429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 28)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

عریش کے لیے ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس نے بہت انتظار کر لیا تھا اب اور انتظار اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ محبت بھی ایک عجیب جذبہ ہے جو کب شروع ہو جائے اور کب پروان چڑھ جائے علم ہی نہیں ہوتا۔ معلوم تو اس وقت ہوتا ہے جب چین کی ڈوری ہاتھوں سے چھوٹ جاتی ہے۔ اس وقت علم ہوتا ہے کہ محبت کرتے کرتے آج اس مقام تک آمد ہو چکی ہے کہ واپسی کی راہیں اب غائب ہو چکی ہیں اور جب واپسی کی راہ نہ ملے تو انسان انہی بھول بھولیوں میں گم ہو جاتا ہے ۔ وہ وقت انسان کے لیے کرب ناک ہوتا ہے جب اس کے ماضی میں کی گئی محبت اس کے حال پہ اثر انداز ہوتی ہوئی اس کا مستقبل بھی روند جاتی ہے۔ محبت کو کھو دینا یا اس میں صبر کرنا انسان کو بہت کٹھن محسوس ہوتا ہے۔ عریش سلطان بھی اسی دشوار وقت سے گزر رہا تھا۔ اس سے اور صبر نہیں ہو سکتا تھا۔

بالآخر اس نے ایک میسج ٹائپ کیا تھا۔ جس کا جواب اس کی امید کے عین مطابق فورا سے پہلے موصول ہوا تھا۔

عماد کو گھر آنے کا میسج کرنے اور اس کا اثبات میں جواب پڑھنے کے بعد وہ اپنے آنے والے کل کے بارے میں سوچنا شروع ہو گیا۔ اس نے اورہان کی موت کے بعد ایک ماہ سے زیادہ کے عرصے میں بہت تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس نے مہرماہ کو وقت دیا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی نہ مانتی مگر اب شاید کہ وہ مان جائے۔ ورنہ وہ عماد کے ذریعے یہ کام کروانا بخوبی جانتا تھا۔ اس لیے وہ پہلے عماد کو اپنے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔

دوپہر کے وقت جب سورج آسمان پر گول ٹکیا کی مانند پوری آب و تاب سے جگ کو روشن کر رہا تھا اس نے اپنے گھر جانے کی راہ پکڑی۔ گھر پہنچ کر وہ فریش ہوا اور گرے ٹراوزر اور بلیک ٹی شرٹ میں ملبوس اس عام سے حلیے میں بھی وجاہت سے بھرپور، رعب و دبدبہ لیے، سنجیدگی طاری کیے جو ہر وقت اس کی شخصیت کا حصہ ہوتی تھی ڈور بیل کی آواز پر کمرے سے باہر آیا۔ یقینا عماد آ چکا تھا۔

ایک ملازم نے عماد کو گیسٹ روم میں بٹھایا۔ عریش کے تعلق والے سب لوگ ہی یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ عریش کے کمرے میں آنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ کسی کو بھی نہیں۔۔۔۔

لیکن وہ اس کمرے پہ کسی اور کا حق دیکھنے کا خواہشمند تھا اور اسی وجہ سے اس نے آج عماد کو گھر بلوایا تھا۔

وہ گیسٹ روم میں داخل ہوا تو عماد اس کے گلے لگ کر ملا۔ دونوں کلاس فیلوز رہے تھے پھر عماد نے اپنے بابا کا بزنس سنبھال لیا تھا اور عریش نے باپ کی کرسی۔ دونوں میں گہری دوستی تھی مگر کوئی بھی ایک دوسرے کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا تھا۔

عریش نے عماد کو بیٹھنے کے لیے کہا اور خود اس کے مقابل صوفہ پہ براجمان ہوا تھا۔

“کوئی ضروری کام چھوڑ کر تو نہیں آئے؟”

“تمہیں کونسی خوش فہمی لاحق ہے کہ میں تم سے ملنے کے کیے اتنا بےتاب ہوں کہ اپنے کام چھوڑ کر آوں گا۔ وہ تو میں فارغ بیٹھا تھا تو سوچا تم پہ احسان کر دوں۔”

ساتھ ہی فرضی کالر جھٹکا۔

“اوہ ۔۔۔ میں پوری عمر آپ جناب کا مشکور رہوں گا۔”

“جلدی بتاو کونسی ضروری بات ہے؟”

وہ سسپینس میں تھا کہ آخر کونسی ضروری بات کے لیے اس نے ایمرجنسی میں اسے بلوایا۔

“ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے مجھے گارنٹی دو کہ انکار نہیں کرو گے۔”

“او بھائی اب ایسی بھی کونسی بات ہے؟”

وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا تو عریش بھی واپس سنجیدہ ہو چکا تھا۔

“میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔”

“ہیں ہیں۔۔۔ یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ عریش سلطان دی گریٹ سڑیل شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔”

وہ حیران ہونے کی اداکاری کر رہا تھا۔

“میں سیریس ہوں۔”

اس نے سیریس پہ زور دیتے ہوئے کہا۔

“وہ تو مجھے بھی سمجھ آ چکی ہے۔ دیر کس بات کی ہے؟”

“اقرار کی۔”

“کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ میں مریم بھابھی کی بہن مہرماہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”

عماد کا منہ یک دم کھل چکا تھا۔ اسے بہت بڑا شاک لگا تھا۔

“کیا؟”

وہ یہ کہتے ہی صوفہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“عماد مجھے مہرماہ پسند ہیں میں جانتا ہوں کہ وہ اورہان کی منکوحہ رہ چکی ہیں مگر اب اورہان اس دنیا میں نہیں ہے۔ ان کو بھی خوش رہنے کا حق ہے۔”

ایک ہی سانس میں وہ ساری بات بیان کر گیا تھا۔ گویا انکار نہ ہو جائے۔

“یہ سب اورہان کی وفات کے بعد سوچا؟”

” ہاں تمہیں کیا لگا؟”

وہ بہت سچائی سے جھوٹ بول گیا۔

“کچھ نہیں۔”

“کیا تم ان کے گھر والوں کو راضی کر لو گے؟”

“کوشش کر کے دیکھوں گا۔ گارنٹی نہیں دے سکتا کیونکہ وہ ابھی گہرے رنج میں مبتلا ہیں۔”

“میں بابا سے بات کرتا ہوں کل وہ تمہارے ساتھ مہرماہ کا رشتہ لینے جائیں گے۔”

“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔ابھی اس کے شوہر کے انتقال کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور اورہان ان کی فیملی کے لیے داماد سے زیادہ بیٹا تھا۔ وہ شروع سے فیملی فرینڈز ہیں اتنی جلدی میں یہ بات نہیں کروں گا۔”

عماد کو اس کی دماغی حالت درست محسوس نہیں ہو رہی تھی اس نے صاف صاف ابھی بات کرنے سے انکار کیا تھا۔

“عماد میں نے کبھی تم سے کوئی خواہش نہیں کی آج پہلی بار کی ہے اور تم میرے منہ پہ ہی انکار کر رہے ہو۔”

“ہاں تو منہ پہ انکار نہیں کرتا مگر تم بہت جلد بازی کر رہے ہو۔ وہ گہرے دکھ میں ہیں۔ تم نہیں جانتے ان کی پوری فیملی کتنی ڈسٹربڈ ہے۔ اورہان کی موت ان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔ میرا تمہیں مخلصانہ مشورہ ہے کہ ابھی رک جاو۔ کچھ عرصہ بعد میں خود بات کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ انکار نہیں کریں گے۔”

“نہیں رک سکتا۔ اور تم کل ہی جاو گے۔ مان جاو ناں۔”

وہ بہت مان سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا جس پر عماد نے گہرا سانس بھرتے سرفراز ولا جانے کی حامی بھر لی تھی۔

اب کل کا سورج عریش کے لیے روشنی لاتا یا گہری سیاہ رات کی مانند اس کی زندگی تاریک اور ویران کر جاتا اس کا فیصلہ اگلے روز ہی ہونا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دن ایک نئی امید اور روشنیاں لے کر آیا تھا۔ بادلوں نے سورج کی کرنوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنی شروع کی ہوئی تھی۔ کبھی زمین سورج کی روشنی سے جگمگا اٹھتی تو کبھی بادل ان کرنوں کا راستہ روک کر ماحول کو ابر آلود بنا دیتے۔ اسی آنکھ مچولی میں عریش کے گھر داخل ہوا جائے تو وہ اپنے بابا کو منانے کے بعد اب ان کو رشتہ پکا کر کے آنے اور جلد از جلد نکاح کی تاریخ لانے کا کہہ رہا تھا۔

عماد نے سرفراز صاحب کو یہ بتا دیا تھا کہ آج وہ کسی اہم مہمان کو گھر لانا چاہ رہا ہے۔ وہ اس اہم کا مطلب صحیح سے سمجھ نہیں پائے تھے۔ مگر داماد کو انکار بھی نہیں کر سکتے تھے۔

عریش کی ہی بلیک پراڈو میں اس کے بابا عماد کی گاڑی کے ساتھ ساتھ سرفراز ولا میں داخل ہوئے تھے۔ سرفراز صاحب نے سلطان بیگ کا استقبال کیا تھا جو کہ سابق ایم ان اے بھی رہ چکے تھے۔ ان کو لاوئنج میں بٹھایا گیا۔ ماریہ بیگم نے مختلف لوازمات سے ان کی مہمان نوازی کی تھی۔ سرفراز صاحب اور سلطان صاحب کے درمیان بزنس اور سیاست پہ گفتگو جاری تھی۔ عماد بھی باتوں میں ان کا ساتھ دے رہا تھا۔

ان کو باتوں میں مشغول چھوڑ کر سیڑھیوں سے اوپر کی جانب بنے مہرماہ کے کمرے میں آیا جائے تو وہ اس وقت کسی سے فون پہ بات کر رہی تھی۔

“مہرماہ آپی ۔۔ کیا آپ سچ میں میری بات پہ یقین کریں گی ؟”

“امل بتاو کیا کہنا چاہ رہی ہو۔”

مہرماہ الجھن کا شکار ہو رہی تھی۔

” میں آپ سے مل کر یہ بات کرنا چاہتی تھی مگر میں آپ کا سامنا کیسے کروں۔”

“پہیلیاں نہیں ڈالو۔ مجھے کھل کر بتاو کیا بات ہے۔”

“اورہان بھائی کے ساتھ جو حادثہ ہوا وہ حادثہ نہیں تھا مگر سوجی سمجھی سازش کے تحت انہیں فیکٹری بلوا کر فیکٹری میں آگ لگوائی گئی تھی۔ تاکہ۔۔۔”

اس سے پہلے کہ وہ مزید بولتی اپنے سامنے فہد کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا۔ جبکہ فون کی دوسری جانب موجود مہرماہ کو اپنی سماعت پہ شک ہونے لگا تھا۔ وہ مسلسل امل کو پکار رہی تھی وہ جاننا چاہتی تھی کہ کون اس سب میں شامل تھا مگر فون کی دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

واپس لاوئنج پہ نگاہ دوڑائی جائے تو عریش سلطان کے والد سلطان صاحب نے کام کی بات کی جانب توجہ مبذول کرنے کے لیے گلا کھنکھارا۔

“سرفراز صاحب میں ایک خاص مقصد کے تحت آج یہاں حاضر ہوا ہوں۔آپ میرے بیٹے کو تو جانتے ہی ہیں ایک بہت نیک دل ، رحم دل، لوگوں کا درد رکھنے والا، ایک شریف انسان ہے۔”

گویا وہ ساری خوبیاں گنوا دیں جو اس میں قطعا موجود نہیں تھی۔

“جی جی عریش کو ہم جانتے ہیں۔”

سرفراز صاحب نے بات کا جواب دیا تھا۔

“میں اپنے بیٹے عریش کے لیے آپ کی بیٹی مہرماہ کا رشتہ لینے آیا ہوں۔ مجھے امید ہے آپ انکار نہیں کریں گے۔”

سرفراز صاحب کا دھیان بالکل بھی اس جانب نہیں گیا تھا۔

“کیا آپ جانتے ہیں ۔۔”

کچھ لمحوں بعد سرفراز صاحب نے ان کو سارے حالات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا مگر وہ ان کی بات کاٹ کر بول پڑے۔

“جی میں سب جانتا ہوں کہ مہرماہ بیوہ ہو چکی ہے۔ مجھے اور میرے بیٹے کو اس پہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔”

“لیکن ابھی اورہان کی ڈیتھ کو چند ہفتے ہی ہوئے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ یہ مناسب ہے۔”

“دیکھیں سرفراز صاحب ابھی صرف نکاح ہی ہوا تھا اور مجھے نہیں لگتا کہ دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی خاص لگاو رہا ہو گا۔ اس لیے سوگ کا ایک سے زائد ماہ کا وقت کافی ہے۔”

سرفراز صاحب ابھی چپ ہی تھے جب انہیں مہرماہ سیاہ برقع میں ملبوس سیڑھیاں اترتی دکھائی دی۔ سلطان صاحب نے ان کی نگاہوں کا پیچھا کیا تو مہرماہ کو پہلی بار دیکھا اور دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ ہی ان کے بیٹے کی چوائس ہو سکتی ہے۔

“یہ مہرماہ ہے؟”

انہوں نے سرفراز صاحب سے کنفرم کرنا چاہا جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

“بیٹا کہیں جا رہی ہو؟”

اس کو برقع پہنے دیکھ سرفراز صاحب نے استفسار کیا تھا۔

“جی بابا”

“السلام علیکم عماد بھائی، السلام علیکم انکل۔”

اس نے اپنے دل کے حالات پہ قابو پاتے، آنسوؤں کو آنکھوں میں دھکیلتے ان کو سلام کیا تھا۔ اس کا لہجہ نمی لیے ہوئے تھا۔

“وعلیکم السلام بیٹا۔ ہمارے ساتھ بیٹھو ۔”

انہوں نے اسے بیٹھنے کا کہا تھا تاکہ وہ خود اس سے بات کر سکیں۔

“انکل میں ضرور بیٹھتی مگر ابھی میرا جانا ضروری ہے۔”

وہ مزید رکنا نہیں چاہتی تھی۔

“مجھے پہچانا آپ نے؟”

“سوری انکل مگر مجھے یاد نہیں آ رہا ۔”

“یاد آئے گا بھی کیسے ہم پہلے کبھی نہیں ملے۔ میں عریش سلطان کا والد ہوں سلطان بیگ۔”

انہوں نے گویا اپنا تعارف کروایا تھا۔

“بہت اچھا لگا آپ سے مل کر انکل۔ اب مجھے چلنا چاہیے۔”

وہ مضطرب اور بےچین تھی۔ امل سے ملنے والی خبر نے اس کا سکون اور قرار سب چھین لیا تھا۔ بظاہر تو وہ پرسکون دکھائی دے رہی تھی مگر اس کے اندر طوفان برپا تھا۔

“آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی بیٹا ۔ تھوڑی دیر رک جاو۔”

مہرماہ نے ایک نظر اپنے بابا کی جانب دیکھا جنھوں نے سر کے اشارے سے اسے بیٹھنے کے لیے کہا تھا جس پر وہ سامنے والے صوفہ پہ براجمان ہو گئی تھی۔ سلطان صاحب کو مہرماہ اپنی بہو کے روپ میں بہت پسند آئی تھی۔ ان کی بیوی کی وفات کے بعد ان کا گھر ویران ہو چکا تھا۔ وہ جلد از جلد اپنے گھر میں رونق چاہتے تھے۔ مہرماہ کے روپ میں انہیں ایک بیٹی مل جانی تھی۔ وہ خود بھی دیری کے متحمل نہیں تھے۔

“بیٹا میری بات تحمل سے سننا اور سوچ سمجھ کر جواب دینا۔”

“خیریت تو ہے انکل؟”

وہ پریشان ہو گئی تھی۔

“جی جی سب خیریت ہے۔ میں آپ کو اپنی بہو بنانا چاہتا ہوں۔ میرے عریش کی دلہن۔”

یہ بات مہرماہ کے لیے حد درجہ شاکنگ تھی۔ چند لمحے ہوا کے جھونکے کی مانند سرکے تھے بات سمجھ میں آ جانے اور اس کی یقین دہانی ہو جانے کے بعد مہرماہ نے ایک زخمی نگاہ اپنے بابا کی جانب اٹھائی تھی وہ جان چکی تھی کہ یہ بات جو ابھی اس سے کی گئی ہے اس کا علم اس کے بابا کو تھا۔ سرفراز صاحب نے اس کی آنکھوں میں ٹوٹی کرچیوں کو بخوبی دیکھا تھا۔ اور نگاہیں نیچے کر لیں تھی۔

” میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں انکل مگر میں عریش تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کر سکتی۔ میں نے آج یہ بات کہی ہے اور آگے بھی یہی کہوں گی ۔”

“لیکن کوئی تو وجہ ہو گی؟”

“مجھے وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔”

“لیکن تمہارے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔”

“یہ بات آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میرے شوہر کے انتقال کے چند ہفتوں بعد آپ اس کی منکوحہ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آ رہے ہیں ۔ اورہان اس دنیا میں ہو یا اس دنیا میں ” ساتھ ہی انگلی سے اوپر کی جانب اشارہ کیا۔”مہرماہ صرف اورہان کی ہی رہے گی۔”

یہ کہتے ہی وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر وہاں سے واک آوٹ کر گئی تھی۔ پیچھے سرفراز صاحب نے سلطان بیگ سے معذرت کی تھی۔ عماد نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا۔ وہ بھی مجبور تھا پہلی بار دوست نے کچھ مانگا تھا۔

مہرماہ تیز تیز قدموں سے گاڑی کے پاس آئی تھی۔ اس نے اندر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور اسے سرفراز ولا سے باہر نکال کر سرمئی سڑک پہ ڈال دیا تھا۔ گاڑی کی سپیڈ تیز تھی اور اس کی آنکھیں آنسوؤں کے بوجھ سے بھاری ہو رہی تھی۔ ایک بار آنکھیں جھپکتی تو بھوری آنکھوں سے نمکین پانی آنسوؤں کی صورت رواں ہو جاتا۔ اس نے زندگی میں کبھی اتنی رش ڈرائیونگ نہیں کی تھی مگر آج اس کا دل اتنا بھر چکا تھا کہ اسے اپنا دل باہر نکلتا محسوس ہو رہا تھا۔ بالآخر وہ اپنی مطلوبہ جگہ پہ پہنچ چکی تھی۔ گاڑی سے باہر نکل کر وہ قدم قدم چلتی ایک مقام پہ آ کر رک چکی تھی۔

یہاں آ کر اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اس کے قریب ہی موجود ہو مگر وہ جانتی تھی کہ جو مٹی میں مٹی ہو جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے۔ یہ بات اس کا دل بند کر رہی تھی۔ قبر کے سامنے موجود وہ لڑکی آج شدید غم میں تھی یہ خبر کہ اس کا قتل ہوا تھا اور ٹھیک اسی وقت اس کے لیے عریش کا رشتہ آنا یہ سب اس کے لیے برداشت کرنا زندگی کا سب سے مشکل ترین کام محسوس ہو رہا تھا۔

آس پاس کوئی موجود نہ تھا ۔ سنسان قبرستان میں بنی اس قبر کے پاس کھڑی مہرماہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی قبر کی مٹی کو ہاتھوں میں لیے اپنی سسکیوں کا گلہ گھونٹ رہی تھی۔

“اورہان پلیز واپس آ جائیں۔ آپ کی مہرماہ کو ضرورت ہے آپ کی۔ دیکھیں رو رہی ہوں میں۔ میری دھڑکن تھم رہی ہے۔ مجھے سانس نہیں آ رہا۔ میں اذیت میں ہوں۔ آپ کا قتل نہیں ہو سکتا۔۔۔ نہیں، نہیں بالکل بھی نہیں۔ آپ نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ یا اللہ! میں مر جاوں گی۔ مجھ سے اب یہ سب برداشت نہیں ہو رہا۔”

بے ربط جملے بولتی وہ سسک رہی تھی اس کا ایک ہاتھ اس کے دل کے مقام پر تھا جس کی دھڑکنوں کی رفتار مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں رونے کے باعث سوج چکی تھی۔ چہرہ سفید سے گلابی پڑ چکا تھا۔

“اللہ!” وہ اپنے رب کو پکار رہی تھی جس نے کبھی اس پہ اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا تھا۔ اور پھر اسی لمحے اس کا وجود منجمند ہوا تھا۔

“مہرماہ “

یہ آواز۔۔۔ یوں اس کا نام بولنے والا۔

سیاہ برقع میں موجود زمین پہ جھکے اس وجود کی سانسیں یک دم رکی تھیں۔اس نے اپنی آنسوؤں سے بھری بھوری آنکھوں سے قبر کو دیکھا تھا۔

“مہرماہ “

ایک بار پھر یہ آواز رس گھولتی ہوئی اس کے کان کے پردوں کے پار ہوئی تھی۔ اس بار اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار ماند پڑنے کی بجائے تیز ہوئی تھی۔ وہ ایک ہاتھ زمین پر رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ یہ آواز اسے اپنے بالکل پیچھے سے سنائی دے رہی تھی۔ اس میں پیچھے مڑنے کی ہمت نہیں تھی وہ جانتی تھی کہ یہ اس کا وہم ہے اور وہ پوری عمر اس وہم میں گزارنے پہ راضی تھی۔ وہ اس کی آواز کے سہارے اپنی پوری زندگی اس کے نام کر دینے پہ بھی خوش تھی۔

“مہرماہ “

ایک بار پھر اس چاند اور سورج کی مانند خوبصورت اور روشن چہرے والی کے نام کو اس کی خوبصورتی عطا کر دی گئی تھی۔ وہ امید کے ٹوٹنے سے ڈرتی آنکھیں موندتے آہستگی سے پیچھے کی جانب مڑی تھی۔ اپنے چہرے پہ کسی کی سانسوں کی تپش محسوس کرتے ،کسی کی سانسوں کی آواز اسے اپنے کانوں میں جاتی سنائی دی تھی۔ اس نے ایک گہرا سانس بھرتے ہوئے اپنی آنکھوں کی کھڑکیاں کھولیں تو سامنے موجود منظر نے ان آنکھوں کو نور عطا کر دیا تھا۔

وہ اس کے سامنے موجود تھا۔ وہ جس کی قبر پہ آنسو بہا رہی تھی وہ زندہ ، صحیح سلامت آنکھوں میں محبت سموئے اس کو یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ مہرماہ تو گویا پتھر کی ہو چکی تھی۔ اورہان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور اس کے آنسوؤں کو اپنی انگلی کی پور پہ چنتے ہوئے بہت کرب سے اس کو دیکھا تھا جسے اپنے چہرے پہ اس کا لمس محسوس کرتے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے دہکتی ہوئی آگ سے نجات دے کر راحت کا احساس دلایا تھا۔ بے یقینی کی کیفیت میں گھری مہرماہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تھا جیسے اس کو محسوس کرنا چاہتی ہو۔ جیسے یقین کرنا چاہتی ہو کہ مرے ہوئے لوگ بھی واپس آ جاتے ہیں۔ جیسے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے منظر پر یقین نہ آ رہا ہو۔

اس کی اس معصوم حرکت پہ وہ دل و جان سے مسکرایا تھا ہاں وہی جس کی مسکراہٹ پہ مہرماہ اپنا دل ہار بیٹھتی تھی۔ اس کی زبان ہلنے سے انکاری تھی تو اورہان نے بھی خاموشی کا دامن تھام رکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ شاک کی کیفیت میں ہے۔ مگر اچانک اس کی آنکھوں نے پھر سے اپنا اختیار کھو دیا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے کھڑی رو رہی تھی وہ دونوں جانتے تھے کہ یہ بے یقینی ،شکرگزاری اور شدید خوشی کے آنسو ہیں۔ اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا تھا۔

اورہان نے بہت نرمی سے ہلکا سا اپنی جانب کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔ اس کا کندھا ملتے ہی اس نے اپنا سر اس کے کندھے پہ ٹکا دیا تھا جو اس کا محرم تھا۔ اس کے آنسو اورہان کی سیاہ ہڈی میں جذب ہو رہے تھے۔ جس پہ اورہان نے شدت تکلیف سے آنکھیں میچیں تھیں۔ نیچے کی جانب لٹکے ہوئے ہاتھ کی مٹھیاں زور سے بھینچیں ہوئی تھی جس کے باعث اس کے ہاتھ کی رگیں صاف دکھائی دینا شروع ہو چکی تھیں۔ چند لمحے وہ اس کے ساتھ لگی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ پھر آہستگی سے اس کے کندھے سے سر اٹھا کر نمی سے بھرپور سرخ ہوتی آنکھوں کی پلکوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے اس کو دیکھا۔

ہلکی بڑھی شیو،بھورے گھنگھریالے بالوں کو ماتھے پہ بکھیرے ، ایک بازو اس کے گرد پھیلائے، ہیزل آنکھوں سے اس کا چہرہ تکتے اس وقت وہ مہرماہ کو اتنا پیارا لگ رہا تھا کہ وہ پوری عمر اس کو ایسے ہی دیکھتے گزار دیتی۔ اورہان کو تو جنت اپنے ساتھ کھڑی محسوس ہو رہی تھی۔

اورہان نے چہرہ جھکاتے ہوئے اس کی پیشانی پہ بوسہ دیا تھا۔ وہ جو اس کو نہایت پیار سے دیکھ رہی تھی اس کا لمس پاتے ہی پر سکون سی آنکھیں موند گئی۔ اورہان کا بس چلتا تو وہ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی آنے نہ دیتا مگر وہ مجبور تھا۔

بعض دفعہ ہمیں اپنوں کو مصائب اور دکھوں کے دلدل سے نکالنے کے لیے اپنا دل بڑا کرنا پڑتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ تڑپیں گے مگر ہمیشہ کی تکلیف سے بچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اورہان نے بھی اپنوں کو پریشانیوں ، سازشوں اور دکھوں کے دلدل سے نکالنا تھا جس کے لیے ان سے دور رہنا ضروری تھا۔مگر اب ۔۔۔۔ اب وہ ایک لمحہ بھی ان سے دور نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ ان کے ہر کرب سے آگاہ تھا۔ وہ تڑپا تھا اپنوں کی یہ حالت دیکھ کر۔ اس نے صبر کے گھونٹ پیے رکھے مگر راز کو اپنے سینے میں دفن کیے رکھا۔ اب سارے راز کھلنے کا وقت تھا ۔

راز ۔۔۔ جو وقت سے پہلے کھول دیے جائیں تو راز نہیں رہتے۔ راز۔۔۔ جو وقت پہ کھولے جائیں تو شے مات دے جاتے ہیں۔

اور وہ شے مات کا وقت اب شروع ہو چکا تھا۔ گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کے ساتھ اب یہ وقت اورہان کے ساتھ تھا اور سب گنہگاروں کو سزا کے لیے تیار کیا جانا تھا۔ آخر کب تک کوئی گناہ کر کے بچتا رہے گا ایک نہ ایک دن اس کے سارے گناہ آشکار ہو جاتے ہیں اور پھر اسے منہ چھپانے کو بھی جگہ نہیں ملتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امل کے کمرے میں داخل ہوا جائے تو وہ جو فہد کو دیکھ کر ڈری سہمی کھڑی تھی ایک دم فہد اس کی جانب بڑھا اور ایک زوردار طمانچہ اس معصوم کے منہ پر دے مارا تھا۔ تھپڑ کی شدت کے باعث وہ اپنا توازن کھو بیٹھی اور زمین پر گری تھی۔ تھپڑ اتنی زور سے مارا گیا تھا کہ اس کے گال سرخ ہو چکے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے خون رس رہا ہو۔ وہ جان چکی تھی کہ اب خاموش رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی فہد نیچے جھکتا مزید آگے بڑھنے ہی لگا تھا جب کوئی آیا تھا اور ایک جست میں اس تک پہنچ کر اسے گریبان سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا تھا۔ آنے والے وجود پہ جب امل کی نگاہ ٹھہری تو وہ بھاگ کر ان کے سینے جا لگی۔

“بابا ۔۔۔ یہ قاتل ہیں، بابا ۔۔۔ انہوں نے اورہان بھائی کا قتل کیا ہے۔ بابا ۔۔۔ میں نے خود انہیں اپنے کانوں سے فون پہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔”

وہ اپنے بابا کے ساتھ لگی رو رو کر انہیں حقیقت بتا رہی تھی۔ شہریار صاحب کن اکھیوں سے فہد کو دیکھ رہے تھے۔ فہد نے تھوک نگلا پھر اپنی صفائی میں بولنا شروع کیا۔

“ماموں جان یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اسے یقینا غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو دوست سے مذاق کر رہا تھا اور یہ مجھے قاتل سمجھ بیٹھی۔ میں اسے یہی سمجھا رہا تھا۔”

“تم اسے سمجھا رہے تھے؟ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بیٹی کو ہاتھ لگانے کی۔ پھولوں کی طرح پلنے والی میری بیٹی کو تم نے تھپڑ دے مارا۔ تم اسے ڈرا رہے تھے۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ اس کا کوئی نہیں ہے۔ تمہیں کیا لگا کہ کبھی تمہاری اصلیت میرے سامنے نہیں آئے گی۔”

شہریار صاحب جو کمرے کے باہر سے گزر رہے تھے دروازہ کھلا دیکھ کر اس جانب متوجہ ہوئے تھے ۔ان کی آنکھوں نے جو منظر دیکھا تھا وہ ان کا دل دہلا گیا تھا۔ ان کی بیٹی پہ اس نے ہاتھ کیسے اٹھایا۔ وہ ایک جست میں اس تک پہنچے تھے۔ اور اسے امل سے پرے دھکیلا تھا۔

امل اب بھی اپنے بابا کے ساتھ لگی کھڑی تھی مگر اب وہ فہد کی جانب دیکھ رہی تھی۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں پانی سے لبریز تھی۔ چہرہ قندھاری ہو رہا تھا۔ بالوں سے چادر سرک کر کندھے پہ ڈھلکی ہوئی تھی۔ اور خوبصورت بال چہرے کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ بال آنسوؤں کے باعث چہرے پہ چپکے ہوئے تھے۔ وہ ڈری سہمی بالکل چھوٹے بچے کی مانند اپنے بابا سے لپٹی ہوئی تھی۔

اپنے تحمل مزاج بھائی کی اتنی بلند آواز سن کر امل کی پھوپھو بھی یہاں آئیں تھی اور امل کو باپ سے لپٹا دیکھ اور فہد کو مجرموں کی طرح سر جھکائے دیکھ ان کے دل نے کسی انہونی کی خبر دی تھی۔ وہ تیزی سے امل کے پاس پہنچی تھی ۔

“امل میرا بچہ کیا ہوا آپ کو۔ شہریار کیا ہو رہا ہے۔ فہد نے کچھ کیا ہے؟”

انہیں اپنے بیٹے کو مجرموں کی طرح دیکھ کر اس پہ شک ہو رہا تھا۔

“پھوپھو آپ مانیں گی ناں میری بات؟”

اس نے اپنی پھوپھو کا ہاتھ تھامتے ہوئے ان سے پوچھا تھا۔

“میری جان بولو کیا ہوا ہے۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔ یہ دونوں تو کچھ نہیں بتا رہے۔”

“پھوپھو انہوں نے اورہان بھائی کا قتل کیا ہے۔ اپنے باس کے کہنے پہ انہوں نے اورہان بھائی کو مار دیا۔ آپ سمجھ رہی ہیں ناں میں کیا کہہ رہی ہوں۔”

پھوپھو کے چہرے پہ موجود بے یقینی دیکھ کر اس نے اپنی بات کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بات جو وہ کہہ رہی ہے کوئی اس پہ یقین نہیں کرے گا۔ اور ایسا ہی ہوا تھا اس کے بابا نے فہد کو صرف اس پہ ہاتھ اٹھانے کی وجہ سے ڈانٹا تھا۔ لیکن انہوں نے بھی اس کی بات پہ یقین نہیں کیا تھا۔

“میں کیسے سمجھاوں۔ آپ کو لگ رہا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں۔”

“امل تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔”

فہد نے بہت پیار سے اس کو مخاطب کر کے اپنی صفائی پیش کی تھی۔

” قاتل ہیں آپ ، قاتل۔ میں سب کو بتاوں گی آپ کی اصلیت۔ آپ نے مجھے ہراس کیا۔ میں نے آپ کو بھائی سمجھا تھا مگر آپ نے مجھے بہن نہیں سمجھا۔”

وہ چیختی ہوئی اپنی بات کہہ رہی تھی۔ ہراس والی بات پہ شہریار صاحب نے جھٹکے سے اسے کی جانب دیکھا تھا۔

“اس نے تمہیں ہراس کیا؟”

“ہاں بابا انہوں نے مجھے کہا کہ میں انہیں بھائی نہ بلایا کروں۔ یہ مجھے بلاوجہ چھوتے تھے۔ اور مجھے دھمکی بھی دیتے تھے۔”

وہ آج ساری بات اپنے بابا کو بتا رہی تھی۔

“ماموں اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ نہ جانے کس کے کہنے پہ یہ سب کر رہی ہے۔ ضرور کوئی عاشق ہو گا جس کے چکروں میں یہ سب بکواس کر رہی ہے۔۔۔۔”

اس کے مزید ایک لفظ بھی بولنے سے قبل ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ آ کر لگا تھا۔ اس نے تھپڑ مارنے والے پہ نگاہ ڈالی تو اپنی ماں کو غیض و غضب میں اپنی جانب دیکھتے پایا۔ غصے سے بھرپور، آنکھوں میں افسوس لیے وہ شرمندگی سے اس کو دیکھ رہی تھی۔

“ایک لفظ بھی اور بولا تو تماری زبان کھینچ لوں گی۔ میں نے تربیت کی ہے امل کی۔ تم نے آج امل پہ نہیں اپنی ماں پہ انگلی اٹھائی ہے۔ دفع ہو جاو اس سے پہلے کہ مجھے تمہارے وجود سے گھن آئے۔”

چہرے پہ ہاتھ رکھے وہ بے یقینی سے اپنی ماں کی جانب دیکھ رہا تھا۔

باہر سائرن کی آواز سنائی دی تھی۔ پولیس گھر کے اندر داخل ہوئی اور ملازمین کے روکنے پر بھی وہ اس کمرے میں داخل ہو چکی تھی۔ شہریار صاحب حیرت سے پولیس کو دیکھ رہے تھے۔ وہ شریف اور عزت دار تھے ان کے گھر میں پولیس کی آمد ان کی عزت پہ حرف آنے کے برابر تھی۔

“فہد الیاس کون ہے؟”

“میں ہوں فہد”

اس نے گھبرا کر کہا۔

“عریش سلطان کے ساتھ مل کر معصوم جانوں کو قتل کرنے ، ولید نعمان کی بلڈنگ گروا کر اورہان حیدر عظیم پہ الزام لگوانے اور اس کے اقدام قتل کے جرم میں تمہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔”

یہ خبر وہاں موجود سبھی لوگوں پر قہر کی طرح نازل ہوئی تھی۔ سوائے ایک وجود کے جس نے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ جس نے مجرم کو اس کے انجام تک پہنچایا تھا اور اس کی عزت رکھ لی تھی۔

“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ میرا بیٹا قاتل نہیں ہو سکتا۔”

فہد کی ماں نے پولیس والوں سے استفسار کیا یا شاید انہیں صفائی دی تھی۔

“ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں۔ ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے۔”

“کس نے کٹوائی ایف آئی آر؟”

شہریار صاحب نے ان سے پوچھا تھا۔

“اورہان حیدر عظیم نے”

اور اب شاک لگنے کی باری سب کی تھی۔

“وہ۔۔۔وہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ تو مر چکا ہے۔”

“کس نے کہا آپ سے کہ وہ مر چکا ہے۔”

“ایسا نہیں ہو سکتا؟”

“کیا نہیں ہو سکتا؟”

شہریار صاحب نے اس سے پوچھا تھا۔

“میں نے خود اسے آگ میں جلایا تھا وہ زندہ کیسے بچ سکتا ہے۔”

وہ خود اپنے منہ سے اقرار کر رہا تھا۔ آج تک کبھی اس کا وار خالی نہیں گیا تھا۔اسے اپنی ہار قبول نہیں تھی۔ آج تک ہمیشہ ہر غلط کام کو چھپانے والے سے آج اپنے راز کھلتے برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ یہ راز آشکار ہوتے امل کی کہی ہر بات کو سچا ثابت کر رہے تھے۔

پولیس آگے بڑھی تھی اور ہتھکڑی لگاتے اس کو لیے چلی گئی تھی۔ پیچھے دونوں وجود ساکت و جامد کھڑے تھے۔ امل نے افسوس سے دونوں کو دیکھا تھا۔ شہریار صاحب اور پھوپھو نے اس کی نگاہوں میں مان ٹوٹتا ہوا محسوس کیا تھا۔ وہ سر پر چادر اوڑھتی خاموشی سے کمرے سے نکل گئی تھی۔ وقت نے اس کی سچائی کی گواہی دے دی تھی۔ اسے اب اپنے رب کے حضور شکر ادا کرنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاکلیٹ اور ٹورٹیلا براون کمرے میں موجود عریش سلطان ، مہرماہ کی تصویر ہاتھ میں تھامے محویت سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ صرف دو کرسیوں کے فاصلے پر موجود وہ لڑکی کب اس کے دل کی دنیا فتح کر گئی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا۔اپنی پسند کو حاصل کرنے والا اپنی محبت سے کیسے دستبردار ہو سکتا تھا۔ بس کچھ دن اور پھر وہ اس کے پاس موجود ہو گی۔ یہ سوچ آتے ہی وہ کھل کر مسکرایا تھا۔

حقیقت کی دنیا سے پرے وہ خوابوں کی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ ہر چیز سے لاعلم وہ صرف مہرماہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اس نے اپنی محبت کی خاطر جنگ لڑ لی تھی اب اس کا نتیجہ آنا تھا مگر جو نتیجہ اب آنا تھا وہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔

ایک ملازم دوڑتا ہوا اس کے کمرے میں آیا اور بغیر ناک کیے ہی اندر داخل ہوا تھا۔ عریش خیالوں کی دنیا سے باہر آیا تھا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی؟ گیٹ آوٹ”

اس نے غصے میں ملازم کو جھڑکا تھا۔

“سر باہر پولیس اور میڈیا آیا ہوا ہے۔”

ہانپتا ہوا وہ اس کو اطلاع دے رہا تھا جو یہ بات سنتے ہی کھڑا ہوا تھا۔ تصویر کو الٹا کر کے رکھنے کے بعد اس نے اپنے روم کی بالکونی سے باہر دیکھا تھا جہاں پولیس اور میڈیا کے نمائندے کھڑے نظر آ رہے تھے۔ وہ اپنے موبائل کی جانب متوجہ ہوا اور ایس پی کا نمبر ڈائل کیا تھا۔

“یہ پولیس کی نفری یہاں کیا کر رہی ہے؟ اور میڈیا کیوں آیا ہے؟”

ایس پی جو اچانک آرڈرز ملنے پر اپنی نفری کے ساتھ یہاں آیا تھا اور چاہنے کے باوجود بھی اس کو اطلاع نہیں دے سکا تھا اب شرمندہ سا تھا۔ مگر وہ خود کو ہر قیمت پہ بچانا چاہتا تھا۔ ایس ایس پی کی گھوری پہ اس نے فورا فون بند کر دیا تھا۔ اور بالکونی پہ موجود عریش سلطان کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس نے غصے سے فون زمین پہ دے مارا تھا۔

“ٹی وی آن کرو فورا۔”

چنگھارتے ہوئے ملازم کو حکم سنایا جس پر وہ بھاگتا ہوا ٹی وی لاوئنج میں آیا اور ٹی وی آن کیا تھا۔ نیوز چینل پہ موجود خبر اس کے پیروں تلے زمین نکال گئی تھی۔ اس کے سارے جرائم ثبوتوں کے ہمراہ پیش کیے جا رہے تھے۔

ولید نعمان کی بلڈنگ میں ناقص میٹیریل استعمال کروانا ، دھاندلی کے ذریعے ایم ان اے کی کرسی پر آنا، ولید نعمان پہ الزام لگوا کر اس کی ریپوٹیشن خراب کروانا، ولید نعمان کے ہسپتال والے پراجیکٹ کا انفراسٹرکچر گروانا، دو معصوم جانوں کے ضیاع کا الزام اورہان پر لگانا، ان کے لواحقین کو دھمکی دے کر خاموش کروانا،اپنی فیکٹری میں اورہان کو بلوا کر اس کو آگ لگوانا، انس پر گولی چلوانا۔

ایک ایک کر کے اس کے سارے جرائم پوری دنیا کے سامنے آ چکے تھے۔ اس کے سارے راز فاش ہو چکے تھے۔ وہ اوندھے منہ زمین پہ گرا تھا۔ اس کی ساری ریپوٹیشن خاک ہو چکی تھی۔ اس کا کیرئیر تباہ ہو چکا تھا۔ لیکن اس وقت اسے اگر کسی چیز کی پرواہ تھی تو وہ تھی مہرماہ۔ اس سب کو جاننے کے بعد مہرماہ کبھی اس کو قبول نہیں کرے گی۔ اس نے غصے میں پاس پڑا ایمپورٹڈ واس ٹی وی پر دے مارا تھا۔ جس کی سکرین کانچ کے ٹکڑوں کی صورت کرچی کرچی زمین پہ گری تھیں۔

اس کا دماغ ماوف ہو رہا تھا۔ پولیس والے اس کے گھر کے اندر داخل ہو رہے تھے ان کے پیچھے پورا میڈیا اس کے گھر امڈ آیا تھا۔ اسے ہتھکڑی پہنائی جا رہی تھی۔ ہتھکڑی پہنا کر اس کو باہر لایا جا رہا تھا۔ کیمروں کی فلیش لائٹس اس کی آنکھوں کو چندھیا رہی تھی۔ اسے سب سلو موشن میں چلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔اتنے سارے کیسز سے بری ہونا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ سکن رنگ کے سوٹ میں ملبوس عریش سلطان کو اس کے گھر سے باہر لایا جا رہا تھا۔ پولیس کے پیچھے کرنے پر بھی میڈیا والے سوالات کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔

“آپ نے ولید نعمان کو کرسی سے اتارنے کے لیے اتنے اوچھے ہتھکنڈے کیوں استعمال کیے؟”

“سر آپ تو کہتے تھے کہ آپ ایمانداری سے اپنے فرائض نبھاتے ہیں آپ نے تو ولید نعمان کا دوسرا پراجیکٹ بھی خراب کروایا۔”

“آپ کی عظیم کنسٹرکشن کے مالک اورہان حیدر عظیم سے کیا دشمنی تھی؟”

“آپ نے ایک معصوم پولیس والے پہ گولیاں کیوں چلوائی؟”

ڈھیروں سوالات تھے لیکن وہ خاموش تھا۔ اس نے زندگی میں کبھی اتنی ذلت برداشت نہیں کی تھی۔ زندگی بھر لوگوں کو خود سے کمتر سمجھنے والا اس وقت بے بس تھا۔ وہ رعب و دبدبہ والا عریش سلطان آج مجرم بنا دنیا کے لیے تماشا بن چکا تھا۔

ابھی وہ گھر کے گیٹ پر ہی پہنچا تھا جب اسے مہرماہ کی کار رکتی دکھائی دی تھی۔ اس کی نگاہ سب سے پہلے مہرماہ پہ گئی تھی لیکن وہ ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر موجود تھی۔ اس نے نگاہوں کا رخ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص کی طرف موڑا تو اسے لگا وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ ہکا بکا اس کو دیکھ رہا تھا۔ وہ وجود گاڑی کا دروازہ کھولتا باہر نکلا تھا۔ فاتحانہ چال چلتا وہ اس کی طرف آ رہا تھا جو اپنی جگہ منجمند ہو چکا تھا۔ سیاہ جینز پہ سیاہ ہڈی پہنے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے وہ اس کے پاس، بہت پاس آ کر رکا تھا۔ میڈیا کے کیمروں کا رخ اس کی جانب مڑا تھا جو آج اپنے نام کی لاج رکھتا ایک عظیم قائد کی مانند اس کے مقابل کھڑا تھا۔

اورہان نے اپنا چہرہ اس کے کان کے پاس کیا تھا اور ایک سرگوشی کی تھی۔

“آئی ایم رئیلی ناٹ سوری مسٹرعریش لیکن یہ واجب تھا۔”

تھوڑی رد و بدل کے ساتھ اسی کے الفاظ اس کو واپس لوٹائے گئے تھے۔ عریش نے ایک نگاہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر موجود مہرماہ پر ڈالی تھی جو نہایت افسوس سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں میں ترس نہیں طیش موجود تھا۔

پولیس نے آگے بڑھ کر عریش کو پولیس وین میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ پولیس وین میں بیٹھا تھا اس کی نگاہیں اورہان پہ جمی تھی جو گاڑی میں جا کر بیٹھتا دکھائی دیا تھا اس کی نگاہ ایک ایک منظر کو دیکھ رہی تھی۔اورہان نے مہرماہ کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تھا۔ جس پر ایک خوبصورت مسکان نے مہرماہ کے لبوں کو چھوا تھا۔ اس کا سوگوار حسن پل بھر میں چمک اٹھا تھا۔ وہ چند لمحوں میں حسین ترین ہو گئی تھی۔

عریش کی نگاہوں میں ہار واضح دکھائی دے رہی تھی۔ آج پہلی بار اس کی آنکھیں دھندلا رہی تھی وہ کبھی نہیں رویا تھا کیونکہ اس کے باپ نے اسے یہی سکھایا تھا کہ مرد رویا نہیں کرتے مگر آج وہ جوان مرد اپنی محبت کھو کر رویا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ اورہان کو راستے سے ہٹا دے گا تو مہرماہ اس کی ہو جائے گی مگر وہ غلط تھا۔

وہ آج بھی اس کی ہی تھی جس کو پانے کے لیے اس نے قتل کرنا بھی جائز سمجھا تھا۔ آج وہ اپنا کیرئیر ہی نہیں اپنی محبت بھی ہار بیٹھا تھا۔ وہ یہ جان ہی نہیں سکا تھا کہ جب نکاح کے پاک رشتے میں بندھے دو وجود محبت کی منازل طے کرتے ہیں تو کسی تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ وہ صرف ایک تیسرا وجود تھا جس کی مہرماہ کی زندگی میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔