Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 20)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
کھڑکی سے چھن کر آتی تیز دھوپ جب کرسی پر موجود بندھے وجود پر پڑی تو اس وجود میں تھوڑی سی جنبش پیدا ہوئی۔ بھاری ہوتی آنکھوں کو تین سے چار بار جھپک کر کھولا گیا تو منظر قدرے واضح ہوا۔
گرد آلود سے بھرا ایک چھوٹا سا کمرہ جس میں ہر چیز پر مٹی کی دبیز طے چڑھی ہوئی تھی ، پرانا فرنیچر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور اسی فرنیچر میں سے ایک خستہ حال کرسی پر موجود زاویار سرفراز قدرے ڈرے اور حیرت سے یہ سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔
دفعتا دروازہ کی چڑچڑاہٹ پیدا ہوئی اور کوئی سیاہ ماسک سے چہرہ ڈھانپے اندر داخل ہوا۔ زاویار اب اس انسان کو بغور دیکھ رہا تھا۔ اسی نے اس کو نشہ آور دوا سے بیہوش کیا تھا۔
“مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”
وہ سہما ہوا تھا مگر بظاہر ہمت دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے استفسار کیا۔
“اوہو۔۔۔ ایک وکیل کے بھائی ہو کر ڈرتے ہو۔ حیرت ہے ویسے مجھے۔”
” میری آپی تو وکیل نہیں ہیں ۔”
اسے تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ جس کیس کے متعلق بات کرنے کے لیے اس کو بلانے کا ڈھونگ رچایا گیا وہ تو جانتا ہی نہیں کہ وہ کیس مہرماہ ایک وکیل کی حیثیت سے لڑنا چاہتی ہے۔
“اے۔۔جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے۔”
“نہیں میں سچ کہہ رہا ہوں۔”
“تو تم مہرماہ سرفراز کے بھائی نہیں ہو؟”
“میں ان کا ہی بھائی ہوں۔”
“تو وہ وکیل نہیں ہیں؟”
“ہاں۔۔۔ وہ تو لیکچرار ہیں۔”
اور ایک زوردار مکہ زاویار کے چہرے پر پڑا جس سے اس کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔
“تجھے لگتا ہے میں بیوقوف ہوں تو مجھے جو بھی کہے گا میں مان جاوں گا۔ اب جلدی نمبر بتا اپنی بہن کا۔”
“میں تمہیں ان کا نمبر کیوں دوں؟”
جبڑے میں ہوتی درد کو فراموش کرتے اس پوچھا۔
“کیونکہ میں کہہ رہا ہوں۔”
“میں نہیں دوں گا۔”
“تجھے ابھی پتا نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ کیا کر سکتے ہیں۔ اس لیے جتنا پوچھا گیا صرف اس کا جواب دے۔”
“کیا چاہیے آپ لوگوں کو میری آپی سے؟”
” زیادہ کچھ نہیں، بس کیس سے دستبردار ہو جائے۔”
“کونسا کیس؟”
وہ ناسمجھی سے اس سیاہ ماسک والے کو دیکھ رہا تھا۔
“تو اس کا مطلب اسے کچھ بھی نہیں پتا۔”
وہ خود کلامی کر رہا تھا۔
“تو نمبر بتا ورنہ نمبر نکلوانا ہمارے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جو تجھے تیرے گھر سے اٹھا سکتے ہیں وہ تیری بہن کے ساتھ کیا کیا کر سکتے ہیں امید ہے تجھے علم ہو گا۔ اب شاباش جلدی کر اسی میں تیری اور تیری بہن کی بھلائی ہے۔”
“میں پھر بھی نہیں بتاوں گا۔”
وہ ضدی لہجے میں بولا۔ اس کے ہاتھ کرسی کے پیچھے لے جا کر رسی سے بندھے ہوئے تھے جن کو وہ مسلسل کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ہٹ دھرمی سے اس کے انکار کرنے پر فہد نے اس کے دوسرے جبڑے پر بھی ایک زوردار مکہ دے مارا۔
اتنی دیر میں وہی شخص جو زاویار کو مہرماہ کا ورکر بن کر ملا تھا وہ اندر داخل ہوا۔
“باس یہ فون گاڑی سے ملا ہے اسی لڑکے کا ہو گا۔”
“ارے واہ شاباش “
فہد نے فون پکڑا اور کھولنے لگا تو وہ فنگر پرنٹ لاک تھا اس نے کرسی کے ساتھ بندھے زاویار کے ہاتھوں کی انگلی سے لاک کھولا اور مہرو آپی کے نمبر سے سیو کانٹیک پر کال کی۔ بیل جا رہی تھی اور فون سپیکر پر لگایا جا چکا تھا۔ زاویار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس سیاہ ماسک والے وجود کو زخمی کر دیتا۔
“ہاں زاویار، گھر میں سب ٹھیک ہے ناں۔”
مصروف اور پریشانی سے بھرپور مہرماہ کی آواز اس چھوٹے سے گرد آلود کمرے میں گونجی۔
“گھر تو سب ٹھیک ہے وکیل صاحبہ مگر وہ کیا ہے ناں آپ کا بھائی ٹھیک نہیں ہے۔”
“کون ہو تم اور زاویار کہاں ہے؟”
مہرماہ سارے کاغذات کو ٹیبل پر چھوڑ کر کرسی سے اٹھ چکی تھی۔ اس کے سامنے والی کرسی پر موجود انس بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں کون ہوں اس کو تم چھوڑ دو کام کی بات پر آتے ہیں۔”
“میں نے پوچھا زاویار کہاں ہے؟”
قدرے سختی سے پوچھا۔ ساتھ ہی انس کے اشارے پر فون کو سپیکر پر لگا دیا۔
“زاویار ہمارے قبضے میں ہے۔ بالکل صحیح سلامت ہے بس دو مکوں سے مستفید ہوا ہے۔ “
وہ مکروہ ہنسی ہنستا بہت مزے سے بتا رہا تھا ساتھ ہی اچانک ایک زوردار مکہ پھر سے زاویار کے دائیں گال پر دے مارا جس پر اس کی بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی۔ جس کو سنتے مہرماہ تڑپ اٹھی۔
“یہ لو میڈم تین ہو گئے۔”
“میرے بھائی کو ہاتھ نہیں لگانا دوبارہ ورنہ تمہیں ڈھونڈ کر تمہاری ہڈیاں اپنے سامنے تڑواوں گی۔”
انس نے ایک فون کال ملائی اور اس نمبر کو سینڈ کر کے اس کی لوکیشن ٹریس کرنے کو کہا۔
“اوہ میں تو ڈر گیا۔ ویسے کیا اپنے شوہر کو بھیجو گی میری ہڈیاں توڑنے۔۔۔ آں ۔۔۔ یاد آیا وہ تو جیل میں ہے۔”
اونچی آواز میں قہقہہ لگایا۔ اس بات پر انس کی رگیں پھول چکی تھی۔ مگر اس نے خود پر قابو پایا ورنہ غصے میں وہ سب کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا تھا۔
“کیا چاہتے ہو تم؟”
“ہاں یہ کی ہے ناں مدعے کی بات۔ اورہان حیدر عظیم کے کیس سے پیچھے ہٹ جاو۔ تمہیں، تمہارا بھائی مل جائے گا۔ لیکن جتنا وقت تم لو گی اتنا ہی اس بیچارے کی خوبصورتی میں کمی ہوتی جائے گی۔”
وہ زاویار کے وجہیہ چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے بولا۔ جسے غالبا یہ بات سمجھ آ چکی تھی کہ اس کی آپی وکیل کے طور پر خود کیس لڑیں گی۔
“آپی ان کی بات نہیں ماننا۔”
زاویار نے درد سے ہونٹ بھینچتے بمشکل کہا۔
“زاویار میری جان تم پرسکون رہنا۔ ان کو میں دیکھ لوں گی۔”
“سن لو زاویار اپنی آپی کی آواز کیونکہ ہو سکتا ہے دوبارہ سن نہ سکو۔ اور میڈم بات تو تمہیں میری ماننی ہی پڑے گی۔”
انس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا جس کو پڑھنے کے بعد مہرماہ نے بات کو طول دی۔
“اور میں کیوں مانوں گی تمہاری بات؟”
“کیونکہ تم مجبور ہو۔”
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ میں مجبور ہوں اور تمہاری یہ غلط فہمی بہت جلد دور کر دی جائے گی۔”
“تو تم اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹو گی؟”
“ہرگز نہیں۔”
“تم اپنے شوہر کے لیے جس سے صرف نکاح ہی ہوا ہے اپنے بھائی کو چھوڑ رہی ہو۔”
وہ خاصا صدمے میں تھا اسے تو یہی محسوس ہوا تھا کہ وہ فورا ڈر کہ اس کی بات مان لے گی۔ مگر یہاں تو سراسر الٹ ہو رہا تھا۔
” تم سے میں خود نپٹ لوں گی۔”
اس سارے عرصے میں انس مسلسل اس فون کال کی لوکیشن ٹریس کروانے کے لیے رابطے میں تھا۔
ادھر رابطہ منقطع ہوا اور ادھر انس کو لوکیشن معلوم ہو چکی تھی۔
مہرماہ اس وقت دوہری اذیت کا شکار تھی اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ آخر ان لوگوں کو اورہان سے کیا مسئلہ تھا۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو چکی تھی کہ جو کوئی بھی ہے وہ اورہان کا دشمن ہے۔ لیکن اس سب میں اس کا بھائی تکلیف میں تھا ۔
“بھابھی آپ ریلیکس رہیں میں ابھی اس لوکیشن پر جاتا ہوں۔ اور پولیس ٹیم کو نہیں لے کر جاوں گا کیونکہ فلحال کسی پر بھی بھروسہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ان شاء اللہ زاویار ٹھیک ہو گا۔ میں ابھی نکلتا ہوں۔”
اس نے ٹیبل سے ریوالور اٹھایا اور دروازے سے باہر نکل آیا۔ پیچھے مہرماہ نے کرب سے آنکھیں موند لیں جن سے دو آنسو ٹوٹ کر اس کے چاند چہرے پر بہہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہد نے کال بند کی اور غصے سے بیڈ کو ٹھوکر مار کر کمرے سے باہر چلا آیا۔اس وقت اس کا دماغ غصے سے کھول رہا تھا کہ ایک آدمی اس کے پاس آیا۔
“باس آپ نے اس لڑکے کے فون سے کال کی ہے اگر انہوں نے لوکیشن ٹریس کر لی تو ہم پکڑے جائیں گے۔”
اور شدید غصے میں فہد تو یہ بات سرے سے ہی فراموش کر بیٹھا تھا۔
“میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو فورا نکلو یہاں سے اور دوسرے ٹھکانے پر پہنچو۔ اور اس لڑکے کو بیہوش کر دینا میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔”
اور وہ آدمی فورا اپنے کام پر لگ چکا تھا۔
انس اس لوکیشن پر پہنچا تو وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے عرصہ سے کوئی وہاں نہ آیا ہو۔
“شٹ ، وہ لوگ تو یہاں سے جا چکے ہیں۔”
اس نے اطلاع دینے کے لیے فون جیب سے نکالا تو مہرماہ کی کال موصول ہو رہی تھی ۔ایک بہن جو اپنے بھائی کے لیے تڑپ رہی تھی وہ اس کو کیا جواب دے گا۔
“انس بھائی کیا ہوا؟ زاویار مل گیا ہے ناں ؟وہ ٹھیک تو ہے؟ میری زاوی سے بات کروا دیں۔”
“بھابھی اس لوکیشن پر کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ یقینا وہ لوگ کہیں اور شفٹ ہو چکے ہیں۔ لیکن آپ پریشان نہیں ہوں میں ان کو ڈھونڈ لوں گا۔”
وہ مہرماہ کی تکلیف کا اندازہ کر سکتا تھا۔
“آپ اسے کیسے ڈھونڈیں گے؟”
“بھابھی میں پوری کوشش کروں گا، آپ حوصلہ رکھیں پلیز۔ آپ نے گھر اطلاع دی؟”
“نہیں “
“آپ کو گھر اطلاع کر دینی چاہیئے۔”
“میں کرتی ہوں۔”
مہرماہ نے فون رکھا اور کاغذات سمیٹ کر فائل میں رکھے۔ تیز تیز قدموں سے چلتی وہ گاڑی کی جانب آئی ۔ گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کی جانب رخ موڑ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریش اپنے گھر میں موجود تھا جب فہد بھاگا بھاگا اندر داخل ہوا۔ آنے کی اطلاع دی اور لاوئنج کے چکر کاٹنے شروع کر دیے۔اجازت ملنے پر فورا اس کے کمرے میں داخل ہوا۔
“کیا ہوا اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟”
وہ شاور لے کر نکلا تھا اپنے مخصوص حلیے کے برعکس سادہ سے ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس ہئیر ڈرائیر سے بال سکھاتا ہوا فہد کی جانب متوجہ ہوا۔ غالبا آج وہ فارغ تھا۔
“باس مسئلہ ہو گیا ہے۔”
“مجھے کوئی فضول خبر نہ سنانا۔”
ہئیر ڈرائیر کو ڈریسنگ پہ رکھتے ہوئے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔
“باس ہم نے اس وکیل کے بھائی کو بھی اغوا کیا ہے مگر پتا نہیں کیا چیز ہے یہ اورہان وہ وکیل پیچھے نہیں ہٹ رہی۔”
عریش کچھ سوچ رہا تھا جس سے وہ اس وکیل کو راستے سے ہٹا سکے۔
“عجیب عورت ہے ابھی جس سے نکاح ہی ہوا ہے اس کی خاطر اپنے بھائی کو پیچھے ڈال رہی ہے۔”
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟”
“باس وہ وکیل جو کیس ہینڈل کر رہی ہے وہ اورہان کی منکوحہ ہے۔”
“کون۔۔۔ مہرماہ سرفراز؟”
دل کی دنیا تہس نہس ہو رہی تھی۔
“ہاں باس لیکن آپ کو کیسے پتا؟ ویسے یہ لڑکی ہے تو بہت حسین۔ میرا بس چلے تو اس کو اغوا کر لوں۔ ویسے کیا کہتے ہیں آپ جب وکیل ہی نہیں ہو گی تو ضمانت کون کروائے گا اور کیس کون لڑے گا۔”
نہایت خباثت سے یہ الفاظ ادا کیے اور ان الفاظ کے ادا ہونے کی دیر تھی کہ عریش کے ہاتھ کا ایک زوردار تھپڑ اس کے بائیں گال پر پڑا۔
“ایک لفظ بھی اور ادا ہوا تمہاری زبان سے تو یہیں اسی وقت زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔”
مانا کہ وہ عورتوں کے بارے میں غلط گفتگو نہیں سنتا تھا مگر آج اس لڑکی کے بارے میں ان الفاظ پہ عریش کا آگ بگولا ہونا فہد کے لیے حیران کن تھا۔
“اچھا اچھا اب میں کچھ نہیں بولوں گا۔”
ساتھ ہی ہاتھ سے ہونٹوں پر زپ بند کرنے کا اشارہ کیا۔ جبکہ دل ہی دل میں اس کے پیچھے چھپی کہانی کو جاننے کی خواہش پیدا ہوئی۔
“اب مجھے پوری تفصیل بتاو۔”
اس کا گریبان چھوڑتا وہ صوفہ پر جا کر بیٹھ گیا۔
فہد نے اس کو سارے حالات و واقعات سے آگاہ کیا۔جس پر عریش نے اسے اگلے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ فہد وہاں سے جا چکا تھا۔
“مہرماہ آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں مجھے تو یہی محسوس ہوا تھا کہ اب آپ دوبارہ اورہان کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہیں گی۔ مگر آپ تو اس کا کیس بھی لڑنے کو تیار ہیں۔آخر ایسا کیا ہے جو آپ کو اس پر اتنا اعتماد ہے۔ اس دو دن کے رشتے پر آپ اتنا بھروسہ کیسے کر سکتی ہیں؟”
وہ حیرت اور صدمے کا شکار تھا۔ یہ جانے بغیر کہ جو دل میں سما جائے وہ دل سے جدا نہیں ہوتے پھر چاہے حالات کیسے بھی کیوں نہ ہو جائیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرماہ نے گھر پہنچ کر سب کو اطلاع دی تو ماریہ بیگم جو پہلے اپنی بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے پریشان تھی اس کا اورہان کے لیے سٹینڈ لینا انہیں بہت بھایا تھا۔ مگر ابھی وہ ڈھنگ سے خوش بھی نہیں ہو سکی تھی کہ مہرماہ نے زاویار کے بارے میں بھی بتا دیا۔ گھر میں سب ٹینشن کا شکار ہو چکے تھے۔ مائیں تو پھر مائیں ہی ہوتی ہیں ان کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک کا بیٹا جیل میں تھا تو ایک کا اغوا کاروں کے پاس۔
مرد حضرات ایک ساتھ بہت کچھ سوچ رہے تھے۔ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا جتنا انہیں محسوس ہوا تھا۔
“تم نے پولیس کو انفارم کیا؟”
سرفراز صاحب نے مہرماہ سے استفسار کیا۔
“نہیں بابا”
“مجھے تم سے اس بیوقوفی کی امید نہیں تھی۔”
سرفراز صاحب کو اس کی عقل پہ حیرت ہو رہی تھی ساتھ ہی انہوں نے پولیس کو کال کرنے کے لیے فون اٹھایا۔
“بابا جب مجھے اغواء کار کا فون آیا اس وقت انس بھائی بھی وہیں موجود تھے۔”
ساتھ ہی اس نے مکمل بات ان تک پہنچائی کہ کیسے انس نے نمبر ٹریس کروایا اور اس لوکیشن پر بھی گیا مگر وہ لوگ وہاں سے جا چکے تھے۔
“ایک تو میں نے ہزار دفعہ اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ اس کی کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں مگر وہ یہی کہہ رہا ہے کہ بابا میری کیوں کسی سے دشمنی ہو گی؟ مگر اب تو میرا شک یقین میں تبدیل ہو چکا ہے۔”
حیدر صاحب نے اپنی رائے سے آگاہ کیا۔
“انس بھائی تفتیش کر رہے ہیں بابا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم پولیس پر بھی یقین نہیں کر سکتے کیونکہ اس وقت جو ایس پی کا رویہ ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پولیس بھی اس سب میں ملوث ہے۔”
مہرماہ ابھی بول رہی تھی کہ اس کے فون پر بیل ہوئی۔ اس نے ایکسکیوز کیا اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔
“جی کہیں۔ کچھ معلوم ہوا؟”
“بھابھی میں کوشش کر رہا ہوں ان شاء اللہ جلد ہی زاویار مل جائے گا۔”
“انس بھائی پلیز جلدی کریں مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں؟ زاوی کو اگر کچھ ہو گیا تو میں خود کو معاف نہیں کر سکوں گی۔ میں ماما کو کیسے سنبھالوں۔ بابا تو پھر حوصلہ سے کام لے رہے ہیں مگر ماما کی طبیعت بگڑتی جا رہی ہے۔”
وہ شدید پریشانی کا شکار تھی۔
“میں اپنی پوری کوشش کروں گا بھابھی۔”
انس نے فون بند کر دیا تھا۔ مہرماہ نے فریش ہو کر وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اللہ پاک سے اپنے اور اپنی فیملی کے لیے رحم کی دعا مانگی۔ مشکلات کو آسان کرنے والے کے سامنے اپنی مشکل بیان کی اور اس پر یقین رکھتے ہوئے سارا معاملہ اس کے سپرد کر دیا۔
اس سب سے بے خبر اورہان تھانے میں موجود تھا۔ جب انس اس کے پاس آیا۔
“اورہان میرے بھائی تجھے کیا سچ میں کسی پر شک نہیں ہے۔”
“نہیں۔۔۔ مہرماہ کہاں ہے؟”
“یار مت پوچھ ،زاویار کو کڈنیپ کر لیا گیا ہے اور وہ ایک ہی مدعا رکھ رہے ہیں کہ بھابھی تیرے کیس کو چھوڑ دیں۔وہ کسی صورت تجھے یہاں سے نکلنے نہیں دینا چاہتے۔ میڈیا پر بھی خبر پھیل چکی ہے باہر صحافی بھی موجود ہیں ۔”
“تم مہرماہ سے میری بات کرواو۔”
انس نے نمبر ملا کر دیا۔
“مہرماہ “
آہ ۔۔۔ کاش کہ حالات ایسے نہ ہوتے۔ مہرماہ نے ایک گہرا سانس بھرا۔
“جی”
“آپ کیس چھوڑ دیں میں نہیں چاہتا میری وجہ سے آپ اور انکل، آنٹی مزید پریشانی اٹھائیں۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ مجھ پر شک نہیں کر رہی۔ آپ پلیز۔۔”
ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ مہرماہ بول پڑی۔
“بس کر دیں اورہان، آپ کو کیوں ایسے محسوس ہوا کہ آپ کا کیس لے کر میں دقت کا شکار ہوں۔ جو بھی ہوتا ہے وہ ہماری قسمت میں درج ہوتا ہے۔اگر یہ آزمائش آئی ہے تو اس کا حل بھی اللہ تعالٰی نے لکھا ہے۔ آپ مجھے شرمندہ نہ کیا کریں۔ زاویار بھی گھر آ جائے گا مجھے اپنے اللہ پر پورا بھروسہ ہے۔”
وہ ایک عزم سے بول رہی تھی اسے اپنی پوری فیملی کو ساتھ لے کر چلنا تھا نہ تو وہ اپنے شوہر کے لیے بھائی کو چھوڑ سکتی تھی نہ ہی وہ اپنے بھائی کے لیے اپنے شوہر سے دستبردار ہو سکتی تھی۔
“میں بے حد خوش قسمت ہوں مہرماہ کہ مجھے اللہ نے آپ سے نوازا۔ آپ میرے لیے بے حد اہم ہیں میں رب سے دعا کروں گا کہ وہ ہمیشہ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ نصیب کرے۔”
“آمین ،میں نے ضمانت کے کاغذات جمع کروا دیے ہیں آج ہی آپ کی ضمانت بھی ہو جائے گی۔”
“اور زاویار؟”
“زاویار۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ مزید بولتی گھر میں شور سنتے ہی مہرماہ فورا نیچے کو بھاگی۔
“زاوی “
نیچے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا ہینڈسم بھائی موجود تھا۔ اس کی زبان سے فورا الحمدللہ نکلا۔ وہ کال بند کیے بغیر فون کو وہیں چھوڑے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آئی۔
ماریہ بیگم جو زاویار سے لپٹی ہوئی تھی اس کے ہلانے پر بھی اپنے بیٹے سے علیحدہ نہیں ہوئی۔ جس پر اس کی آنکھیں مزید دھندلانا شروع ہو گئی۔ جانے یہ اس کے مل جانے پر خوشی کے آنسو تھے یا گرد آلود اور جگہ جگہ سے پھٹے کپڑوں میں موجود اپنے بھائی کے چہرے پر زخموں کے نشانات دیکھ کر شرمندگی کے آنسو تھے۔
اس نے تو خود کو بہادر ثابت کرنے کے لیے وہ سب کہہ دیا تھا جبکہ اس کے دل کی حالت بے حد نازک ہو چکی تھی اور وہ خود کو ہی قصوروار سمجھ رہی تھی۔ وہ اب تک کیسے سنبھلی ہوئی تھی یہ یا تو وہ جانتی تھی یا اس کا خدا۔
زاوی اپنی ماما سے علیحدہ ہوا تو اپنی آپی کو روتے دیکھ وہ فورا اس کے پاس آیا۔
“آپی”
اتنا کہنا تھا کہ مہرماہ اپنے بھائی کے گلے لگ گئی۔
“معاف کر دو مجھے زاوی ۔۔۔ میری وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سب ہوا۔ تمہاری آپی ایک اچھی بہن ثابت نہیں ہو سکی۔”
مہرماہ کے آنسوؤں میں روانی آ چکی تھی۔
“نہیں آپی ۔۔مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ جانتی ہیں میں ڈر گیا تھا میں نے کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کیا تھا۔ مجھے محسوس ہوا تھا کہ میں شاید یہاں سے صحیح سلامت واپس نہ لوٹ سکوں۔ مگر جب آپ نے اس کو منہ توڑ جواب دیا تو مجھے بہت ہمت ملی۔ جانتی ہیں میں بہت خوش ہوا جب آپ نے میرے اور اورہان بھائی کے لیے سٹینڈ لیا۔ آپ کو پتا ہے کہ آپ کے جواب پر اس کڈنیپر کی حالت دیکھنے والی تھی۔ سچ میں مجھے سارا درد بھول گیا تھا۔”
وہ آخر میں مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اور وہاں موجود سب لوگوں کی جان میں جان آ چکی تھی۔
مہرماہ اتنے اچھے رشتوں پر اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتی وہ کم تھا جنھوں نے ہمیشہ ہر قسم کے حالات میں بھی اس کو سمجھا تھا نہ کہ غلط اور برا سمجھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
