367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 23

تقی نے دروازہ کھولا تو سامنے مضربان کو دیکھ کر اندر آنے کا راستہ دیا۔۔۔۔۔
“بہت جلدی نہیں آگئے تم ؟؟؟تقی نے تلملا کر کہا۔۔۔۔
“میرے پاس کوئی آلہ دین کا چراغ نہیں تھا جسے رگڑ کر جن نکالتا اور چٹکیوں میں یہاں پہنچ جاتا۔۔۔۔وہ بھی دانت پیس کر بولا۔۔۔۔
میز کے پاس ایک لڑکی کو بے سدھ پڑے دیکھا تو اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
“یار تقی یہ تو ؟؟؟؟اس نے حیرانگی سے اسے دیکھ کر پھر تقی کو دیکھا۔۔۔۔
“ادا ہے اب سے تیری بھابھی ۔۔۔۔۔
“شٹ یار !!!یہ کیا کردیا تو نے ۔۔۔۔ماما اور بابا کو پتہ چلا نہ تو تیری خیر نہیں۔۔۔۔
ساری دنیا میں یہی ملی تھی تجھے چھپ کر نکاح کرنے کے لیے۔۔۔۔اگر انہوں نے اپنی مرضی سے تیری یہاں شادی کرنی ہوتی تو وہ کبھی وہاں سے اٹھ کر نہیں آتے۔۔۔۔سب کچھ جاننے کے باوجود بھی تو نے یہ قدم اٹھا کر ان کی ناراضگی مول لے لی ہے۔۔۔۔
“تم کس لیے ہو ۔۔۔؟تم منا لینا نا انہیں میرے لیے “
شاباش !!! صحیح جا رہے ہو بالکل ۔۔۔۔۔
کرے کوئی بھرے کوئی۔۔۔۔۔
“الٹے کام تو کرے سدھاروں میں ؟؟؟
“مجھ سے ایسی کوئی توقع مت رکھنا۔۔۔۔جو رائتہ پھیلایا ہے اسے سمیٹ بھی خودی۔۔۔۔۔۔
وہ صاف بری الزمہ ہوا۔۔۔۔۔
“یعنی کہ تو میری مدد نہیں کرے گا۔۔۔؟
“دیکھ تقی تو اسے جتنا لائٹلی لے رہا ہے بات اتنی آسان نہیں ۔۔۔۔
ماما ،بابا کبھی اسے ایکسیپٹ نہیں کریں گے۔۔۔
اس کا مطلب تم ابھی انہیں ٹھیک سے جانتے نہیں وہ اپنے بچوں سے کتنا پیار کرتے ہیں وہ ضرور مجھے معاف کردیں گے۔۔۔۔۔
“واہ داد دینی پڑے گی آپ کے کانفیڈینس کی۔۔۔۔
“دیکھ تقی اگر تو نے میری مدد نہیں کی تو ۔۔۔۔
تو کیا ؟؟؟؟
تو میں علینا کو فون کر کہ کہوں گا کہ مضربان نے گھر بلایا ہے۔۔۔۔
“تو؟ وہ گھور کر دیکھتے ہیں پوچھا
پھر جب وہ گھر آئے گی تو میں کہوں گا تو نے اسے بلایا ہے۔۔۔
“تقی تو نے ایسا کچھ کیا نا تو میں تیرا سرپھاڑ دوں گا جس میں ایسی خرافات بھری پڑی ہیں۔۔۔۔۔
“اور کیا تو مجھے بلیک میل کرے گا ؟؟؟؟
“اگر گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔۔اب تو سیدھے سے نہیں مانے گا تو یقیناً مجھے کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔
“کہتا ہے تو تیرا بھی چھپ کر نکاح پڑھوا دیتا ہوں ۔۔۔۔
“”ویسے تجھے تو زیادہ محنت کی ضرورت ہی نہیں ۔۔۔۔میری طرح ۔۔۔۔۔
مضربان نے اس کی بات پر بھنویں سکیڑ کر اس کی طرف غصے سے دیکھا۔
“تیرے والی تو پہلے ہی راضی ہے۔آئی تھی مجھ سے تیرا پوچھنے ۔۔۔۔۔
“بکواس بند کر اپنے پاس سے نا کہانیاں گھڑ لیا کر ۔۔۔۔اور تجھے کس نے کہا کہ میرا اس سے کوئی ایسا ریلیشن ہے ؟؟؟؟
“بچہ سمجھتا ہے مجھے۔۔۔۔تیرا جڑواں بھائی ہوں تیری رگ رگ سے واقف ہوں ۔۔۔۔
“تم لوگ جاؤ مجھے اس سے اکیلے میں بات کرنی ہے “وہ مضربان کی نقل اتار کر بولا۔۔۔
اس دن کیوں اسے اکیلے میں روکا تھا سب پتہ ہے مجھے ۔۔۔۔۔
“تو تُو بہت بڑا کمینہ ہے ۔۔۔۔مضربان اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔گلا دبانے کو۔۔۔۔۔
“اچھا غصہ چھوڑ اور مجھے حل بتا ؟؟؟؟
“حل تجھے یہ قدم اٹھانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نا ۔۔۔۔۔مضربان نے اسے کڑے تیوروں سے گُھرکا۔۔۔۔
دماغ کی شریانیں پھٹنے لگیں ہیں میری سب سن کر اور تم کتنے ریلیکس ہو ۔۔۔۔۔وہ پیشانی کو مسلتے ہوئے بولا ۔۔۔
“یہ مام کا فلیٹ ہے جو بابا نے انہیں گفٹ کیا تھا انہیں پتہ چل گیا نا کہ تو یہاں کیا کرتا پھر رہا ہے تو ۔۔۔۔۔۔وہ تاسف سے سر ہلا کر بولا۔۔۔۔۔
میں نے بابا سے یہ کہہ کر چابیاں لیں ہیں کہ میرے ایک دوست کو چند دنوں کے لیے چاہیے۔۔۔۔
تقی نے اسے بتایا۔
“پھر کیا کریں ؟؟؟؟تقی نے پوچھا۔
“مجھے ایک دو دن دے سوچنے کے لیے ۔۔۔۔اگر کچھ نا سمجھ آیا تو شرافت سے اسے لے کر ان کے سامنے آجانا اور اپنی بے وقوفی بتادینا ۔۔۔۔جتنا وقت زیادہ گزرا اتنی ہی مشکل ہو گی تیرے لیے۔۔۔۔۔
بہت تھک گیا ہوں جسمانی نہیں بلکہ دماغی طور پر۔۔۔۔۔اب گھر چلوں گا۔۔۔۔
تو چل رہا ہے کہ نہیں ؟؟؟
“اسے یہاں اکیلا چھوڑ کر کیسے جاؤں ؟؟؟
ماما ،بابا کو رات گھر نہیں آنے کا کیا جواز پیش کرے گا ؟؟؟؟
“وہی گھسا پٹا پرانا بہانہ جو سب بناتے ہیں ۔۔
“بابا میرے ایک دوست کا سیریس ایکسڈنٹ ہوا ہے اور میں اس کے ساتھ ہسپتال میں ہوں “وہ ہنس کر بولا ۔۔۔
“تقی تو بہت بگڑ گیا ہے …..
“اور تو کچھ زیادہ ہی نیک پروینا بن رہا ہے ۔۔۔
یہ نیک پروینا کیا ہے اب ؟
“جو عورت نیک ہونے کا ڈھونگ رچائے۔
اب تو مرد ہے تو اس لیے نیک پروینا۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔وہ ہنسنے لگا۔۔۔۔۔
“تو نہیں سدھرے گا ۔۔۔۔۔چل اب میں جا رہا ہوں وہ تقی کے گلے لگ کر بولا۔۔۔۔
“تھینکس “تقی مسکرا کر بولا۔۔۔۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔کہہ کر وہ بھی باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔اور تقی نے دروازہ بند کیے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں ابھی تک وہ بے ہوش پڑی تھی ۔۔۔وہ اسے اٹھا کر کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔۔پھرخود باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
رات گئے سب مہمانوں سے فارغ ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف آیا۔۔۔۔۔
ناب گھما کر دروازہ واہ کیا۔۔۔۔
مگر خالی کمرے کو دیکھ کر پریشان ہوا ۔۔۔
کہاں جا سکتی ہے ؟؟؟
وہ سوچتے ہوئے سارے گھر میں اسے تلاش کرنے لگا۔۔۔۔۔
مگر وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دی۔
بالآخر وہ لان میں آیا تو وہ سامنے جھولے پر بیٹھی نظر آئی۔۔۔۔
وہ دبے قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔۔
اور جھولے کو پیچھے سے جھلانے لگا۔۔۔۔
بدرا نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔اور دھیمے سے مسکرانے لگی۔۔۔۔
“میری زندگی میں آکر اسے سنوارنے کا دل و جان سے شکریہ “
اس کی جذبات سے بوجھل آواز بدرا کے کانوں کے قریب سنائی دی۔۔۔۔
دراک جھولا روکتے ہوئے خود بھی اس کے ساتھ آکر بیٹھا۔۔۔۔
اور پاؤں کی مدد سے جھولے کو دھکیلا تو دونوں ہولے ہولے جھولا جھولنے لگے۔۔۔۔۔
“تم خوش ہو ہمارے اس نئے رشتے سے ؟
دراک نے پوچھا۔۔۔۔
“آپ کو کیا لگتا ہے ؟؟؟
یار مجھے سیدھا سادہ سا جواب چاہیے گھماو مت بات کو۔۔۔۔
“یہ جھولا آپ نے میرے لیے لگوایا ہے ؟؟؟؟
اس نے پھر سے بات بدلی۔۔۔۔۔
“جی جانم آپ کے لیے۔۔۔۔۔
یکدم ہی اس کا لہجہ بدلا۔۔۔۔
اس کے بدرا سے اچانک جانم کا لفظ استعمال کرنے پر دل میں میں ہلچل مچی۔۔۔۔
مگر وہ دم سادھے بیٹھی رہی۔۔۔۔
“تمہیں پتہ ہے نکاح اللّٰہ تعالیٰ کا بنایا ہوا سب سے پاکیزہ اور خوبصورت بندھن ہے۔اس پاکیزہ رشتے میں خدا کی رضامندی ہوتی ہے۔اسی لیے یہ اتنا مضبوط ہوتا ہے۔
نکاح کا مطلب ہے کہ دو چیزوں کا اسطرح سے ملنا کہ وہ یک جان ہو جائے۔جیسے نیند آنکھوں میں جذب ہو کر آنکھ بن جاتی ہے اور بارش کے قطرے مٹی میں جذب ہو کر مٹی بن جاتے ہیں نکاح میں اسی طرح زندگیاں آپس میں جڑ جاتی ہیں۔
میری روح نے تمہاری روح کو چاہا ہے ازل سے
جب سے ہوش سنبھالا اس دل نے صرف تمہارے ساتھ کی تمنا کی ہے۔۔۔۔
“یہ نکاح ِ روح ہے اور تمہارا حق مہر میری سانسیں”
جب تک یہ سانسیں چلتی رہیں گی یہ دل تمہارا نام لیے دھڑکتا رہے گا۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ تھام کر پیار سے گندھے ہوئے لب و لہجے میں بولا۔۔۔۔
اس کہ بھاری ہاتھ میں بدرا کا نازک سا ہاتھ کپکپا رہا تھا۔۔۔۔پوری طرح ٹھنڈا پڑا ہوا۔۔۔۔
اب تو اس میں سے ہلکا سا پسینہ پھوٹنے لگا تھا۔۔۔۔۔
“ہماری شادی کی پہلی رات “
دراک شرارتی انداز میں بولا۔۔۔
“بدرا نے پلکیں جھپکا کر نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
“فرسٹ نائٹ برائیڈ کی تعریف کی جاتی ہے مگر یہاں تو کوئی بھی فرسٹ نائٹ کی دلہن لگ ہی نہیں رہی ۔۔۔۔
بدرا نے اس کی بات پر گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔
سجی سنوری نہیں تو کیا ہوا ۔۔۔۔گھورنے کی بجائے تھوڑا سا شرما ہی لیتی تو شاید میں تعریف کر دیتا۔۔۔۔۔
“مجھے زبردستی کی تعریفیں نہیں چاہیے۔۔۔۔وہ منہ پھلا کر بولی۔۔۔۔اور اس کے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ آزاد کروایا۔۔۔۔۔
“بدرا وہ دیکھو چاند جل رہا ہے ۔۔۔۔”دراک نے آسمان پر پورے آب و تاب سے چمکتے ہوئے چاند کی طرف دیکھ کر اشارہ کیا ۔۔۔
بدرا نے اس کے اشارے کے تعاقب میں اوپر دیکھا۔۔۔۔
“کب جل رہا ہے جھوٹ مت بولیے۔۔۔۔
“یار جل رہا ہے وہ اُس چاند سے جو میرے قریب ہے۔۔۔۔
وہ اس کی بات سمجھ میں آتے ہی منہ دوسری طرف پھیرے مسکائی۔۔۔۔۔
مگر دراک کی نظروں سے یہ منظر پوشیدہ نہ رہ سکا۔۔۔۔
احساس کی جو زبان بن گئے۔
آپ کی تعریف میں کیا کہیں
آپ ہماری جان بن گئے۔۔۔۔
قسمت سے اے ہمدم ہمیں آپ مل گئے۔۔۔
جیسے کہ دعا کو الفاظ مل گئے۔۔۔
سوچا جو نہیں تھا وہ حاصل ہو گیا۔
چاہوں اور کیا؟یہ بتا دے تو مجھے؟
رب سے ملا اک انعام بن گئے۔۔۔
خوابوں کا میرے مقام بن گئے۔۔۔
آپ کی تعریف میں کیا کہیں۔۔۔۔
آپ ہماری جان بن گئے۔۔۔۔۔
بدرا نے اپنا سر اس کے شانے پر رکھا۔۔
وہ ہولے سے گنگنایا۔۔۔۔
اپنے شانے پر وزن بڑھنے کی وجہ سے بدرا کی طرف دیکھا۔۔۔۔جو آسودگی سے نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔۔۔۔
دراک نے آہستگی سے پیچھے سے ہاتھ لے جا کر اس کی کمر میں ڈالے اسے بانہوں میں اٹھایا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
بستر پر لٹاتے ہی لائٹ آف کی پھر اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔۔۔۔۔
تھکان کی وجہ سے وہ بھی جلد ہی سو گیا۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
ہیلو ! اسلام وعلیکم !
وعلیکم السلام! کیسے ہیں آپ ؟؟؟؟
“آج کیسے یاد آگئی ہماری ؟؟؟
“شکر الحمد للّٰہ رب العالمین کا میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔بس تمہاری ایک چھوٹی سی مدد درکار تھی۔۔۔۔
“ہاں کہو نا ساری دنیا کی خدمت کرتے ہیں ۔اپنے دوست کی نہیں کریں گے تو پھر کس کی کریں گے۔۔۔۔۔تم کام بتاؤ؟؟؟
یار مجھے کچھ پیپرز تیار کروانے ہیں ۔۔۔۔
نہال کس قسم کے پیپرز تیار کروانے ہیں ؟؟؟
وہ پریشانی سے استفسار کرنے لگا۔
نہال شاہ نے اسے ساری بات تفصیلی طور پر بتائی ۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
وہ رات دیر سے کمرے میں آیا آج کا دن تھکا دینے والا ثابت ہوا ۔۔وہ کمرے میں آیا ہی سونے کے ارادے سے تھا ،مگر روم میں آکر اسنے دیکھا۔۔۔وہ اسی حلیے میں بیڈ سے ٹیک لگائے سورہی تھی۔۔۔۔یقیناً وہ روتے ہوئے سوگئی تھی۔۔۔تقی نے شرٹ اتار کر صوفے پر رکھی ۔پھر آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اسکے قریب گیا اور اسکا معصوم چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔۔سرخ گالوں پر سوکھے آنسوؤں کے نشان دیکھ کر اسے دکھ ہوا پر جلد ہی اپنے خول میں سمٹ کر وہ مڑا اور سائیڈ ٹیبل کی دراز سے آئنٹمینٹ اٹھا کر اسکے پاس آیا تھا۔۔۔۔اور بستر پر بیٹھ کر تقی نے اس کی کنپٹی کے قریب زخم پر کریم لگائی۔۔۔۔۔
” جلن پر اچانک سکون ملنے سے اس نے کچی نیند سے جاگ کر آنکھیں کھولیں۔۔۔ادانے مڑکر ناسمجھی سے دیکھا۔۔۔تقی کواپنے قریب یوں بیٹھا دیکھ کر اس نے جھٹکے سے ٹائم دیکھا۔۔۔۔رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔اس کے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکا۔۔۔۔نئے سرے سے سینے میں درد ہوا تھا۔۔۔۔۔وہ غصے میں تقی کا ہاتھ جھٹک کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔
آخر کر ہی لی نا اپنی من مانی ۔۔۔اب کیا چاہیے؟؟؟
ادا نے تکلیف ذدہ لہجے میں کہا تو کھڑا ہوا
اس نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اداکو دیکھا سیاہ آنکھیں رو رو کر مکمل سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔۔
لو یہ لگالو۔۔۔
تقی نے اسکے زخم کی طرف اشارہ کر کے اسے ٹیوب پکڑاتے ہوئے کہا
ادا نے اس سے ٹیوب لے کر دور پھینک دیا
نہیں لگانی یہ مجھے ۔۔۔۔۔اب کیوں اتنی پرواہ کررہے ہو ؟
“پہلے ہاتھ اٹھاتے ہو زخم دیتے ہو پھر مرہم لگانے کا ڈھونگ کیوں ؟؟؟؟
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں چلا کر کہا پھر دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاکر رونے لگی۔۔
تقی نے خود میں ابلتے غصے پر قابو پاتے ہوئے وہ ٹیوب اٹھائی۔۔۔۔پھر آہستگی سے ادا کا نازک ہاتھ اسکے سرخ ہوتے چہرے پر سے ہٹاکر تھاما ور اس کی کمر کے پیچھے لے جا کر ساتھ لگایا ۔۔۔۔دوسرے ہاتھ سے کریم کی ٹیوب منہ میں رکھی اور ہاتھ سے ڈھکن کھول کر دور پھینکا۔۔۔۔
پھر پور پر کریم رکھے اس کے زخم پر لگائی۔۔۔۔
“میں نے کہا دور رہو مجھ سے۔۔۔
ادا اسے دھکا دے کر چیخی۔۔۔۔
اب کی بار تقی کا دماغ گھوم گیا اس نے ادا کی نازک کمر کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر اسے خود سے قریب کیا
آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔تمیز سے بات کررہا ہوں تو اکڑ دکھا رہی ہو۔۔۔۔مت بھولو۔۔۔کچھ ہی پل لگیں گے مجھے۔۔۔۔تمہاری یہ اکڑ نکالنے میں۔۔۔
اسکی کمر پر گرفت سخت کرتے ہوئے تقی نے غصے میں کہا۔۔۔جبکہ نظر اسکے سرخ ہونٹوں پر تھی۔
وہ بہک رہا تھا اسکے خوبصورت چہرے سے۔۔۔
وہ اس کے سامنے خود کو کمزور پڑنے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔
اور کر بھی کیا سکتے ہو تم ۔۔۔۔مارو گے مجھے ۔۔۔۔تو پھر مارو نا ۔۔۔۔مارتے کیوں نہیں؟؟؟۔۔۔۔۔
اسکی سخت ہوتی گرفت میں مچلتے ہوئے ادا نے ہذیانی انداز میں چلاکر کہا۔۔۔انداز میں سرکشی تھی۔۔۔جبکہ اسکا معصوم چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔
سوچ رہا ہوا آج ہی تمہاری اکڑ نکال دوں۔۔۔تب شاید تھوڑا سدھر جاؤ تم۔۔۔
تم باتیں ہی مار کھانے والی کرتی ہو ،ورنہ کسی پر ہاتھ اٹھانا میری سرشت میں شامل نہیں۔۔۔۔
تقی نے اسے بازوؤں میں بھر کر بیڈ پر پٹخا۔۔۔
ادا کی روح فنا ہونے لگی اسکی بات پر۔۔۔۔وہ پھٹی آنکھوں سے تقی کو اپنی طرف جھکتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔
نہی۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔ت۔۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔
وہ اٹک اٹک کر کہتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے ادا آہستہ آہستہ پیچھے سرکنے لگی۔
تقی کے چہرے پر خطرناک تاثرات دیکھ اسکا خوبصورت چہرہ لٹھے کے مانند سفید پڑ گیا۔۔
بہت ہوگئے تمہارے نخرے۔۔۔طریقے سے بات کر رہا تھا تو دھکے دینے لگی ہو۔۔۔۔سمجھ کیا رکھا ہے مجھے۔۔۔۔
اس پر جھکتے ہوئے تقی کی پیشانی پر لاتعداد شکنوں کا جال پھیلا تو ادا کا چہرہ ڈر کے باعث پھیکا پڑگیا۔
س۔۔سوری۔۔۔تقی۔۔۔۔سور۔۔۔ی۔۔۔
وہ ہکلاتے ہوئے کہہ کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے دور کرنے لگی مگر اگلے ہی پل ادا بدک کر دور ہوئی تقی کے شرٹ لیس سینے کو دیکھ کر شرم سے نگاہ پھیر گئی۔۔۔۔وہ غائب ہو جانا چاہتی تھی اسکے سامنے سے۔۔۔اسی لیے اٹھ کر اس کے قریب سے نکلنے لگی پر تقی نے اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسے واپس بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔۔اور جھک کر اسکے آنسوؤں سے بھیگے گال پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔ادا تڑپ کر رونے لگی۔۔۔۔اسکی ہر پل مضبوط ہوتی گرفت سے نکلنا اسکے لیے ناممکن تھا۔۔۔۔اسی لیے وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔
تقی کی نظر اس کی آنکھوں پر پڑی جو رونے کے باعث سرخی مائل تھیں۔۔۔۔
وہ اس پر سے پیچھے ہوا۔۔۔۔
“بستر پر لیٹنے کی جرات کیسے ہوئی تمہاری ؟؟؟؟صوفے پر جاؤ۔۔۔۔
وہ اسے جھٹکتا ہوا ۔۔۔بستر سے نیچے کھڑا کر چکا تھا۔۔۔۔۔
ادا وہیں کھڑی آنسو بہانے لگی۔۔۔۔
“جاؤ “!!!!!؟وہ دھاڑا۔۔۔۔
وہ تیز آواز کے خوف سے کانپنے لگی۔۔۔۔اور دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔
پھر آہستگی سے چلتی ہوئی صوفے پر لیٹ کر آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔
مگر آنکھوں کے کنارے بھیگتے رہے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں تقی کروٹ بدل کر سو گیا۔۔
اسے نیند کہاں آنی تھی۔۔۔۔وہ جاگتی رہی۔۔۔۔
اس کے مدھم خراٹوں کی آواز سے وہ جان گئی کہ تقی اب گہری نیند میں ہے ۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور دبے قدموں چلتی ہوئی دروازے کے پاس جا کر اسے بنا آواز کیے کھولا۔۔۔۔
پھر ویسے ہی دھیرے دھیرے چلتی ہوئی مین دروازے تک پہنچ گئی۔۔۔۔مگر یہ کیا دروازہ تو لاکڈ تھا۔۔۔۔
اپنی کوشش ناکام ہوتے دیکھ پھر سے اسے غصے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وہ دماغ کے گھوڑے دوڑانے لگی یہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کے۔۔۔۔۔
بالآخر اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔۔۔۔
وہ واپس روم میں آئی ۔۔۔تقی کی طرف ایک تنفر بھری نگاہ ڈالی پھر ڈریسنگ ٹیبل پر موجود اس کے سامان میں سے موبائل پکڑ کر باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
“اپنے سوا ایک وہی نمبر تو اس نے رٹ رکھا تھا ۔۔۔مگر کبھی بات کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے موبائل پر وہ مخصوص نمبر ملایا۔۔۔۔۔
تین بیلز کے بعد دوسری طرف سے فون ریسو کر لیا گیا۔۔۔۔۔
ہیلو !!!! کون ؟؟دوسری طرف سے نشے میں دھت خمار ذدہ آواز آئی ۔۔۔۔
“میں ادا ۔۔۔۔۔مجھے آپ کی مدد چاہیے ۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔وہ کمرے کی طرف پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے سہمی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔۔