429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 6)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

اورہان نے جب عریش کو دیکھا تو حیران ہوا ۔آج کل وہ جس پراجیکٹ پہ کام کر رہا تھا وہ عریش کا ہی تھا جو اسے حکومت کی طرف سے ملا تھا ۔ ایک ایسی فیکٹری جہاں عام لوگوں کو کام مل سکے وہ چاہتا تو پراجیکٹ کے پیسے کھا کر آرام کرتا مگر وہ ایسے لوگوں میں شامل نہیں تھا جو اپنے فرائض سے لاپرواہی برتیں۔

“مسٹر عریش سلطان “

اس نے پلٹ کر دیکھا تو اورہان کھڑا تھا۔

“او واو واٹ آ سرپرائزمسٹر اورہان آپ یہاں، مجھے تو لگتا ہے آج کا میرا دن سرپرائزز سے بھر پور ہے۔”

اس بات پہ وہ دونوں مسکرا اٹھے۔ وہ دونوں خوبصورتی اور رعب میں ایسے تھے کہ ان میں سے کون زیادہ خوبصورت اور رعب دار ہے یہ فیصلہ نہایت کٹھن ثابت ہوتا۔

“پراجیکٹ کہاں تک پہنچا ؟ میں مصروفیات کی وجہ سے پوچھ نہیں سکا۔”

“کام جاری ہے جیسا آپ نے کہا ہے ویسا ہی بنے گا ، آپ فکر مند نہ ہوں ۔ شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔”

“آپ پہ یقین کر کے ہی یہ پراجیکٹ آپ کو دیا ہے کیونکہ یہ میری ریپوٹیشن کا سوال ہے۔”

“شکریہ، اور آپ یہاں کیسے؟”

وہ حقیقتا جاننا چاہتا تھا۔

“عماد میرا دوست ہے اس کے ہی اصرار پر آیا ہوں ورنہ مجھے تو یہ شادی کے فنکشنز سے بہت الرجی ہے۔ بائے دا وے آپ یہاں کیسے؟”

“دلہن کے والد اور میرے والد بہت پرانے دوست ہیں۔”

“او آئی سی ، چلو کسی دن کنسٹرکشن سائٹ کا وزٹ کروں گا۔”

“شیور ، پھر ملاقات ہو گی۔”

حیدر صاحب کی آواز پر وہ ان کے پاس چلا گیا اور پیچھے وہ اس سفید رنگ کے جوڑے میں ملبوس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا اور یہ پہلی بار تھا کہ عریش سلطان کسی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اتنی دیر میں وہاں سے مہرماہ کا گزر ہوا تو وہ فورا اس کو روک بیٹھا۔

“ایکسکیوز می محترمہ “

وہ جو سرفراز صاحب کو بلانے کے لیے یہاں پر آئی تھی مڑ کر اسے دیکھا۔اس کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا تھا غالبا وہ اس کو ٹی وی پر دیکھ چکی تھی۔

“جی؟”

“میں عماد کا دوست ہوں عریش سلطان ،آپ عماد کو بلا دیں گی؟”

عماد کا اس وقت برائیڈل روم میں مریم کے ساتھ فوٹو شوٹ ہو رہا تھا ۔ اس لیے اس نے مہرماہ کے ذریعے اس کو بلانا مناسب سمجھا ویسے بھی وہ اس لڑکی سے بات کرنا چاہتا تھا۔

“اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ ایم ان اے عریش سلطان ہیں۔”

وہ اس کو پہچان چکی تھی۔

“مائی پلیئر کہ آپ کو میرا علم ہے۔”

اس کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ آ گئی ۔

“آف کورس آپ اس قابل ہیں کہ آپ کو یاد رکھا جائے ورنہ سیاست دانوں سے مجھے تو سخت الجھن ہے مگر چونکہ آپ ایک عزت دار اور دیانت دار سیاست دان ہیں اس لیے آپ کو میں کیسے بھلا سکتی ہوں آپ نے عوام کے لیے بہت اچھے اور نیک کام کیے ہیں اور میرا خیال ہے آگے بھی کریں گے۔”

وہ پروفیشنل انداز میں گفتگو کر رہی تھی۔

“جی ضرور ویسے آپ وکیل ہیں غالبا۔”

ہنسی روک کر اپنا اندازہ پیش کیا۔ جو کہ بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔

“مجھے حیرت نہیں ہوئی سیاست دان کافی شاطر ہوتے ہیں۔”

“مگر ہر سیاست دان شاطر ہو یہ بھی تو ضروری نہیں ہوتا۔”

وہ جان بوجھ کر بات کو طول دے رہا تھا۔

“اس کے بر عکس اگر آپ مجھے یہ کہتے کہ ہر سیاست دان برا ہو یہ ضروری نہیں ہوتا تو میں مان بھی جاتی مگر یہ بات میں مان نہیں سکتی۔”

“ہینڈز اپ، ویسے وکیل سے بھی باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔”

“ہاں یہ تو آپ نے بالکل درست فرمایا۔”

اتنی دیر میں عماد کی والدہ وہاں آئیں۔

“مہرماہ ،مریم تمہیں بلا رہی ہے میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں ۔ ارے عریش بیٹا آپ کی کہاں جانے کی تیاری ہے؟”

“جی آنٹی بس میں ابھی جا رہی ہوں۔”

وہ فورا وہاں سے چلی گئی۔

“آنٹی میں عماد کو خدا حافظ کہنے کے لیے انتظار کر رہا ہوں ۔ مجھے ایک سیاسی کمپین پر جانا ہے۔”

“بیٹا بہت شکریہ آپ کا آنے کے لیے ، عماد کو میں بتا دوں گی آپ خیریت سے جاو۔”

ان کے لیے اتنا ہی بہت تھا کہ وہ ان کے لیے وقت نکال کر آیا ہے وہ اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔

“شکریہ آنٹی اب میں چلتا ہوں۔”

وہ اپنی گاڑی کی جانب آ رہا تھا پیچھے اس کے گارڈ چلے آ رہے تھے اس کی سوچوں میں اب ایک ہی نام تھا۔ دھیرے سے لبوں کو جنبش دی اور اس نام کو اپنی زبان سے ادا کیا۔

وہیں زویا جو کافی دیر سے اورہان کو دیکھ رہی تھی اب اسے اکیلا دیکھ اس کے پاس چلی ائی۔ وہ ایک ماڈرن اور کھلے ماحول کی لڑکی تھی جسے لڑکوں سے بات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

“ہائے مسٹر ؟۔۔۔”

یہ صاف صاف نام جاننے کی کوشش تھی جس میں وہ کامیاب بھی رہی۔

“اورہان۔۔۔ اورہان حیدر عظیم “

“واو آپ کا نام تو بالکل آپ کی پرسنیلٹی جیسا ہے۔ ویسے میں ہوں زویا ابراہیم “

ساتھ ہی اس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔

وہ چڑ چکا تھا کیونکہ اسے لڑکیوں کی یہ بے باکی سخت ناپسند تھی۔

“آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا؟”

“اب تو سارے کام تمہاری طرف ہی نکلتے ہیں۔۔۔” منہ میں بڑبڑائی کیونکہ اس کو کہنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔

“محترمہ آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟”

دوبارہ پوچھا گیا اور ساتھ ساتھ وہ اب اردگرد بھی دیکھ رہا تھا کیونکہ کسی انجان لڑکی کے ساتھ کھڑے ہو کر بات کرنا اس کو اور اس لڑکی کو مشکوک کر سکتا تھا۔

“جی وہ آپ مجھے اپنا نمبر دے سکتے ہیں؟”

گڑبڑا کر جواب دیا اور اورہان کو اس لڑکی کی ذہنی کیفیت پہ شک ہوا۔

“واٹ۔۔”

وہ انتہائی طیش اور افسوس سے بولا۔

“نہیں کچھ نہیں وہ میں چلتی ہوں۔”

وہ تیز تیز قدموں سے وہاں سے چلی گئی اور اورہان کا سارا موڈ خراب کر گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی تقریبات کے بعد آج وہ یونیورسٹی آئی تھی اور یونیورسٹی میں آج ایک تقریب کی تیاریاں جاری تھیں۔ معلوم کرنے پر پتا چلا آج موٹیویشنل سیشن ہونا ہے جس پہ ایک مشہور موٹیویشنل سپیکر کو مدعو کیا گیا ہے اور ایک سیاسی شخصیت کو بھی چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا ہے۔ مگر عین وقت پہ موٹیویشنل سپیکر نے کسی قریبی رشتہ دار کی ڈیتھ کی وجہ سے آنے سے انکار کر دیا اور اب سب کی نگاہیں مہرماہ پر تھیں کیونکہ وہ اپنے کالج میں بھی ایک اچھی موٹیویشنل سپیکر رہ چکی تھی۔ اور لوگ اس کی بات پسند بھی کرتے تھے۔

آج سالوں بعد وہ دوبارہ سٹیج پہ کھڑی موٹیویشنل لیکچر دینے لگی تھی ۔ کانفیڈنس کی کمی اس میں پہلے بھی نہیں تھی اور اب تو وہ باقاعدہ ٹیچر تھی۔ گہرا سرمئی عبایا پہنے جس کے کف پہ سفید موتی جڑے تھے،سفید حجاب اوڑھے وہ اب بولنا شروع ہو چکی تھی۔

“دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو سیلف – موٹیویٹڈ ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جنھیں باقاعدہ موٹیویشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب محرکات کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ انسان کبھی کوئی بھی چیز مسلسل نہیں کر پاتا ، کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی چیز کو کرنے کا جنون چڑھتا ہے تو دو چار دن بہت لگن سے وہ کام کرتے بھی ہیں مگر پھر جلد ہی ان کا سارا جنون اتر بھی جاتا ہے اب ایک مثال کے ذریعے اپنی بات سمجھاو گی ایک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ایک ماں جس کے پاس چھوٹا سا بچہ موجود ہے وہ مر جاتی ہے آپ کا گزر وہاں سے ہوا آپ نے اس روتے بلکتے بچے کو اٹھا لیا، معلوم کرنے پر بھی آپ کو اس کے گھر والوں کا پتا نہیں چل سکا آپ کو اس بچے پہ رحم آ گیا آپ اس کو اپنے گھر لے آئے، اس کی کفالت کی ذمہ داری آپ نے اپنے سر لے لی۔ پھر کیا ہو گا؟ لوگ آپ سے اس بچے کے متعلق استفسار کریں گے کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ تمہارے پاس کیا کر رہا ہے؟ کہیں یہ تمہارا بیٹا تو نہیں؟ یا پھر یہ کسی کی ناجائز اولاد تو نہیں؟ آپ پہلے جوش میں اس کو لے تو آتے ہیں مگر پھر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ شاید آپ نے غلط کر دیا، یہ آپ کا جذباتی فیصلہ تھا اور آپ کو پچھتاوا آن گھیرتا ہے۔ یہی لوگ جو مختلف باتیں بنا رہے اگر یہ آپ کے اس قدم پہ آپ کی حوصلہ افزائی کرتے تو یقینا آپ بھی اچھا محسوس کرتے اور اس طرح آپ بھی نیکی کر لیتے اور اس بچے کا بھی بھلا ہو جاتا۔ جبکہ سیلف موٹیویشن وہ قوت ہے جو ہمیں آگے بڑھنے پر مجبور کرتی رہتی ہے – یہ حاصل کرنے، پیدا کرنے، ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے ہماری داخلی مہم ہے۔ جب آپ سوچتے ہیں کہ آپ کسی چیز کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، یا آپ صرف یہ نہیں جانتے کہ کیسے شروع کیا جائے، تو آپ کی خود کی حوصلہ افزائی ہی آپ کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔”

چیف گیسٹ آ چکے تھے اور اب سب سے مل کر اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گئے۔ اس کی نظریں سٹیج پر کھڑی لڑکی پہ گئی تو اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولی کہ کہیں یہ اس کا وہم تو نہیں مگر یہ اس کا وہم نہیں تھا وہ سچ میں وہاں موجود تھی۔

” ماہر نفسیات نے محرک کے مختلف نظریات تجویز کیے ہیں، جن میں ڈرائیو تھیوری، انسٹنٹ تھیوری، اور ہیومنسٹ تھیوری (جیسے مسلو کی ضروریات کی درجہ بندی) شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی مختلف قوتیں ہیں جو ہمارے محرکات کی رہنمائی کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ بول رہی تھی اور وہ یک ٹک اسے دیکھی جا رہا تھا وہ سفید رنگ کے حجاب میں، بولتے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی اس کی تو نگاہیں ہی ہٹ نہیں رہی تھیں۔ اتنی دیر میں مہرماہ کی نظر بھی اس پر گئی اور وہ اس کو پہچان بھی چکی تھی وہ مشہور ایم این اے اور عماد بھائی کا دوست تھا۔

اس کو اپنی جانب دیکھتا پا کر عریش مسکرایا تو اس نے فورا نگاہیں پھیر لیں غالبا وہ بھی اس کو پہچان چکا تھا۔

اس نے لیکچر ختم کیا تو سارا آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا ۔ وہ شکریہ کہہ کر نیچے آئی۔ اور اس سے دو کرسیاں چھوڑ کر بیٹھ گئی ۔ کچھ سٹوڈنٹس نے ٹیبلوز پیش کیے اور کچھ نے ملی نغمے پڑھے۔ سب سٹوڈنٹس میں انعامات تقسیم کئے گئے اور اس کو بھی شیلڈ سے نوازا گیا۔ شیلڈ وصول کرنے جب وہ سٹیج پہ گئی تو عریش جو چیف گیسٹ کی حیثیت سے انعامات دے رہا تھا مسکرا کر اس کی طرف شیلڈ بڑھائی۔

“ویل ڈن مس مہرماہ “

“تھینک یو سر”

تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ اب اس کا رخ پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف تھا جب ہجوم میں سے نکل کر وہ اس کے پاس آیا۔ پیچھے سیکیورٹی گارڈز سب کو ہینڈل کر رہے تھے۔

“مس مہرماہ “

وہ جو گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی اس کو وہاں پا کر حیران ہوئی۔

“آپ یہاں؟”

“جی ،ویسے وکیل اتنے اچھے موٹیویشنل سپیکر بھی ہوتے ہیں آج معلوم ہوا۔ آپ تو مجرم کو بھی اچھے کاموں پر لگا سکتی ہیں۔”

“اب آپ مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔”

“ویسے کیا مجھے آپ کا نمبر مل سکتا ہے الیکشن کمپین میں مجھے آپ کی بہت ضرورت پڑے گی۔”

“آپ مجھ پر طنز کر رہے ہیں؟”

“میری یہ مجال محترمہ، آپ ایک وکیل ہیں اور اچھا بول بھی لیتی ہیں بس اسی لیے اور اگر آپ کو میرا نمبر مانگنا اچھا نہیں لگا تو میں معذرت خواہ ہوں۔”

وہ جو کسی سے معذرت نہیں کرتا تھا نہ جانے کیسے اس لڑکی کے برا مان جانے پر معافی مانگ گیا۔

“اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ میرا نمبر نوٹ کیجئے اور ہاں میری فیس بہت بھاری ہو گی۔”

اس کی معذرت کا اثر زائل کرنے کے لیے آخر میں مسکرا کر اپنی فیس کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

“آپ کی فیس کم ہونی بھی نہیں چاہیے محترمہ۔”

نمبر نوٹ کرنے کے بعد خدا حافظ کہہ دونوں اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سعد کے امتحانات ہو رہے تھے اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ وقت پر گھر آ جایا کرے تاکہ اگر سعد کو کسی چیز میں مسئلہ آ رہا ہے تو وہ اس کی مدد کر دے۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کا سامنا ماہ رخ سے ہوا دو سال بعد اسے دیکھ کر وہ خوش ہوا تھا وہ اس کی اچھی کزن اور دوست تھی پورے خاندان میں اسے صرف اس لڑکی اور اس کی ماں سے ہی لگاو تھا جو کہ اس کی خالہ تھی ۔ ماں کی بہنیں واقعی بہت اچھی ہوتی ہیں اور وہ تحمینہ خالہ کی صورت میں دیکھ چکا تھا۔

“ہے کزن ، کیسے ہو بھئی اب تو بڑے عہدے پہ پہنچ گئے ہو اب ہم غریب کہاں تمہیں یاد آئیں گے۔”

وہ بیچاری شکل سے شرارتا بول رہی تھی۔

“ہاں کہہ تو بالکل ٹھیک رہی ہو ویسے آپ کو پہچانا نہیں میں نے؟”

“انس مجتبٰی تم میرے ساتھ یہ سب کیسے کر سکتےہو؟”

وہ ڈرامائی انداز میں بول رہی تھی۔ ماہ رخ اس کی ہم عمر تھی اور شروع سے ہی دونوں میں اچھی دوستی تھی مگر کیا کہتے ہیں ناں دوستی میں کسی ایک کو محبت بھی ہو جاتی ہے اور ماہ رخ اسی محبت کا شکار ہو چکی تھی۔

“اچھا اب زیادہ ڈرامے نہیں کرو، خالہ بھی آئیں ہو گی مجھے ان سے بھی ملنا ہے۔”

وہ اندر خالہ کے پاس آیا جو اپنے بھانجے کو پولیس وردی میں ملبوس دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی خالہ ماہ رخ کو لے کر خالو کے پاس دبئی شفٹ ہو گئیں تھی۔ اسی لیے انس کے پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد آج جا کر وہ ان سے ملنے آئی تھیں ۔

“میرا انس کتنا بڑا ہو گیا ہے ، اب ملک کی خدمت کرے گا ،اللہ تجھے سلامت رکھے بچے، تیری خالہ کی دعائیں ہمیشہ تیرے ساتھ ہیں۔”

وہ اس کے سر پہ پیار دیتے ہوئے کہہ رہیں تھی۔

“جانتا ہوں خالہ کہ آپ ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔”

اس کی ماں اپنے بیٹے کی خالہ سے محبت دیکھ کر بہت خوش تھی ۔ خاندان میں کوئی ایک رشتہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو ہمیشہ آپ کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اور انس کے لیے وہ رشتہ اس کی خالہ تھی ۔ اورہان کے بعد اس کی خالہ ہی تھی جنھوں نے ہمیشہ اس کی ہمت بندھائی تھی اور خالہ کی بیٹی بھی اپنی ماں کی طرح ہمیشہ ان کے ساتھ مخلص رہی تھی ۔

“خالہ ، خالو نہیں آئے پاکستان؟”

اب وہ اسے کیا بتاتی کہ ان کو اس کے گھر آنا پسند نہیں تھا ہمیشہ کے لڑائی جھگڑوں سے وہ اکتا چکے تھے کیونکہ ان کی موجودگی میں بھی گھر میں کوئی نہ کوئی بات ہو ہی جاتی تھی۔

“بیٹا وہ اپنے بھائی کی طرف گئے ہیں، اس کے بعد ان کو ضروری کام کے لیے بھی جانا تھا اس لیے ہم پہلے ہی ادھر آ گئے ورنہ ضرور ان کے ساتھ ہی آتے۔”

“جی ٹھیک ہے خالہ آپ بیٹھیں میں فریش ہو کر آتا ہوں اور سعد کو بھی دیکھ لوں اس کے امتحانات ہیں۔”

ہر ذمہ داری کو نبھاتے دیکھ ان کے دل میں پھر سے وہی خواہش جاگی مگر وہ اس پر عمل نہیں کر سکتی تھی۔ بعض اوقات انسان چاہ کر بھی اپنی خواہشات پوری نہیں کر پاتا اور ان کا بھی یہی حال تھا۔

وہ واپس آیا تو اپنی امی اور خالہ کو کسی کے رشتے کے متعلق باتیں کرتے پایا۔ ماہ رخ بھی وہیں موجود تھی ۔

“ارے بھئی کس کے رشتے کے بارے میں بات ہو رہی ہے؟”

خوشگوار موڈ میں استفسار کیا۔ ساتھ ہی پیسٹری اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے۔

“وہ تمہارے خالو ماہ رخ کی شادی اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ بس اسی بارے میں بات کر رہی تھی ۔”

یہ بات سن کر پیسٹری کی طرف جاتے انس کے ہاتھ تھم گئے تھے۔ وہ جو اس کی ہر حرکت نوٹ کر رہی تھی اس بات پہ دل میں ایک امید سی جاگی۔

“کیا سچ میں خالہ آپ اس کی شادی کروا رہی ہیں؟”

وہ شاکڈ تھا اسی لیے پوچھ بیٹھا۔

“ہاں بچے اس بار اس کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ لڑکیوں کی شادی ویسے بھی جلدی کر دی جاتی ہے۔ اس کی عمر بھی بڑھتی جا رہی ہے۔”

وہ خاموش ہو چکا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح فجر کے وقت کے پرنور ماحول میں لان میں مہرماہ پودوں کو پانی دے رہی تھی ۔ ہیزل آنکھوں کو سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں کے پار ایک منظر لہرایا۔

“ہانی تمہارے نزدیک محبت کیا ہے۔؟”

“محبت ایک بہت خوبصورت جذبہ ہے مہرو، مجازی محبت کی بات کی جائے تواس میں آپ اپنے محبوب کو دیکھنے کی چاہ کرتے ہیں اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی خواہش کرتے ہیں ، اس کے خواب بنتے ہیں ، اس کی آنکھوں میں اپنے لیے انوکھے رنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ محبت الہام کی طرح ہوتی ہے یہ دلوں پہ اترتی ہے آپ کے چاہنے نہ چاہنے سے فرق نہیں پڑتا، بعض اوقات آپ کو کسی ایسے انسان سے محبت ہو جاتی ہے جس سے محبت کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں پاتے ۔”

“ہمیں کیسے کسی کی آنکھوں کو دیکھ کر اس کے دل کا حال محسوس ہو گا؟”

وہ کھوئی کھوئی اس سے پوچھ بیٹھی۔

“یہ بھی ایک مخصوص کیفیت ہوتی ہے جس میں آپ مقابل کی آنکھوں کو دیکھ کر اس کے دل کا حال جان جاتے ہیں اس کے لیے آپ کو محبت کا علم ہونا ضروری ہوتا ہے مگر بعض اوقات آپ کا اندازہ غلط بھی ہو جاتا ہے ،مثلا آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو آپ کو یہ محسوس ہو جیسے وہ بھی آپ کو پسند کرتا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہ ہو، تو یہ کیفیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ آپ تصور کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ انسان بھی آپ کو ہی پسند کرے گا آپ اس کی نگاہوں کا مفہوم غلط سمجھ جاتے ہیں۔”

“اور اگر ہم کسی کی نگاہوں کا مفہوم غلط سمجھ جائیں تو کیا کرنا چاہیے؟”

“وہی جو ایک عزت دار اور باوقار انسان کو کرنا چاہیے ہمیں اس کے انکار کو قبول کر کے اس کی زندگی سے نکل جانا چاہیے ۔ اور کبھی اس سے بدلہ لینے کا نہیں سوچنا کیونکہ اس میں نہ اس کی غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی آپ کی۔ اس لیے اس کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔”

“ہانی جانتی ہو جب کبھی مجھے کسی کو دیکھ کر محسوس ہو گا کہ یہ وہی ہے جسے عالم ارواح میں اللہ پاک نے میرا ساتھی لکھ دیا تھا تو میں فورا اس کو بتا دوں گی۔”

“وہ کیوں؟”

“کیونکہ اگر وہ کسی اور سے محبت کر بیٹھا تو میں بہت پچھتاوں گی۔ اس لیے دیر نہیں کروں گی۔”

وہ صاف صاف اپنے ارادے سے آگاہ کر گئی۔

“مہرو جو قسمت میں ہوتا ہے وہ مل ہی جاتا ہے کوئی آپ سے اس کو چھین نہیں سکتا ۔ ہاں لیکن دل کی تسلی کے لیے ایک بار مقابل کو اپنی کیفیت سے آگاہ کر دینے میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ آپ کا ارادہ اور نیت صاف ہو اور ہاں اگر وہ انکار کر دے تو پیچھے ہٹ جانا لیکن اگر مثبت جواب دے تب بھی اس سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھنا اس کو کہنا کہ اگر وہ سیریس ہے تو رشتہ بھیجے۔ اس کی محبت میں اللہ پاک کی محبت کو پیچھے مت ڈالنا۔ محبت بری چیز نہیں ہے اگر اسے حدود میں رہ کر کیا جائے ۔”

منظر تو غائب ہو چکا تھا مگر وہ اب اس سوچ میں تھی کہ کیا اورہان واقعی اس سے محبت کرتا ہے۔ کہیں وہ اس کی نگاہوں کا غلط مفہوم تو نہیں سمجھ گئی۔

اور کیا اسے اورہان سے بات کرنی چاہیے کیونکہ کچھ چیزیں کہنا تو بہت آسان لگتی ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو انسان کو اس سے مشکل کچھ نہیں لگتا۔

______________