Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 26
“آپ کے زخم سے بلیڈنگ تو رک نہیں رہی ….وہ پریشانی سے بولی۔۔۔
“آپ ایک بار ہاسپٹل سے چیک اپ کروا کر بینڈیج کروا لیں۔۔۔۔۔وہ متفکر انداز میں کہنے لگی۔۔۔
“کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔وہ لاپرواہی سے بولا۔۔۔۔
“میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی پلیز اٹھیں ۔۔۔چلیں میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی۔
“میرا کہیں بھی جانے کا دل نہیں ۔۔۔بس آرام کروں گا۔۔۔۔
“آرام کرنے سے کیا بلیڈنگ رک جائے گی۔؟
اٹھیں نا پلیز ۔۔۔۔
“اچھا میری دوسری شرٹ لا دو گی پلیز ۔۔۔
ابھی لائی۔۔۔۔
وہ تیز قدموں سے کمرے میں چلی گئی اور منٹوں میں پریس کی ہوئی شرٹ لے کر آئی۔۔۔۔
اور خود پہنانے لگی۔۔۔
“جانم اگر روز ایسے ہی پہناؤ تو میں روز بیمار ہونے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔۔
“فضول باتیں مت کریں۔۔۔چلیں جلدی۔۔۔وہ بٹن بند کرتی ہوئی بولی۔۔۔اگر نارمل بات ہوتی تو وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتی مگر اسے اس حالت میں دیکھ کر کچھ بھی اور سوچنے کے قابل نہ تھی۔
وہ بلیک کلر کا سوٹ کے ساتھ کا دوپٹہ نماز کے سٹائل سے سر پر اوڑھے اس کے ساتھ باہر نکلی۔۔۔۔
ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی تو دونوں ہاسپٹل روانہ ہوئے۔۔۔۔
چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کچھ احتیاطی تدابیر بتائیں۔اور میڈیسن لکھ کر دیں ۔۔
راستے میں ایک فارمیسی سے ڈرائیور کو میڈیسن لینے بھیجا۔۔۔۔
دراک اور بدرا دونوں گاڑی میں موجود تھے۔۔۔بدرا نے دراک کے شانے پر سر رکھا ۔۔۔۔دراک نے اس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر پریشانی کے سائے لہرا رہے تھے۔۔۔۔۔
بدرا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔۔۔اور یہ منظر کسی دو آنکھوں نے بڑی حسد بھری نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
وہ آج جلد ہی کلب سے نکل آیا تھا اور ابھی جب سے اپنے جہازی سائز بیڈ پر لیٹا سموک کررہا تھا کیونکہ اسے وہاں راستے میں کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر اس کادم گھٹنے لگا تھا،یہ سوچ ہی اسکی رگیں پھول رہی تھی کہ اب وہ لڑکی کسی اور کی ملکیت ہے،اس سے اپنی ذلت کا بدلہ لیتے ہوئے۔۔۔
یہ گیم کھیلتے کھیلتے وہ اسے گنوا بیٹھا تھا،دل کا درد حد سے بڑھا تو اس نے غصے میں اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر ٹھوکر ماری،جس سے وہ ٹیڑھی ہوتے ہوئے نیچے گری اور اس پر لگا کانچ ٹوٹ کر چکناچور ہوگیا،اپنی لہو رنگ آنکھوں کو اس نے جھپکا،بہت کوشش کے باوجود پچھلے کئی دنوں سے اسکی آنکھوں میں سے سرخی نہیں جارہی تھی،اسے اب اس انسان سے بھی نفرت ہونے لگی،جس نے اس لڑکی کو اپنی ملکیت بنالیا تھا،وہ تو اسکی تھی “بذل آفندی” کی پھر کیسے اب وہ کسی اور کی ہوئی،
اگر ان کی شادی ہو چکی ہو گی تو؟،مطلب دونوں نے ایک ساتھ خوبصورت لمحات گزاریں ہونگے،اور۔۔۔۔اور وہ تو اسکے گھر پر ہوگی۔۔۔اسکی بیوی کی حیثیت سے۔۔۔غصے کی زیادتی سے بذل کا چہرہ حد سے زیادہ سرخ ہوگیا تھا۔
آآآآہ
اسکی اذیت بھری دھاڑ پورے گھر میں گونجی تھی شدید جنون کی حالت میں بذل نے پورا کمرہ تہس نہس کر کے رکھ دیا،پھر گرنے کے انداز میں وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا اپنے بال جکڑ گیا،کافی دیر بعد تھوڑا بہت خود پر کنٹرول ہوا تو اسے یاد آیا
یہ تو وہی آفیسر تھا جس نے کل خفیہ چھاپہ مار کر ساری کچی شراب برآمد کر لی تھی۔۔۔۔اس کا کتنا نقصان ہوا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ خود تو بچ کر نکل گیا مگر جاتے جاتے اسسٹنٹ کمشنر دراک علی پر فائر کرنا نا بھولا۔۔۔۔۔۔
اپنی زندگی کے آخری دنوں کو گن لے دراک علی۔۔۔۔۔۔۔بذل کے دونوں نقصان تیرے ہاتھوں سے ہوئے ۔۔۔اب اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار ہو جا۔۔۔۔۔۔
خون آلود آنکھوں سے نفیس کارپیٹ کو گھورتے ہوئے وہ نہایت نفرت سے غرایا۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
یہ ایک کلب کے تہ خانے کا منظر تھا اندر گھپ اندھیرے میں صرف ایک چھوٹا سا بلب لگا تھا،جس سے بمشکل آس پاس کا منظر نظر آرہا تھا،اس اندھیر تہ خانے میں کچھ لڑکیوں کی رونے تو کچھ کی چیخنے کی آوازیں گونج رہیں تھیں،
انہیں لڑکیوں میں سے کچھ بلکل کونے میں گھٹنوں پر سر رکھے خاموشی سے بیٹھی تھیں،محبت کے نام پر ماں باپ کو چھوڑ کر گھر سے چھپ کر نکلی ہوئی لڑکیاں یہ بھول جاتی ہیں جو مرد اسے بہلا پھسلا کر ماں باپ کو چھوڑنے کا کہے وہ کبھی خود اسکا نہیں ہوپائے گااردگرد لڑکیاں جن میں سے کچھ اغواء ہوکر تو کچھ اسی کی طرح جھوٹی محبت کے بہکاوے میں یہاں تک لائیں گئیں تھیں،بری طرح رورہی تھیں۔
“کتنے پیسے دے رہی ہے بڑھیا ۔۔۔۔؟
اگر تو کوٹھے سے اچھے پیسے ملے تو ٹھیک نہیں تو ان سب کو دبئی سمگل کر کہ اچھا منافع کمایا جا سکتا ہے ۔۔۔کیوں بذل ؟؟؟؟
جی سر اور اس شخص کے آگے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
کیا کہتے ہو تم ؟؟؟سر کوٹھے پر پہلے بھی کئی لڑکیاں بیچ چکے ہیں مگر میرا خیال ہے دبئی والا آپشن بیسٹ ہے ۔۔۔۔
واہ میرے چیتے!!!!شاباش ۔۔۔۔وہ اس کی کمر پر تھپکی دے کر بارعب آواز میں بولا۔۔۔۔۔
تمہیں اپنے گینگ میں شامل کر کہ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی ۔۔۔۔
جاؤ آج اسی خوشی میں سارا دن ریسٹ کرو اور جشن مناؤ ۔۔۔۔یہ لو ۔۔۔۔۔
اس بھدے اور حبشی کی طرح دکھنے والے لمبے چوڑے انسان نے ایک امپورٹڈ شراب کی بوتل اس کی طرف پھینکی۔۔۔
جسے بذل نے ایک ہی جست میں کیچ کر لیا۔۔۔۔۔
بذل وہاں سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
اور کلب کے اوپری منزل پر بنے کمروں میں سے ایک میں چلا گیا ۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تقی صبح ہوتے ہی یونی کے لیے نکل چکا تھا اس کے فائنلز سٹارٹ ہونے والے تھے۔۔۔۔
اسلام وعلیکم!!! ادا کمرے سے نکل کر باہر آئی تو طمر میڈ سے ناشتے کے برتن اٹھوا رہی تھی سب ناشتہ کر کہ جا چکے تھے۔۔۔
“وعلیکم السلام!
آؤ بیٹا بیٹھو ۔۔۔۔
تمہارے لیے کیا ناشتہ بنواوں ؟؟؟ناشتے میں کیا کھانا پسند ہے تمہیں ؟؟؟طمر نے لہجے میں پیار سموئے ہوئے پوچھا۔
“آنٹی کچھ بھی دے دیں ۔۔۔۔”آنٹی کیوں ؟؟؟
ماما بولو جیسے تقی بولتا ہے مجھے اچھا لگے گا۔۔۔۔۔
“جی اچھا “
“آنٹی ۔۔۔اوہ۔۔۔۔میرا مطلب تھا ماما کیا میں ہاسٹل جا سکتی ہوں مجھے وہاں سے اپنا کچھ سامان لینا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں واپس آ جاؤں گی۔۔۔۔۔
طمر اس کی بات سن کر پہلے تو شش وپنج میں مبتلا ہو گئی۔۔پھر مسکرا کر کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا تم ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ لے آؤ ہاسٹل سے چیزیں۔۔۔۔
“اوہ ۔۔۔۔یو آر سو سویٹ ماما ۔۔۔۔وہ ان کے گال کو چوم کر پیار سے بولی۔۔۔۔
طمر نے بھی اس کا گال تھپتھپاکر کر مسکرادیا۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“یہ لو ۔”اس نے ہاتھ میں موجود کاغذات اس کی طرف بڑھائے۔۔
“یہ کیا ہے ؟”
تعبیر نے اچنبھے سے کاغذات کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“خودی دیکھ لو “وہ سپاٹ انداز میں بولا۔
“وہ کاغذات کھول کر دیکھنے لگی ۔۔جب دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین کرنا ناممکن لگا۔۔۔۔۔”تم ایسا کیسے کر سکتے ہو ؟؟؟؟وہ اس کا کالر پکڑ کر چلائی۔۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔اب تم مجھے چھونے یا ذلیل کرنے کا حق کھو چکی ہو ۔۔۔
“میں نہال شاہ آج اپنے پورے ہوش و حواس میں تعبیر تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔
اس نے یہ لفظ مزید دو بار دہرائے۔۔
“نہیں نہال میرے ساتھ ایسا مت کرو ۔۔۔وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر زور سے چیخی۔۔
مگر جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔۔۔۔
“تم جانتے نہیں تم نے میرے علاؤہ خود پر بھی ظلم کیا ہے ۔۔۔۔۔۔”
پاپا کی یہ شرط تھی کہ اگر تم نے مجھے طلاق دی تو یہ سب یہ گھر ،جائداد سب کچھ نیلام ہو جائے گا اور پیسے ٹرسٹ میں چلے جائیں گے۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ ساتھ تم بھی سڑک پر آجاؤ گے۔۔۔۔۔نہایت ہی گھٹیا انسان نکلے تم ۔۔۔۔۔۔
وہ حقارت آمیز انداز میں بولی۔۔۔۔۔
“اپنے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟؟وہ بھی سرد لہجے میں پوچھ گیا۔۔۔۔۔
“آج یہ بات ثابت ہو گئی ۔جو جیسا ہو اسے ویسا ہی ملے گا۔۔۔۔۔میں نے تمہیں دھوکا دیا بدلے میں مجھے بھی دھوکا ملا۔۔۔۔۔
تم نے ساری عمر جھوٹ بولا۔۔۔۔۔
“تم جانتی ہو تمہاری وجہ سے میں کتنی زندگیاں برباد کر گیا۔۔۔۔۔صرف اور صرف تمہارے اک جھوٹ سے۔۔۔۔
وہ شکستہ لہجے میں بولا۔
اب مزید مجھ میں سکت نہیں اس دوغلے اور جھوٹھے رشتے کو نبھانے کی ۔۔۔۔اور اس کے نتیجے میں چاہے میں سڑک پر کیوں نا آجاؤں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔
“کچھ تو تم جیسی انا پرست عورت کو بھی تو سزا ملے ۔۔۔۔مگر میں کسی کو سزا دینے والا کون ہوتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
“مجھے میری باقی ماندہ زندگی میں صرف دو چیزوں کی خواہش ہے ایک تو اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلبگار ہوں اور دوسرا اپنی بیٹی سے ۔۔۔یہ کہتے ہوئےوہ رنجیدا ہوا۔۔۔۔۔
مرنے سے پہلے ایک بار اس سے اپنے لیے کی معافی کا خواستگار ہوں۔۔۔۔۔۔
“ہر بچھڑنے والا رشتہ ہمارے جسم میں موجود ایک احساس کو مردہ کر جاتا ہے ،
کیوں کہ کچھ لوگ ہمارا یقین مار جاتے ہیں،
کچھ اعتماد ،کچھ خوشیاں ،کچھ پیار اور کچھ ہماری اصل شخصیت۔۔۔۔
وہ یہ کہتا ہوا شکستہ قدموں اور ڈھیلے وجود سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
تعبیر نڈھال وجود لیے وہیں ڈھ گئی۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
آپ یہاں ہی گاڑی روک دیجیے۔۔۔۔۔
وہ ہاسٹل کے سامنے ڈرائیور کو گاڑی کھڑی کرنے کو بولی۔۔۔۔
“جی میڈم “وہ مؤدب انداز میں بولا
وہ اندر بڑھ گئی۔۔۔۔۔
اپنے ہاسٹل کے کمرے میں جا کر وہاں سے کچھ پیسے لیے اور دوسرے راستے سے وہ دوبارہ وہاں سے باہر نکلی اور ایک رکشہ کو روکتے ہوئے ایک ایڈریس بتایا ۔۔۔۔
رکشہ ڈرائیور نے رکشہ کو اسی سمت موڑ دیا ۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے کی مسافت طے کیے وہ ایک عجیب وغریب جگہ کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
جگہ کا نام پڑھتے ہوئے بھی اسے شرم نے آگھیرا ۔۔۔۔۔
مگر مرتی کیا نا کرتی کے مصداق وہ اندر چلی گئی۔۔۔۔
“اس نے مجھے یہاں کیوں بلایا ؟؟؟وہ سوچنے لگی مگر سوچنے کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا۔۔۔۔
تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے وہ ایک جگہ رکی۔۔۔۔
پلیز مجھے بتا دیں کہ بذل آفندی کہاں ملیں گے ؟؟؟
اس نے بالآخر ہمت کیے پاس سے گزرتے ایک شخص سے پوچھا ۔۔۔۔
وہ اوپر والے فلور پر روم نمبر 22میں ہیں۔۔۔
وہ راہداریاں کراس کرتے ہوئے دروازے تک پہنچی ۔۔۔۔
اور دروازہ کو باہر سے ناک کیا۔۔۔۔
“کون ہے ؟”اندر سے بذل کی بھاری آواز آئی۔۔۔۔
ادا نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ چرررررر کی آواز سے اپنے آپ کھل گیا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
ہیلو مام ! اس نے آتے ہی خوشدلی سے کہا۔
“ہیلو مائی ہینڈسم سن”جوابا طمر نے بھی مسرور انداز میں کہا ۔
“آج یونی سے اتنی جلدی واپسی خیر تو ہے ؟طمر اپنے بیٹے تقی کو مسکرا کر چھیڑتے ہوئے بولی۔
وہ خجالت سے کان کھجانے لگا ۔۔۔
“وہ کیاہے نا مام آپ کی بہو کی یاد آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“اچھا جی اسی لیے جلدی واپسی ۔۔۔۔۔
میں نے سوچا کیوں نا اسے تھوڑی سی شاپنگ کروا دوں ۔۔۔۔۔
“پر وہ تو گھر نہیں۔۔۔۔
کیا ؟؟؟کدھر گئی وہ مام؟ ۔۔۔۔وہ پریشان ہوتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا ۔۔۔
“بیٹا وہ کہہ رہی کہ اسے ہاسٹل سے کچھ ضروری سامان چاہیے تو میں نے کہہ دیا کہ ڈرائیور کے ساتھ جا کر لے آئے۔۔۔
“مام آپ نے اسے جانے ہی کیوں دیا۔۔۔۔؟
کیا تقی اب میں اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتی کہ اسے اجازت دے سکوں ۔۔۔وہ خفگی بھرے انداز میں بولی۔
“نہیں مام ایسی بات نہیں پلیز ناراض مت ہوں ۔۔۔۔اب میں انہیں یہ کیسے بتاؤں کہ ان کی بہو نے مجھ سے خوشی سے شادی نہیں کی۔۔۔ بلکہ۔۔۔۔اور وہ بے وقوفی میں کوئی الٹا سیدھا قدم نہ اٹھا لے ۔۔۔۔۔مگر یہ بات وہ صرف سوچ ہی سکا ۔۔۔۔
مام آپ ہم سب کی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے کا پورا اختیار رکھتی ہیں ۔۔۔۔بس وہ تھوڑی عقل سے پیدل ہے آپ کی بہو اسی لیے کہا۔۔۔۔
“پلیز مام ناراض نا ہونا پلیزززززز۔۔۔۔
“ارے نہیں ہوتی ۔۔۔۔جاو دیکھو اسے جا کر ۔۔۔
لو یو مام ۔۔۔۔۔۔وہ زور سے انہیں گلے لگا کر چھوڑتا ہوا باہر کی طرف بھاگا۔۔۔۔
اوہ ڈرائیور انکل ۔۔۔۔۔؟
اس نے فون سے کال ملائی۔۔۔
دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لی گئی۔۔۔۔
“ہیلو ڈرائیور انکل کہاں ہیں آپ اس وقت ؟
بیٹا میں ہاسٹل کے باہر کھڑا ہوں بٹیا کا انتظار کر رہا ہوں ایک گھنٹے سے ابھی تک باہر نہیں آئی ۔۔۔
تقی کا اس بات پر ماتھا ٹھنکا۔۔۔۔۔
آپ پلیز اندر جا کر پتہ کریں کہاں ہے وہ ۔۔۔جیسے ہی کچھ پتہ چلے مجھے کال بیک کریں ۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔
تقی نے ابھی فون پاکٹ میں ڈالا ہی تھا کہ میسج نوٹیفکیشن آئی ۔۔۔۔اس نے میسج نوٹیفکیشن اوپن کر کہ دیکھی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
وہ سامنے بستر پر نیم دراز تھا ۔۔۔۔بھوری آنکھوں میں سرخی تھی ۔۔۔۔شراب کی بوتل ایک ہاتھ میں پکڑے ہوئے وہ نشے میں تقریباً دھت تھا۔۔۔۔۔
“دروازہ لاک کردو “اس کی گھمبیر آواز کمرے میں گونجی۔۔۔۔۔
ادا نے ڈرتے ہوئے اس کے کہنے پر دروازے کو لاک لگایا ۔۔۔۔
اس موقع پر کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ !
“تھکن تو ہو گی جب تم اس کو قبول نہیں کرو گے جس کا رخ تمہاری طرف ہوگا ۔
اور بھاگ اس کی طرف جا رہے ہو جس کی پشت تمہاری طرف ہے ۔۔۔
یاد رکھو جو تمہاری طرف آتا ہے وہ بھیجا گیا ہے،
اور جو تم سے دور جائے وہ تم سے تمہاری بھلائی کے لیے ہٹایا گیا ہے۔
پس اگر تم خود اس گھڑے میں گرنے کو تیار ہو تو کوئی تمہیں روک نہیں سکتا”””
“ادھر آؤ میرے پاس “””””
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اس جگہ پر آتے ہوئے اس نے خود کو مردوں کی عجیب و غریب نظروں سے بچانے کے لیے سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا جو ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتی تھی۔۔۔
بذل نے اس کا سر تا پا جائزہ لیا۔۔۔
سفید اور سرخ کیپری اور شرٹ میں ملبوس سر پر دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا اٹھا ۔۔۔۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔۔۔۔
نشے میں ایک بھی دو دو دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر کے دوبارہ سے کھولیں۔۔۔۔
“بدرا ” وہ بے یقینی سے اس کے گال کو چھو کر خمار ذدہ آواز میں بولا ۔۔۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں بذل میں ادا ہوں ۔۔۔مجھے آپ سے مدد چاہیے ۔۔۔۔پلیز مجھے نکالیں وہاں سے ۔۔۔۔۔۔میں اب وہاں واپس نہیں جانا چاہتی ۔۔۔۔
وہ منت بھرے انداز میں بولی۔۔۔۔
مگر مقابل ہوش میں ہوتا تو اس کی بات سنتا۔۔۔۔۔وہ بے اختیار ہوا بدرا کو دیکھ کر
اس کی نظرصرف دکھائی دیتا ہوئے چہرے پر تھی سنائی کچھ نا دے رہا تھا۔۔۔۔
وہ پوری طرح مدھوش کن نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“”بدرا آج پوری طرح میری ہو جاؤ ۔۔۔وہ اس کھینچ کر بستر پر گراتا ہوا اس پر جھکا ۔۔۔۔
“پیچھے ہٹیں پلیز ۔۔۔ادا اس کی مضبوط ترین گرفت میں زخمی چڑیا کی مانند پھڑپھڑا رہی تھی۔۔۔۔۔
