429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 19)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

رات اپنی سیاہ چادر اوڑھے گزر رہی تھی۔ اورہان ، مہرماہ اور ان کی فیملی کے لیے یہ رات آج بہت بھاری اور سست تھی۔

نہ جانے جب ہم یہ چاہتے ہیں کہ وقت تیز رفتار پکڑے تو وہ دھیما کیوں چلتا ہے،آہستہ کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔۔

پوری رات کوئی سو نہیں سکا تھا ماسوائے صوفیا بیگم اور ماریہ بیگم کے کیونکہ ماریہ بیگم کا بی پی شوٹ کر گیا تھا جس کے باعث ان کو بھی نیند کی دوا دے دی گئی تھی۔

مہرماہ کو تو کسی کی خبر ہی نہیں تھی۔

پوری رات نہ وہ کمرے سے باہر آئی نہ ہی کسی کو کمرے میں آنے دیا۔ ماریہ بیگم کی طبیعت کے بارے میں بھی اسے نہیں بتایا گیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مہرماہ مزید پریشان ہو۔ وہ اسے وقت دے رہے تھے تاکہ وہ سنبھل جائے کیونکہ اس کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔

تہجد کے بابرکت اور پرنور ماحول میں جب اذانیں گونجی تو مہرماہ متوجہ ہوئی۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا تو احساس ہوا کہ وہ کئی گھنٹوں سے بغیر ہلے ایک ہی جگہ پر ساکت و جامد بیٹھی ہوئی تھی ۔اس کی آنکھیں اب خشک ہو چکی تھی۔

اس کی زبان پر کوئی گلہ شکوہ نہیں تھا شاید وہ اس کنڈیشن میں ہی نہیں تھی کہ کسی سے کچھ پوچھ سکتی۔ وہ بیڈ سے اٹھی تو سرخ چوڑیوں نے کمرے کی خاموشی میں انتشار پیدا کیا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حلیے کو دیکھا تو وہ ابھی تک اسی عروسی جوڑے میں ملبوس تھی مگر وہ جس کے لیے آج اس نے یہ پہنا تھا اس کی تو اس نے کوئی خیر خبر ہی نہیں لی۔

“یا اللہ، یہ کیا ہو گیا ہے مجھے میں نے تو ہمت سے کام لینا تھا۔ میں اتنی کمزور نہیں پڑ سکتی۔ سب میری وجہ سے پریشان ہو رہے ہوں گے۔”

فریش ہو کر سادہ سا نیلا سوٹ پہنے جب وہ وضو کر رہی تھی تو اس کی نگاہ اپنے ہاتھ پر موجود اس نام پر گئی جو نام اس کے دل پر لکھا جا چکا تھا۔

“کیا اورہان ایسا کر سکتے ہیں؟ کیا وہ اپنے فائدے کے لئے اتنا غلط کام کر سکتے ہیں؟ نہیں یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ اے رب میری مدد فرما۔”

وہ بےبس تھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ آخر اس نے تہجد ادا کی اور دعا مانگی۔ فجر کا وقت ہوا تو وہ نماز ادا کر کے اپنے کمرے سے باہر آئی۔ ٹی وی لاوئنج میں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک آواز نے اس کے قدم منجمد کر دیے۔

“مشہور آرکیٹیکٹ اورہان حیدر عظیم جو کہ ولید نعمان کا ہسپتال بنا رہا تھا انہوں نے چند روپے کے منافع کے لیے لوگوں کی زندگی داو پر لگا دی۔ ناقص میٹیریل سے بننے والا ہسپتال بننے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہو گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو معصوم جانیں بھی نگل گیا۔”

اینکر گلا پھاڑ کر خبر پڑھ رہا تھا۔

حیدر صاحب صوفہ پر سر پکڑے بیٹھے تھے ٹی وی پر چلتی ان کے بیٹے کی فوٹیج جو ایک الزام کے ساتھ نشر کی جا رہی تھی، ان کا کلیجہ پھاڑنے کو کافی تھی۔

پریشان سے سرفراز صاحب چکر پر چکر کاٹ رہے تھے کہ ان کی نظر مہرماہ پر گئی جو بغیر کسی تاثر کے ایک ہی جگہ پر منجمد کھڑی تھی۔

“مہرماہ بیٹا”

سرفراز صاحب کی پکار پر حیدر صاحب بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ آگے بڑھ آئی۔

“بیٹا کیا آپ ان کی بات پر یقین کر رہی ہیں؟”

حیدر صاحب نے ٹی وی کی جانب اشارہ کر کے استفسار کیا۔

“مجھے کیا کرنا چاہیے انکل؟”

جواب دینے کی بجائے سوال پوچھا گیا۔

“بیٹا کسی بھی رشتے کی بنیاد بھروسہ پر ہوتی ہے اگر بھروسہ نہ ہو تو کوئی رشتہ نبھایا نہیں جا سکتا۔”

“ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ بھروسہ ہی تو ضروری ہوتا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں کس پر بھروسہ کروں گی؟”

“میرے اورہان کو لگتا ہے کہ اس کی مہرماہ کبھی اس سے دستبردار نہیں ہو گی چاہے جو بھی ہو جائے۔”

“یہ آپ سے اورہان نے کہا؟”

وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی۔

“جب ہم بارات لے کر آئے تھے تو اس وقت اس نے مجھے یہ کہا تھا۔”

“انہوں نے بالکل ٹھیک کہا تھا انکل ۔”

ایک عزم تھا جو مہرماہ کی نگاہوں میں دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی بات سے وہاں موجود دونوں نفوس کی سانس میں سانس آئی تھی۔

“ہمیشہ خوش رہو بچے۔”

حیدر صاحب نے دل سے دعا دی مگر ساری دعائیں قبول بھی تو نہیں ہوتی ناں۔

“بیٹا آپ ناشتہ کر لو کل سے کچھ نہیں کھایا آپ نے۔ میں مریم کو کہتا ہوں وہ فاریہ کے پاس ہو گی۔”

سرفراز صاحب نے اپنی بیٹی کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔

“نہیں بابا میں خود دیکھ لوں گی۔”

“ٹھیک ہے بچے ، تھوڑی دیر تک میں اور تمہارے انکل تھانے جائیں گے۔”

“جی بہتر بابا”

وہ اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔ اندر آ کر اس نے ایک فون کال کی۔ کچھ سوچ کر سیاہ عبایا اور سفید حجاب نکالا۔

اتنی دیر میں اس کے فون پر زویا کی کال آئی۔

“ہیلو مہرماہ، بہت افسوس ہوا مجھے۔”

انتہائی طنزیہ ٹون میں کہا گیا۔

“کس چیز کے لیے؟”

“وہ میں نے صبح سوشل میڈیا پر تمہارے ہسبینڈ کے بارے میں دیکھا۔ سنا ہے عین شادی کے وقت اسے پولیس پکڑ کر لے گئی وہ بھی قتل کے جرم میں۔ چہ چہ۔۔۔”

“مجھے تمہارے کسی افسوس کی ضرورت نہیں ہے زویا ۔ آئیندہ فون نہیں کرنا مجھے۔”

“اوہ تم تو غصہ ہی کر گئی۔ ویسے مجھے لگ رہا ہے صدمے میں ہو گی۔”

“تمہیں اس معاملے میں بولنے کی میں قطعا اجازت نہیں دوں گی۔”

“تم سے کس نے اجازت مانگی ہے مہرماہ، ساری دنیا بولے گی کیا کر لو گی تم؟”

نہایت بدتمیزی سے کہا۔

“میں ہر ایک کا منہ بند کرواو گی۔ تم اپنے کام سے کام رکھو۔”

نہایت ضبط سے کہا۔

“ویری فنی”

طنزیہ مسکرا کر گویا اس کا مذاق اڑایا۔

“لیٹس سی زویا ، جسٹ ویٹ اینڈ واچ”

“دیکھ لیں گے۔”

مہرماہ نے ٹھک فون بند کر دیا۔ اس کے فون پر پیغامات کی بھر مار لگ چکی تھی۔ کوئی افسوس کر رہا تھا تو کوئی ہمدردی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عریش نہایت اطمینان سے راکنگ چئیر پر بیٹھا ہوا تھا۔

فہد اس کے مقابل بیٹھا اس کو تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا۔

“باس اس کا وکیل تو جلدی نہیں اٹھے گا۔ باقی وکلا کو ہم بآسانی خرید لیں گے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔”

“لیکن اس بات کی یقین دہانی کر لینا کہ کوئی بھی اس کی ضمانت نہ کروائے اور نہ ہی اس کا کیس لڑے۔”

“فکرمند نہ ہوں باس سب ہو جائے گا۔ بس انعام کا خیال رکھیے گا۔”

آنکھ ونک کر کے عریش کو دیکھا جس کے چہرے پر آسودہ سی مسکان تھی۔

“اس کی تم فکر نہ کرو۔ بس جیسا کہا ہے ویسا کرو۔”

“لیکن ایک بات مجھے کھٹک رہی ہے۔”

“کیا؟”

“آپ کو اورہان سے آخر کیا مسئلہ ہے۔ اس نے تو آپ کی فیکٹری بہت دل سے نہایت عمدہ بنائی اور یہ بھی سنا ہے کہ اس نے اپنا منافع بھی اسی فیکٹری میں دے دیا تھا۔”

وہ حیران تھا کہ عریش ایسے انسان کے ساتھ جس سے کوئی مسئلہ بھی نہیں، نہ ہی کوئی دشمنی ہے وہ اس کو کیوں برباد کرنا چاہتا ہے۔

“تم اپنے کام سے کام رکھا کرو آئیندہ تمہیں یہ بات دوبارہ نہ بتانی پڑے۔”

انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔

“اوکے اوکے ریلیکس “

دونوں ہاتھ اٹھا کر فورا سرینڈر کیا۔ وہ اس کا غصہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔

وہیں تھانے آیا جائے تو حیدر صاحب اور سرفراز صاحب اورہان سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انس نے جن وکلا سے بات کی تھی وہ اچانک پیچھے ہٹ گئے تھے۔ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا تھا۔

“کیوں بھئی مشہور آرکیٹیکٹ، کوئی وکیل نہیں آیا؟”

ایس پی نے طنزیہ اور استہزیہ انداز میں پوچھا۔

“میں ہوں اورہان حیدر عظیم کی وکیل، مہرماہ سرفراز۔ “

ان الفاظ نے وہاں موجود سبھی لوگوں کو جامد کر دیا تھا۔ انہوں نے حیرت سے اس آواز کا پیچھا کیا تو سیاہ برقع پہنے سفید حجاب میں موجود مہرماہ ہاتھوں میں فائل پکڑے گردن اٹھا کر کھڑی نظر آئی۔

“مہرماہ “

بے ساختہ اورہان کے منہ سے یہ الفاظ برآمد ہوئے۔ لیکن اس کی آواز بےحد دھیمی تھی جو کسی نے نہیں سنی۔

“بیٹا آپ یہاں؟”

اس کے بابا اور حیدر صاحب فورا اس کی جانب آئے۔ انس ، اورہان کے پاس ہی کھڑا تھا ۔

مہرماہ بھی ایک وکیل ہے یہ بات تو ان کے دماغ میں ہی نہیں آئی تھی۔

“بیٹا آپ یہ کیس ہینڈل کر لیں گی؟”

“آپ کو مجھ پر شک ہے بابا؟”

“تھوڑا تھوڑا”

انگشت شہادت اور انگوٹھے کو قریب کر کے تھوڑے کا اشارہ کیا۔

“بابا اپنی بیٹی پر بھروسہ رکھیں۔”

“بیٹا ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے۔”

حیدر صاحب نے پورے مان سے اپنی بیٹی جیسی بہو کو کہا۔

ایس پی پریشان سا اب ان کو دیکھ رہا تھا۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا تھا۔ اب یہ لڑکی کہاں سے آ گئی۔ عریش کو فوری اطلاع دینا ضروری تھا۔ وہ وہاں سے چلا گیا۔

مہرماہ ، اورہان کے پاس آئی تو انس نے سر کے خم سے بھابھی کو سلام کیا جس پر اس نے بھی اسی انداز میں جواب دیا اور پھر انس وہاں سے چلا گیا۔ اب وہاں اورہان اور مہرماہ ہی موجود تھے۔

“مہرماہ “

مہرماہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔

“اورہان”

“آپ یہاں؟”

“اب ایسے مت شو کروائیں جیسے آپ کو یقین نہیں تھا کہ میں آوں گی۔”

“مجھے لگا تھا آپ صرف ٹیچر ہیں۔”

“پھر تو آپ نے مجھے انڈرایسٹیمیٹ کر دیا۔”

فخریہ جتایا جس پر وہ خاصا محظوظ ہوا۔

“سوری “

“کس لیے؟”

“آپ کے خواب پورے نہیں کر سکا۔ میری وجہ سے آپ کو شرمندگی اٹھانا پڑی ہو گی۔”

وہ نیچے دیکھ کر بات کر رہا تھا۔

“اورہان میری طرف دیکھیں۔”

اس پر اس نے اپنی ہیزل آنکھیں اس بھوری آنکھوں والی کے چہرے پر جمائی جس کا چہرہ ہمیشہ کی طرح روشن اور معصوم تھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ اسے دیکھتا ہی جائے۔

“جو ہوا وہ ایسے ہی ہونا تھا۔ ہم چاہ کر بھی اپنی قسمت نہیں بدل سکتے۔ لیکن جو ہوا اس پر پچھتانے اور رونے کی بجائے اس کو درست کرنے کی کوشش تو کر ہی سکتے ہیں ۔اور ایک بات یاد رکھیے گا جب مہرماہ نے کہا کہ اسے اورہان پر یقین ہے تو سمجھ لیں کہ اس نے سچ کہا کیونکہ میں جھوٹ نہیں بولتی۔”

اورہان کو اپنی محبت پر آج مزید فخر ہو رہا تھا۔ اس کے رب نے اسے بہترین سے نوازا تھا۔ وہ لڑکی مشکل میں بھی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ عام لڑکیوں کی طرح آنسو بہانے اور گلے شکوے کرنے کی بجائے وہ سنبھلی ہوئی اپنے ساتھی کو دلاسہ دے رہی تھی۔

“مجھے آپ سے نوازا گیا ہے اس کا شکر میں مر کر بھی ادا نہیں کر سکتا۔”

“اورہان “

تقریبا چیختے ہوئے کہا۔

“کیا ہوا؟”

“آئندہ آپ مرنے مارنے والی بات نہیں کریں گے ورنہ میں آپ سے بات بھی نہیں کروں گی۔”

نروٹھے پن سے دھمکی لگائی۔

“سوری مہرماہ، غلطی سے میری زبان سے پھسل گیا۔”

وہ اب بھی منہ بسور کر کھڑی تھی۔

“مہرماہ، کہا تو ہے میں نے سوری۔ پرامس آئیندہ نہیں کہوں گا۔”

مہرماہ نے چہرہ اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں نمی جھلک رہی تھی۔

“پلیز نہیں مہرماہ، میں آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔ میں آپ کو رلانے کا سبب بن رہا ہوں۔”

وہ شرمندہ ہو رہا تھا۔

“نہیں تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ مجھے اب ساری ڈیٹیلز بتائیں شروع سے لے کر آخر تک اور جن پر شک ہے وہ بھی بتائیں۔”

اس نے فوری طور پر ان آنسوؤں کو اندر دھکیلا اور بات بدلی۔ جس پر ایک گہرا سانس خارج کر کے اورہان نے اسے تفصیلات بتانا شروع کی۔

“عین آپ کی گرفتاری سے ایک دن پہلے آپ کے وکیل کا ایکسیڈنٹ اور آئی سی یو میں ایڈمٹ ہونا یہ سب سوچی سمجھی سازش لگ رہی ہے۔”

وہ پین سے پوائنٹس نوٹ کر رہی تھی۔ ساتھ ساتھ اپنا تجزیہ بھی اس کے ساتھ شئیر کر رہی تھی۔

“پہلے مجھے لگا تھا کہ یہ صرف ولید نعمان کو بدنام کرنے کی سازش ہے مگر اب حالات کا تقاضا یہی کہہ رہا ہے کہ یہ ولید نعمان سے زیادہ مجھے بدنام کرنے کی کوشش ہے۔”

“آپ کی کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں؟ میرا مطلب، بزنس میں لوگ حسد کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہو سکتا ہے اسی وجہ سے کسی نے آپ کا نام ڈبونے کی کوشش کی ہو۔”

“مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی بزنس رائول کا کام ہو سکتا ہے۔”

“ہوں۔ کوئی ایسا جس پر آپ کو شک ہو۔”

“نہیں مجھے کسی پر شک نہیں ہے۔”

چند سیکنڈز خاموش رہنے کے بعد اورہان نے جواب دیا۔

“ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گی کہ جلد از جلد آپ کی ضمانت ہو جائے۔”

“شکریہ مہرماہ “

اس پر مہرماہ نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔

“ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔”

وہ کسی کنفیوژن کا شکار تھا۔

“کونسی بات؟”

کاغذات سمیٹتے ہوئے کہا۔

“آپ نے تو لاء پریکٹس نہیں کیا تھا۔ اور جہاں تک مجھے علم ہے آپ نے کبھی کوئی کیس بھی نہیں لڑا۔”

“ہوں”

“آپ میری خاطر کر رہی ہیں ناں کیونکہ میں جانتا ہوں آپ کو کبھی کیسز میں الجھنا پسند نہیں تھا۔”

“نہیں میں آپ کے لیے نہیں کر رہی۔”

بغیر ہچکچائے جواب دیا۔ اورہان کا تو سانس ہی اٹک گیا۔

“پھر؟”

“میں یہ ہمارے لیے کر رہی ہوں اورہان، چاہے مجھے کورٹ کچہری نہیں پسند لیکن اپنی فیملی کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں اور آپ میری فیملی ہیں۔ اب میں چلتی ہوں آپ کو مزید ان سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔”

وہ اورہان کو سرشار چھوڑ کر تھانے سے باہر آ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایس پی نے فورا عریش کو فون کیا۔

“سر ایک گڑبڑ ہو گئی ہے۔”

“کیا ہوا؟”

عریش فورا سیدھا ہو کر بیٹھا۔

“سر آپ نے تو کہا تھا کہ اورہان حیدر عظیم کو کوئی وکیل نہیں ملے گا اسی صورت ہی اس کی ضمانت روکی جا سکتی تھی۔”

“تو اب کیا ہو گیا ہے؟”

“سر ایک لڑکی آئی ہے وہ کہہ رہی ہے کہ وہ اس کی وکیل ہے۔”

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ تم رکو میں ابھی فہد سے پوچھتا ہوں۔”

اس نے غصہ میں ایس پی کی پوری بات سنے بغیر ہی فورا کال کٹ کر کے فہد کو کال ملائی۔ اصغر کی غیر موجودگی میں اس کا کام زیادہ ہو گیا۔

“فہد تم سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔ یاد رکھنا اگر اس کام میں کوئی مسئلہ ہوا تو میں نے تمہارا حشر نشر کر دینا ہے۔”

فہد جو ہینڈز فری کانوں میں ٹھونسے گانے کے بول گنگنا رہا تھا اتنی گرج دار آواز پر فورا سے پہلے ہینڈز فری اتارے۔

“باس کیا ہو گیا میں نے کوئی گڑ بڑ نہیں کی۔”

“ایس پی کا فون آیا ہے وہ کہہ رہا کہ اورہان نے وکیل کا انتظام کر لیا ہے۔ مجھے ہر حال میں اسے حوالات میں رکھنا ہے۔ اس وکیل کا فوری انتظام کرو، پیسے مانگتی ہے تو وہ دے دو اور اگر ایمانداری کا بھوت چڑھے تو اس کی کوئی کمزوری پکڑ لو۔ اور یاد رکھنا آج ہی یہ کام ہو جانا چاہیے ورنہ ۔۔”

“ورنہ کی نوبت نہیں آئے گی باس۔ اس وکیل کا تو میں کام تمام کرتا ہوں۔ ویسے بھی عورتیں تو میری کمزوری ہے۔”

گھٹیا الفاظ بولتے ہوئے مسکراہٹ سے جواب دیا۔ جس کو عریش نے مکمل سننے کی بھی زحمت نہیں کی۔

فہد نے فوری طور پر ایس پی سے رابطہ کر کے اس وکیل کا پتا لگایا اور اپنے جاننے والے سے کہہ کر اس کی معلومات نکلوائیں ۔

“اوہ تو ایک معصوم چھوٹا بھائی ہے۔”

مکروہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اس وقت وہ خطرناک ارادے سے سرفراز ولا کی جانب جا رہا تھا۔ ساتھ ہی کسی سے فون پر رابطہ بھی کر رکھا تھا۔

زاویار اس وقت گھر پر ہی موجود تھا۔ سرفراز ولا کے گیٹ پر فہد کا بھیجا ہوا آدمی آیا اور گارڈ کو زاویار کو بلانے کے لیے کہا ۔ خود کا تعارف مہرماہ کے ورکر کی حیثیت سے کروایا گیا تھا۔

زاویار گیٹ تک آیا تو اس نے اس آدمی کو بالکل نہیں پہچانا تھا۔

“سوری لیکن میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔”

“آپ ہی زاویار سرفراز ہیں؟”

گو ایک بار کنفرم کرنا مناسب سمجھا۔

“جی میں ہی ہوں۔”

” مجھے میم مہرماہ سرفراز نے آپ کو لینے بھیجا ہے۔”

دور کھڑے گارڈ کو یہ آدمی مشکوک دکھائی دے رہا تھا۔

“مگر آپ کون ہیں اور آپی آپ کو مجھے لینے کیوں بھیجے گی؟”

“سر اورہان کے کیس کے سلسلے میں انہیں آپ کی مدد درکار ہے۔”

“لیکن آپی مجھے فون بھی کر سکتی تھی۔”

زاویار کو کچھ کھٹک رہا تھا۔

“وہ میم کا فون خراب ہو گیا تھا اسی لیے انہوں نے مجھے آپ کو لینے بھیجا۔ ویسے بھی وہ یہ بات راز رکھنا چاہتی تھی تاکہ اس کیس میں مدد کے سلسلے میں کہیں پولیس کال ٹریس کر کے آپ کو بھی شامل تفتیش نہ کر لے۔”

“اچھا میں گھر بتا دوں۔”

“سر انہوں نے گھر والوں کو بتانے سے بھی منع کیا ہے۔”

“لیکن میں انہیں اطلاع تو دے دوں کہ میں باہر جا رہا ہوں۔”

“شیور سر میں گاڑی میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں۔”

وہ زاویار کو دیکھ کر اتنا تو جان ہی چکا تھا کہ وہ نہایت معصوم ہے جسے قائل کرنا کافی آسان ثابت ہوا تھا۔

زاویار نے گھر میں یہی اطلاع دی کہ اسے بس ایک ضروری کام نمٹانا ہے جو وہ جلدی جلدی کر کے واپس آ جائے گا۔

وہ گاڑی میں آیا تو گاڑی میں موجود اس آدمی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔

تھوڑی دور جا کر گاڑی روک لی گئی اور فہد سیاہ ماسک سے چہرہ ڈھانپے اس میں آ بیٹھا۔ اس سے پہلے کہ زاویار جو شک کا شکار ہو کر گاڑی کا دروازہ کھول کر اس سے کودنے کی کوشش کرتا اس آدمی نے گاڑی لاک کر دی۔ زاویار نے اس آدمی کو دبوچنے کی کوشش کی لیکن فہد نے ایک مخصوص کیمیکل کو کپڑے پر لگا کر اس کے ناک پر رکھا جسے ہٹانے کے لیے اس نے بھر پور مزاحمت کی مگر فہد جیسے انسان سے بچنا اتنا آسان نہیں تھا۔ چند لمحوں میں وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکا تھا۔

تو مہرماہ سرفراز کی کمزوری ان کے ہاتھ آ چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔