Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Last Episode Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Last Episode Pt.1
“کسی کی جان لینے کا اختیار سوائے اللّٰہ کے اور کسی کے پاس نہیں ،وہ اپنے فعل کا خود جوابدہ ہے،اس کی موت کا ذمہ خود پر لے کر ساری زندگی اپنے ضمیر کی عدالت میں کیسے سرخرو ہو پاؤں گا۔دراک کی گھمبیر آواز سپیکر میں سے ابھری۔۔۔۔
ایس پی عمیر نے فون بند کر کہ پاکٹ میں ڈالا۔۔۔۔اور بذل کے پاؤں کے پاس فائر کیا۔۔۔۔
وہ ڈر کر پیچھے ہوا۔۔۔
پولیس کے سپاہیوں نے اسے گرفتار کر لیا۔۔اور اپنے ساتھ لے گئے۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
ان سب کا مشترکہ ریسپیشن آج لاہور کے سب سے شاندار ہال میں منعقد ہوا تھا۔۔۔۔
چہار سو رنگ و بو کا سیلاب امڈ آیا تھا۔میڈیا کے لوگ ،بزنس مین اور دراک کے محکمے کے لوگ سب مدعو تھے۔۔۔۔۔
فنکشن اپنے عروج پر تھا ۔۔۔۔
شاندار طریقے سے سٹیج پر تین صوفہ سیٹ پر تینوں کپلز براجمان تھے ۔۔۔۔
ایک طرف تقی اور ادا تھے ،ادا نے مہرون رنگ کا اعلیٰ ترین کامدار لہنگا چولی زیب تن کر رکھا تھا۔۔۔بیوٹی سیلون سے کیے گئے میک اپ میں اس کے روپ پریوں کو بھی ماند دے رہا تھا اور اس کے ساتھ تقی نے بھی مہرون رنگ کی شیروانی پہن رکھی تھی ۔۔۔پیشانی پر بکھرے بالوں میں رف اینڈ ٹف سٹائل میں سب کے دلوں پر چھا رہا تھا۔
درمیان میں دراک اور بدرا تھے ،دراک نے آف وائٹ شیروانی پہن رکھی تھی ،بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بارعب انداز میں شہزادوں کی سی آن بان لیے ہوئے غضب ڈھا رہا تھا۔
جبکہ بدرا نے بھی اس سے میچنگ کیے آف وائٹ اور ریڈ کلر کا موتیوں کے کام سے مزین دیدہ زیب لہنگا چولی زیب تن کر رکھا تھا۔۔۔۔اپنا دو آتشہ حسن لیے دراک کے دل میں ہلچل مچا رہی تھی۔۔۔۔
تیسرے صوفے پر مضربان اور علینا تھے ،مضربان نے بلیک کلر کی شیروانی پہنے پاؤں میں کھسہ اور سر پر روایتی انداز میں کلاہ پہن رکھا تھا۔۔۔اپنی منفرد پرسنالٹی کے باعث سب سے جدا لگ رہا تھا۔۔۔۔بغل میں بیٹھی علینا نے سلور گرے کلر کا عمدہ ترین لہنگا چولی زیب تن کر رکھی تھی۔۔۔۔
تینوں دلہنوں کے ڈریس ایک جیسے مگر کلر مختلف تھے جبکہ تینوں دلہوں کی شیروانی بھی ایک جیسی مگر رنگ مختلف تھے ۔
طمر اور وامق اینٹرنس پر موجود سب مہمانوں کو ویلکم کر رہے تھے ۔۔۔۔طمر نے ڈارک بلیو ہلکی سی کامدار ساڑھی پہن رکھی تھی ۔۔۔۔نک سک سے تیار ہو کر اس عمر میں بھی وامق کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی ۔۔۔وامق بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں اپنی ازلی چھا جانے والی شخصیت کے باعث بہت شاندار دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔
سب کپلز کو گیسٹ نے وشز اور تحائف پیش کیے۔۔۔۔۔
پھر تینوں کپلز کا فوٹو سیشن ہوا۔۔۔۔
پرتکلف ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔۔۔۔سب نے مل کر اسے انجوائے کیا۔۔۔۔۔
آج کی یہ خوبصورت شام بھی اپنے اختتام کو پہنچی ۔۔۔۔۔۔
طمر کے حساب سے آج اس کی بیٹی کی رخصتی تھی۔۔۔۔سب مہمان روانہ ہوئے تو طمر نے بدرا کو خود سے لگا کر ڈھیر ساری دعائیں دے ڈالیں۔۔۔۔۔
طمر اور بدرا مل کر رونے لگیں۔۔۔۔
“پلیز مام اس موقع پر رونا دھونا نا شروع کریں اس نے کہاں جانا ہے جو آپ ایسے رو رہی ہیں۔۔۔دیکھنا صبح یہ یہیں ہو گی ہمارے پاس ۔۔۔۔کیوں مائی سویٹ سسٹر۔۔۔۔۔تقی نے بدرا سے کہا۔۔۔۔
وامق نے قرآن کریم کے سائے میں بدرا کو رخصت کیا۔۔۔۔
بدرا اپنے آنسو پونچھتے ہوئی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ دراک گاڑی میں بیٹھتا ۔۔۔۔
تقی اور مضربان دونوں ایک ہی جست میں جا کر بدرا کے ساتھ بیٹھ گئے۔۔۔۔
فرشتوں کی طرح ایک دائیں تو دوسرا بائیں۔۔۔۔
دراک نے خشمگیں نگاہوں سے ان دونوں کو گھورا۔۔۔۔۔
“مما بچائے اس اے۔سی ۔۔۔پی۔۔۔۔سے ۔۔۔۔”تقی نے دراک کو گھورتے ہوئے دیکھا تو معصومیت کی حدیں توڑتے ہوئے طمر کو دہائی دی ۔۔۔۔
دراک بیٹا ہم میں رسم ہے ۔۔۔جب دلہن اپنے سسرال جاتی ہے تو میکے سے کوئی اس کی ڈولی کے ساتھ جاتا ہے ۔۔۔یہ دونوں ضد کرنے لگے ۔۔اس لیے دونوں ہی جا رہے ہیں۔۔۔تم فکر مت کرو تمہیں چھوڑ کر واپس آ جائیں گے ۔۔۔
دراک نے ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اس کی حالت کے پیش نظر دانت نکال رہے تھے۔۔۔۔
وہ مٹھیاں بھینچ کر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
“جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔”پھر ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
سب نے انہیں الوداع کہا۔۔۔اور گاڑی گھر کو روانہ ہوئی۔۔۔۔۔
راستے میں تقی اور مضربان دونوں نے بدرا کو بات بنا بات پہ خوب ہنسایا ۔۔۔۔ملکر یہ چھوٹا سا سفر بہت اچھے سے گزرا۔۔۔۔۔
گھر میں آکر بدرا اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی ایک سہج کر قدم اٹھاتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔۔
“تم کیا یہاں سے ہی ہمیں ٹاٹا بائے بائے کرنے والے ہو ؟؟؟؟
مضربان نے دراک کو راستے میں ایستادہ دیکھا تو پوچھا۔۔۔۔
“جی بالکل ٹھیک سمجھا آپ نے ۔۔۔۔وہ ابرو اچکا کر سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔۔
“دوست دوست نا رہا پیار پیار نا رہا ۔۔۔۔زندگی ہمیں تیرا اعتبار نا رہا۔۔۔۔تقی نے اپنی بھدی آواز میں ُسر چھیڑے۔۔۔۔
“اوئے زہریلے تو چپ کر ،کیوں کانوں میں زہر گھول رہا ہے ؟؟؟مضربان نے اسے گُھرکا۔۔۔۔
“دراک بھائی پہلی بار آپ کے گھر آئے کچھ خاطر تواضع نہیں کریں گے ؟؟؟اور گھر بھی نہیں دکھائیں گے ؟؟؟؟
اب تو ہماری خاطر تواضع بنتی ہیں آخر کو آپ کے سالے آدھے گھر والے بن گئے ہیں ہم ۔۔۔تقی نے دراک سے شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔
“چپ چاپ نکل جاؤ اس وقت ورنہ اچھے سے خاطر تواضع کر کہ بھیجوں گا۔۔۔۔۔دراک نے کڑے تیوروں سے کہا۔۔۔۔
دیکھ بانی ۔۔۔۔تیری دوستی کا بھی لحاظ نہیں کر رہا ۔۔۔۔بڑا بے فیض نکلا تیرا دوست”
اس نے مضربان کو دراک کے خلاف بھڑکایا۔۔۔۔
“ہاہ!!!!! مضربان نے ٹھنڈی سی آہ بھری ۔۔۔
“چل چھوڑ یار چلتے ہیں گھر میں ہماری وائفیاں بھی ہمارے انتظار میں پھولوں کی سیج سجائے ہوں گی ۔۔۔۔۔مضربان نے کہا۔۔۔۔
ہاں اور تیری بھابھی تو میرے انتظار میں پلکیں بچھائے ہو گی کہ کب آئیں گے میرے ہینڈسم مجازی خدا۔۔۔۔تقی بولا۔۔۔۔
وہ دونوں باہر نکلے تو دراک نے باہر کی فالتو لائیٹس آف کرتے ہوئے اندر کی راہ لی۔۔۔۔
دروازہ کھولا تو گلاب اور موتیے کی ملی جلی محسور کن مہک نے اس کا استقبال کیا۔۔۔صبح وقت نکال کر دراک یہاں آیا تھا اور اپنی پسند سے ساری ڈیکوریشن کی تھی۔۔۔۔
سامنے ہی وہ اس کے بستر پر پورے طمطراق سے براجمان تھی۔۔۔۔۔
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے مسکرا کر اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
اس کے قریب بستر پر آکر بیٹھا۔۔۔۔
“اف یار یہ گھونگھٹ کیوں نکالا؟؟؟
دراک نے جھنجھلا کر کہا۔
مگر آواز ندراد۔۔۔۔
اسے خاموش دیکھ کر وہ بولا۔
شاید منہ دکھائی کی رسم کے لیے۔۔۔۔۔
اس نے اندازہ لگایا۔۔۔۔
“آج تم بہت حسین لگ رہی تھی،نظریں تم پر سے ہٹنے سے انکاری تھیں۔۔۔۔اس نے بدرا کا ہاتھ پکڑنا چاہا ۔۔۔مگر وہ گھڑی بنی دوپٹے میں خود کو پوری طرح چھپائے ہوئے تھی۔۔۔۔
“آج تمہیں قریب سے محسوس کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔وہ دھیرے سے بول کر اسے اپنے حصار میں لے گیا۔۔۔۔
“بہنا سنبھالو اپنے شوہر کو آخر میں اپنی بیوی کو کیا منہ دکھاؤں گا ۔۔۔۔۔وہ گھونگھٹ چہرے سے الٹ کر دوپٹے کا ایک کونا منہ میں دبائے رونے والا منہ بنا کر بولا۔۔۔۔۔
“تقی تم “؟
دراک نے اس کا گلہ دبانے کی کوشش کی۔۔۔۔
بدرا کی کھلکھلاہٹوں سے پورا کمرہ گونج اٹھا۔۔۔۔وہ بڑی سی شال لپیٹے کھڑی تھی۔۔۔
تقی بستر سے نیچے اتر کر جان چھڑوا کر بھاگا ۔۔۔۔۔
دراک ہونق بنے ان دونوں کی شرارت کو سمجھنے لگا۔۔۔۔۔
تقی لاک کھولے دروازے سے آدھا چہرہ اندر کیے بولا۔۔۔۔۔
دراک بھائی کل ابٹن والا بدلہ آج پورا۔۔۔۔۔
وہ دھاڑ سے دروازہ بند کرتا باہر کو بھاگا۔۔۔۔
دراک اس کے پیچھے باہر گیا ۔۔۔۔۔تاکہ اس بار اچھے سے دیکھ لے کہ وہ یہاں سے گیا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو محترمہ نے عروسی لباس تو دور کی بات جیولری تک اتارنےکی زحمت نہ کی تھی اور آج کی رات محترمہ اسطرح گدھے گھوڑے پیچ کر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھیں جیسے صدیوں سے سوئی ہی نہ ہوں ۔۔۔۔
“واہ میرے خدا کیا بہترین استقبال ہورہا ہے تیرے بندے کا؟”
تاسف سے سر ہلاتا ہوا وہ فریش ہوکہ سفید آرام دہ کرتا شلوار زیب تن کئے وہ بستر پہ بے آرام سی سوئی ادا کی طرف بڑھا تھا۔
مہرون کلر کے عروسی لباس میں وہ تمام تر حشر سمانیاں سمیٹے بے خبر سوئی تقی کا دل بے ایماں کر امتحان لینے پہ آمادہ تھی۔۔۔
تیکھے نقوش ستواں ناک میں لبوں کو چھوتی نتھ وہ مبہوت سا اسکو دیکھے گیا۔ گلاب کی پنکھڑی جیسے سرخ گداز لب اور ان پہ سجی ڈیپ ریڈ لپسٹک اسکے دل کی دنیا اتھل پتھل کرنے کیلئے کافی تھی۔آج پہلی دفعہ اسنے ادا کو اتنے پیارے سجے سجائے روپ میں دیکھا تھا دل تھا اسکے وجود سے اپنے وجود کی تھکن اتارنے کو بےتاب ہو چلا تھا ۔
“خدا کا بہت پیارا تحفہ ہو تم میرے لئے ادا!بس تم ہی پہ ختم ہوجاتا ہے میرا غصہ بھی اور میری تم ہی پہ ختم ہوتی ہے میری محبت،بے شک اس دل کی دھڑکن تم ہو میرے “
وہ بستر پراس قریب ٹیک لگا بیٹھ گیا۔۔ دل نے عجب فرمائش کر ڈالی تھی اسکو تکتے رہنے کی۔
تقی نے ہاتھ بڑھا کہ اسکے گالوں کو چھوا تھا اسکی نظروں کی تپش تھی یا سرگوشی کا اثر وہ کسمساکہ اٹھ چکی تھی گھنیری پلکوں پر لمحوں میں ہی حیرت و حیاء سمٹی تھی جبکہ نقوشوں میں بوکھلاہٹ گھلی۔
” آج کی رات ایسا استقبال یقین نہیں تھا”
وہ اسکے حنائی ہاتھ کو اپنی ہتھیلیوں میں لیکر نرمی سے گویا ہوا۔
“اتنے دنوں سے آپ کو منا رہی تھی ۔۔۔آپ مانے ہی نہیں ۔۔۔آپ غصہ تھے مجھ سے بس یہی سوچتے ہوئے جانے کب سو گئی۔۔۔وہ نیند سے بوجھل آنکھیں لیے اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
“میں چاہوں بھی تو تم سے نفرت نہیں کر سکتا۔۔
میں جانتا ہوں تمہیں سمجھانے والا سیدھی راہ دکھانے والا گائیڈ کرنے والا کوئی نا تھا۔اسی لیے تم نے یہ قدم اٹھایا۔۔۔۔تمہاری غلطی بہت بڑی تھی ۔۔۔میں تمہیں معاف نا کرتا ۔مگر پھر میں نے سوچا کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کے اتنے بڑے گناہ سچے دل سے مانگی گئی معافی پر معاف کر سکتا ہے تو پھر میں کیوں نہیں۔
میں نے اپنے مان کو اپنے پیار کو موقع دیا ہے ۔نئی شروعات کا ۔۔۔۔میرا مان کبھی بھی نہیں توڑنا۔۔۔۔۔۔
“بہت شکریہ مجھے معاف کرنے کے لیے ،میں آپ کا مان کبھی بھی نہیں توڑوں گی۔
“میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔وہ صدق دل سے مشکور ہو کر بولی۔۔۔۔۔۔۔
تقی نے اس کی آنکھوں میں سچائی کی رمق دیکھ کر بہت محبت سے اس کے ماتھے پر لگی بندیا کو وہاں سے آزاد کیا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوچ چکا تھا کہ آج وہ اسے معاف کر کہ اسکے ذہنی تناو کو ختم کردے گا۔۔۔
“ادا !میں چاہتا ہوں ہم دونوں اپنے پورے دل سے اس رشتے کو نبھائیں ۔۔۔۔زبردستی سے نہیں ۔۔۔۔۔۔
جب تک تم دل سے راضی نہیں اس رشتے کو نبھانے کے لیے میں تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گا۔۔۔۔
“تمہیں پانا ہی میری محبت نہیں بلکہ تمہارا احساس بھی میرے جینے کی وجہ ہے!!ضرورت تو کسی کے بھی وجود سے پوری کی جا سکتی ہے”
مگر محبت سے محبت کو پانا دنیا کا سب سے حسین احساس ہے ۔۔۔۔۔
میں تمہیں کبھی بھی تنہائی کا احساس بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک تم نے جتنی بھی محرومیاں پائیں ان سب کا ازالہ کردوں گا۔۔۔۔تمہیں خود میں سمیٹ کر ۔۔۔۔اس خلا کو بھر دوں گا ۔۔۔
وہ یہ سن کہ پھوٹ پھوٹ کہ رودی تقی نے اسکو اپنےسینے سے لگاِئےرونے دیا بس اسکی پشت کو تھپکی دیتا رہا جیسے اپنے ہونے ک احسادس بخشں رہا تھا
“تو پھر میں اسے تمہاری آمادگی سمجھوں ؟تقی کی خمار زدہ آواز اس کے کانوں میں سنائی دی ۔۔۔
ادا نے اس کی آنکھوں میں جھلکتی تحریر پڑھ کےنظریں یکدم جھکائیں۔۔۔ وہ مزید اسکی بولتی نگاہوں سے نگاہیں ملانا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔۔۔
“بس اتنا بتادیں۔۔۔ اب بھی ناراض تو نہیں نا مجھ سے؟
“اگر ہوں بھی تو تم ناراضگی دور کردو۔۔۔۔
وہ اسکی تھوڑی اپنی انگشت شہادت سے اونچی کرکہ استفسار کر رہاتھا۔۔
” نن نہیں بس مجھے نیند آرہی ہے میں سوجاوں اب؟؟؟؟”
وہ گڑبڑائی ۔
“آج کی رات تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔وہ اسے اپنے حصار میں باندھ کر بولا۔۔۔۔۔
“تو پھر منانا ہے مجھے یا سونا ہے ؟”
تقی نے لیٹ کر اپنی بازو پھیلائی ۔۔۔۔ادا نے اس پر اپنا سر رکھ دیا۔۔۔۔۔
تقی نے اس نے اسے خود میں سمیٹ لیا۔۔۔۔۔
وہ بھی دل کی آمادگی سے خود کو اس کے سپرد کر گئی۔۔۔۔۔
ستارے بھی ان کے خوبصورت ملن پر جھلملانے لگے۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
مضربان اپنے کمرے کی طرف آیا اس نے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا ۔۔اور اسے گھمایا مگر یہ کیا دروازہ اندر سے لاکڈ تھا۔۔۔۔
اس کے لبوں پر دھیمی سے مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔۔
“تو اب آپ ایسے بدلہ لیں گی مسسز مضربان۔۔۔۔وہ ہلکی سی آواز میں بولا۔
وہ کچھ سوچتے ہوئے واپس نیچے آیا اور کیز سٹینڈ سے روم کی ڈبلیکٹ کیز لیں ایک چابی تو روم میں تھی جبکہ ڈبلیکٹ باہر ۔۔۔۔
پھر واپس کمرے کی طرف آیا اور دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔
وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنا ذرتار آنچل سر سے جدا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
“تم ۔۔۔۔تم کیسے آئے روم میں ؟؟؟وہ اسے سامنے دیکھ حیرانی سے بولی۔۔۔۔
“تم نے ڈور لاک کیا تھا ۔۔۔ہے نا ؟؟؟وہ مسکرا کر سوالیہ انداز میں بولا۔۔۔
“ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے فراڈ کہیں کے ۔۔۔۔ایک نمبر کے ڈرپوک انسان ہو تم ۔۔۔۔کبھی منہ سے نہیں پھوٹو گے اپنے لیے۔۔۔۔۔
“سوری یار میں کچھ زیادہ ہی روڈ ہو گیا وہ خجالت سے سر کھجاتا ہوا بولا۔۔۔۔۔
“روڈ ہو گیا ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔یہ چھوٹی سی بات ہے تمہارے لیے ۔۔۔۔
میں کتنی بار تمہارے لیے ذلیل ہوئی باہر سڑکوں پر ۔۔۔۔اور تم مجھے ایک چھوٹے سے سوری سے منا لو گے ۔۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری یہ معصوم سی صورت دیکھ کر میں مان بھی جاؤں گی ؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر غصے سے بولی۔۔۔۔
یار میری بات تو سن لو ایک بار ۔۔۔۔وہ منت بھرے انداز میں بولا۔۔۔۔
“مجھے ایک لفظ بھی نہیں سننا ۔۔۔نکلو ابھی کے ابھی یہاں سے ۔۔۔۔وہ اسے انگلی کے اشارے سے باہر کا راستہ دکھاتی ہوئی بولی ۔۔۔۔۔۔
“نہیں جاؤں گا کر لو جو کرنا ہے ۔۔۔۔وہ شیروانی اتار کر صوفے پر پھینکتا ہوا بولا۔۔۔۔اور چابیاں بھی ڈریسنگ پر رکھیں۔۔۔۔
ایسے تو میں اسے باہر نہیں نکال پاؤں گی کیا کروں ؟اس نے دل میں سوچا۔۔۔۔
مضربان مجھے بہت پیاس لگی ہے کب سے پلیز پانی لادو دیکھو یہاں روم میں پانی ہی نہیں ہے وہ ایک دم لہجہ بدلتے ہوئے چہرے پر معصومیت لا کر بولی ۔۔۔۔
“اوہ اچھا ابھی لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔
وہ کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی ۔۔۔۔
وہ اس کی چال سمجھ کر انہیں قدموں سے واپس پلٹا۔۔۔۔۔
دروازہ کھولو علینا۔۔۔اس نے ہولے سے دروازہ بجا کر کہا کہیں سب دروازے کی دستک کی آواز سن کر اٹھ نا جائیں۔۔۔۔۔
“یہ دروازہ اب نہیں کھلے گا ۔۔۔اور تو اور اب یہ چابیاں بھی میرے پاس ہیں ۔۔۔
تو میرے پیارے سے نئے نویلے شوہر باہر آرام سے رات گزارئیے گا ۔۔۔مجھے مس مت کیجیے گا۔۔۔۔۔اپنی درگت پر جلنے کڑھنے کی بجائے سونے کی کوشش کرئیے ۔۔۔اوکے گڈ نائٹ ۔۔۔۔صبح ملاقات ہو گی ۔۔۔۔
اندر سے اس کی کھلکھلاہٹوں کی آوازیں گونج اٹھی۔۔۔۔۔
علینا کے اس عمل پر مضربان واقعی جھنجھلا گیا۔۔۔۔۔
“اتنا کرے گی یہ چوہیا ۔۔۔مجھےاندازہ نہیں تھا ۔۔۔وہ پیشانی مسلتے ہوئے حل سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔
پھر دبے پاؤں گھر سے باہر نکلا۔۔۔۔
پائپ دیکھا جو سیدھا اس کے کمرے کی کھڑکی کے قریب سے ہو کر گزر رہا تھا۔۔۔۔
وہ ہمت کیے سیڑھی لگا کر کافی اوپر تو پہنچ گیا پھر باقی کا راستہ پائپ سے طے کیا۔۔۔۔۔
“کبھی یوں بھی چوری چھپے چوروں کی طرح اپنے کمرے میں جانا پڑے گا ۔۔۔کبھی سوچا نا تھا۔۔۔۔
وہ جل کر خودی سے بولا۔۔۔۔
“اگر کسی نے مجھے اس طرح کرتے دیکھا تو جانے کیا سوچے ۔۔۔۔تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں میری نئی نویلی دلہن ۔۔۔۔وہ دانت کچکچا کر بولا۔۔۔۔اور کھڑکی سے اندر چھلانگ لگائی۔۔۔۔
واش روم کے اندر سے پانی گرنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔۔۔۔
“اوہ تو دلہن صاحبہ باتھ لے رہی ہیں ۔۔۔۔وہ ہنس کر بولا ۔۔۔پھر کبرڈ سے آرام دہ سوٹ نکال کر پہنا۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں علینا باتھ گاؤن میں باہر آئی ۔۔۔۔۔
تم یہاں پھر سے کیسے ؟؟؟وہ حیران کن نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
گیلے بالوں میں سے پانی کی ٹپکتی بوندیں اس کے باتھ گاؤن کو بھی نم کر گئیں۔۔۔۔
دھلا دھلایا شفاف چہرہ جو ہلکا سا نم تھا۔۔۔۔اور گلابی لب ۔۔۔۔۔اس کا زاویہ نگاہ بنے ۔۔۔۔۔
ہیں ہونٹ اس کے کتابوں میں لکھے تحریروں جیسے
انگلی رکھو تو آگے پڑھنے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔
مضربان قدم بڑھاتے ہوئے گنگنایا علینا کو زچ کرنے میں اب اسکو مزہ آنے لگا تھا ۔ زندگی مسکراتی محسوس ہو چلی تھی ۔کوئی تو تھا جو اسکی جی حضوری کرنے کے بجائے ٹکر کا مقابلہ کرنے کہ خود میں جراءت رکھتا تھا ۔
“خبر دار جو کچھ ایسا ویسا سوچا بھی تو کراٹے سارے ٹرکس تم پر آزماؤں گی “
فریش ہو کر آنے کے باوجود ماتھے پہ چمکتےپسینےکی ننھی منی بوندوں کو صاف کرتی دوسرے ہاتھ کا مکہ بناتےہوئے خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے جوش سے بولی ۔
” میرے قریب بھی آئے تو سارے دانت توڑ دوں گی اور ہڈیاں بھی ۔۔۔۔۔
تیرے ہونٹوں سے کتنا مختلف ہے تیری ذات کا پہلو
اتنے نرم ہونٹوں سے کتنا سخت بولتے ہو تم ۔۔۔
مضربان نے کہتے ہی اس کی کلائی کو تھام کرنرمی سے اسکا رخ دوسری طرف کیا تھا کہ اب علینا کی پشت اسکے کشادہ سینے سے جالگی تھی ۔
” افف۔۔۔۔ مچھر !!’
“چھوڑو میرے ہاتھ کو !! ہائے ظالم انسان بہت درد ہورہا ہے کلائی توڑدوگےکیا ؟؟؟”
مضربان نے آہستگی سے اسکے کان کی لو پر اپنے دانت سے کاٹا۔۔۔۔ اسکی بولتی تو بند ہوئی ساتھ ہی آنکھوں کی پتلیاں ساکت رہ گئیں ۔۔۔
_”ارے یار ایک تو تم شور بہت مچاتی ہو !!
” میرا انتظار کیا ہوتا تو میں تمہیں خود اس آرائش و زیبائش سے رہائی دلادیتا وہ بھی ایک دم فری بلکہ تمہاری تعریفوں کے قلابے بھی ملاتا بھی اور ساتھ ہی تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔”””
“بسسسسس ۔۔۔۔۔ اب اور ایک لفظ بھی نہیں ۔۔۔۔
“کیوں تم بولنے میں وقت برباد نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔یہ تو اچھی بات ہے میں بھی وقت برباد نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔وہ معنی خیز انداز میں اس کے سراہے کو نگاہوں میں بھر کر بولا۔۔۔۔۔
مضربان نے اس کو گرفت میں لیتے ہوئے اس کی جاء لائن پر دانت گاڑے ۔۔۔۔۔
آہ !!!درد بھری سسکی اس کے لبوں سے آزاد ہوئی ۔۔۔۔۔
“یہ کیا تھا ۔۔۔وحشی انسان ؟؟؟وہ اس سے اپنا چھڑوا کر چلائی ۔۔۔۔۔
“یہ تمہاری پیار بھری سزا جو مجھے کمرے سے باہر نکالنے پر ملی ۔۔۔۔۔
ابھی تو شکر ہے ہمارا روم سائیڈ پر ہے ورنہ تمہاری چیخیں سن کر جانے لوگ کیا سمجھیں کہ تم پر کونسا تشدد کر رہا ہوں ۔۔۔۔
“تم حرکتیں ملاحظہ فرماو اپنی چیخیں تو نکلیں گی اتنی زور سے کاٹا میرے منہ پر ۔۔۔
اس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر کہا۔۔۔۔
صبح سب اس نشان کا پوچھیں گے تو کیا کہوں گی ؟
وہ اپنی جاء لائن پر دانت کے نشان دیکھ کر جھنجھلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“کہہ دینا میرے پیارے سے شوہر کے پیار کی نشانی ہے ۔۔۔۔۔۔
“ہنہہہہ۔پیارا سا شوہر ۔۔۔وہ ہنکارا بھر کر بولی۔۔۔۔۔
شکل دیکھی ہے کبھی اپنی ۔۔۔۔۔
“چلتے پھرتے لوگ ہی آئینے کا کام کرتے ہیں ۔۔اپنی طرف اٹھتی توصیفی نگاہیں دیکھ کر سمجھ آجاتا ہے کہ لڑکیاں کیسے ندیدے پن سے دیکھتی ہیں مجھے ۔۔۔وہ ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا۔
“واللہ ایسی خوشفہمیاں بھی نا ہوں کسی کو ۔۔۔۔اس نے منہ ٹیڑھا کیے کہا۔۔۔۔
بہت نیند آرہی ہے ہٹو سامنے سے ۔۔۔۔وہ اسے پیچھے دھکیل کر بولی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بستر پر لیٹتی ۔۔۔
مضربان جمپ لگا کر پورے بستر پر پھیل کر لیٹا۔۔۔۔۔
وہ اس کی حرکت پر گھورنے لگی۔۔۔۔۔
“اب میں کہاں سوؤں گی۔۔۔۔؟
“میری آغوش میں۔۔۔۔”
“وہ ایک دفعہ پھر پٹری سے اترا ۔۔۔”
اتنا بڑا بیڈ خالی ہے کہیں بھی سوجاو “
“خالی کہاں ہے ؟؟؟سارے بستر پر تو تم پھیلے ہوئے ہو ۔۔۔۔
وہ کمر پر ہاتھ رکھے لڑاکا انداز میں بولی۔
“تو آؤ تم بھی پھیل جاؤ روکا ہے کسی نے تمہیں ۔۔۔وہ اس کی کلائی کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرا گیا۔۔۔۔۔اور اس کی کمر کے گرد اپنے بازوؤں کی پکڑ مضبوط کی ۔۔۔۔
“جن کہیں کے چمٹ ہی گئے ہو مجھے ۔۔۔چھوڑو مجھے ۔۔۔۔وہ اس کے بازوؤں پر زور سے ہاتھ مار کر بولی۔۔۔
“اب تمہیں پری تو کہنے سے رہا ۔۔۔۔اس بار جن پری پر نہیں ایک چڑیل پر عاشق ہوا ہے ۔۔۔۔چڑیل کو چاہیے اس جن کا خون پی لے ۔۔۔۔
چلو خیر کوئی نہیں ۔۔۔۔یہ کام بھی جن خود ہی کر لے گا۔۔۔۔وہ ذومعنی انداز میں اسے بستر پر گرا کر خود اس پر جھکا۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔۔
مگر وہ ان دیکھا کرتے اس کے لبوں پر جھکا۔۔۔۔
علینا نے پاس پڑا کشن اٹھا کر اس کی پشت پر مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
وہ مگر وہ ڈھیٹ بنے مگن رہا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے چھوڑتے ہوئے علینا کی طرف دیکھا جو پلکیں جھکائے ہوئے شرم سے دوہری ہوتی گلابی گالوں سے سانسیں ہموار کر رہی تھی۔۔۔۔
چڑیل شرماتے ہوئے کتنی حسین لگتی ہے۔۔۔۔
مضربان نے اس کے کان میں ہولے سے کہا۔۔۔۔
“میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اس پر پھر سے حملہ کرتی مضربان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں قابو کیا۔۔۔۔اور دوسرے سے سائیڈ پر رکھے لمیپ کی لائٹ آف کی۔۔۔
پہلے خود تو بچ لو ۔۔۔پھر مجھے بھی دیکھ لینا۔۔۔۔۔
اس کے باتھ گاؤن کی ڈوری کھولتے ہوئے اس کے رہے سہے حواس بھی مختل کر گیا۔۔۔۔
دونوں کی اس پیار بھری لڑائی میں ان دونوں نے آج اپنا آپ ہار دیا۔۔۔۔۔
اور ایک یادگار رات نے انہیں اپنے سنگ باندھ لیا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
وہ کمرے میں واپس آیا اور اب چینج کیے اس کے پاس موجود تھا۔۔۔۔
بغیر دیکھے بھی اس کی معنی خیز نگاہیں خود پر محسوس کر کے بری طرح گھبرائی.
اس نے شانوں پر دوپٹہ پھیلایا ہوا تھا جبکہ لمبے گیسوؤں کو فرنچ نوڈ کی صورت میں گوندھ کر اس میں چھوٹی چھوٹی گلاب کی تازہ کلیاں پروئی گئیں تھیں۔۔۔اور چوٹی کو شانے کی ایک طرف رکھا گیا تھا ۔۔۔۔
چولی کی بیک پر ایک ہی ڈوری لگی تھی جس پہ اس کا سارا انحصار تھا ۔۔۔۔۔
اس کی سرسراتی ہوئی انگلیاں اسے اپنی کمر پر محسوس ہوئیں تو اسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
دراک کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ڈریسر کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔پھر جیولری سے خود کو آزاد کرنے لگی۔۔۔۔۔
May I?
وہ جو جیولری اتار رہی تھی اس کی اجازت طلب کرنے پر سر جھکا گئی..
چوڑیاں تو وہ اتار چکی تھی۔ پھردراک نے نرمی سے اس کے گلے سے نیکلس اتارا… پھر ائیر رنگز اتار کر ڈریسر پر اچھالے ۔۔۔۔۔
وہ اس کے پیچھے اتنے قریب تھا کہ اس کی گرم سانسوں کی لو دیتی تپش بدرا کی گردن پر پڑ رہی تھی. اس کی پیٹھ اس کے چوڑے کسرتی سینے سے ٹکرا رہی تھی.
پھر دراک نے نرمی سے اس کے بالوں کی ایک ایک نوڈ کو کھولا . اس کے لمبے گیسو پوری کمر پر آبشار کی مانند بکھر گئے۔۔۔۔۔دراک نےپھر ڈراور کھول کر اس میں سے ایک مخملی کیس نکالا ۔۔۔جس میں خوبصورت چمکتی ہوئی چھوٹے سے ڈائمنڈ والی نوز بن تھی ۔۔۔اس کے ناک سے بڑی سی نتھ کو نکالتے ہوئے اس میں وہ جگمگاتی ہوئی نوز بن پہنائی۔۔
یہ تمھاری منہ دکھائی.. دراک نے اسے کندھوں سے تھام کر کہا..
بدرا نے بمشکل نظریں اٹھا کر دیکھا ۔۔۔۔وہ اس کی خمار آلود آنکھوں کی تاب نہ لا سکی ۔۔۔۔۔اس وقت اس کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آباد تھا۔۔۔۔۔
اس کی گھنیری پلکیں شرم کے باعث لرزنے لگیں ۔۔۔۔
اس کی اس معصوم حرکت پر دراک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔۔
جانم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خمار زدہ جذبات سے لبریز بوجھل آواز میں اسے پکار
جج……… جی ۔۔۔اس کی آواز تو لڑکھڑائی بلکہ جسم بھی تھر تھرا رہا تھا۔۔۔۔۔
“میں نے تو کئی بار اپنا حال دل بیان کیا ہے کیوں نا آج آپ کا امتحان لیا جائے ۔۔۔۔۔
بدرا نے بمشکل نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔اس کی بات سنے وہ اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم پیوست کیے کپکپا گئی ۔۔۔۔۔
“کیسا۔۔۔امتحان ؟؟؟وہ نا سمجھی سے بولی ۔۔۔۔۔
یا تو زبان سے اقرار ِمحبت کریں نہیں تو اپنے کسی عمل سے ۔۔۔۔۔
اس نے دو آپشن پیش کیے ۔
دونوں ہی بہت مشکل ہیں ۔۔۔۔وہ گھبرا کر بولی ۔۔۔۔۔
چلو میں اپنی جانم کے لیے تھوڑی آسانی پیدا کر دیتا ہوں ۔۔۔۔
میں تمہیں جانے دوں گا۔۔۔۔۔
اس کی بات پر بدرا نے تھوڑا سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
جسٹ کس می ہئیر ۔۔۔اس نے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا۔۔۔۔۔
اس کی اگلی بات پر اس کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا جیسے اچھل کر ابھی سینے سے باہر آجاتے گا ۔۔۔۔
کچھ لمحے یونہی ہی خاموشی سے گزر گئے۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑے دیوار سے ٹیک لگائے اسی کا منتظر تھا۔۔۔۔
آااااااپ. آپ اپنی آنکھیں بب…..بند . کریں
اوکے.۔۔۔دراک تو خوشی سے جھوم اٹھتا لیکن خود کے احساسات چھپانے کے لیے آنکھیں زور سے بند کیں ۔
بدرا شرماتی… جھجھکتی تھوڑا اوپر کو ہو
