367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman)Episode 3

وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہا تھا ۔آج یونیورسٹی میں بزنس کلاس لیتے ہوئے اسے زور سے چکر آیا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔
“کیا ہوا “اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی علینہ نے پریشانی سے پوچھا۔
“بس چکر سے آرہے ہیں وہ سر پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آواز میں بولی۔
“تم نے شاید ناشتہ نہیں کیا ہوگا اسی لیے ایسا ہوا ہوگا آؤ کینٹین سے کچھ کھا لیں۔”
ہمممم۔۔۔۔شاید۔۔۔آو چلتے ہیں کلاس ختم ہو چکی تھی اس لیے دونوں کینٹین کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔
ابھی سینڈوچ کی پہلی بائٹ ہی لی کہ جی متلانے لگا ۔۔۔
وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر واش روم کی طرف بھاگی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد منہ اچھی طرح دھونے کے بعد اپنی جگہ واپس آئی اور دوپٹے کے پلو سے بھیگے چہرے کو صاف کرنے لگی۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ایسا کرتے ہیں میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتی ہوں علینہ نے کہا۔
“نہیں تم رہنے دو میں ٹھیک ہوں ،اگر ضرورت ہو گی تو میں خود ہی چلی جاؤں گی۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
ہیلو !
اسلام وعلیکم!
ہممممم…. وعلیکم السلام!
“میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں آپ میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلیں گے ؟”
“ابھی مجھے آفس میں کچھ کام ہے ایک گھنٹے تک نکلتا ہوں “
“ٹھیک ہے میں آپ کا انتظار کروں گی۔”
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
آپ کے لیے گڈ نیوز ہے ،آپ مدر بننے والی ہیں۔۔۔۔ڈاکٹر نے اپنے ماہر پیشہ ورانہ انداز میں چہرے پر دھیمی مسکراہٹ سجائے ہوئے کہا۔
“کیا”حیرت کے مارے منہ سے صرف یہی نکلا۔۔۔۔
ساتھ بیٹھے ہوئے کی بھی ایک بار چہرے کی فختائیاں اڑیں۔۔۔۔۔
“آپ کو میں کچھ میڈیسنز لکھ دیتی ہوں آپ ان کا استعمال باقاعدگی سے کیجیے گا۔۔۔
انہوں نے تیزی سے سامنے رکھے پیڈ پر کچھ ادویات کا نام لکھا۔۔۔۔
اور لکھ کر پریسکرپشن اس کی طرف بڑھائی۔۔۔۔
“تھینکس “وہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھا۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
ان کی شادی کو تقریباً ایک سال کا عرصہ ہونے والا تھا مگر اسامہ اس سے ہمیشہ کھنچا کھنچا سا رہتا۔۔۔۔
ابھی تک ان کے ہاں کوئی بھی خوشخبری نہ آئی۔۔۔اسی بات کو لے کر زبیدہ خانم طمر کو ہر وقت جلی کٹی سناتی رہتیں ۔۔۔
طمر کو لے کر کئی گائنی کالوجسٹ کے پاس لے کر گئیں۔۔۔۔
مگر کافی علاج اور ادویات کے استعمال کے باوجود بھی کوئی مثبت فرق نہیں پڑا
۔۔۔۔
آج پھر اس کی ایک ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت تھا۔
وہ ان کے روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
رسمی سلام دعا کے بعد وہ مدعے کی بات پر آئیں۔
دیکھیں جب کوئی پیشنٹ ہمارے پاس آتا ہے تو سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وجہ کیا ہے ان کی Infertility(بانجھ پن)کی۔
بغیر وجہ تشخیص کیے مریض کو کسی بھی دوائی پر ڈال دینا یہ ہٹ اینڈ ٹرائل میتھڈ ہوتا ہے۔جو کامیاب بھی ہوسکتا ہے اور ناکام بھی۔
اس ٹریٹمنٹ میں سب سے پہلے آپ کے ہزبینڈ کا ساتھ آنا لازمی ہوتا ہے ۔۔۔آپ انہیں ساتھ نہیں لائیں ؟؟؟
“لو بھلا ڈاکٹر جی میرے بیٹے کو کیا بیماری ؟؟؟وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے آپ اس کا علاج کریں “زبیدہ خانم نے ڈاکٹر کی بات سن کر تلملاتے ہوئے کہا۔۔۔
ڈاکٹر نے ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے طمر کو مخاطب کیا۔۔۔۔
“آپ نے کون کونسے ٹیسٹ کروائیں ہیں اس سلسلے میں ؟؟؟
طمر نے فائل ڈاکٹر کی طرف بڑھائی ۔۔
“آپ نے تھائیرائڈ کا ٹیسٹ کروایا؟؟؟”
“نہیں “طمر نے یک لفظی جواب دیا۔
“آپ سمجھتے ہوں گے کہ تھائیرائڈ گلینڈ کا افرٹیلیٹی سے ڈائیریکٹ کوئی تعلق نہیں حلانکہ ایسا بالکل نہیں آج کل لوگوں کو پرولیکٹک ڈیرینج ہوجاتا ہے آج کل پولی سسٹک اووریز بہت commonہیں۔
اور اسی وجہ سے ایگ بننے میں مشکل ہوتی ہے۔جب تک آپ کو بیماری کی اصل وجہ نہیں پتہ چلے گی تو اس کا ٹھیک علاج کیسے ہوگا۔
اس کا اصل ڈائیگنوز کرنا ہے پہلے۔
لیکن آخر میں جب کوئی بھی وجہ پتہ نہیں چلتی تو اسے کہتے ہیں
Un explained Infertility….
آپ نے پہلے اوولیشن انڈکشن یوز کی ہے ؟
“جی کی ہے “وہ ان کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
“کیا مجھے اب پھر سے کھانی ہوگی ؟”
“اگر میں آپ کو پھر سے یہ لکھ کر دوں گی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو یہ لا محدود مدت کے لیے کھانی ہوگی بلکہ ایسا نہیں ہے ہمارے انٹرنیشنل گائیڈنس کے جو ادارے ہیں انہوں نے اس کی ایک مدت مقرر کی ہے آپ اسے چھ ماہ کے سکتے ہیں
اگر مسلہ زیادہ گھمبیر ہے تو اسے بارہ ماہ تک اسے استعمال کرنے کے لیے کہتے ہیں۔
اس بیماری میں پیشنٹ کے وزن کو سب سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہیں ان کا ویٹ تو زیادہ نہیں ۔۔۔مگر آپ تو بالکل سلم ہیں ۔۔۔۔
پھر ان کے ہارمونل ان بیلنس ہیں تو پہلے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔
اگر میل فیکٹر ہے تو ان کی بیماری کی تشخیص کرتے ہیں کہ ان کے سپرم پورے ہیں یا نہیں ۔۔خیر وہ تو آئے نہیں آپ کے ساتھ مسز طمر اسامہ ۔۔۔۔
“چلو اٹھو بہو یہاں سے اسے تو میرے بچے میں خامیاں نظر آ رہی ہیں ہمیں نہیں علاج کروانا اس ڈاکٹر سے۔۔۔۔
میں تمہیں حکیمی دوائی لے کر دوں گی۔دیکھنا پھر کتنی جلدی تمہاری سونی گود بھرتی ہے۔یہ ڈاکٹر تو فضول کے ڈرواے دے کر پیسے بٹورتے ہیں”زبیدہ خانم ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر تلخ کلامی کرتے ہوئے طمر کا بازو کھینچ کر اسے وہاں سے اٹھاتے ہوئے باہر نکلی۔۔۔۔
ڈاکٹر تو زبیدہ خانم کی حرکت اور بات پر ششدر رہ گئی۔۔۔
جبکہ طمر بے بسی کی تصویر بنے ان کے ساتھ کھنچی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“اب کیا کریں گے ؟
میری سٹڈی کا کیا بنے گا؟
ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتی۔۔چند ماہ میں میری حالت سب پر ظاہر ہو جائے گی میں کیسے یونی میں سب فیس کروں گی؟
میری فیملی میں بھی کسی کو ابھی یہ سب نہیں پتہ۔
وہ رندھی ہوئی آواز میں جھنجھلا کر بولی۔۔۔
“تم پریشان مت ہو میں کچھ حل سوچ رہا ہوں”
چند پل یونہی خاموشی سے کٹ گئے۔۔۔۔
“ایسا کرتا ہوں پہلے میں جس علاقہ میں رہتا تھا وہیں تمہیں ایک رینٹ پر چھوٹا سا گھر لے دیتا ہوں ۔تم فی الحال وہیں رہنا۔۔۔ابھی میں بھی سب کو اس بارے میں نہیں بتا سکتا نہ تم ورنہ تمہاری سٹڈی ڈسڑیکٹ ہو جائے گی۔ہمارا بے بی ہوتے ہی ہم سب کو بتا دیں گے ۔تم یہیں رہ کر اپنا دھیان رکھو اور سٹڈی پر فوکس کرو صرف ابھی ایگزامز میں وقت ہے۔تب تک تم اس سب سے فری ہو جاؤ گی۔پھر آرام سے دے دینا۔”
“میں اکیلی کیسے رہوں گی وہاں”
“ہمممم۔۔۔۔میں کسی سے بات کرتا ہوں وہ روز آکر تمہاری ہیلپ بھی کر دیا کرے گی۔اور تمہارا خیال بھی رکھے گی “اس نے مسلے کا حل پیش کیا۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“روٹی لے بھی آو۔۔۔۔۔اسامہ کی کڑک آواز سن کر وہ تقریباً بھاگتے ہوئے روٹی لے کر ڈائنگ تک آئی۔۔۔۔
“طمر نے جلدی سے روٹی اسامہ کی پلیٹ میں رکھی۔۔۔۔
“یہ کیا اتنے موٹے کناروں والی روٹی؟”دو وقت کا کھانا بھی ڈھنگ کا میسر نہیں اس گھر میں ؟
وہ اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
طمر سر جھکائے ہوئے نادم سی کھڑی ہوئی تھی۔
“جاؤ بھی اب ٹھیک سے دوسری روٹی ڈالو توے پر “زبیدہ خانم نے اسے تیز آواز میں متوجہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ واپس کچن کے اندر گئی۔۔۔۔
اس کی پشت پسینے کی وجہ سے گیلی تھی اور قمیض کمر کر ساتھ چپکی ہوئی تھی۔
وامق نے اسے یوں شکستہ قدموں سے جاتے ہوئے دیکھا تو بولا۔۔۔۔
“آپ لوگوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں ایک تو وہ سارا دن کچن میں کھڑے ہمارے لیے اتنی گرمی میں کھانا بناتی ہیں اور آپ لوگ انہیں سنانے میں ایک لمحہ لگاتے ہیں “
“وامق!!!!!!تم اپنے کام سے کام رکھو یہ ان میاں بیوی کے بیچ کا معاملہ ہے۔”عمر نے اپنے چھوٹے بھائی وامق کو ٹوک کر تلخ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
“تمہیں بڑی ہمدردی سوجھ رہی ہے اس سے خیر تو ہے “؟
زبیدہ خانم نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“میری بڑی بھابھی ہیں وہ ان کی عزت کرتا ہوں ،مگر آپ لوگ کیا جانیں کسی کی عزت کرنا کسے کہتے ہیں ؟
وہ ان کی بات کا جواب دئیے کھانے میں مصروف ہوا۔۔۔۔
“یہ کیا کوفتوں میں اتنا نمک ؟؟؟؟دھیان کہاں رہتا ہے تمہارا ؟؟؟کھانے کا بھی ضیاع اور پیسوں کا ۔۔۔۔
وہ جو دوسری روٹی بنا کر لائی تھی اسامہ کی اگلی بات سن کر آنکھیں نم ہوئیں ۔۔۔
“آگے سے دھیان رکھوں گی”وہ منمنا کر کہنے لگی ۔۔۔
“یہ روٹی “وہ اسامہ کی پلیٹ میں روٹی رکھنے لگی ۔۔۔اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کیا۔۔۔
بس بھوک اڑ گئی۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ نیپکن سے صاف کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔
“بھابھی یہ روٹی مجھے دے دیں “
وامق نے اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پلیٹ سے روٹی اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھی۔۔۔۔
گردیزی ولا میں بے شک دولت کی ریل پیل تھی مگر کچن کا سارا کام ملازمین کی بجائے گھر کی عورتیں ہی کرتی تھیں۔پہلے یہ ذمہ داری عمر کی بیوی صفا پر تھی ،مگر جب سے اس کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی یہ ذمہ داری طمر کی شادی کر کہ اس گھر میں آنے کے بعد اس پر آچکا تھی۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کیا ہارٹ اٹیک سے؟؟؟؟؟
انہوں نے یہ خبر سنتے ہی اپنے دل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
طمر تو جہاں کھڑی تھی وہاں کی وہاں کھڑی رہ گئی۔۔۔۔۔
جبکہ صفا کی تو مانو دنیا ہی اجڑ گئی ہو۔۔۔۔
وہ یہ دل دہلا دینے والی خبر سنتے ہی وہیں ڈھ گئی۔۔۔۔۔
ہنستے بستے گھر میں اچانک سوگ کی کیفیت چھا گئی۔۔۔۔
ہر کوئی غم سے نڈھال ہوا۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب عمر کی میت ہسپتال سے گھر لائی گئی تو پورا گھر غمزدہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔۔۔۔
چاروں طرف سوگواریت چھا گئی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“اماں بی بدرا کہاں ہے؟”
“بیٹا وہ چھت پر ہے “
“کیوں اماں بی وہ ادھر کیوں گئی؟؟؟
“آج اس کی سالگرہ ہے بس اسی لیے اداس ہے۔”
“کوئی کام ہے اس سے تو بلاتی ہوں اسے “
“نہیں اماں بی ‘رہنے دیں میں ابھی آتا ہوں ‘یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا۔۔۔۔۔
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے آسمان پر چھائی سرخی اب سیاہی مائل ہونے لگی تھی۔۔۔۔
وہ چارپائی پر بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔۔۔
Happy birthday day to you…..
Happy birthday day to you….
وہ سیڑھیوں سے اوپر آیا اور اور پرجوش لہجے میں بولا۔۔۔۔
ہاتھ میں ایک پلیٹ اور اس میں ایک پیسٹری موجود تھی جس پر چھوٹی سی موم بتی لگی ہوئی تھی جو ہلکی پھلکی چلتی ہوئی ہوا سے ہچکولے کھا رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ آکر چارپائی پر بیٹھا۔۔۔۔
“لو کاٹو اسے ہم ملکر تمہاری سالگرہ کریں گے”
اس نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہا۔۔۔۔
مگر وہ نظریں جھکائے ہوئے اپنے سر پر لیے دوپٹے کے ایک کونے کو پکڑے ہوئے اسے اپنی انگلی پر کبھی لپیٹ رہی تھی تو کبھی کھول رہی تھی۔۔۔۔
“تمہیں اچھا نہیں لگا ؟؟؟
اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے افسردہ انداز میں پوچھا۔
“میرے پاس اتنے ہی پیسے تھے بدرا میں کیک نہیں لا پاپا۔۔۔جب بڑا ہو کر کماؤں گا تو ضرور پیارا سا تمہارے نام والا کیک لاؤں گا۔۔۔۔ابھی صرف پیسٹری سے ہی کام چلا لو “
“مجھے اچھا لگا لڈو تھینک یو سومچ۔۔۔تم ہی ایسے دوست ہو جو میری پرواہ کرتے ہو “
“چلو اب اداسی چھوڑو اور کیک کاٹو ….
“اس میں کٹ کیا کرنا ہے چمچ لائے ہو ؟
“ہاں نا “اس نے دوسرے ہاتھ میں موجود چمچ اسے پکڑایا۔۔۔۔
موم بتی بجھاتے ہوئے اس نے ایک چمچ بھر کر لڈو کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔
لڈو نے پھر اس کے منہ میں چمچ بھر کر ڈالا۔۔۔۔یوں دونوں نے مل کر اس دن کو یادگار بنا دیا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
مختصر تعارف۔
طمر کی شادی گردیزی ولا میں ہوئی ۔اس کی ساس زبیدہ خانم۔
جیٹھ عمر۔جیٹھانی صفا۔جس کے دو جڑواں بچے۔
پھر اس کا شوہر اسامہ۔
تیسرے نمبر پر دیور وامق ۔
دوسری طرف اماں بی کے دو بچے ایک بیٹی عائزہ جو شادی شدہ ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا مقیم ہے۔
بیٹا نہال ۔جس نے تعبیر اپنے باس کی بیٹی سے شادی کر لی تھی۔اب وہیں باس کے گھر میں رہتا ہے اس کے ساتھ۔
اماں بی کے گھر بدرا رہتی ہے اور ساتھ کے گھر میں لڈو ۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
میں چاہتی ہوں فینٹسی بیسڈ سے ہٹ کر عام گھریلو زندگی پر لکھنا ۔یہ طمر کی سچی کہانی ہے۔مجھے امید ہے آپ کو ضرور پسند آئے گی ابھی بھی ناول کی سٹوری میں کچھ سمجھ نہ آئے تو بلا جھجک پوچھ لیں۔