Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 12
تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم ،
پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم ،
اب یہاں سے کہاں جائیں ہم ،
تیری بانہوں میں مر جائیں ہم ،
اس نے دلربا انداز میں ڈریسر کے سامنے کھڑی اپنی بیوٹیفل کے گرد اپنی بانہوں کا حصار کھینچتے ہوئے دھیمے سروں میں گنگنایا۔۔۔۔۔
نظریں ابھی بھی اس کے دلکش سراپے پر جمی تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بالکل بھی نہ بدلہ تھا یہ شاید اس کے ہمسفر کی محبت کی عنائیت تھی کہ اتنے سالوں بعد بھی وہی متناسب سراپا اور دلکش حسن کے جلوے بکھیرتی تھی۔۔۔۔
آج طمر کی ہلکی سبز آنکھوں میں اپنے مجازی خدا کے لیے بھی وہی الوہی چمک تھی جو وامق کی آنکھوں میں اس کے لیے تھی۔۔۔ایک دوسرے کے ساتھ نے انہیں مکمل کردیا۔۔۔۔آج ایسا وقت تھا کہ دونوں ایک لمحہ بھی ایک دوسرے کو دیکھ نہ لیں تو چین نا پاتے تھے۔
“وامق آپ عمر گزرنے کے باوجود اور بھی رومینٹک ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔اس نے اپنے بالوں کو نیچے سے پرمز ڈال کرانہیں ہائی ٹیل میں مقید کیا۔۔۔۔
“”اس میں میرا کیا قصور تم وقت گزرنے کے ساتھ اور دلکش ہوتی جاؤ تو میں رومینٹک بھی نا ہوں ۔۔۔یہ تو غلط بات ہوئی نا۔۔۔۔
“اچھا چھوڑیں نا۔۔۔۔۔
اوں۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔ابھی نہیں ۔۔۔۔۔ابھی جی نہیں بھرا۔۔۔۔کچھ دیر محسوس کرنے دو اپنے شریف سے ہزبینڈ کو۔۔۔۔۔وہ مزید گھیرا تنگ کیے ہوئے بولا۔۔۔۔
“جی بالکل شرافت تو آپ پر ختم ہو گئی ہے ۔۔۔وہ مذاق اڑاتے ہوئے بولی۔۔۔
“یہ اب تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔۔”وہ منہ پھلا کر بولا۔۔۔۔
“وامق آپ کو یاد ہے ہمیں آج بزنس پارٹی میں جانا ہے وہاں آج ہمارے کانٹریکٹ کا فیصلہ ہونا ہے۔۔۔۔
“یاد ہے اچھے سے مجھے مگر میں تب ہی جاؤں گا جب تم مجھے تیار کرو گی۔۔۔۔
“یہ کس قسم کی انوکھی فرمائش کی ہے آپ نے ؟؟؟
وہ ہنس کر بولی۔۔۔۔
آپ کے جوان بچے ہیں اور آپ خود بچے بنے پھر رہے ہیں ۔۔۔پلیز تنگ مت کریں نہ اور جلدی سے تیار ہو جائیں دیکھیں میں ٹھیک لگ رہی ہوں ؟؟؟
اس نے آئینے میں ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“اب تم نے پوچھ ہی لیا ہے کہ تم کیسی لگ رہی ہو تو یہ بتانا تو مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر اس نے جھنجھلا کرکہا۔۔۔
آپ نہیں سدھریں گے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی۔۔۔
“بچے یونیورسٹی چلے گئے ؟؟؟؟وامق نے پوچھا۔۔۔۔
جی وہ تو کب کے نکل گئے ۔۔۔۔۔
وامق اگلے ماہ ان دونوں کا برتھ ڈے آنے والا ہے ۔۔۔۔۔
ہاں یاد ہے مجھے۔۔۔۔۔
سب ہونے کے باوجود دل میں ایک خلش باقی ہے۔۔۔۔یہ بات کرتے ہوئے اس کا لہجہ بھرا گیا۔۔۔۔
مجھے پتہ ہے تم آج بھی اسے یاد کرتی ہو۔۔۔
وامق وہ ذندہ تو ہو گی نا ؟؟؟؟
وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔
“خدا کی ذات بہت بے نیاز ہے ،اگر قسمت میں لکھا ہوا تو تم ایک دن ضرور اس سے ملو گی۔۔۔۔
“آپ ہمیشہ ہی میری ہمت بندھاتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔
اگر آج وہ ہوتی تو تقی اور مضربان دونوں سے ڈیڑھ سال بڑی ہوتی۔۔۔۔۔
طمر پریشان مت ہو زیادہ سوچو مت ورنہ طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔۔
میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔۔اس نے طمر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لبوں سے لگایا۔۔۔۔اور اسےتسلی دی۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
اماں بی اللّٰہ حافظ۔۔۔۔
بدرا یونیورسٹی جانے سے پہلے اماں بی کو الوداعی کلمات ادا کرتے ہوئے نکلی۔۔۔۔
آج اس کا یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔۔۔۔
اماں بی نے اسے دعاؤں میں رخصت کیا۔۔۔۔۔
گریجویشن تک تو بدرا نے پرائیویٹ پیپرز دئیے تھے ۔۔۔مگر گریجویشن میں جرنلزم پڑھنے سے بدرا میں جانے کیسے یہ جنون سوار ہو گیا تھا کہ وہ جرنلزم میں ہی ماسٹرز کرے گی۔۔۔۔
اور اس کے لیے یونیورسٹی جا کر ہی کلاسس لینی پڑتیں۔۔۔۔
گریجویشن کے دو سال بعد وہ فارغ رہی۔۔۔۔
کیونکہ نا تو یونیورسٹی کے داخلے کے لیے اس کے اور اماں بی کے پاس رقم نا کافی تھی۔۔۔۔
جب بھی نہال سے اماں بی کی بات ہوتی وہ اسے بدرا کا یونی میں داخلہ کروانے کے لیے کہتی۔۔۔۔
مگر وہ ان کی ایک نا سنتا۔۔۔۔
نہال اگر تم میرےیے کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس کی پڑھائی کے لیے مدد کردو۔۔۔۔
بالآخر اماں بی کی جذباتی بلیک میلنگ سے وہ حامی بھرنے پر مجبور ہو ہی گیا۔۔۔۔
اس طرح بدرا کے دو سال تو ضائع ہو گئے مگر نہال نے اس کا یونیورسٹی میں داخلہ کروا دیا اور فیسس بھی بھر دیں۔۔۔۔
آج وہ خود اکیلی ہی پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر طے کر کے یونیورسٹی پہنچی۔۔۔۔
باہر سے خود کو جتنا بھی مضبوط ظاہر کر رہی تھی مگر اندر سے ڈری ہوئی تھی۔۔۔۔
پہلی بار جو اکیلی آئی تھی وہ بھی لڑکیوں اور لڑکوں کے بیچ۔۔۔۔
یونی میں داخل ہوتے ہی اس نے آس پاس سے گرزرتے ہوئے سٹوڈنٹس پر نظر ڈالی مگر پھر جھکا لی۔۔۔۔اسے ایسا لگا کہ ہر کوئی اسے ہی دیکھ رہا ہے۔۔۔۔
وہ ناک کی سیدھ پر تیزی سے چلی جا رہی تھی کہ کسی سے زوردار تصادم ہوا۔۔۔۔
اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی بکس زمیں بوس ہوئیں۔۔۔۔
“سوری میں جلدی میں تھا غلطی ہو گئی”۔۔۔۔مقابل جو بھی تھا اس کا لہجہ انتہائی نرم اور معزرت خواہانہ تھا۔۔۔۔
بدرا نے نظر اٹھا کر دیکھا جینز اور شرٹ میں ملبوس بالکل اسی طرح کی ہلکی سبز آنکھوں والا خوبرو سا لڑکا جس کی پیشانی پر سلکی بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔
“اٹس اوکے “
بدرا نے بھی جوابا کہا۔۔۔۔
“Do you need any help????
اس نے عبائے میں ملبوس دھان پان سی لڑکی کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
جس نے اپنے بیضوی خوبصورت چہرے پر نماز کے سٹائل میں سٹالر لے رکھا تھا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کا رنگ دیکھ کر چونکا۔۔۔۔
بدرا بھی اس کا چونکنا محسوس کر گئی۔۔۔۔
“جی مجھے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں جانا ہے ۔۔۔ہو سکے تو مجھے گائیڈ کردیں۔۔۔۔
اب یہ مت کہنا کہ تم جرنلزم پارٹ ون کی نئی سٹوڈنٹ ہو ۔۔۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ؟؟؟
وہ اچنبھے سے بولی۔۔۔۔
یہ تُکا تھا۔۔۔۔جو بالکل نشانے پہ لگا۔۔۔۔تُکا سمجھتی ہو نا کیا ہوتا ہے ؟؟؟
اب اتنی بھی بے وقوف نہیں ہوں میں ۔۔۔۔جتنا کہ آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔
“اتنا نہیں یعنی کہ تھوڑی سی تو ہو ۔۔۔۔ہے نا۔۔۔
وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
اس کا مطلب ہے ہم کلاس میٹ ہوئے۔۔۔۔
تو چلو دوستی کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔تقی نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟
وہ حیران کن نظروں سے اسے دیکھتے ہیں پوچھا تھا۔۔۔۔
کچھ نہیں میرا ایک ہی دوست ہے ۔۔۔مجھے اور کسی کو بھی دوست نہیں بنانا۔۔۔۔وہ قطعی انداز میں بولی۔۔۔۔
پہلی بار تھا کہ وہ لڈو کے علاؤہ کسی لڑکے سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ کھڑے کھڑے اس کے ساتھ گزرے ہوئے پلوں کو یاد کرنے لگی۔۔۔۔۔
اے کہاں کھو گئی۔۔۔۔۔،؟
اس نے اپنا ہاتھ بدرا کے چہرے کے سامنے لہرایا۔۔۔۔
وہ یکدم حال میں لوٹی۔۔۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔
وہ دونوں چلتے ہوئے کلاس روم میں آگئے۔۔۔۔
آج پہلا دن تھا اسی لیے سب ایک دوسرے سے تعارف لے رہے تھے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں لیکچرار کے آتے ہی کلاس سٹارٹ ہوئی۔۔۔۔
سٹوڈنٹس !!!آج فرسٹ ڈے ہی ایک چھوٹا سا ٹیسٹ لیتے ہیں جس نے اسے ِون کیا آج سے وہی اس کلاس کا سی۔ آر۔۔۔
انہوں نے سوال لکھا کہ صحافت کی تاریخ کے بارے میں کچھ لکھیں اپنے الفاظ میں جو بھی آپ جانتے ہوں۔۔۔۔اور اس کے لیے صرف پانچ منٹ دئیے گئے۔۔۔۔
سب سے پہلے تقی نے شیٹ انہیں تھمائی۔۔۔
بدرا نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔جس نے بمشکل تین منٹ بھی نہیں لگائے۔۔۔۔۔
سب کے ٹیسٹ چیک کرنے کے بعد اب تھی نتائج کی باری۔۔۔۔۔
جس میں ون کیا تقی نے۔۔۔۔۔سب نے اسے نئے عہدے پر مبارکباد دی ۔۔۔۔
سمیت بدرا کے۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
“علینا اٹھو بیٹا دس بج گئےہیں۔۔۔۔”
اپنی مما عائزہ آفندی کی آواز سن کر اس کے چاروں طبق روشن ہو گئے۔۔۔۔
وہ جلدی سے کمفرٹر خود پر سے اٹھا کر پیچھے پھینکے ہوئے اٹھی۔۔۔۔۔
“کیا مام سچ میں ؟؟؟؟اسے نے دیوار پر لگی ہوئے کلاک پر نظر ڈالی۔۔۔۔
جو سچ مچ دس کا ہندسہ دکھا رہی تھی ۔۔۔
“مام آج پہلے ہی دن میں یونیورسٹی سے لیٹ ہو گئی۔۔۔۔۔”وہ جھنجھلا کر کہتی ہوئی عجلت میں کبرڈ سے اپنے کپڑے لیے واش روم میں بھاگی۔۔۔۔
عائزہ مسکرا کر رہ گئی۔۔۔۔
چند منٹوں میں وہ تیار ہوئے باہر آئی۔۔۔
اور بالوں میں تیزی سے برش پھیرنے لگی۔۔۔
“ناشتہ ریڈی ہے کر کہ جانا عائزہ نے اسے کہا۔۔۔
“نہیں مام پہلے سے ہی بہت لیٹ ہو گیا کینٹین سے کچھ لے لوں گی۔۔۔۔
وہ اپنی ضروری چیزیں اٹھائے باہر نکل گئی۔۔۔۔
عائزہ کے شوہر دائم آفندی بزنس کی وجہ سے آسٹریلیا میں ہی رک گئے مگر علینا کی عمر کو دھیان میں رکھتے ہوئے عائزہ نے پاکستان واپسی کا فیصلہ لیا۔۔۔۔کیونکہ وہاں مسلم کمیونٹی میں کوئی بھی قابل قبول رشتہ نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔اس لیے اس نے سوچا کہ پاکستان واپس جا کر اس کی باقی کی تعلیم بھی وہیں پوری کرلے گی پھر شادی بھی۔۔۔۔
عائزہ کے دو بچے تھے علینا اور بذل۔۔۔۔علینا تو اس کے ساتھ آچکی تھی پاکستان بذل نہیں آیا۔۔۔۔مگر اس نے وعدہ کیا تھا آنے کا،دیکھو اب وہ وعدہ کب پورا کرتا تھا۔۔۔۔۔
عائزہ نے آبائی گاؤں جانے کی بجائے شہر میں رہنے کو ترجیح دی کیونکہ یہاں سے یونیورسٹی کا راستہ مختصر تھا۔۔۔۔
عائزہ نے اپنے اکلوتے بھائی نہال سے کہہ کر اسی کی سوسائٹی میں ایک خوبصورت سا گھر خرید لیا تھا اب وہ علینا کے ساتھ وہیں رہائش پذیر تھی۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج پہلا دن تھا اس لیے کچھ ٹیچرز بھی مسنگ تھے۔۔۔۔
وہ دونوں تین پیرڈ اٹینڈ کیے اب گراؤنڈ میں سے گزر کر کینٹین کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شناسا چہرہ دیکھ کر رکی۔۔۔۔
مقابل موجود شخصیت بھی حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
بدرا تم نے یہاں ایڈمیشن لے لیا۔۔۔۔۔وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب آئی اور پر مسرت انداز میں بولی۔۔۔۔
“جی آج فرسٹ ڈے ہے “بدرا نے بتایا۔۔۔۔
“میرا بھی “
تقی ان دونوں کو باتیں کرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
Hello,I am Taqi.
اس نے اپنا تعارف کروایا۔۔۔۔
Hye,I am Alayana.
آپ کو نسے ڈیپارٹمنٹ میں ہیں ؟بدرا نے اس سے پوچھا۔۔۔
میں ایم ۔بی۔اے میں علینا نے بتایا۔۔۔۔
“اور ہم دونوں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں۔۔۔۔تقی بولا۔۔۔
ویسے میرا بھائی ایم بی اے ہی کر رہا ہے سیم لائک یو۔۔۔۔شاید آپ دونوں وہاں مل جائیں۔۔۔۔تقی نے علینا سے کہا۔۔۔۔
May be…..
وہ لاپرواہی سے پونی ٹیل کو جھٹک کر پیچھے کرتی ہوئی ادا سے بولی۔۔۔۔
تقی نے دونوں پر غور کیا ایک مشرق تو دوسری مغرب۔۔۔۔جہاں بدرا عبائے اور حجاب میں تھی وہاں دوسری جانب علینا جینز اور ٹاپ میں اسکارف گلے میں ڈالے ہوئے تھی۔۔۔تو پھر ان دونوں میں کیا تعلق اس نے سوچا۔۔۔۔۔
بدرا یہ علینا آپ کی کزن ہے؟تقی بالآخر ذہن میں آیا ہوا سوال زبان پر لے ہی آیا۔۔۔۔
“بس ہم جانتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔۔۔بدرا نے بس اتنا ہی کہا۔۔۔۔۔
“اب تو تین پیرڈ گزر بھی چکے ۔۔۔۔بدرا نے اسے آگاہ کیا۔۔۔۔
“بس کیا بتاؤں رات کو ایک مچھر سے میری بائیک کا ایکسڈنٹ ہو گیا تھا پین کلر کھا کر سوئی تھی تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھ دیر سے کھلی۔۔۔۔۔اس نے لب سکیڑ کر کہا۔۔۔۔
“مچھر سے ایکسڈنٹ وہ بھی بائیک کا ؟؟؟یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوئی۔۔۔۔تقی نے بھی بات میں اپنا حصہ ڈالا۔۔۔۔
“اسے یاد کر کہ علینا کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔۔۔۔۔
ویسے اچھا خاصا ہینڈسم تھا ،مگر اس نے میرا نام ہی اتنا چیپ رکھا کہ میں نے بھی اس ڈھکن کا نام مچھر رکھ دیا۔۔۔۔۔
“لگتا ہے ایکسڈنٹ والے نے کچھ زیادہ ہی بدتمیزی کی ہے جو اس کو لمحہ بہ لمحہ نت نئے ناموں سے نوازا جا رہا ہے۔۔۔۔
تقی نے استہزائیہ انداز میں کہا۔۔۔۔۔
Let’s be Friends…..
تقی نے اپنا ہاتھ آگے کیا ……
جس پر پہلے علینا نے اپنا ہاتھ رکھا پھر بدرا نے تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔۔۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شہر کے ایک مشہور اور عالیشان ہوٹل میں بزنس پارٹی کا آغاز ہوا تھا تقریبآ تمام بڑے بڑے بزنس مین وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔
طمر اور وامق بھی دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اندر آئے۔۔۔۔۔
“اوہ ہیلو مسٹر وامق کیسے ہیں آپ ؟؟؟؟ملک حامد نے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“ہیلو سر میں ٹھیک ہوں الحمداللہ بالکل ٹھیک ۔۔۔۔
“آپ سنائیں “؟
“بس شکر ہے اللّٰہ کا سلسلہ چل رہا ہے “””انہوں نے عاجزانہ انداز میں کہا۔۔۔۔
“بس کچھ ہی دیر میں پتہ چل جائے گا یہ غیر ملکی کمپنی نے کانٹریکٹ کس کے نام کیا۔۔۔۔
“ویسے اندر کی بات آپ کو بتاؤں مسٹر وامق “
انہوں نے رازدارنہ انداز میں تھوڑا قریب ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ٹینڈر میں جو کوٹیشن آپ نے بھری تھی اس سے کچھ ملتی جلتی کوٹیشن ہی شاہ انڈسٹریز نے بھی بھری تھی ۔۔۔۔۔اب دیکھیں کون حقدار بنے گا۔۔۔۔
انہوں نے پاس سے گزرتے ہوئے ایک شخص کو روک کر کہا۔۔۔۔۔
“رکیے سر !!! وہ رکا۔۔۔۔۔
“ان سے ملیے یہ ہیں مسٹر نہال شاہ ۔۔۔۔۔آپ میں اور ان کی کمپنی میں مقابلہ ہے ۔۔۔۔۔”
“اور ان سے ملیے مسٹر نہال شاہ ۔۔۔۔یہ ہیں گردیزی اینڈ سنز کے مالک مسٹر وامق گردیزی
دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا ۔۔۔۔
اوریہ ہیں ان کی پارٹنر مسسز وامق گردیزی۔۔۔۔۔۔۔۔
طمر جو ویٹر سے جوس کا گلاس لیے پلٹی تھی ۔۔۔۔۔
نہال شاہ کا ہاتھ اپنی طرف بڑھا دیکھ ساکت ہوئی۔۔۔۔۔۔
جہاں وہ اپنی جگہ تھم گئی وہیں نہال شاہ بھی جہاں تھا وہیں کا وہیہں جامد ہوا۔۔۔۔
اس نے ایک نظر سامنے کھڑی طمر پر ڈالی جو لیڈیز سٹائلش بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس تھی۔۔۔۔
پہلے سے بھی زیادہ دلکش اور مکمل لگی۔۔۔۔
نہال کا آگے بڑھایا ہوا ہاتھ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
