Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Last updated: 18 November 2025
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 1)Yaar-E-Gaar (Episode 2)Yaar-E-Gaar (Episode 3)Yaar-E-Gaar (Episode 4)Yaar-E-Gaar (Episode 5)Yaar-E-Gaar (Episode 6)Yaar-E-Gaar (Episode 7)Yaar-E-Gaar (Episode 8)Yaar-E-Gaar (Episode 9)Yaar-E-Gaar (Episode 10)Yaar-E-Gaar (Episode 11)Yaar-E-Gaar (Episode 12)Yaar-E-Gaar (Episode 13)Yaar-E-Gaar (Episode 14)Yaar-E-Gaar (Episode 15)Yaar-E-Gaar (Episode 16)Yaar-E-Gaar (Episode 17)Yaar-E-Gaar (Episode 18)Yaar-E-Gaar (Episode 19)Yaar-E-Gaar (Episode 20)Yaar-E-Gaar (Episode 21)Yaar-E-Gaar (Episode 22)Yaar-E-Gaar (Episode 23)Yaar-E-Gaar (Episode 24)Yaar-E-Gaar (Episode 25)Yaar-E-Gaar (Episode 26)Yaar-E-Gaar (Episode 27)Yaar-E-Gaar (Episode 28)Yaar-E-Gaar (Episode 29) 2nd Last EpisodeYaar-E-Gaar (Episode 30) Last Episode in PDF
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
عریش نے عماد کو بیٹھنے کے لیے کہا اور خود اس کے مقابل صوفہ پہ براجمان ہوا تھا۔
"کوئی ضروری کام چھوڑ کر تو نہیں آئے؟"
"تمہیں کونسی خوش فہمی لاحق ہے کہ میں تم سے ملنے کے کیے اتنا بےتاب ہوں کہ اپنے کام چھوڑ کر آوں گا۔ وہ تو میں فارغ بیٹھا تھا تو سوچا تم پہ احسان کر دوں۔"
ساتھ ہی فرضی کالر جھٹکا۔
"اوہ ۔۔۔ میں پوری عمر آپ جناب کا مشکور رہوں گا۔"
"جلدی بتاو کونسی ضروری بات ہے؟"
وہ سسپینس میں تھا کہ آخر کونسی ضروری بات کے لیے اس نے ایمرجنسی میں اسے بلوایا۔
"ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے مجھے گارنٹی دو کہ انکار نہیں کرو گے۔"
"او بھائی اب ایسی بھی کونسی بات ہے؟"
وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا تو عریش بھی واپس سنجیدہ ہو چکا تھا۔
"میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔"
"ہیں ہیں۔۔۔ یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ عریش سلطان دی گریٹ سڑیل شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔"
وہ حیران ہونے کی اداکاری کر رہا تھا۔
"میں سیریس ہوں۔"
اس نے سیریس پہ زور دیتے ہوئے کہا۔
"وہ تو مجھے بھی سمجھ آ چکی ہے۔ دیر کس بات کی ہے؟"
"اقرار کی۔"
"کیا مطلب؟"
"مطلب یہ کہ میں مریم بھابھی کی بہن مہرماہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔"
عماد کا منہ یک دم کھل چکا تھا۔ اسے بہت بڑا شاک لگا تھا۔
"کیا؟"
وہ یہ کہتے ہی صوفہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
"عماد مجھے مہرماہ پسند ہیں میں جانتا ہوں کہ وہ اورہان کی منکوحہ رہ چکی ہیں مگر اب اورہان اس دنیا میں نہیں ہے۔ ان کو بھی خوش رہنے کا حق ہے۔"
ایک ہی سانس میں وہ ساری بات بیان کر گیا تھا۔ گویا انکار نہ ہو جائے۔
"یہ سب اورہان کی وفات کے بعد سوچا؟"
" ہاں تمہیں کیا لگا؟"
وہ بہت سچائی سے جھوٹ بول گیا۔
"کچھ نہیں۔"
"کیا تم ان کے گھر والوں کو راضی کر لو گے؟"
"کوشش کر کے دیکھوں گا۔ گارنٹی نہیں دے سکتا کیونکہ وہ ابھی گہرے رنج میں مبتلا ہیں۔"
"میں بابا سے بات کرتا ہوں کل وہ تمہارے ساتھ مہرماہ کا رشتہ لینے جائیں گے۔"
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔ابھی اس کے شوہر کے انتقال کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور اورہان ان کی فیملی کے لیے داماد سے زیادہ بیٹا تھا۔ وہ شروع سے فیملی فرینڈز ہیں اتنی جلدی میں یہ بات نہیں کروں گا۔"
عماد کو اس کی دماغی حالت درست محسوس نہیں ہو رہی تھی اس نے صاف صاف ابھی بات کرنے سے انکار کیا تھا۔
"عماد میں نے کبھی تم سے کوئی خواہش نہیں کی آج پہلی بار کی ہے اور تم میرے منہ پہ ہی انکار کر رہے ہو۔"
"ہاں تو منہ پہ انکار نہیں کرتا مگر تم بہت جلد بازی کر رہے ہو۔ وہ گہرے دکھ میں ہیں۔ تم نہیں جانتے ان کی پوری فیملی کتنی ڈسٹربڈ ہے۔ اورہان کی موت ان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔ میرا تمہیں مخلصانہ مشورہ ہے کہ ابھی رک جاو۔ کچھ عرصہ بعد میں خود بات کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ انکار نہیں کریں گے۔"
"نہیں رک سکتا۔ اور تم کل ہی جاو گے۔ مان جاو ناں۔"
وہ بہت مان سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا جس پر عماد نے گہرا سانس بھرتے سرفراز ولا جانے کی حامی بھر لی تھی۔
اب کل کا سورج عریش کے لیے روشنی لاتا یا گہری سیاہ رات کی مانند اس کی زندگی تاریک اور ویران کر جاتا اس کا فیصلہ اگلے روز ہی ہونا تھا۔
