367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 8

عروسی لباس کی بجائے قدرے ایک سادہ سا لائٹ پنک کلر کے شیفون کا ہلکے سے کام والاجوڑا زیب تن کیے وہ بالکل سادگی سے تیار تھی۔۔۔۔۔
دل تو جیسے مر ہی چکا تھا اندر کچھ بھی نہیں بھا رہا تھا۔۔۔۔پہلے ایک ان چاہے رشتے میں بندھ کر رسوا ہوئی اب پھر ایک زبردستی کے بندھن میں بندھنا ۔۔۔۔دل پر ڈھیروں بوجھ بنا ہوا تھا۔۔۔۔کھل کر سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی۔۔۔کیا میری زندگی یونہی لوگوں کے کہنے پر چلے گی ؟؟؟؟
میں یونہی کٹھ پتلی بنی سب کے اشاروں پر ناچتی رہوں گی۔۔۔جس کا جی چاہے گا مجھے اپنائے گا اور جس کا جی چاہے گا مجھے چھوڑ دے گا؟؟؟؟
اس زندگی سے تو موت اچھی مگر حرام موت کو گلے بھی نہیں لگا سکتی ۔۔۔۔ورنہ کب کی یہ جان دے چکی ہوتی۔۔۔۔اس وقت وہ خود کو بے بسی کی انتہاؤں پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
زندگی تو گزارنی ہی ہے چاہے رو کر چاہے ہنس کر ۔۔۔۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں امام صاحب نے اس کا نام ایک نئے نام سے جوڑ کر اس کی زندگی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھما دی۔۔۔۔۔
اب چاہے وہ اس ڈور کو کھینچ لے یا ڈھیل دے یہ تو اس ڈور کو تھامنے والے پر منحصر تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو وقت کے دھارے پر بہنے کے لیے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
اسے کچھ خبر نہ ہوئی جانے کب اس کا نکاح ہوا اور جانے کب وہ رخصت ہو کر ایک بار پھر سے اسی گردیزی ولا میں آگئی جہاں پہلے بھی خود اذیتی کے مراحل سے گزر چکی تھی۔۔۔۔
صفا تو اپنے بابا کے منہ کو اس نکاح میں شریک ہوئی تھی۔اور گھر آتے ہی بچوں کو لیے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔اسامہ تو سارا دن گھر سے غائب رہا نکاح میں شرکت نہ کی۔۔۔۔
جبکہ زبیدہ خانم جو اس نکاح کے سخت خلاف تھیں صرف اپنے بیٹے کے مجبور کرنے پر انہوں نے اس رسم میں شمولیت اختیار کی۔۔۔۔وہ بھی گھر آتے بنا اس کا استقبال کیے اپنے روم میں یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔
آہانت کی تمازت سے اس کا چہرہ دہکنے لگا۔۔۔
کیا ہر بار بے عزتی اور رسوائی ہی میرا مقدر ٹہرے گی۔۔۔۔۔
اس نے ساتھ کھڑے وامق کو دیکھ کر ایک تلخ مسکراہٹ اچھالی۔۔۔جبکہ آنکھیں آنسوؤں سے تربتر ہوئیں ۔۔۔۔
“آپ روم میں چلیں میں ابھی آتا ہوں “وامق اس کی بھیگی نظروں سے نظریں چرا کر دوسری طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اب شکستہ قدموں سے چلتی ہوئی وامق کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔ایک ایک قدم من من بھر کا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
کوئی میری کیفیت نہیں سمجھ سکتا کتنا مشکل ہوتا ہے بار بار ایک نئے ہمسفر کے لیے خود کو ۔۔۔۔۔سوچ کر بھی اس نے جھرجھری لی۔۔۔۔۔
کمرے میں آئی تو ایک گہری سانس لی ۔۔۔۔۔
اور شکر ادا کیا ۔۔۔۔کہ وامق نے کمرے کو سجانے والی کوئی بے وقوفی نہیں کی۔۔۔۔۔
مگر کمرے کی ابتر حالت دیکھ کر ہول اٹھے۔۔۔۔
کہاں تو وہ اتنی صفائی پسند اور کہاں روم میں اتنا پھیلاوا دیکھ اس کی جان ہوا ہوئی۔۔۔۔۔
جگہ جگہ گندی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر کبرڈ کا آدھا دروازہ کھلا تھا اور اس میں سے سارے کپڑے باہر نکل کر بس گرنے ہی والے تھے۔۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل پر شیونگ کا سامان ، برش اور پرفیومز کی بوتلیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔۔
بیڈ شیٹ آدھے سے زیادہ زمین کو سلامی پیش کر رہی تھی۔۔۔۔جبکہ کمفرٹر بھی بے ترتیب انداز میں آدھا بستر پر تھا اور آدھا نیچے لٹک رہا تھا۔۔۔۔
اس نے ناگواری سے ایک نظر سارے کمرے پر ڈالی پھر دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھے کمرے کی حالت سدھارنے میں جُت گئی۔۔۔۔۔
دس منٹ کی محنت سے کمرہ کچھ بہتر حالت میں آیا۔۔۔۔
کپڑے فی الحال اس نے ویسے ہی الماری میں ٹھونس دئیے۔۔۔۔باقی سب ٹھیک کیا۔۔۔۔
اور پھر بے شکن بستر پر سانس لینے کے لیے ابھی بیٹھی ہی تھی کہ وامق روم کا دروازہ کھول کر اندر آیا۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے سیدھی ہوئی اور پاس رکھا دوپٹہ شانوں پر پھیلایا۔۔۔۔۔
اس نے اندر آکر اپنی گھڑی اور موبائل نکال کر
ڈریسر پر رکھا۔۔۔۔ایک تفصیلی نگاہ کمرے کی نئی حالت پر ڈالی لمحوں کی کایا پلٹ پر وہ حیران ہوا مگر کچھ بولا نہیں ایک نظر اس پر ڈال کر کبرڈ سے اپنے کپڑے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
واپس آیا تو اس سے پہلے کہ وہ بستر کی طرف بڑھتا۔۔۔۔
“رک جاؤ وہیں “””اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہاں رہوں تو تمہیں یہاں سے جانا ہو گا۔”
وہ سپاٹ انداز میں بولی۔۔۔۔
اس وقت وہ اس کی حالت سمجھ سکتا تھا،جس طرح سے یہ نکاح ہوا تھا اتنی جلدی وہ یہ سب قبولنے کو وہ تیار نہ تھی۔۔۔۔ اسی لیے اسے وقت دیتے ہوئے، بنا کوئی بھی جرح کیے وہ چپ چاپ دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟؟؟
میں بدرا سکندر شاہ ۔۔۔۔وہ دھیرے سے اپنا نام بتا گئی مگر ابھی بھی دروازے کے بیچ و بیچ کھڑے اس کا راستہ روکے ہوئے تھی۔۔۔۔۔
“تم میرے بابا کا نام اپنے نام کے ساتھ کیوں لگا رہی ہو ؟؟؟
آخر ہو کون تم ؟؟؟؟اس نے ایک جانچتی ہوئی نظر اس بچی پر ڈالی۔۔۔جو بمشکل دس گیارہ سال کی لگی۔۔۔۔سادہ سی شلوار قمیض پہنے ،سر پر نماز کے سٹائل میں دوپٹہ لپیٹے۔۔۔جس سے صرف تھوڑا سا چہرہ ہی دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
۔پورے حق سے ایسے اس کا راستہ روکے ہوئے تھی جیسے یہ گھر اس کے باپ کا ہے۔۔۔۔
اس کے اس اٹیٹیوڈ پر تو گویا اسے پتنگے ہی لگ گئے۔۔۔۔۔
ہٹو پیچھے۔۔۔۔وہ اسے شانے سے ہلکا سا دھکا دئیے پیچھے ہٹا کر اندر آیا۔۔۔۔۔
بدرا کون ہے ؟؟؟اتنی دیر سے کوئی آہٹ نہ محسوس کرتے ہوئے وہ اندر سے آواز دیں تھیں۔۔۔۔
“میں ہوں اماں “اس نے کمرے کی دہلیز پر قدم رکھ کر کہا۔۔۔۔۔
اتنے سالوں بعد اسے سامنے دیکھ خوشی کی انتہا نہ رہی۔۔۔۔
وہ خوشی ،حیرت ،اور دکھ کے ملے جلے تاثر سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔۔۔
پیاسی آنکھوں کو سیراب کرنے لگیں۔۔۔۔۔
مگر سب یاد آتے ہی خفگی سے منہ موڑ گئیں۔۔۔۔
اسلام وعلیکم اماں !وہ ان کے قریب بیٹھ کر بولا۔۔۔
مگر جواب ندارد۔۔۔۔وہ خاموش رہیں۔۔۔۔
“سلام کا جواب دینے سے ثواب ملتا ہے “
“سب پتہ ہے مجھے مت سکھا۔۔۔۔”
“وعلیکم السلام۔۔۔۔ابھی بھی لہجے میں خفگی کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔۔
“کیا لینے آیا ہے یہاں ابھی بھی لگ کہ بیٹھا رہتا اپنی بیوی کے پلو سے “”””
وہ مسکرا اٹھا ان کے ِگلے شکوے پر۔۔۔۔
“آپ سے ملنے آیا ہوں “
وہ ان کے شانے سے اپنا سر ٹکائے ہوئے مدھم سی آواز میں بولا۔۔۔۔۔
“اتنے سالوں سے ایک بار ۔۔۔۔ایک بار بھی تجھے میری یاد نہ آئی۔۔۔۔ایک بار بھی مجھے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا کہ تیری ماں کس حال میں ہے ؟؟؟
جیتی بھی ہے یا مر گئی؟؟؟؟وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے نم لہجے میں بولیں۔۔۔۔۔
آواز کانپنے لگی۔۔۔۔۔گلہ سوکھنے لگا۔۔۔۔
“مجھے معاف کردیں اماں “مگر پلیز مجھ سے آپ کی یہ خفگی برداشت نہیں ہو گی۔۔۔۔۔
نہال نے ان کے گرد اپنے بازو حمائل کیے۔۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔۔۔۔
اتنے سالوں سے دل پر چھایا غبار آنسوؤں کی صورت چھٹنے لگا۔۔۔۔۔
ابھی کل ہی تو اسے ساتھ والی صندل خالہ کی کال آئی تھی۔۔۔۔
“نہال میں تمہاری صندل خالہ۔۔۔۔
انہوں نے اس کے فون اٹھاتے ہی کہا۔۔۔
جی جی خالہ کہیے کیسے کال کی؟؟؟؟
“بچے اماں بی تو تمہیں کال کرنے سے رہیں۔۔۔وہ ناراض ہیں تمہاری غیر موجودگی سے تمہاری بے اعتنائی سے ۔۔۔۔مگر میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیاہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ایک بار آکر ان سے مل لو۔۔۔انہیں اچھا لگے گا شاید ان کی حالت سنبھل جائے۔۔۔۔اور ایک بار ان کا ڈاکٹر سے چیک اپ بھی کروا دو میں بہت بار انہیں سمجھا چکی ہوں مگر وہ میری نہیں سنتی تمہاری ماں ہیں آخر وہ تمہاری ذمہ داری ہیں ،اس وقت انہیں تمہاری ضرورت ہے”
فون پر ہوئی باتیں نہال شاہ کو آج یہاں کھینچ لائیں۔۔۔۔۔
اماں آئی ایم سوری ۔۔۔میں اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگیا کہ آپ کو یکسر نظر انداز کر گیا۔۔۔۔۔
مجھے میری گستاخیوں اور کوتاہیوں کے لیے معاف کردیں وہ ہاتھ جوڑ کر بولا۔۔۔۔
“نہیں ایسا نہ کرو ۔۔۔انہوں نے اس کے جڑے ہوئے ہاتھ نیچے کیے۔۔۔۔
“ماں کا دل اپنی اولاد کے لیے معاملے میں بہت بڑا ہوتا ہے اولاد چاہے کچھ بھی کرے ماں اس کی ایک بار سچے دل سے معافی مانگنے پر اسے معاف کر دیتی ہے۔۔۔۔
“میں بھی آپ سے بہت پیار کرتا ہوں بہت شکریہ مجھے معاف کرنے کے لیے۔۔۔۔چلیں اب جلدی سے تیار ہو جائیں ہمیں کہیں جانا ہے ۔۔۔
“کہاں جانا ہے ؟”
میں نے ڈاکٹر سے آپ کے لیے اپائنٹمنٹ لی ہے وہیں جائیں گے۔۔۔
“پر میں ٹھیک ہوں ۔۔۔اور اب تو تمہیں دیکھ لیا رہی سہی بیماری بھی ختم ہو گئی۔۔۔۔
“میں کچھ نہیں سنوں گا اس بارے میں آپ چل رہی ہیں میرے ساتھ ۔۔۔وہ پیار سے دھونس بھرے انداز میں بولا۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر بڑی چادر لیے اس کے ساتھ ہوں لیں۔۔۔۔
بدرا بیٹا دروازہ اندر سے اچھی طرح بند کر لو۔۔۔۔۔میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں ۔۔۔۔۔
اپنی اماں سے ملنے کے بعد وہ اس لڑکی کو تو بالکل بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔جس کے بارے میں وہ اندر آکر سب سے پہلے پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔۔
مگر ابھی وقت نہیں تھا اس نے موبائل پر وقت دیکھا ۔۔۔۔اور واپس آکر پوچھنے پر چھوڑ دیا اور انہیں اپنے ساتھ باہر لا کر گاڑی میں بٹھایا۔۔۔۔۔
شہر کے ایک بہترین ڈاکٹر سے ان کا چیک اپ کروایا۔۔۔۔
انہوں نے ٹیسٹ کیا تو شوگر لیول انتہائی لو تھا۔۔۔۔۔
انہوں نے اسی مرض کو دیکھتے ہوئے ادویات لکھ کر دیں اور چند ایک ہدایات دیں۔۔۔۔
اور واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے۔۔۔۔
گھر آئے تو پھر سے دروازہ اسی بچی نے کھولا۔۔۔۔
نہال اماں بی کا ہاتھ پکڑ کرانہیں اپنے ساتھ اندر لایا۔۔۔۔
پھر بستر پر بٹھادیا۔۔۔۔۔
اماں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر اجازت ہو تو۔۔۔۔
ایسے کیوں بول رہے ہو کیا بات ہے ؟؟؟
اماں یہ جو باہر بچی ہے کون ہے یہ ؟؟؟؟
“وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ کچھ کہتے ہوئے رکیں۔۔۔پھر بولیں ۔۔۔۔
“تم جان کر کیا کرو گے کہ وہ کون ہے “؟
“مجھے جاننا ہے وہ اپنے نام کے ساتھ میرے بابا سکندر شاہ کا نام جوڑ رہی ہے اور میں یہ جاننے کا پوری طرح سے حق رکھتا ہوں کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہے ۔۔۔۔
“نہال مجھے تم سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی “
وہ صاف صاف انکار کر گئیں۔۔۔۔
“آپ ایسے کیسے کسی بھی یتیم کو اٹھا کر اپنے گھر لے آئیں ہیں ۔۔۔۔اور تو اور اس کے نام کے ساتھ بابا کا نام جوڑ دیا۔۔۔۔۔
“جانے کس کی حرام کی اولاد ہے جانے کس کا گندا خون اٹھا کر آپ گھر لے آئیں ۔۔۔۔
“بس نہال بس۔۔۔۔اب ایک لفظ بھی مزید میں نہیں سنوں گی اس کے بارے میں وہ بلند آواز سے بول اٹھیں۔۔۔۔میں تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں۔۔۔۔
تم تو مجھے چھوڑ گئے تھے نا میں اکیلی کیا دیواروں سے سر پھوڑتی۔۔۔۔کوئی تو تھا میرے پاس جو میرے جینے کی وجہ بنا۔۔۔۔۔چاہے میں نے اسے جہاں سے بھی لیا ہو تم کوئی بھی حق نہیں رکھتے مجھ سے اس سوال کا۔۔۔۔
باہر دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی بدرا نہال کی باتیں سن کر بھونچکا رہ گئی۔۔۔اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔۔
اور بے آواز ٹپ ٹپ آنسو بہانے لگی۔۔۔۔۔
“تمہارا کام ہو گیا نا اب تم جا سکتے ہو یہاں سے “
“اماں آپ اس انجان کی خاطر اب مجھ سے ایسا رویہ اختیار کریں گی ؟؟؟؟”
“میں تم سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی”
“اچھا چلیں چھوڑیں یہ سب ۔۔۔۔اہم بات جو میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ تو سن لیں ۔۔۔۔
وہ سانس لیے خود پر ضبط کرتا ہوا بولا۔۔۔۔
ہممممم ۔۔۔۔بولو۔۔۔۔
“میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں وہاں رہیں میرے ساتھ ۔۔۔۔”
وہ حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔۔۔۔
“مگر تمہاری بیوی کو تو میرا ساتھ رہنا پسند نہیں تھا نا اسی لیے تو تم مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی منہ سے شکوہ پِھسلا۔۔۔۔۔
“اس کی آپ فکر نہ کریں ،دیکھ لوں گا اسے ۔۔۔ایسا کریں ابھی آپ آرام کریں دوائی لیں وقت پر میں کل آؤں گا آپ کو لینے اپنا تھوڑا بہت جو ضروری سامان ہو وہ پیک کر لیں ۔۔۔۔۔
“نہال !!!!
“جی “وہ ان کی طرف دیکھ کر بولا۔
‘”میں تمہاری بات مان کر تمہارے ساتھ چلوں گی مگر میرے ساتھ بدرا بھی جائے گی۔۔۔۔
اگر تو میری بات قبول ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں یہیں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔
پیشانی پر سلوٹیں پڑیں۔۔۔۔اس بات پر ۔۔۔۔
وہ خون کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔۔۔۔مٹھیوں کو سختی سے بھینچتے ہوئے خود پر ضبط کے باندھ باندھے۔۔۔۔۔۔پھر لمبی سانس خارج کیے بولا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے آپ تیار رہیے گا”
کمرے سے باہر نکلا تو ایک زہر خند نظر اس پر ڈال کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
۔
اس کے جاتے ہی وہ دروازہ بند کر کہ ڈھیلے وجود سے چلتی ہوئی اندر آئی ۔۔۔۔
اماں بی نے اس کی سرخی مائل دکھائی دیتی ہوئی آنکھوں کو دیکھا تو اندازہ لگا گئیں کہ وہ نہال کے الفاظ سن چکی ہے ۔۔۔۔۔
“ادھر آؤ میری چندا”انہوں نے اپنا ضعیف سا جھریوں والا ہاتھ اس کے آگے کر کہ بلایا۔۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی ان کے گلے سے لگی۔۔۔۔
“اماں بی “کہتے ہی پھوٹ پھوٹ کر ہچکیوں سے رو پڑی۔۔۔
“بس میری چندا بس !!!!وہ اس کی پشت پیار سے سہلا کر اسے تسلی دینے لگی۔۔۔۔
“مجھے سچائی جاننی ہے اماں بی میں کون ہوں ؟؟؟
کہاں سے آئی ہوں ؟؟؟سب بتائیں مجھے ۔۔۔۔
وہ ان کی طرف دیکھ کر رندھی ہوئی آواز میں التجائیہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔۔
ادھر لیٹو۔۔۔۔انہوں نے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور اس کے شانے کو تھپکتے ہوئے اسے سر گوشیوں میں شروع سے لے کر آخر تک سب سچ بتا دیا۔۔۔۔۔
اس نے مسلسل جاری آنسو رکنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے اس دوران ۔۔۔۔
اماں بی نے دوپٹے کے پلو سے اس کے گال اور آنسو صاف کیے۔۔۔۔۔
وہ روتے وہیں سو چکی تھی۔۔۔۔۔
اماں بی کی نظر ابھی بھی اس کے معصوم چہرے پر تھی جہاں اب آنسوؤں کے مٹے مٹے نقش واضح ہو رہے تھے۔۔۔۔۔وہ دل میں اس کے اچھے مقدروں کی دعا کرتے ہوئے خود بھی آنکھیں موند گئیں۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
نکال تو چکی تھی وامق کو روم سے پر آدھی رات تک نیند کوسوں دور رہی اسکی آنکھوں سے،بےچینی سے کروٹیں بدلتی آخر تنگ آکر تقریباً تین بجے وہ اٹھ کر بیٹھ گئی،لب بھینچ کر بیڈ سے اٹھتی وہ باہر وامق کے پاس گئی۔۔۔
یہ سوچتے ہوئے کہ یوں اگر کسی نے اسے باہر لیٹا ہوا دیکھا تو انہیں ایک نیا ایشو مل جائے گا اسے بے عزت کرنے کا۔۔۔۔
لاؤنج میں صوفے پر وہ بیٹھے بیٹھے شاید سوچکا تھا۔۔۔۔۔
اسے ایسے سویا ہوادیکھ کر طمر کمرے میں واپس جانا چاہتی تھی، پر ناچاہتے ہوئے بھی قدم اسکی طرف اٹھے،خوبصورت سرخ وسفید پرکشش چہرہ،،،آنکھیں بند تھیں۔۔۔کچھ سوچتے ہوئے طمر جھکی تھی تھوڑا سا پھر ہلکے ہاتھ سے وامق کا بازو ہلائے وہ اسے پکارنے لگی۔۔۔۔
“وامق۔۔!”
وہ جو کافی دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔۔۔۔ اب جاکر کہیں سویا تھا قریب سے آتی مدھر آواز پر ہڑبڑا کر اٹھا،اپنے بلکل نزدیک مقابل کا پری چہرہ دکھا،وہ بری طرح گھبراگئی اس کے اس طرح دیکھنے پر،وہ خود پر برف جیسا خول چڑھائے ہوئے تھی ۔۔۔
وامق اس کی خوبصورت نیند سے بوجھل آنکھوں کے لال ڈوروں کو دیکھتا رہ گیا،کس قدر جچ رہے تھے ان آنکھوں پر وہ ڈورے،جبکہ مقابل طمر کانپ کر رہ گئی اسکی فورا سے بدلتی نظروں سے۔۔۔۔
“آ۔ آ و ۔۔روم میں۔۔چلو۔۔”
جھجھک کر کہتی وہ ایک نظر پھر اس پر ڈال گئی ،وامق کے دل میں ٹیس سی اٹھی،رات کے آخری پہر وہ یقیناً اسی لیے آئی تھی کہ اسے صبح کوئی یہاں لیٹا ہوا دیکھ لیتا تو کیا کہتا۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
مگر جب کچھ دیر انتظار کرنے کے باوجود بھی اسے بلا کر کمرے میں خود بوتل کے جن کی طرح نجانے کہاں غائب ہو گئی تھی۔۔۔۔
وہ کمرے سے واپس باہر نکل کر اس کی تلاش کرنے لگا۔۔۔۔۔
عمر کے کمرے کی لائٹ جلتی ہوئی نظر آئی تو قدم اسی طرف اٹھائے۔۔۔۔
صفا تو اسامہ کے روم میں شفٹ ہو چکی تھی اس لیے عمر کا کمرہ خالی ہونے کے باعث شاید وہ وہاں جا چھپی تھی۔۔۔۔
وہ چل کر اس کمرے تک آیا ۔۔۔وہ جو لائٹ آف کیے اب نائٹ بلب روشن کرنے کے بعد ڈور کو لاک لگانے ہی دورازے کے قریب آئی تھی۔۔۔جھٹکے سے باہر سے کسی کے دروازہ کھولنے سے پیچھے ہوئی ورنہ اس منہ پر لگ جاتا دروازہ۔۔۔۔
اس کے یوں پیچھے ہونے پر وامق نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔
“طمر کمرے میں چلو”۔۔۔۔۔
“نہیں جانا مجھےکہیں بھی۔۔۔”
وامق چونکا طمر کے صاف انکار پر،
“کیوں۔۔۔”
سنجیدگی سے سوال کیا گیا،
“میں۔۔۔یہی ٹھیک ہوں۔۔۔”
ہلکی آواز میں کہتی وہ رخ موڑ گئی،
“طمر اٹھو۔۔۔چلو فوراً۔۔۔”
تحمل سے کہتے اس نے طمر کا بازو پکڑا،
“مجھے نہیں جانا۔۔۔”
اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ بولی،اب کی بات لہجہ ازلی ضدی لیے تھا،وامق لب بھینچ کر رہ گیا،
“تو تم نہیں چلو گی۔۔؟”
وہ جیسے آخری بار پوچھ رہا تھا،طمر خاموش رہی،
“ٹھیک ہے پھر۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی وامق جھک کر اسکے وجود کو بازوؤں میں،بھر گیا۔۔۔۔طمر بوکھلائی اسکی حرکت پر،
“چھوڑو مجھے ۔۔۔”
اسکی نزدیکی پر پریشان ہوتی وہ بولی جبکہ وامق اسے اگنور کرتا روم سے نکلا،طمر بوکھلا گئی تھی اسکی گرفت مضبوط ہونے پر،
“میں نے کہا نا کہ نہیں جانا مجھےکہیں بھی تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آرہی ؟۔۔”
وامق کے شانے پر ہاتھ رکھے وہ اب تیز آواز میں بولی۔۔۔۔
مگر مقابل کو جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
وہ اپنے روم میں اسے لیے داخل ہوا۔۔۔پھر ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی ۔۔۔اس کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر وامق کے بھنچے لبوں پر مسکراہٹ اپنی چھب دکھلا کر غائب ہوئی،
طمر کو نرمی سے بیڈ پر لیٹاتا ہوا وہ روم کا ڈور بند کرنے گیا،غصے میں بیڈ سے اٹھ کر وہ سائیڈ پر جا کھڑی ہوئی،پلٹ کر بیڈ کی طرف آتا ہوا وامق آبرو آچکا کر اسے دیکھے گیا۔۔۔
“طمر !!!!!!۔۔۔بیڈ پر آؤ۔۔۔”
بیڈ پہ لیٹ کر کمفرٹر اوڑھتا وہ بولا۔۔۔۔
“مجھے جانا ہے یہاں سے۔۔۔میں اسی روم میں سوؤں گی۔۔۔”وہ ضدی پن اور اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وامق خود پر سے کمفرٹر ہٹائے غصے میں بیڈ سے اٹھا اور طمر کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ایک بار پھر اسے باہوں میں اٹھاتا بیڈ پر لایا ساتھ ہی اسے لیٹاتا خود بھی طمر کے ساتھ لیٹ گیا،اچانک ہوئی کاروائی سے گھبراکر طمر اٹھنے لگی بیڈ سے پر اس سے پہلے ہی وامق اسکے گرد بازو حائل کرگیا،
“یہ۔۔یہ کیا کر۔۔رہے۔۔ہو؟؟؟؟۔۔۔”
اسکا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا،تبھی وامق کی رعب دار آواز کانوں پر پڑی،
“چپ چاپ سوجاؤ۔۔۔نہیں تو اچھے سے بتاوں گا کہ کیا کرنا آتا ہے مجھے۔۔۔”
وامق کی بات سن کر احتجاج کرتی ہوئی طمر اچانک رکی تھی،اور پھرڈرتے ہوئے آنکھیں میچ کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگی،پر نیند کہاں آنی تھی اسے مقابل کے بازوؤں میں،