Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 2)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
وہیں سرفراز ولا کے ڈائیننگ ٹیبل پر آیا جائے تو سرفراز صاحب کی پوری فیملی ناشتہ کرتی دکھائی دے گی۔
“ارے ہینڈسم آج ناشتہ اتنی تیز کیوں کر رہے ہو؟ غالبا ابھی کالج شروع ہونے میں کافی وقت رہتا ہے۔”
مہرماہ نے زاویار کو جلدی جلدی ناشتہ کرتے دیکھا تو بولے بنا نہ رہ پائی۔
“کیا مہرو آپا ہینڈسم تو نہ بولا کریں، مجھے شرم آتی ہے “
زاویار ،ہینڈسم کہلوائے جانے پہ شرما گیا تھا۔
“لو بھلا میرا زاوی ہینڈسم ہے تو ہی کہہ رہی ہوں ،ورنہ تمہیں معلوم ہے مہرماہ جھوٹ نہیں بولتی۔ “
اس بات مریم نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
“ویسے زاوی لوگ تو خود کو ہینڈسم کہلوانے کے لیے بڑے جتن کرتے ہیں، اور ایک تم ہو جس کو ہینڈسم کہہ دو تو شرما جاتا ہے۔ “
زاویار سرفراز ایف۔ایس۔سی کا سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود اپنے لمبے قد کاٹھ کی وجہ سے عمر میں بڑا لگتا تھا۔اور خوبصورتی تو سرفراز صاحب کے خاندان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مگر یہ ان کی نیک تربیت اور دعاؤں کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کی کسی بھی اولاد میں غرور،بد مزاجی اور کسی برے کام کی عادت شامل نہیں تھی۔
“مہرو بیٹا “
سرفراز صاحب نے مہرماہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“جی بابا”
“حیدر بتا رہا تھا کہ اس کی بیٹی نے بھی تمہاری یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے ۔”
گو کہ انہوں نے استفسار کیا۔
“معلوم نہیں بابا ،یونیورسٹی میں بہت سے سٹوڈنٹس ہوتے ہیں بمشکل ہی کسی کا سامنا ہوتا ہے ،میں نے تو اس کو ابھی تک نہیں دیکھا۔”
“ہاں حیدر بتا رہا تھا ابھی دو دن ہی ہوئے ہیں اس کو جاتے ہوئے۔ “
“جی بہتر بابا”
گو کہ سب نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا اور اپنی اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔
—————-
یہ منظر ہے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا جس کے باہر تار کول کی سڑک پر اورہان حیدر کی وائٹ اوڈی ایک جھٹکے سے آ کر رکی۔
“اچھا گڑیا میں اب انس سے ملنے جا رہا ہوں ،جب فارغ ہو جاو تو کال کر دینا میں لینے آ جاؤں گا۔”
بھائی کی بات سنتے ہوئے ایک مخصوص نام پر اک پل کے لیے فاریہ کی سانس تھم گئی تھی ۔
“ٹھیک ہے گڑیا؟”
“جی بھائی “
“اب دل لگا کر پڑھنا ،پھر اچھی سی وکیل بھی تو بننا ہے آپ نے ،اور آپ کی جاب تو میری کمپنی میں کنفرم ہے۔”
“آپ کے ساتھ کام کرنے کا تو بے حد شوق ہے مجھے بھائی ۔”
“اچھا خدا حافظ گڑیا،اب تمہیں دیر ہو رہی ہو گی۔”
“اللہ حافظ بھائی “
فاریہ گاڑی سے اتر کر اپنی کالی چادر سنبھالتے ہوئے کندھے پر بیگ ڈالے یونیورسٹی کی جانب بڑھ گئی۔اور اورہان نے اپنے جگری دوست سے ملنے کی غرض سے گاڑی کا رخ اس کے گھر کی جانب موڑ لیا۔
—————
فاریہ یونیورسٹی میں اندر بڑھ گئی جہاں سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کا ریلا بہہ رہا تھا۔کوئی دوستوں کا گروپ ایک ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کرتا نظر آتا تو کوئی دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکنے میں مصروف دکھائی دیتا، وہیں افراتفری میں اپنے ڈیپارٹمنٹ اور کلاس رومز میں جاتے اساتذہ اور طالب علم میں وہ بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔
ڈیپارٹمنٹ پہنچے کے بعد اب اپنی کلاس کا رخ کیا تاکہ ٹیچر کے آنے سے پہلے داخل ہو جائے۔
اندر جا کر دوسری رو کی پہلی کرسی جو کہ خالی تھی ،اس پر جا کر بیٹھ گئی۔اور ساتھ بیٹھی اپنی کلاس فیلوز کو سلام کیا ،جن میں سے کچھ نے تو جواب دے دیا اور کچھ نے اپنے غرور میں جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔
وہ جانتی تھی کہ ہر انسان کو آپ پسند آئیں یہ ضروری نہیں ہوتا اس لئے ہر ایک سے امیدیں وابستہ نہیں کی جاتی۔
اس لیے اب ایکسائیٹڈ ہو کر کریمینولوجی کی پہلی کلاس لینے اور ٹیچر کے بارے میں سوچنے لگی۔
اسی اثنا میں کوئی جانی پہچانی آواز کان کے پردوں سے ٹکرائی تو وہ جو آنکھیں بند کیے سوچنے میں مشغول تھی ،چونک کر آنکھیں کھولی اور آنے والے کو دیکھا اور ادھر لگا اس کو حیرت کا جھٹکا۔
——————
وہیں وائٹ اوڈی ،اسلام آباد کے ایک مڈل کلاس طبقے کے ایک خوبصورت مگر چھوٹے گھر کے سامنے رکی۔ وہ اپنے مخصوص حلیے میں بلو جینز کے ساتھ وائٹ ڈریس شرٹ اور بلو ہی بلیزر زیب تن کیے جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے ساتھ میں سفید جوگرز پہنے،گھنگھریالے بال ماتھے پہ گرائے ،بائیں ہاتھ میں قیمتی گھڑی پہنے اپنی وائٹ اوڈی سے باہر نکلا اور شاہانہ چال چلتا ہوا اندر داخل ہوا تو سعد بھاگتا ہوا گیٹ کی طرف آیا۔
“اسلام علیکم اورہان بھائی”
“وعلیکم السلام چیمپ،تمہارا سکول کیسا جا رہا ہے؟”
“بھائی اگلے ماہ میرے امتحانات ہیں اور مجھے کیمسٹری مشکل لگتی ہے اور اس میں اچھے نمبر لیے بغیر میرا اچھا رزلٹ نہیں آئے گا۔”
ساتھ ساتھ وہ اندر ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“سعد کیمسٹری میں کیا چیز مشکل لگتی ہے؟
“بھائی مجھے ایکویشنز یاد نہیں ہوتی اور نمیریکلز تو ہمیشہ غلط ہو جاتے ہیں۔”
سعد اس وقت ٹینشن میں دکھائی دے رہا تھا۔کیونکہ اگلے مہینے اس کے امتحانات ہونے تھے اور اس کی تیاری میں کیمسٹری کی رکاوٹ موجود تھی۔
“بیٹا کچھ بھی مشکل نہیں ہوتا یہ صرف ہماری ذہنی اختراع ہے کہ ہم سے یہ نہیں ہو پائے گا۔ میرے پاس تمہاری ٹینشن کا بھی حل ہے۔ چونکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ تمہارے ویک پوائنٹس ہیں تو تمہیں ان پہ کام کرنا ہو گا ۔ اپنی کمزوری کو طاقت میں بدلنے کے لیے آپ کو محنت کرنا ہوتی ہے۔ اگر یہی سوچو گے کہ یہ کام نہیں کر سکتے تو حقیقت میں نہیں کر سکو گے۔ اس لیے اب تمہیں پریکٹس کرنا ہو گی اور کبھی بھی نمبروں کے لیے مت پڑھنا ، نمبر آپ کو ظاہری طور پر کامیابی دلا سکتے ہیں مگر تعلیم جو کہ شعور کا ذریعہ ہے اگر وہ صرف چند اعداد بن کر رہ جائیں تو یہ نہ تو آپ کے لیے درست ہو گا نہ ہی ملک کے لئے۔ سمجھ آئی؟”
اور سعد تو اس نصیحت کو پلے باندھ چکا تھا۔
“جی بھائی، میں آپ کی تمام باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔”
“ویری گڈ،اب بتاؤ آنٹی اور انس کہاں ہیں ؟”
“بھائی امی تو ماسی بختو(ہمسایہ) کی تیمارداری کرنے گئی ہیں اور انس بھائی، وہ تو اپنے کمرے میں ہیں، میں بلا کر لاتا ہوں۔”
“نہیں رہنے دو ،میں خود جاتا ہوں اس کے پاس۔”
یہ کہتے ہی وہ انس کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ جو براون کلر کے سادہ مگر نفیس فرنیچر والا ایک درمیانے سائز کا کمرہ تھا ۔ ماربل کا فرش ،اور کھڑکی جو باہر گلی کی جانب کھلتی تھی اس پہ پردے گرے ہوئے تھے جو ماحول کو خوابناک بنا رہے تھے۔
اندر داخل ہوا تو توقع کے عین مطابق اس کو گہری نیند میں پایا۔ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی نیند کی گولیاں اس کی گہری نیند کی عکاسی کر رہی تھیں۔
وہ بھی خاموشی سے سامنے صوفہ پہ جا کر براجمان ہو گیا اور اپنے جان سے پیارے دوست کی اس حالت پہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگا۔
——————
اس پل فاریہ کے خوبصورت چہرے پر حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی رقص کرتی نظر آئی۔
کیونکہ سامنے کوئی اور نہیں اس کی انسپیریشن، اس کی رول ماڈل مہرماہ سرفراز خوبصورت وائٹ اور بلو پرنٹڈ برقع پہنے جو کہ اس کو صحیح معنوں میں ڈھانپ رہا تھا اس کے اوپر بلو ہی حجاب اپنے سورج جیسے روشن اور چاند جیسے خوبصورت چہرے کے گرد اوڑھے، دائیں ہاتھ میں بک تھامےاور بائیں کندھے پر ہینڈ بیگ ڈالے اندر داخل ہو کر سلام کرنے کے بعد اب اپنا تعارف کروا رہی تھیں۔
اور فاریہ کی تو خوشی دیدنی تھی کہ اسکا پسندیدہ سبجیکٹ اس کی پسندیدہ لیڈی پڑھائیں گی۔
اپنے گھر میں ہر وقت ہنسنے مسکرانے والی مہرماہ یونیورسٹی میں ایک سنجیدہ مزاج استاد جانی جاتی تھی ۔ جو خوش گپیوں میں اپنا اور اپنے اسٹوڈنٹس کا وقت برباد نہیں کرنا چاہتی تھی۔
لیکن کلاس میں ہر طرح کے سوال کی اجازت ہوتی تھی۔ چاہے وہ اسلامک ہو یا معاشرے کا کوئی بھی پہلو،سیاسی ہو یا سائنسی ریسرچ پر۔ کیونکہ وہ صرف کتاب کی چند لائینیں پڑھانے پر اکتفا نہیں کر سکتی تھی۔
اس کے چہرے پہ چھائی نرمی کے باعث اسٹوڈنٹس بلا جھجھک اس سے سوالات بھی کرتے تھے اور کچھ تو اپنے مسائل شئیر کر کے ان کے حوالے سے مشورہ بھی کیا کرتے تھے ۔
وہ ہر ایک کے مسائل غور سے سنتی اور ان کو حل کرنے کی پوری کوشش بھی کرتی ۔اسی وجہ سے پوری یونیورسٹی میں مہرماہ سرفراز ،اسٹوڈنٹس کے معاملے میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی تھی۔
تعارف کے دوران جب اس کی نظر فاریہ پہ گئی تو ایک خوبصورت سی مسکان نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔ پھر مہرماہ نے کلاس کا انٹرو لیا ۔ اور اسٹوڈنٹس کے اصرار پہ صرف آج کے دن کا گیپ دیا۔ اور کل سے باقاعدہ کلاس لینے کا بتا کر خدا حافظ کہہ کے چلی گئی۔
فاریہ تو فورا اپنا بیگ کندھے پہ ڈال کر مہرماہ کے پیچھے گئی۔
“اسلام علیکم میم”
مہرماہ نے آواز سے ہی پہچان لیا اور مسکرا کر فاریہ کی جانب دیکھا۔
“وعلیکم السلام فاریہ۔ کلاس کے باہر مجھے میم کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے مہرو آپی بلا سکتی ہو۔”
“ٹھیک ہے مہرو آپی،کیسی ہیں آپ ؟”
“الحمد للہ میں ٹھیک، آپ کیسے ہو؟”
“اللہ تعالٰی کا شکر ہے، مجھے بابا نے بتایا نہیں کہ آپ یہاں پڑھاتی ہیں ۔”
“بھول گئے ہوں گے ،تم بتاو گھر میں سب کیسے ہیں؟”
“سب بالکل ٹھیک ہیں ،ماما تو آپ کو بہت یاد کرتی ہیں، کافی عرصہ سے آپ کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔”
اب کون جانے کہ صرف ماما ہی یاد کرتی ہیں یا کوئی اور بھی ہے جس کو مہرماہ کبھی بھولی ہی نہیں۔
“ہاں بس کسی دن میں آوں گی ماما کے ساتھ ان شاء اللہ، آنٹی انکل کو میرا سلام کہنا۔”
” جی ضرور،میں گھر جا کر ان کو بتاوں گی کہ آپ اب میری ٹیچر بھی ہیں۔ “
“ہاں ،شیور”
“نیکسٹ کلاس ہے تمہاری؟”
“نہیں مہرو آپی آج بس ایک ہی کلاس تھی ،اب بھائی کو فون کروں گی تو وہ لینے آ جائیں گے۔”
اتنی دیر میں میم فاطمہ وہاں پر آ گئیں۔
“مہرماہ فارغ ہو تو جلدی آ جاو ، سر نے نئےسیشن کی فیکلٹی کو میٹنگ میں شرکت کرنے لیے بلایا ہے۔میں ابھی تمہیں ہی بلانے آ رہی تھی ۔”
“اچھا فاریہ میں چلتی ہوں ، اگلی کلاس میں ملاقات ہو گی ان شاء اللہ “
“جی ٹھیک ہے مہرو آپی، اللہ حافظ “
“اللہ حافظ فاریہ “
یہ کہتے ہی مہرماہ وہاں سے چلی گئی اور فاریہ نے اورہان کو فون کر کے اپنے فارغ ہونے کی اطلاع دے دی۔
دوسری جانب اورہان جو انس کے جاگنے کے انتظار میں تھا، فاریہ کی کال آنے پہ وہاں سے اٹھا اور انس کو اب سیدھا آفس میں بلوانے کا سوچ کر گھر سے باہر چلا آیا کیونکہ وہ اپنی گڑیا کو انتظار نہیں کروا سکتا تھا۔
—————-
اورہان جب فاریہ کو لینے یونیورسٹی پہنچا ،تو فاریہ چہچہاتی ہوئی گاڑی میں داخل ہوئی اور اپنی گڑیا کی خوشی کو دیکھ کر تو وہ اپنے سارے غم بھول جاتا تھا۔ اک شریر مسکراہٹ نے عنابی لبوں کا احاطہ کیا۔
“مجھے تو لگتا ہے آج میری گڑیا نے پہلی ہی کلاس میں مجرم کو پکڑ لیا ہے۔”
“بھائی میں آپ کو کیسے بتاؤں میں کتنی خوش ہوں ۔”
“گڑیا اللہ تعالٰی نے زبان جیسی جو نعمت عطا کی ہے ،آف کورس اس سے بتاو گی۔”
وہ جو مسرور سی تھی اپنے بھائی کی شرارت سمجھ نہ پائی۔
“بھائی آج میں مہرو آپی سے ملی ،اینڈ گیس واٹ بھائی وہ میری ٹیچر بھی ہیں۔ “
اس بات پہ وہ جو مسکرا رہا تھا ،مہرماہ کا نام سن کر ایک لمحے کو مسکراہٹ تھم گئی اور دل نے ایک بیٹ مس کی۔
اس سورج اور چاند جیسا حسن رکھنے والی کا نام بھی اس کے دل کی دھڑکن کو تیز کر دیا کرتا تھا۔
“بھائی چلیں جلدی، مجھے ماما بابا کو بھی یہ خبر دینی ہے۔”
وہ جو اپنے دل کی دھڑکنیں تیز کر بیٹھا تھا ۔فاریہ کے پکارنے پہ ہوش میں آیا اور ایک گہرا سانس بھر کر اگنیشن میں چابی گھمائی اور گاڑی گھر کی جانب موڑ لی۔
———————
مہرماہ میٹنگ اٹینڈ کر کے اپنے بقیہ لیکچرز لے کر اب گھر واپس آ گئئ تھی۔
داخل ہوتے ہی گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر کے گھر میں داخل ہوئی ۔پہلے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے سب کو سلام کیا اور پھر ثمرین بوا کو چائے بنانے کا بول کر اپنے کمرے میں چلی آئی ۔
چونکہ ابھی دوپہر کے کھانے میں دیر تھی اس لیے ماریہ بیگم اور مریم اپنے اپنے کمروں میں تھیں۔ وہ فریش ہونے کے بعد ماریہ بیگم کے کمرے کی جانب چلی آئی کیونکہ گھر میں آ کر اپنی ماما کو دیکھے بغیر اس کو سکون نہیں ملتا تھا۔ دروازہ نوک کر کے اندر آئی تو ان کو قرآن پاک کی تلاوت کرتے پایا۔ خاموشی سے صوفہ پہ بیٹھ کر اپنی ماما کی خوشنما آواز میں قرآن پاک کی آیات سنی۔
تلاوت قرآن پاک مکمل کر کے ماریہ بیگم نے قرآن مجید کو اونچی شیلف پہ رکھا۔
سرفراز ولا کے مکین ان لوگوں میں شامل نہیں تھے جنہوں نے قرآن پاک کو محض اونچی شیلف میں سجانے کے لیے رکھا ہوتا ہے۔
مہرماہ مسکرا کر اپنی ماما کے گلے لگ گئی ۔یہ مہرماہ سرفراز کا اپنی ماما سے ملنے کا خاص انداز تھا۔
“تھک گئی ہو گی، اتنی بار کہا ہے چھوڑ دو جاب ،پہلے اتنی مشکل کتابیں پڑھیں اور اب ان کو پڑھا کے دماغ کھپا رہی ہو۔”
ان کے الفاظ اور لہجے سے اپنی بیٹی کے سکون کی فکر عیاں ہو رہی تھی۔
“ماما ،لاء میں نے اپنے شوق کے لیے پڑھا مگر ٹیچنگ میں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ کر شروع کی۔ ماما میرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو ایک معلم تھے ۔ ہر نبی ایک معلم تھا اس لیے مجھے یہ بہت مبارک لگتا ہے ۔ ایک اچھا استاد آپ کو سنوار سکتا ہے،آپ کو اندھیروں سے نکال سکتا ہے ،آپ کی زندگی کے مختلف معاملات میں آپ کی راہنمائی کر سکتا ہے۔غرض وہ آپ کے لیے ایک سورج کی مانند ہوتا ہے جس کی روشنی سے آپ مستفید ہو سکتے ہیں ۔اور اگر میں بھی کسی کے کام آ جاؤں تو یہ میری خوش نصیبی ہو گی۔”
“تم تو لاجواب کر دیتی ہو مہرماہ ، الفاظ کے معاملے میں کوئی تم سے جیت نہیں سکتا۔”
اس پہ مہرماہ مسکرا اٹھی اور ماما کو خدا حافظ کہہ کے چائے پینے کے لیے کچن کی جانب بڑھ گئی۔
————–
