Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 24)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
جنازہ کا وقت ہو چکا تھا ۔ نہایت تکلیف دہ بات یہ تھی کہ کوئی اس کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکا تھا کیونکہ اس کی میت بے حد جل چکی تھی جس کی تکلیف ان کا دل چیرنے کو کافی تھی۔
وہ کس حد تک اذیت میں ہو گا جب اس کا جسم آگ کی لپٹوں میں جھلس رہا ہو گا؟
وہ وقت جب وہ مدد کے لیے پکار رہا ہو گا؟
جنازہ اٹھانے کی غرض سے مرد حضرات ،عورتوں والی سائیڈ پر آئے۔ انس کی نگاہ اس میت سے نہیں ہٹ رہی تھی۔ وہ اس کے دوست کا وجود تھا جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہا تھا۔ پھر آج وہ اکیلا کیسے چلا گیا؟
انس آگے بڑھا اور اس سے پہلے کہ وہ جنازہ اٹھاتا فاریہ بول پڑی۔
“پلیز تھوڑی دیر رک جائیں میں دوبارہ اپنے بھائی کو دیکھ نہیں پاوں گی۔”
وہ معصوم گڑیا اپنے بھائی کے وجود کو قبر میں مدفن ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنے پاس دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی بات پہ انس کے ہاتھ تھم گئے۔ وہ پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا اور گم صم نگاہوں سے اس جانب دیکھنے لگا جہاں وہ اپنے بھائی کے کفن شدہ وجود کے پاس زمین پر بیٹھی اس کو تک رہی تھی۔ مہرماہ اس کے پاس ہی بیٹھی اس وجود کو بغیر پلک جھپکے دیکھ رہی تھی جیسے اگر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی آنکھ بند ہوئی تو وہ دوبارہ اس کو دیکھ نہیں پائے گی۔
سرفراز صاحب آگے بڑھے اور فاریہ کے سر پر پیار دیا جو بس اپنے بھائی کو خود سے دور ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
“بیٹا ہمیں میت کو جلد از جلد دفن کرنا ہے۔ اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔”
ایک بزرگ نے اپنی بات ان کے گوش گزار کی۔
اور مہرماہ یہ سوچنے لگی کیا انسان چند لمحوں میں اپنا نام کھو بیٹھتا ہے؟
کوئی اس کو اورہان کیوں نہیں پکار رہا تھا؟
سب اس کو میت کیوں کہہ رہے تھے؟
نڈھال سے حیدر صاحب، صوفیا بیگم کے پاس آئے۔
“صوفیا اجازت دو۔”
کس دل سے انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے یہ وہی جانتے تھے۔
“کس بات کی اجازت؟”
دنیا جہان سے بےخبر صوفیا بیگم ایک دم ہوش کی دنیا میں لوٹی تھیں۔
“تدفین کا وقت ہو رہا ہے۔”
“کس کی تدفین؟”
اور حیدر صاحب کا دل کیا وہ یہاں سے بھاگ جائیں۔ اس سوال کا جواب ان کے لیے اس حد تک اذیت ناک تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کبھی اتنی اذیت برداشت نہیں کی تھی۔
“اورہان کی تدفین ،صوفیا”
“میرا اورہان، حیدر؟”
یہ سوال تھا یا جواب یہ وہ سمجھ نہیں پائے۔
“ہمارا بیٹا صوفیا، ہمارا اورہان”
تکلیف کی شدت سے ان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔ ان کا چہرہ اس وقت آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
“یہ ہمارا بیٹا نہیں ہے حیدر۔ میرے اورہان کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔”
وہ اب بھی اسے اورہان ماننے کو تیار نہیں تھیں۔
“صوفیا حوصلہ کرو۔ دیکھو فری بچی ہے۔ اسے ہم نے سنبھالنا ہے۔ وہ اکیلی ہو گئی ہے۔”
انہوں نے فاریہ کی جانب اشارہ کیا۔ فاریہ نے جب نگاہ اٹھا کر دیکھا تو اپنے بابا کو دیکھ کر وہ ان کے پاس آئی۔ حیدر صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کے سر پر بوسہ دیا ۔ وہ اپنی ایک اولاد کو کھو چکے تھے دوسری میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ فاریہ اپنے بابا سے الگ ہوئی اور اپنی ماما سے جا لپٹی۔ اسے ڈر لگ رہا تھا۔ اپنے کو کھو دینے کے بعد اس بارے میں سوچنا کہ وہ دوبارہ کبھی اسے دیکھ نہیں پائے گا،اس سے مل نہیں پائے گا۔ یہ ڈر انسان کو اس شدت سے ہوتا ہے کہ اس کی روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔
حیدر صاحب آگے بڑھے تو انس، سرفراز صاحب اور دیگر مرد حضرات بھی آگے بڑھے اور اللہ پاک کا نام لے کر جنازہ اٹھا لیا۔ اس وقت سب کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
مہرماہ ، ماریہ بیگم سے لپٹی ہوئی تھی اور فاریہ ، صوفیا بیگم کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی۔ ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ شدت سے چیخیں مگر انہیں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا تھا جس کی دین میں اجازت نہیں۔
مہرماہ اس وقت مسلسل اورہان کے لیے دعا مانگ رہی تھی۔ اس کا دل و دماغ صرف اورہان کے گرد گردش کر رہا تھا۔ وہ انتہائی کرب سے گزر رہی تھی۔
جنازہ لے جایا جا چکا تھا۔ قبرستان میں پہنچ کر حیدر صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اپنے جوان بیٹے کو مٹی کے حوالے کیا تھا۔
وہی مٹی جو اس کے وجود کا حصہ تھی۔
وہی مٹی جس میں انسان کو مٹی ہو جانا ہے۔
تدفین مکمل کر کے جب واپس جانے کی باری آئی تو سب نے واپسی کی راہ لی۔ سرفراز صاحب نے حیدر صاحب کو سہارا دیا۔ انس بھی ان کے ہمراہ آگے بڑھا کیونکہ اسے کسی صورت اورہان کی فیملی کو تنہا نہیں چھوڑنا تھا ورنہ اس کا یہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ان کے جانے کے بعد ایک وجود تھا جو قدم بہ قدم بڑھتا اس قبر کے قریب آ رہا تھا جس کی مٹی ابھی بالکل نم تھی۔ دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھی گئی۔
“خدا تمہارے سارے گناہ معاف کر دے۔ میں پھر تم سے معذرت کرتا ہوں۔ لیکن بتایا تھا ناں یہ بہت ضروری تھا۔”
سیاہ لباس زیب تن کیے سیاہ چشمہ لگائے عریش سلطان نہایت افسوس سے اس کی قبر پر کھڑا دھیمی آواز میں بول رہا تھا۔
تدفین کے دوران انس کا فون کہیں گر گیا تھا جس کو لینے کے لیے وہ واپس آیا اور فون تو شاید بہانہ ہی تھا دراصل وہ اس کی قبر پر جانا چاہتا تھا۔ لیکن دور کھڑا یہ وجود اس کے دماغ کے کونوں میں بہت ساری پہیلیاں بن گیا۔
عریش جب پلٹا تو انس فورا درخت کی اوٹ میں ہو گیا۔اس کے جانے کے بعد وہ قبر کی جانب بڑھا ۔ اچانک سے پاوں کے نیچے کچھ کچلے جانے کی آواز پہ اس نے جب نگاہ زمین پر کی تو اسے اپنا فون نظر آیا۔اس نے جھک کر فون اٹھایا اور پھر قبر کے پاس آیا۔
“میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اورہان اگر یہ شخص تمہاری اس حالت کا ذمہ دار ہوا تو اسے اپنے ہاتھوں سے اس کے انجام تک پہنچاوں گا۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے قبر کی نم مٹی کو اپنی مٹھی میں بھرا اور پھر مٹھی کھول دی۔
ایک جنون اس کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا۔ ہر اس شخص کو کیفرکردار تک پہنچانے کا جنون جو اس کے دوست کی اس حالت کا ذمہ دار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات اپنے اندھیرے کے ساتھ آن وارد ہوئی تھی ایسا اندھیرا جس میں روشنی کی رمق ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہر مشکل حال میں بھی امید کی کرن ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ گرے بنگلے سے مہمان واپس جانا شروع ہو گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ تعزیت کرتے ، افسوس کا اظہار کرتے ،آنسو بہاتے،دل میں جوان موت کا درد لیے یہاں سے جا چکے تھے۔ سرفراز صاحب بھی اپنی فیملی کے ہمراہ جا چکے تھے۔ ابھی سب اکیلے رہنا چاہتے تھے۔ کسی کو اپنے غم کا اشتہار نہیں لگانا تھا۔ نگین پھوپھو اپنے بھائی کو حوصلہ دے رہی تھیں جو اپنے جوان بیٹے کو کھو چکے تھے۔ اورہان کی موت نے ہر ایک کو نڈھال کر دیا تھا۔
“بھابھی آپ نے اور فری نے کچھ نہیں کھایا۔ ایسے تو آپ کی طبیعت بگڑ جائے گی۔ “
وہ ان کے لیے کھانا لے کر آئیں تھیں۔ سرفراز صاحب ، حیدر صاحب کو چند نوالے کھلا کر ہی گئے تھے۔ وہ سب اس وقت اورہان کے کمرے میں موجود تھے۔ اس کے کمرے کی ہر شے اس کی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔ بس ایک وہ ہی نہیں تھا۔
“مجھے نہیں کھانا نگین ۔”
صوفیا بیگم نے نم آواز میں ان سے کہا۔
“بھابھی ضد نہیں کریں۔ اگر اورہان آپ کو ایسے دیکھتا تو اسے کتنی تکلیف ہوتی۔ وہ آپ کو کتنا چاہتا تھا۔”
وہ ان کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
“اورہان ہی تو نہیں ہے نگین ۔ باقی تو آج بھی سب ویسا ہی ہے۔”
اردگرد نگاہ دوڑاتے ہوئے جواب دیا۔
“اورہان کی خاطر کھانا لیں پلیز۔”
اپنی بھابھی کی ایسی حالت ان کو دکھ میں مبتلا کر رہی تھی۔ انہوں نے نوالہ بنا کر ان کی جانب بڑھایا تو اپنے بیٹے کی خاطر انہوں نے نوالہ منہ میں ڈال لیا مگر اس کو حلق سے اتارنا ان کے لیے بے حد مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ نگین پھوپھو نے ان کو پانی تھمایا تو پانی کا گھونٹ بھر کر انہوں نے اس نوالے کو کھایا۔ نگین پھوپھو نے دوسرا نوالہ بڑھایا تو انہوں نے منع کر دیا۔ وہ ان کی حالت سمجھ رہی تھیں اس لیے خاموشی سے یہاں سے چلی گئیں۔
پیچھے کمرے میں حیدر صاحب اور صوفیا بیگم ہی رہ گئے۔ جو اپنے بیٹے کے کمرے میں موجود اس کو محسوس کر رہے تھے۔
فاریہ کے کمرے میں آیا جائے تو گھپ اندھیرا تھا اور اس نے روشنی کرنا بھی نہیں چاہی تھی۔ وہ زمین پر بیٹھی ہاتھوں میں اپنے بھائی کی تصویر تھامے محو اسے تکی جا رہی تھی۔
“بھائی آپ کہاں چلے گئے ہیں۔ آپ کی گڑیا اکیلی رہ گئی۔”
اس کے آنسو فریم کے شیشے پر گر رہے تھے اور اورہان کی تصویر کو دھندلا رہے تھے جس کو وہ اپنے ہاتھوں سے صاف کر رہی تھی۔
“آپ تھے ناں اپنی گڑیا کا سہارا بھائی ! آج آپ کی گڑیا گر گئی۔ آپ میرا مان تھے بھائی میں نے اس دنیا میں سب سے زیادہ آپ پر بھروسہ کیا تھا۔ آپ مجھے اکیلا کیوں چھوڑ گئے؟”
اس کی سسکیاں اس اندھیرے کمرے میں گونجی رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہیں سرفراز ولا میں داخل ہوا جائے تو سب اپنی اپنی جگہ بے حد غمزدہ تھے۔ مریم نے اپنے والدین کو کھانا کھلایا تھا۔ وہ خود بھی غم میں تھی اچانک اتنا سب کچھ ہو گیا تھا کہ سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل رہا تھا۔
مہرماہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ مریم جب اس کو کھانا دینے آئی تو اس نے انکار کر دیا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ مریم نے زیادہ اصرار نہیں کیا وہ اس کو وقت دینا چاہتی تھی تاکہ وہ خود ہی سنبھل جائے ۔ وہ جانتی تھی کہ وہ مہرماہ سرفراز ہے جو اپنی اذیت اپنے اللہ کے سوا کسی کو نہیں بتائے گی۔
مہرماہ نے وضو کیا اور اپنے خوبصورت چہرے کے گرد چادر لپیٹ کر جائے نماز بچھایا اور عشاء کی نماز ادا کی۔ پوری نماز میں ایک لمحے کے لیے بھی اس کے آنسو نہیں تھمے تھے۔ اور اس نے ان آنسوؤں کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ اس نے بہت ہمت سے یہ وقت گزارا تھا مگر اب اپنے رب کے سامنے وہ ٹوٹ رہی تھی بکھر رہی تھی کیونکہ جانتی تھی کہ وہ اسے جوڑ لے گا۔ ہاں وہی رب جو ہمیشہ دل کی کرچیوں کو جوڑ کر نئے سرے سے دل کو مضبوط کر دیتا ہے۔ وہی جو کبھی نہیں دھتکارتا۔ وہی جو دلوں میں سکون اتار دیتا ہے۔
“یا رحمن! آپ تو رحم کرنے والے ہیں ناں مجھ پر رحم کر دیں ۔ یہ اذیت مجھے توڑ رہی ہے۔ میری ہمت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ میں تو بہت کمزور ہوں کیسے سنبھالوں خود کو۔ مجھے تو صرف آپ ہی سنبھال سکتے ہیں۔ میں صرف آپ سے ہی مانگتی ہوں آپ مجھے محروم نہیں کرنا۔”
اپنے ہاتھوں کو دعا کی حالت میں اٹھائے وہ اپنے رب سے فریاد کر رہی تھی۔
“یا غفور ! تو تو بخشنے والا ہے ناں۔ تو میرے اورہان کی ہر غلطی ان کے ہر گناہ کو بخش دینا۔ وہ میری زندگی تھے اللہ۔۔۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے خود کو کھو دیا۔”
وہ اپنے رب کے حضور اپنے محرم کے لیے دعاگو تھی۔
“میں ان کے بغیر ادھوری رہ گئی اللہ۔۔۔ وہ میری محبت تھے میرے مالک ، مجھے تو انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کا اور میرا ساتھ عالم ارواح میں ہی لکھ دیا تھا۔ مگر اس فانی دنیا میں ان کا اور میرا ساتھ فنا ہو گیا۔ “
آہستہ آہستہ اس کی ہچکیاں بندھ رہی تھی۔
“یا اللہ مجھے صبر دے دے۔ مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا۔ میرا دل پھٹ رہا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے میں اپنی زندگی ہار بیٹھوں گی۔”
اس اذیت ناک لمحہ میں ایک جملہ اس کے کانوں میں سنائی دیا۔
“مہرو جانتی ہو جب میں پریشان یا خوش ہوتی ہوں غرض میری کوئی بھی کیفیت ہوتی ہے تو میں اپنے اللہ کی بات بھی سنتی ہوں۔”
یونیورسٹی کے گارڈن میں ایک بنچ پر بیٹھی ام ہانی نے مہرماہ سے اپنا راز شئیر کیا۔
“وہ کیسے؟”
مہرو نے تجسس سے اس کی جانب دیکھا جس کی نقاب سے جھانکتی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک تھی۔
“میں بسم اللہ پڑھ کر قرآن پاک کھولتی ہوں مہرو، اپنے سبق سے کھولوں یہ ضروری نہیں ہوتا ویسے ہی جہاں سے بھی کھل جائے اور میری نظر کسی ایک آیت پہ ٹھہر جاتی ہے اور جانتی ہو اس آیت میں میرے ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے۔”
“واو! اٹس آ میریکل “
وہ ام ہانی کے ساتھ رہتے ہوئے جان چکی تھی کہ وہ جھوٹ نہیں بولتی۔
“تم بھی ٹرائی کرنا۔”
“ہاں ضرور مجھے تو سن کر ہی کافی دلچسپ معلوم ہو رہا ہے۔”
اس آواز نے اس کو بھولی ہوئی بات یاد دلا دی تھی۔ یہ آواز اس کو یقینا اس دو جہانوں کے مالک و پروردگار نے ہی سنوائی تھی۔ وہ میکانکی انداز میں جائے نماز سے اٹھی۔ قرآن پاک والی الماری سے قرآن پاک اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور چلتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی۔اس کے آنسو تھم چکے تھے۔ اس وقت اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اپنے رب کے الفاظ پڑھنے جا رہی تھی۔ اس نے بسم اللہ پڑھی اور قرآن پاک کو کھول دیا۔
ایک آیت پر اس کی نگاہ خود بخود ٹھہر گئی۔
( وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ) [الشورى: 43]
” اور جو شخص صبر کر لے اور معاف کردے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔”
اس آیت کو پڑھتے ہوئے اس کے آنسو پھر سے رواں ہو گئے۔ اسے اس کا رب اپنے الفاظ میں تسلی دے رہا تھا۔ وہ اسے بتا رہا تھا کہ وہ بہت ہمت کا کام کر رہی ہے وہ اس کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ وہ اس کی ہمت بندھا رہا تھا۔ کون کہتا تھا کہ اللہ سنتا نہیں ہے؟ اس نے تو اپنے رب سے صبر مانگا۔ اس کو اپنی اذیت بتائی۔ اس رب نے تو اس کو یہ نہیں کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ وہ تو اس کے دل کے حالات سے خوب واقف تھا۔
اسے اپنے رب پر بے انتہا پیار آیا۔ کتنا مہربان ہے اس کا رب جس نے کبھی کسی بھی مشکل میں اسے تنہا نہیں چھوڑا۔ جس نے اپنے الفاظ سے اسے تسلی دی۔ جس نے اسے صبر اور ہمت دی کیونکہ اس کی رضا کے بغیر تو وہ صبر بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اس نے قرآن پاک کے ورقوں کو پلٹا تو ایک اور آیت پہ اس کی نظر جا ٹھہری۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُـوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ (153)
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اپنے رب کی اتنی محبت اور تسلی پر اس کے اشک بہنا بند ہو گئے تھے۔ ہاں وہ ہے نا اس کے ساتھ ۔ وہ جس کے ساتھ بھی ہوتا ہے اسے بھلا ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ وہ اپنے رب کی بھیجی ہوئی آیات کو پڑھنا شروع ہو گئی۔ سکون اس کے رگ وپے میں سرایت کرنا شروع ہو گیا۔ اس کو نیند نے آن گھیرا اس نے قرآن پاک کو واپس الماری میں رکھا اور جائے نماز کو تے لگا کر اس کی جگہ پر رکھا۔ وہ بیڈ کی جانب آئی تو نیند کا غلبہ اس پر طاری ہو گیا اور وہ اپنے محرم کے لیے دعا کرتی ہوئی اس آزمائش بھری دنیا سے کچھ پل کے لیے بیگانہ ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مڈل کلاس طبقے کے ایک چھوٹے لیکن خوبصورت گھر میں آیا جائے تو کھڑکی دروازے بند کیے،روشنی بجھائے ایک وجود بیڈ کی پائنتی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا نظر آیا۔ آنکھیں بند کیے ، آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ وہ ایک خیال میں کھویا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کا خیال تھا جب گھر کے جھگڑوں سے تنگ آ کر بغیر سوچے سمجھے وہ ایک کبیرہ گناہ کرنے جا رہا تھا۔
“آج میں خود کو ختم کر لوں گا۔ میرے جیتے جی میں نے کبھی اس گھر میں سکون نہیں دیکھا۔ لیکن اب میں مر کر سکون حاصل کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ بیوقوف خودکشی کو سارے غموں سے نجات کا ذریعہ سمجھے بیٹھا تھا۔ اس غرض سے وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا اور اس مڈل طبقے کے گھروں سے باہر سیدھی اور کشادہ سڑک پر گاڑی ڈال دی۔
وہ نہایت تیز سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ اس کے دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب تھیں۔ ایک دم اس کے فون پر وائبریشن شروع ہوئی۔ فون اس کی جیب میں تھا لیکن اس نے نہیں نکالا۔ وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مسلسل وائبریشن پر اس نے غصے دے فون کو نکالا اور نمبر دیکھے بغیر ہی کان کو لگا لیا۔
“سکون نہیں ہے تمہیں؟ کیا مسئلہ ہے ؟کیوں بار بار فون کر رہے ہو؟”
اورہان جس نے اس سے اس کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کیا تھا۔ اس کے لہجے کی بیگانیت اور بیزاریت محسوس کرتے ہوئے اس کے دل میں وہم آنا شروع ہو گئے۔ انس نے کبھی اس سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ اس نے فورا لوکیشن ٹریکنگ ایپ کھولی۔ انس کی حالت کے پیش نظر اس نے احتیاطا یہ ایپ انسٹال کر رکھی تھی جس کا علم انس کو بھی نہیں تھا۔
اس نے جب انس کی لوکیشن کو شہر سے باہر والے راستے پر برق رفتاری سے موو کرتے دیکھا تو فورا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ بھاگتا ہوا وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا۔
“کیا ہوا اورہان ، اتنی جلد بازی میں کہاں جا رہے ہو؟”
“میں آ کر بتاوں گا بابا۔ دعا کیجیے گا انس ٹھیک ہو۔”
“کیا ہوا انس کو؟”
حیدر صاحب پریشان ہو گئے تھے۔
“دعا کریں اسے کچھ نہ ہوا ہو۔”
یہ کہتے ساتھ ہی وہ دوڑتا ہوا گیراج تک آیا ۔ وائٹ اوڈی سٹارٹ کی اور اس کی لوکیشن کو ٹریک کرنا شروع کر دیا۔
وہ مسلسل اس کو فون کر رہا تھا جس نے غصے میں فون کو سیٹ پر دے مارا تھا۔
رش ڈرائیونگ کرتے،سگنلز توڑتے، بہت بار ٹکراتے ٹکراتے بچتے وہ بھی اسی سڑک پر آ چکا تھا جس پر انس کے نمبر کی لوکیشن شو ہو رہی تھی۔ انس کی گاڑی کی رفتار پہلے کی نسبت اب کم تھی۔ رات کے اس پہر فل تیز سپیڈ کے ساتھ اورہان کی وائٹ اوڈی سڑک پر بھاگ رہی تھی۔ اکا دکا گاڑیوں کا گزر بھی ہو رہا تھا۔ اور ان ہی گاڑیوں میں اسے دور ایک سینٹرو جاتی دکھائی دی۔ اس نے گاڑی کی رفتار مزید تیز کر دی تھی۔ کچھ ہی سیکنڈز میں اس کی وائٹ اوڈی انس کی سینٹرو کے بالکل برابر آ چکی تھی۔
“انس گاڑی روکو فورا”
وہ جو اپنے ہی دھیان میں اپنے خیالات سے لڑتا خودکشی کرنے جا رہا تھا ایک جانی پہچانی آواز پر نگاہ سڑک سے موڑ کر دائیں جانب کی۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
آہستہ آواز میں اورہان سے استفسار کیا جسے انس کی آواز بالکل بھی سنائی نہیں دی۔
“میں نے کہا گاڑی روکو انس”
نہایت اونچی آواز میں اس نے رعب دار لہجے میں انس کو گویا حکم سنایا۔ اسے انس کی حرکت پر شدید غصہ آ رہا تھا۔
نہ جانے انس کے دل میں کیا آیا کہ اس نے گاڑی کی بریک پہ پاوں رکھ دیا اور ایک جھٹکے سے گاڑی رک چکی تھی۔
اورہان نے فورا اپنی گاڑی کو بریک لگائی اور سکون کا سانس بھرا۔ پھر اپنے وجیہہ چہرے پہ تیوری سجائے وہ گاڑی سے باہر نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ ایک گھونسا اسے دے مارتا انس کی آنکھوں کی نمی نے اسے یہ سب کرنے سے روک دیا۔ اس کا سارا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا اور وہ ہولے سے اس کے گرد اپنے بازو حمائل کر گیا۔ ساتھ ساتھ اس کی پیٹھ سہلانی شروع کر دی۔ اور اب کہ انس باقاعدہ رو رہا تھا۔ اس نے انس سے کوئی سوال نہیں پوچھا۔ کافی دیر رو لینے کے بعد انس اس سے الگ ہوا اور اپنے آنسو پونچھے۔
“اگر آج تم نہیں آتے تو شاید میں خود کی جان لے لیتا۔”
اس کے الفاظ نے اورہان کو پھر سے غصہ دلا دیا تھا۔
“تم ہوتے کون ہو انس اپنی جان لینے والے؟تمہیں کس نے اختیار دیا کہ تم اللہ کے کاموں میں مداخلت کرو؟”
وہ اس کا گریبان دبوچے اس سے پوچھ رہا تھا۔
“مجھ سے نہیں برداشت ہوتے یہ جھگڑے۔ اب میں ہر روز کا یہ تماشا نہیں دیکھ سکتا۔ وہ سمجھتے کیوں نہیں کہ میں ہرٹ ہوتا ہوں۔”
“وہ تمہارے والدین ہیں انس اور تمہیں کیا لگتا ہے انہیں شوق ہے لڑنے کا؟ ان کی ذہنی مطابقت نہ ہونے کے باوجود بھی صرف تمہارے اور سعد کے لیے وہ کمپرومائز کر رہے ہیں ۔ اور تم یہ صلہ دے رہے ہو انہیں؟”
یہ سب تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ اس کے والدین شاید کب کی اپنی راہیں جدا کر لیتے اگر انہیں انس اور سعد کا خیال نہ ہوتا۔
“تم انہیں یہ سب بتاو گے تو نہیں؟”
ایک شرمندگی نے اس کو آن گھیرا تھا۔ یہ سب وہ کیا کرنے جا رہا تھا۔
“میں کیا بتاوں گا انہیں کہ ان کے بیٹے کو ان کی قربانیاں نظر ہی نہیں آئیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہیں یا انہیں دکھ دوں گا؟”
“کبھی نہیں۔ لیکن میں گھر نہیں جاوں گا۔”
“وجہ؟”
آئی برو اچکا کر سوال پوچھا۔
“اورہان مجھے سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ مجھے وہاں سکون نہیں ملتا۔”
وہ بیچارگی سے کہہ رہا تھا۔
“تم میرے ساتھ چلو۔ آج تم میری طرف رہو اور کل ہم ناردرن ایریاز کی سیر کو جائیں گے۔ تم پرسکون ہو جاو گے۔”
“لیکن۔۔۔”
“لیکن ویکن کچھ نہیں۔ میں انکل آنٹی کو انفارم کر دوں گا۔ اب تم ڈھنگ سے ڈرائیو کرتے ہوئے میرے گھر چلو۔”
انس کو باقاعدہ تاکید کرتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی جانب آیا۔انس ،اورہان کے ساتھ اس کے گھر چلا آیا تھا۔ اورہان اسے اپنے کمرے میں لے آیا تھا اس کو خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا اور پھر اسے نیند کی گولی دی تاکہ وہ پرسکون نیند لے سکے۔ اس رات انس پرسکون نیند سویا تھا اور اس کے بعد ہی اس نے سکون کی غرض سے نیند کی گولیاں لینی شروع کر دی تھیں۔ صبح ہوتے ہی وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے سیر و تفریح کے لیے نکل پڑا تھا۔ انس کی اذیت کے پیش نظر اسے اپنے والدین کو اس بات سے آگاہ کرنا پڑا۔ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اورہان گھر سے اتنی دیر دور رہا ہو۔ وہ اورہان سے انس کی خیریت بھی معلوم کرتے رہتے تھے۔ اور اس کی واپسی پر صوفیا بیگم نے اس کے لیے پورا اہتمام بھی کیا تھا ۔ گویا وہ ایک ہفتہ نہیں بلکہ ایک سال بعد آیا ہو۔
منظر ختم ہو چکا تھا لیکن منظر کے احساسات آج بھی تازہ تھے۔
“تم نے تو مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑا تھا اورہان۔ وہ لمحہ جب بھی مجھے یاد آتا ہے تو میں کانپ اٹھتا ہوں۔ اگر تم اس وقت وہاں نہیں آتے تو میں ایک بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو جاتا۔ لیکن میں کیسا دوست ہوں تم مصیبت میں تھے اور میں دنیا سے بیگانہ پرسکون نیند لے رہا تھا۔”
وہ شدید غم اور پچھتاوے کا شکار ہو چکا تھا۔
“میں تمہارے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے بغیر اب سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔ ہر وہ شخص جس نے تمہیں تکلیف پہنچائی انس مجتبٰی کسی ایک کو بھی معاف نہیں کرے گا۔”
اپنی آنکھوں میں اس کا چہرہ سمائے وہ ایک عزم سے بول رہا تھا۔ اب وہ ایک سیکنڈ بھی سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
