367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 13

پر شور سمندر تھے میرے پاؤں میں،
اب کے ڈوبے ہیں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں،
اور نارسائی کا یہ عالم ہے کہ،
اب یاد بھی نہیں ،تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں…….
طمر نے پروفیشنل انداز میں چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائےاپنا ہاتھ نہال شاہ کے ہاتھ میں دیا اور اسے سختی سے دبا کر چھوڑ دیا۔
نہال شاہ جیسے اس کے اس عمل سے ہوش میں آیا۔۔۔۔
ڈائس پر کھڑے چینی کمپنی کے ڈائریکٹر چنگ پنگ نے اپنی بات کا آغاز کیا۔۔۔تو سب ادھر متوجہ ہوئے ان کے ساتھ ان کا ٹرانسلیٹر بھی تھا جو ان کے بولنے کے بعد اردو میں ترجمہ کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے شان سے چلتے ہوئے سٹیج پر گئے۔۔۔۔
“سر جوس “ویٹر نے اس کی نظروں کا ارتکاز توڑا۔۔۔۔
نہال نے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈال کر ٹرے سے ایک گلاس اٹھایا۔۔۔۔
ان دونوں کو سٹیج پر ساتھ دیکھ کر دل میں ابال اٹھنے لگے۔۔۔۔
بالکل پرفیکٹ کپل کی لُک دیتے ہوئے جیسے وہ اس کے دل میں آگ ہی لگا گئے۔۔۔۔
جانے کیا کہہ رہے تھے وہ دونوں ہنس ہنس کر نہال کو کانوں میں کچھ سنائی نہ دیا۔۔۔۔
آنکھیں یہ منظر دیکھ کر شعلوں سی دہکنے لگی اور من میں بھانبھڑ جلنے لگے۔۔۔۔
ایسے جیسے پل بھر میں ہی کسی نے اسے دہکتے ہوئے کوئلوں پر بھوننے رکھ دیا ہو۔۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑا ہوا جوس کا گلاس غصے کی بھینٹ چڑھا۔۔۔اور ہاتھ کی مضبوط ترین گرفت میں چھناکے کی آواز سے ٹوٹا۔۔۔مگر وہ آواز گردیزی اینڈ سنز کو کانٹریکٹ ملنے کی وجہ سے تالیوں کی گونج میں دب کر رہ گئی۔۔۔اس کا ہاتھ لمحوں میں خون سے نہا گیا۔۔۔۔ٹوٹے گلاس کی کرچیاں فرش پر بکھریں۔۔۔۔اور وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
پارکنگ میں کھڑی ہوئی گاڑی میں جا بیٹھا ۔۔۔۔اگنیشن میں چابی ڈال کر گھمائی اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔۔
مگر خود کو ڈرائیونگ کی حالت میں نہ پاتے ہوئے سیٹ کی پشت پر سر گرایا۔۔۔۔اور جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
“ٹھیک کہا تھا میں نے تم عورت ذات ہوتی ہی بے وفا۔۔۔۔۔آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔۔۔تمہیں تو کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔۔۔۔۔
نئی دنیا بسا لی۔۔۔تم جیسی گھٹیا اور بے وفا عورت میں نے دنیا میں نہیں دیکھی ۔۔۔۔کتنا پیار دیا تھا میں نے تمہیں ۔۔۔۔مگر تم نے کیا دیا مجھے دھوکہ ،فریب میرے جذبات سے کھیلا تم نے طمر ۔۔۔۔تم بھی کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی۔۔۔۔
وہ کرب سے اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے بولا ۔۔۔
طمر کی ایم ۔بی ۔اے کی ڈگری کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اور اس کی خوشی کے لیے وامق نے اسے اپنے ساتھ بزنس میں انوالو کر لیا تاکہ وہ مصروفیت میں اپنا ماضی بھول جائے۔۔۔۔ آج طمر اور وامق شانہ بشانہ کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
فورتھ پیرڈ کے شروع ہوتے ہی وہ کلاس میں اینٹر ہوئی۔۔۔۔
شکر ادا کیا ابھی لیکچرار آئے نہیں تھے ادھر ادھر نظر دوڑائے بغیر ایک خالی جگہ دیکھ کر وہاں جا کہ بیٹھ گئی۔۔۔
او ہیلو مس چھپکلی کیسی ہو ؟؟؟؟
“تم “وہ حیران کن نظروں سے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھ کر بولی۔۔۔
“تم یہاں بھی ؟”
“میں یہاں بھی سے کیا مطلب ؟؟؟”
“یہ تو مجھے کہنا چاہیے تھا کہ تم یہاں بھی ؟”
“لو جی ہو گئی پڑھائی وہاں جہاں ایسے مچھر ہوں گے”وہ طنزیہ انداز سے اس کی طرف دیکھ کر ناک سکوڑتی ہوئی بولی۔۔۔
“اے ادھ مری چھپکلی مچھر ہوں گے تمہارے باپ دادا۔۔۔۔ “
“اے مچھر زرا تمیز سے ۔۔۔۔مجھ تک ہی محدود رہو میرے باپ دادا کو بیچ میں گھسٹیا تو خیر نہیں تمہاری ۔۔۔۔
وہ اسے انگلی دکھا کر وارن کرنے کے لہجے میں بولی۔۔۔
“گڈ مارننگ !
لیکچرار نے اندر آتے ہی کہا تو اب نے مشترکہ جواب دیا۔۔۔۔
کچھ تعارف کے بعد پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔۔
آپ سب سے ایک سوال ہے ۔۔۔انہوں نے سٹوڈنٹس کو مخاطب کرکے کہا۔۔۔۔۔
What do you know about Human Resource management?
“سر “مضربان نے ہاتھ کھڑا کیا۔۔۔۔
“یس پلیز “انہوں نے اسے بتانے کے لیے کہا۔۔۔
“نہیں سر میں نہیں دراصل یہ جو میرے ساتھ بیٹھی ہیں نا یہ کہہ رہی تھی کہ مجھے پتہ ہے مگر مجھے شرم آرہی ہے کیسے بتاؤں ساری کلاس کے سامنے ۔۔۔۔۔مضربان نے معصومانہ چہرے سے بات کہی۔۔۔۔
اس کی بات سن کر سر کے چہرے کے نقوش تنے۔۔۔۔۔۔
اور کلاس میں مدھم سی سرگوشیوں میں ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔۔
علینا اس کی حرکت پر تلملا کر رہ گئی۔۔۔
کیا نیم ہے آپ کا ؟؟
سر نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“سر میں “علینا نے اپنے پر انگلی رکھ کر پوچھا۔۔۔
“جی آپ سے ہی ہو چھ رہا ہوں ۔۔۔۔
علینا اپنی جگہ سے اٹھی مگر کھڑے ہوئے مضربان کے پاؤں پر اپنی پینسل ہیل مارنا نہ بھولی۔۔۔۔
آہ !!!!!!۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک دم کراہ کر رہ گیا۔۔۔۔
“سر میرا نام علینا آفندی ہے ،اور سر مجھے کوئسچن کے بارے میں کچھ نہیں پتہ اس مچھر ۔۔۔۔اوہ سوری میرا مطلب اس نے شاید غلط سنا ہوگا۔۔۔۔وہ چہرے پر بے چارگی ظاہر کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
ٹھیک ہے تو پھر آپ ہی بتائیں مسٹر ؟؟؟؟سر نے اسی کی طرف دیکھ کر کہا
سر مضربان ۔۔۔میرا نام مضربان گردیزی ہے۔
ٹھیک ہے مضربان آپ بتائیں۔۔۔۔۔
وہ اپنے پاؤں کو سہلاتا ہوا اٹھا اور کچا چبا جانے والی نظروں سے ساتھ بیٹھی ہوئی علینا کو گھورتا ہوا اٹھا۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھ کر ایک استہزایہ مسکراہٹ اچھال گئی پھر توجہ سر پر دینے لگی۔۔۔۔۔
Sir ! You will learn how to manage a team ,and the workforce of the business organization as human resources management can also help in increasing the chances of employee requirement and employee retention.
مضربان بولا تو اس بار حیران ہونے کی باری علینا کے ساتھ ساتھ ساری کلاس کی بھی تھی۔۔۔۔
“Impressive”
سر نے بھی یک لفظی جملہ کہا اس کی تعریف میں۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ بیٹھا اور تفاخر بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ ہونٹ ٹیڑھیے کیے اسے خاطر میں نا لاتے ہوئے منہ پھیر گئی۔۔۔۔۔۔
دراک نے اسے پہلے سے ہی کچھ گائیڈنس دی تھی اس سبجیکٹ کے بارے میں کو آج اس کے کام آئی اور وہ بے عزتی سے بچ گیا۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں دراک کا متعرف ہوا۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج اتوار کا دن تھا اب گھر میں موجود تھے ۔۔۔
مگر ابھی تک کوئی بھی ناشتے کے لیے اپنے کمرے سے باہر نہیں آیا تھا۔۔۔۔
طمر جو صبح جلدی اٹھ کر سب کے لیے اتنے پرتکلف ناشتہ تیار کر چکی تھی ٹھنڈا ہوتے دیکھ طیش میں آئی۔۔۔۔
سب سے پہلے تقی اور مضربان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
دروازہ کھولا تو دونوں بستر میں محو استراحت تھے۔۔۔۔
تقی اور مضربان دونوں جلدی اٹھ جاؤ ناشتہ ریڈی ہے ۔۔۔۔۔اگر پانچ منٹ کے اندر اندر تم دونوں نیچے نہیں آئے تو میں تم دونوں پر پانی کی بکٹ الٹا دوں گی۔۔۔۔وہ دھمکی آمیز انداز میں بولی ۔۔۔
“کیا یار مام ایک سنڈے کا دن ہی تو ہوتا ہے سونے کے لیے وہ بھی آپ جلدی اٹھا دیتی ہیں مجھے ابھی نیند آئی ہے تقی سر کے نیچے سے تکیہ نکال کر اپنے کانوں اور چہرے پر رکھتے ہوئے بوجھل آواز میں بولا۔۔۔۔
“مام تقی ٹھیک کہہ رہا ہے مجھے بھی ابھی نیند آئی ہے اور اتنی صبح مجھے بھوک نہیں “مضربان نے بھی خمار ذدہ آواز میں کہہ کر آنکھیں دوبارہ موند لیں اور چہرے تک کمفرٹر لیا۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تم دونوں آج اچھے سے سونا ۔۔۔
اب جو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے صبح سویرے اُٹھ کر حلوہ پوری بنائی ہے وہ میں ساتھ والوں کے گھر بھجوا دیتی ہوں ۔۔۔
وہ کڑے تیوروں سے کہتی ہوئی دروازہ پٹخ کر باہر نکلی۔۔۔۔۔
ایک نے تکیہ پھینکا اور دوسرے نے کمفرٹر ہٹا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔
پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔۔۔۔۔
تقی بستر سے اترا ۔۔۔
مضربان بھی دونوں نے واش روم کی طرف دوڑ لگائی ۔۔۔
مگر مضربان تقی کو چکما دینے میں کامیاب ٹھرا۔۔۔۔۔اور پھرتی سے واش روم میں گھس گیا ۔۔۔
“جلدی باہر نکل کمینے “اس نے واش روم کے دروازے پر مکا رسید کرتے کہا۔۔۔۔۔۔
طمر نے ہیلپر کو ڈائنگ پر ناشتہ لگانے کے لیے کہا وہ جانتی تھی کہ اس کی یہ دھمکی ضرور کام کرے گی اور وہ دونوں اگلے پانچ منٹ میں باہر ہوں گے۔۔۔۔۔کیونکہ حلوہ پوری ان دونوں کی فیورٹ تھی ناشتے میں جو طمر کبھی کبھار ہی بناتی تھی ۔۔۔۔
پھر خود باہر لان میں آئی جہاں وامق چئیر پر بیٹھا صبح کی تازہ کھلی فضا میں آج کا اخبار پڑھنے میں محو تھا۔
“بہت برے ہیں آپ “
طمر اس کے پاس جا کر نروٹھے انداز میں بولی۔۔۔
“اب میں نے ایسا کیا کردیا ؟وہ اخبار میں منہ دئیے بنا سر اٹھائے بولا۔۔۔۔
“مجھے آپ کی توجہ کہیں اور ہو بالکل گوارا نہیں “اور آپ ہیں کہ ۔۔۔۔۔اس نے وامق کے ہاتھوں سے اخبار لے کے سامنے رکھے میز پر پٹخا۔۔۔۔
“ارے ہماری ساری توجہ تو دل وجان سے آپ کے نام “وامق نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی گود میں بٹھایا۔۔۔۔
“کیا کر رہے ہیں وامق اس طرح کھلے عام کوئی دیکھ لے تو کیا کہے گا “وہ خفت سے اس کے اوپر سے اٹھنے کے لیے پر تولتی ہوئی بولی۔۔۔۔
“کیا کہے گا ؟یہی کہے گا کہ دیکھو اس عمر میں بھی کتنا پیار ہے ہم میں ۔۔۔۔
وہ اس کی گود سے نکل کر اٹھی۔۔۔۔۔
“Hey Love birds ……
آجائیں ہم بھی آگئے ۔۔۔۔۔
مضربان اور تقی جو انہیں ڈھونڈتے ہوئے لاؤنج سے باہر نکلے انہیں ساتھ کھڑے دیکھ کر بولے۔۔۔۔۔
“آرہے ہیں “وامق نے دونوں سے کہا ۔۔۔۔
طمر اور وامق ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے اور اندر بڑھ گئے۔۔۔۔۔
ہیلو گرینی ۔۔۔۔۔وہ دونوں بیک زبان بولے۔۔۔
کتنی بار کہا ہے یہ ہیلو شیلو نا بولا کرو ۔۔۔۔
سلام کیا کرو ۔۔۔وہ پیار سے انہیں ڈپٹنے کے انداز میں بولیں۔۔۔۔
اسلام وعلیکم گرینی ۔۔۔۔وہ پھر سے بولے ۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔جیتے رہو۔۔۔۔۔زبیدہ خانم نے ان دونوں کے سر پر پیار دیا۔۔۔۔۔
دو پوتے اگر خدا نے ان سے چھین لیے تھے تو توبہ قبول کرتے ہی خدا نے انہیں مزید دو جڑواں پوتوں سے نوازا تھا تقی اور مضربان کی صورت میں ۔۔۔
تقی اپنی ماں طمر کا پرتو ہلکی سبز آنکھوں والا۔۔۔۔جبکہ مضربان نے سارے نقوش وامق کے چرائے تھے ۔۔۔
سب ڈائنگ پر ناشتہ کرنے لگے۔۔۔۔۔
“واہ مام آج تو مزہ ہی آگیا دل کرتا ہے آپ کے ہاتھ چوم لوں “تقی پوری کی بائٹ چنوں کے ساتھ بھر کر منہ میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
“نالائقوں۔۔۔۔یہ لائن تو میری تھی ۔وامق نے ایک لقمہ منہ میں ڈال کر کہا۔۔۔۔
“بابا بڑا وقت ہو گیا ہے آپ کا رشتہ اب ایکسپائر ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔پھر سے کوشش کریں ۔۔۔۔
“مطلب “وامق نے حیرانی سے پوچھا۔
“مطلب نکاح نامہ ایکسپائر ہو گیا پھر سے ری نیو کروائیں۔۔۔۔پیسے ختم ۔۔۔۔۔
“جی نہیں ہمارا نکاح تمام عمر تک کے لیے آخری سانس تک قائم رہے گا کیوں بیوٹیفل ؟؟؟وامق نے طمر کے گال پر چٹکی بھر کر پیار بھرے انداز میں کہا
“وامق کیا ہے بچوں کے سامنے تو ۔۔۔۔۔
ابرو سکیٹر کر مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“کیا مام ڈیڈ کے جذبات کو سمجھیں ہم تو اب عادی ہو چکے ہیں “کیوں بیوٹیفل تقی نے مضربان کو دیکھ کر شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔
ان دونوں کو اپنی نقل اتارتے دیکھ کر وامق اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔
تم دونوں کو تو میں دیکھتا ہوں ۔۔۔۔
وہ دونوں اپنے بابا وامق کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر باہر کو بھاگے اور وامق ان کے پیچھے۔۔۔۔۔
طمر اور زبیدہ خانم انہیں اس طرح دیکھ کر مسکرائیں۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں باہر سے کھلکھلاہٹوں کی آوازیں گونج اٹھی۔۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
Best of luck bro…..
مضربان نے دراک کے گلے لگ کر اسے تھپکی دی۔
تھینکس ۔۔۔۔
وہ فٹ بال کی کٹ پہن کر بالکل تیار تھا ۔۔۔آج یونیورسٹی میں صوبائی لیول کا مقابلہ تھا۔۔۔۔
دراک میٹرک میں ٹاپر ،پھر کالج لیول پر بھی ٹاپر رہا ۔۔۔۔کالج میں ہی اس کی ملاقات مضربان سے ہوئی تھی۔
مضربان فرسٹ ائیر کا جبکہ دراک فورتھ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا۔۔۔۔
پھر جم میں کافی وقت ساتھ گزرنے لگا جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی دوستی عمر اور کلاس کے فرق کے باوجود گہری ہوتی گئی۔۔۔۔۔
دراک مضربان کو پڑھائی اور جم دونوں میں گائیڈ کرنے لگا۔۔۔۔
دراک نے یونیورسٹی جوائن کرلی اب وہ ایم ۔بی ۔اے کے لاسٹ پارٹ میں تھا جبکہ مضربان نے فرسٹ میں ایڈمیشن لیا۔۔۔۔
پڑھائی کے دروان دراک نے گریجویشن کے بعد C.S.Sکے پیپرز دے چکا تھا جسے اس نے اچھے نمبروں سے کلئیر کر لیا اب صرف انٹرویو کی کال کا انتظار تھا۔۔۔۔
یونیورسٹی کے ہر ایتھلیٹک مقابلے میں شرکت کرتا اور ہمیشہ جیت کا سہرا اپنی یونی کے سر سجاتا۔۔۔۔۔۔
اس کی طرف دیکھ کر مضربان کو بھی فٹ بال کا کھیل سیکھنے کا شوق ہوا تو اس میں بھی دراک نے اس کی مدد کی۔۔۔۔۔
دراک باقی کھلاڑیوں کے ساتھ گراؤنڈ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ مضربان گروانڈ سے نکل کر تقی کی طرف گیا تاکہ اسے بھی یہاں بلا سکے۔۔۔۔۔
کلاس میں وہ موجود نہیں تھا مضربان نے اس کے کلاس فیلوز سے اس کے بارے میں پوچھا ۔۔۔تو انہوں نے کمپیوٹر لیب کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔
اس نے اندر دیکھا تو تقی کھڑا ہوا کسی کو کچھ سمجھا رہا تھا۔۔۔۔
“اب پتہ چل گیا سلائیڈز کیسے بنانی ہیں ؟
“جی پتہ چل گیا “مضربان نے اس باریک سی آواز والی لڑکی کو دیکھا جو عبائے میں ملبوس چہرے پر حجاب کی طرح دوپٹے لپیٹے ہوئے تھی۔۔۔۔
کل کی پریزنٹیشن پر سارا کام تمہیں کرنا ہوگا۔۔۔۔تقی نے کہا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں بنا لوں گی اب ۔۔۔۔اس نے کمپیوٹر سکرین پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہی جواب دیا اور انگلیاں کی بورڈ پر حرکت کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟
مضربان کی نظر پاس کھڑی علینا پر گئی تو اس نے پوچھا۔۔۔۔
“تم سے مطلب “یہ جگہ کیا تمہارے باپ کی ہے ؟
“تم میرے باپ کو بیچ میں مت گھسیٹو” وہ انگلی سے وارن کرتا سرد لہجے میں بولا ۔۔
“لگی نہ آگ ؟؟؟
“مجھے بھی ایسے ہی لگی تھی جب تم نے میرے باپ دادا کو گھسیٹا تھا اس دن ۔۔۔۔
وہ بھی ایک ایک لفظ چبا چبا کر غرائی۔۔۔۔
“بس بھی کرو تم دونوں”تقی نے ان دونوں جھگڑتے دیکھ صلح جو انداز میں کہا۔۔۔۔
لگتا ہے کلاس میں اچھا انٹرو ڈکشن ہو چکا ہے آپس میں ۔۔۔۔تقی نے کان کھجاتے ہوئے رازدارانہ انداز میں علینا کے کان کے پاس جا کر کہس۔۔۔۔۔
تم بڑی اس کی طرف داری کر رہے ہو کس خوشی میں ؟؟؟مضربان نے تقی سے ابرو اچکا کر پوچھا۔۔۔۔
“میں نے کب اس کی سائیڈ لی ہے میں تو تم دونوں کو خاموش کروا رہا تھا۔۔۔۔۔
“آپ سب مت لڑیں پلیز ۔۔۔۔۔بدرا جو کب سے خاموش تماشائی بنی سب سن رہی تھی بول اٹھی۔۔۔۔۔
“تقی جلدی چلو یار میچ شروع ہونے والا ہے بڈی کا ۔۔۔۔۔
کونسا میچ ؟علینا نے پوچھا۔۔۔۔
“فٹ بال میچ اور وہ بھی صوبائی لیول کا ہماری یونی کا دوسری ہونی سے اور اس میں میرا دوست لیڈ کر رہا ہے وہ اس یونی کی ہر گیم کا چیمپئن ہے ۔۔۔۔۔مضربان نے غصہ بھلائے اسے ہر بات سے آگاہ کیا ۔۔۔۔کیونکہ یہاں بات تھی اس کے بیسٹ بڈی کی۔۔۔۔۔۔
“پھر تو میں بھی چلوں گی۔۔۔۔وہ خوشی سے بولی مجھے بھی لائیو دیکھنے کا شوق تھا۔۔۔۔۔
بدرا تم بھی چلو ہم باقی کا کام پھر کر لیں گے۔۔۔۔۔
تقی نے اسے کہا۔۔۔۔
“نہیں آپ لوگ جائیں میں کام مکمل کر لوں گی ۔۔۔۔وہ دراصل میرے پاس گھر میں کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہیں ہے ۔اسی لیے یہیں کام ختم کروں گی اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنی مجبوری بتائی۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی “اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا پھر وہ تینوں بھی گراؤنڈ کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔
کمینٹری کے فرائض سر اعجاز سر انجام دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔مائک پر ان کی آواز گونجی۔۔۔۔
میچ کی شروعات ہو گئی ہے اور اونج کِٹ میں سندھ یونیورسٹی کی ٹیم اور بلیو کٹِ میں داہنے سے باہنے کی طرف اٹیک کرے گی تو وہیں سے پنجاب یونیورسٹی کی ٹیم باہنے سے دائیں کی طرف حملہ کرے گی۔اور جیتے گی وہی ٹیم جس میں جوش و جذبہ اور لگن ہو گی ۔۔۔۔پہلا اٹیک پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بنتا ہوا دراک کی طرف سے احمد کے لیے دراک کا تھرو بال اور ان کا کراس ۔۔۔۔ایڈومیڈیا کے پاس موقع بن سکتا تھا ،شاندار ہیڈر لیکن تعریف کرنی پڑے گی سندھ یونیورسٹی کے گول کیپر عابس کی جو بال فار پوسٹ کی طرف جا رہی تھی آخری لمحے میں پنچ آوٹ کیا۔۔۔لیکن پنجاب یونیورسٹی نے پہلا کارنر جیت لیا اس مقابلے کا اب تک پنجاب یونیورسٹی نے پانچویں ایڈیشن میں کل ملا کر بارہ گول،فری کک اور کارنر کے زریعے کیے ہیں لیکن فائنل مقابلے تیرہواں گول جو سب سے زیادہ اہم ہے کیا وہ کر پائیں گے؟؟
احمد سندھ یونیورسٹی کے ایک لمبا گول لیتے ہوئے سینٹر سرکل کے بالکل پاس سے بال کو سائیڈ لائن کے بالکل قریب پہنچاتے ہوئے مگر بال شکیل کے پاس ۔۔اب بال علی کے پاس ایک دوسرے کو پاس دیتے ہوئے ڈی کے اندر بال پہنچ ایک لمبا پاس کیا مگر یہ کیا ایک بار پھر سے ناکام کر دیا گول کیپر نے۔۔۔۔اور اکیس منٹ کے اس کھیل میں آیا وقفے کا وقت۔۔۔جس طری سب کے جسم کھیل کے دوران پسینے سے شرابور تھے سب رکے۔۔۔۔۔
وقفے کے بعد کھیل دوبارہ سے شروع ہوا۔۔۔۔مگر ابھی تک دونوں ٹیمیں گول کرنے میں نا کام رہی جوں جوں وقت گزر رہا تھا کھیل میں اب کرو یا مرو کا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔۔
گرما گرمی کا ماحول تھا ہر کوئی اپنا بیسٹ دینے کو تھا۔۔۔علی اور شکیل کا بال کو لے کر ٹکراؤ ہوا مگر ریفری فورا ہی وہاں پہنچ گئے۔۔۔
دراک نے علی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے پر سکون کرنا چاہا۔اور آنکھیں چھپک کر تسلی آمیز انداز سے دیکھا۔۔۔
عامر جوسندھ یونی سے ہیں انہوں نے بال نیٹ میں ڈالنے کی کوشش کی مگر دوسری سائیڈ کے گول کیپر نے بال کیچ کر کہ ایک لمبی کک لگاتے ہوئے بال دور پھینک کر اس کے گول کو ناکام بنا دیا۔۔۔۔
شکیل بال کو لے کر آگے بڑھ رہے تھے کہ علی سے ٹکرا گئے اور گر گئے۔۔۔علی بال کو لے کر آگے بڑھتے ہوئے سائیڈ لائن کے قریب سے ہوتے ہوئے بال دراک کو پاس کی اس نے فائنل لائن کے پاس سے ایک شاندار کک لگاتے ہوئے بال کو گول پوسٹ میں ڈال دیا ۔۔۔۔
اور سندھ یونیورسٹی کی جیت کے خواب کو چکنا چور کردیا۔۔۔
سیٹی بجی اور مقابلہ ختم ۔۔۔تالیوں کی گونج میں پنجاب یونیورسٹی کی شاندار کارکردگی کو سراہا جا رہا تھا اور یہ سب کریڈٹ جاتا تھا دراک کو جس نےہمیشہ اپنی یونی کا سر اپنی شاندار کارکردگی سے بلند کیا تھا۔
چاہے وہ مقابلہ پڑھائی کا ہو یا کسی بھی کھیل کا۔۔۔۔
(لاہور اور کراچی والے دل پر نا لیں یہ صرف ایک ناول ہے )
اب دراک کھڑا اپنی ٹیم کے ساتھ ٹرافی وصول کر رہا تھا ۔۔۔۔مضربان نے فون نکال کر اس کی تصویر لی۔۔۔۔
“ابے اوئے گھامڑ۔۔۔۔۔تیرے پاس موبائل تھا تو مجھے کال کر کہ بلا لیتا ۔۔۔۔۔تقی نے مضربان کی گردن پر ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
علینا انہیں دیکھ کر دانت نکالنے لگی۔۔۔۔
“ہاں یار یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔”یہ کہتے ہوئے اس کی نظر علینا پر پڑی جو اسے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔۔۔۔
“تم کیوں دانت نکال رہی ہو ؟؟؟اس نے اسے تیکھیے چتونوں سے گھور کر بولا ۔۔
“بڑی کوئی سوغات ہو تم جو تمہیں دیکھ کر اپنے موتیوں جیسے نایاب دانتوں کی نمائش کروں گی ۔۔۔۔
یا تم کوئی جناتی مخلوق ہو جو تمہیں دیکھ کر ڈر کے مارے میری بتیسی باہر آگئی۔۔۔۔۔
اس کا کرارہ سا جواب سن کر اس کی صبیح پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔۔۔۔
جبکہ تقی دونوں کی نوک جھوک پر خفیف سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ کوئی جوابی کارروائی کرتا ہی کہ گراؤنڈ میں موجود دراک نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
مضربان اس کے پاس جانے کے لیے اٹھا تو تقی اور علینا نے بھی اس کی تقلید کی۔۔۔۔
وہ تینوں گروانڈ میں پہنچے تو مضربان نے دراک کو مبارکباد دی۔۔۔۔
تقی اور علینا نے بھی۔
“پلیز ایک سیلفی ہو جائے ۔۔۔۔علینا نے دراک سے کہا جس نے ہاتھ میں ٹرافی🏆 اٹھا رکھی تھی۔
Yah ! Sure…..
دراک نے کہا۔۔۔۔
وہ مضربان کو دھکا دئیے دراک کے ساتھ کھڑی ہوئی۔۔۔
مضربان نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔۔
“سڑو”وہ منہ بنا کر اسے چڑاتی ہوئی بولی۔۔۔
ایک طرف علینا درمیان میں دراک اور دوسری طرف تقی تینوں نے مل کر سیلفی بنانی چاہی تو مضربان نے جھٹ پیچھے سے آکر اپنا چہرہ بھی آگے کیا۔۔۔۔اور علینا کے سر پر انگلیوں سے سینگ بنائے۔۔۔۔
اتنے میں سیلفی بن چکی تھی۔۔۔۔علینا نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
مضربان حملے سے بچنے کے لیے آگے اور علینا اس کے پیچھے۔۔۔۔۔۔