429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 7)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

انس کو ایک کیس کے متعلق اورہان سے بات کرنا تھی وہ اس کیس کو لے کر خاصا پریشان تھا چونکہ اورہان خاص تفتیشی ذہن رکھنے والا تھا، لوگوں کی پرکھ کرنا اس کو بخوبی آتا تھا۔ سی ایس ایس کا امتحان دیتے وقت بھی اس نے اورہان سے کہا تھا کہ میری بجائے تمہیں اس فیلڈ میں جانا چاہئے مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا بس عمارتیں بنانے کا شوق سر پر سوار تھا تو کسی دوسری چیز کے بارے میں سوچنا ترک کر دیا ۔ وہ اپنا سو فیصد اسی کام میں دینا چاہتا تھا مگر وہ دوسرے کاموں میں بھی بہت اچھا تھا۔

“اورہان تم سے ایک ضروری بات ڈسکس کرنی ہے؟”

“کس بارے میں،سب خیریت تو ہے ناں؟”

وہ متفکر ہوا تھا۔

“مل کر بتاوں گا ۔”

” اچھا چل گھر ہی آ جا۔ ابھی میں آفس نہیں گیا۔”

“ٹھیک ہے میں ابھی نکلتا ہوں۔”

یہ کہتے اس نے فون رکھ دیا شاید اورہان اس مسئلے کا حل نکال سکے کیونکہ یہ مسئلہ اس کی سوچ سے باہر تھا۔

وہ اورہان کے گھر داخل ہوا ۔ گیراج میں گاڑی پارک کرتے ہوئے اس کی نظر ایک گاڑی پر گئی جس سے اسے یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں۔ اس نے داخلی دروازہ عبور کیا تو اس کی سماعت میں ایک ایسی آواز پڑی جس سے اس کا دل مٹھی میں آ گیا۔ دل کو مضبوط کر کے وہ اندر داخل ہوا ۔ سب نے اس کو خوشامدید کہا اور اورہان نے مہمانوں سے معذرت کی کیونکہ اس کے لیے اس کا دوست اور اس کی پریشانی زیادہ اہم تھی۔

وہ دونوں اورہان کے کمرے کی جانب آ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیس کے بارے میں ڈسکشن کر کے وہ گھر روانہ ہو گیا ۔ گھر پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ خالہ اور ماہ رخ اپنے گھر چلے گئے ہیں انہوں نے اپنا پاکستان والا گھر بیچا نہیں تھا۔

وہیں اورہان آفس روانہ ہوا کیونکہ عریش کے پراجیکٹ میں وہ کوئی کمی نہیں چاہتا تھا وہ ایک اچھا سیاست دان تھا وہ اس کی اور اپنی ساخت خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

مہرماہ نے آج یونیورسٹی سے چھٹی لی تھی کیونکہ آج مریم نے آنا تھا وہ اپنی آپی کو بہت یاد کرتی رہی تھی اس لیے یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی۔مریم گھر آ چکی تھی اور اس کے ساتھ ہی عماد بھائی بھی آئے تھے وہ ان سے گپ شپ کرتی رہی پھر مریم کے ساتھ اس کے کمرے میں چلی آئی کیونکہ سرفراز صاحب اپنے داماد سے بزنس کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔

“آپی مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے۔”

وہ مریم کا ہاتھ تھامے کہہ رہی تھی۔

“میری جان میں نے بھی بہت یاد کیا تم سب کو۔ سسرال جتنا بھی اچھا ہو میکے والی بات نہیں ہوتی۔ مہرو بہت سی لڑکیاں وہ ہوتی ہیں جن کو میکہ اچھا ملتا ہے مگر سسرال کے معاملے میں وہ مار کھا جاتی ہیں اور بہت سی ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو سسرال زیادہ اچھا ملتا ہے مگر ابھی تک میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی ہوں کہ مجھے زیادہ اچھا میکہ ملا ہے یا سسرال یا پھر شاید مجھے دونوں ہی بہت اچھے ملے ہیں۔”

وہ الجھی ہوئی لگ رہی تھی۔لیکن خود کو خوش قسمت بھی سمجھ رہی تھی۔

“آپی ہم لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم میکے اور سسرال کا مقابلہ کرنے لگ جاتی ہیں ۔ دونوں کی اپنی جگہ ہوتی ہے اور دونوں کو مختلف طرح سے ہینڈل کرنا ہوتا ہے ۔ جب آپ میکے میں ہوتی ہیں تو نا سمجھ ہوتی ہیں آپ میں ذمہ داری کی کمی ہوتی ہے مگر سسرال جانے سے پہلے آپ کو میچور اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔ بہت لوگ چاہے لڑکے ہو یا لڑکیاں وہ بہت لا ابالی ہوتے ہیں ان کو معاملات کو ہینڈل کرنا نہیں آتا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کوئی لڑکا غیر ذمہ دار ہو تو کہتے ہیں اس کی شادی کروا دو خود ہی ذمہ دار ہو جائے گا مطلب یار آپ کسی کی بہن ،بیٹی کی زندگی کیوں داو پر لگا رہے ہو۔ اور لڑکیوں کو تو باقاعدہ شادی سے ڈرایا جاتا ہے مثلا وہ کوئی کام صحیح سے نہیں کر پا رہی تو یہ کہہ دینا کہ تم سسرال جا کر مجھے بے عزت کرواو گی یا پھر یہ کہہ دینا کہ سسرال والوں نے کوئی تمہارے نخرے نہیں اٹھانے۔”

“پر مہرو ہر ایک کو تو شادی سے نہیں ڈرایا جاتا؟”

“آپی جن کو ڈرایا نہیں جاتا ان کو ضرورت سے زیادہ خواب دکھا دیے جاتے ہیں ، ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی شہزادہ آئے گا وہ آپ کے سارے مسائل حل کر دے گا وہ اپنے ہمسفر کو لے کر بہت اونچے خواب دیکھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور پھر خواب پورے نہ ہونے کی صورت میں جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی رشتہ پرفیکٹ نہیں ہوتا مگر پھر وہ اس میں پرفیکشن تلاش کرتے ہیں۔ اور پرفیکشن نہیں ملنے کی صورت وہی سب کچھ ہوتا ہے جو تقریبا ہر گھر میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ کیونکہ ہم ضرورت سے زیادہ امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ اسی لیے رشتوں میں پرفیکشن نہیں ڈھونڈنی چاہیئے کیونکہ کوئی بھی دنیاوی رشتہ پرفیکٹ نہیں ہوتا ۔”

“مگر لڑکیوں کی عمر زیادہ ہو جائے تب بھی ان کو اچھے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔”

” یہ سچ ہے آپی کہ عمر زیادہ ہو جائے تو لڑکیوں کو اچھے رشتے نہیں ملتے ۔ کچھ لڑکیوں کی تو کسی مسئلے کے پیش نظر شادی لیٹ ہوتی ہے جبکہ آج کل کی بہت ساری لڑکیاں اپنے کیریئر کو لے کر اتنا ٹچی ہو جاتی ہیں کہ ان کو شادی ہی نہیں کرنی ہوتی ، وہ جب خودمختار ہوتی ہیں تو ان کو مرد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اور یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ مرد اور عورت کے رشتے میں مرد کو محافظ بنایا گیا ہے مگر چند ایک کام خود کر لینے کی وجہ سے وہ خود کو اس پاکیزہ اور محفوظ رشتے سے محروم کر لیتی ہیں۔”

“کہاں سے لاتی ہو ایسی باتیں مہرو ۔ پہلے تو اتنی سمجھ دار نہیں تھی تم؟”

وہ اپنی چھوٹی بہن سے اتنی سنجیدگی اور حقائق پہ مبنی باتیں سن کر حیران ہو رہی تھی۔

“اب ایسا بھی کوئی فلسفہ نہیں پیش کیا میں نے، بس جن چیزوں کا مشاہدہ کیا وہی بتائیں۔”

“مہرو لوگوں کہتے ہیں ٹھوکر کھائے بغیر انسان کبھی نہیں سمجھتا ، اور کچھ لوگ تو ٹھوکر کھا کر بھی نہیں سنبھلتے۔”

“میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی آپی ، سعادت مند وہ ہوتا ہے جو دوسروں سے سبق لے۔ ہر چیز کا خود پہ تجربہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ ہمیں صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھنا چاہیے۔”

“ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو تم مگر لوگ تو اپنی غلطیوں سے بھی سبق نہیں لیتے۔”

وہ افسوس بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی۔

“بس آپی اللہ پاک سب کو اپنی غلطیاں سدھارنے کی توفیق دے۔”

“آمین میری جان۔ اب نیچے چلتے ہیں ورنہ ماما نے کہنا کہ اکیلی ہی بیٹھی ہوئی ہیں اور میں نے ماما سے بھی بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔”

وہ دونوں مسکراتے ہوئے نیچے کی جانب بڑھ گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس کئی دنوں سے کشمکش کا شکار تھا اس لیے اس نے ماہ رخ سے بات کرنے کا سوچا ۔ وہ خالہ کے گھر چلا آیا۔ لاوئنج میں ہی اس کے خالو براجمان تھے اس نے انہیں سلام کیا ۔ وہ مسکرا کو صوفے سے آٹھ کھڑے ہوئے ۔ انس آگے بڑھ کر ان کے گلے لگا۔

“کیسے ہو انس؟ ڈیوٹی کیسی جا رہی ہے؟”

“میں ٹھیک ہوں خالو اور ڈیوٹی بھی ٹھیک جا رہی ہے بس ابھی نیا ہوں ناں اس لیے ذرا مشکل پیش آتی ہے۔”

خالو کو انس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا انہیں بس اپنی بیٹی اس گھر نہیں دینی تھی جہاں اس کو سکون نصیب نہ ہو ۔ وہ جانتے تھے کہ انس اپنی بیوی کو خوش رکھے گا مگر ایک بیٹی کے باپ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی بیٹی کے لیے کوئی رسک نہیں لے سکتے تھے۔

“تم مینج کر لو گے مجھے یقین ہے ۔”

انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔

خالہ سے ملنے کے بعد وہ ماہ رخ کے پاس چلا آیا سب جانتے تھے کہ وہ اچھے کزنز اور دوست ہیں اس لیے کوئی غلط مطلب نہیں لیتا تھا۔ دروازہ نوک کیا تو اندر آنے کی اجازت مل گئی۔ وہ جو کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھی جب کھنکھارنے کی آواز سنی تو نظر اٹھا کر سامنے دیکھا۔ وہ کم از کم انس کی توقع نہیں کر رہی تھی۔

“او مائی گاڈ کزن تم یہاں، کب ،کیسے؟”

“بس کرو اتنے سوال ، ویسے کتابوں سے فرصت نہیں ملتی تمہیں، ڈگری لے کر بھی کتابیں پڑھتی رہتی ہو۔”

“تم نہیں سمجھو گے ، کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں یہ آپ کو تنہا محسوس نہیں کرواتی ، اس کی کہانیوں میں کھو کر آپ دنیا کی تلخ حقیقتوں کو فراموش کر جاتے ہیں۔”

وہ اس کی کتابوں سےمحبت دیکھتا رہ گیا ۔

“ویسے خیریت تو ہے نا اے ایس پی صاحب آج ہمارے غریب خانے میں تشریف لائے ہیں آپ ، کیا مدارت کروں میں آپ کی؟”

“بس کریں دیا کرو غریب کی بچی ، اتنے بڑے گھر میں رہتی ہو، دبئی میں گھومتی ہو ،برانڈڈ کپڑے پہنتی ہو۔۔۔”

وہ آگے بول ہی رہا تھا کہ اس نے ٹوک دیا ۔

“اچھا بھئی ، میں نے سرینڈر کیا ۔”

“گڈ گرل، مجھے ایک پریشانی ہے سوچا تم سے پوچھ لوں شاید تم اس کا حل بتا دو آخر کو اتنی کتابیں پڑھتی ہو۔”

اس کی کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

“کیوں نہیں پوچھو۔”

فراخ دلی سے جواب دیا گیا۔

وہ سٹڈی ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

“اگر آپ کو کسی کو کھو دینے کا احساس ہو اور یوں لگے جیسے وہ چاہ کر بھی دوبارہ مل نہیں پائے گا اور اس احساس سے دل ڈوبنے لگے تو اس کی کیا وجہ ہے۔”

ہائے انس اور اس کے معصوم سوالات۔ اور وہ جو پوری دلجمعی سے اس کی بات سن رہی تھی انس کی بات پہ اس کی ساری امیدیں جو وہ کھو چکی تھی وہ واپس آ گئی۔

“کزن یہ صاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ جس کو کھو دینے کا احساس بھی آپ کو بے چین کر دے وہ آپ کے دل و دماغ پر قابض ہو گیا ہے۔”

“کیا مطلب اس بات کا؟”

سی ایس ایس پاس کرنے والا محبت کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔

“تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس انسان سے محبت ہو چکی ہے۔”

دل کو سنبھال کر جواب دیا۔ وہ تو اس کا جواب سن کر گویا برف کا مجسمہ بن گیا ۔ وہ جس کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ انس کو اس کی شادی کا سننے کے بعد اس جذبے کا احساس ہوا ہے وہ اس آواز سے بے خبر تھی جو انس مجتبٰی نے سنی تھی۔

“بھائی صاحب فاریہ کو میں اپنے بیٹے کے لیے چاہتی ہوں ، جانتی ہوں کہ ابھی وہ چھوٹی ہے مگر آپ بس منگنی کر دیں تاکہ مجھے تسلی ہو جائے۔”

فاریہ کی پھوپھو جو اپنے بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگ رہی تھی یہ سننے کے بعد گویا انس کا دل اس حد تک بھاری ہو چکا تھا ۔ یہ سوچنا بھی کہ وہ اب اس کو دیکھ نہیں پائے گا اس کی آواز نہیں سن سکے گا ، اس کے نام کو کسی اور کے نام کے ساتھ سوچنا بھی انس کے لیے آگ کے برابر تھا۔ اور وہ جو اس کی آنکھوں میں موجود جذبات کو کبھی سمجھ نہیں سکا تھا آج بھی اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ تو کب سے اس کی منتظر ہے۔ شاید اس نے ہی دیر کر دی ہے۔

“کہاں گم ہو گئے ہو؟”

“کچھ نہیں وہ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے میں ابھی نکلتا ہوں۔”

ماہ رخ کی آواز سے وہ ہوش میں آیا۔ اور فورا باہر کی جانب رخ کیا۔ پیچھے سے خالہ آوازیں دیتی رہ گئی مگر اس کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔”فاریہ کو میں اپنے بیٹے کے لیے چاہتی ہوں۔۔”

اس بات کا ذکر تو وہ اورہان سے بھی نہیں کر سکتا تھا یہ وہ کس مشکل میں پھنس گیا ۔

“یا اللہ رحم کر۔ “

وہ لگاتار یہی الفاظ بول رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امل جو کہ مہرماہ کے لیکچرز کی بہت عادی ہو چکی تھی آج اس کی عدم موجودگی میں اسے بہت یاد کر رہی تھی۔ وہ ایک اچھی استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی دوست بھی تھی اور اسے اس دوست سے اپنا مسئلہ شئیر کرنا تھا۔

وہ ایک ماڈرن گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈرن لڑکی تھی جس کو کبھی آسائشوں کی کمی نہیں رہی تھی ۔ اس کے والد ایک کامیاب بزنس مین تھے مگر والدہ کی ناگہانی موت نے اسے سہما کر رکھ دیا تھا ۔ وہ اکلوتی اولاد تھی اس کے بابا نے اپنی بیٹی کے لیے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ وہ اس کے سر پر سوتیلی ماں مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس کی پھوپھو نے اس پہ پوری توجہ دی تھی وہ انہیں بہت عزیز تھی کم از کم امل کو یہی محسوس ہوتا تھا۔ وہ بھی اپنی پھوپھو کے بہت قریب تھی ماں کی طرح ہر بات ان سے شئیر کرتی تھی مگر یہ بات وہ ان سے شئیر نہیں کر سکتی تھی اور اس کی کوئی ایسی دوست بھی نہ تھی جس سے وہ یہ بات کہہ سکے اور وہ اسے کوئی اچھا اور مفید مشورہ دے لہٰذا مہرماہ اچھی چوائس تھی۔ مگر آج وہ نہیں آئی تھی اس لیے وہ آج کافی خاموش تھی۔

اورہان اپنے آفس میں بیٹھا سوچ بچار میں مصروف تھا اس نے انٹرکام اٹھایا اور چند الفاظ بولے اور دیوار گیر شیشے کی کھڑکیوں سے پار باہر چلتی ٹریفک کو دیکھ رہا تھا کچھ تھا جو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

“مے آئی کم ان سر؟”

دفعتا دروازہ کھلنے پر ایک آواز آئی۔

“یس”

مختصر جواب دیا گیا۔ آنے والے کو اس کی پیٹھ نظر آ رہی تھی۔

“فہد ہماری کمپنی کے علاوہ کتنی کمپنیز کے لیے کام کرتا ہے؟”

وہی ٹو دی پوائنٹ بات کرنے والا انداز۔ رخ موڑ بغیر سوال کیا گیا۔

“سر خیریت تو ہے نا؟”

“جتنا پوچھا گیا ہو اتنا بتایا کرو ایاز۔”

“سوری سر،میری اطلاعات کے مطابق وہ زیادہ تر سیاست دانوں کے پراجیکٹس کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کو ایک کمپنی سے ملوانا ، پراجیکٹ کلائنٹ سے لے کر کمپنی کو دلوانا اور دونوں طرف سے کمیشن لینا یہی اس کا کام ہے۔”

“ہوں ۔۔۔ اب جاو اور عریش سلطان کے پراجیکٹ کی ڈیٹیلز لا کر دو۔”

“اوکے سر۔”

ایاز جا چکا تھا اور وہ اب کسی غیر مرئی نقطے پر سوچ رہا تھا۔ کچھ تھا جو مسنگ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس گھر آیا تو گھر میں ایک نیا مسئلہ کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔

اس کے تایا اس کے گھر موجود تھے اور یقینا وہ کسی اچھی نیت سے تو بالکل بھی نہیں آئے تھے اس کے گزشتہ تجربات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ خیر اس نے ان سے سلام لیا اور آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے اس کے تایا پکار اٹھے۔

“بیٹا تھوڑی دیر بیٹھو تو سہی۔ خاص تم سے ہی تو ملنے آیا ہوں۔”

اور وہ اپنے تایا کی اتنی میٹھی زبان پہ تلخ سا مسکرایا ۔ وہ جان چکا تھا کہ اب ان کی زبان میں وہ زہر کیوں نہیں ہے ۔

“کیوں نہیں تایا جان ، مگر وہ کیا ہے نا میں نے وردی غلط کاموں کے لیے نہیں پہنی۔”

“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا؟”

مجتبٰی صاحب نے بے چینی سے پہلو بدلا۔

“کچھ نہیں آپ باتیں کریں مجھے ضروری کام ہے ۔”

اپنے باپ اور تایا پہ ایک بھی نظر ڈالے بغیر وہ اندر داخل ہو گیا۔ اس کی زندگی میں پہلے کم مسائل تھے جو اب یہ بھی یہاں موجود تھے۔ شدید ڈپریشن کے باعث اس کا رخ اب اس کی الماری کے خفیہ خانے کی جانب تھا اور اس میں سے ایک ڈبی برآمد کی۔ ابھی وہ ڈبی کو کھولتا کہ اسے اورہان کی دھمکی یاد آئی اور شش و پنج کا شکار ہونے پر اس نے ڈبی واپس اسی جگہ پہ رکھ دی۔ اگر اب اورہان کو اس کی اس حرکت کا علم ہوا تو وہ سچ میں اس کو پیٹنے سے دریغ نہیں کرنے والا تھا ۔ اور ویسے بھی اس کے سر اب بھاری ذمہ داری تھی تو ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ وہ نہیں کر سکتا تھا۔

اس نے فون پہ اپنی اور اورہان کی تصویریں دیکھنا شروع کر دی۔ انسان کی زندگی میں کچھ لوگ اتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ گزرا وقت یاد کر کے بھی انسان پرسکون ہو جاتا ہے اور وہ اب ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ یہ ان کے کالج کے ٹور کی تصویریں تھی۔تصویریں آگے کرتے ایک تصویر پہ وہ رک گیا یہ اورہان کے گھر میں لی گئی ایک سیلفی تھی جس کے پس منظر میں وہ بھی موجود تھی شاید وہ وہاں سے گزر رہی تھی اس کے چہرے کا رخ بائیں جانب تھا۔ یہ ان کی ایف ایس سی کے بعد کی تصویر تھی۔

اس نے یہ وقت یاد کرنا چاہا اور یاد کرنے پر ایک منظر اس کی کالی سیاہ آنکھوں کے پار چمکا۔

وہ اس وقت غالبا میٹرک میں تھی جب اس کو کوکنگ کا شوق چڑھا تھا۔ مگر کوکنگ اس کے بس کی بات ہی نہیں تھی شاید ۔۔آہ!

اس وقت بھی اس نے دوپٹہ ایک شانے سے گزار کر کمر پر باندھا ہوا تھا نیلی قمیض کے بازووں کو اوپر چڑھا رکھا تھا اور وہ کچن میں ایسے کام کر رہی تھی جیسے جنگ لڑ رہی ہو نازک ہاتھوں میں چمچہ پکڑے وہ ہانڈی میں پھیر رہی تھی کہ اس کی چیخ برآمد ہوئی ۔ وہ اور اورہان جو بیٹھے اپنے کیریئر کے لیے پلان کر رہے تھے۔ اس کی چیخ ان تک پہنچی اور وہ دونوں ہڑبڑا کر کچن کی جانب بھاگے۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ کبھی ایسے نہیں جاتا مگر چیخ کی آواز سن کر بے اختیار ہی وہ بھی بھاگا تھا۔ کچن جا کر معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہاتھ جلا بیٹھی تھی۔ اس وقت گھر میں حیدر صاحب اور صوفیا بیگم بھی موجود نہیں تھے۔ اورہان اب اس کے ہاتھ کو پانی کے نیچے لے کر کھڑا تھا اور ایک ہاتھ سے اس کی پیٹھ بھی سہلا رہا تھا گویا تسلی دے رہا ہو اور وہ نازک سی لڑکی اپنی خوبصورت آنکھوں سے بے شمار آنسو بہا رہی تھی ۔ اس نے جب اس کی جانب دیکھا تو اس کے بالوں پہ نظر گئی جو کیچر میں مقید تھے اورہان ہی کی طرح بھورے گھنگھریالے بال جن کی چند لٹیں اس کے رخساروں کو چھو رہی تھی۔

اسی لمحے فاریہ کی نظر بھی اس کی جانب اٹھیں تھی اور یہ پہلی بار تھا کہ اس کو خود کو دیکھتا پا کر وہ نروس ہو گئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ انس کے ساتھ فرینک تھی بلکہ ان دونوں نے آج تک براہ راست ایک دوسرے سے کبھی بات بھی نہیں کی تھی مگر اس نے کبھی یہ بھی محسوس نہیں کیا تھا جو وہ اب محسوس کر رہی تھی۔

فاریہ کی نظریں خود پر محسوس کر کے اس نے فورا نگاہیں جھکا لیں اور اس کا یہ عمل اس لڑکی کے دل کو بہت بھلا محسوس ہوا۔

وہ ان جھکی نظروں سے مسحور ہو چکی تھی۔اورہان اس کو لے کر اب لاوئنج کی طرف جا رہا تھا اور وہ شرم کے مارے نگاہیں نہیں اٹھا پا رہا تھا۔

منظر ختم ہو چکا تھا اور جہاں تک اسے یاد پڑتا تھا اس دن کے بعد اس نے فاریہ کو دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی اگرچہ کبھی بے اختیار ہی نگاہ پڑ جائے مگر چاہ کر کبھی اس نازک لڑکی کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ شاید ڈر تھا مگر اب تو ڈر حقیقت کا روپ دھار چکا تھا اب وہ کہاں جائے گا۔ یہ سب نہیں ہونا چاہیئے تھا وہ اس سب کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ مگر کیا کہتے ہیں محبت جب دل پہ دستک دیتی ہے تو دروازے بھی اپنے آپ ہی وا ہو جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مریم واپس اپنے سسرال جا چکی تھی ،مہرماہ ابھی لاوئنج میں ہی موجود تھی جب زویا جینز پر ٹاپ پہنے گلے میں مفلر ڈالے ، بالوں کو کھلا چھوڑے اندر داخل ہوئی۔ وہ ایسے گھر میں آئی تھی جیسے اپنے گھر آئی ہو اسے بالکل برا نہ لگتا اگر وہ پرانی والی بات ہوتی مگر وہی بات تو اب نہیں تھی۔ جب ام ہانی کے ساتھ اس کی دوستی ہوئی تو وہ چاہتی تھی کہ زویا بھی ام ہانی کے ساتھ دوستی کر لے مگر اسے ہمیشہ ہانی سے چڑ رہی اور جب وہ یہ کہتی تھی کہ وہ لڑکی اس کی دوستی کے سٹینڈرڈ پہ پورا نہیں اترتی تو مہرماہ کو شدید افسوس ہوتا۔ صرف اس لیے کہ وہ ایک مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک پردہ کرنے والی لڑکی تھی وہ زویا کے مطابق اس قابل نہیں تھی کہ وہ اس سے دوستی کرے۔ دوستی کے رشتے میں بھی اگر سٹیٹس، خوبصورتی اور خاندانی بیک گراؤنڈ دیکھا جائے تو یہ تو اس مخلص رشتے کی توہین ہے اور مہرماہ کے نزدیک زویا نے ہانی اور دوستی دونوں کی توہین کی تھی ۔ وہ جب بھی اسے سمجھاتی تو وہ اس سے بھی بدتمیزی کرتی اور مہرماہ سرفراز کسی کی بھی بدتمیزی برداشت نہیں کرتی تھی لہٰذا وہ زویا سے دور ہو گئی۔ کسی رشتے ناطے کو دھتکارنے کی بجائے اگر ہم خاموشی سے اس سے دستبردار ہو جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا ہے اور مہرماہ نے یہی کیا تھا۔

“ہیلو مہرماہ ،ویلکم نہیں کرو گی؟”

مہرماہ صوفے سے آٹھ کھڑی ہوئی۔ اور مسکرا کر آگے بڑھی۔

“شیور، خوشامدید زویا آو بیٹھو۔”

مہمان نوازی کو بخوبی نبھایا گیا۔

“نہیں یار تمہارے کمرے میں چلتے ہیں۔ “

وہ اس کی بے تکلفی پہ حیران ہوئی۔

“ٹھیک ہے چلو آو ۔”

وہ پہلے بھی اس کے گھر آتی رہتی تھی مگر کبھی ایسی بے تکلفی نہیں دکھاتی تھی۔ ثمرین بوا کو چائے کا بول کر اس کا رخ اب اپنے کمرے کی جانب تھا۔

کمرے میں داخل ہونے کے بعد وہ دونوں معمول کی باتیں کرتی رہیں اتنی دیر میں چائے بھی آ گئی ساتھ میں کباب ، نگٹس وغیرہ بھی تھے ۔ زویا موضوع پر آئی جس کے لیے وہ باقاعدہ تشریف فرما ہوئی تھی۔

“یار مہرو وہ اس دن گرے تھری پیس میں جو ہینڈسم تھا کیا نام تھا اسکا۔۔؟”

وہ نام یاد کرنے لگی اسے غالبا یہ نام ذرا مشکل لگا تھا۔ اور مہرماہ یہ سوچ رہی تھی کہ یہ کسی لڑکے کے متعلق اس سے کیوں پوچھ رہی ہے۔ اور کس دن کی بات ہو رہی ہے۔

“ہاں کچھ اورہان ،بھئی آگے یاد نہیں آ رہا۔”

اورہان کے نام پہ اسے دھچکا لگا کیونکہ یہ نام سچ میں عام نہیں تھا جو کسی اور کا ہوتا اور گرے تھری پیس سوٹ میں تو مریم کی بارات والے دن وہی تھا۔ تو کیا یہ اورہان حیدر عظیم کی بات کر رہی ہے۔

“تمہیں کیا مطلب ہے اس سے؟”

نہ چاہتے ہوئے بھی مہرماہ کو غصہ آ رہا تھا۔

“یار وہ اتنا ہینڈسم ہے کہ میں کیا بتاؤں میں نے آج تک بہت حسین چہرے دیکھے ہیں اور بہت سو سے دوستی بھی تھی مگر اس میں بہت کشش ہے اور رعب تو ایسا ہے کہ چاہ کر بھی اس کے سامنے میری زبان بولنے سے انکاری ہو گئی ۔”

اورہان کے بارے میں اس کے منہ سے یہ الفاظ سننا مہرماہ کو طیش دلا رہا تھا ۔ وہ زویا کی نیچر سے واقف تھی اس لیے اورہان میں اس کا انٹرسٹ لینا اسے سب سمجھا رہا تھا۔

“تم جانتی ہو اس کو؟”

مہرماہ سے سوال پوچھا گیا۔

“ہاں”

یک لفظی جواب آیا۔آہ!۔۔۔۔ کاش وہ جھوٹ بول پاتی۔

“یار کیا تم مجھے اس کا نمبر دے سکتی ہو یا پھر اس کے آفس کا ایڈریس؟”

“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا زویا میرے پاس کیوں آئے گا اس کا نمبر یا ایڈریس؟ “

“ہوتا بھی تو تمہیں تو کبھی بھی نہ دیتی ” ساتھ ہی دل ہی دل میں یہ بات بھی کہہ ڈالی۔

“یار تمہارے تو جاننے والے ہیں مجھے کسی سے لے کر دے دو اس کا نمبر۔”

وہ منت پر آ چکی تھی اور مہرماہ اس کو کسی کے لیے اتنا سیریس دیکھ کر حیران تھی۔ اندر ہی اندر غصے کا آتش فشاں تھا جو اس کے اندر ابل رہا تھا جس کی نگاہوں میں اس نے اپنے لیے محبت کے جذبات دیکھے ، جس کو وہ اپنا دل دے بیٹھی مگر کبھی اس سے بات نہ کی ،زویا ابراہیم اس سے گپیں لڑانا چاہتی تھی۔

“زویا میں تمہیں آخری بار کہہ رہی ہوں کیونکہ کالج کے زمانے سے میں یہ بات کئی بار تمہارے گوش گزار کر چکی ہوں کہ مجھ سے کسی لڑکے کے متعلق کوئی بات مت کیا کرو۔ اور تم مجھ سے ہی کسی لڑکے کا نمبر مانگ رہی ہو۔ میں نے تمہیں بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ لڑکوں سے دوستی مت کیا کرو مگر تمہیں میری بات ویسے بھی سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔۔۔”

“بس کریں دیا کرو مہرماہ کس زمانے میں جی رہی ہو؟مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ اتنا پڑھ لکھ کر بھی تم یہ سب سوچتی ہو۔ “

وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ زویا نے درمیان میں ہی اسے ٹوک دیا۔

“کیا مطلب ہے اتنا پڑھ لکھنے کے بعد ایسی سوچ ؟ اگر میں برے کاموں کی طرف راغب ہو جاوں کیا تب مجھے سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا کہ میری پڑھائی کامیاب ٹہری ؟ کیا تعلیم یہ سکھاتی ہے کہ ہم ہر وہ کام کریں جو اسلام کے خلاف ہو؟میں کوشش کر رہی ہوں زویا کہ میں سیدھے راستے پر رہوں مگر جانتی ہو تم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو کسی کو اسلام پہ چلنے میں اتنی دشواریاں پیدا کر دیتے ہیں کہ اگر وہ مضبوطی سے کھڑا نہ ہو تو یقینا لڑ کھڑا جائے اور زویا ابراہیم ! مجھے کسی کی باتوں سے فرق نہیں پڑتا ،چاہے لوگ جو مرضی کہیں ۔ میں جس بھی زمانے میں جیوں یہ میری چوائس ہے ۔ انڈرسٹنڈ؟”

“تم رہو اپنی اس پرانی اور دقیانوسی سوچ کے ساتھ ۔”

غصے میں کہہ کر وہ واک آوٹ کر گئی ۔ اور مہرماہ اسلام کے احکامات کے بارے میں لوگوں کی سوچ جان کر بہت پریشان تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔