367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 16

مما آپ کو تو پتا ہے نہ مجھے بارش سے سخت الجھن ہوتی ہے…ادا نے کوفت ذدہ لہجے میں کہا..
عائزہ کے لب مسکرانے لگے …پاگل لڑکی بارش میں بھیگنا کس لڑکی کو اچھا نہیں لگتا.. خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ بارش میں بھیگتے ہیں.۔۔۔۔عائزہ نے کہا
اداکی آنکھوں کے سامنے ایک حسین منظر لہرا گیا..لیکن پھر اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔
بھلا بارش بھی کسی کو پسند ہوتی ہے؟؟؟ادا نےحیرانگی سے پوچھا..
بیٹا جی بارش سب لڑکیوں کو پسند ہوتی ہے صرف ایک تم ہی نرالی ہو اس دنیا میں جسے بارش سے کوفت ہوتی ہے۔۔۔۔۔
“بس ان غریبوں کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی جن کے گھر بارش کے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔اصل مصیبت میں تو وہ گرفتار ہوتے ہیں۔مگر پھر بھی رحمت ِ خداوندی کا شکر بجا لاتے ہیں۔
میری دعا ہے اللہ پاک تمہارے نصیب اچھے کرے.. عائزہ نے دعائیہ انداز میں کہا۔۔۔۔
آمین تعبیر نے جواباً کہا۔۔۔
اچھا تو پھر میں چلتی ہوں علینا بولی
“تم کہاں جا رہی ہو ؟؟؟ادا نے اس سے ہوچھا۔۔۔۔
“آج ہم سب فرینڈز مل کر سیلیبریشن کر رہے ہیں ۔۔۔بس وہیں۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔وہ پھیکا سا منہ بنا کر بولی۔
“کیا ہوا ؟؟؟
“کچھ نہیں یونی سے چھٹیاں ہیں۔۔۔گھر میں بور ہورہی ہوں سوچا تھا تمہارے ساتھ وقت گزاروں گی ،مگر تم تو خود بزی ہو ۔۔۔۔چلو کوئی نہیں تم جاؤ انجوائے کرو اپنے فرینڈز کے ساتھ ۔۔۔۔۔
“اگر تم میرے ساتھ چلنا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔
نہیں نہیں رہنے دو ۔۔۔جان نہ پہچان میں تیرا مہمان والا حساب ہو گا۔۔۔۔
تم بے فکر رہو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔بلکہ اسی بہانے تم میرے دوستوں سے بھی مل لو گی۔۔۔۔جاو جلدی سے ریڈی ہو کر باہر آو۔۔۔
میں دیکھوں بدرا تیار ہوئی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔
“عائزہ سمجھاؤ علینا کو اس دو ٹکے کی لڑکی سے دوستی نا رکھے۔۔۔۔۔
تعبیر نے عائزہ سے کہا۔۔۔۔
بھابھی پلیز آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر۔۔۔مگر اس بچی کے خلاف میں ایک لفظ نہیں سنوں گی۔۔۔۔۔اس بیچاری بچی سے آخر آپ کو کس چیز کا بیر ہے ؟؟؟وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔
تم نے اماں بی سے کبھی پوچھا ہے کہ کون ہے وہ بچی ؟؟؟کہاں سے لائی ہیں وہ اسے ۔۔۔۔۔
کسی یتیم خانے سے یا کہیں اور سے؟؟؟
جانے کس کے گناہ کی نشانی ہے وہ ۔۔۔۔وہ زہر خند لہجے میں بولی۔۔۔۔
بھابھی بس کریں۔۔۔۔
اس طرح تو آپ ادا کو بھی تو یتیم خانے سے لائی ہیں۔۔۔۔اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟؟
آج پہلی بار نند بھاوج میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔۔۔۔
عائزہ حد میں رہو۔۔۔۔۔وہ غرائی۔۔۔۔
حد میں ہی ہوں ۔۔۔۔آپ کو بھی کسی کی کردار کشی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے ۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ اپنا کلچ لیے باہر نکل گئی۔۔۔۔
جاتی بار ایک دفعہ اماں بی سے بھی مل کر ان کا حال دریافت کر لوں۔۔۔۔
سوچ کر اس نے انیکسی کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔۔
علینا ہمیشہ کی طرح جینز اور ٹاپ پہنے ہوئے تھی۔۔۔۔اورگلے میں اسکارف۔۔۔۔۔
اپنے لئیرز کٹ بالوں کی ہائی ٹیل بنائے ۔۔۔
“ماشاءاللہ!
بدرا کو دیکھ کر بے ساختہ علینا کے لبوں سے نکلا ۔
آج اس نے وہی بلیک لباس زیب تن کیا ہوا تھا جو کل ریجیکٹ کیا تھا۔۔۔۔
سیاہ رنگ کے لانگ فراک اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس۔۔اپنی سبز آنکھوں میں کاجل کی لکیر ڈالے پہلے سے بہت مختلف لگی۔۔۔
صرف ایک کاجل نے اس کے چہرے کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا دئیے تھے۔
“علینا اس بار اماں بی نے میری بہت منتیں کرنے کے بعد اجازت دی ہے جانے کی۔۔
اگلی بار کوئی کمٹمینٹ نہیں کریں گے۔۔۔۔
“اوکے ابھی تو نکلو۔۔۔۔
وہ لوگ پہنچنے والے ہوں گے
آج بذل بھیا کو نہیں لے کر جانا کل تھوڑا سا لیٹ ہونے پر انہوں نے کتنی سنائی تھیں۔۔۔۔
وہ لوگ خودی ہمیں یہاں سے پک کرتے ہوئے جائیں گے۔۔۔۔
وہ دونوں اکٹھی باہر نکلیں۔۔۔
اسلام وعلیکم!بدرا نے عائزہ کو اندر آتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔
وعلیکم السلام!
اس نے شفقت بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔
مما ہم جا رہے ہیں۔ علینا نے کہا۔
وقت سے واپس آجانا ۔۔۔۔وہ اسے تاکید کرنا نا بھولی۔۔۔۔
میں بھی ریڈی ہوں ۔۔۔ادا نے ان دونوں کے پاس آکر کہا۔۔۔
وہ اس وقت شارٹ کرتے اور پلازو اورںم رنگ دوپٹے میں ملبوس تھی ۔
تینوں باہر نکلیں تو چند لمحوں میں ہی گاڑی گھر کے سامنے رکی۔۔۔۔
فرنٹ ڈور کھول کر دراک باہر نکلا۔
جس نے بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ پہن رکھی تھی۔۔۔۔
“آپ دونوں نے کیا پلاننگ کی تھی۔۔۔۔سیم کلر ڈریس پہننے کی۔؟
علینا نے پہلے بدرا پھر دراک کی طرف دیکھ کر شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔
“جو پلاننگ انسان کرتا ہے وہ اکثر ناکام ہو جاتی ہیں،اور جو پلاننگ خدا کرتا ہے وہ ہمیشہ کامیاب ٹہرتی ہے ۔۔۔”وہ مبہم سا مسکرایا۔۔۔۔۔
اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔۔۔
“دراک بھائی یہ میری کزن ہے ۔۔۔اگر آپ کو برا نہ لگے تو ہم اسے بھی ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔۔۔۔علینا نے ادا کی طرف اشارہ کر کہ پوچھا۔۔
Most welcome…..
Have a seat please……
اس نے انہیں اندر بیٹھنے کے لیے کہا۔۔۔۔۔
وہ تینوں اندر بیٹھی تو بدرا نے ڈور بند کیا۔۔۔۔
دراک نے اس کی سائیڈ کا شیشہ بجایا۔۔۔۔
اس نے ان دونوں کی طرف دیکھا ۔
جو انہیں کی طرف متوجہ تھیں ۔۔
بدرا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔۔ ۔سب کے سامنے تو کہیں دراک کچھ کہہ نہ دے ۔۔۔۔اس نے ڈر کے باعث ہڑبڑا کر اسے دیکھا۔۔۔
“اسے اندر کرلیں”دراک نے اس کے دوپٹے کا پلو جو دروازے سے باہر لٹک رہا تھا اسے اندر کیا۔۔۔۔
اور جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھا۔۔۔۔
دراک بھائی یہ مچھر گاڑی چلائے گا۔۔۔۔؟
تقی کدھر ہے ؟؟؟
علینا نے ایک خفیف سی نگاہ مضربان پر ڈال کر پوچھا۔۔۔۔
جو ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا۔ ۔۔
“ایسا کرتے ہیں کہ میں ڈرائیونگ کرتی ہوں۔۔۔علینا نے مشورہ دیا۔۔۔
دراک اس کی بات مت سننا ۔۔۔یہ ہمیں سیدھا اوپر پہنچائے گی اپنی گھٹیا ڈرائیونگ سے۔۔۔
اس دن بھی سڑک پر گری تھی ۔۔۔
ہنہہہ ۔۔۔اس نے طنز بھرا ہنکارا بھرا۔۔۔۔
“اوئے مچھر وہ تو تم نے مجھے گرایا تھا۔۔۔۔
“تم لوگوں کی بحث میں تقی انکل آنٹی کو لیے وہاں پہنچ بھی جائے گا اور ہم یہیں۔۔۔۔
“بانی یار تم ادھر آؤ میں ہی ڈرائیو کرتا ہوں۔۔۔
مضربان تململاتا ہوا دوسری طرف سے آکر بیٹھا اور دراک نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔۔
دو گھنٹے کا سفر دراک نے سوا گھنٹے میں طے کیا اور اب وہ دریائے جہلم کے کنارے واقع ایک خوبصورت ٹیولپ ہوٹل میں موجود تھے۔۔۔۔۔
وامق اور طمر ہوٹل کے ٹیرس پر موجود وہاں سے دریا کا نظارہ کر رہے تھے۔۔۔
وہ سب گاڑی پارک کرنے کے بعد ہوٹل کے پاس آئے تو تقی ان کے انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔
علینا اور بدرا کے ساتھ اس دن والی لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔
کبھی کبھی دعائیں بن مانگے بھی مستعجاب ہو جاتی ہیں یہ اسے آج معلوم ہوا تھا۔
“تم”؟؟؟؟
ادا تقی کو دیکھ کر تیز آواز میں بولی۔۔۔
“جی بالکل ‘مابدولت تقی دا ہینڈسم بادشاہ سلامت با نفس ِ نفیس خود یہاں قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔۔۔۔
ملکہ عالیہ کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ بادشاہ سلامت سے زرا تمیز سے پیش آئے۔۔۔ورنہ اس کی گستاخی پر انار کلی کی طرح دیوار میں چُنوا دیا جائے گا۔۔۔۔۔
وہ اکڑ کر با رعب انداز میں بولا۔۔۔۔
سب تو اس کے طنزو مزاح کی عادت سے واقفیت رکھتے ہوئے مسکرا اٹھے۔۔۔۔۔
جبکہ ادا نے ہونٹ ٹیڑھیے کیے ہنہہ۔کیا۔۔۔
نہایت ہی کوئی چھچھورے انسان ہو۔۔۔۔
وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔۔
“ادا پلیز تقی ایسا بالکل بھی نہیں جیسا تم اسے سمجھ رہی ہو۔۔۔۔اور چھچھورا لفظ تو اس کے لیے بنا ہی نہیں۔۔۔۔ہم اتنے عرصے سے ساتھ ہیں انہوں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی۔۔۔۔میں اچھے سے جانتی ہوں اور اپنے بھائی کی گواہی میں خود دیتی ہوں۔۔۔
بدرا نے جذباتیت میں آکر جو منہ میں آیا بول دیا۔۔۔۔۔
سوری !!!!!تمہیں برا تو نہیں لگا۔۔۔۔
بدرا نے خفیف سا چہرہ لیے تقی کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔
“بدرا !!!
منہ سے صرف یہی الفاظ ادا ہوئے۔۔۔۔
مگر آنکھیں لمحوں میں جھلملانے لگی۔۔۔۔
“تم نہیں جانتی انجانے میں تم نے مجھے کتنی خوشی دی ہے۔۔۔۔۔وہ بھیگے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔اور بدرا کے شانے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
ہر وقت طنز و مزاح کرتے ہوئے رہنے والا بھی آج جذبات کی رو میں بہہ گیا۔۔۔۔
تھینک یو تو پھر آج سے تقی بھائی؟؟؟؟
اس نے شرارت سے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔
“ضرور مجھے بہت اچھا لگے ۔۔۔اور کس کو ایسی بہن نہیں چاہیے جو مفت میں اس کی گواہی دیتی پھرے۔۔۔۔آخر میں وہ بھی اپنے ازلی شرارتی لہجے میں واپس آتے ہوئے بولا۔۔۔۔
وہ سب ان دونوں کی باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
سب نے مل کر ڈنر کیا۔۔۔۔
دراک بیٹا آٹھ بج گئے ہیں ۔۔۔کھانا تو ہو گیا کچھ دیر گھوم پھر لو ۔۔۔پھر واپس چلیں گے بچیوں کو وقت سے گھر بھی چھوڑنا ہے ۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے”دراک نے آہستگی سے مہذب انداز میں کہا۔۔۔
“چلو چلیں ۔۔۔۔اصل مزہ تو اب آنے والا ہے ۔۔۔۔تقی بولا اور سب باہر دریا والی سائیڈ پرنکلے۔۔۔۔۔
انکل آپ دونوں نہیں آئیں گے؟؟؟
نہیں بیٹا ابھی آپ جاؤ ہم تھوڑی دیر تک آتےہیں۔۔۔۔
شام کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔۔۔۔ماحول میں سکوت کی کیفیت طاری تھی۔۔۔۔
پرندے شاید اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے بس کہیں کہیں اکا دکا پنچھی اڑتے ہوئے آسمان پر دکھائی دے رہے تھے یہ شاید وہی تھے جو اپنے ساتھیوں سے رزق کی تلاش میں بچھڑ چکے تھے۔۔
دریا میں بہتے ہوئے پانی میں بھی زیادہ شور نہیں تھا۔۔۔۔
Hey!!!!?
چھپکلی!!!
مضربان نے علینا کو آواز دی تو اس نے مڑ کر تندہی نظروں سے پیچھے دیکھا۔۔۔۔
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے تم رکو۔۔۔۔
وہ جو سب آگے بڑھ رہے تھے ان کی بات سن کر رکے۔۔۔۔
آپ سب لوگ جاؤ یار کچھ پرسنل بات ہے۔۔۔۔
مضربان نے آنکھ ونگ کیے کہا۔۔۔۔۔
جانتا ہوں ان کی پرسنل باتیں ایک دوسرے کو لاتوں اور مکوں سے نوازنے سے شروع ہو کر ایک دوسرے کو قتل کر دینے کی دھمکیوں پر ختم ہو گی۔۔۔۔تقی نے ہمیشہ کی طرح شوشہ چھوڑا۔۔۔۔۔
علینا نے خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا۔۔۔۔اور اس کی پاس آئی۔۔۔۔
“کیا ہے “؟
خائف لہجے میں کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز میں بولی۔۔۔۔
“کیا یار ہر وقت انگارے چباتی رہتی ہو ۔۔۔منہ میں آگ نہیں لگتی ؟؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر پوچھا تھا ۔۔۔
تم بکواس کر بھی رہے ہو یا میں جاؤں یہاں سے۔۔۔۔؟
اس کے ہائی ٹیل میں مقید بال جو اس نے شانے کی ایک طرف کر رکھے تھے، ہلکی ہوا میں اٹھکیلیاں کرتے ہوئے اسی کے چہرے کا طواف کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ دریا کے پاس پڑے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھا۔۔۔۔۔
اور اسے بھی دوسرے پتھر پر بیٹھنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔
وہ بھی وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔
💖💖💖💖💖
وہ دیکھو تقی بھائی وہاں منظر کتنا پیارا ہے وہاں چلیں۔۔۔۔۔
بدرا نے تقی سے کہا۔۔۔۔
بدرا وہاں پانی کا بہاؤ بہت تیز ہے ۔۔۔۔وہاں جانا رات کے اس پہر خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔تقی نے اسے مزے سے ڈرانے کی بھرپورکوشش کی۔۔۔۔
“میں لے جاتا ہوں انہیں”دراک نے بدرا کی طرف دیکھ کر پینٹ کی پاکٹ میں ایک ہاتھ ڈالے ہوئے کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے تقی نے بھی شانے اچکا کر سرسری سا جواب دیا۔۔۔۔
دراک آگے آگے اور بدرا اس کے پیچھے تھی۔۔۔تھوڑی دور چلنے کے بعد دراک نے اپنے قدموں کی رفتار سست کی پھر وہ دونوں قدم سے قدم ملا کر چلنے لگے۔۔۔۔
بدرا!!!!!اس نے دھیرے سے پکارا۔۔۔۔
ہنہہہہ۔۔۔۔۔وہ چونکی۔۔۔۔
“کبھی کبھی ایسا نہیں لگتا کہ وقت وہیں تھم چکا تھا جہاں ہم بچھڑے۔۔۔۔۔
اور آج پھر اتنے سالوں بعد وقت وہیں سے چلنے لگا۔۔۔۔۔؟؟؟
“پتہ نہیں “
وہ گہرا سانس بھر کر بولی۔۔۔۔
“تم نے مجھے مس کیا ؟؟؟؟”
اسے خاموش دیکھ کر دراک نے نیا سوال کیا۔۔۔۔
بدرا سچ بولنا ۔۔۔۔مجھے بالکل بھی برا نہیں لگے گا۔۔۔۔اگر تمہارا جواب نفی میں ہوگا۔۔۔۔
چلتے چلتے وہ کافی دور آچکے تھے کہ دور دور لوگوں کے ہیولے ہی نظر آرہے تھے۔۔۔۔
چاند نے اپنی چاندنی ہر سو بکھیر رکھی تھی۔
وہ نچلا لب دانتوں تلے کچلنےلگی۔۔۔۔
“اب اتنا بھی کوئی مشکل سوال نہیں پوچھا جو تم یوں گھبرا جاؤ ۔۔۔۔۔۔
سوچ رہا ہوں اگر مشکل سوال پوچھ لیتا تو کیا بنتا تمہارا؟؟؟؟
معنی خیز خاموشی نے دونوں کو اپنے حصار میں باندھ رکھا تھا۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے چپ تھے۔۔۔۔
رات کے اس پہر سیاہ لباس میں ملبوس وہ دونوں اس رات کا ہی حصہ معلوم ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
“پہلے ہم بچے تھے مگر اب بڑے ہو چکے ہیں اور شعور کی منزلوں پر قدم رکھ چکے ہیں۔۔۔اور ہماراشعور یہ کہتا ہے کہ ایک نا محرم لڑکے اور لڑکی کی دوستی ٹھیک نہیں۔۔۔۔
بس اسی بات سے کترا رہی تھی۔۔۔۔
مگر میں نے آپ سے ہمیشہ ہر بات شئیر کی تھی تو یہ بھی کرنے میں عار محسوس نہیں کیا ۔۔۔۔”
ٹھیک کہہ رہی ہو میں خود بھی اب اس دوستی کے رشتے کو قائم نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔۔
وہ چلتے ہوئے رکا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سرد لہجے میں بولا ۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اسے کہاں امید تھی وہ اتنی جلدی دوستی ختم کرنے پر مان جائے گا۔۔۔۔۔
بدرا کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔
جو دراک کی نظروں سے مخفی نا رہ سکیں۔۔۔
وہ ملا تو صدیوں کے بعدبھی میرے لب پہ کوئی گلہ نا تھا۔
اسے میری چپ نے رُلا دیا جسے گفتگو پر کمال تھا۔
‘مگر جاتے ہوئے دوست کی آخری خواہش پوری نہیں کرو گی۔۔۔۔۔؟
“کیا”اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔۔۔
دراک نے اپنی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ہوئے کچھ باہر نکالا۔۔۔۔۔
“میں نے تم سے وعدہ کیا تھا گفٹ کا وہی پورا کرنا ہے ۔۔۔۔۔
اس نے اپنی مٹھی کھول کر اس کے سامنے کی ۔۔۔۔
کشادہ ہتھیلی پر نفیس و نازک سی چھوٹے چھوٹے جھمکوں کی جوڑی تھی۔۔۔۔۔
“اب انکار مت کرنا۔۔۔۔ورنہ اب کی بار تمہاری طرف سے وعدہ خلافی ہو گی۔۔۔۔۔
چند لمحوں بعد ۔۔۔۔۔۔
بدرا نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔۔۔۔۔
اگر اجازت ہو تو میں اسے پہنا دوں ۔۔۔۔وہ کہہ کر مبہم سا مسکرایا۔۔۔۔
Don’t worry I will do it without touching you…..
وہ جیسے اس کی اندیشوں سے باخبر تھا اسی لیے کہہ گیا۔۔۔۔۔
بدرا نے سر سے دوپٹہ تھوڑا کھسکا کر ڈھیلا کیا۔۔۔۔۔
آؤ بیٹھو یہاں ۔۔۔۔وہ بہتے ہوئے پانی کے قریب بیٹھے۔۔۔۔۔۔
دراک نے جینز کو تھوڑا سا فولڈ کیا نیچے سے اور پاؤں پانی میں ڈال دئیے۔۔۔۔۔۔
بدرا نے بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر پاؤں پانی میں ڈبو دئیے۔۔۔۔۔۔
دراک نے آہستگی سے نرم ہاتھوں سے بنا محسوس ہوئے وہ نازک جھمکے اس کے کانوں کی زینت بنائے۔۔۔۔۔
“اسے کبھی اتارنا مت”
“بس یہ یاد رکھنا اگر تم نے انہیں اتارا تو تم مجھ سے پھر جدا ہو جاؤ گی۔۔۔۔۔
وہ گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔۔
وہ اس کی بنا سر پیر کی بات اس کے اوپر سے گزر گئی ۔۔۔۔مگر وضاحت مانگنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔۔۔۔
یہاں پر پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔۔۔۔
وہ اس حسین منظر میں کھو گئی۔۔۔۔اور دراک اس کے حسین چہرے کے نقوش میں۔۔۔۔۔۔
اس کے بالوں کی چند آوارہ لٹیں ہوا کے دوش پر پھڑ پھڑا رہیں تھیں۔۔۔۔
اور جھمکے بھی ہل ہل کر اسے چھو رہے تھے۔۔۔۔
گال کی جانب جھکتا ہے،
شرماتا ہے ،ہٹ جاتا ہے ،
آج ارادہ ٹھیک نہیں ہے،
جانم تیرے جھمکے کا۔۔۔۔۔۔
وہ مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔
وہ اس کے بدلے ہوئے روپ اور ذو معنی انداز پر ٹھٹھکی۔۔۔۔۔۔
تم ۔۔۔۔میرا مطلب ہے آپ بہت بدل گئے ہیں۔۔۔۔اس نے ہچکچا کر کہا۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔اس بار وہ کھل کر ہنسا۔۔۔۔جس سے اس کے گال کے گڑھے اور بھی نمایاں ہوئے۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔
دراک نے اس کی نظریں خود پر مرکوز دیکھیں ۔۔۔۔تو دل بھی مسکرانے لگا۔۔۔۔۔
“اگر میں کہوں کہ ہاں میں بدل گیا ہوں،یہ دل بھی بدل گیا ہے وہ سینے پر دل کے مقام پہ انگلی رکھ کر بولا۔۔۔ اور اپنے رشتے کو بھی بدلنا چاہتا ہوں تو کیا تم میرا ساتھ دو گی؟؟؟؟
پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔
بدرا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ان گنت جذبات کاٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آباد تھا۔۔۔۔۔۔
ہے آنکھوں میں کمال اس کے
جب کلام کرتی ہیں تو دل دھڑکتے ہیں۔
اب وہ اتنی بھی بچی نا تھی کہ اس کی بات کے معنوں کو نہ سمجھتی۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا نیچے جھکی اور پانی ہاتھ میں بھر کر اس کی طرف اچھالا۔۔۔۔۔
وہ جو اس کے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔
اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے پڑے تو تھوڑا سا پیچھے ہوا۔۔۔۔۔
اور مسکرا کر اس کے عمل کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
“مجھے لگا آپ ہوش میں نہیں۔۔۔۔۔اسی لیے آپ کو ہوش دلانے کے لیے کیا۔۔۔۔۔۔
وہ کہہ کر ہنسنے لگی۔۔۔۔
اس کی مسکراہٹ سے جیسے چاروں اوڑھ جلترنگ بج اٹھے۔۔۔۔
“تم نے جواب نہیں دیا ؟”
واپس چلتے ہیں سب ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔۔وہ سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر بولی۔۔۔۔
وہ بھی اٹھا۔۔۔۔۔۔
دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔کہ اچانک دراک کا ہاتھ بدرا کے ہاتھ سے ہلکا سا مس ہوا ۔۔۔
اسے ایسا لگا جیسے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔ماحول میں چھایا فسوں ان دو دلوں کی دھڑکنیں بھی خوب محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
“تمہارے پاس فون ہے ؟؟؟دراک نے پوچھا
نہیں ۔۔۔۔اس نے یک لفظی جواب دیا۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔۔۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا۔۔۔۔
اور اسے فارمیٹ کیا۔۔۔۔۔
“یہ لو ۔۔۔۔صرف ایک نمبر اس میں سیو کر کہ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
“یہ کیوں “؟
میرا جو بھی ڈیٹا تھا اس میں ڈیل کر دیا ہے میں نے ۔۔۔بس اپنا دوسرا سم نمبر سیو کیا ہے۔۔۔۔
تم جب چاہے مجھ سے بات کر سکتی ہو۔۔۔۔اس سے۔۔۔۔
میں نے کب کہا کہ مجھے آپ سے باتیں کرنی ہیں۔۔۔۔۔؟
تمہیں نہیں کرنی تو نا سہی مجھے تو کرنی ہیں ۔۔۔۔اس طرح ہم رابطے میں رہیں گے۔۔۔۔
میں کچھ دنوں میں آکر اماں بی سے ملوں گا۔۔۔۔۔
وہ کس خوشی میں ؟؟؟؟
کیوں میں ان سے مل نہیں سکتا۔۔۔۔ان سے ملنے پر پابندی لگی ہے کیا؟؟؟؟
ویسے بھی اب تو کسی خاص سلسلے میں ان سے ملاقات کرنی ہی پڑے گی۔۔۔۔۔
وہ ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“تم نا۔۔۔۔میرا مطلب آپ نا ۔۔۔بڑے ہی۔۔۔۔۔
وہ ہیں۔۔۔۔۔۔اس کی بات کا مطلب جان کر سٹپٹا کر بولی۔۔۔۔۔۔
“ویسے تم نے تم آپ میں کیوں جنگ چھیڑ رکھی ہے تب سے ۔۔۔۔۔؟
سیدھے سے دراک بولو ۔۔۔۔
اتنے بڑے ہو ۔۔۔کیا میں نام لیتی ہوئی اچھی لگوں گی؟؟؟؟
اب اتنی بھی مبالغہ آرائی مت کریں ۔۔۔میڈم آپ سے عمر میں صرف تین سال کا فرق ہے۔۔۔۔اگر آپ نازک سی چھوئی موئی سی رہ گئیں اور میرا قد بڑھ گیا تو اس میں میرا کیا قصور ؟؟؟؟
وہ مسکرا کر رہ گئی۔۔۔۔۔
یہ وقت بہت قیمتی ہے میرے لیے۔۔۔۔۔اسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔۔۔۔۔
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
بدرا بھی خوش تھی جانے کیوں ۔۔۔۔۔
اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا کہ کبھی ان دو دلوں کی خواہش پوری ہونی تھی بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
کب سے چپ بیٹھے ہو کچھ بولو گے بھی یا نہیں ؟؟؟؟
علینا نے مضربان کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
جو کب سے خاموش بیٹھا ۔۔۔۔ارد گرد موجود چھوٹے چھوٹے پتھر اٹھا کر پانی میں پھینک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“علینا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ” بات تھی یا گویا بم جو اس کے سر پر پھوڑا تھا اس نے ۔۔۔۔۔علینا کو اس سے اس بات کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔۔
“تمہارا دماغ تو درست ہے ؟؟؟؟
“کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو؟؟؟؟
“کہہ دو کہ یہ بھی ایک مذاق ہے ۔۔۔۔تم مجھے تنگ کر رہے تھے ۔۔۔۔مجھےبے وقوف بنا کر پھر ہنسو گے مجھ پر۔۔۔۔۔
وہ سارے خدشات کو زبان پر لائی۔۔۔۔۔
“اتنی بڑی بات مذاق میں نہیں کہی جاتی ۔۔۔۔
I am hundred percent sure…..
وہ اٹل اور پتھریلے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
علینا اس کے صاف گو انداز پر چونک کر رہ گئی۔۔۔۔۔
“تو پھر اپنا فیصلہ سناؤ تم کیا چاہتی ہو ؟؟؟
میں نے یہی جاننے کے لیے تمہیں یہاں روکا ہے ۔۔۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔
“م۔۔۔مجھے کچھ وقت چاہیے ۔۔۔۔۔ہمیشہ پٹر پٹر بولنے والی بولڈ لڑکی کی آواز بھی گھگھیا گئی تھی اس موقع پر۔۔۔۔۔
“انتظار رہے گا اس کے پاس آکر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے بولا۔۔۔۔۔آخر میں وہ دھیما سا مسکرایا۔۔۔۔۔
“آج کچھ زیادہ ہی ٹھرک پن نہیں جھاڑ رہے۔۔۔؟؟؟
وہ خجالت سے سر میں کھجاتے ہوئے مسکرایا۔۔۔۔۔
کیا کروں چھچھوری کو دیکھ کر ٹھرک پن امڈ پڑتا ہے۔۔۔۔؟؟؟
تم نے مجھے۔۔۔۔۔۔وہ انگلی اٹھا کر بولی جب اسے مضربان کی بات سمجھ میں آئی۔۔۔۔۔
مضربان نے دوڑ لگائی تو وہ اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
وہ دونوں تنہا رہ گئے تھے اس لیے ساتھ ساتھ چلنےلگے۔۔۔۔۔
کون سے سیبجکٹ ہیں تقی نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
بی۔ایس۔سی کر رہی ہوں ۔۔۔۔
کیا ابھی بی۔ایس۔سی میں ہی ہو ؟؟؟
وہ حیرانگی سے بولا۔۔۔۔
تو اور کیا تمہیں میں پی۔ایچ۔ڈی کی سٹوڈنٹ لگتی ہوں ؟؟؟؟
وہ حیران کن نظروں سے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔
اپنی نظروں کا علاج کرواؤ۔۔۔۔۔اب اتنی بھی عمر رسیدہ نہیں میں تمہاری طرح۔۔۔۔۔۔
“واللہ !
ایسی حسد کی ماری ہوئی لڑکی سے کوئی تو بچائے مجھے۔۔۔۔۔اس نے دہائی دینے کے انداز میں کہا۔۔۔۔۔
جو مجھ جیسے کم عمر اور ہینڈسم نوجوان کو عمر رسیدہ بنا رہی ہے۔۔۔۔۔
“ویسے بڑے ہی کوئی ڈرامے باز ہو تم ۔۔۔۔وہ ناک سکیٹر کر بولی۔۔۔۔۔
“تم سے کم ہی ہوں۔۔۔۔وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔۔۔۔اسے دو بدو جواب دیا۔۔۔۔
“ویسے تم کیا پڑھتے ہو ؟؟؟؟ادا نے لڑائی جھگڑا چھوڑ صلح جو انداز میں کہا۔۔۔۔
“میں تو لوگوں کے دل پڑھتا ہوں۔۔۔۔۔دل کا ڈاکٹر ہوں۔۔۔۔
جیسے کہ اب تمہارا پڑھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔جو کہہ رہا ہے ۔۔۔۔ہائے میں کتنا خوش قسمت ہوں جو مجھے اتنے شاندار انسان کا ساتھ نصیب ہوا ۔۔۔۔چاہے کچھ پل کے لیے ہی۔۔۔۔۔
“انتہائی کوئی چیپ انسان ہو تم ۔۔۔۔تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔۔
مائی پلیژر۔۔۔۔۔۔وہ مسکرا کر سر کو تھوڑا سا خم دئیے بولا۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
طمر اور وامق دونوں ہوٹل کے باہر ہی ٹہل رہے تھے۔۔۔۔۔
کافی پیو گی ؟
ہممممم۔دل تو کر رہا ہے۔۔۔وہ بولی۔
میں ابھی لے کر آتا ہوں بچے بھی کچھ دیر میں آنے ہی والے ہوں گے۔۔۔۔کہہ کر وامق کافی لینے گیا۔۔۔۔۔۔
نہال شاہ جو تعبیر کے کہنے پر ادا کو یہاں سے لینے آیا تھا۔۔۔۔۔
(تعبیر کو جب سے پتہ چلا تھا کہ ادا علینا کے ساتھ یہاں آچکی ہے تو اس نے نہال کو بہت مشکل سے یہاں بھیجا تھا اسے لینے کے لیے)
نہال شاہ جو وہاں پہنچا ہی تھا طمر اور وامق کو ساتھ کھڑے ہوئے دیکھ کر آنکھوں میں مرچیں بھرنے لگیں۔۔۔۔۔۔اس نے دیکھا کہ۔
وامق اس سے کوئی بات کر کہ وہاں سے کہیں گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے موقع پاتے ہی طمر کو اکیلے دیکھ کر فورا سے بیشتر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔۔۔۔۔
اور اس کی کلائی پکڑ کر کھینچنے لگا۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے گھٹیا انسان۔۔۔۔۔۔وہ چلانے لگی۔۔۔۔
کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔طمر نے دوسرے ہاتھ سے اپنی کلائی اس کی گرفت سے آزاد کروانا چاہی۔۔۔۔۔
مگر اس کی مضبوط ترین گرفت سے آزاد نا کروا پا رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے ہوٹل کی بیک سائیڈ پر لے گیا۔۔۔۔۔۔