429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 5)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

مریم کی شادی کی تاریخ اگلے ماہ طے پائی گئی اور اب تو تیاریاں زور پکڑ چکی تھیں ۔شادی کو لے کر ہر لڑکی کے بہت خواب ہوتے ہیں اور انہی خوبوں کو پورا کرنے کی غرض سے مریم اور مہرماہ اس وقت پاکستان کے چوتھے بڑے شاپنگ مال (سینٹارس )میں ہاتھوں میں بیگ تھامے مختلف شاپس پہ جاتی دکھائی دے رہی تھیں۔

دفعتا ایک عبایا شاپ کے باہر مہرماہ جم کہ کھڑی ہو چکی تھی وہ جو بڑے مزے سے آگے جیولری شاپ کی جانب بڑھ رہی تھی جب اپنے ساتھ اس کو موجود نہ پایا تو پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں ابھی تک وہ عبایا کا جائزہ لے رہی تھی۔

“مہرو ایک تو میں عاجز آ چکی ہوں ،جہاں عبایا شاپ دیکھتی ہو وہیں جم جاتی ہو ،ابھی شادی کی شاپنگ کرنی ہے میری بہن ، بعد میں لے لینا۔”

“آپی دیکھیں تو وہ براون کلر کا عبایہ کتنا پیارا ہے اور میرے پاس یہ کلر بھی نہیں ہے ۔”

اس نے معصومیت سے کہا۔

“تمہارے پاس براون عبایا بھی ہے۔”

“آپی پر یہ والی شیڈ نہیں ہے اسکی۔”

“مہرو اتنی تمہارے پاس کپڑوں کی کولیکشن نہیں ہے جتنی عبایا کی ، چار سالوں سے عبایا جمع کر رہی ہو تم۔ابھی چلو ، اگلی دفعہ لے لینا ورنہ ماما کہیں گی اتنی دیر لگا کر بھی سامان نہیں لے کر آئیں۔”

“ٹھیک ہے آپی مگر اگلی دفعہ میں نے لازمی لینا ہے۔”

“ہاں میری جان میں خود تمہیں لے کر دوں گی وہ میری طرف سے تحفہ ہو گا۔”

وہ ابھی آگے بڑھی ہی تھی کہ اپنے نام کی آواز سن کر رک گئی پلٹ کر دیکھا تو اس کی یونیورسٹی کی دوست وہاں موجود تھی۔ جینز کے ساتھ شارٹ شرٹ پہنے گلے میں مفلر ڈالے ،سنہری بال جو یقینا ڈائی شدہ تھے ان کو پیچھے کی جانب کھلا چھوڑے اب عجیب نظروں سے مہرماہ کو دیکھ رہی تھی۔

“او مائی گاڈ مہرماہ، یہ تم ہو۔ تم تو پہچان میں ہی نہیں آ رہی ہو۔ لگتا ہے تم نے اس ٹیپیکل لڑکی کا کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا ہے۔”

وہ جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی اب چہرے پہ سنجیدگی اور غصہ در آیا۔

“مائنڈ یور لینگویج زویا”

“اچھا اچھا یار غصہ کیوں ہو رہی ہو ، ویسے اس برقع میں بھی اچھی ہی لگ رہی ہو ۔”

طنزیہ نگاہ برقع کی جانب ڈالی۔

“شکریہ تمہارا ، ابھی میں بزی ہوں آپی کی شادی ہے تو شاپنگ کرنی ہے ، پھر ملاقات ہو گی ۔”

دل ہی دل میں آئندہ ملاقات نہیں ہونے کی دعا بھی کی۔

“مجھے شادی پہ انوائٹ نہیں کرو گی۔آخر کو تمہاری بیسٹ فرینڈ ہی تھی اگر وہ لڑکی نہ ہوتی تو۔”

اس لڑکی کے ذکر پر زویا کے چہرے پر عجیب بیزاریت جھلک رہی تھی۔

دل تو مہرماہ کا چاہ رہا تھا ابھی اس کے سر پر دو چار انڈے پھینک دے مگر ضبط کر گئی۔

“بیسٹ فرینڈ،ہونہہ۔۔۔” وہ منہ میں ہی بڑبڑائی۔

“ہاں نہ ضرور، تمھارے بغیر تو شادی ادھوری رہ جائے گی۔ ساری بہار تمہارے دم سے ہی تو ہے۔” گویا حساب پورا کیا۔

“اچھا میرا نمبر تو نوٹ کر لو ،آسانی رہے گی ۔”

“ہاں کیوں نہیں “

دل مار کے اس کا نمبر نوٹ کیا اور آگے بڑھ گئی۔

شاپنگ کر کہ گھر آئی تو ساری شاپنگ دکھا دکھا کر ایکسائیٹڈ ہونے کی بجائے اپنے کمرے میں آ گئی۔

عبایا اتارتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے ایک پرانا منظر گھومنا شروع ہو گیا اپنا حلیہ یاد کرتے ہوئے آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے رخسار کو بھگا چکے تھے۔ وہ فورا آنسو صاف کر کے نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھ گئی۔

کبھی کبھی اپنا ماضی یاد کر کے انسان ایسے ہی رو پڑتا ہے جیسے آج وہ رو پڑی تھی۔ اب یہ ماضی انسان کو رلاتا ہے یا وہ اپنے ماضی میں کی گئی غلطیوں اور کوتاہیوں پہ روتا ہے یہ تو وہ انسان خود بھی نہیں جانتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ منظر ہے لاء یونیورسٹی کا جہاں ہر طرح کے سٹوڈنٹس کے بیچ وہ خوبصورت لڑکی سب کی نگاہوں کا مرکز بنی اپنے گروپ کے ساتھ باتوں میں مشغول کلاس کی طرف جا رہی تھی ۔ جینز کے ساتھ لانگ شرٹ جو ٹخنوں سے تھوڑا اوپر آتی تھی ، دوپٹہ ایک کندھے پہ ڈالے اپنے سیاہ بالوں کو پونی ٹیل میں باندھے کسی بات پر مسکرا رہی تھی۔ اس کے گروپ میں کوئی لڑکا موجود نہیں تھا کیونکہ وہ شروع سے ہی لڑکا لڑکی کی دوستی سے بیزار تھی ۔ اب تک کافی لڑکے اس کی طرف دوستی کے لیے ہاتھ بڑھا چکے تھے مگر اس نے کبھی کسی لڑکے سے دوستی نہیں کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ سراسر بیوقوفی ہے کہ لڑکوں کو خود کے ساتھ فری کر کے انہیں موقع دیا جائے۔ اس کی یہی بات اسے باقی لڑکیوں سے منفرد بناتی تھی۔

کلاس میں داخل ہو کر اپنے گروپ کے ساتھ ہی ایک کرسی پر براجمان ہوئی۔آج ان کا نواں سمیسٹر شروع ہوا تھا۔ اتنی دیر میں کلاس میں ایک لڑکی داخل ہوئی جس کو دیکھ کر اس کے گروپ نے ناک بھوں چڑھائی۔

“دیکھو تو سہی مہرو ، لاء پڑھنے کے لیے کیسے کیسے لوگ آئے ہیں۔”

مہرماہ جو اپنے سمیسٹر کا کورس کونٹینٹ دیکھ رہی تھیں زویا کی آواز پہ دروازہ کی جانب دیکھا جہاں ایک لڑکی سیاہ برقع پہنے ،سیاہ حجاب اور سیاہ ہی نقاب اوڑھے پریشان سی اندر کی جانب آ رہی تھی۔ غالبا اس کا اس یونیورسٹی میں ٹرانسفر ہوا تھا مہرو نے غصے سے اب زویا کی طرف رخ کیا۔

“ہاں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے ؟”

“لو بھلا اب یہ جھولا پہن کر اور نقاب ڈال کر کیس لڑے گی ۔”

“یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے کہ وہ کیسے کیس لڑے گی تمہیں یا مجھے اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ بجائے اس کے کہ اس کی مدد کرو تم لوگ اس پہ کومپلیمنٹ دے رہی ہو۔”

یہ کہتے ساتھ ہی وہ اٹھ کر اس لڑکی کی جانب آئی ۔ مسکرا کر اس کو دیکھا تو وہ جو پریشانی میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھی غالبا یونیورسٹی کا کھلا ماحول اس سے ہضم نہیں ہو رہا تھا اب تھوڑی تسلی ہوئی۔

“اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ “

اس لڑکی نے سلام کرنے میں پہل کی تو وہ جو ہیلو کہنے والی تھی فورا سے ہیلو کا راستہ منہ میں ہی روکا اور جلدی سے اس پر بھی سلامتی بھیجی۔

“وعلیکم السلام ۔ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟”

“جی وہ آج میرا اس یونیورسٹی میں ٹرانسفر ہوا ہے تو مجھے بالکل ابھی یہاں کا علم نہیں ہے۔آپ مجھے آگاہ کر دیں گی؟”

“جی ضرور مجھے خوشی ہو گی ، ابھی آپ آئیں میرے ساتھ بیٹھ جائیں۔ میں آپ کو بتا دیتی ہوں۔”

“جزاک اللہ، ویسے آپ کا نام؟”

“اوپس میں نے اپنا نام نہیں بتایا، میں ہوں مہرماہ سرفراز سب مجھے پیار سے مہرو بلاتے ہیں ۔”

“میں آپ کو کیا کہہ کر بلاو۔”

“بھئی اگر تو مجھے پیار سے بلانا ہے تو مہرو کہہ دو ،ورنہ مہرماہ بھی کہہ سکتی ہو۔”

“آپ اپنے نام کی طرح بہت پیاری ہیں، میں آپ کو مہرو ہی بلاو گی۔”

“اینڈ یور گڈ نیم؟”

اور انسان کی کچھ عادات کبھی نہیں بدلتی جیسے اس کی نام پوچھنے کی۔

“ام ہانی “

“واو یہ تو بہت خوبصورت نام ہے ، میں اپنی بیٹی کا نام رکھوں گی۔”

وہ تو اس شوخ اور پیاری سی لڑکی سے بہت متاثر ہوئی تھی اور یہی حال مہرماہ کا بھی تھا۔

وہ دونوں مسکراتے ہوئے کرسیوں کی جانب بڑھ گئیں اور اس مسکراہٹ کو زویا نے بہت غصے سے دیکھا تھا۔ یہاں سے آغاز ہوا تھا ایک نئی کہانی کا،مہرماہ اور ام ہانی کی بے لوث دوستی کا، یار غار کا جو ہر ایک کو ملتا ہے مگر اس کی قدر ہر انسان نہیں کر پاتا اور سب کو یہ دوست کے روپ میں نہیں ملتا مگر اس کو ملا تھا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس ڈیوٹی سے تھکا ہارا گھر واپس آیا مگر حسب معمول آج پھر اس کے گھر میں وہی سب کچھ ہو رہا تھا جو وہ بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ رشتہ دار جنھوں نے کبھی برے وقت میں ساتھ نہ دیا ان کی ہی وجہ سے ہر وقت اس نے اپنے گھر میں لڑائی دیکھی تھی۔

آج بھی وہی سب کچھ ہو رہا تھا تمہارے رشتہ دار ، تمہاری غلطی، طنز ، طعنے، چیخنا چلانا۔ مگر وہ چاہ کر بھی ان سے راہ فرار اختیار نہیں کر پاتا تھا۔ نہ تو وہ ان کو کبھی سمجھا پایا اور نہ ہی خود کبھی اس اذیت سے نکل پایا۔ بچپن میں اس نے کئی بار گھر چھوڑنے کا سوچا تھا مگر اورہان نے ہمیشہ اسے سمجھایا بجھایا اور دلاسہ دیا۔وہ بچپن سے ہی ہمیشہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔اس کی ہر تکلیف کو اپنا جان کر اس کی ڈھارس بندھاتا تھا۔

اس کو تو یار غار مل گیا تھا مگر سعد ،ہاں وہ سعد کو اپنے جیسا بننے سے بچانا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بھائی اس کی طرح ہر ایک پر سے بھروسہ کھو دے نہ وہ اسے خود کی طرح اذیت کا شکار بنتے دیکھنا چاہتا تھا۔وہ فورا سعد کے پاس آیا جو اپنے ماں باپ کو لڑتا دیکھ صوفےپہ بیٹھا تھا۔اردگرد کتابوں کی موجودگی واضح کر رہی تھی کہ وہ پڑھنے کے لیے بیٹھا تھا مگر اب یہ ناممکن دکھائی دیتا تھا۔

“سعد چلو آو ، آج تمہیں تمہاری پسندیدہ جگہ سے پیزا کھلاتا ہوں ۔ پھر تمہارے پیپرز شروع ہو جانے ہیں اور اس دوران تمہیں کوئی بھی ایسی چیز نہیں کھانی۔”

انس کو دیکھ کر سعد بھاگتا ہوا اس سے لپٹ گیا۔ انس نے افسوس بھری نگاہ اپنے ماں باپ پر ڈالی جن کو اس بات سے بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ کچھ دنوں بعد سعد کے ایگزامز ہیں اور اسے اس وقت سکون کی اشد ضرورت ہے۔ خود تو وہ اورہان کی طرف جا کر تیاری کر لیا کرتا تھا مگر سعد کا ایسا کوئی دوست نہ تھا۔

“ارے بیٹا تم آ گئے ، میں کھانا نکالتی ہوں ، تب تک فریش ہو جاو۔”

اس کی ماں نے فورا سنبھل کر پوچھا۔ اپنی طرف سے وہ یہ ظاہر کروا رہی تھیں کہ کچھ نہیں ہوا مگر اب وہ بچہ نہیں رہا تھا۔

نہ جانے ماں باپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اولاد کو بھی سب سمجھ میں آتا ہے۔ وہ کبھی نارمل نہیں ہو سکتا تھا اس کے لیے شادی محض ایک ڈراونا خواب بن کر رہ گیا تھا۔ وہ عمر جب لڑکے شادی کو لے کر خوبصورت خیالات کے مالک ہوتے ہیں جن کو شادی فینٹسی لگتی ہے ہاں انس مجتبٰی ان سب لڑکوں جیسا ہرگز نہیں تھا اور نہ ہی شاید کبھی بن سکتا تھا اس کی ذات میں ایک خلاء رہ گیا تھا۔

“میں سعد کو لے کر جا رہا ہوں ۔ آپ لوگ کنٹینیو کریں۔”

وہ سعد کو لے کر چلا گیا اور پیچھے اس کے ماں باپ آج حقیقتا اپنی اولاد کو خود سے دور ہوتا دیکھ رہے تھے۔

وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جب سعد جو اس کے ساتھ ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا اس نے سوال پوچھا۔

“بھائی ، جب آپ چھوٹے تھے کیا اس وقت بھی ماما بابا ایسے ہی لڑتے جھگڑتے تھے۔”

“ہاں میری جان مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہو؟”

وہ ٹینشن میں تھا مگر اس سے نرمی سے بات کر رہا تھا کیونکہ اسے اپنے بھائی کا حوصلہ بننا تھا۔

“بھائی پھر آپ پیپرز کی تیاری کیسے کرتے تھے؟”

ہائے رے بچوں کی معصوم سوچ جن کو پیپرز اور نمبرز سے زیادہ کچھ اہم نہیں لگتا۔

“میں اورہان کے گھر جا کر پڑھائی کیا کرتا تھا جب امتحانات ہوتے تھے۔”

ساتھ ہی اس کی آنکھوں کے پار ایک دھندلا سا منظر لہرایا۔ ایف-ایس -سی کے امتحانات شروع تھے اور اس وقت بھی اس کے گھر یہی ماحول تھا وہ اورہان کی طرف آ گیا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر تیاری کرنے لگا۔ فاریہ جو اس وقت آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی وہ بھی وہیں موجود تھی شاید اورہان سے کچھ پوچھنے کے لیے آئی تھی ۔

“بھائی ، آپکے دوست کے بھی ایگزامز ہیں؟”

“ہاں گڑیا وہ میری ہی کلاس میں ہے۔”

ذہین ہونے کی وجہ سے انس اسکالر شپ پہ اورہان کے ساتھ ہی پرائیویٹ کالج میں پڑھ رہا تھا اورہان کے پاس وسائل کی کمی نہیں تھی مگر اس کالج میں وہ بھی اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اسکالر شپ پہ ہی پڑھ رہا تھا۔

“بھائی یہ ہر وقت اتنے سیریس کیوں ہوتے ہیں؟”

اپنی طرف سے اس نے اورہان کے کان میں سرگوشی کی تھی مگر اس کی یہ سرگوشی چونکہ کافی اونچی تھی لہٰذا انس سن چکا تھا۔ مگر ظاہر نہیں ہونے دیا۔

“بری بات فری، بڑا ہے وہ آپ سے اور ہمارے ایگزامز ہیں نہ اسی لیے وہ ٹینشن میں ہے۔”

“پر بھائی آپ کے بھی تو ایگزامز ہیں آپ تو ایسے غصے میں نہیں بیٹھے۔”

“فری ہر انسان کی اپنی نیچر ہوتی ہے کچھ سیریس رہنا پسند کرتے ہیں تو کچھ سے بالکل بھی سیریس نہیں رہا جاتا۔ یہ اس انسان کی ذاتی صفت ہوتی ہے۔ اس پہ اس کو جج نہیں کیا کرتے ۔ ٹھیک ہے؟”

“جی بھائی ، مگر ان سے کہا کریں یہ تھوڑا سا ہنس بھی لیا کریں، اچھے لگیں گے۔”

منہ بسور کر پہلے بھائی کی نصیحت پہ حامی بھری پھر مفت کا مشورہ جو کہ شاید ہر پاکستانی اپنا فرض سمجھتا ہے وہ دے کر بھاگ گئی۔ وہ جو ان بھائی بہن کی باتیں سن رہا تھا اس بات پہ کتاب پر سے سر اٹھا کر اس کو دیکھا اور اس کے دیکھنے پہ وہ فوری طور پر کمرے سے واک آوٹ کر گئی۔ اور انس کے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکان آ گئی۔

شاید پہلی بار کسی نے اس کو اس مفید مشورے سے نوازا تھا۔

“میری فری دل کی بات فوراکر دیتی ہے ،مائینڈ نہیں کرنا یار”

“اب تو مجھے شرمندہ کر رہا ہے۔”

وہ جو خیالوں میں کھویا ہوا تھا سعد کی آواز پر ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔

“بھائی میرا تو ایسا کوئی دوست نہیں ہے۔”

“سعد ہر انسان کو اچھے اور نیک دوست نہیں ملتے ، کچھ لوگوں کو تو اتنے ٹاکسک دوست ملتے ہیں جو ان میں منفی سوچیں بھر دیتے ہیں یا ان کو کسی غلط کام پہ لگا دیتے ہیں اور ایسے لوگ دوست کے معاملے میں ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں مگر یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ایسا دوست نصیب ہوا جس نے مجھے اذیت سے نکال کر ہمیشہ مثبت سوچیں ہی میرے اندر ڈالی۔ دوست بناتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے آپ اپنی صحبت چن رہے ہوتے ہیں اور اس میں ناکامی آپ کو یقینا بہت بھاری پڑتی ہے۔ اس لیے مجھے ہمیشہ اپنا دوست سمجھنا، ہر مسئلہ میرے پاس لے کر آنا ہم مل کر اس کو حل کریں گے،کبھی جھوٹ بول کر بچنے کی کوشش مت کرنا کیونکہ سچ ایک نہ ایک دن سامنے آ جاتا ہے مگر پھر جھوٹ بولنے والا اپنا بھروسہ کھو دیتا ہے۔”

“آج سے آپ میرے بیسٹ والے دوست ہیں ۔”

“ہاں چیمپ،ضرور۔ “

اورہان نے جب سے سعد کو چیمپ کہنا شروع کیا تھا تب سے وہ بھی اس کو چیمپ ہی کہتا تھا۔ پیزا شاپ آ چکی تھی اور وہ دونوں بھائی پیزا کھانے کے لیے شاپ کے اندر داخل ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج مریم کی مہندی کی رسم تھی رسم ہی کہا جائے تو مناسب ہو گا کیونکہ اس کا دین سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔۔

سارا ارینجمنٹ لان میں کیا گیا تھا لائٹننگ لگا کر لان کی شان و شوکت بڑھائی گئی تھی اور سوئمنگ پول کے اردگرد پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی لان میں اب مہمان جمع ہونا شروع ہو چکے تھے اور وہ ان سب سے بیزار اپنے کمرے میں بے دلی سے بیٹھی تھی۔ایک منظر اس کی نگاہوں کے سامنے آنا شروع ہوا۔

“ہانی تمہیں شادی کا کونسا فنکشن سب سے زیادہ پسند ہے ؟”

“ولیمہ “

“مگر ولیمہ تو بہت بورنگ ہوتا ہے نہ بینڈ نہ باجا، بس آو کھانا کھاو اور اپنے گھروں کو جاو، لو بھئی یہ بھی کوئی فنکشن ہوا۔مجھے تو مہندی کا فنکشن سب سے زیادہ پسند ہے جس میں جی بھر کر ہلا گلا ہوتا ہے۔”

وہ ام ہانی کی پسند جان کر جی بھر کر بد مزہ ہوئی ۔

“مہرو ولیمہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور یہ نہایت پرسکون ماحول میں ہوتا ہے اس روز ہلچل نہیں مچی ہوتی تو مجھے تو ولیمہ سب سے زیادہ پسند ہے۔مہندی میں فضول رسمیں ہوتی ہیں ،ناچ گانا بھی آج کل معمول بن چکا ہے ، فائرنگ جو بہت سے گھروں کے چراغ بجھا چکی ہے اور سراسر خطرہ ہے لوگ مہندی کے روز اپنا حق جان کر کرتے ہیں ، اگر تم مڈل کلاس طبقے میں دیکھو تو مہندی کی رات سے لے کر صبح فجر تک گانے بجتے ہیں جن کی وجہ سے نہ جانے کتنے لوگ سکون کی نیند سے محروم ہو جاتے ہیں مگر وہ محلہ داری کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی ان کو روکے تو وہ صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ خوشی کا موقع ہے، مگر مہرو یہی بات تو سوچنے والی ہے کہ خوشی کے موقع پر ہم اس رب کی ذات کو کتنی آسانی سے فراموش کر دیتے ہیں حالانکہ اپنی خوشی اور اپنے غم میں سب سے پہلے تو ہمیں اپنے رب کو یاد کرنا ہوتا ہے ، مگر چونکہ آج کل یہ رسومات ٹرینڈ بن چکی ہیں اس لیے لوگوں کو غلط نہیں لگتی۔ مگر ہمیں صحیح اور غلط میں فرق کرنا آنا چاہیے۔شادی ایک بہت اہم فریضہ ہے جسے اللہ تعالٰی کی رضا کے مطابق ہی سر انجام دینا چاہیے، اس سے اس پاک رشتے میں برکت نصیب ہوتی ہے۔”

آج اسے سچ میں اندازہ ہو رہا تھا کہ مہندی کی رسم ایک انتہائی فضول رسم ہے جس سے ہم اللہ کو ناراض کر بیٹھتے ہیں۔

وہ اپنے گھر والوں کو تو روک نہیں سکی مگر خود اس رسم میں شامل ہونا اب اسے انتہائی کٹھن محسوس ہو رہا تھا ۔

اتنی دیر میں ماریہ بیگم اس کے کمرے میں آئی تو اس کو ویسے ہی بیٹھا دیکھ انہیں شدید غصے نے آن گھیرا۔

“یہ کیا حرکت ہے مہرو ، باہر مہمان جمع ہونا شروع ہو چکے ہیں ، بہن ہو تم اور ابھی تک گھر والے حلیے میں بیٹھی ہو ۔”

“ماما میرا دل نہیں کر رہا اگر میں فنکشن نہ اٹینڈ کروں تو؟”

لان میں دھیمے دھیمے گانے کی آواز کمرے تک بمشکل پہنچ رہی تھی اور وہ اب کمرے سے باہر نہیں جانا چاہتی تھی۔

“یہ کیا بچپنا ہے مہرو ، میں کیا بتاو گی سب مہمانوں کو کہ دلہن کی چھوٹی بہن کیوں فنکشن میں شرکت نہیں کر رہی اور تمہاری بہن کی خوشی کا دن ہے تمہیں اس کے ساتھ ہونا چاہیے۔”

“ماما میں آپی کے ساتھ ہی ہوں اس کے لیے مجھے فنکشن میں شمولیت اختیار کرنا ضروری تو نہیں۔ لیکن صرف آپ کی اور آپی کی خوشی کے لیے میں صرف تھوڑی دیر کے لیے نیچے آو گی۔ اس سے زیادہ نہیں ماما۔”

“ٹھیک ہے چلو اٹھو اب جلدی ،مریم بھی پارلر سے آنے والی ہے زاوی لینے گیا ہے اتنی بار کہا تم بھی پارلر چلی جاو مگر مجال ہے جو بات مان لو۔”

“ماما مجھے نہیں پسند اتنا ہیوی میک اپ، عجیب شکل بگاڑ دیتی ہیں پارلر والیاں ، مجھے تو دور ہی رکھیں ان سب سے۔”

“اچھا میری ماں اب اٹھ کہ تیار ہو جاو جلدی۔”

وہ خود تو چلی گئیں مگر مہرماہ اب زبردستی اٹھ کر کپڑے چینج کرنے کے لیے چلی گئی۔

جب اس نے لان میں قدم رکھا تو مہمانوں کو جھلمل کپڑوں میں اونچی اونچی آوازوں میں قہقہے لگاتے دیکھا بچے گانے کے بول پر ڈانس کرتے دکھائی دیے اور ان کے بڑے ان کو سراہتے نظر آئے ۔ کبھی وہ بھی ان سب کا حصہ تھی مگر آج یہ سب اجنبی محسوس ہو رہا تھا ۔ جب انسان اللہ کے راستے پر قدم رکھتا ہے اور جاہلیت سے باہر آتا ہے تو ماضی میں خود کو اس غفلت میں یاد کر کے انسان اپنے آنسوؤں پر اختیار کھو دیتا ہے جیسے اس وقت اس کے ساتھ ہو رہا تھا ۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے سورج جیسے روشن چہرے تک آیا تو اس نے فورا اسے صاف کیا اور چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجا کر آگے بڑھی ۔ دنیا داری نبھانا کتنا مشکل ہے یہ اسے آج محسوس ہو رہا تھا کیونکہ اللہ کے راستے پہ چلنے کی کوشش میں دنیا والے بہت روڑے اٹکاتے ہیں۔

اورہان جو کسی سے بات کر رہا تھا جب اس کی نگاہ مہرماہ پر اٹھی تو وقت جیسے وہیں تھم گیا اسے کسی کی آواز محسوس نہیں ہو رہی تھی فل بلیک ٹیل فراک پہنے جس پہ بلیک ہی موتیوں کا کام ہوا تھا، بلیک حجاب اوڑھے مہرون شال کندھوں پر ڈالے مہرون ہیلز کے ساتھ وہ سب میں منفرد اور بے حد حسین لگ رہی تھی ۔ ہلکی بھوری آنکھوں میں کاجل کی ڈور اس کی آنکھوں کو مزید پرکشش بنا رہی تھی۔

اورہان نے فورا نظر پھیر لی نہ جانے کیوں وہ اس لڑکی کو نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں پاتا تھا۔ پتا نہیں وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو اپنے محبوب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو ڈھیروں تکتے ہیں کم از کم وہ ان لوگوں میں شامل نہیں ہو پاتا تھا اور وہ شامل ہونا بھی نہیں چاہتا تھا ابھی اس لڑکی کو تکنے کا حق اس کو میسر نہیں تھا۔ وہ کسی کی نظروں میں اس کو اور خود کو مشکوک بھی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ محبت کی پہلی سیڑھی عزت ہوتی ہے اور وہ اس کی عزت پہ آنچ آنے نہیں دے سکتا تھا۔

لوگوں کی عجیب نگاہیں خود پر محسوس کرتے ہوئے بھی وہ پر اعتماد تھی ۔ اس کے سب رشتہ دار ماڈرن تھے اور کبھی وہ بھی ان جیسی ہی تھی مگر اب ایسا کچھ نہیں تھا۔اس نے اللہ کے راستے کو چنا تھا اور اب اس پہ ثابت قدم رہنا تھا اور وہ بھی پوری شان سے۔

“ارے دیکھو تو سہی آئی بڑی پردہ کرنے والی ، پہلے تو سب سے آگے ہوتی تھی پھر کبھی شادیوں میں نظر ہی نہیں آئی اور اب بہن کی مہندی پہ ایسے آئی ہے جیسے مہمان ہو۔”

یہ بات سننے کی دیر تھی کہ مہرماہ بات کرنے والی کے سر پر کھڑی تھی۔

“آنٹی اگر کوئی غلط کام چھوڑ کر درست کام کی طرف قدم بڑھائے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں نہ کہ اس کو پچھلی زندگی کے طعنے دیں اور رہی بات بہن کی شادی میں شرکت کرنے کی تو میری بہن کو اس پہ کوئی اعتراض نہیں ہے کہ میں کیسے کپڑے پہنوں اور کتنی دیر شرکت کروں اور آپ کو اپنے معاملات میں بولنے کی میں قطعا اجازت نہیں دوں گی۔”

کہنے کے بعد جب وہ مڑی تو اس کی نگاہ اورہان پر گئی جو بلیک شلوار قمیض پہنے اپنے مخصوص حلیے سے یکسر مختلف اس کو اپنے حق میں بولتا دیکھ اب مسکرا رہا تھا اور اس کو مسکراتے دیکھ اس کو مزید حوصلہ ملا اور اب اسے اپنی اس دن والی بے چینی کی وجہ سمجھ آ گئی تھی اور اب وہ پر سکون تھی کیونکہ اس کے دل نے جس انسان پہ مہر ثبت کی تھی وہ اس قابل تھا۔ ہاں اسے وہ اشخص مل گیا تھا جس کو دیکھ کر اس کے دل نے یہ گواہی دے دی تھی کہ یہ وہی ہے جسے عالم ارواح میں اس کے رب نے اس کی قسمت میں درج کر دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح سرفراز ولا میں ہلچل مچی ہوئی تھی کیونکہ وقت پر شادی ہال میں پہنچنا تھا۔مہمانوں کی آمد سے پہلے وہاں پہنچنا تھا تاکہ ان کو خوش آمدید کہا جا سکے۔جلدی جلدی سارے کام نمٹا کر وہ شادی ہال کی طرف روانہ ہوئے۔

وہیں اورہان کے کمرے میں آیا جائے تو وہ آج اپنے بابا کے اصرار پر تھری پیس پہنے اپنے منہ کے زاویے بگاڑ کر کھڑا تھا۔

“بابا میں نے آپ سے کتنی دفعہ کہا ہے کہ مجھ سے یہ گلے کا پھندا نہیں پہنا جاتا۔”

“کوئی پھندا نہیں ہے یہ جینٹل میں لگو گے اسے پہن کر ۔”

“مجھے تو باندھنی بھی نہیں آتی ہے۔”

“ہاں تو میں باندھ رہا ہوں ناں اب خاموش ہو کر کھڑے ہو ورنہ میں نے اسے ہی تمہارے گلے میں کس دینا ہے۔”

وہ جو اپنے بیٹے کو آج جینٹل مین دیکھنے کے خواہشمند تھے اس کی ٹائی باندھتے ہوئے ٹائی کی ناٹ کس کر ڈھیلی کرتے ہوئے دھمکی دی۔

“اچھا ناں اب چپ ہوں میں مگر آپ اچھا نہیں کر رہے میرے ساتھ ۔آپکو پتا بھی ہے کہ میں کمفرٹیبل نہیں ہوتا ہوں ٹائی کے ساتھ ۔”

“برخوردار کوشش کرو گے تو ہو جائے گا اور اتنی سوٹ کرتی ہے تم پہ ٹائی ۔ مجھے تو لگتا ہے نظر نہ لگ جائے اسی لیے احتیاط کے طور پر نہیں پہنتے۔”

“یہ سراسر الزام ہے مجھ پہ۔”

“چلو بندھ گئی ٹائی، اب باہر آو فورا ورنہ لیٹ ہو جائیں گے۔”

“آپ چلیں میں بس ابھی آیا۔”

حیدر صاحب چلے گئے اور اس نے شیشے میں خود کو دیکھا گرے تھری پیس سوٹ جس کی واسکٹ بلیک کلر کی تھی ساتھ بلیک ٹائی باندھے براون لوفرز پہنے، گھنگھریالے بھورے بالوں کو آج جیل سے سیٹ کیا گیا تھا۔ بائیں ہاتھ میں قیمتی رسٹ واچ پہنے آج وہ سچ میں بہت منفرد لگ رہا تھا اور ایسا مسحور کن کہ دیکھنے والے اس کو بغیر تھکے دیکھتے ہی جائیں۔ آخر میں Dior کا پرفیوم سپرے کیے باہر کی جانب بڑھا۔

گاڑی شادی حال کی پارکنگ میں کھڑی کر کے اپنی فیملی کے ساتھ وہ مطلوبہ حال کی جانب بڑھا چونکہ مریم کی خواہش پہ اوپن ایئر میں دن کے وقت کا فنکشن تھا اس لیے ابھی دوپہر کا وقت تھا ویسے بھی نومبر کے آخری ایام تھے اس لیے موسم خاصا خوشگوار تھا۔

مطلوبہ ہال پہنچے تو سرفراز صاحب اور ان کی اہلیہ آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے ، زاویار مردوں کو ٹیبلز تک لے کر جا رہا تھا اور مہرماہ عورتوں کو۔ مہرماہ کے اصرار پہ مردوں اور عورتوں کا علیحدہ انتظام کیا گیا تھا درمیان میں ایک باؤنڈری لگائی گئی تھی ۔

مہرماہ صوفیا بیگم اور فاریہ کو ریسیو کرنے ان کی طرف آ رہی تھی جب اورہان کی نگاہیں اس کی جانب اٹھیں۔ سفید رنگ کی پیروں کو چھوتی فراک پہنے جس پہ ہلکا اور نفیس گولڈن کام ہوا تھا، سفید حجاب کے ہالے میں دمکتا اس کا چہرہ جو گولڈن رنگ کی شال جو اس نے کندھے پہ ڈال رکھی تھی جس پہ گولڈن کام کی وجہ سے وہ دھوپ کی روشنی میں جگمگا رہی تھی اس کے عکس کی وجہ سے اس کا چہرہ بھی جگمگا رہا تھا، گولڈن ہیلز پہنے سہج سہج کر چلتی آ رہی تھی ۔ اس کی بھوری آنکھیں جو دھوپ کی وجہ سے اپنا رنگ مزید نمایاں کر رہی تھیں انہوں نے گویا اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے۔

آج اس کو اس رنگ میں دیکھ کر اسے وہ وقت یاد آیا جب پہلی بار اس لڑکی نے اس کے دل پہ دستک دے ڈالی تھی یہ اس وقت کی بات تھی جب مہرماہ نے لاء کی ڈگری مکمل کی تھی اس کی کامیابی پہ سرفراز صاحب نے ایک چھوٹی سی سیلیبریشن پارٹی کا انعقاد کیا تھا۔

سفید رنگ کی لمبی قمیض کے ساتھ سفید کیپری پہنے ہوئے سلیقے سے بالوں پہ دوپٹہ ٹکائے وہ مسکرا کر سب سے مل رہی تھی ۔ آج تک اس نے اسے سر پہ دوپٹہ رکھے نہیں دیکھا تھا مگر آج اس حلیے میں وہ اسے مکمل لگی تھی۔ وہ اس کے پاس سے گزر کر آگے بڑھنے لگی تھی جب اس کا سفید آنچل اس کے بازو کو چھو کر گزرا اور اس لمحے اس کے دل کو کچھ ہوا۔ پہلے تو وہ سمجھ نہیں سکا تھا مگر جلد ہی اسے اپنے جذبے کا احساس ہو گیا تھا۔

“اسلام علیکم آنٹی ، کیسی ہیں آپ ؟ فری اور آنٹی آپ آئیں میرے ساتھ ۔”

اس ساحرہ کی آواز سے وہ اپنے ہوش میں لوٹا۔وہ ان کو لے کر عورتوں والے حصے کی جانب چلی گئی۔اور وہ اب سب سے مل رہا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارات آ چکی تھی اور اب ان کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ دلہے کے ساتھ ایک خوبرو نوجوان لمبے قد کاٹھ پہ سفید کلف والا سوٹ اور براون واسکٹ زیب تن کیے ، براون کھیڑی چپل پہنے، ہلکی بڑھی شیو ، کالی سیاہ آنکھیں، اٹھی مغرور ناک اور چہرے پہ ایک رعب نظر آ رہا تھا۔ اس کے پیچھے ہی دو گارڈ ہاتھوں میں جدید گن تھامے آ رہے تھے۔

اس کو وہاں دیکھ کر گویا سب لوگ حیران تھے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا کیونکہ وہ عریش سلطان تھا ،مشہور اور منجھا ہوا ایم-ان-اے، جس کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ اپنی شخصیت کا سحر بکھیرتا وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ لوگ تو اس کے ساتھ ایک تصویر لینے کے لیے ترستے تھے اور وہ کسی کو اجازت نہ دیتا تھا مگر یہاں بات مختلف تھی وہ اپنے دوست کی شادی میں شرکت کرنے آیا تھا اس لیے اسے مروت کا مظاہرہ کرنا تھا ۔ ایک لڑکے کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے اس کی نظر موبائل فون سے پیچھے ایک لڑکی پہ گئی اس کو دیکھ کر شناسائی کی رمق اس کے چہرے پر عود آئی۔

اسے کچھ دن پرانا ایک منظر یاد آیا۔ وہ ایک اہم سیاسی میٹنگ کے لیے جا رہا تھا جب اس کی بلیک پراڈو ایک گاڑی سے ٹکرائی، ٹکر زیادہ نہیں ہوئی تھی اس کی گاڑی کو بھی کچھ نہیں ہوا تھا مگر مقابل کی گاڑی کو تھوڑا نقصان ضرور پہنچا تھا غلطی بھی اس کے ڈرائیور کی ہی تھی اس لیے گاڑی روک دی گئی مقابل گاڑی سے ایک لڑکی باہر آئی سبز عبایا پہنے کالے حجاب کو اپنے چہرے کے گرد اوڑھے وہ غصے سے اب ڈرائیور سے کچھ کہہ رہی تھی ۔ بیک ویو مرر سے وہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا وہ عورتوں کی عزت کرتا تھا اسی لیے ابھی تک یہاں موجود تھا ورنہ اسے بالکل بھی پرواہ نہ ہوتی۔

“دیکھیں میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ ہرجانہ بھریں ، ایسے میں آپ کو جانے نہیں دوں گی۔”

“بی بی کونسا ہرجانہ، تمہاری بھی غلطی تھی۔”

“پہلی بات تو یہ کہ مجھے تم کہہ کر مخاطب نہیں کرنا اور دوسری بات میں ایک وکیل ہوں ،ایف -آئی-آر درج کرواوں گی اور تھانے میں نظر آو گے مجھے آپ بھی اور آپ کی گاڑی کا مالک بھی ۔ اس لیے شرافت سے نقصان کی بھر پائی کریں کیونکہ غلطی سراسر آپ کی ہے۔”

غصے سے تمتماتے چہرے کے ساتھ اب گاڑی کی طرف اشارہ کیا ، گاڑی میں بیٹھا ہوا شخص تو نظر نہیں آیا پر خیر اس کو دیکھنے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی۔ اسے صرف اپنی گاڑی کے نقصان کا ہرجانہ چاہیے تھا وہ کسی کو اپنا نقصان کرتے کیسے برداشت کرتی۔

اس کی بات سن کر بلیک پراڈو میں بیٹھے عریش سلطان کے چہرے پہ مدھم سی مسکراہٹ آئی ۔ مطلب ایک سیاست دان کو تھانے کی دھمکی، سیریسلی۔۔وہ بہت کم مسکراتا تھا اور جب مسکراتا تھا تو ایسا سحر بکھیرتا تھا کہ شاید ہی کوئی اس سحر سے بچ پائے۔اس نے اندر بیٹھے ہی اپنے ڈرائیور کو اشارہ کیا جو مودب سا ہو کر اس کے پاس آیا۔ اس کا ادب دیکھ کہ اس کو مزید تپ چڑھی۔مطلب مالک کے سامنے ایسا ادب اور لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں۔

“اصغر اس لڑکی کو نقصان کے پیسے دو اور فورا آو،مجھے دیر ہو رہی ہے۔”

“جی سر”

وہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کو نقصان کے پیسے دیتا واپس آیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی ۔پیچھے وہ اپنی گاڑی کے پاس کھڑی اس کی بلیک پراڈو کو گھوری سے نوازنا نہیں بھولی تھی۔

“اصغر تم نے اس لڑکی سے بد تمیزی کیوں کی؟ میں نے ہزار مرتبہ کہا ہے مجھے وہ لوگ بالکل نہیں پسند جو عورتوں کی عزت نہیں کرتے۔”

غصے میں اپنی گرج دار آواز میں اس سے استفسار کیا۔

“آئندہ نہیں ہو گا سر۔ “

“ہونا بھی نہیں چاہیے۔”

منظر تو غائب ہو چکا تھا مگر اس لڑکی کو آج یہاں دیکھ کر وہ خوشگوار حیرت کا شکار تھا۔ معلوم ہونے پر پتا چلا کہ وہ دلہن کی بہن ہے اور دلہن کی بہن کی تعلیم سے تو وہ اس دن ہی آگاہ ہو گیا تھا۔عبایا کی بجائے اس کو سفید رنگ کے خوبصورت فراک میں دیکھ کر وہ یقینا یہ کہہ سکتا تھا کہ سفید رنگ اس پہ بہت جچتا تھا ۔

وہیں زویا کی نظریں اورہان کے چہرے سے نہیں ہٹ رہی تھیں ۔ وہ تو اس کو دیکھ کر دیوانی سی ہو گئی تھی۔

ایسا نہیں تھا کہ اس نے خوبصورت لڑکے نہیں دیکھے تھے مگر اس مغرور بادشاہ کو دیکھ کر وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی۔

وہیں وہ دونوں ، لوگوں کی سوچوں سے بے خبر آج ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت پرسکون تھے ۔شاید وہ دونوں ایک دوسرے کی کیفیت کو سمجھ چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔