Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 20
_بھرنے کو تو ہر زخم ہی بھر جائے گا۔
کیسے بھرے گی وہ جگہ جہاں تیری کمی ہے،
دو دن ہو چکے تھے بدرا کو ڈھونڈتے مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔۔
وامق نے قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی۔۔۔۔
مگر ابھی تک وہاں سے بھی کوئی حوصلہ مند جواب موصول نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
طمر کی حالت کافی نازک تھی۔۔۔جب سے پتہ چلا تھا کہ بدرا ہی اس کی اپنی بیٹی ہے۔۔۔۔
اس کے ساتھ انجانے میں گزارے سب پل یاد کر کہ روتی رہتی۔۔۔۔
نا کھانے پینے کا ہوش تھا نا میڈیسن کے استعمال کا۔۔۔۔۔
ابھی بھی وامق زبردستی اسے تھوڑا سا جوس پلا کر سکون کی دوائی دے کر آیا تھا تاکہ وہ تھوڑی دیر سو جائے اور بوجھل دماغ فریش ہو جائے۔۔۔
تقی اور مضربان دونوں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے کوئی ٹاک شو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
نظریں تو ٹی وی سکرین پر مرکوز تھیں۔۔۔مگر دماغ کہیں اور ہی الجھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
“اور پھر برخوردار !!!!!
وامق نے ون سیٹر صوفے پر بیٹھ کر ان دونوں کو مخاطب کیا۔۔۔۔
وہ جو سوچوں کے گرداب میں پھنسے ہوئے تھے چونک کر دیکھنے لگے۔۔۔۔۔
“کیا ارادے ہیں تم دونوں کے؟؟؟؟
“کس بارے میں بابا ؟؟؟”
تقی نے پوچھا۔۔۔۔
“بابا آپ کو جو کہنا ہے کھل کر کہیں ۔۔۔مضربان بولا۔۔۔۔۔
“مضربان !یہ لاسٹ ائیر ہے تمہارے ایم -بی-اے
کا۔۔۔۔
“جی بابا “
“جیسا کہ تم دیکھ ہی رہے ہو اپنی ماں کی حالت ۔۔۔۔اسے اس وقت میرے ساتھ کی ضرورت ہے ۔۔۔اس حالت میں اسے میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔۔
میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اب آفس سنبھال لو ۔۔۔
“مضربان نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے شانے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
“بابا آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔میں ہوں نا ۔۔۔میں اس ذمہ داری کو بہت اچھے سے نبھاؤں گا۔۔۔۔
بس اب آپ آفس کی طرف سے ٹینشن فری ہو جائیں۔۔۔۔۔آپ کو کوئی شکایت نہیں ملے گی۔۔۔
“مگر تمہاری پڑھائی کیسے کمپلیٹ ہو گی؟؟؟یہ بھی پریشانی والی بات ہے ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے میرے بیٹے کا ایم ۔بی۔اے کا خواب خواب ہی رہ جائے۔۔۔۔۔
“آپ زیادہ سوچیں مت اس کا بھی حل میرے پاس موجود ہے۔۔۔۔۔
میرے پاس دراک کے ایم۔بی۔اے کے نوٹس ہیں۔۔۔ان سے مجھے مدد مل جائے گی۔۔۔۔
میں کبھی کبھار آفس سے وقت نکال کر یونی کا چکر لگا لیا کروں گا۔۔۔۔
لاسٹ میں پیپرز اٹیمپٹ کر لوں گا۔۔۔۔
ویسے بھی اب میرا خود بھی یونی جانے کو دل نہیں ۔۔۔۔۔۔
تقی نے اس بات پر اسے کھوجتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔
مگر خاموش رہا۔۔۔۔۔
“بہت شکریہ بیٹا ۔۔۔تم نے میری بہت بڑی پریشانی دور کر دی ۔۔۔۔۔
Anything for you Baba…..
“یہ کچھ اہم فائلز ہیں انہیں ایک بار دیکھ لو پھر کل صبح سے ان پر کام شروع کردینا۔۔۔۔
جی بابا میں دیکھ لیتا ہوں۔۔۔۔۔
آؤ ڈنر کر لیں ۔۔۔۔۔
وامق نے مضربان سے کہا ۔۔۔”بابا مجھے بھوک نہیں آپ لوگ کھا لیں۔۔کہتے ہی وہ اٹھ کر اپنے روم کی طرف فائلز لیے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
“بابا مجھے کچھ پوچھنا تھا آپ سے۔۔۔۔۔
تقی نے کہا۔
“ہاں پوچھو کیا پوچھنا ہے ۔۔۔'”
“بابا آپ کے پاس گن ہے ؟؟؟؟
“یہ آج تمہیں گن کا خیال کیسے آیا؟؟؟وامق نے ابرو اچکا کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔
“بس بابا ویسے ہی انفو کے لیے پوچھ لیا۔۔۔
“آپ کے پاس اس کا لائیسنس ہے ؟؟؟
“اتنی تفتیش کس سلسلے میں ؟؟؟؟
“بابا بتایا تو ہے ویسے ہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔
“آپ نے گن کیوں رکھی ہے اپنے پاس ؟؟؟
اس نے ایک اور سوال کیا۔۔۔۔
“اپنی سیفٹی کے لیے۔۔۔۔۔وامق نے کہا۔۔۔۔
“بابا مجھے بھی کچھ دنوں کے لیے وہ گن چاہیے۔۔۔۔
“تقی یہ الٹے سیدھے شوق کب سے پیدا ہونے لگے تم میں؟؟؟؟
“بابا کچھ نہیں کرتا بس ویسے ہی ۔۔۔۔دے دیں نا۔۔۔۔۔
اچھا وہ اوپر والے سٹڈی روم کے دروازے کے ساتھ جو کبرڈ کا فرسٹ ڈروار ہے اس میں رکھی ہے نکال لینا ۔۔۔۔مگر کوئی غلط استعمال نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔
“جی بابا “
“مجھے اپنے بیٹے پر پورا یقین ہے وہ کبھی بھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کرے گا۔۔۔۔۔
مجھے اپنے بیٹوں پر جو مان ہے ۔۔۔۔مجھے امید ہے وہ کبھی بھی نہیں ٹوٹے گا ۔۔۔۔۔
ہے نا تقی ؟
“جی بالکل بابا “
بابا مجھے آپ سے ایک اور بھی کام تھا ۔۔۔کچھ اور بھی چاہیے ۔۔۔۔
وامق نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
تو تقی نے اپنی اگلی فرمائش بتائی ۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
اماں بی کو گئے ہوئے دو دن ہو چکے تھے گھر میں ابھی بھی سوگ کا سماں تھا۔۔۔۔
تعبیر ہر وقت اپنے کمرے میں بند رہتی ۔۔۔۔وہ شاید نہال کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی۔۔۔۔
ادا اپنی یونی کے ہاسٹل واپس جا چکی تھی۔۔۔۔
جبکہ نہال شاہ اپنی ماں کے چلے جانے کے دکھ سے اکیلا نبرد آزما تھا۔۔۔۔۔
وہ دو دن سے اسی انیکسی میں تھا جہاں اس کی ماں کی خوشبو بسی تھی۔۔۔۔۔
اپنی ماں کے ساتھ گزارے سب لمحات کو یاد کرتا وہیں رہ رہا تھا۔۔۔۔۔
دو دن سے آفس بھی نہیں گیا ۔۔۔۔۔
آج ہمت کیے اٹھ کر چہرہ دھویا اور ڈریسر کے پہلے دراز کو کھولا بال برش کرنے کے لیے برش ڈھونڈھنے لگا ۔۔۔
وہاں کچھ نا ملا۔۔۔پھر دوسرا دراز کھولا تو وہاں لمبے بالوں کی گچھیاں لپیٹ کر رکھی گئی تھیں۔۔۔۔اس نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔۔
“یہ کس کے ہو سکتے ہیں ہیزل بال ؟؟؟؟
“کہیں بدرا کے تو نہیں”اچانک اس کے دماغ میں آیا۔۔۔۔۔
(بدرا جب بھی بالوں میں برش کرتی ٹوٹے ہوئے بالوں کبھی بھی نہیں پھینکتی بلکہ اکٹھا کیے ایک جگہ جمع کیے جاتی۔۔۔۔
اماں بی نے اسے سمجھایا تھا کہ بال پھینکنے نہیں چاہیے ۔۔۔۔)بس تب سے ہی وہ اپنے بال یونہی جمع کیے جاتی۔۔۔۔
“چاہے تو ڈی ۔این۔اے کروا لو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ تمہاری بیٹی ہے یا نہیں۔۔۔۔
طمر کے کچھ الفاظ اسے کانوں میں سنائی دینے لگے۔۔۔۔۔
نہال شاہ نے ایک ٹشو پیپر پر چند بال رکھے اور اسے فولڈ کیے ایک تہہ لگائی۔۔۔۔پاکٹ میں رکھ کر کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تقی بات سنو !!!!
علینا نے یونی میں مضربان کو دو دن سے غیر حاضر دیکھا تو تقی کو مخاطب کیے پوچھا۔۔۔۔
وہ بنا جواب دئیے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
“تقی میں کیا پوچھ رہی ہوں جواب دو “؟
“کسی کے جواب نہ دینے پر انسان کو سمجھ جانا چاہیے کہ اگلا بندہ اس سے بات کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں۔۔۔۔وہ بے رخی سے بولا۔
“تقی ہم تو دوست ہیں نا ۔۔۔۔تو کیا اس بات پر ہماری دوستی ختم ہو جائے گی؟
وہ تقی کی بے رخی سے خائف دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔
“مجھے میری بہن سے بڑھ کر کوئی نہیں۔۔۔”
“اس سب میں میرا کیا قصور ؟؟؟؟
“میں نے کیا کیا ہے ؟؟؟؟
“میں کسی سے بھی اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔
“پلیز تقی مجھے اتنا بتا دو کہ مضربان یونی کیوں نہیں آ رہا؟؟؟
“وہ آج سے آفس سنبھالے گا”اتنا کہہ کر وہ اپنی کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
وہ کچھ سوچتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
بازار ِحسن کے تمام چبوتروں میں اس وقت کچھ جوان اور کچھ نو عمرلڑکیاں سج سنور اپنے اپنے جلوے بکھیرتی ہوئی ادائیں دکھا رہی تھیں۔۔۔
شام کے وقت وہاں پر آئے ہوئے لوگوں میں کچھ تو روز کے آنے والے اور کچھ کبھی کبھی آنے والے شامل تھے۔۔۔۔
ہر کوئی اپنے من پسند جگہ پر جا رہا تھا۔۔
سیٹھ اصغر جو ہر ماہ اس حسن بازار میں سب سے نو خیز کلی کو خریدتا تھا۔۔۔۔۔
اس کے انتظار میں سب کی نائیکہ اپنی اپنی لڑکیوں کو آرائش و زیبائش سے آراستہ کیے چبوتروں پر کھڑا کرتی تاکہ سیٹھ اصغر کی نظرِ کرم اس پر ہو ۔۔۔
اور اس کی نائیکہ سیٹھ اصغر سے لاکھوں میں اس کا معاوضہ حاصل کر پائے۔۔۔۔۔
سیٹھ اصغر جو کروڑوں کی جائیداد کا مالک اور ایک مشہور ترین سیاسی لیڈر تھا۔۔۔۔
اپنی رات کو رنگین کرنے کبھی کبھار اس جگہ کا رخ کرتا۔۔۔مگر اس کی ایک ہی شرط ہوتی کہ لڑکی ان چھوئی اور کنواری ہو۔
وہ اپنی پراڈو سے نکل کر رانی بائی کے کوٹھے کی طرف مڑا۔۔۔
تو چبوتروں پر کھڑی ہوئی لڑکیوں نے اپنی بے وقعتی پر برا سا منہ بنایا۔۔۔
وہ سوٹڈ بوٹڈ شخص شاہانہ چال چلتا ہوا اندر آیا۔۔۔۔۔۔
“آداب !!!!آداب!!!!! رانی بائی نے سیٹھ صاحب کو دیکھ کر ادب سے سر کو تھوڑا سا خم دئیے عاجزانہ انداز میں سلام پیش کیا۔۔۔۔
“آج تو ہمارے کوٹھے کی رونق دوبالا ہو گئی۔۔۔۔سرکار کی تشریف آوری سے۔۔۔۔
بہت نوازش ِ کرم آپکی جو آپ نے اس خاکسار کو اس قابل سمجھا۔۔۔۔۔
“کہیے کیا خدمت کی جائے آپکی حضور !!!!
“تمہیں تو ہمارے مزاج کا پتہ ہی ہے کوئی نیا مال آیا ہے تو دیدار کرواؤ۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر رعونت صاف جھلک رہی تھی۔۔۔۔
اور آواز میں دبدبہ،
سرکار ابھی دو دن پہلے ہی ایک نئی حسینہ آئی ہے آپ دیکھیں گے تو دیکھتے ہی رہ جائیں گے ۔۔۔۔مگر میری بھی اس بار مانگ زیادہ ہے۔۔۔۔میں اس کا دوگنا لوں گی۔۔۔۔۔
“پہلے مال دکھاؤ پھر پیسے کی بات کرنا۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
“ابے او چمبیلی لے جا صاحب کو اس نئی لڑکی کے کمرے میں ۔۔۔۔رانی بائی نے اسے آواز دی۔۔۔۔۔۔
“آئیے ۔۔۔۔۔۔وہ بولی۔۔۔
سیٹھ اصغر اس کی تقلید میں چلتے ہوئے اس کمرے تک آئے۔۔۔۔
کمرے کی ملگجی سی روشنی میں کچھ بھی واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔انہوں نے ایک ہی دفعہ سوئچ بورڈ کے پانچوں بٹنوں پر انگلیاں رکھے سارے سوئچ آن کیے تو سارا کمرہ روشنی سے نہا گیا۔۔۔۔۔
بدرا جو بستر پر سر رکھے خود نیچے فرش پر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
کمرے میں کسی انجان آدمی کو دیکھ بھونچکا رہ گئی۔۔۔۔
دو دن سے بھوکی تھی۔۔۔۔کئی بار وہ لوگ اسے کھانا دے کر جا چکے تھے مگر بدرا نے اس جگہ کا ایک لقمہ بھی حلق سے نیچے نا اتارا۔۔۔۔۔
بھوک اور درد کی شدت سے نڈھال وہ وہیں پڑی تھی۔۔۔۔۔
اس اجنبی کی بدن کو چیرتی، ایکسرے کرتی ہوئی نظریں خود پر جمی دیکھیں تو اس نے ہاتھ ڈال کر بستر کی شیٹ کو کھینچا اور خود کے گرد لپیٹ لیا۔۔۔۔۔
وہ ایک طنزیہ مسکراہٹ اچھال کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
چنبیلی اتنی جلدی سیٹھ کے کمرے سے باہر آنے پر حیران رہ گئی۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا واپس اسی جگہ آیا۔۔۔۔
اور آکر اسی صوفے پر براجمان ہوا۔۔۔۔
“مجھے منظور ہے بتا کتنے پیسے ؟؟؟؟
سیٹھ اصغر نے نیلے نوٹوں کی گڈی اس کی طرف پھینکی۔۔۔۔۔
رانی بائی کی تو یہ بات سننے کی دیر تھی۔۔۔۔
اپنی طرف گری نیلے نوٹوں کی گڈی دیکھ اس کے منہ سے رال ٹپکنے لگی۔۔۔۔۔
“کیا سیٹھ صاحب !!!!! آپ بھی کیا یاد کریں گے کہ کبھی رانی بائی کے کوٹھے پر آئے تھے۔۔۔۔
اتنے ہی کافی ہیں ۔۔۔۔اس نے گڈی کو چومتے ہوئے اسےاپنے بلاؤز کے اندر ایک کونے میں پھنسایا۔۔۔۔۔
پان کی پچکاری پھینکتے ہوئے سیٹھ اصغر کو آنکھ ماری۔۔۔۔۔
“جائیں پھر دیر کس بات کی “؟
“آج مجھے اس پردہ نشین کا پہلےناچ دیکھنا ہے ۔۔ اس کے بعد ہی اس کے پاس جاؤں گا ۔یہی میری چھوٹی سی خواہش سمجھ لو۔۔۔۔اتنے پیسے دینے کے لیے۔۔۔۔
“اور ہاں کیا تم نے اسے سکھایا نہیں اب تک کہ کیسے سج دھج کر خوش کیا جاتا۔۔۔۔۔
زرا اسے ہماری خاطر سنوار کر لاو۔۔۔۔
ہمیں رونی صورتیں پسند نہیں ۔۔۔۔۔۔”
جو حکم سرکار کا۔۔۔۔۔۔
چل آ چمبیلی۔۔۔۔۔اور لالی تو بھی آ میرے ساتھ۔۔۔۔۔
رانی بائی کمرے میں داخل ہوئی تو وہ ابھی بھی خود کو چادر میں لپیٹے ہوئے فرش پر بیٹھی تھی۔۔۔۔
“یہ لے کپڑے اور جلدی سے تیار ہو جا۔۔۔۔۔”زرا بھی نخرہ کیا نا تو آج تو رانی بائی کا وہ روپ دیکھے گی کہ تیری روح بھی کانپ جاے گی۔۔۔۔۔
“اس نے ایک بھڑکیلا سا پلم کلر کا لہنگا چولی اس کی طرف اچھالا۔۔۔۔
چولی جس کی بیک پر صرف ڈوریاں تھیں۔۔۔
جو اس کے جسم کو عریاں کرنے والی تھیں۔۔۔
“میں ایسے کپڑے نہیں پہنتی۔۔۔۔”
بالآخر وہ ہمت جٹا کر بولی۔۔۔۔۔
تیرے تو اچھے بھی پہنے گے۔۔۔۔چلو ری۔۔۔۔ چمبیلی ،لالی۔۔۔دونوں اس کے کپڑے تبدیل کرواؤ اور باہر لاؤ اسے جلدی۔۔۔۔سیٹھ صاحب کو زیادہ انتظار نا کرنا پڑے۔۔۔۔
اگر کوئی چوں چراں کرے تو میری طرف سے اجازت ہے ایک دو ٹھوک دینا منہ پہ ۔۔۔خود ہی عقل ٹھکانے آ جائے گی۔۔۔۔۔
چمبیلی نے کھینچ کر چادر تن سے جدا کی۔۔۔
تو لالی اس کے جسم پر موجود سادہ سا سوٹ کھینچ کر اتارنے لگی۔۔۔۔۔
جسم میں اتنی طاقت نہ تھی کہ ان دونوں کا مقابلہ کر سکے۔۔۔۔۔
“لو آگئی آپ کی آج رات کی امانت ۔۔۔۔۔۔
بدرا کو تیار ہو کر باہر آتے دیکھا تو رانی بائی نے مسکراتے ہوئے سیٹھ اصغر سے کہا۔۔۔۔۔
گہرے پلم کلر کے لہنگا چولی میں گہرے میک اپ میں اس کا سرخ و سفید چہرہ دمک رہا تھا۔۔۔۔
مگر آنکھیں آنسوؤں سے تربتر تھیں۔۔۔۔اس کے چہرے کا دلسوز حسن سیٹھ اصغر کو چاروں شانے چت کر گیا۔۔۔۔
اس نے اشارہ کیا تو وہاں موجود طبلہ نواز اور ستار والے نے اپنے آلات سمبھالے۔۔۔۔
میوزک بجنے لگا۔۔۔
لالی نے اس کے پاؤں میں گھنگرو پہنا دئیے۔۔۔
“چل اب جلدی شروع ہو جا ۔۔۔۔
رانی بائی نے بدرا کو سخت ترین گھوری سے نوازتے ہوئے کہا ۔۔۔
سیٹھ اصغر کی اشتیاق بھری نگاہیں اس کے وجود کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
وہ یک ٹک اپنی جگہ پر کھڑی رہی۔۔۔۔ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔۔۔
کمر عریاں ہونے کی وجہ سے اس نے لمبے ہیزل بال کھول کر پشت پر بکھرا دئیے جو گھٹنوں کو چھو رہے تھے۔۔۔۔۔
سیٹھ اصغر کی نظروں میں اس کے لیے ستائش ہی ساتئش تھی۔۔۔وہ باریک بینی سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔
میوزک والے بجا بجا کر آدھے رہ گئے مگر وہ اپنی جگہ جمی رہی۔۔۔۔
“ناچتی ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔؟رانی بائی طیش میں آکر اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔۔۔
اور دیوار پر لگا ہنٹر پکڑا۔۔۔۔۔۔
پھر اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس کی پشت پہ کھینچ کر مارا۔۔۔۔۔
آ۔۔۔۔۔۔۔۔ہ۔۔۔۔۔۔ایک لمبی سے درد بھری آہ بدرا کے منہ سے برآمد ہوئی۔۔۔۔۔
“ناچے گی یا نہیں اب بھی۔۔۔۔۔؟
“مجھے یہ سب نہیں آتا۔۔۔۔وہ بھرائی ہوئی آواز اور ڈبڈبائی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔
“لے کر آ لالی ہمارا خاص آزمودہ نسخہ اسے نچوانے کا۔۔۔۔
رانی بائی نے لالی سے کہا۔۔۔۔۔
کچھ ہی منٹوں میں وہ کوئلوں سے بھری ہوئی پرات لائی اور فرش پر دہکتے ہوئے کوئلوں کو بچھا دیا۔۔۔۔
رانی بائی نے بدرا کو ان دہکتے ہوئے انگاروں کی مانند کوئلوں پر دھکا دیا۔۔۔۔۔
دبی دبی سسکاریاں اس کے منہ سے نکلیں۔۔۔۔
وہ لہنگے کو اپنی مٹھیوں میں جکڑے درد سہنے کے آخری مراحل میں تھی۔۔۔۔وہ لڑکھڑا کر رہ گئی۔۔۔۔۔
پاؤں تھے کہ جلتے ہوے کوئلوں پر جلن اور درد کے مارے بھسم ہونے کو تھے۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں میچے بس خدا کو شدت سے یاد کرنے لگی۔۔۔۔۔
“ادھر آؤ “
سیٹھ اصغر کو بالآخر اس کی حالت پر ترس آیا تو اس نے بدرا کو ان جلتے ہوئے کوئلوں سے کھینچ کر نیچے اتارا۔۔۔۔۔
“اسے کیا رات کے قابل بھی نہیں چھوڑنا یوں ظلم کر کہ ۔۔۔۔۔؟وہ رانی بائی کی طرف دیکھ کر دھاڑا۔۔۔۔۔
اس کوٹھے کا سب سے شاندار کمرہ کون سا ہے۔۔۔۔۔۔
بڑی پارسا بنتی ہے نا یہ آج اس کی پارسائی ساری دنیا کو نہ دیکھائی تو میرا نام بھی سیٹھ اصغر نہیں۔۔۔۔۔
وہ کمرہ دکھاؤ جہاں سے اس علاقے کا ہر شخص مجھے دیکھے اس کی پارسائی کو نیلام کرتے ہوئے۔۔۔۔۔
صاحب اوپر تیسری منزل کا پہلا کمرہ خالی ہے۔۔۔۔۔رانی بائی نے اس کے غصے سے خائف ہوتے ہوئے تیزی سے بتایا۔۔۔۔۔
وہ بدرا کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا۔۔۔۔۔۔
وہ جلے ہوئے پیروں کے ساتھ درد کے باعث نیم بے ہوش وجود لیے اس کے ساتھ گھسٹتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
سیٹھ اصغر نے اسے کمرے میں لاکر پھینکنے کے انداز میں چھوڑا۔۔۔۔۔
دروازہ بند کیے کوٹ اتار کر ایک طرف اچھالا۔۔۔۔اور شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔۔۔
“دیکھو مجھے جانے دو ۔۔۔۔میرے قریب مت آنا۔۔۔۔۔۔
وہ سہمی ہوئی چڑیا کی مانند فریاد کرنے لگی۔۔۔۔۔
تمہارے گھر بھی بہن بیٹیاں ہوں گی ۔۔۔۔تمہیں ان کا واسطہ مجھے جانے دو۔۔۔۔۔
“بکواس بند کر ۔۔۔۔۔۔اس کے وحشی لہجے کی پھنکار بدرا کو ایک پل کے لیے تو سہما گئی۔۔۔۔
“بہن بیٹیاں ہیں۔۔۔۔۔۔تو وہ گھر پر ہیں۔۔۔۔۔
تو کسی کی بہن بیٹی ہوتی تو ،تو بھی گھر پر ہوتی یہاں کوٹھے پر نہیں۔۔۔۔۔
ایک طوائف کسی کی بہن بیٹی نہیں ہوتی وہ صرف طوائف ہوتی ہیں صرف طوائف!!!!!
چل اب زیادہ نخرے مت کر ۔۔۔۔۔اتار یہ دوپٹہ۔۔۔۔۔اس نے بدرا کے تن سے لپٹا ہوا دوپٹہ جدا کر کہ کھلی ہوئی کھڑکی سے باہر اچھالا۔۔۔۔۔۔۔
جو لہراتا ہوا باہر موجود کسی وجود پر گرا۔۔۔۔۔۔۔
“تم خواہ مخواہ میرا بھی وقت برباد کر رہی ہو اور اپنا بھی۔۔۔۔۔۔
“یا اللہ مدد!!!!!وہ دل میں بولی۔۔۔۔
“بدرا خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔خدا نے یہ ہاتھ پاؤں تمہاری مدد کے لیے ہی تو دئیے ہیں خود کے بچاؤ کے لیے ان کا استعمال کرو۔۔۔۔دماغ نے کہا۔۔۔۔۔
“میں اس سے بچ نہیں پاؤں گی میرے جسم میں اس سے لڑنے کی سکت نہیں ۔۔۔۔میں اپنی عزت گنوانے سے پہلے موت کو گلے لگا لوں گی۔۔۔۔۔دل نے کہا۔۔۔۔۔
“بدرا خود کشی حرام ہے “دماغ نے سمجھایا۔۔۔۔
وہ دل و دماغ کی جنگ میں بری طرح پھنس چکی تھی۔۔۔۔۔۔
جیسے جیسے اس کے قدم بدرا کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔۔
جسم کے ساتھ ساتھ دل بھی بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔
پاؤں کے زخموں کی درد تو جیسے کہیں دور جا سوئی تھی۔۔۔۔بس یاد تھا تو اتنا ۔۔۔۔اپنی عزت کیسے محفوظ رکھنی ہے۔۔۔۔۔
“میں مر جاؤں گی مگر تمہارے ناپاک عزائم خاک میں ملا دوں گی”اس نے دل میں خود سے عہد کیا۔۔۔۔
اس نے میز پر موجود سیال کو دیکھ کر اسے کانچ کے گلاس میں انڈیلا اور بڑا سا گھونٹ بھر کے بدرا کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
بدرا ہولے ہولے لڑکھڑا کر چلتی ہوئی کھڑکی کے پاس آئی۔۔۔۔
“چلو تم کہتی ہو تو تمہاری بھی ایک بات مان لیتا ہوں ۔۔۔۔کردو پردے برابر اور ادھر آو۔۔۔۔
وہ اسے انگلی کے اشارے سے اپنے پاس بلانے لگا۔۔۔۔
محلول کا نشہ ہوتے ہی اس کی آواز بھی تبدیل ہوئی۔۔۔۔۔
اپنی عزت بچانے کےلئے سارا خوف و ہراس سر پر پاؤں رکھے بھاگ نکلا۔۔۔۔۔
بدرا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کیے کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔۔۔۔۔
سیٹھ اصغر اس کی اس حرکت پر ششدر رہ گیا۔۔۔۔۔
اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کچھ ایسا کرے گی۔۔۔۔۔
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر بھاگا۔۔۔۔۔
تاکہ رانی بائی کو بتا سکے۔۔۔۔
بدرا نے چھلانگ لگائی تو گرتے ہوئے اچانک دوسری منزل کے چبوترے کو ہاتھ پڑا۔۔۔۔
وہ اسے تھامے ہوا میں معلق تھی۔۔۔۔۔
نیچے کھڑا ہو شخص جس کے ہاتھ نے کچھ دیر پہلے بدرا کا گرتا ہوا دامن تھام رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے یوں لٹکتا ہوا دیکھا۔۔۔۔۔۔تو اپنے دونوں بازو پھیلا کر تیز آواز میں بولا۔۔۔۔۔
“بدرا جمپ !!!!!
“I said jump………
وہ جو آنکھیں بند کیے اپنے پھسلتے ہوئے ہاتھ سے سہمی ہوئے تھی۔۔۔۔
اس کی جانی پہچانی آواز سن کر نیچے دیکھا۔۔۔۔ہاتھ چھوٹا اور وہ جو لٹکی ہوئی ہوا میں معلق تھی۔۔۔۔تیزی سے نیچے کی طرف گرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ زمیں بوس ہوتی کسی کی مہربان بانہوں نے اسے کے وجود کو خود میں سمیٹ لیا۔۔۔۔۔۔
بدرا نے اپنی خوف کے باعث بند ہوتی آنکھوں کو تھوڑا سا وا کیے دیکھا تو دراک کا شناسا چہرہ نظر آتے ہی ایک زخمی سی دل چیرتی ہوئی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رینگی۔۔۔۔وہ لمحوں میں اس کی بانہوں میں ہی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔۔۔۔۔
نعمان اریسٹ دیم ۔۔۔۔۔۔اس نے نعمان کو آرڈر دیا۔۔۔۔۔
لمحوں میں پولیس نے سب کو گھیر لیا ۔۔۔۔
دراک بدرا کو اسی کے دامن میں چھپائے ہوئے گاڑی تک لایا اور احتیاط سے اندر لٹایا۔۔۔۔۔۔
“ڈرائیور موو دا کار !!!! اس نے سپاٹ آواز میں کہا۔۔۔۔
ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔۔۔۔
دراک پیچھے بیٹھے بدرا کا سر اپنی گود میں رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔
اور اس کے چہرے کو دیکھا جہاں ابھی بھی کرب کے آثار نمایاں تھے۔۔۔۔۔
“مجھے معاف کر دو بدرا میں وقت پر نہیں پہنچ سکا۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھا۔۔۔۔۔
دو دن سے وہ مسلسل بدرا کو کالز ملا رہا تھا مگر ہر بار فون ان ریچ ایبل آرہا تھا۔۔۔۔۔
آج تو اس کے دل میں عجیب سے وسوسے اٹھ رہے تھے۔۔۔۔۔
اس نے ٹریکنگ ڈیوائس سے اپنے سافٹ ویئر انجینئر سے کہا کہ پتہ کرے اس مائکرو چپ کا ۔۔۔۔۔یہ کہاں موجود ہے اس وقت ۔۔۔۔۔۔
دراصل دراک نے ایک مائیکرو چپ بدرا کے ایک جھمکے میں لگا دی تھی۔۔۔تاکہ اگر کبھی وہ ادھر ادھر ہو جائے تو اسے ڈھونڈھنے میں آسانی ہو ۔۔۔اس بار وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اور جب اسے اویس نے بتایا کہ اس چپ والا انسان اس وقت کہاں موجود ہے تو سن کر اس کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔اس نے ایک پل کی بھی دیری کے بنا وہاں کا رخ کیا۔۔۔۔۔
ایس۔پی۔ عمیر اور ڈی ایس پی جواد نقوی جو اسسٹنٹ کمشنر دراک کے ساتھ ملکر کام کر رہے تھے۔۔۔۔۔دراک نے ان کی مدد سے فورا وہاں چھاپا مارا اور بدرا کو وہاں سے نکال کر اپنے ساتھ لے آیا ۔۔۔۔جبکہ وہاں کا باقی کا کام اب ایس ۔پی عمیر دیکھنے والا تھا۔
(دراک پولیس میں نہیں ہے ۔وہ اسسٹنٹ کمشنر ہے۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ سول کپڑوں میں آفیسر چھاپے مارتے ہیں اور جہاں دو نمبر کام ہو اس جگہ کو سیل کر دیتے ہیں ۔مثلا دودھ میں یا کھانے میں ملاوٹ ہو تو اس جگہ کو سیل کر دیتے ہیں۔پولیس کا محکمہ ان کے انڈر کام کرتا ہے۔دراک اس شعبے میں آفیسر ہے۔پولیس میں نہیں۔)
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
اسلام وعلیکم فرینڈز!
سب سے پہلے بہت شکریہ میرے ان سب پیارے دوستوں کا جنہوں نے کل مجھے بے شمار دعائیں دیں۔آپ سب کی بہت ممنون ہوں۔بے حد شکریہ آپ سب کا۔ابھی بھی طبیعت پوری طرح سے ٹھیک نہیں بڑی مشکل سے لکھی ہے ایپی۔۔۔
آپ سب سے ایک بات دل کیا کہ شئیر کروں۔۔۔
دراصل جب میں نے اپنا یہ ناول تھام لو دامن لکھنے کا سوچا تو میرے دماغ میں سب سے پہلا سین آیا وہ یہ سین تھا۔۔۔کہ ایک لڑکی کوٹھے سے گرے گی اور اس کا لہراتا ہوا دامن ہیرو کے چہرے پر گرے گا۔۔۔اور وہ اسکا دامن تھام لے گا۔۔۔۔۔۔
باقی کی ساری سٹوری تو میں نے بعد میں سوچی تھی۔میرا ارادہ ہیروئن کو فرش پر گرا کر اس کے سر سے خون نکالنے کا تھا۔۔۔۔اور ہیرو کے ساتھ ساتھ سب کے ہوش اڑانے کا۔
مگر ایسا کرنے سے عوام نے میری جان لے لینی تھی۔۔۔۔۔اس لیے ارادہ چینج کر دیا۔۔۔۔۔
خیر چھوڑیں۔
آپ سب مجھے آج کی قسط پر اپنے ریویوز ضرور دیجیۓ گا۔جیسے ہمیشہ دیتے ہیں۔
اگر ناول پسند آئے تو اپنے فرینڈز کو بھی مینشن کریں یا انوائیٹ کریں فرینڈز۔۔۔۔۔۔
