Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 25)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
گرے بنگلے میں حیدر صاحب کے کمرے میں آیا جائے تو صوفیا بیگم بیڈ پر سوئی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے پاس ہی بیڈ پر فاریہ مرجھایا چہرہ لیے بیٹھی ہوئی تھی۔ نرس نے ڈرپ سیٹ کر دی ہوئی تھی صوفیا بیگم کے بائیں ہاتھ کو تکیے کے اوپر رکھا ہوا تھا اس پر برنولا لگا ہوا تھا اور سفید مادہ قطرہ قطرہ ان کی رگوں میں سرایت کرتا ہوا ان کے سرخ خون میں حل ہو کر اپنا اثر دکھا رہا تھا۔
ڈاکٹر نے پریسکریپشن لکھ کر حیدر صاحب کو تھما دی تھی۔ نرس جو ڈاکٹر کے ہمراہ آئی تھی حیدر صاحب کی درخواست پر صوفیا بیگم کی حالت کے پیش نظر فلحال یہیں رک گئی تھی۔ حیدر صاحب ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑنے کے لیے کمرے سے باہر کی جانب بڑھے۔
“ڈاکٹر صاحب کوئی مسئلہ والی بات تو نہیں ہے؟”
چلتے چلتے انہوں نے ڈاکٹر سے استفسار کیا۔ حیدر صاحب نے ڈاکٹر کو پہلے ہی ہدایت کر دی تھی کہ فاریہ کے سامنے یہی کہیں کہ اس کی ماں بالکل ٹھیک ہے۔ وہ اس کو مزید پریشانی میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ پہلے ہی ان کی ہر وقت مسکراتی رہنے والی بیٹی کے چہرے سے ساری رونق اور تازگی ختم ہو چکی تھی۔
“نہیں زیادہ مسئلہ تو نہیں ہے۔ مگر کسی صدمے یا غم کے باعث ان کو پینک اٹیک آیا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ ان کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ ویسے کیا کوئی وجہ ہے جو ان کی ایسی حالت ہوئی؟”
ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں سوال پوچھا۔
“ہمارا جوان بیٹا فوت ہوا ہے۔ کل ہی اس کا جنازہ تھا۔”
ایک لمحہ کے لیے رکنے کے بعد انہوں نے اصل مسئلہ ڈاکٹر کے گوش گزار کیا۔
“اوہ۔۔ اللہ تعالٰی آپ کو صبر دے۔ سن کر بہت افسوس ہوا۔”
ڈاکٹر نے اپنے دکھ کا اظہار کیا۔
“بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب “
وہ انہیں گیٹ کے پاس چھوڑ کر خدا حافظ کہہ کر ابھی مڑے ہی تھے کہ گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بلیک پراڈو اندر آتی دکھائی دی جس میں نہ جانے کون موجود تھا کہ گارڈ نے سر تک ہاتھ لے جا کر اس کو سلام پیش کیا تھا۔ یقینا کوئی تعزیت کرنے ہی آیا ہو گا۔ کل سے یہی تو ہو رہا تھا ۔ وقفہ وقفہ سے کوئی نہ کوئی آ رہا تھا۔ اور بار بار اپنے بیٹے کی موت کا سن کر ہی صوفیا بیگم کی یہ حالت ہو گئی تھی۔
حیدر صاحب وہیں رک گئے تھے ۔ سیاہ پراڈو کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھلا تھا اور اس میں سے اصغر باہر نکلا اور بھاگ کر دوسری جانب کا دروازہ کھولا جس میں سے عریش سلطان پوری وجاہت اور رعب دار شخصیت کے ساتھ باہر نکلا۔ ڈارک بلو کلف شدہ سوٹ زیب تن کیے، کالی کھیڑی پہنے، سیاہ چشمہ لگائے عریش سلطان قدم قدم چلتا حیدر صاحب کی جانب بڑھ رہا تھا۔ چہرے پر افسوس کے تاثرات سجے ہوئے تھے۔ اور حیدر صاحب تو اس کو یہاں دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔
ان کے تو خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ عریش سلطان یہاں آئے گا۔ بلکہ وہ تو شاید یہ بھی بھول گئے تھے کہ ان کا بیٹا اس کے پراجیکٹ پہ کام کر چکا تھا۔
عریش سلطان نے حیدر صاحب کے پاس پہنچ کر سیاہ چشمہ کو بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے تھام کر اپنے چہرے سے جدا کیا تو اس کی کالی سیاہ آنکھیں جو چشمہ نے ڈھانپی ہوئی تھیں وہ واضح ہوئیں جن میں دکھ کا تاثر پوری آب و تاب سے جھلک رہا تھا۔ حیدر صاحب ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ مشہور شخصیات سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا مگر عریش سلطان کا یہاں آنا نہایت غیر متوقع تھا۔
عریش نے حیدر صاحب کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا تو حیدر صاحب نے بھی اس کی جانب ہاتھ بڑھا دیا اور عریش نے نہایت نرم ہاتھوں سے ان سے ہاتھ ملایا۔
“سلام انکل میں عریش سلطان، اورہان کا دوست”
عریش نے اپنا تعارف کروایا۔ اور اسے دوست کہا جسے خود موت کے گھاٹ اتارا۔
“جی بیٹا میں پہچان گیا ہوں۔”
کاش کہ وہ سچ میں اسے پہچان پاتے۔
“آئیے اندر۔”
حیدر صاحب اس کو لے کر اندر کی جانب بڑھے۔ اگر ان کو معلوم ہو جاتا کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کو خود اپنے ہی گھر لے کر جا رہے ہیں تو شاید حالات کچھ اور ہوتے ۔ مگر یہ حالات بھی کہاں انسان کی سوچ سے مطابقت رکھتے ہیں۔
وہ اسے لیے ڈرائینگ روم میں آئے اور نورین آپا سے کہہ کر اس کے لیے چائے کا بندوبست کرنے کو کہا۔
اس سے پہلے کہ عریش کچھ بولتا چند قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی اور کوئی چلتا ہوا ڈرائینگ روم کی جانب بڑھا۔ حیدر صاحب اور عریش نے بیک وقت آنے والے کی جانب نگاہ کی تو سامنے انس کو کھڑے پایا۔
انس کی گاڑی عریش کے اندر بڑھنے کے بعد گرے بنگلے میں داخل ہوئی تھی اور بلیک پراڈو دیکھ کر وہ فورا ڈرائینگ روم کی جانب ہی آیا تھا۔ انس کن اکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور یہ بات تقریبا وہاں موجود دونوں نفوس نے نوٹ کی تھی۔ انس آ کر حیدر صاحب کے برابر بیٹھ گیا تو حیدر صاحب نے اس کا تعارف کروایا۔
“یہ انس ہے اورہان کا دوست اور بالکل بھائیوں کی مانند اور ہمارا دوسرا بیٹا۔”
ہمیشہ اورہان اور اس کی فیملی کی جانب سے اسے کس عزت اور مان سے نوازا گیا تھا۔ اگر کوئی یہ کہتا کہ سگے رشتے سب سے خوبصورت ہوتے ہیں تو انس فوری اس کی نفی کر دیتا۔ اس کو اورہان کی دوستی کے رشتے نے ہر دوسرے رشتے کی محرومی سے باہر نکالا تھا۔
انس نے ایک ہاتھ سے حیدر صاحب کا ہاتھ تھام کر اس کو نرمی سے سہلایا۔ انہوں نے اسے اپنا بیٹا کہا تھا تو وہ انہیں بیٹا بن کر بھی دکھائے گا۔
عریش طائرانہ نگاہوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
“بہت اچھا لگا آپ سے مل کر مسٹر انس”
“مجھے بھی”
اپنے الفاظ کو سچا ثابت کرنے کے لیے ایک لمحہ کے لیے چہرہ پر مصنوعی مسکراہٹ سجائی۔ جس پر عریش نے بھی مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر سے سلسلہ کلام جوڑا۔ اب کی بار وہ حیدر صاحب سے مخاطب تھا۔
“انکل مجھے اورہان کی ڈیتھ کا علم ہوا۔ بہت افسوس ہوا مجھے۔ یقین کریں اورہان سے بہت اچھا اور دوستانہ تعلقات رہا ہے ۔اگر میں کل شہر سے باہر نہ ہوتا تو ضرور اس کے جنازے میں بھی شرکت کرتا۔”
وجیہہ چہرے پہ سنجیدگی اور افسوس کے تاثرات لیے وہ نہایت ادب سے تعزیت کر رہا تھا۔ اور اس کی کل شہر سے باہر والی بات پر انس کا دل کیا ایک مکہ اس کے خوبصورت چہرے پر دے مارے مگر اس نے خود پر قابو پایا۔
“بہت شکریہ بیٹا آپ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر آئے۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آپ آو گے۔ اللہ تعالٰی کی امانت تھا میرا بیٹا اس نے لے لیا۔ مجھے اپنے اللہ سے کوئی شکوہ نہیں۔”
وہ نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
“اللہ آپ کو اور آپ کی فیملی کو صبر دے۔”
ان کی زندگی سے ان کے بیٹے کو چھین کر وہ ان کو دعا دے رہا تھا۔
“آمین بیٹا”
حیدر صاحب کی آنکھوں کی نمی نے ایک پل کے لیے عریش کے ضمیر کو جھنجھوڑا تھا مگر شاید وہ یہاں اپنا پچھتاوا ختم کرنے کے لیے ہی آیا تھا۔
حیدر صاحب نے اپنی آنکھوں کی دھندلاہٹ کو ختم کرنے کے لیے اپنی آنکھوں کو رگڑا۔ اتنی دیر میں نورین آپا چائے اور دیگر لوازمات لا چکی تھی اور سرو کرنے لگی۔عریش نے چائے کا کپ لیا اور انس نے پانی کا گلاس اٹھا کر حیدر صاحب کے آگے کیا جس کو تھام کر انہوں نے پانی کو اپنے حلق میں انڈیلا۔
“آپ اورہان کو کب سے جانتے ہیں؟”
یہ سوال پوچھنے والا انس تھا۔
“جب انہوں نے میری فیکٹری والا پراجیکٹ کیا تھا۔”
دودھ اور پتی کے ملاپ سے بنی شیرینی اور کڑواہٹ سموئے چائے گھونٹ گھونٹ اس کے حلق سے نیچے جا رہی تھی۔
“اور آپ ہی کی فیکٹری میں اس کے ساتھ یہ سب ہوا۔”
“مجھے جب اس بات کا علم ہوا تو شدید افسوس ہوا۔ ایک وقت تھا جب انہوں نے خود اس پراجیکٹ کو ہینڈل کیا تھا۔ ویسے وہ رات کے اس پہر فیکٹری کس وجہ سے گیا تھا؟”
وہ انس کو ٹٹول رہا تھا ساتھ ہی چائے کا کپ واپس ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔
“یہ بات تو کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ وہ آخر وہاں کیا کرنے گیا تھا۔”
یہ بولنے والے حیدر صاحب تھے۔
“آپ کو کسی پر شک ہے کیا؟آخر کو فیکٹری تو وہ آپ نے ہی بنوائی تھی۔”
“فلحال تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن ہو سکتا ہے یہ ایک حادثہ ہو؟”
اس کی زبان بغیر لڑکھڑاہٹ جھوٹ بولتی جا رہی تھی۔
“اور اگر یہ حادثہ نہ ہوا تو؟”
انس کا انداز تفتیشی تھا اور اس کے لہجے کی کاٹ حیدر صاحب بھانپ چکے تھے۔
“مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کسی تفتیشی ٹیم کا حصہ ہیں۔”
عریش نے طنزیہ کہا۔یہ صاف صاف اس کے برا مان جانے کی نشاندہی تھی۔
“دراصل انس پولیس آفیسر ہے ۔ “
حیدر صاحب نے گویا صفائی دینے کی کوشش کی۔
“او آئی سی”
جانتے بوجھتے لاعلم ہونے کا مظاہرہ کیا۔
“تو آپ کو اس پر باقاعدہ تفتیش کرنی چاہیے۔ میں بھی آپ کا ساتھ دوں گا۔ جہاں کہیں بھی آپ کو میری مدد کی ضرورت محسوس ہوئی آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اورہان ایک بہت اچھا اور نیک دل انسان تھا اس کے لیے اتنا تو میں کر ہی سکتا ہوں۔”
انس کے سوال کا جواب دیا اور مدد کی آفر بھی کر دی۔ اس کے لہجے میں اتنی شائستگی موجود تھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہو گا اس بات پر پھر انس شک میں مبتلا ہو چکا تھا۔
“میں چلتا ہوں انکل ۔ آپ کو جب بھی میری ضرورت محسوس ہو آپ بلا جھجھک مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔”
عریش صوفہ سے اٹھ کھڑا ہوا جس پر حیدر صاحب بھی کھڑے ہو گئے تھے ۔وہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگا اور پھر انس سے ہاتھ ملایا۔ لیکن اس بار اس کے ہاتھ ملانے میں وہ نرمی نہیں تھی۔خدا حافظ کہتا وہ جس رعب دارانہ شخصیت سے آیا تھا اسی طرح واپس لوٹ گیا۔
لیکن اپنے ایک جھوٹ سے وہ انس کے شک کو مزید یقین میں تبدیل کر گیا تھا۔جس کے بارے میں عریش کو خبر بھی نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار صاحب کی طبیعت خراب ہونے کے باعث امل کافی دنوں سے یونیورسٹی نہیں گئی تھی۔ آخری بار جب مہرماہ سے اس کی بات ہوئی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ اورہان کی ضمانت کے کاغذات جمع کروا دیے ہیں۔ امل نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ اس کی میم کی زندگی سے بہت بڑی پریشانی دور ہو گئی تھی۔ مگر وہ اس بات سے لا علم تھی کہ اس کی پیاری میم کیا کھو چکی تھی۔
آج ایک ہفتہ بعد وہ یونیورسٹی آئی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ خود مہرماہ کو مل کر مبارکباد دے گی ۔ وہ اس سے مزید انسپائر ہو چکی تھی کیونکہ وہ صرف ایک قابل ٹیچر ہی نہیں بلکہ ایک قابل وکیل بھی تھی۔
براون کلر کا کرتا اور ٹراوزر پہنے سکن کلر کے دوپٹے کو اچھی طرح شانے پر پھیلائے وہ خوشی خوشی یونیورسٹی داخل ہوئی تھی۔ اس کے بابا کی طبیعت سنبھلنے کا سکون اور اتنے دنوں بعد مہرماہ سے ملنے کا سوچتے ہی اس کو خوشی نے آن گھیرا تھا۔
وہ کلاس میں داخل ہوئی اور جا کر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گئی۔ پوری کلاس میں صرف امل ہی یہ بات جانتی تھی کہ مہرماہ اب فاریہ کی بھابھی بن چکی تھی۔
لیکن کلاس میں فاریہ کو نہ دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔ اب تو ایک ہفتہ ہو چکا تھا تو فاریہ کیوں نہیں آئی۔ فاریہ تو ہمیشہ کلاس میں وقت پر موجود ہوتی تھی۔
“مجھے لگتا ہے کہ مصروف ہو گی اسی لیے نہیں آئی۔”
وہ خود سے مخاطب فاریہ کے نہ آنے کی وجہ سوچ رہی تھی۔
دروازہ ناک ہوا تو سب سٹوڈنٹس نے سر اٹھا کر اس جانب دیکھا۔ جہاں پرنسپل کے ساتھ ایک نئی ٹیچر موجود تھی۔
“یہ تو مہرماہ میم کی کلاس ہے۔ وہ آئیں نہیں کیا؟”
امل نے پاس بیٹھی کلاس فیلو سے استفسار کیا۔
“وہ تو ایک ہفتے سے نہیں آئیں۔ سنا ہے کہ لیو پر ہیں۔”
“صحیح “
دل میں یہی سوچ تھی کہ شادی کی وجہ سے نہیں آئیں ہوں گی۔
“السلام علیکم سٹوڈنٹس “
پرنسپل نے پوری کلاس کو مخاطب کیا۔
“وعلیکم السلام سر”
“کیسے ہیں آپ سب؟”
“ٹھیک”
سب سٹوڈنٹس نے اونچی آواز میں جواب دیا۔
“تو جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہ کلاس مس مہرماہ سرفراز لیتی تھی مگر قریبی وفات کے باعث انہوں نے ایک سمیسٹر کے لیے لیو لے لی ہے۔ اس لیے آپ کو یہ سمیسٹر میم روشانہ حبیب پڑھائیں گی۔”
پرنسپل نے اپنا یہاں آنے کا مقصد بیان کیا جس پر پوری کلاس میں چہ مگویاں شروع ہو گئی۔ ان کی فیورٹ میم اب انہیں نہیں پڑھائیں گی ان پر وہ پریشان ہوئے مگر وفات والی بات پر سب دکھی ہو گئے تھے۔
“سر میم مہرماہ کس کی وفات کی وجہ سے نہیں آ رہیں؟”
ایک لڑکی نے تجسس کے مارے سوال پوچھا۔
“بیٹا ان کے شوہر کی وفات ہو گئی ہے۔”
اس بات پر وہاں موجود سب لوگ سکتے میں آ گئے۔ ابھی دو ماہ پہلے ہی تو ان کی میم کا نکاح ہوا تھا۔ اور ان سب نے اسے مبارکباد دی تھی۔ امل کی سانس تو سینے میں ہی الجھ چکی تھی۔ اسے غلط فہمی ہوئی ہو گی سننے میں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
“سر آپ مہرماہ میم کے شوہر کی وفات کی بات کر رہے ہیں؟”
چند لمحہ سکتے کی حالت میں رہنے کے بعد دل کو تھام کر مہرماہ میم پر زور ڈالتے ہوئے سوال پوچھا۔
“جی جی بیٹا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔”
پرنسپل اب کلاس کو نئی ٹیچر سے متعارف کروا رہے تھے۔ مگر امل کی سماعت اسی جملے پر رک چکی تھی۔جیسے تیسے کر کے اس نے کلاس اٹینڈ کی جبکہ اس کے ذہن کا مرکز اس وقت محض مہرماہ ہی تھی۔
کلاس کا وقت ختم ہوا تو وہ بھاگی بھاگی باہر آئی اور فورا گھر کی جانب رخ کیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی جھلکنا شروع ہو چکی تھی جس کو صرف مہرماہ ہی پہچان پاتی تھی۔
گھر پہنچ کر وہ فورا اپنی پھوپھو کے کمرے کی جانب آئی۔ اس کے بابا آج ہی آفس گئے تھے اس لیے اس نے ان سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ویسے بھی فلحال اسے اپنی پھوپھو کے ساتھ ہی جانا چاہیے تھا۔
“پھوپھو، مہرو آپی۔۔”
اتنی دیر سے آنسوؤں پہ بندھا بند اب ٹوٹ چکا تھا۔
“امل میرا بچہ کیا ہوا؟”
اکھڑی ہوئی سانس اور بڑی بڑی آنکھوں سے رواں آنسو دیکھ کر اس کی پھوپھو جو بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہیں تھیں وہ فورا بیڈ سے اٹھیں۔
“پھوپھو ، مہرو آپی کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔”
“یا میرے خدا ! یہ کیا کہہ رہی ہو امل؟”
انہیں تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا ۔ مہرماہ کی تعریف سن سن کر وہ اس بچی کو بہت پسند کرنے لگی تھیں۔ اور اس کی شادی والے دن کے حادثے کے بارے میں جب امل نے انہیں بتایا تھا تو انہوں نے دل سے اس پیاری لڑکی کے لیے دعا مانگی تھی۔ مگر اب یہ بات ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ بھلے وہ بیٹی کی ماں نہیں تھیں مگر امل کو انہوں نے بیٹیوں کی طرح ہی پالا تھا اور امل کی ہی طرح وہ ہر بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کرتی تھیں۔
“پھوپھو آپ میرے ساتھ چلیں گی ناں مجھے مہرو آپی کے پاس جانا ہے۔”
وہ اپنی پھوپھو کے گلے لگی ان سے استفسار کر رہی تھی۔
“کیوں نہیں میری جان میں ضرور چلوں گی بلکہ ابھی چلتے ہیں۔”
امل فورا اپنی پھوپھو سے علیحدہ ہوئی۔
“پہلے اپنا چہرہ دھو کر آو آنسوؤں سے بھیگا پڑا ہے۔”
انہوں نے اس کی توجہ اس کے آنسوؤں سے تر چہرے کی جانب مبذول کروائی۔
“ٹھیک ہے پھوپھو میں ابھی آتی ہوں۔”
وہ جلدی سے چہرہ دھو کر واپس آئی اور اب کی بار دوپٹہ کی بجائے ایک چادر اس کے سر پر موجود تھی۔
“یہ چادر تو تمہاری ماما کی ہے ناں؟”
اس کی پھوپھو نے فورا نوٹ کر لیا تھا۔
“جی پھوپھو”
امل نے چادر کی جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
” آج تمہیں دیکھ کر بھابھی یاد آ گئیں۔ وہ اس چادر میں بہت معصوم اور پیاری دکھتی تھیں بالکل جیسے تم دکھ رہی ہو۔”
امل کی آنکھوں کے پار اس کی ماما کا پرکشش اور روشن چہرہ دکھائی دیا جس پر اس کے لبوں نے مدھم مسکراہٹ کو چھوا ۔آج اپنی ماما سے تشبیہ دیے جانے پر اسے بے حد خوشی ہوئی ۔ وہ اپنی ماما جیسا بننا چاہتی تھی مگر کبھی بن نہیں سکی تھی لیکن آج مہرماہ کی بات یاد آ جانے پر اس نے یہ چادر اوڑھی تھی اور ابھی اور اسی وقت سے اس نے چادر اوڑھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کیونکہ جب کوئی اچھا کام کرنے کا خیال دل میں آئے تو اسے فورا کر لینا چاہیے، ٹالنا نہیں چاہئیے۔
وہ اپنی پھوپھو کے ہمراہ سرفراز ولا پہنچی تھی۔ اس نے مہرماہ کی فیملی سے اپنی پھوپھو کا تعارف کروایا تھا۔ مریم اطلاع دینے کے لیے مہرماہ کے کمرے کی جانب گئی تو مہرماہ کو قرآن پاک پڑھتے ہوئے پایا۔ وہ اس کو امل اور اس کی پھوپھو کی آمد سے آگاہ کر کے واپس چلی گئی۔ مہرماہ نے رکوع مکمل کر کے بہت ادب اور محبت سے قرآن پاک کو واپس الماری میں رکھا۔ سب لاوئنج میں ہی بیٹھے تھے جب مہرماہ سیڑھیاں اترتی نظر آئی۔ سی گرین لمبی قمیض کے ساتھ میچنگ کھلا ٹراوزر پہنے چہرے کے گرد سفید چادر لپیٹے وہ بہت خوبصورت دکھ رہی تھی۔ دھلا دھلایا چہرہ جس پر رونے کے باعث سرخی آئی ہوئی تھی اس کو بہت پر کشش بنا رہی تھی۔اور مہرماہ کو دیکھ کر بے اختیار امل کھڑی ہو گئی تھی۔
مہرماہ نے سب کو سلام کیا جس پر لاوئنج میں موجود امل ، اس کی پھوپھو اور ماریہ بیگم نے بھی اس پر سلامتی بھیجی۔مہرماہ، امل کے پاس آئی اور اس کے کندھے پر تھپکی دی جس پر وہ دوبارہ صوفہ پر بیٹھ گئی۔
“بیٹا میں امل کی پھوپھو ہوں مجھے امل آپ کے بارے میں بتاتی رہتی ہے۔ آج یہ خبر سنی تو فورا چلی آئی۔ اللہ پاک آپ کو صبر دے۔”
“آمین، شکریہ آنٹی “
مہرماہ کافی کمپوزڈ تھی۔
“بیٹا میں آپ کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتی تھی۔”
اس بات پر سب نے ان کی جانب دیکھا۔
“کس بات کا شکریہ آنٹی؟”
“امل بتاتی تھی جب آپ کلاس میں اور کلاس کے علاوہ بھی اللہ سے تعلق پہ بات کیا کرتی تھی۔ میری امل میں بہت بدلاو آیا ہے۔ میں دین میں اس کی راہنمائی نہیں کر سکی مگر آپ نے ایک بہترین ٹیچر کا فرض نبھایا ہے۔”
“اللہ تعالٰی نے مجھے توفیق بخشی یہ اس کا مجھ پر کرم ہے۔اور اگر آپ کے دل میں میرے لیے عزت ہے تو وہ بھی اللہ ہی کی دین ہے۔”
ہمیشہ کی طرح پر سکون طریقہ سے جواب دیا جس پر امل کی پھوپھو متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں۔
اتنی دیر میں مریم ملازمہ کے ساتھ چائے اور دیگر لوازمات لے آئی تھی اور اب وہ ان سے اورہان اور حادثہ کی بابت تفصیلات پوچھ رہیں تھیں۔
دوپہر کی یہ چائے مہرماہ نے اورہان کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
