Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 9
اتنا ٹھنڈا پانی ؟؟؟؟میرا گلہ خراب ہوگیا اسے پیتے ہی۔۔۔
یہ چائے اچھے سے پکائی نہیں ؟؟؟دودھ الگ اور پانی الگ دکھ رہا ہے ایسے لگا کچی چائے پی رہا ہوں۔۔۔۔
سارا دن کرتی کیا رہتی ہو؟؟؟یہ دیکھو فرنیچر پر دھول ۔۔۔۔
اس طرح کے ان گنت نقص روز اس کے سر منڈھ دئیے جاتے ۔۔۔
کیا میں اتنی پھوہڑ ہوں ؟؟؟؟کئی بار تو اسے واقعی اپنے آپ پر شک ہوتا۔۔۔۔۔
سارا دن کاموں میں جتے رہنے کے باوجود بھی اسامہ اور اس کی ساس زبیدہ خانم کو اس کے ہر کام میں کیڑے نظر آتے۔۔۔۔۔
مگر وہ سب بھلائے کوہلو کے بیل کی طرح کاموں میں لگی رہتی۔۔۔۔
پرانے جملے اس کے کانوں میں گونجے۔۔۔۔
مگر جب سے وامق سے نکاح ہوا تھا اس نے ایک بار بھی اپنے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا۔۔۔۔
وامق کے ساتھ اس کی شادی کو ایک ماہ ہو چلا تھا۔۔۔۔
وہ صبح کا آفس گیا تھکا ہارا شام کو واپس آتا۔۔۔۔۔
اسامہ خود تو آفس ٹائم ختم ہوتے ہی چھ بجے گھر آجاتا ۔۔۔
مگر وامق نے جب اسامہ کے بڑے ہونے کے باوجود بھی کام میں اس کی کوئی خاص دلچسپی محسوس نہیں کی تو تقریباً سارا آفس ورک اپنے ذمے لے لیا۔۔۔۔
اکاؤنٹس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ بھی اسی کے انڈر تھا۔۔۔۔
اسی لیے سارا کام دیکھتے ہوئے اسے رات ہو جاتی ۔۔۔زیادہ تر وہ ڈنر کے بعد ہی پہنچتا۔۔۔۔
جب سب سونے کے لیے اپنے اپنے کمروں میں جا چکے ہوتے۔۔۔۔۔
ایک دو بار لیٹ آنے پر طمر کو اس کے کھانے کے خیال سے جاگتے ہوئے دیکھا تو اسے کہہ دیا۔۔۔
“تم میری وجہ سے اپنی نیند خراب مت کیا کرو سو جایا کرو میں خود ہی کھانا نکال لیا کروں گا۔۔۔۔۔
آج بھی وہ لیٹ آیا۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی لیپ ٹاپ کا بیگ آرام سے ایک طرف رکھا پھر آرام دہ کپڑے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
کچھ دیر بعد فریش ہوئے واپس آیا۔۔۔۔۔
اسے سوتا ہوا دیکھ کر گہری سانس لی۔۔۔۔
جب سے نکاح ہوا تھا ان دونوں میں کوئی بھی خاص بات چیت نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
رات اس کے آنے سے پہلے وہ سو جاتی اور صبح اس کے جاگنے سے پہلے اٹھ کر باہر نکل جاتی سب کے لیے ناشتہ بنانے۔۔۔۔۔
وہ اپنی خالی سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
سر کے نیچے بازو رکھے اس کی طرف رخ کیے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔
نائٹ بلب کی مدھم سی روشنی میں بھی اس کا چہرہ واضح دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔
پلکوں کی چلمن عارضوں کو چھو رہی تھی۔۔۔
وہ گھنی سایہ فگن پلکوں کو دیکھ مسمرائز ہوا۔۔۔۔
دل چاہا ایک بار انہیں چھو کر دیکھے ۔۔۔
اپنے دل میں اس امڈتی ہوئی خواہش کو سوچ کر اس کے لب اپنے آپ ہی مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ہو گیا ہے مجھے؟؟؟؟وہ خود کو ڈپٹ کر بولا۔۔۔۔۔
مگر نظریں اس کے شفاف چہرے سے ہٹنے سے انکاری تھیں۔۔۔۔۔
وہ اسے تکتے ہوئے جان کب تھکاوٹ کی وجہ سے نیند کی وادیوں میں محو سفر ہوا۔۔۔۔اسے خود بھی خبر نہ ہوئی۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“تم جا رہی ہو ؟؟؟؟
وہ اس کے جانے کی خبر سن کر بھاگتا ہوا ان کے گھر آیا۔۔۔جس کی وجہ سے اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔۔۔۔
“ہممممم”وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔
“تم سچ میں جا رہی ہو ؟؟؟؟وہ بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
جیسے ابھی بھی اسے اس بات کا یقین نہیں آیا ہو۔۔۔۔
“کب واپس آؤ گی ؟؟؟؟اس نے افسردگی سے پوچھا۔۔۔۔
“پتہ نہیں جب اماں بی آئیں۔۔۔۔”
پتہ نہیں واپس آتے بھی ہیں یا نہیں ۔۔۔۔اس بار اس کے لہجے میں بھی افسردگی کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔۔۔
“میں نے تمہارے لیے کچھ بنایا تھا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔اب ۔۔۔اس کا انداز قدرے رنجیدہ تھا۔۔۔۔
“کیا بنایا تھا اس بار بدرا کے لہجے میں اشتیاق چھلکا۔۔۔۔۔
آؤ میں دکھاتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا۔۔۔۔
سامنے صحن میں لگے تناور درخت کی ایک مضبوط شاخ کے ساتھ جھولا باندھا گیا تھا ۔۔۔
“تمہیں جھولا پسند تھا نا اسی لیے ۔۔۔۔۔
اس نے وضاحت دی۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں جھولا دیکھ کر خوشی کے جگنو چمکے۔۔۔۔۔
“تم مجھے جھولا جھولاو گے ؟؟؟؟
اس نے اپنی ہلکی سبز بڑی بڑی آنکھوں کو اور بھی بڑا کرتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔
لڈو نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے جھولے پر بیٹھی۔۔۔۔
لڈو نے رسی کو پکڑے اسے دھکا لگا کر جھولا دینا شروع کیا۔۔۔۔
آہستہ آہستہ جھولا اونچائی کی طرف جا رہا تھا۔۔۔۔۔اور اس کی خوشی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
“بہت مزہ آرہا ہے لڈو ۔۔۔۔وہ مسرور انداز میں زور سے بولی۔۔۔۔۔
کافی دیر جھولا جھلانے کے بعد اس نے اس کی رفتار تھوڑی کم کی ۔۔۔
بدرا!!!!؟وہ ہولے سے پکارا تھا اسے ۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔کیا بات ہے ؟؟؟؟
تم مجھے یاد رکھو گی ؟؟؟؟
یہ کیسا سوال ہے ؟؟؟
ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اپنے واحد دوست کو بھلا دوں ۔۔۔۔۔وہ مڑ کر اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔
“ویسے ایک بات کہوں ….
کہو۔۔۔۔
تم نے بھی یہ جھولا ابھی لگانا تھا جب میں یہاں سے جانے لگی ہوں ۔۔۔بھلا پہلے تمہیں اس کا خیال کیوں نہیں آیا۔۔۔۔
“میں تو تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ تم اس طرح سے مجھے ہی سر پرائز کر کہ چھوڑ جاؤ گی۔۔۔۔
“لڈو تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب تم میٹرک میں لاہور بورڈ میں ٹاپ کرو گے تو جو میں تمہیں کہوں گی تم وہ مجھے لے کر دو گے۔۔۔۔۔
مگر ابھی تو تمہارے پیپرز میں دو سال پڑے ہیں۔۔۔۔میرا گفٹ بھی مارا گیا۔۔۔۔۔وہ افسوس ذدہ لہجے میں بولی۔۔۔۔
“تمہیں کیا گفٹ چاہیے میں ابھی تمہیں لا کر دیتا ہوں۔۔۔۔
“نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے بس اپنے دوست کے چہرے پر وہی خوشی واپس چاہیے جو کہیں کھو گئی ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی بات پر مسکرایا۔۔۔۔۔
“یہ ہوئی نہ بات۔۔۔۔۔
میری دعا ہے کہ تم بہت بہت بہت اچھے نمبر لو ۔۔۔۔۔اس نے دعائیہ انداز میں کہا
بہت شکریہ ۔۔۔۔مجھے بھی پوری امید ہے کہ تم بھی اپنی پڑھائی جاری رکھو گی ۔۔۔۔
“ہاں بالکل ۔۔۔۔تمہیں تو پتہ ہے ناکہ مجھے پڑھنے کا کتنا شوق ہے ۔۔۔وہ جھولے سے اتر کر اس کے سامنے آکر بولی۔۔۔۔
اگر تم نے ٹاپ کیا تو میں تمہارا رزلٹ اخبار میں دیکھوں گی۔۔۔اگر سچ میں تمہارا نام آیا تو میں تو اعلان کردوں گی ۔۔۔۔۔دیکھو میرے دوست نے ٹاپ کیا ہے۔۔۔۔۔
مگر تم اپنے دوست کا نام نہ ڈبو دینا پلیز پاس ہو جانا ۔۔۔۔۔وہ چہرے پر شریر مسکراہٹ سجائے ہوئے بولا ۔۔۔
لڈو میں نا ۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں سے اس کا گلہ دبانے کو اس کی طرف لپکی۔۔۔۔
وہ بھاگا ۔۔۔بدرا اس کے پیچھے پیچھے اور وہ اس کے آگے آگے ۔۔۔۔
بالآخر سانس پھولنے کی وجہ سے ایک جگہ رکے۔۔۔۔۔۔
I will miss you……
وہ اس کا ہاتھ تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے افسردہ انداز میں بولا۔۔۔۔
I will miss you too…..
اس نے بھی جوابا کہا۔۔۔۔۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بدرا گھر واپس آنے لگی تو صندل جو کچن میں کچھ بنا رہی تھی۔۔۔۔
اسے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا تو کہا۔۔۔۔
بدرا یہ لیتی جاؤ میں نے اماں بی کے لیے بنایا ہے ۔۔۔۔انہوں نے ایک سٹیل کے باول میں کچھ ڈھک کر اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے اس نے وہ باؤل ہاتھ میں لے کر فرمانبرداری سے کہا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
وامق نے اپنی موندی آنکھوں سے دیوار پر لگے ہوئے کلاک کو دیکھا جو آٹھ بجا رہے تھے۔۔۔۔
وہ فوراً کمفرٹر ہٹائے واش روم میں بھاگا۔۔۔۔
اور تیزی سے تیار ہوئے روم سے نکلا۔۔۔۔
طمر تب تک ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگا چکی تھی۔۔۔۔
طمر میرے لیے آلو کا پراٹھا۔۔۔۔۔زبیدہ خانم نے اسے آواز لگائی۔۔۔۔
وہ جو ٹیبل پر سادہ پراٹھے اور آملیٹ کے ساتھ بریڈ جیم ،مکھن گرما گرم بھاپ اڑاتی ہوئی چائے رکھ چکی تھی ،ان کی آواز پر سب آلو والے پراٹھے کے پیڑے کرنے لگی ۔۔۔
طمر اورنج کا فریش جوس نہیں بنایا؟؟؟یہ آواز صفا کی تھی۔۔۔۔
“جی بنایا ہے ابھی لائی۔۔۔۔اس نے وہیں سے آواز لگائی۔۔۔۔۔
اسامہ خاموشی سے بیٹھا ناشتے سے بھرپور انصاف کر رہا تھا۔۔۔۔۔
وامق نے کچن میں سے طمر کو جوس کا جگ اٹھا کر لاتے ہوئے دیکھا تو ایک تفصیلی نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔
پرانے سے سادہ سوٹ میں جس کا رنگ بھی اڑ چکا تھا ۔۔۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے ۔۔۔۔
سپاٹ چہرے سے اپنے کام نبٹا رہی تھی۔۔۔۔
وامق نے گہری سانس لی۔۔۔۔
اور اپنا لیپ ٹاپ والا بیگ لیے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔
اسے یوں بغیر ناشتے کے باہر جاتا دیکھ طمر نے آواز دی ۔۔۔
“آپ ناشتہ نہیں کریں گے ؟؟؟؟”
“اس کی آواز اور بلانے کے انداز پر واری جاتا وامق آنکھوں میں چمک لیے پیچھے مڑا۔۔۔۔
چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔۔
“آپ اتنے پیار سے بلائیں گی تو کرلیں گے”
اس کے کان کے قریب دھیمی آواز میں بولا۔۔۔
وہ سب کے سامنے اس کے اتنے قریب سے آکر بات کرنے پر سٹپٹا کر رہ گئی۔۔۔۔
اس کی حالت سے محذوذ ہوتے ہوئے وامق کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔۔
بیگ چئیر پر رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ سے جگ لیے ٹیبل سے گلاس اٹھا کر اس میں جوس بھرا۔۔۔۔۔
“بیٹھو یہاں “اسے دونوں شانوں سے تھام کر چئیر پر بٹھایا۔۔۔۔۔
وہ حیران کن نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
نجانے اب وہ کیا کرنے والا ہے۔۔۔۔۔
وامق نےجوس والا گلاس اٹھا کر اس کے لبوں سے لگایا۔۔۔۔۔
“جلدی ختم کرو اسے ۔۔۔۔۔سب کے ساتھ ساتھ تمہیں اپنا بھی خیال رکھنا چاہیے اب میں تمہیں خود سے لاپرواہی برتتے ہوئے نہ دیکھوں ۔۔۔۔اس بار اس کی بات میں پیار کے ساتھ ساتھ تھوڑا تنبیہہ کا عنصر بھی شامل تھا۔
اس کے گلاس پیچھے نہ ہٹانے پر طمر کو جوس کے گھونٹ بھرنے ہی پڑے ۔۔۔
جبکہ زبیدہ خانم تو وامق کی اس حرکت پر تلملا کر رہ گئی۔۔۔۔
“بیوی کو اس کی اوقات میں رکھو۔۔۔۔اس طرح چونچلے کرو گے تو سر پر چڑھ کر ناچے گی۔۔۔۔وہ ٹونٹ کرنے سے بعض نہ آئی۔۔۔۔
“مجھے اچھی طرح پتہ ہے کس کی کیا اوقات ہے “
وہ سرد مہری سے کہتے ہوئے بنا کسی پر نظر ڈالے بیگ اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
طمر مزید طعنوں سے بچنے کے لیے فورا اٹھ کرکچن کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کہاں جا رہے ہو ؟آج تو اتوار ہے اور آفس بند۔۔۔۔تعبیر نے نہال کو تیار ہو کر باہر جاتے ہوئے دیکھ پیچھے سے آواز دے کر پوچھا۔۔۔
“میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔۔جب واپس آؤں گا تو خود ہی پتہ چل جائے گا تمہیں کہ میں کہاں گیا تھا۔۔۔۔
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔۔۔نہال میں تم پر پورا حق رکھتی ہوں ۔۔۔۔۔
“تعبیر ابھی میں کسی بھی سوال کا جواب دینا نہیں چاہتا ہر وقت مجھے تنگ مت کیا کرو۔۔۔۔تنگ آگیا ہوں یہ تمہاری منٹ منٹ کی خبر گیری سے۔۔۔۔
وہ سخت بے زاری سے بولا۔۔۔۔
“بیوی ہوں میں خبر نہیں رکھوں گی تمہاری تو کیا پڑوسن رکھے گی ۔۔۔۔
“تم سے تو کوئی بھی بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولا۔۔۔۔
“کیوں کوئی اور مل گئی ہے جو پیار بھری باتوں سے تمہارا دل بہلاتی ہے ۔۔۔اسی لیے میری باتیں فضول لگتی ہیں۔۔۔اب کی بار وہ لڑاکا انداز میں کھڑی ہو کر بولی۔۔۔۔
“اس طرح کر کہ کہیں سے بھی تے ویل ایجوکیٹیڈ نہیں لگتی بالکل گنوار لگتی ہو۔۔۔۔
وہ تمسخرانا انداز میں بولا۔۔۔۔
“ت۔۔۔تم نے مجھے گنوار کہا۔۔۔۔وہ حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
باقی کا جھگڑا فی الوقت پھر کسی دن پر اٹھا رکھو۔۔۔۔کہتا ہوا وہ ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ پیچ و تاب کھاتے ہوئے اس سے اس بات کا بدلہ لینے کا طریقہ سوچنے لگی۔۔۔۔۔
بہت ہوشیار بنتے ہو نا پر مجھ سے زیادہ نہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ کو انگلی پر گول گول گھماتے ہوئے سالوں پہلے ہوئی بات کو سوچنے لگی۔۔۔۔۔
جب نہال نے اسے بتایا تھا کہ رپورٹ کو ایک ڈاکٹر کو دکھا کر اس نے مشورہ لیا ہے اور آج تعبیر کو بھی اس کے ساتھ چلنا ہوگا۔۔۔
یہ بات سن کر ایک بار تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔۔
کہیں نہال کو پتہ نہ چل جائے رپورٹ کی سچائی۔۔۔۔۔
وہ دونوں ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو ڈاکٹر نے انہیں آئی۔وی ۔ایف کا کہا۔۔۔۔
مگر پھر نہال کو اس کی طرف سے بالکل بھی کوئی چانس نہ ہونے کی وجہ سے انکار کردیا۔۔۔۔
جاتے بار تعبیر نے ڈاکٹر کو مسکرا کر دیکھا ۔۔
تو ڈاکٹر نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ اچھال دی۔۔۔
جب تعبیر کو اس ڈاکٹر کا پتہ چلا وہ نہال سے پہلے وہاں پہنچ کر ڈاکٹر کو اپنی طرف کر چکی تھی۔۔۔۔اور اسے یہی بتایا تھا کہ نہال باہر دوسری عورتوں میں انٹرسٹڈ ہے اور اس پر ظلم کرتا ہے ۔اگر اسے پتہ چل گیا کہ میں بانجھ ہوں تو وہ مجھے چھوڑ دے گا۔۔۔میرا کوئی نہیں اس کے سوا آپ پلیز میری مدد کریں اسے کچھ بھی مت بتانا۔۔۔۔وہ رو رو کر ان سے فریاد کرنے لگی تو ڈاکٹر کا دل اس کی دکھی باتیں سن کر پسیج گیا۔۔۔۔اس لیے انہوں نے اس کا ساتھ دیا۔۔۔۔۔
پھر نہال نے کوششیں ترک کردیں۔۔۔۔وہی واقعہ یاد آتے تعبیر کے چہرے پر طمانیت پھیلی۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
آج اس نے پوری کوشش کی کہ وہ جلدی اٹھ جائے ۔اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ آئینے کے سامنے کھڑی بالوں کا جوڑا بنا رہی تھی۔۔۔۔
شانوں پر دوپٹہ درست کرتے ہوئے باہر نکلنے لگی۔۔۔۔
“طمر !!!!اس کی نیند کے خمار سے ڈوبی آواز سن کر وہ پیچھے مڑی۔۔۔۔
“جی “محض اتنا ہی کہا۔۔۔
“کبرڈ میں ایک بیگ ہے ،میں تمہارے لیے کچھ ڈریس لایا تھا رات کو ۔۔۔۔
آج انہیں میں سے ایک پہننا ۔۔۔۔اس نے فرمائش کی یا حکم دیا وہ کچھ اندازہ نہیں لگا پائی۔۔۔
“مگر میرے پاس کپڑے تھے “وہ سر جھکائے ہوئے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پیوست کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“آج رات کو جلدی آنے کی کوشش کروں گا”””
وہ اس کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات کہا تھا۔۔۔۔
“میں نے کب کہا جلدی آنے کو ؟وہ سوچنے لگی۔۔۔۔پھر سر جھٹک کر باہر نکل گئی۔۔۔اور وامق اٹھ کر آفس جانے کی تیاری کرنے لگا۔۔۔۔
کبرڈ کھولی تو سارے کپڑے استری کر کہ ہینگ کردئیے گئے تھے۔۔۔۔
صاف ستھرا کمرہ ہینگ کپڑے ہر چیز دھلی دھلائی نکھری ہوئی بالکل اس کے ہمسفر کی طرح۔۔۔۔
کتنی خوشگوار تبدیلی آئی تھی اس کی زندگی میں بالکل تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند۔۔۔۔
یہ کمرےتبدیلی نکاح کے دوسرے دن سے ہی آچکی تھی ۔۔۔۔مگر دل میں مچی دھڑکنوں کی تبدیلی کب ہوئی اس بات کی خبر اسے خود بھی نا تھی۔۔۔۔۔
زندگی ایک دم سے کتنی خوبصورت لگنے لگی۔۔۔۔کاش اس کا ساتھ بھی میسر ہو جائے۔۔۔۔
میں اس سے کسی بھی قسم کی زبردستی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔اسے پیار سے پانا چاہتا ہوں مگر شاید ابھی وہ بدگمان ہے سب سے اسے اپنے پیار کا مان بخش کر پھر سے زندگی کی طرف لوٹنے پر مجبور کردوں گا۔۔۔۔
سب بھول جانے پر مجبور کر دوں گا۔۔۔۔۔مگر اس کے لیے مجھے اس کو خود کے ساتھ کا احساس دلوانا پڑے گا۔۔۔۔
اس نے آئینے میں دیکھ کر بالوں میں برش کرتے ہوئے مسکرا کر سوچا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اسامہ گھر میں رہ رہ کر میں بور ہوگئی ہوں ۔۔۔کیوں نا کہیں جانے کا پلان بنائیں۔۔۔۔
صفا جو روم میں اسامہ کے ساتھ ٹی وی دیکھنے میں محو تھی ایک دم ٹی وی سکرین سے نظریں ہٹا کر بولی۔۔۔۔
‘کہاں جانا ہے ملکہ عالیہ نے “وہ لہجے میں ڈھیروں محبت سموئے بولا ۔۔۔
“کیوں نہ سوئٹزر لینڈ چلیں ۔۔۔۔۔؟
“مگر بچے ؟؟؟؟اسامہ نے دونوں سوئے ہوئے بچوں کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
انہیں بھی ساتھ ہی لے جائیں گے ۔۔۔۔کیوں کوئی مسلہ ہے ؟؟؟
“ایسا میں نے کب کہا کہ کوئی مسلہ ہے ۔۔۔میں تو بس یہ کہہ رہا تھا اتنا لمبا سفر کرنا مشکل ہوگا۔۔۔۔۔اور وہاں کا موسم بھی خاصا سرد ہوتا ہے ۔۔۔
کسی دوسرے ملک کا سوچو۔۔۔۔اسامہ نے اپنے تئیں اسے مشورہ دیا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
رات کو خلاف معمول وہ لیٹ آنے کی بجائے جلدی اپنا کام ختم کیے ڈنر کے وقت آٹھ بجےگھر آگیا۔۔۔۔
اسلام وعلیکم !!!
اس نے ڈائننگ پر موجود سب کو مشترکہ سلام کی۔
وعلیکم السلام!!!
جس کا جواب صرف زبیدہ خانم نے ہی دیا۔۔۔۔۔”طمر کہاں ہے ؟وامق نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے اس کو سامنے نہ پا کر پوچھا۔۔۔۔
“کچن میں ہی ہے کھانا نکال کر لا رہی ہے اور کیا؟؟؟؟
وہ ان کی بات سن کر کچن کی طرف آیا۔۔۔۔
زبیدہ خانم اس کی طرف دیکھ کر تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔۔۔۔
وامق نے کچن میں قدم رکھا تو وہ محویت سے روٹی بیل رہی تھی۔۔۔۔
اس نے آج اسی کے لائے ہوئے کپڑوں میں سے ایک ڈارک بلیو کلر کا شیفون کا سوٹ پہن رکھا تھا۔۔۔۔۔اسے ان کپڑوں میں دیکھ کر دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔وہ دبے پاؤں سے اس کے پاس پہنچا۔۔۔۔۔پھر
اس نے پیچھے سے جا کر اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔
وہ ڈر سے جھٹکا کھا کر پیچھے مڑی ۔۔۔۔مگر وہ اتنے قریب تھا کہ طمر کے لب غیر ارادی طور پر اس کے گال سے مس ہوئے۔۔۔۔
خفت کے مارے تو وہ نظریں بھی نا اٹھا پائی۔۔۔۔
“ہائے !!!!!کاش اتنا اچھا استقبال روز ہمارا مقدر ہوا کرے وہ سرد سی آہ بھر کر بولا۔۔۔۔اور تھوڑی اس کے شانے پر ٹکائی۔۔۔۔
طمر کو اپنی گردن پر اس کی پر حدت سانسیں محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اس کی گرفت میں تھی۔۔۔۔
“آ۔۔۔۔آپ پلیز جائیں یہاں سے ۔۔۔۔مجھے کام کرنے دیں۔۔۔۔وہ ہکلا کر رہ گئی۔۔۔۔
اور کسمسا کر اس کی آہنی گرفت سے اپنا آپ چھڑوانے لگی۔۔۔۔۔
“چھوڑو یہ سب کام وام ۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ میں موجود بیلن لے کر ایک طرف رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر آیا۔۔۔۔
“روٹی نہیں بنی ابھی تک ؟؟؟؟زبیدہ خانم نے طمر کو وامق کے ساتھ باہرخالی ہاتھ آتے دیکھ کر غصے سے پوچھا ۔۔۔
‘”نہیں میری بیوی آج سے کسی کے لیے کوئی کھانا نہیں بنائے گی۔۔۔۔۔
جس کو ضرورت ہو وہ اپنا کھانا خود بنائے یا اتنے سرونٹس ہیں ان سے بنوا لے۔۔۔۔وہ دو ٹوک انداز میں بولا۔۔۔۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔۔۔۔ یہ اس گھر کی بہو ہے تو یہی کھانا بنائے گی نا”زبیدہ خانم نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔
“بہو صرف یہ نہیں بہو تو اور بھی ہے ۔۔۔۔اس سے کروا لیں ۔۔۔۔اس نے واضح لفظوں میں کہا۔۔۔۔
یہ بات سن کر تو صفا اور زبیدہ خانم دونوں کے تن بدن میں لگ گئی۔۔۔۔
ویسے اس سے بہوؤں والا سلوک تو روا رکھا نہیں۔۔۔۔آپ سب سمجھتے ہیں کہ میں لا علم ہوں ۔۔۔مگر ایسا بالکل نہیں ۔۔۔۔میں سمجھ رہا تھا شاید آپ لوگ بدل جائیں مگر نہیں میں غلط تھا۔۔۔۔۔
“آؤ چلیں “وہ طمر کی طرف دیکھ کر پیار سے بولا۔۔۔۔
“مگر کہاں “وہ زبیدہ خانم کی چبھتی ہوئی نظروں سے خائف دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔
“آ ۔۔۔ لے کہ چلوں تمہیں تاروں کے شہر میں دھرتی پہ یہ دنیا ہمیں پیار نہ کرنے دے گی”۔۔۔۔۔
وہ گنگنانے کے انداز میں میٹھے سروں میں بولا۔۔۔۔۔
سب کے سامنے وامق کے اس انداز پر طمر کا چہرہ خفت سے سرخی مائل دکھائی دینے لگا۔۔۔۔
وامق نے اسے سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر اپنی بانہوں میں بھرا۔۔۔۔
“اے لڑکے کیا شرم بیچ کھائی ہے ؟؟؟؟
زبیدہ خانم کی چبھتی ہوئی طنزیہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔
“آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں نے شرم بیچ کھائی ہے؟؟؟؟
وہ الٹا شرارتی انداز سے انہیں پر سوال داغ گیا۔۔؟”
“ویسے میں نے شرم بیچ کر فلیٹ خرید لیا ہے اپنی بیوٹیفل کے لیے۔۔۔۔
بیوٹیفل کہتے ہوئے اس نے ایک نگاہ اپنی بانہوں میں ہوئے وجود پر ڈالی۔۔۔۔جو کسمسا کر نیچے اترنے کی کوششوں میں سر گرداں تھی۔۔۔۔
“اگر اب کسی نے میری بیوٹیفل سے کام کروایا یا اس پر طنز کے تیر برسائے تو میں اسے لے کر وہیں شفٹ ہو جاؤں گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔
مجھے یہاں دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے کاموں کا بیڑہ خود اٹھائیں۔۔۔۔
آخری اچٹتی ہوئی نظر ان سب پر ڈالتا ہوا وہ اسے لے کر باہر نکلا۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے ۔۔۔۔وہ دانت پیس کرباہر آتے ہی بولی۔۔۔۔
مگر مقابل کو کوئی بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔۔۔
میں نے کہا چھوڑو مجھے۔۔۔۔اس بار وہ چلائی۔۔۔۔
اب تو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔
طمر نے اسے نا چھوڑتے ہوئے دیکھ کر اس گردن پر کاٹا۔۔۔۔۔
کیونکہ نزدیک وہی دکھائی دی۔۔۔۔۔
“اس حرکت کا بدلہ سود سمیت لیا جائے گا بیوٹیفل!!!!
گاڑی کے پاس آکر اس نے فرنٹ ڈور کھول کر اسے اندر بٹھایا۔۔۔۔۔
“کہاں جا رہے ہو مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ اندر سب کیا سوچ رہے ہوں گے میرے بارے میں وہ روہانسے لہجے میں بولی ۔۔
“یہ مت سوچو کہ وہ سب کیا سوچ رہے ہوں گے بلکہ یہ سوچو کہ میں کیا سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔۔وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کے چہرے پر شریر سی نظر ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں ایک فلیٹ میں موجود تھے۔۔۔۔
چھوٹا سا دو کمروں کا لگژری فلیٹ کچن باتھ لاؤنج اور رومز کے باہر ٹیرس جہاں سے دور دور تک نظارہ کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔۔
“کیسا لگا ؟؟؟
“اچھا ہے “
بس اچھا ؟
نہیں بہت اچھا ۔۔۔۔
بیڈ روم کیسا ہے ؟؟؟
یہ بھی اچھا ہے ۔۔۔اس نے تفصیلی نگاہ دوڑائی جہاں ہر چیز ہی عمدہ تھی۔۔۔۔
“مگر تم سے اچھا نہیں “””
اس کی آنکھوں میں چھلکتا ہُوا خمار طمر کی آنکھوں سے مخفی نا رہ سکا۔۔۔۔
وامق نے کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا اور ٹائی ڈھیلی کر کہ اتار کر وہ بھی وہیں پھینک دی۔۔۔۔شرٹ کے کف فولڈ کرتا ہوا۔۔۔اوپری دو بٹن کھول کر تھوڑا ریلکیس ہوا۔۔۔۔
وہ رخ موڑ گئی دیوار کی طرف۔۔۔۔۔جانے خالی دیوار پر کیا تلاش کر رہی تھی۔۔۔
وامق نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کا میسی سا بنا جوڑا کھول دیا۔۔۔۔۔
اور اس کے بالوں سے آتی شیمپو کی بھینی بھینی مہک کو سانسوں میں اتارنے لگا۔۔۔۔
کھلے بالوں کو ایک ہاتھ سے اس کے شانے کے ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی شفاف سفید گردن پر نرمی سے اپنے لب رکھے ۔۔۔۔۔
خود پر اس کا پہلا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ جی جان سے کانپی۔۔۔۔۔
وامق پ ۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔منہ سے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ برآمد ہوئے۔۔۔۔۔
“ابھی تو آپ کی بائٹ کا جواب سود سمیت لوٹانا ہے ۔۔۔ابھی سے ڈر گئیں۔۔۔۔۔وہ اس کے کان کی لو کو ہولے سے دانتوں تلے دبا کر بولا۔۔۔۔اس عمل پر اس کی سسکاری خاموش کمرے میں گونجی۔۔۔
وامق کے سرسراتے ہوئے ہاتھ اپنی کمر پر محسوس ہوئے۔۔۔۔۔تو جان ہوا ہونے لگی۔۔۔۔
وامق نے اس کا رخ اپنی جانب کیے اس کا سرخ گلاب جیسا چہرہ دیکھا تو ان گھنیری لرزتی ہوئی پلکوں کو دھیرے سے چھو گیا۔۔۔۔
لمحوں میں طمر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے ۔۔۔
وہ اس کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو چُنے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ پیالوں کی صورت بھر کر بولا۔۔۔۔۔
“طمر بھول جاؤ سب کچھ ہم ایک نئی زندگی کی شروعات کریں گے۔۔۔۔جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔۔۔۔تمہاری طرف آنے والے ہر غم کو پہلے مجھ سے ٹکرانا ہو گا۔۔۔۔۔
طمر نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا جو پرشوق نگاہوں سے اسے ہی نہارنے میں محو تھا۔۔۔۔۔
وہ اس کی جذبے لٹاتی ہوئی آنکھوں کی تاب نہ لاتے ہوئے سر جھکا گئی۔۔۔۔
وامق نے اسے خود میں زور سے بھینچ لیا۔۔۔
اور اس کی گردن میں منہ چھپائے مدھوش ہونے لگا۔۔۔۔۔
اس کی حد درجہ قربت اور وارفتگیاں برداشت کرنا دوبھر ہوگیا۔۔۔۔۔
وہ بوکھلا کر رہ گئی۔۔۔۔اس کی حالت غیر سی ہوگئی۔۔۔۔
کہاں دیکھی اس قدر دیوانگی اور جنونیت اس نے پہلے ۔۔۔۔۔جس قدر اس کے ہرعمل میں تھی۔۔۔۔۔
کمرے کی معنی خیز خاموشی اور اس کی ہوش ربا جسارتیں اس کے صحیح معنوں میں جان نکالنے کے در پہ تھیں۔۔۔۔۔
“مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔۔۔۔
وہ ہمت جٹائے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
ہممممم کہو کیا کہنا ہے ؟؟؟
وہ اس کے لب کو اپنی پور سے سہلاتا ہوا نظریں اسی کے چہرے پر جمائے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات کرتی وہ اس کے گلابی گالوں پر اپنے عنابی ہونٹ رکھے اسے دل وجان سے محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
اس کے گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔اس کی جان لیوا انداز پر۔۔۔۔
وامق ۔۔۔۔۔۔ق۔۔۔۔۔گلے میں سے بمشکل پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔۔۔۔
وہ تھما تھا چند پل کو اور اس کی آنکھوں میں استفہامیہ انداز میں دیکھا جیسے کچھ پوچھ رہا ہو۔۔۔
“کیا میں حق نہیں رکھتا تم پر ؟؟؟؟
اس کا روح فنا کردینے والا سوال سن کر وہ لرز کر رہی گئی ۔۔۔۔۔
“نہیں ایسی بات نہیں “
“ان فسوں خیز لمحات میں مجھے اپنا آپ ہارنے دو بیوٹیفل”۔۔۔۔۔
اس کی آواز میں چھلکتی خماری طمر کو کچھ کہنے سے بعض رکھ رہی تھی ۔۔۔مگر وہ اس کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے سے پہلے اسے اپنے بارے میں سب سچ بتا دینا چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ جس رشتے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی جائے وہ کبھی بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔۔۔۔
مگر میری بات تو۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بتاتی ۔۔۔۔
وہ اس کی بولتی بند کر گیا اپنے طریقے سے۔۔۔۔
اس نے بھی اس کی جنونیت پر اپنا آپ اس کے آگے ہار دیا۔۔۔۔۔
خونی رشتے ہونے کے باوجود کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔۔۔۔اس کے سوا۔۔۔
اس کے حق کے لیے کوئی نہیں لڑا اس کے سوا۔۔۔۔۔
اسے اپنے مطلب کے لیے سب نے استعمال کیا اس کے سوا۔۔۔۔
پیار کے ساتھ عزت دی۔پیار بھلا ملے نہ ملے مگر عزت دینا کوئی کوئی ہی جانتا ہے۔
بھلا اتنے پیار سے سمیٹنے والے کو کوئی رد کر
