429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 14)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

چل آ اک ایسی نظم کہوں

جو لفظ کہوں وہ ہو جائے

بس اشک کہوں تو اک آنسو

تیرے گورے گال کو دھو جائے

میں آ لکھوں تو آ جائے

میں بیٹھ لکھوں تو آ بیٹھے

میرے شانے پر سر رکھے تو

میں نیند کہوں تو سو جائے

میں کاغذ پر تیرے ہونٹ لکھوں

تیرے ہونٹوں پر مسکان آئے

میں دل لکھوں تو دل تھمے

میں گم لکھوں وہ کھو جائے

تیرے ہاتھ بناوں پنسل سے

پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں

کچھ الٹا سیدھا فرض کروں

کچھ سیدھا الٹا ہو جائے

میں آہ لکھوں تو ہائے کرے

بے چین لکھوں بے چین ہو تو

پھر بے چین کا ب کاٹوں

تجھے چین زرا سا ہو جائے

ابھی ع لکھوں تو سوچے مجھے

پھر ش لکھوں تیری نیند اُڑے

جب ق لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو

میں عشق لکھوں تجھے ہو جائے

میں عشق لکھوں تجھے ہو جائے

مہرماہ جب ڈائیننگ ٹیبل پر ناشتہ کرنے کے لیے آئی تو سرفراز صاحب اور ماریہ بیگم پہلے سے موجود تھے ۔ اس نے دونوں کو سلام کیا اور اپنی نشست پہ جا کر بیٹھ گئی اتنی دیر میں زاوی بھی آ گیا۔ ناشتہ کے دوران ہلکی پھلکی بات بھی ہو رہی تھی کہ اچانک سرفراز صاحب نے حیدر صاحب کے فون کی اطلاع دی۔

“حیدر پوچھ رہا تھا کہ آج وہ آنا چاہ رہے ہیں تو ہم گھر ہی موجود ہیں ناں؟”

“پہلے تو وہ ایسے اجازت نہیں لیتے تھے خیریت تو ہے ناں؟”

ماریہ بیگم نے پریشانی سے استفسار کیا اور مہرماہ کے حلق سے نوالہ نیچے نہیں جا رہا تھا۔

“میں نے پوچھا تھا تو وہ کہہ رہا تھا سب خیریت ہی ہے بلکہ خوشی کی بات ہے۔”

“چلیں انشاءاللہ سب بہتر ہو گا۔”

“مہرماہ بیٹا آپ ناشتہ کیوں نہیں کر رہے؟”

مہرماہ کو کب سے نوالہ ہاتھ میں پکڑا دیکھ سرفراز صاحب نے استفسار کیا۔

“کھا رہی ہوں بابا، بس بھوک نہیں ہے۔”

اس نے فورا نوالہ منہ میں ڈالا اور چائے کا گھونٹ بھر کر اس کو حلق سے نیچے اتارا۔ اب وہ کیسے بتاتی کہ اس کے دل میں ایک وہم آ رہا ہے ۔۔۔۔

“زاوی تمہارا کالج کیسا جا رہا ہے؟”

“بابا بہت اچھا جا رہا ہے مجھے تو بائیولوجی پڑھ کر بہت مزہ آتا ہے۔ بس مجھے ڈاکٹر بننا ہے۔ پھر میں سب کی مدد کیا کروں گا۔”

“ان شاء اللہ بیٹا ، تمہیں بہت محنت کرنا ہو گی اچھی نیت سے پڑھا کرو ،جب تم لوگوں کی بھلائی اور خیر کے لیے کسی شعبے کو جوائن کرو گے تو ہی اس میں برکت نصیب ہو گی۔ ہمیشہ اپنے کام کے ساتھ مخلص رہنا ۔ اور یہ ضروری نہیں کہ تم ڈاکٹر بن کر ہی لوگوں کی مدد کرو تم اور بھی بہت طریقوں سے ان کی مدد کر سکتے ہو۔ ایک اچھا ڈاکٹربننے کے لیے پہلے تمہیں ایک اچھا انسان بننا ہو گا۔”

“جی بابا میں بہت محنت کروں گا ۔ بلکہ محنت نہیں سمارٹ ورک کروں گا۔ ہمارے سر کہتے ہیں کہ سمارٹ ورک کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔”

“صحیح کہتے ہیں تمھارے سر۔”

ساتھ ہی انہوں نے زاوی کا کندھا تھتھپایا۔

“میں چلتی ہوں ورنہ لیٹ ہو جاوں گی۔”

مہرماہ نے جیسے تیسے ناشتہ کیا اور اجازت لے کر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گئی۔

پورا راستہ وہ اسی پریشانی میں تھی کہ آخر ایسی کونسی خوشی کی بات ہے کہ وہ اجازت لے کر آ رہے ہیں ۔ کہیں اورہان کا رشتہ تو طے نہیں کر دیا ، کیا اس نے دیر کر دی ؟کیا وہ اپنی محبت کھو چکی ہے؟ کیا پچھتاوا اس کی زندگی کا حصہ بننے والا ہے؟ ابھی کسی سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ فاریہ سے پوچھا جائے مگر جب وہ کلاس لینے گئی تو فاریہ موجود نہیں تھی۔ اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا ۔ پھر بھی اس نے اپنی توجہ کلاس کی جانب مبذول کی ، وہ اپنے مسائل میں ان کا وقت برباد نہیں کر سکتی تھی۔ وہ ایک اچھی ٹیچر تھی جو ہر فکر اور غم کلاس سے باہر چھوڑ کر جاتے ہیں کیونکہ انہیں آنے والی نسل کو پڑھانا ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے فرض سے کوتاہی نہیں برت سکتی تھی۔

اسی وقت سرفراز ولا میں دو گاڑیاں آگے پیچھے رکی۔ گاڑی کے ہارن سے علم ہو چکا تھا کہ وہ لوگ آ گئے ہیں۔سرفراز صاحب ان کو ویلکم کرنے کے لیے دروازے تک آئے ۔وہ تینوں اب کہ گاڑی سے اتر چکے تھے اور صوفیا بیگم پچھلی گاڑی میں موجود ڈرائیور سے اب سارا سامان ملازموں کے ہاتھ اندر لے کر آنے کا کہہ رہی تھی۔ سفید پھولوں کا نہایت خوبصورت گلدستہ فاریہ نے پکڑا ہوا تھا۔ کیونکہ اسے اپنے بھائی کی ہدایت اچھی طرح یاد تھی

۔

(گڑیا جب وہ رشتے کے لیے ہاں کر دیں تو تم یہ خود ان کو دو گی۔ اور اب کی بار فاریہ نے’ان’ کے بارے میں نہیں پوچھا تھا کیونکہ اس کو جواب معلوم تھا۔)

سرفراز صاحب حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے مگر بولے کچھ نہیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تھوڑی دیر میں وہ خود ہی انہیں سب بتا دیں گے ۔

لاوئنج میں رونق لگ چکی تھی۔ ملازمین نے مٹھائیاں ، پھل ، گفٹس ٹیبل پر رکھ دیئے تھے۔ اب ماحول کچھ یوں تھا کہ حیدر صاحب اور صوفیا بیگم ایک ہی صوفے پر براجمان تھے اور ان کے بالکل سامنے والے صوفہ پر سرفراز صاحب اور ماریہ بیگم موجود تھے ۔ فاریہ ان کے ساتھ سنگل صوفہ پر موجود تھی ۔ حال احوال کے بعد انہوں نے اپنے آنے کا مقصد بیان کرنا شروع کیا۔

(لیکچر کے دوران مہرماہ کو بے چینی نے آن گھیرا)

“بھائی صاحب ہم تمہید نہیں باندھیں گے ہم مہرماہ کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں ہمارے اورہان کی دلہن۔”

(ایک ہوا کا جھونکا مہرماہ کے پاس سے گزرا جس میں سفید پھولوں کی خوشبو موجود تھی)

سرفراز صاحب اور ماریہ بیگم حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے ان کو دیکھ رہے تھے۔ مہرماہ سرفراز کے لیے اورہان حیدر عظیم سے بہتر کیا کوئی اور ہو سکتا تھا ؟ یقینا نہیں اس بات کی گواہی ان کے دل نے پورے زور و شور سے دی تھی۔

“بتائیں ناں بھابھی ہم آج جواب لے کر ہی جائیں گے۔ وہ بھی ہاں “

اس بات پر دونوں دوبارہ ان کی جانب متوجہ ہوئے۔

“ہمیں تو بہت خوشی ہے کہ آپ نے اورہان کے لیے ہماری مہرماہ کو سوچا۔ لیکن مہرماہ کی ہاں کے بغیر ہم آپ کو مثبت جواب نہیں دے سکتے۔ وہ اپنی پسند بتانے کا پورا حق رکھتی ہے۔”

(آج کی کلاسز کا وقت ختم ہو چکا تھا اس کا دل عجیب سا ہو رہا تھا اس لیے اس نے گھر جانے کا سوچا )

“ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ مہرماہ ہاں کرے پھر ہی آگے بات ہو گی۔”

(اس نے گھر جانے کے لیے گاڑی سٹارٹ کی)

“کب تک آ جائے گی مہرماہ؟”

“آپ بیٹھیں تھوڑی دیر تک مہرو آ جائے گی۔”

باتوں کا دور چل رہا تھا ساتھ میں چائے اور سنیکس سے لطف اٹھایا جا رہا تھا کہ گیٹ پر ہارن کی آواز ہوئی جو صاف اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جس کا انتظار ہے وہ آ چکی ہے۔ مہرماہ گاڑی گیراج میں پارک کرنے لگی تو نگاہ دوسری گاڑیوں پر گئی یعنی وہ آئے ہوئے ہیں۔ اس نے ایک گہرا سانس بھرا اور اندر کی جانب قدم بڑھا دیے۔

سرمئئ برقع پہنے سیاہ حجاب اوڑھے اب وہ داخلی دروازے سے اندرآ رہی تھی۔

(اپنے آفس میں بیٹھے اورہان کے موبائل پہ بپ بجی)

مٹھائیاں، فروٹ اور گفٹس دیکھ کر وہ حیران تھی ، ساتھ ہی اک پریشانی نے اس کو آن گھیرا تو کیا جو وہ سوچ رہی تھی وہ سچ ہے۔ مگر اتنا سب کچھ کس لیے آخر؟

(ایک مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا)

” مہرو بھی آ گئی”

ماریہ بیگم نے مہرو کو دیکھ کر کہا۔

مہرماہ نے سب کو سلام کیا۔

“آو بیٹا ادھر ہمارے پاس آ کر بیٹھو۔”

انہوں نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ حیدر صاحب اور صوفیا بیگم کے درمیان جا کر بیٹھ گئی۔ پریشان نظروں سے کبھی وہ ان کو دیکھتی تو کبھی اپنے ماما بابا کو۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

“بیٹا کیا تمہیں میرے اورہان کا ساتھ قبول ہے؟”

بہت مان سے سوال کیا۔ اور ادھر مہرماہ ہونقوں کی طرح اب ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ مطلب وہ سب غلط سمجھ بیٹھی تھی ادھر تو قسمت اس پر ڈھیروں مہربان تھی۔ اسے بے اختیار ہی اپنے نصیب پر رشک آیا۔

“بیٹا تم جو بھی جواب دو گی ہم تمہارے ساتھ ہیں تمہارے انکل آنٹی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کیوں حیدر؟”

یہ کہنے والے سرفراز صاحب تھے جنہوں نے اپنی بیٹی سے پوچھے بغیر کوئی جواب نہیں دینا تھا کیونکہ وہ دین کو بھی سمجھتے تھے اور اپنی بیٹیوں سے محبت بھی کرتے تھے۔

” جی بیٹا ہم آپ کی پسند کو پورے دل سے قبول کریں گے۔ آپ کمرے میں جا کر سوچ لو اگر مزید وقت بھی لینا چاہو تو لے لو۔”

حیدر صاحب نے نہایت شفقت سے مہرماہ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا۔

“فری بیٹا آپ مہرو کو کمرے میں لے جاو۔”

“جی آنٹی “

فری ہاتھوں میں گلدستہ تھامے مہرو کے ساتھ کمرے کی جانب بڑھی۔ سب ہی فاریہ کی اس حرکت پر مسکرا رہے تھے انہیں یہی محسوس ہو رہا تھا کہ یہ گلدستہ فاریہ اپنی طرف سے مہرو کو دینا چاہتی ہے۔ مہرماہ مختلف سوچوں میں الجھ گئی تھی سب اتنا اچانک تھا کہ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ غائب دماغی سے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ ٹھوکر کھا کر گرنے ہی والی تھی اگر فاریہ اسے وقت پر نہ سنبھالتی۔

“مہرو آپی آپ ٹھیک ہیں؟”

“ہاں ہاں۔۔۔ یہ تم نے گلدستہ کیوں پکڑا ہوا ہے۔”

ہڑبڑا کر جواب دیا پھر اثر زائل کرنے کے لیے سوال پوچھا ۔ ساتھ ہی کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو فاریہ بھی اس کے پیچھے ہی داخل ہوئی۔

“وجہ بتا دوں؟”

وہ شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے معصومیت سے اس سے پوچھ رہی تھی۔

“ایسی بھی کیا وجہ ہے بھئی کہ تم گلدستہ نہیں چھوڑ رہی۔”

“آپ کچھ کہیں گی تو نہیں؟”

وہ اپنے خدشات دور کرنا چاہتی تھی۔

“میں کیوں کچھ کہوں گی ۔ اب بتا بھی دو۔”

ساتھ ہی وہ سیاہ حجاب کو اتار رہی تھی۔

“اورہان بھائی نے کہا تھا جب آپ ہاں کہہ دیں تو میں ان کی طرف سے یہ آپ کو دوں۔ یہ میرا اور ان کا سیکرٹ ہے جس میں صرف آپ کو شامل کرنے کی اجازت ہے۔”

یہیں مہرماہ کے ہاتھ جو حجاب اتارنے میں مصروف تھے اب کہ رک چکے تھے۔ اس کا فیصلہ آسان ہو گیا تھا۔

“ادھر لاو یہ گلدستہ “

ایک وقفہ لے کر ہلکی سی مسکان سے کہا۔ فری نے گلدستہ اس کی جانب بڑھایا تو اس نے گلدستہ تھام لیا اور سفید پھولوں کی مہک کو اندر اتارا۔

“جو میں سمجھی ہوں کیا میں باہر جا کر بتا دوں۔”

“کیا سمجھی ہو؟”

گلدستہ پر سے نگاہیں ہٹا کر فاریہ کی جانب دیکھ کر پوچھا۔

“کہ آپ نے اس گلدستہ کی طرح بھائی کا ساتھ بھی قبول کر لیا ہے۔”

“اب بھی کوئی شک ہے۔”

بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب آیا۔

“یا ہوووو۔۔۔”

خوشی کے مارے فاریہ کی چیخ نکل چکی تھی تو مہرماہ نے اس کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا جس پر وہ کھسیانی ہو گئی۔

“مطلب اب آپ میری بھابھی بن جائیں گی۔میں ابھی سب کو جا کر بتاتی ہوں۔ “

مہرماہ پھر سے پھولوں کو تک رہی تھی کہ کچھ یاد آنے پر اس نے فری کو پکارا۔

“فری یہ سفید پھول کس کی پسند کے ہیں۔”

“اورہان بھائی کے ، نہ جانے انہیں سفید رنگ اتنا کیوں پسند ہے پہلے تو انہیں یہ رنگ بالکل بھی پسند نہیں تھا۔”

مہرماہ کو اس کے سوالوں کے جوابات ملنا شروع ہو چکے تھے۔

وہیں فری کو اورہان کے ذکر سے کچھ یاد آیا۔ خوشی اور ایکسائٹمنٹ میں یہ کام تو وہ بھولنے ہی والی تھی۔

(مہرو آپی مان گئی ساتھ میں خوشی والا ایموجی بھیجا ۔۔۔ اتنا سا جملہ جسے پڑھ کر اس کے چہرے پر بے انتہا خوبصورت مسکراہٹ آئی۔اور اس کی زبان سے ایک لفظ ادا ہوا۔ الحمدللہ)

فری نے آ کر سب کو اطلاع دی تو سب خوشی سے جھوم اٹھے۔ مٹھائیاں جو کب سے ٹوکروں میں موجود تھی اب ان کو آزادی مل چکی تھی۔ ہر جانب تبسم اور مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔

صوفیا بیگم نے مہرماہ کو انگوٹھی پہنائی ۔

اگلے جمعہ کے روز نکاح کی اور دو ماہ بعد رخصتی اور ولیمہ کی ڈیٹ فائنل کر کے وہ گھر روانہ ہوئے۔

یہ دن ان دونوں کی زندگی کے خوبصورت ترین دنوں میں شامل ہو چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرے بنگلے اور سرفراز ولا میں نکاح کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھی۔ ہر جانب ہڑبڑی مچی ہوئی تھی۔ وقت کم تھا اور تیاریاں زیادہ ۔

صوفیا بیگم کے تو بہت سارے ارمان تھے آخرکار ان کے اکلوتے بیٹے کی شادی تھی۔ فاریہ کی خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی۔

سرفراز ولا میں قدم رکھا جائے تو مریم اس وقت مہرماہ کو شاپنگ پہ جانے کا کہہ رہی تھی۔

“جلدی چلو مہرو ورنہ لیٹ ہو جائیں گے۔”

“ابھی آئی آپی بس دو منٹ۔”

جلدی جلدی برقع اور حجاب پہن کر وہ گاڑی کے پاس آئی۔ ان کو نکاح کے لیے جوڑا اور جیولری لینے جانا تھا۔ باقی سارے انتظامات سرفراز صاحب نے سنبھال رکھے تھے۔

جوڑا مہرماہ نے آرڈر پر بنوانا تھا مگر اتنی جلدی آرڈر ملنا مشکل تھا اس لیے اس نے بوتیک سے لینا ہی مناسب سمجھا۔ اس نے مارکیٹ کی جانب گاڑی کا رخ موڑا۔

نکاح کا جوڑا لینے کے بعد مریم جب جیولری لینے کے لیے آگے جا رہی تھی تو مہرماہ کو ساتھ نہ پایا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو بے ساختہ اس کے منہ سے یہی الفاظ نکلے۔

“ناٹ اگین مہرو”

وہ پیچھے عبایا شاپ پہ آئی اور مہرماہ کا کندھا ہلایا۔

“آپی آپ نے کہا تھا آپ مجھے برقع گفٹ کریں گی۔”

مہرماہ نے معصومیت سے استفسار کیا۔

” اپنی شادی کی شاپنگ پہ بھی تمہیں عبایا ہی چاہیے۔”

“پلیز آپی، دیکھیں وہ والا کلر اب بھی موجود ہے۔”

“چلو اندر “

وہ اس کو لیے عبایا شاپ کے اندر آئی اور اس کو ایک نئی شیڈ کا برقع گفٹ کیا۔ جس پر وہ پھولے نہیں سما رہی تھی۔

“اتنے برقعے ہیں تمہارے پاس پھر بھی ہر بار اتنا خوش کیوں ہوتی ہو؟”

“آپی میرا دل چاہتا ہے کہ میرے پاس برقع کی ایک بڑی سی کولیکشن ہو جس میں بہت سارے رنگوں کے برقع ہوں، مجھے اتنے پسند ہیں یہ کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔”

ہاتھوں سے ایک بڑی سی کولیکشن کا اشارہ کیا۔

“بہت معصوم ہو تم میری جان۔”

“ہائے آپی، لوگوں کو ویسے میں کافی شاطر لگتی ہوں۔”

مذاق میں کہا۔

“میری بہن سمجھ دار ہے چالاک نہیں، میں اس بات کی گارنٹی دے سکتی ہوں۔”

“شکریہ آپی”

“مہرو بابا پوچھ رہے تھے تم نے اگر کسی کو بلانا ہے تو بتا دو۔”

“آپی میں نے کس کو بلانا ہے۔”

کندھے اچکا کر جواب دیا۔

“تمہاری ایک دوست تھی نا جس کا ذکر ہر وقت تمہاری زبان پر ہوتا تھا۔ کیا نام تھا اس کا؟”

“ام ہانی “

کھوئی کھوئی آواز میں جواب دیا۔

“ہاں ہاں تم اسے ہانی کہا کرتی تھی۔ اس کو نہیں بلاو گی؟”

“میں نے اسے یونیورسٹی کے بعد بہت فون کیا اس کا نمبر ہمیشہ بند ملا ، اس کا گھر جہاں تھا وہاں بھی گئی تو ان کے محلے والوں نے کہا وہ یہاں سے شفٹ ہو چکے ہیں ۔ میں نے اسے بہت ڈھونڈا آپی مگر وہ مجھے کہیں نہیں ملی۔”

ایک حسرت تھی جو مہرماہ کی آنکھوں اور اس کے لہجے میں جھلک رہی تھی۔

اتنی دیر میں جیولری شاپ بھی آ چکی تھی۔

“تو اب مہرو اپنی فیورٹ وائٹ گولڈ کی جیولری لے گی۔”

اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے مریم نے خوشگوار موڈ میں کہا۔

“آف کورس آپی۔”

اس نے بھی اپنی آپی کا دل رکھنے کے لیے مسکرا کر جواب دیا ورنہ اندر ہی اندر وہ ایک ان دیکھے درد میں مبتلا تھی۔وہ ہانی سے اپنی ہر بات شئیر کرتی تھی اور آج بھی وہ اس کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ جس کا ساتھ اس نے اپنے رب سے مانگا وہ اس کو مل رہا ہے مگر ہانی موجود نہیں تھی۔

انہوں نے ایک خوبصورت اور نفیس سا وائٹ گولڈ کا سیٹ لیا ۔ جس پر چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈ جڑے ہوئے تھے اور نیکلس کے عین درمیان میں ڈارک گرین کلر کا ایک بڑا اور خوبصورت سٹون موجود تھا جو نیکلس کو شاہانہ بنا رہا تھا۔ اس کے میچنگ ٹاپس پر بھی گرین سٹون جڑے ہوئے تھے۔

شاپنگ پوری کر کے وہ گھر واپس آئے، ہمیشہ کی طرح اپنی ماما کو ساری شاپنگ دکھائی ، سرفراز صاحب تو اپنی بیٹی کی پسند کے مطابق لان میں ہی سارا ارینجمنٹ کروا رہے تھے۔ کیونکہ مہرو سادہ سا فنکشن چاہتی تھی جس میں چند مخلص لوگ ہی موجود ہوں جو اس کو نیک دل سے دعائیں دے۔

ایسے ہی ایک ہفتہ کب گزرا پتا ہی نہ چلا اور آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جس کا ان کو شدت سے انتظار تھا۔ جمعہ کی یہ صبح پچھلی جمعہ کی صبح سے کہیں زیادہ روشن تھی کیونکہ یہ صبح ایک خوبصورت رشتے کا آغاز کرنے والی تھی۔ موسم بھی بےحد خوشگوار تھا جیسے دو محبت کرنے والوں کے ملن پر اپنا بھی حصہ شامل کرنا چاہتا ہو۔

سرفراز ولا کو خوبصورت سفید پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔ لان میں ہر چیز سفید ہی رکھی گئی تھی صوفہ، کرسیاں، میز،سٹیج یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے برف باری سے ہر چیز سفید ہو گئی ہو۔ سوئمنگ پول میں بھی سفید پھول ڈالے گئے تھے اور سفید جھاگ تو سوئمنگ پول کو مکمل طور پر سفید کر کے برفیلا تاثر دے رہی تھی۔

نکاح کے لیے جالی دار سفید پردہ لگایا گیا تھا جس کے دونوں جانب نشست موجود تھی۔ اور پھر دولہا پوری شان سے سفید سوٹ پہنے بھوری چادر اوڑھے اپنی سفید کار سے نکلا شاہانہ چال چلتا وہ اب اندر داخل ہو رہا تھا اس کے ایک جانب اس کے بابا اور دوسری جانب انس موجود تھا۔

آج یہ بادشاہ اک شہزادی کو اپنی ملکہ بنانے آیا تھا۔

ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور پھر پردہ کے ایک جانب والی نشست پر اسے بٹھا دیا گیا حیدر صاحب اور انس اس کے ساتھ ہی بیٹھے۔پھر دلہن کو لایا گیا جو سفید لانگ شرٹ کے ساتھ سفید لہنگا پہنے جس پر سفید اور ڈارک گرین پر کشش اور نفیس ہلکا سا کام کیا ہوا تھا ہاتھوں میں سفید اور سرخ پھولوں کے گجرے پہنے ، سفید حجاب سے اپنا سر ڈھانپے بھاری سرخ گھونگھٹ اوڑھے جس سے اس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا اسے پردے کی دوسری جانب موجود نشست پر بٹھایا گیا۔ مہرماہ کے ساتھ اس کے بابا اور زاوی موجود تھا۔

اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل سامنے موجود تھے درمیان میں صرف ایک پردہ حائل تھا۔ وہیں مہرماہ نروس ہو رہی تھی۔ جو بھی تھا اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا تھا اور وہ اس کو لے کر بہت پر امید بھی تھی مگر ایک لڑکی کے لیے نکاح کے پیپرز پر دستخط کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہتا ہے۔

نکاح شروع ہوا۔

“اورہان حیدر عظیم ولد حیدر عظیم کا نکاح مہرماہ سرفراز ولد سرفراز احمد سے بعوض پچاس لاکھ حق مہر طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”

اورہان کے کہنے کے مطابق نکاح خواں نے پہلے مہرماہ سے پوچھا۔

“قبول ہے۔”

( کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟)

“قبول ہے۔”

(یقین ہے ناں مجھ پر؟)

“قبول ہے۔”

اور اس شہزادی نے بادشاہ کا ساتھ قبول کر کے خود کو ملکہ کے عہدے پر فائز کیا۔

پھر اورہان سے پوچھا گیا جس پر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے نہایت مضبوط ارادے سے تینوں بار اس جان سے پیاری لڑکی کا ساتھ قبول کیا۔

نکاح کا مرحلہ طے ہوا تو ہر جانب مبارک باد کا شور اٹھ کھڑا ہوا۔ اورہان سب سے پہلے اپنے بابا کے گلے ملا ، پھر سرفراز صاحب کے گلے لگا اور ان سے پیار لیا تو انس جو اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا اس نے زور سے اورہان کو گلے لگا لیا۔

“آج میرا دوست شادی شدہ ہو گیا مبارک ہو تجھے، یار ویسے تجھے تنگ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ “

گہرے نیلے رنگ کا سوٹ پہنے ساتھ سفید واسکٹ زیب تن کیے انس مسکراتا ہوا اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔ اور مہرماہ کے پاس کھڑی فاریہ نے اس کو مسکراتا دیکھ ہمیشہ اس مسکراہٹ کو اس کے چہرے پر دیکھنے کی دعا دے ڈالی۔ یہ مسکراہٹ فاریہ نے بہت کم انس کے چہرے پر دیکھی تھی مگر تاریخ گواہ تھی کہ اس مسکراہٹ پر ہر بار وہ اپنا دل ہار بیٹھتی تھی۔

وہیں اورہان کا دھیان بھٹک بھٹک کر اس کی جانب جا رہا تھا جو گھونگھٹ اوڑھے اس سے چھپی ہوئی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جلدی سے اس کے پاس جائے اس کو اپنے دل کا حال بتائے ، اس کو لاجواب کر دے مگر ابھی اسے تھوڑا انتظار کرنا تھا۔ مہرماہ نے بھی گھونگھٹ سے اس کی ہلکی سی اک جھلک ہی دیکھی تھی محرم بن جانے کے احساس نے ہی اس کو نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ خوش تھی بلکہ صرف خوش بہت چھوٹا لفظ تھا ۔

اس نے نہیں سوچا تھا کہ محبت اتنی آسانی سے مل جاتی ہے۔ یا وہ اس حد تک خوش قسمت تھی کہ اس نے جس کو چاہا وہ پہلے سے ہی اس کی چاہت میں تھا جس کو محرم بنانے کا سوچا وہ اس کو اپنا محرم بنا گیا۔ اس کی محبت بہت پاکیزہ تھی اسی لیے اسے پاکیزہ راستہ سے حاصل کیا گیا۔

کھانے کا دور شروع ہوا تو مہرماہ نے کمرے میں جانے کی ضد کی۔

“بیٹا تھوڑی دیر تو بیٹھ جاو۔”

“بابا مجھے رونا آ رہا ہے ، اگر آپ نہیں چاہتے کہ میں سب کے سامنے رووں تو مجھے کمرے میں جانے دیں۔ “

“ٹھیک ہے بیٹا۔ چلی جاو”

“فری آپ جاو مہرو کے ساتھ مجھے مہمانوں کو بھی دیکھنا ہے۔”

“ٹھیک ہے مریم آپا ، آ جائیں بھابھی۔”

“بھابھی” لفظ مہرماہ کو بہت بھلا محسوس ہوا۔ کمرے میں آ کر اس نے اپنا گھونگھٹ اتارا تو اس کو دیکھ کر فاریہ پلک جھپکنا بھول گئی۔

“ماشاءاللہ “

بے ساختہ اس کے لبوں سے ادا ہوا۔

“بھابھی آپ کو دیکھ کر تو میں اپنی نگاہیں نہیں ہٹا پا رہی پتا نہیں بھائی کا کیا حال ہو گا۔”

اس بات پر مہرماہ مزید نروس ہو گئی۔

“ڈراو تو نہیں فری۔”

اس کی آنکھیں پانی سے بھر رہی تھی ۔ خوشی، ٹینشن ،نروس نیس سب مکس ہو رہا تھا۔

“بھابھی پلیز روئیں گا نہیں میں کچھ نہیں کہہ رہی بلکہ آپ کہتی ہیں تو میں آپ سے کریمینولوجی کا کوئی سوال ہی پوچھ لیتی ہوں۔”

فری کی بات پر وہ ہنسنا شروع ہوئی تو ہنستی ہی چلی گئی اورہان جو اس سے ملنے کے لیے کمرے میں آنے ہی والا تھا اس کی ہنسی کی کھکھلاہٹ کو مسحور ہو کر سن رہا تھا۔

“بھابھی آپ ریلکس ہو جائیں میں آپ کے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔”

“ٹھیک ہے۔”

مہرماہ نے حجاب اتارنا شروع کیا۔ فاریہ نے جب دروازہ کھولا تو اپنے پیارے بھائی کو سامنے ایستادہ پایا۔

“بھائی آپ “

وہیں گھبراہٹ میں مہرماہ کا حجاب ڈریسنگ ٹیبل پر گر گیا۔

“جی گڑیا آپ کھانا لے کر آئیں بھابھی کے لیے۔”

“ٹھیک ہے بھائی۔”

وہ کھسیانی ہو کر وہاں سے چلتی بنی۔ تو اورہان اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کر لیا۔ گھر میں مہمان تھے وہ نہیں چاہتا تھا کوئی مہرماہ کو حجاب کے بغیر دیکھے۔ وہیں مہرماہ اب اپنی محبت کو اپنے محرم کے روپ میں سامنے پا کر وہیں جم چکی تھی۔ اورہان کی تو نگاہیں ہی پلٹ نہیں رہی تھی آج وہ اس کو پورے حق سے دیکھ رہا تھا نگاہوں نے رخ موڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ آج وہ اس کے دل کی ملکہ اس کی محرم کی صورت اس کے سامنے موجود تھی۔

اورہان حیدر عظیم تو یک ٹک اس کو دیکھتا سب کچھ بھول چکا تھا۔

حجاب اتارنے سے خوبصورت نیکلس اس کی گردن کی زینت بنا دکھائی دے رہا تھا ، کانوں میں سیٹ کے ساتھ کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہنے ، بالوں کو جوڑے میں قید کیے جس کی لٹیں اب اس کے چاند جیسے چہرے پر آ چکی تھی۔ سموکی آئیز اور لائٹ پنک لپسٹک سے سجے عنابی ہونٹ اس پری پیکر کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے ۔

“مہرماہ “

یہ نام بولنے والا اورہان تھا ۔اور اس کے لبوں سے اپنا نام اسے اتنا حسین لگا کہ اس کا دل چاہا وہ پھر اس کو اسی طرح پکارے۔ اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اورہان نے اس کے دل کی آواز سن لی۔

“مہرماہ “

ساتھ ہی ایک قدم اس کی جانب بڑھایا تو مہرماہ نے اپنی نگاہوں کا رخ اس کے چہرے پر مرکوز کر چھوڑا۔ اورہان نے ڈریسنگ ٹیبل سے اس کا حجاب اٹھایا اور اس کے سر پر رکھ کر مسکرایا۔

“میرا ساتھ قبول کرنے کا شکریہ۔”

ساتھ ہی اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے لبوں سے لگایا۔ یہ عقیدت کا اظہار تھا جو اورہان حیدر عظیم کو مہرماہ سرفراز سے تھی۔ اور اتنی عزت اور عقیدت پر مہرماہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا۔ تو اورہان نے فورا اس آنسو کو اپنی انگلی کی پور پر چنا۔

“اب آپ دوبارہ ان آنسوؤں کو بے مول نہیں کریں گی۔”

“یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔”

نگاہیں جھکا کر اپنے دفاع میں جواب دیا۔

“مجھے لگا تھا آپ مجھے کسی شق کو استعمال کر کے جواب دیں گی کہ یہ آنسو ہی نہیں تھے۔”

مہرماہ اس کی بات پر مسکرا اٹھی ۔ اورہان نے ابھی تک اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام رکھا تھا۔

“آپ کو میرے حجاب سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ناں۔”

جان تو وہ چکی ہی تھی مگر پھر بھی نہ جانے کیوں پوچھ بیٹھی۔ شاید وہ حجاب کے متعلق اس کے خیالات جاننا چاہتی تھی۔

“جانتی ہیں جب آپ حجاب اوڑھتی ہیں تو مجھے پوری دنیا میں آپ سے حسین کوئی نہیں لگتا ۔ یہ آپ کے سر پر تاج کی طرح جچتا ہے۔ میری ملکہ کے سر پر تاج ہو یہ مجھے کیوں برا لگے گا۔”

وہ سچ میں ساحر تھا جس سے مہرماہ مسحور ہو رہی تھی۔ وہ پوری توجہ سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی اور آخری بات پر شرم کے مارے نگاہیں جھکا لیں اور اس کی اس ادا پر اورہان کو اپنا دل ڈولتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی تو وہ سانس روکے اس کو دیکھنے لگی۔

” جانتی ہیں جب آپ نے میرے دل پر حکمرانی شروع کی اس وقت بھی آپ سفید لباس میں تھی اس دن سے یہ رنگ میرا پسندیدہ رنگ بن گیا۔”

“جانتی ہوں۔”

“کیسے؟”

“جب آپ نے میرے لیے سفید پھولوں کا گلدستہ بھیجا تھا تو میں نے فری سے پوچھا تھا اس نے کہا تھا جانے بھائی کو یہ رنگ اب اتنا کیوں پسند ہے۔ “

“تو اس سے آپ کو کیا محسوس ہوا؟”

اس نے مہرماہ کا ہاتھ تھامے اس کو بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

“یہی کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔”

پورے اعتماد سے مسکرا کر کہا۔

“جو چیز آپ کو پسند وہ اورہان کو عزیز ، آپ سے جڑی ہر چیز میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آپ میرے دل کی مسند پر پوری شان سے براجمان ہو چکی ہیں مہرماہ”

“ایک بات بتاوں”

رازداری سے کہا۔ تو اورہان نے اثبات میں سر ہلایا۔

“میں نے آپ کو دیکھ کر یہ محسوس کر لیا تھا کہ آپ کا ہی ساتھ عالم ارواح میں میرے ساتھ لکھا تھا۔”

اور اس بات پر اورہان اندر تک سرشار ہو گیا۔

“کب محسوس کیا آپ نے؟”

“مریم آپی کی مہندی پر، اور آپ نے؟”

“جب آپ کی ڈگری مکمل ہوئی تھی۔”

“کیا؟؟”

بچگانہ انداز میں منہ کھولے وہ اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

“ایسے تو مت دیکھیں “

“کیوں؟ “

“ورنہ مجھے آپ سے عشق ہو جائے گا۔”

مہرماہ کی پلکیں اب کہ پھر سے رخساروں کو چھونے لگی تھی۔ پھر دوبارہ نگاہیں اٹھائی اور سوال پوچھا۔ اب کہ آواز انتہائی دھیمی تھی۔

“کبھی کہا کیوں نہیں؟”

“کیونکہ میں آپ کے دل میں اپنے لیے محبت چاہتا تھا اور اس سے بڑھ کر اعتماد۔ جب آپ نے کہا کہ آپ کو مجھ پر یقین ہے تو میں نے دیر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔”

“میں خوش قسمت ہوں جو مجھے آپ کا ساتھ بغیر کسی مشکل کے مل گیا۔”

“اور مجھے تو اپنی قسمت پر رشک آ رہا ہے۔”

دونوں ہی خوش قسمت تھے جن کو بغیر کسی رکاوٹ کے ان کی محبت مل گئی تھی۔

اسی وقت لان میں آیا جائے تو اورہان کی پھوپھو مسکراتے ہوئے ایک ہاتھ میں فاریہ کا اور دوسرے ہاتھ میں اپنے بیٹے کا ہاتھ تھامے چلتی ہوئی سٹیج کی جانب آئی۔

“ایکسکیوز می، اٹینشن”

سب ان کی جانب متوجہ ہوئے۔ حیدر صاحب کو کسی گڑبڑی کا احساس ہو رہا تھا۔ فاریہ کو پھوپھو کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔

“آج اس مبارک موقع پر میں فاریہ کی اپنے بیٹے سے منگنی کا اعلان کر رہی ہوں۔”

تالیوں کی گونج اٹھی۔ فاریہ کے پیروں تلے زمین کھسک گئی اور انس کو لگا جیسے اب وہ سانس نہیں لے سکے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔