Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 10)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
“ناظرین جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں مین روڈ پر موجود سرکاری بلڈنگ کا اپر فلور گرنے سے وہاں سے گزرتے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ بلڈنگ چند ماہ پہلے ہی بنائی گئی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ اس کو ایک ماہ پہلے ہی کسی ایمرجنسی کے تحت خالی کروا لیا گیا تھا۔آئیں جانتے ہیں لوگوں سے اس بارے میں۔”
رپورٹر نے مائک کا رخ سڑک پر موجود ایک آدمی کی طرف کیا۔
“جی تو آپ عینی شاہد ہیں صبح والے حادثے کے جس میں اچانک بلڈنگ کے گرنے کی وجہ سے راہ گیر زخمی ہوئے ہیں۔ آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟”
رپورٹر نے موقع پر موجود لوگوں میں سے ایک سے سوال پوچھا۔
“دیکھیں سابق ایم ان اے ولید نعمان نے اس بلڈنگ کی تعمیر کروائی تھی اور ان کے بنائے ہوئے ہر پراجیکٹ سے لوگوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر وہ ذمہ داریاں سنبھال نہیں سکتے تو لیتے کیوں ہیں؟ آج پھر ان کی نااہلی کی بدولت ایک حادثہ ہوا۔ یا تو وہ حکومت کی جانب سے ملا ہوا گرانٹ اپنے اکاونٹ میں ڈال چکے ہیں اور ناقص میٹیریل سے بلڈنگ بنوائی یا پھر یہ صاف صاف ان کی نااہلی کا ثبوت ہے۔”
“جی تو جیسے کہ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ یہ سب سابق ایم ان اے ولید نعمان کا قصور ہے۔ کیونکہ اس بلڈنگ کو بنوانے کی ذمہ داری ان کی تھی۔ شاید یہی بات عوام میں ان کا امیج خراب کر گئی ہے۔”
یہ خبر اس وقت ملک کے مشہور و معروف نیوز چینل پہ نشر ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی یہ ویڈیو عریش کو ریسیو ہوئی تھی اسے دیکھنے کے بعد اس نے افسوس سے سر جھٹکا۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو چند پیسوں کے منافع کے لیے لوگوں کی جان داو پر لگا دیتے ہیں۔
تھوڑی دیر میں اصغر اس کے آفس کے اندر داخل ہوا تو اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گئی۔
“آو اصغر ، یہ کچھ پیسے ہیں اپنے بیٹے کے لیے گفٹ لے لینا میری طرف سے ، تم نے بتایا تھا کہ آج اس کا برتھ ڈے ہے۔”
“شکریہ سر ، آپ حقیقتا بہت اچھے باس ہیں۔”
اصغر نے پیسے لیے اور چلا گیا۔
یہی ویڈیو اورہان کو بھی ریسیو ہوئی تھی۔ وہ متفکر انداز میں فون پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اتنی دیر میں دروازہ ناک ہوا۔
“مے آئی کم ان سر؟”
“ہوں”
اجازت ملنے پر ایاز اندر داخل ہوا اور اس کے سامنے آ کر اس کو میٹنگ کی تفصیلات سے آگاہ کرنا شروع کیا۔
“سر وہ آج والی میٹنگ۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات پوری کرتا اورہان بول پڑا۔
“ایاز کیا ولید نعمان کے سرکاری پراجیکٹ بھی فہد ہینڈل کرتا ہے؟”
“جی سر عریش سلطان کے ایم ان اے بننے سے پہلے وہ ولید نعمان کے لیے کام کرتا تھا۔”
“کیا اس دن میں نے تمہیں جو کام کہا تھا تم نے وہ کر لیا؟”
اورہان اس دن کی بات کر رہا تھا جب عریش فیکٹری کا معائنہ کرنے کے لیے آیا تھا۔
“جی سر میں نے ساری ڈیٹیلز نکلوا لی ہیں ۔ ابھی اسی کی فائل دینے آیا تھا اور میٹنگ کا بھی بتانا تھا۔”
“ایک گھنٹے تک مجھے کوئی میٹنگ نہیں چاہیئے۔اور اس دوران کوئی مجھے ڈسٹرب نہیں کرے گا۔انڈرسٹینڈ؟”
“یس سر ۔ میں میٹنگ کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتا ہوں۔ یہ لیں فائل۔”
ساتھ ہی فائل اس کی جانب بڑھائی جو اس نے تھام لی۔
اورہان کا سیکرٹری ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اس کے آفس کے کاموں کے علاوہ بھی اس کے ہر حکم کو بجا لاتا تھا۔ اور اتنے اچھے باس کو کون انکار کرے ۔۔۔۔ یہ ایاز کا ماننا تھا ۔ کیونکہ اورہان اس کو اچھی تنخواہ کے ساتھ بونس اور اس کے بچوں کی فیس بھی پے کرتا تھا۔ اور وہ کیسے بھول جاتا جب اورہان نے اس کی بہن کے علاج کا سارا خرچ اٹھایا تھا۔ اس کے برے دنوں میں اورہان ہی اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ اس کا بہت مشکور تھا۔
وہ دروازے کے پاس پہنچا تو پیچھے سے اورہان کی آواز آئی۔
“شکریہ ایاز”
ایاز مڑا تو اس کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔
“آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے سر۔”
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تھا۔
اور ان الفاظ پر تو اورہان حیران ہو چکا تھا۔ بعض اوقات آپ کسی کے لیے اتنے اہم ہوتے ہیں اور آپ کو علم ہی نہیں ہوتا ۔ جیسے ابھی تک اورہان اس بات سے لاعلم تھا کہ وہ ایاز کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے جانے کے بعد اورہان نے سر جھٹک کر فائل کی جانب توجہ مبذول کی ۔
ایک تصویر پر نظر گئی تو دماغ میں کچھ کلک ہوا اس نے دوبارہ موبائل میں ویڈیو پلے کی۔ یہ سب اتفاق نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اوہان اتفاقات پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا ہر چیز پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ اس وقت ویڈیو میں موجود عینی شاہد اور فائل پہ موجود ایک نام اور تصویر۔۔۔۔ اصغر کمال، عریش سلطان کا ڈرائیور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت انس اپنے کمرے میں صوفہ پر بیٹھا کیس کے اہم پوائنٹس جانچ رہا تھا جب گھر میں شور کی آوازیں آنا شروع ہو گئی۔ اور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہی وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ شور کیوں ہو رہا ہے۔ اس نے تنگ آ کر فائل بند کی اور کمرے سے باہر نکلا۔
وہاں کا نظارہ آج بھی ویسا ہی تھا اس کے بابا غصے سے آگ بگولا چیخ رہے تھے اور اس کی ماں وہ جوابی کاروائی میں ان سے زیادہ اونچی چیخ رہی تھی۔جیسے دونوں میں مقابلہ چل رہا ہو۔
اس کے گھر میں تحمل سے کم ہی بات ہوتی تھی زیادہ باتیں اسی انداز میں ہوتی تھی۔ اسے اب تک اس سب کا عادی ہو جانا چاہیے تھا مگر وہ نہیں ہو سکا۔ نہ تو انس مجتبٰی آج تک اپنے ماں باپ کو سمجھا سکا نہ ہی اس ماحول کا عادی ہو سکا۔ وہ ڈھیٹ بننا چاہتا تھا جس سے اسے یہ سب برداشت کرنا آ جاتا یا پھر لاپرواہ جسے اس بات سے فرق ہی نا پڑتا کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے ۔ مگر وہ بے حس نہیں تھا اسے اپنے ماں باپ کی پرواہ تھی وہ انہیں ایسے نہیں دیکھ پاتا تھا خود وہ ہر بار ٹوٹ جاتا تھا ۔ ہر جھگڑے پر وہ خود کو سنبھالتا تھا ۔ اس کی ذات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی۔
“ماں بابا کیا آپ کو اب بھی یہ خیال نہیں آتا کہ آپ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں کہ یہ لڑائی جھگڑے آپ کو بالکل بھی زیب نہیں دیتے۔”
وہ صرف چند سیکنڈ اس کی بات سننے کے لیے خاموش ہوئے تھے اور پھر لڑائی میں مصروف ہو چکے تھے۔ وہیں سعد جو اپنے کمرے میں دبکا ان کے جھگڑے کو سن رہا تھا بھائی کی آواز سنتے ہی کمرے سے باہر آیا۔
“کیا آپ کو بالکل بھی پرواہ نہیں میری، سعد کی؟”
اپنے اور سعد کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
“تم لوگوں کی خاطر ہی تو میں اب تک اس انسان کے ساتھ رہ رہی ہوں۔”
جواب دینے والی اس کی ماں تھی۔
“ہاں تو میں بھی ان کی ہی خاطر رہ رہا ہوں تم جیسی لڑاکا عورت کے ساتھ ۔ ورنہ کب کا تمہیں فارغ کر دیتا۔”
“ہاں تو اب کر دو فارغ کونسا دیر ہو گئی ہے۔”
“بس کر دیں آپ دونوں ، ہماری خاطر رہ رہے ہیں نا آپ ایک ساتھ؟”
التجائی انداز میں خاموش رہنے کا کہہ کر استفسار کیا۔
دونوں نے بیک وقت ہاں بولا۔
“تو کیا آپ ہماری خاطر صلح صفائی سے رہ سکتے ہیں؟”
“بیٹا میں نے تو کچھ نہیں کہا تھا، تمھارے بابا نے ہی بات بڑھائی۔”
بیٹے کو صفائی پیش کی گئی۔
“میں نے کون سی بات بڑھائی ذرا بتانا۔”
غصے اور طنزیہ انداز میں کہا گیا۔
ساتھ ہی مزید بولنے لگے تھے کہ انس بول پڑا۔
“کیا آپ کو اندازہ بھی ہے آپ کے ان روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے میں کتنا متاثر ہوتا ہوں ۔ میرا دم گھٹتا ہے اس گھر میں ، میری بھوک ختم ہو جاتی ہے، پانی تک میرے حلق سے نیچے نہیں جاتا۔ میرا دماغ مفلوج ہو جاتا ہے ، میرا دل پھٹنے لگتا ہے۔ بچپن سے آپ کی ان لڑائیوں نے مجھے شادی جیسے پاکیزہ رشتے سے متنفر کر دیا ہے۔ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں اپنا گھر بسا سکوں ۔ مجھے لگتا ہے پھر سے وہی سب کچھ ہو گا ۔ میں ایک اور انس نہیں دیکھنا چاہتا ۔ میرا دل چاہتا ہے میں اس گھر سے بھاگ جاوں ۔ سب کچھ چھوڑ دوں۔ کیا غلطی ہے میری ؟ کیوں مجھے سزا ملتی ہے؟ صرف ایک اچھی ہنستی مسکراتی فیملی چاہی ہے میں نے ۔ایک ہی تو خواہش کی ہے ۔۔۔۔۔۔صرف ایک”
انگلی سی ایک کا اشارہ کیا۔
بولتے بولتے اس کا گلا رندھ گیا تھا آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر اب اس کی گردن تک جا رہے تھے۔ اس کے سارے پرانے زخم ادھڑ گئے تھے۔ وہ لاکھ کوشش کرتا تھا کہ نہ روئے مگر اس تکلیف پہ وہ ان آنسوؤں کو نہیں روک پاتا تھا۔
آخر کیوں تھا وہ اتنا حساس۔۔۔
جوان بیٹے کو روتا دیکھ دونوں کی آنکھیں نم ہو چکی تھی۔ اس کی ماں تو باقاعدہ رونا شروع ہو چکی تھی۔ سعد آ کر انس سے لپٹ گیا۔ اس کے بابا نے اس کے آنسو پونچھے ۔ وہ اس کی تکلیف کو کیسے نظر انداز کر گئے۔ اپنی اولاد کی خاطر دونوں نے بہت قربانیاں دی تھی۔ انہیں مڈل کلاس ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا تھا مگر انہوں نے اپنی اولاد کی ہر ضرورت کو پورا کیا تھا ۔ مگر وہ اپنی اولاد کو ذہنی سکون نہ دے سکے جو سب سے زیادہ اہم تھا۔ انسان کم کھا کر ہلکا پہن کر گزارا کر سکتا ہے مگر ذہنی سکون کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
“ہم دوبارہ نہیں جھگڑیں گے تم پر سکون ہو جاو میرے بچے۔”
اسے خود سہارے کی ضرورت تھی مگر وہ بڑا بھائی تھا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کا حوصلہ بننا تھا۔وہ سعد کی پیٹھ تھپتھپا رہا تھا جو اس کے ساتھ لپٹا مسلسل رو رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ یہ سب وقتی ہے مگر وہ پھر بھی خود کو دلاسہ دے رہا تھا کہ ہاں یہ آخری جھگڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امل خود کو مضبوط بنانے کی کوشش میں تھی اسے مہرماہ کی باتوں پر عمل کرنا تھا وہ یہ ہراسمنٹ ہر گز برداشت نہیں کرے گی۔ وہ اپنا لائحۂ عمل سوچ رہی تھی کہ ملازمہ نے اس کے کمرے کے دروازے پہ دستک دی۔
“امل بی بی ،بڑے صاحب آپ کو کھانے پر بلا رہے ہیں۔”
وہ شہریار صاحب کو بڑے صاحب اور اس کے پھوپھو کے بیٹے کو چھوٹے صاحب کہتی تھی۔
“اچھا میں آتی ہوں۔”
وہ اس وقت گھر کے حلیے میں لانگ ٹی شرٹ کے ساتھ کھلا ٹراوزر پہنے ہوئے تھی۔ وارڈ روب سے دوپٹہ نکال کر اس کو گردن کے پیچھے سے ڈالا اور آگے کی جانب کھلا چھوڑ دیا۔ اب اسے احتیاط کرنی تھی پہلے تو وہ دوپٹے کے بغیر بھی چلی جاتی تھی مگر اب اس انسان کی نظریں اسے خود میں دھنستے ہوئے محسوس ہوتی تھی۔
وہ ڈائیننگ ٹیبل پر آئی اور بابا سے پیار لیا ، پھوپھو کو پیار کیا اور ان کے ساتھ والی کرسی پر ہی بیٹھ گئی۔ کزن کو اگنور کیا گیا۔اس کا کزن، اس کی پھوپھو کے مقابل سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا۔
کھانا شروع کیا گیا تو وہ بول پڑا۔
“امل بیٹا ، مجھے رائس پاس کرنا۔”
یہ امل کو خود کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ بیٹا ۔۔۔۔مطلب اتنا دوغلا پن
وہ اسے سب کے سامنے امل کہہ کر ہی پکارتا تھا مگر آج بیٹا ۔۔۔تو کیا وہ سدھر گیا ہے؟ یا یہ گھر والوں کی نظروں میں خود کا امیج ٹھیک رکھنے کے لیے کیا ہے؟ تاکہ اگر امل گھر میں کسی سے اس سلسلے میں بات بھی کرے تو کوئی اس کا یقین نہ کرے۔
“جی بھائی “
بھائی پہ زور دیا گیا تو اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔جب اس نے چاولوں کی ٹرے اس کو پکڑانی چاہی تو اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اور ادھر ہی امل کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹ گئی۔
“کیا ہوا بیٹا ، یہ کیسے ہوا؟”
وہ جو کھانے کی طرف متوجہ تھے اچانک چاولوں سے بھری ٹرے کے گرنے سے ہڑبڑا کر سیدھے ہوئے۔
“بابا ، بھائی نے میرا ہاتھ۔۔۔”
اس کی بات کو اس کے کزن نے فورا ٹوکا۔
“ماموں جان اتنی تو کمزور ہو گئی ہے یہ ،ایک ڈش تک تو پکڑی نہیں جا رہی اس سے۔ دیکھ لیں ہاتھ سے ہی چھوٹ گئی۔ امل آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟”
جھوٹ بولنے کے بعد فوراً امل کی جانب متوجہ ہوا جو کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جو گرم چاول گرنے سے سرخ ہو چکے تھے تو کبھی اس مکار انسان کو جو اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہا تھا۔ یعنی مہرماہ ٹھیک کہہ رہی تھی یہ ان لوگوں میں سے ہے جو زبان کی بات نہیں سمجھتے۔
ابھی وہ سمجھ ہی نہ پائی تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا تو وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔
“ڈر کیوں رہی ہو امل میں تو دیکھ رہا تھا کہیں چوٹ تو نہیں لگی۔”
وہ انسان اس کے باپ کے سامنے اس کا ہاتھ پکڑ رہا تھا اور کوئی اس کو روکنے والا نہیں تھا کیونکہ وہ تصویر کا وہ رخ نہیں دیکھ پا رہے تھے جو امل دیکھ چکی تھی۔
شہریار صاحب تو اپنے بھتیجے کی اپنی بیٹی کے لیے پروا دیکھ کر خوش تھے ۔ اس کا مطلب کہ کم از کم امل کو بھائی کا پیار تو ملا۔ مگر آہ ۔۔۔۔کاش کوئی انہیں یہ بتاتا کہ یہ بھائی کا پیار نہیں، ایک گھٹیا انسان کی ہراسمنٹ اور بری نظر ہے۔
“ماموں جان مجھے لگتا ہے امل ڈر گئی ہے میرے خیال سے اس کو باہر آوٹنگ پر لے کر جانا چاہیے۔ آپ تو تھکے ہوئے ہیں میں ہی لے جاتا ہوں۔فریش ہو جائے گی جب باہر کی تازہ ہوا میں جائے گی۔”
“ہاں بیٹا میں بھی متفق ہوں ، امل بیٹا آپ باہر کی فریش ائیر لے لو اور بھائی کے ساتھ چلے جاو ۔ اس کو آئسکریم بھی کھلا دینا۔”
امل کو اس کے ساتھ جانے کا کہہ کر اب وہ اپنی بیٹی کو خوش کرنے کے لیے اپنے بھتیجے کو اس کی پسندیدہ چیز کھلانے کا بھی کہہ رہے تھے۔
“ٹھیک ہے ماموں جان۔ چلیں امل؟”
اس نے امل کی جانب رخ کیا اور ہنسا تو امل کو اس ہنسی سے کراہیت محسوس ہوئی۔ وہ فورا ڈائیننگ ٹیبل سے اٹھی۔
“بابا میں روم میں جا رہی ہوں نہ تو مجھے باہر جانا ہے اور نہ ہی کوئی آئسکریم کھانی ہے ۔ اور ان کے ساتھ تو میں ہرگز نہیں جاوں گی۔”
وہ اپنے ہاتھوں کی تکلیف کو نظر انداز کر کے ہمت کر کے بولی تھی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے امل اس کے ساتھ نہ جانے کا کیا مطلب ہے۔”
یہ بولنے والے بھی اس کے بابا ہی تھے ۔آہ مہرماہ وہ کیسے بتاتی تمہیں کہ کیوں وہ اپنے بابا کو اس مسئلے سے آگاہ نہیں کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی خود کو سچا ثابت نہیں کر پائے گی۔ اس کے بابا وہ دیکھیں اور سنیں گے جو ان کو دکھایا اور سنایا جائے گا۔ کاش کہ اس میں اور اس کے بابا میں اتنا کمیونیکیشن گیپ نہ ہوتا ،کاش کہ وہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں جھانک لیتے تو اس کے دکھ اور حسرتیں انہیں یقینا رلا دیتے۔ کاش ،کاش۔۔۔۔
مگر ایسا کچھ نہیں تھا اسے اپنے لیے سٹینڈ لینا تھا وہ ڈر کر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ وہ مقابلہ کرے گی ۔ ہاں امل شہریار نے ٹھان لیا تھا کہ وہ اینٹ کا جواب اب پتھر سے دے گی۔
“بابا بدتمیزی تو نہیں کی میں نے ، بھائی تھکے ہوئے ہیں ناں اور میرا بھی اس وقت باہر جانے کا موڈ نہیں ہے اس لیے میں ان کو تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی۔”
چہرے پر بلا کی معصومیت طاری کی۔ اور اس کا کزن تو اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہی حیران تھا۔ اسے امل سے اس دلیری کی امید نہیں تھی وہ تو یہ سوچ بیٹھا تھا کہ اب تک وہ ڈر چکی ہو گی اور اب وہی کرے گی جو وہ کہے گا۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا تھا۔
“ہائے میری بچی کتنا خیال ہے اس کو سب کا ، میری جان آپ روم میں جا کر آرام کرو۔”
اس کی پھوپھو نے گویا اس کی مشکل آسان کر دی وہ پھوپھو کے گلے لگ کر اپنے روم میں چلی گئی۔ پیچھے وہ اپنے پلان کے ناکام ہو جانے پر غصے میں تھا۔ کمرے میں آ کر امل دروازے کے ساتھ ہی لگ کر بیٹھتی چلی گئی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی اور آنسو بے قابو ہو رہے تھے۔ یہ معاملہ مزید گھمبیر ہوتا جا رہا تھا ۔ وہ کیا کرے ۔۔۔
(لیکن اگر اکیلے لڑنے کی ہمت نہ ہو تو کیا کیا جائے؟)
اسے اپنا سوال یاد آیا تھا۔
( تو ہمت پیدا کرنے کے لیے اللہ پاک سے دعا کی جائے۔)
مہرماہ کے جواب کی بازگشت اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی یہ جواب ایک امید جگا رہا تھا، ایک نئی راہ دکھا رہا تھا۔ ہاں اسے دعا کرنی چاہیے جو اس نے برسوں سے نہیں کی تھی ۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ دعا سے کچھ نہیں ملتا ، اس کی ماں بھی تو چلی گئی اس نے کتنی دعائیں مانگیں تھی کہ اس کی ماں زندہ رہتی۔ کتنی بار اس نے بابا کا وقت پانے کے لیے دعائیں مانگی تھی لیکن کیا ہوا؟ اس کی تو کوئی دعا کبھی قبول نہیں ہوئی ۔ تو کیا اب اسے پھر سے دعا مانگنی چاہیے؟
ہاں شاید کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔
اس نے وہیں زمین پر بیٹھے اپنی ہتھیلیاں سامنے کی اور پھر اپنے دل کا سارا بوجھ اپنے رب کے حضور کہہ ڈالا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ کہ وہ کوئی دعا کر رہی ہے یا صرف کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنی تکلیف بتا رہی ہے۔ آنسوؤں سے چہرہ تر ہو چکا تھا۔ اگر کوئی کمرے کے پاس سے گزرتا تو یقینا اس کی دبی دبی ہچکیوں کی آواز اس تک جاتی۔ مگر اس وقت اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔ ہاں کیونکہ اس وقت وہ اپنے رب کے سامنے اپنا آپ بیان کر رہی تھی۔ وہ رب جو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ برسوں بعد وہ اس طرح روئی تھی ، آخری بار شاید وہ اپنی ماں کی وفات پہ اس طرح روئی تھی۔ وہ آنسو نہیں بہاتی تھی کیونکہ کوئی بھی اس کے آنسو صاف کرنے والا نہیں تھا۔ بہت تکلیف میں بھی اس کی آنکھوں میں صرف نمی جھلکتی تھی۔ وہ نمی جس کو آج تک مہرماہ کے علاوہ کوئی نہیں دیکھ پایا۔اس کے آنسو اس کے اندر گرتے تھے اور کوئی نہیں جانتا ، کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ جو آنسو اندر گرتے ہیں وہ انسان کی روح تک کو چھلنی کر جاتے ہیں۔
مگر اس وقت اس کے اندر سکون ہی سکون تھا ۔اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا اسے نیند آ رہی تھی ،اسے جلے ہاتھ کی تکلیف بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔وہ نیچے سے اٹھی اور بیڈ کی جانب آئی ۔ ٹائم کلاک پر نظر گئی تو وہ حیران ہوئی وہ تقریبا ایک گھنٹے سے نیچے بیٹھی اپنے رب سے فریاد کر رہی تھی اس سے شکوے کر رہی تھی ، اپنی ساری تکالیف بتا رہی تھی ۔ وہ مانگ رہی تھی۔
آنسو پونچھ کر وہ بیڈ پر کمفرٹر تان کر لیٹ گئی ۔ آج یقینا وہ ایک اچھی نیند لینے والی تھی۔ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد انسان ایسے ہی پرسکون اور مطمئن ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
