جاو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔”

وہ اسے ٹینشن نہیں دینا چاہتے تھے۔

“بابا مجھے سچ بتائیں۔”

وہ مطمئن نہیں ہو رہی تھی۔

“بیٹا انس کو گولیاں لگی ہیں۔ اس کا آپریشن ہوا ہے۔ ابھی میں اس کے پاس ہسپتال جا رہا ہوں۔”

یہ الفاظ کوڑے کی مانند اس حساس دل والی لڑکی پہ برسے تھے۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی۔

“وہ ٹھ ۔۔۔ ٹھیک تو ہیں؟”

بمشکل حلق سے یہ الفاظ ادا کیے ۔

“ابھی اسے ہوش نہیں آیا۔ دعا کرنا بیٹا۔”

وہ اس کے سر پہ پیار دیتے وہاں سے چلے گئے۔ اور وہ ادھر ہی جم گئی۔

“ان۔۔ انس کو گو۔۔گولیاں لگی ہیں۔ میری ۔۔۔ میری وجہ سے ہوا ہے یہ سب۔ میں نے کہا تھا انہیں کہ وہ بھائی کے مجرموں کو ڈھونڈیں۔ وہ اس حال میں میری وجہ سے ہیں۔” وہ خود کلامی کر رہی تھی اور اس کی آنکھیں دھندلا رہی تھی۔ نورین آپا نے اس کو ایک جگہ پہ منجمند خود سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں اس کی حالت پہ افسوس ہوا۔ وہ اس کے پاس آئیں۔

” فری بی بی آپ کو کچھ چاہیے؟”

وہ اس سے ڈائریکٹ اس کی حالت کا نہیں پوچھنا چاہتی تھی۔

“کک۔۔کچھ نہیں۔”

نورین آپا کو جواب دیتے وہ وہاں سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔ اندر پہنچ کر دروازہ بند کیا ۔ تمام جمع شدہ آنسو آنکھوں سے رواں ہونا شروع ہو چکے تھے۔ وہ بیڈ پہ آ کر بیٹھی تھی۔

” انس۔۔۔ یہ کیا ہو گیا؟ میں بھائی کو کھو چکی ہوں اب میرے میں اور ہمت نہیں ہے۔ میں مر جاوں گی اگر آپ کو کچھ ہو گیا۔ میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ آپ کو زندگی دے۔ آپ ہمیشہ خوش رہیں۔ میں آئندہ آپ سے کچھ نہیں کہوں گی۔ آپ کو تو فاریہ نے دل کے ہر خانے سے چاہا ہے۔ آپ کی زندگی میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آپ کو جس کا بھی ساتھ ملے لیکن آپ کبھی دکھی نہ ہوں۔ میری دعا ہے کہ آپ جس کے بھی ساتھ رہیں ہمیشہ ہنستے مسکراتےزندگی گزاریں۔ آپ میرے لیے صرف ایک سراب ہیں ایک ایسا سراب جو ہمیشہ مجھے اپنے پیچھے پاگل کرتا آیا ہے۔ لیکن آپ تو اس سب میں معصوم ہیں ۔ میں نے آج تک آپ کو بھی قصوروارسمجھا جبکہ آپ نے تو کبھی مجھے کوئی امید نہیں دلائی تھی۔ میں آپ کے لیے ہمیشہ دعا کروں گی۔ اللہ آپ کو کبھی آپ کے اپنوں سے دور نہ کرے۔”

وہ جھلی انس کے جینے کی وجہ سے اتنی بے خبر تھی کہ اس کے لیے اپنی محبت کا گلا گھونٹ رہی تھی۔ وہ جانتی ہی نہیں تھی کہ ان اپنوں میں ایک وہ بھی شامل ہے۔ مگر اس نے تو خود کو غیروں کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔

وہ دونوں اتنی اذیت کے بعد بھی ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ دعاگو تھے۔ کیونکہ وہ دونوں محبت میں نفرت کے قائل نہیں تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہسپتال میں دوائیوں کی بو ناک میں گھس کر عجیب سا احساس دلا رہی تھی۔ انہی راہداریوں میں سے گزرتے ہوئے ایک کمرے کی جانب آیا جائے تو ہسپتال کے بیڈ پہ موجود ہسپتال کے کپڑوں میں ملبوس انس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی۔ بار بار آنکھوں کو جھپک کر کھولنے کی کوشش میں اس کی آنکھیں وا ہوئیں تھیں۔ ساتھ ہی درد کی اک لہر نے اسے اپنے قبضے میں لیا تھا۔ آس نے کراہ کر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ اس کی ماما جس نے مسلسل اس پہ نگاہ ٹکائی ہوئی تھی اس کو ہوش میں آتا دیکھ فورا اٹھ کر اس کے پاس آئیں تھیں۔ مجتبٰی صاحب نے اس کو تکلیف سے آنکھیں موندتے دیکھا تو ڈاکٹر کو بلانے کے لیے باہر کی جانب بھاگے۔

“بیٹا ٹھیک ہو تم؟”

اپنی ماں کے شفاف مامتا بھرے چہرے پہ ڈھیر سارے آنسو اسے مزید اذیت میں ڈال گئے تھے۔

“میں بالکل فٹ ہوں ماما ۔ آپ روئے تو نہیں پلیز”

درد کو پیتے چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجائے وہ اپنی ماں کو دھوکا دے رہا تھا۔

” نہیں ہو ٹھیک ۔ دو۔۔ پوری دو گولیاں لگی ہیں تمہیں۔ تم جانتے نہیں کہ تمہارے ماں باپ تمہارے بغیر مر جائیں گے۔ تم اتنے لاپرواہ کیسے ہو سکتے ہو۔”

انگلیوں سے دو کا اشارہ کرتے وہ انس کو تقریبا ڈانٹ رہیں تھیں۔

“میں نے آپ کو پریشان کیا ہے ناں ماما۔ آئیندہ نہیں ہو گا۔”

“پریشان ۔۔۔ تم نے ہماری جان نکال دی تھی۔ اب بس تم پولیس سے ریزائن دو۔ یہ پولیس کی نوکری میں بہت خطرہ ہوتا ہے۔ مجھے اپنا بچہ صحیح سلامت چاہیے۔ “

” ماما آپ تو ایسے نہ کہیں۔ آپ ہی تو مجھے کہتی تھیں کہ جب موت لکھی ہے اسی وقت آنی ہوتی ہے۔”

“لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے موت کے کنویں میں چھلانگ لگا دو۔”

اس سے پہلے کہ انس کچھ کہتا مجتبٰی صاحب ڈاکٹر کو لیے اندر داخل ہوئے تھے۔

“کیسے ہیں اے ایس پی صاحب؟ بڑی جلدی ہوش آیا ہے آپ کو۔دیٹس گڈ۔”

ڈاکٹر اس جواں مرد کی تعریف کر رہا تھا۔ جس پہ سب کے لبوں پہ دھیمی مسکراہٹ آئی تھی۔

“زیادہ درد کہاں فیل ہو رہا ہے؟”

ڈاکٹر نے اس سے سوال پوچھا جس پہ اس نے نگاہوں کا رخ اپنی ماما کی جانب موڑا اور ان نگاہوں میں التجا تھی گویا کہہ رہا ہو کہ پلیز میری ماما کو بتائیں میں بالکل ٹھیک ہوں اور کوئی درد نہیں ہو رہا۔ ڈاکٹر اس کی نگاہوں کے زاویے پہ مسکرایا تھا۔

” مجھے سر انس سے چند باتیں کرنی ہیں اگر آپ مائنڈ نہیں کریں تو کیا آپ ہمیں تھوڑی دیر کے لیے اکیلا چھوڑ سکتے ہیں۔”

“آپ ہمارے سامنے بات کر لیں۔”

اس کی ماما نے فورا جواب دیا تھا۔

” چلو بیگم ڈاکٹر نے کوئی ضروری بات پوچھنی ہو گی۔”

وہ سمجھ چکے تھے اس لیے انہیں لیے باہر آئے۔

“جی تو کہاں زیادہ درد ہو رہا ہے؟”

“میری ٹانگ میں بلا کی درد ہو رہی ہے۔”

چہرے پہ تھوڑی دیر پہلے سجی مسکراہٹ اب کہ تکلیف میں تبدیل ہو چکی تھی ماتھے پہ پڑی شکنیں اس کے درد کی انتہا کو بیان کر رہیں تھی۔

” میں آپ کی میڈیسن میں پین کلر کی مقدار تھوڑی بڑھا دیتا ہوں۔”

ڈاکٹر اس کے زخموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

” کتنی دیر تک میں چلنے پھرنے کے قابل ہو جاوں گا۔”

” دیکھیں سر ابھی زخم تازہ ہے۔ تھوڑی سی بے احتیاطی بھی آپ کے لیے مزید مسئلہ کھڑا کر سکتی ہے۔ ابھی چند دنوں کا وقت درکار ہے اس وقت تک آپ کو بیڈ ریسٹ کرنا ہو گا۔”

انس کے چہرے پہ پریشانی کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ وہ جان چکا تھا کہ اسے ان کیسز سے دور رکھنے کے لیے اس پہ حملہ کروایا گیا ہے۔ ورنہ وہ گولی اس کے دل کے آر پار بھی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اسے پہلے ایک وارننگ دی تھی۔ ڈاکٹر وہاں سے گیا تو اس کے والدین اس کے پاس آئے ۔ اس کی ماما اس سے اب باتیں کر رہی تھیں جبکہ مجتبٰی صاحب خاموشی سے اس کو دیکھ رہے تھے اور انس نے اس بات کا نوٹس بھی لیا تھا۔

” تم کہہ رہی تھی کہ انس کے ٹھیک ہونے پہ شکرانے کے نفل پڑھو گی۔ وہ پڑھ آو۔”

“ارے ہاں میں تو بھول ہی گئی۔ میں پہلے نفل پڑھ کے آتی ہوں۔ میرے اللہ نے میرے بچے کو زندگی دی اس کا شکر ادا کر کے آتی ہوں۔”

اس کی ماما اس کی پیشانی پہ بوسہ دیتے ابھی کمرے سے باہر ہی نکلی تھی کہ انس نے اپنے بابا کی جانب دیکھا جو اس کے چہرے پہ نگاہیں مرکوز کیے اس کو دیکھ کم اور گھور زیادہ رہے تھے۔

” پوچھیں بابا کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟”

“کون تھے وہ لوگ؟”

“میں نہیں جانتا۔”

“میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولو۔ میں تمہارا باپ ہوں تم میرے باپ نہیں۔”

“بابا اورہان کا قتل کیا گیا ہے۔”

یہ جملہ مجتبٰی صاحب کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ اور دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کر کھڑے حیدر صاحب پہ سکتہ طاری ہو گیا۔

“یہ کیا کہہ رہے ہو؟”

“بابا پلیز آپ یہ بات حیدر انکل کو نہیں بتائیں گے ۔ وہ بہت پریشان ہوں گے۔ اورہان نے مجھے ان کی ذمہ داری سونپی تھی۔ میں اورہان کے قاتلوں کو پکڑے بغیر ان کو کسی چیز کی خبر نہیں دینا چاہتا۔ ان کو صبر آ گیا ہے میں نہیں چاہتا کہ ان کا صبر چھن جائے۔”

حیدر صاحب نے ہینڈل سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔

“تو یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تم پہ گولیاں چلائیں۔”

انہوں نے گویا یقین دہانی چاہی تھی۔

“ایک سو ایک فیصد”

“انس ہم تمہیں نہیں کھو سکتے۔ ہمیں اورہان کی موت کا افسوس ہے۔ مگر میں کبھی تمہیں یہ اجازت نہیں دوں گا کہ تم اپنی جان خطرے میں ڈالو۔ حیدر نے اپنا بیٹا کھویا ہے۔ میں نہیں کھو سکتا۔ اس کو صبر آ گیا ہے مجھے نہیں آئے گا۔تم اب اس معاملے سے دور رہنا۔ اللہ انصاف کرنے والا ہے۔ وہ اورہان کے قاتلوں کو ضرور سزا دے گا۔”

“مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی بابا۔ آپ اس اورہان کے قاتلوں کو ڈھونڈنے سے منع کر رہے ہیں جو اگر نہ ہوتا تو میں آپ کے سامنے زندہ نہ ہوتا۔”

اس نے یہ سوچ کر اپنے بابا کو حالات سے آگاہ کیا تھا تاکہ کسی مشکل کی صورت میں ایک سپورٹ ہو۔ اسے یقین تھا کہ اس کے بابا اسے سمجھیں گے۔

“کیا مطلب ہے اس بات کا کہ تم زندہ نہ ہوتے۔”

“آپ کی اور ماما کی تلخ باتوں سے بیزار ہو کر میں خودکشی کے لیے جا رہا تھا۔ اگر اس وقت اورہان نہ آتا تو میں حرام موت مر جاتا۔ اس نے اپنا کام چھوڑ کر میری دیکھ بھال کی۔ جانتے ہیں جب میں نے اسے پوچھا کہ وہ آپ کو بتا تو نہیں دے گا۔ تو اس نے کہا کہ وہ آپ کو دکھ نہیں دے سکتا۔ بابا اس نے مجھے بھائیوں سے بڑھ کر چاہا تھا۔ آپ کو باپ سمجھا تھا۔ آپ اپنے بیٹے کے قاتلوں کو تلاش نہیں کرتے کیا؟”

انس کی باتوں نے ان کو جھنجھوڑا تھا۔ وہ کیسے اورہان کے قاتلوں کو چھوڑ سکتے تھے۔

“میں تمہارے ساتھ ہوں انس ۔ ہم مل کر اس کے قاتلوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔ لیکن تم مجھے بتائے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاو گے۔”

اپنے بابا کے جواب پہ انس نے ایک گہرا سانس بھرا تھا۔

“ارے بھائی صاحب آپ ادھر ہی کھڑے ہیں اندر آ جائیں۔”

انس کی ماما جو ابھی نفل پڑھ کے کمرے کی جانب آئی تھی حیدر صاحب کو دروازے کے باہر کھڑا دیکھ کر ان کو اندر آنے کے لیے کہا۔ یہ آواز اندر موجود دونوں نفوس نے بھی سنی تھی۔ جس سے ان کے دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔حیدر صاحب نے ایک نظر دروازہ کو دیکھا تھا اور واپسی کے لیے قدم بڑھائے۔

“بھائی صاحب کہاں جا رہے ہیں۔ انس سے مل لیا ہے؟”

“بعد میں آ جاؤں گا۔”

اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتے مجتبٰی صاحب دروازہ کھولتے ان تک آئے تھے۔

“تم انس کے پاس اندر جاو ۔ میں حیدر بھائی سے مل لوں۔”

انہوں نے اپنی بیگم کو اندر بھیجا۔

“مجھے معاف کر دیں بھائی۔ میں سچ میں خود کو آپ کی جگہ پہ رکھ کر نہیں سوچ سکا تھا۔ اورہان میرا بھی بیٹا ہے۔ میں انس کو کبھی نہیں روکوں گا۔ ہم سب مل کر اس کے قاتلوں کو سزا دلوائیں گے۔”

“مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ میں تمہاری جگہ ہوتا تو شاید میں بھی اپنے بیٹے کو منع کرتا۔ والدین اپنے بچوں کے معاملے میں بہت خودغرض ہوتے ہیں۔ آپ نے کچھ غلط نہیں کہا۔”

“آپ میری جگہ ہوتے تو کبھی اورہان کو منع نہ کرتے۔ آپ نے انس کو بیٹوں کی طرح رکھا ہے۔ اسے کبھی کسی اچھے یا برے حال میں تنہا نہیں چھوڑا۔”

حیدر صاحب نظریں جھکائے خاموش کھڑے تھے۔

“آپ انس سے نہیں ملیں گے؟ وہ تو آپ کو اورہان کی ہی طرح عزیز ہے۔”

اس پہ حیدر صاحب خاموشی سے انس کے کمرے کی طرف بڑھے۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو انس کے چہرے پہ رقم شرمندگی اور معذرت نے انہیں دکھی کر دیا۔

“کیسا ہے میرا بیٹا؟”

“مجھے معاف کر دیں انکل۔میں آپ کو بتانا چاہتا تھا مگر آپ کو مزید دکھ نہیں دے سکتا تھا۔ آنٹی کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی میں یہ بتا کر انہیں مزید اذیت نہیں دینا چاہتا تھا۔”

وہ اپنی صفائی دے رہا تھا۔ اور اس کی ماما حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ مجتبٰی صاحب کے اشارے پہ وہ خاموش کھڑی تھی۔

“میں جانتا ہوں ۔”

حیدر صاحب صدیوں کی تھکن لیے بیمار دکھ رہے تھے۔ یہ بات ان کو جیتے جی مارنے کے لیے کافی تھی کہ ان کا بیٹا قتل ہوا ہے۔ ان کا صبر ختم ہو رہا تھا۔ وہ صبر جو جوان بیٹے کی ناگہانی موت پہ آ گیا تھا مگر قتل پہ نہیں۔۔۔۔

ٹھیک اسی وقت اسی ہسپتال کے ایک کمرے میں آیا جائے تو ایک وجود سیاہ جینز پہ سیاہ ہڈی پہنے ، بالوں کو کیپ سے چھپائے ، پاوں میں سیاہ جوگرز پہنے، چہرے پہ سیاہ ماسک چڑھائے ایک کمرے میں داخل ہوا تھا۔

“ماما،انکل آ گئے۔”

ایک بچی چہکتی ہوئی بیڈ پہ بیٹھ چکی تھی۔ اس کی ماں نے بہت عزت سے اس وجود کو دیکھا تھا۔ جو ان کے لیے ایک مسیحا کی مانند تھا۔

“کیسی ہو پرنسز؟”

“میں ٹھیک ہوں انکل ۔ پتا ہے بابا کہہ رہے تھے میں بہت جلد سکول بھی جاوں گی اور کھیل بھی سکوں گی۔”

وہ بہت خوش دکھ رہی تھی اس کے گال اب پھولنے لگے تھے۔ چہرے پہ گلابی پن نظر آنا شروع ہو چکا تھا۔ اتنی دیر میں اس بچی کے بابا بھی کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ اس کی اور سیاہ ماسک والے کی نگاہوں کا تصادم ہوا تھا۔

دونوں نے ایک دوسرے کی نگاہوں میں چھپے پیغامات پڑھ لیے تھے۔ اور وہ سیاہ لباس میں ملبوس وجود اس کمرے سے نکل کر سیاہ رات کا حصہ بن گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔