Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 17)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
اورہان اپنے آفس میں بیٹھا ایاز سے میٹنگ کی بابت استفسار کر رہا تھا جب ریسیپشن سے کال آئی جس میں فہد کے آنے کی اطلاع دی گئی۔ اس نے فہد کو اندر بھیجنے کا کہا ۔
فہد اندر آیا تو اس کا چہرہ مسکراتا ہوا تھا۔
“خیریت تو ہے فہد ؟”
کیونکہ وہ ایسے ہی منہ اٹھا کر تو اس کے آفس نہیں آ سکتا تھا۔
“ہاں سر سب خیریت ہے بلکہ ایک خوشی کی خبر لایا ہوں۔”
اس بات پر اورہان اور ایاز کی نظروں کا تبادلہ ہوا۔
“بیٹھو اور کہو۔”
ساتھ ہی انٹرکام اٹھا کر کافی کا آرڈر دینے لگا تو فہد نے منع کر دیا۔
“سر کافی نہیں مٹھائی منگوائیں۔”
خوشگوار موڈ میں کہا۔
“تم بات بتاو پھر مٹھائی بھی آ جائے گی۔”
اورہان کو اب سخت الجھن ہو رہی تھی اسے اب جا کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس کی سسپینس ڈالنے والی عادت کتنی بری ہے۔ آج اسے انس کی کیفیت سمجھ میں آئی۔
“سابق ایم ان اے ولید نعمان پھر سے ڈٹ کر سامنے آنا چاہتا ہے اور اب اپنی کھوئی ساخت کو دوبارہ پانے اور اپنی ریپیوٹیشن ٹھیک کرنے کے لیے ایک ہسپتال بنوانا چاہتا ہے۔ تاکہ اپنی پچھلی غلطیوں کا ازالہ کر سکے۔اور اس کام کے لیے انہوں نے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ عریش سلطان کی فیکٹری سے وہ کافی امپریس ہوا ہے اور وہ اسی آرکیٹیکٹ سے اپنا ہسپتال بنوانا چاہتا تھا تو میں نے آپ کے بارے میں بتایا دیا۔ آپ بتا دیں کب فارغ ہوں گے تاکہ میں آپ دونوں کی ملاقات کا وقت مینج کر سکوں۔”
یہ بات سن کر اورہان واقعی بہت خوش ہوا۔ بڑے پراجیکٹ اس کو ہمیشہ خوشی دیتے تھے۔
“یہ تو واقعی بہت اچھی خبر ہے۔ ایاز جاو مٹھائی کا انتظام کرو اور فہد کو لا کر دو۔ اور فری ٹائم بتا دو مجھے کہ کس دن میٹنگ نہیں ہے تاکہ میں ولید نعمان سے مل کر ان کا پراجیکٹ شروع کر سکوں۔”
فہد کے چہرے پہ اس وقت بلا کی خوشی تھی۔ عریش کا کہا گیا پہلا کام اس نے بخوبی سرانجام دے دیا تھا۔ یقینا اس کو بھاری انعام سے نوازا جائے گا جب وہ اپنا کام مکمل کر دے گا۔
ایاز نے اس کے سامنے مٹھائی رکھی تو اس نے دل کھول کر ہاتھ صاف کیا۔ ایاز نے اسے اورہان کا شیڈول چیک کر کے فری ٹائم کا بتا دیا تھا اور وہ مسکراتا ہوا واپس چلا گیا۔
آفس سے باہر نکل کر اس کے چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ آئی اور اس نے سب سے پہلے عریش کو کال ملائی۔ جو فورا ریسیو کر لی گئی جیسے اسی کال کا انتظار ہو۔
“باس آپ کا کام ہو گیا۔”
دوسری جانب موجود عریش نے گہرا سانس بھرا۔
“ویل ڈن”
عریش نے اسے اگلا لائحہ عمل بتایا اور پرسکون سا آنکھیں موند گیا۔
جنگ شروع ہو چکی تھی اور اس جنگ میں کس کی جیت اور کس کی ہار ہونی تھی یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورہان کی میٹنگ ولید نعمان کے ساتھ طے کر دی گئی تھی جس پر اس نے جو نقشہ سیمپل کے طور پر پیش کیا تھا ولید نعمان کو وہ نقشہ اس حد تک پسند آیا کہ وہ اسی نقشے کے تحت ہسپتال بنوانا چاہتا تھا۔
“لیکن ولید سر میں آپ کو اس سے ملتے جلتے نقشے پر ہی ہسپتال بنا کر دوں گا۔ یہ میں نے اپنے ہسپتال کے لیے بنایا تھا۔”
اورہان الجھن کا شکار ہو رہا تھا وہ اس کو سمجھا سمجھا کر تھک چکا تھا مگر وہ بھی اپنی بات پر اڑا ہوا تھا۔اورہان تو اس کو ہسپتال کا ڈیزائن سمجھانے کی غرض سے اپنے ہسپتال کا نقشہ استعمال کیا تھا۔ جس پر وہ جلد از جلد کام شروع کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس کے پاس ڈیزائن بھی موجود تھا اور اس نے سارا میٹیریل بھی منگوا رکھا تھا۔
“آپ تو آرکیٹیکٹ ہیں بہت آسانی سے نیا نقشہ بنا لیں گے مگر مجھے ابھی جلد از جلد یہ ہسپتال بنوانا ہے کیونکہ الیکشن سے پہلے میں اس ہسپتال کو کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ میری ریپوٹیشن کا سوال ہے۔ میں ایک اچھا کم بیک کرنا چاہتا ہوں۔”
“وہ سب ٹھیک ہے لیکن آپ کو تھوڑا انتظار کر لینا چاہیے۔”
وہ اسے سمجھانے کی کوشش میں تھا۔
“دیکھیں میں آپ کو ڈبل پے منٹ کروں گا لیکن مجھے دو ماہ کے اندر اندر اس کا انفراسٹرکچر بنا دیں۔”
ولید نعمان نے گویا بات ہی ختم کر دی تھی۔
“آپ کو نہیں لگتا آپ کافی جلد بازی سے کام لے رہے ہیں۔”
تعجب سے سوال پوچھا۔
“نہیں میرا نہیں خیال ۔ آپ کے پچھلے پراجیکٹس دیکھ کر میں بآسانی آپ سے یہ کام بہت جلد مکمل کرنے کی امید کر سکتا ہوں۔”
ولید نعمان اس کے کام سے بہت زیادہ امپریس دکھائی دے رہا تھا۔ جس پر اورہان کو بھی حیرت تھی کہ آخر اسے اس پر اتنا یقین کس وجہ سے ہے۔
“ٹھیک ہے دو ماہ سے پہلے آپ کو انفراسٹرکچر تیار ملے گا۔”
“مجھے آپ سے یہی امید تھی۔”
اس سارے میں فہد خاموش تماشائی کی طرح وہاں موجود تھا۔ کیونکہ جتنی برین واشنگ اس نے ولید نعمان کی کرنی تھی وہ کر چکا تھا۔ اس نے اسے پختہ یقین دہانی کی تھی کہ اورہان کو ہی یہ پراجیکٹ ملنا چاہیے ورنہ سیاست دان اتنی جلدی کسی پر بھروسہ کر کے انہیں کام نہیں سونپتے مگر عریش کے آرڈر کے مطابق اسے جلد از جلد سب کرنا تھا۔ وہ تھوڑی دیر بھی برداشت کرنے کا متحمل نہیں تھا۔ سیاست دانوں کی چال بازیاں سیاست دان سمجھ جاتے ہیں مگر شاید ولید نعمان ان شاطر لوگوں میں شامل نہیں تھا۔ اسی لیے تو وہ ایک اچھا سیاست دان نہیں بن سکا تھا۔
ڈیل طے ہو گئی اور اورہان نے فورا سے اس پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا۔ اب اسے جلد از جلد اس کو تیار کرنا تھا لیکن بغیر غلطی کیے۔ کیونکہ یہ ریپیوٹیشن سے زیادہ لوگوں کی جانوں کا سوال تھا اور وہ اس میں کسی غلطی اور کمی بیشی کی گنجائش نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت نے رفتار پکڑی ہوئی تھی اور بنا رکے کسی کی خوشی پہ جھومے اور غم پہ روئے بغیر گزرتا ہی جا رہا تھا۔ کیونکہ وقت کبھی نہیں رکتا یہ جاتے جاتے کسی کو سکھ دے جاتا ہے تو کسی کو اذیت سے ہمکنار کر جاتا ہے۔ اس وقت نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اورہان نے ولید نعمان کے پراجیکٹ کا انفراسٹرکچر تیار کر دیا تھا اور وہ اس میں بزی ہونے کے باوجود بھی مہرماہ کو نہیں بھلا پاتا تھا۔ اس عرصے میں مہرماہ اس سے کافی اٹیچ ہو چکی تھی اب وہ اپنی روٹین بھی اس کے ساتھ شئیر کیا کرتی تھی۔ ان دونوں میں ہچکچاہٹ تقریبا ختم ہو چکی تھی اب دونوں ایک دوسرے سے فرینک ہو چکے تھے۔ اور ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ کبھی کبھار فاریہ کو لینے کے بہانے وہ مہرماہ کو دیکھنے چلا آتا تھا۔ جس پر وہ ہمیشہ کی طرح شرما جاتی تھی مگر پھر بھی مانتی نہیں تھی۔
انس بھی اپنی ڈیوٹی میں مصروف تھا۔ لیکن فاریہ کا خیال پل پل اس کے ساتھ رہتا تھا۔ اسے علم ہو چکا تھا کہ اورہان کے ولیمہ والے روز فاریہ کی منگنی کی ڈیٹ فکس ہو چکی ہے۔ لیکن ابھی تک وہ فاریہ کو اپنے دل کے حالت سے آگاہ نہیں کر پایا تھا۔ اس نے رب سے التجا کی تھی کہ وہ کوئی حل نکال دے کسی طرح فاریہ کی منگنی رک جائے۔ ایک امید تھی جو انس کو اپنے رب سے تھی اور رب ہی تو ہے جو ہر امید کو پورا کرتا ہے وہ بھی بغیر احسان جتائے۔
امل شہریار اب اللہ کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔ اب اس نے نمازیں پڑھنا شروع کر دی تھی۔ اس دورانیے میں اس کا کزن گھر کم ہی ہوتا تھا اور جتنی دیر وہ گھر ہوتا امل کمرے سے باہر نہیں آتی تھی۔ اگر کسی مسئلہ کی اسے سمجھ نہیں آتی تو وہ مہرماہ سے راہنمائی لے لیتی تھی۔ اس کی مہرماہ کے ساتھ کافی دوستی ہو گئی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اب ٹیچر سٹوڈںٹ سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔ اسلام ایسا ہی تو ہے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دیتا ہے۔ انجان لوگ بھی اپنے محسوس ہوتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ ہی دلوں میں محبت ڈالنے پر قادر ہے اسی نے ان دونوں کے دلوں میں بھی ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دی تھی۔
دن یوں ہی گزرتے گئے اور آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جس کا اورہان کو نہایت شدت سے انتظار تھا۔ آج اس کی دلی مراد پوری ہونے والی تھی۔اس کی مہرماہ آج اس کے پاس آنے والی تھی۔ وہ بے تحاشا خوش اور نئی زندگی کے لیے پرامید تھا۔
آج پھر سے سرفراز ولا کو سجایا گیا تھا مگر اس بار سارا ارینجمنٹ ریڈ اور گولڈن تھا۔ کیونکہ دلہن صاحبہ ریڈ اور گولڈن لہنگے میں ملبوس اپنے دلہے کا انتظار کر رہی تھی۔ بلڈ ریڈ کلر کا لہنگا پہنے جس پر بے حد خوبصورت گولڈن کلر کا لائٹ سا کام تھا۔ اس کا لہنگا ہیوی نہیں تھا مگر لائٹ ہونے کے باوجود وہ اپنی چمک اور نفاست سے دیکھنے والے کو پہلی ہی نظر میں پسند آ جاتا۔
آج ریڈ میک اپ کیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت دکھ رہی تھی اس نے کبھی ریڈ کلر کا استعمال نہیں کیا تھا نہ کپڑوں میں نہ ہی میک اپ میں کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنی رخصتی پر ہی یہ رنگ پہنے۔
آج اس کو دیکھ کر ہر ایک نے ماشاءاللہ کہا۔ جب وہ پارلر میں تیار ہوئی تو وہاں موجود دوسرے دلہنوں نے بھی اس کو خوب سراہا۔ وہ سر پر گولڈن حجاب اوڑھے ، بھاری سرخ دوپٹے کو اچھی طرح سے سیٹ کیے ، ہاتھوں پر اورہان کے نام کی مہندی لگائے ، کلائیوں میں سرخ چوڑیاں پہنے دنیا کی سب سے پیاری دلہن لگ رہی تھی۔ حجاب نے اس کے چہرے پر ایسی معصومیت دی تھی کہ ہر دیکھنے والا جو اس کے کمرے میں آ کر اس کو دیکھ رہا تھا آج اس کی قسمت پر رشک کر رہا تھا۔ کیونکہ اس نے جو چیز اپنائی اس پر ثابت قدم رہی تھی۔ اس نے اپنی شادی پر بھی حجاب کو خود سے دور نہیں ہونے دیا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ وہ نقاب نہیں کرتی لیکن جتنا وہ کرتی تھی وہ اس پر ثابت قدم رہی تھی۔ اور جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اس کی بے جا ضد کی وجہ سے کوئی اچھا لڑکا اس سے شادی نہیں کرے گا آج ان کی زبانیں بند ہو چکی تھی۔ کیونکہ اسلام پر ڈٹ کر رہنے والی شہزادی کو آج اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے والا شہزادہ لینے آ رہا تھا۔ اس نے اپنے بابا سے کہہ کر فوٹوگرافر کو بلانے سے بھی منع کر دیا تھا۔ چند ایک تصاویر مریم آپی نے ہی کلک کر دی تھی اور اسے مریم آپی کی فوٹوگرافی سکلز پر پورا بھروسہ تھا۔ ان لمحات کو مریم آپی نے ہی قید کرنی کی ذمہ داری نبھائی۔
اور پھر بغیر کسی ڈھول اور فائرنگ کے اورہان بارات لے کر سرفراز ولا آیا۔ اس کی وائٹ اوڈی سب سے پہلے سرفراز ولا میں داخل ہوئی۔ پیچھے گاڑیوں کی قطار تھی۔ اس کی فیملی اس کے ساتھ اسی کی گاڑی میں موجود تھی۔ اس سے پیچھے والی کار انس کی تھی جس میں وہ اپنی فیملی کے ہمراہ موجود تھا۔
کالی شیروانی پہنے ، سرخ پگڑی سر پر رکھے جس میں سے تھوڑے سے بھورے گھنگھریالے بال بھی نظر آ رہے تھے۔ کالے لوفرز پہنے ہاتھوں میں قیمتی رسٹ واچ پہنے اور خود پر پرفیوم سپرے کیے وہ ایک عالیشان بادشاہ لگ رہا تھا۔ حیدر صاحب اس کے ساتھ کھڑے اس کو بہت پیار سے دیکھ رہے تھے۔
“کتنے بڑے ہو گئے ہو تم اورہان باپ سے بھی اونچے۔ اور آج اپنی دلہن لینے آئے ہو۔”
ان کی آنکھوں میں خوشی تھی۔ اورہان فورا جھک گیا کہ اس کا قد اپنے بابا سے چھوٹا دکھنے لگا۔
“آپ کا بیٹا آپ سے بڑا کبھی نہیں ہو سکتا بابا۔”
“چلو سیدھے ہو۔ سب نے کہنا باپ بیٹا پتا نہیں کونسی باتوں میں مصروف ہے۔ اور ہماری بیٹی کہے گی کہ آپ نے تو اورہان کا قد چھوٹا کر دیا۔ مجھے نہیں چاہیے یہ والا اورہان۔”
“بابا وہ کبھی بھی اورہان سے دستبردار نہیں ہوں گی دیکھ لیجیے گا۔”
اورہان کو اپنی محبت پر پورا یقین تھا۔
“خدا کرے ایسا ہی ہو۔ ہمیشہ خوش رہو تم دونوں۔”
“آپ لوگ کیا ادھر ہی جم گئے ہیں۔ آگے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیا۔”
وہ باپ بیٹا جو کھسر پھسر میں مصروف تھے صوفیا بیگم کی بات پر سیدھے ہوئے اور آگے بڑھے جہاں مہرماہ کی فیملی ان کے استقبال کے لیے کھڑی تھی۔
پھول پھینکے بغیر ان کا استقبال کیا گیا کیونکہ پھول پیروں تلے روندنے کے لیے ہر گز نہیں ہوتے۔ اور یہ بات مہرماہ پہلے ہی اورہان سے کر چکی تھی جس پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔
اس نے امل کو بھی بلایا تھا جو اس وقت اس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود تھی۔ اس کی صرف ایک ہی مخلص دوست تھی جس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا اس کے علاوہ اس کی دوستیں تو تھی نہیں اس لیے امل اس کی ایک اچھی شاگرد ہونے کے ناطے اس کے ساتھ موجود تھی۔
“مہرماہ میم، سر اورہان آ گئے ہیں۔”
امل نے ایکسائیٹڈ ہو کر کہا اور اس کی بات پر مہرماہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“کیا ہوا میم؟”
“کتنا فنی لگ رہا ہے مہرماہ میم ، سر اورہان آ گئے۔”
مہرماہ نے باقاعدہ اسی کی ٹون میں بولا جس پر وہ جھینپ گئی۔
“امل میں نے کہا تو ہے کہ کلاس کے علاوہ آپ مجھے آپی بلایا کریں اور اورہان کو بھائئ۔”
“سوری میم۔۔۔سو۔۔سوری مہرماہ آپی”
“اب مجھے مہرماہ آپی ہی بلانا اورہان کے سامنے ان کو سر نہ بول دینا۔ ایویں پریشان ہو جائیں گے۔”
وہ ہنستے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی۔
اورہان کا ویلکم کرنے کے بعد اس کو سٹیج پر موجود گولڈن صوفہ پر بٹھایا گیا۔
انس کی نگاہیں آج بھٹک بھٹک کر فاریہ پر ہی جا رہی تھی۔ صرف ایک دن بعد وہ کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہننے والی تھی اور اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اس سے ہی اقرار کر لیتا۔
فاریہ نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ کلر میچ کر کے بلیک ہی ڈریس پہن رکھا تھا۔ بلیک ڈریس جس پر سلور کام کیا ہوا تھا اس پر سلور جیولری پہنے، سر پر ہلکا سا دوپٹہ ٹکائے وہ آج انس کو خود سے دور جاتی محسوس ہو رہی تھی۔ بمشکل چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ کن اکھیوں سے نگین پھوپھو کے بیٹے کو دیکھ رہا تھا جس کو بن مانگے ہی وہ مل رہا تھا جس سے وہ محروم ہو رہا تھا۔
دلہن کو لانے کا کہا گیا کیونکہ نکاح تو پہلے ہی ہو چکا تھا اور اس سے پہلے کہ دلہن سٹیج پر آتی سائرن کی آواز آئی۔ اور پولیس بغیر رکے سرفراز ولا میں داخل ہو گئی۔
سب ہونقوں کی طرح یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ مہمانوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو چکی تھی۔
“آپ میں سے اورہان حیدر عظیم کون ہے ؟”
ایس پی نے استفسار کیا۔ جس پر اورہان سٹیج سے اتر کر نیچے آیا اور ایس پی کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔ انس اپنے سینئر کو دیکھ رہا تھا کہ ان کا اس وقت یہاں کیا کام ہو سکتا ہے۔
“آپ ہی سابق ایم ان اے ولید نعمان کے ہسپتال والے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں؟”
“جی “
حیرت سے وہ ایس پی کو دیکھ رہا تھا جو اس کی شادی کے موقع پر فضول سوالات پوچھ رہا تھا۔
“ناقص میٹیریل استعمال کرنے کی وجہ سے وہ بلڈنگ جو ابھی زیر تعمیر تھی گر چکی ہے۔اور اس کے نتیجے میں دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے لواحقین نے آپ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔آپ کو ابھی اور اسی وقت ہمارے ساتھ تھانے چلنا ہو گا۔”
وہاں موجود سب لوگوں کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا۔ کمرے کی کھڑکی میں کھڑی مہرماہ جواپنی آنکھوں میں دھنک رنگ سموئے نہایت محبت سے اپنے محرم کو دیکھ رہی تھی لڑکھڑا گئی۔ امل نے فورا اسے سہارا دیا۔
“دیکھیں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ میرا اورہان ایسا نہیں کر سکتا ۔ لوگوں کی جانوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا اورہان کبھی کچھ ایسا نہیں کر سکتا جس سے کسی بھی جان کو کوئی خطرہ ہو۔”
حیدر صاحب نے فورا اپنے بیٹے کے حق میں گواہی دی۔ اورہان کو بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔
“سر میں کہہ رہا ہوں اورہان ہر گز ایسا نہیں کر سکتا ۔ ہم اس غلط فہمی کو دور کر لیں گے مگر ابھی اسے نہیں لے کر جائیں پلیز۔اس کی شادی ہے سر پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔”
انس نے اپنے سینئر کو سمجھانے کی کوشش کی وہ گارنٹی بھی دے رہا تھا مگر انہوں نے تو جیسے کان ہی لپیٹ لیے تھے۔
“انکل میں بہت جلد عزت سے مہرماہ کو لینے آوں گا۔ لیکن ابھی مجھے جانا ہو گا۔ بابا سب سنبھال لیجیے گا۔”
اب وہ قدرے سنبھل چکا تھا۔ سرفراز صاحب کو یقین دہانی کروا کر اپنے بابا سے ریکویسٹ کی۔ اس وقت وہ سنبھلا ہوا تھا جبکہ اپنے کمرے میں موجود مہرماہ ٹوٹ رہی تھی۔ بے آواز آنسو اس کے چہرے کو بھگوتے جا رہے تھے۔ امل اس کو تسلیاں دے رہی تھی مگر اسے اس وقت کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔
اورہان پولیس کے ساتھ وہاں سے چلا گیا انس بھی اس کے ساتھ ہو لیا۔ پیچھے سب مہمانوں کو کھانے کا کہا گیا کچھ نے کھانا کھایا اور کچھ کھائے بغیر ہی الزامات تراشی کرتے وہاں سے چلے گئے۔ صوفیا بیگم نے تو رو رو کر اپنی طبیعت خراب کر لی تھی انہوں نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا تو آج ان کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا تھا ۔ ان کے لاڈلے پر اتنا بڑا الزام لگ چکا تھا، وہ بھی اس وقت جب وہ اپنی دلہن کو لینے آیا تھا۔ فاریہ تو خود بے حال ہو رہی تھی۔
سرفراز صاحب کو معاملہ ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اپنی بیٹی کی رخصتی والے دن داماد کو پولیس لے گئی تھی وہ بھی اتنے بڑے جرم میں ان کا تو دماغ ہی ماوف ہو چکا تھا۔ مہرماہ نے اس وقت کسی سے بھی ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ امل کو بھی اس نے کمرے سے بھیج دیا تھا۔ وہ اکیلی رہنا چاہتی تھی۔
اپنے کمرے میں موجود عریش کو پیغام ملتے ہی ایک سکون نے اس کو آن گھیرا تو ثابت ہو گیا کہ عریش سلطان اپنی چاہت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔
آج وہ پرسکون نیند سونے والا تھا۔ کئی لوگوں کی زندگیاں اجاڑ کر بھی اس کو کوئی دکھ نہیں ہو رہا تھا۔ اس کا وار کاری تھا جس سے رہائی مشکل تھی اور مہرماہ یقینا اورہان پر سے اپنا اعتماد کھو بیٹھی ہو گی۔ مہرماہ کی نظروں میں اورہان کو گرانے کی ایک بڑی سازش کھیلی جا چکی تھی۔ اب نتائج کا وقت ہونا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
