367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 22

“نہال شاہ کہاں ہو تم ؟
تعبیر نے اسے فون پر پوچھا۔
“میں کسی کام سے باہر آیا تھا ،کیوں کیا بات ہے ؟؟؟
“نہال فورا گھر آؤ ایمرجنسی ہو گئی ہے ۔۔۔۔
“مگر ہوا کیا ہے کچھ بتاؤ بھی؟
“نہال ادا کو کسی نے اغوا کر لیا ہے ۔۔۔
“کیا کہہ رہی ہو تم ؟؟؟
“میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔۔تم بس جلدی گھر پہنچو ۔۔۔۔پھر ساری بات بتاتی ہوں ۔
“سر !یہ لیں آپ کی رپورٹس …..
اس نے نہال کی طرف ایک لفافا کیا۔۔۔۔
نہال نے اس سے رپورٹس لے کر کھولیں اور پڑھنے لگا۔۔۔۔
جوں جوں وہ رپورٹس پڑھتا چلا جا رہا تھا اس کی پیشانی پر شکنوں کا جال بھی پھیلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
وہ رپورٹس واپس لفافے میں ڈال کر گاڑی تک آیا اور گھر روانہ ہوا۔۔۔۔۔
“اچھا ہوا نہال تم آگئے۔۔۔۔۔تعبیر بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر فورا بولی۔
“ابھی کچھ دیر پہلے کال آئی تھی۔۔۔۔۔۔تعبیر نے کال پر ہوئی تمام گفتگو اس کے گوش گزار کردی۔۔۔؟
وہ وہیں صوفے کی پشت پر سر رکھ کر آرام دہ انداز میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
“آج خود کو یوں تنہا محسوس کر رہا ہوں جیسے لوگ دفنا کر اکیلا چھوڑ گئے ہوں۔
“کیا پایا اس زندگی میں ؟؟؟جو پایا اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔۔۔۔تہی داماں رہ گیا آج میں اپنی غفلتوں سے۔۔۔۔۔
“میں نے اگر تعبیر کو دھوکہ دیا تو اس نے بھی بدلے میں پلٹ کر مجھے دھوکا ہی دیا۔۔۔۔
شاید میں اسی قابل تھا۔۔۔۔طمر کی بدعا لگی مجھے میں نے اس پر یقین نا کر کہ اس پر نہیں بلکہ خود کے پیار پر شک کیا۔۔۔۔۔میں نے تمہاری قدر نہیں کی طمر ،تمہارے سچے جذبات کی تمہاری چاہت و خلوص کی۔۔۔۔
قدر تو وہ ہوتی جو کسی کے رہتے ہوئے کی جائے ،جو کسی کے جانے کہ بعد کی جائے وہ قدر نہیں ،وہ صرف پچھتاوا ہے ،،،،صرف پچھتاوا۔۔۔۔۔۔
“چلو نہال ۔۔۔کس سوچ میں گم ہو؟”وہ اسے یونہی بے سدھ پڑے دیکھ کر تیز آواز میں بولی۔
“وہاں میری بیٹی کو کسی نے اغوا کر رکھا ہے اور تم کتنے سکون سے آنکھیں موندے بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔
“میں اپنے خود کے خون کے ساتھ کتنا برا کر گیا ۔۔۔۔کیا کیا نہیں کہا میں نے اسے ۔۔۔۔۔کیسے سامنا کر پاؤں گا اس کا ؟؟؟؟
شاید میں کسی یتیم کی مدد کر کہ خدا کے آگے سرخرو ہو جاؤں ۔۔۔۔میری غلطیاں میرے گناہ تو بہت بڑے ہیں۔۔۔۔شاید اسے بچا کر میں اپنی گناہوں میں کچھ کمی کر لوں ۔۔۔
اس نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے خود سے کہا۔۔۔۔
اور اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔۔
وہ تعبیر کی کسی بھی بات کا جواب دئیے بنا اس کے ساتھ چلنے لگا۔۔۔۔
“یہ فون پر اس نے لوکیشن سینڈ کی ہے دیکھ لو یہاں جانا ہے “
تعبیر نے فون اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اس نے ایک نظر میں ایڈریس پڑھ کر گاڑی کا رخ اسی جانب کیا۔۔۔۔
“کچھ تاوان وصول کرنے کا کہا ہے؟؟؟
وہ ٹہرے ہوئے انداز میں بولا۔
“نہیں پیسوں کی تو کوئی بات نہیں کی ۔۔۔تعبیر سوچتے ہوئے بولی۔
“پھر اغوا کرنے کا مقصد ؟؟؟
نہال نے سپاٹ آواز میں پوچھا۔
“مجھے کیسے پتہ ہوگا یہ تو وہاں جا کر ہی پتہ چلے گا۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“بانی یار کہاں ہے تو ؟؟؟”
“ادھر ہی میں نے کدھر جانا ہے “,
“تیری آواز آج بڑی کِھل رہی ہے خیر تو ہے ؟؟؟
اس نے تجسّس آمیز لہجے میں پوچھا ۔۔۔
“ہاں یار وجہ تو ہے میری خوشی کی اور بہت بڑی وجہ ہے ۔۔۔تو سنے گا تو ضرور شاک رہ جائے گا۔۔۔۔۔”
“کہیں کوئی کوئی لڑکی تو نہیں پسند آگئی میرے استاد کو “؟”
“وہ تو بہت پہلے سے تھی ۔۔۔۔۔
“یار استاد یہ تو ناراضگی والی بات کردی ۔۔۔مجھے ہوا تک نہ لگنے دی۔۔۔۔۔۔
اس کے لہجے میں ناراضگی کا عنصر واضح تھا۔
“اچھا ناراض مت ہو ۔۔۔۔اب یہ بتا نکاح میں شرکت کرے گا؟؟؟
“یار استاد تم تو بڑے فاسٹ نکلے۔۔۔۔۔پہلے چپ چاپ لڑکی پسند کر رکھی تھی اور اب سیدھا نکاح کا دھماکہ۔۔۔۔۔
“ہاں یار بس کچھ ایسا ہی سمجھ لے ۔۔۔۔خدا جب مہربان ہونے پر آتا ہے تو یونہی نوازتا ہے۔۔۔۔
“بہت خوش ہوں تیرے لیے۔۔۔تو خوش تو میں خوش ۔۔۔۔۔وہ مسرور انداز میں بولا
“کیسی ہیں بھابھی ؟؟؟؟
“تم ملو گے تو دیکھ لینا ۔۔۔۔۔
“مضربان ایک فیور چاہیے تھی تم سے ۔۔۔۔
“بول نا استاد ۔۔۔۔۔میرے سامنے ہچکچاہٹ کچھ جچتی نہیں ۔۔۔۔دل کھول کر بول بندہ حاضر ہے کسی بھی قسم کی خدمت کے لیے۔۔۔۔
“آج ہمارا نکاح ہے اور تیری بھابھی کی طرف سے کوئی ولی نہیں۔۔۔۔اور تجھے تو پتہ ہے بغیر ولی کے نکاح سنت ِرسولٌ کے مطابق جائز نہیں۔۔۔۔
اس کا کوئی بھی رشتہ دار نہیں۔۔۔۔
I know about her….she will feel so lonely at that time….
نا باپ اور نا بھائی۔۔۔۔اگر تم اس کے بھائی کی حثیت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اتنا کہہ کر رکا اس کے ردعمل کے انتظار میں۔۔۔۔
“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔۔۔دراک میں خود اپنی بہن کو کھو چکا ہوں ۔۔۔۔اگر کسی کے کام آؤں تو کیا پتہ اس کی دعا سے میری بہن بھی مجھے مل جائے”۔۔۔۔
اس کے لہجے میں درد محسوس ہوا دراک کو۔۔۔۔
“کونسی بہن ؟؟تم تو صرف دو بھائی ہو ۔۔تم نے مجھے تو کبھی بتایا ہی نہیں اپنی بہن کے بارے میں” ۔۔۔۔۔
“بہت لمبی کہانی ہے کبھی فارغ وقت میں ملیں گے تو شئیر کریں گے۔۔۔۔
ابھی میں آفس میں ہوں “۔۔۔۔
“تم نے آفس جوائن کر لیا ؟تو سٹڈیز کا کیا بنا۔۔؟
“وہ بھی جاری ہے کچھ نا کچھ سلوشن نکل آئے گا۔۔۔۔۔
ویسے بھی میرا استاد کس کام آئے گا۔۔۔۔پیپرز میں مجھے امپورٹینٹ کوئیسچن کا گیس دے گا۔۔۔۔۔
“تم تو خود بہت ذہین اور بریلینٹ سٹوڈنٹ ہو ۔۔۔پھر گیس کیوں ؟؟؟؟
عشق نے غالب نکما کردیا۔
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے۔
مضربان نے شعر پڑھا۔۔۔۔۔
“اوہ !!!!تو جناب کو بھی عشق کے کیڑے نے کاٹ لیا…….
“جب استاد آگے نکل جائے تو سٹوڈنٹ کیوں پیچھے رہے ؟؟؟۔۔۔۔
یار یہ بزنس مین پتہ نہیں کیسے سر کھپاتے ہیں میں تو کچھ ہی دنوں میں پاگل ہو کر رہ گیا ہوں ۔۔۔اکیلا ہوں نا۔۔۔۔بابا بھی گھر پہ ہیں۔۔۔۔
میں بھی تمہیں کہاں اپنی دکھی داستان سنانے لگ گیا۔۔آپ جناب تیاریاں کریں ۔۔۔۔۔
چل ٹھیک ہے یار ۔۔۔۔وقت پر پہنچ جانا ۔۔۔۔اچھی تیری ہونے والی بھابھی کو کھانا بھی کھلانا ہے۔۔۔۔۔دراک بولا
ڈونٹ وری استاد ۔۔۔۔پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔
“ہماری تو کبھی خدمتیں نہیں کیں ۔۔۔۔وہاں کیسے جی حضوری کی جا رہی ہے۔۔۔مضربان میٹھا سا شکوہ کر گیا۔۔۔۔
“تیری بھی آنے دے پھر پوچھوں گا تجھ سے۔۔۔۔
“”پوچھ لینا جی حضوری کرنے کی بجائے اس کے ناک کی لکیریں نا لگوا دیں تو میرا نام بھی مضربان گردیزی نہیں۔۔۔۔وہ تفاخر بھرے انداز میں بولا۔۔۔۔
دراک نے ڈی۔ایس۔ پی۔ صاحب اور ایس۔ پی۔عمیر کو بھی نکاح میں شرکت کے لیے اپنی طرف سے مدعو کیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ فون بند کرتے ہوئے کچن کی طرف آیا۔۔۔۔اور بازار سے منگوایا ہوا کھانا مائکرویوو اوون میں گرم کیے ۔۔۔ٹرے میں رکھ کر باہر آتےہی دروازے پر ناک کیا۔۔۔۔۔
“آجائیں۔۔۔۔اندر سے اس کی آواز آنے پر دروازہ واہ کیے اندر آگیا۔۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی جب اس کی نظر سامنے کھڑی ہوئی بدرا پر پڑی تو۔۔۔۔۔۔
“ہا۔۔۔ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔ایک جاندار قسم کا قہقہہ لگایا۔۔۔۔
بدرا اس کے اس طرح ہنسنے سے چہرے پر مصنوعی غصہ سجائےہوئے نظریں پھیر گئی۔۔۔۔
“اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ؟؟؟؟
وہ جو آج جانے کتنے عرصے بعد یوں کھل کر ہنسا تھا۔۔۔۔۔
یکدم خاموش ہوا اس کی خفگی کے ڈر سے۔۔۔۔
اور ایک تفصیلی نگاہ اس کی موجودہ حالت پر ڈالی۔۔۔۔۔
وہ اس وقت دراک کے Addidas کے بلیک ٹراؤزر جس کے پائنچوں کو موڑ کر چھوٹا کیا گیا تھا ۔۔۔۔اور بلیو ٹی شرٹ جس کی لمبائی اس کی تھائی تک تھی۔۔۔۔اس کی ہاف سلیوز سے دودھیا بازو نمایاں ہو رہے تھے۔۔۔۔
دراک کی ہی اجرک خود پر لیے وہ عجیب و غریب نمونہ ہی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔
“پہلی دلہن دیکھی ہے جو اپنے نکاح پر ٹراؤزر اور شرٹ پہنے گی۔۔۔۔۔۔
وہ بات میں مزاح کا رنگ بھرے ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
“بدرا نے ناک سکوڑی جس میں چاندی کی باریک سی تار پہن رکھی تھی۔۔۔۔
“مجھے اس جگہ کا کوئی کپڑا اپنے جسم پر نہیں چاہیے۔۔۔۔ان کپڑوں سے تو یہ ہزار درجے بہتر ہیں۔۔۔۔۔وہ کوٹھے سے پہنے ہوئے کپڑوں کے بارے میں بولی۔۔۔۔تو دراک خاموش رہا۔۔۔۔
“تمہارے لیے کھانا لایا تھا کھا لو ۔۔۔۔
وہ پاؤں کے زخموں کی وجہ سے لڑکھڑا کر چلتی ہوئی بستر پر بیٹھی۔۔۔۔
بستر سے کیوں اتری ابھی زخم پوری طرح سے مندمل نہیں ہوئے ۔۔۔۔
“دوبارہ سے آئنٹمینٹ لگائی ؟؟؟؟
“نہیں “
“کوئی حال نہیں تمہارا”وہ تاسف سے سر ہلا کر بولا۔۔۔۔
سائیڈ ٹیبل پر موجود ادویات میں سے آئینٹمینٹ نکال کر اس کے پاس آیا اور بستر سے نیچے لٹکتے ہوئے اس کے دونوں پاؤں اٹھا کر اوپر رکھے۔۔۔۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟میں خود ہی کر لوں گی۔۔۔۔
اس نے گریز پا لہجے میں کہا ۔۔۔
“خاموشی سے بیٹھ جاو۔۔۔۔مجھے میرا کام کرنے دو۔۔۔۔۔اس نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔
“وہ مرہم لگا کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد ہاتھوں کو دھو کر باہر آیا تو کھانے والی ٹرے اس کے سامنے رکھی ۔۔۔
“جلدی سے اسے ختم کرو ۔۔پھر کچھ ہی دیر میں سب آنے والے ہیں ۔۔۔میرے کچھ کولیگز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ہمممممم۔۔۔۔۔۔وہ سوچتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
تمہارے زخموں کی وجہ سے تم باہر چل کر نہیں آپاو گی۔۔۔
“اور سب کے سامنے اپنی ہونے والی دلہن کو بانہوں میں بھر کر باہر لانا تھوڑا آکورڈ لگے گا۔۔۔۔
وہ اس کی بات پر سر جھکا گئی۔۔۔۔۔
ایسا کرتے ہیں تم یونہی بستر پر کمفرٹر اوڑھے بیٹھے رہنا ۔۔۔سب کو پتہ ہے کہ تمہیں چوٹ آئی ہے۔۔۔۔
اس طرح سے یہ حلیہ بھی چھپ جائے گا۔۔۔۔
وہ حل پیش کرتے ہوئے بولا۔
“جی ٹھیک ہے “وہ خاموشی سے سر جھکائے ہوئے کھانا کھانے لگی۔۔۔۔۔
باہر اتنے کام پڑے ہیں کھانے کی ارینجمینٹس اور سٹنگ کا کام بھی رہتا ہے۔۔۔۔۔
جاتے ہوئے پلٹا۔۔۔۔۔
“سوری”وہ معزرت خواہانہ انداز میں بولا۔
“وہ کس لیے ؟وہ پہلا لقمہ منہ میں ڈالنے کے بعد اسے ختم کرتے ہی بولی۔۔۔
“ایسے موقعوں پر لڑکیوں کے بہت سے ارمان ہوتے ہیں ایسا ڈریس پہنے گی ویسا پہنیں گی۔۔۔۔مگر یہ سب اتنی جلدی ہو گیا کہ مجھے کچھ بھی کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔۔۔میں نے سوچا ہی نہیں اس بارے میں۔۔۔اب تو سب مہمان آنے والے ہوں گے اب تو باہر جانا ممکن نہیں۔۔۔۔
میں تمہارے لیے کل شاپنگ کر لاؤں گا۔۔۔۔
“آپ اتنی صفائیاں کیوں دے رہے ہیں میں نے آپ سے کچھ کہا کیا؟؟؟
“نہیں نا تو پھر ریلیکس ہو جائیں۔۔۔۔
صبح سے لے کر اب تک وہ بچپن کے کئی خوبصورت دن جو انہوں نے اکٹھے گزارے تھے انہیں یاد کر کہ ہلکی پھلکی گفتگو کے زریعے بدرا کو کافی حد تک ٹراما سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔۔
اسی لیے اب وہ نارمل انداز میں اس سے بات کرنے لگی تھی۔
“خالہ کہاں ہیں ؟؟؟؟اس نے دراک کی والدہ صندل کے بارے میں پوچھا۔
“She was a patient of Asthma….
وہ تو اماں بی سے کئی سال پہلے ہی مجھے چھوڑ کر جا چکی ہیں جب میں کالج میں تھا۔۔۔۔۔
I am really very sorry…..
وہ سر جھکائے ہوئے بولی۔۔۔
“یہ گھر کس کا ہے ؟؟؟وہ کمرے میں نظر دوڑاتی ہوئی کچھ دیر بعد بولی۔۔۔
“یہ حکومت کی طرف سے ملا ہے مجھے۔۔۔۔”
“یہ گھر ہی نہیں گاڑی بھی اور اس کے ساتھ ڈرائیور اور گارڈز بھی۔۔۔۔پولیس بھی ۔۔۔۔وہ نہایت متانت اور عاجزی سے بولا۔۔۔۔
“تمہیں پتہ ہے یہ سب کس کی بدولت ملا۔۔۔۔یہ مجھے میری ماں کی دعاؤں اور تمہارے ۔۔۔۔۔۔وہ کہتے ہوئے درمیان میں رکا۔۔۔۔
“اور میرے کیا ؟؟؟وہ تجسس سے پوچھ گئی۔۔۔
“اس بات کو مکمل تب اچھے سے کروں گا جب تمہارے جملہ حقوق اپنے نام لکھوا لوں گا۔۔۔۔۔
وہ اپنے ڈمپلز کی نمائش کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
اس کی بات کی تہہ تک پہنچتے ہی بدرا کے گالوں پر سرخیاں ُگھلیں۔۔۔۔۔
“ابھی تو آپ کو اتنے کام تھے جائیں جا کر انہیں نبٹائیں۔۔۔۔وہ خفت مٹانے کے لیے زرا سی سختی لہجے میں لاتے ہوئے بولی۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
انہیں وہاں پہنچتے ہوئے تقریبآ شام کے پانچ بج چکے تھے۔۔۔۔
گاڑی کو لاک کیے وہ نیچے اترے۔۔۔۔
یہ ایک بلڈنگ تھی ۔۔۔۔جہاں فلیٹس بنے ہوئے تھے۔۔۔۔
نہال شاہ نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے جائزہ لیا۔۔۔۔
عام لوگوں کی چہل پہل تھی۔۔۔۔
کہیں سے بھی کوئی خفیہ اڈا نہیں لگا۔۔۔۔
تعبیر کے موبائل پر پھر سے بیل ہونے لگی۔۔۔
وہ نمبر دیکھ کر نہال شاہ نے تعبیر کے ہاتھ سے موبائل لے کر یس کا بٹن پریس کرتے ہوئے فون کان سے لگایا۔۔۔۔
“اس سے پہلے کہ نہال شاہ کچھ بولتا۔۔۔سپیکر سے آواز ابھری۔۔۔۔
“اسی بلڈنگ میں اوپر آؤ سولہویں فلور پر ۔۔۔
اور بنا کسی کو شک ہوئے ۔۔۔۔۔
ساتھ ہی فون بند ہوا۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں لفٹ سے سولہویں فلور پر آئے تو وہاں موجود فلیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔۔۔تو دھاڑ کی آواز سے دروازہ واپس بند ہوا۔۔۔۔۔۔
“سر پلیز “دروازے کے پاس دو شخص کھڑے جنہوں نے بلیک سوٹ اور بلیک ہی ماسک پہن رکھے تھے ۔۔۔۔اس سے بولے۔
“ان دونوں کے موبائل اپنی تحویل میں لے لو تاکہ یہ دونوں کوئی بھی ہوشیاری نہ کر پائیں۔۔۔۔۔
اندر موجود ایک شخص نے سرد آواز میں اپنے ساتھیوں کو حکم دیا۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنے موبائل اسے پکڑائے اندر آئے۔۔۔۔
“کہاں ہے میری بیٹی ؟؟؟”تعبیر نے اس شخص سے پوچھا۔۔۔۔
“ابھی ملوا دیتے ہیں جلدی کیا ہے ؟؟؟وہ گن کو ایک انگلی پر گھماتے ہوئے سرسراتے ہوئے انداز میں بولا۔۔۔۔
وہ سامنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
ادا جو جانے کب سے بے ہوش تھی دروازہ کھلنے کی آواز سن کر ہوش میں آئی ۔۔۔اور مندی آنکھوں کو کھول کر دیکھا۔۔۔۔
تو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات ذہن کے پردے پر تازہ ہوئے۔۔۔۔
“کون ہو تم اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو ؟؟؟وہ خوف کے زیر اثر لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔
“باہر چل سب پتہ چل جائے گا۔۔۔۔
وہ اس کی کلائی پکڑے گھسیٹتا ہوا باہر کی طرف لے جانا لگا۔۔۔۔اور وہ بے جان گڑیا کی مانند اس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی۔۔۔۔۔
اس نے ادا کو نہال اور تعبیر کے پاس لا کر چھوڑا۔۔۔۔۔
“یہ لو جی بھر کر مل لو آخری بار ۔۔۔۔
اس کی بات پر تعمیر اور نہال شاہ دونوں کی فختائیاں اڑیں۔۔۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو ؟؟؟دونوں حواس باختہ ہو کر بیک وقت بولے۔۔۔۔
جبکہ ادا دم سادھے کھڑی رہی۔۔۔۔۔
دس منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس۔۔۔۔۔
وہ فون لیے دوسری سمت گیا۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تقریباً سب پہنچ چکے تھے دراک ڈارک بلیو کلر کی شلوار قمیض پہنے ہلکی سی بئیرڈ میں کف فولڈ کیے ڈرائنگ روم میں گیا جہاں ڈی ایس۔پی جواد نقوی کی زوجہ اور ہمراہ ان کے بچے اور ایس پی عمیر بھی اپنی بیوی کے ساتھ مدعو تھا۔۔۔۔۔
اسی کے شعبے کے دیگر افراد وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
مولانا صاحب نے آکر نکاح کا فارم فل کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔۔
بدرا کے کہنے پر والد کے نام میں ہمیشہ کی طرح سکندر شاہ کا نام ہی لکھوایا جیسے وہ نے تعلیم کے دوران لکھواتی تھی۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم! کانگریچولیشنز!!!!!مضربان نے دراک سے گلے مل کر خوشدلی سے کہا۔۔۔۔
“وعلیکم السلام! زرا اور دیر سے آتا جب نکاح ہو جاتا۔۔۔۔دراک نے اس کے لیٹ آنے پر شکوہ کیا۔۔۔۔۔
“سوری یار “بس ٹریفک میں ۔۔۔۔۔
زیادہ بہانے مت بنا۔۔۔۔یہ ٹریفک میں پھنسنے کا بہانہ بہت پرانا ہے ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ صوفہ پر بیٹھے۔۔۔۔۔
ڈی ایس پی اور ایس پی دونوں کی بیویاں اندر بدرا کے پاس گئیں۔۔۔۔۔
نکاح کی رسم شروع ہوئی ۔۔۔۔
مضربان کے فون پر آتی ہوئی مسلسل تقی کی کالز ۔۔۔اس نے سکرین کو دیکھا ۔۔۔۔
Excuse me…..
وہ کہہ کر اٹھنے لگا ۔۔۔
سر دلہن کی طرف سے ولی کے سائن چاہیے۔۔۔مولوی صاحب نے کہا۔۔۔۔۔
“میں کروں گا سائن مضربان نے کہا ۔۔۔
مولوی صاحب نے کاغذات اس کے آگے کیے اور اسے ایک مخصوص جگہ پر انگلی رکھ کر بتایا کہ یہاں سائن کرنے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے پین ہاتھ میں لیے سائن کر گیا۔۔۔۔
دراک نے ممنون نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔وہ دراک کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اٹھا ۔۔۔
اور مرد حضرات کے پاس سے اٹھ کر زرا سائیڈ پر ہوا۔۔۔۔۔
“ہیلو !!!
“ہاں ہیلو یار بانی کہاں ہے تو؟؟؟تقی نے بے چین لہجے میں تیزی سے استفسار کیا۔۔۔۔۔
“دراک کے نکاح پر آیا ہوں ۔۔۔۔
“اس نے ایسے کیسے اکیلے نکاح کر لیا مجھے بلایا بھی نہیں ۔۔۔۔اچھا چل چھوڑ یہ سب مجھے تیری ضرورت ہے جلدی پہنچ ۔۔۔۔تقی نے کہا۔۔۔
” کیوں خیریت ہے ؟یہ اچانک سے میری ضرورت کیوں پڑ گئی۔۔۔۔
“پھر نا کہنا بھائی نے اکیلے نکاح کر لیا اور مجھے بلایا بھی نہیں ۔۔۔۔وہ ہنس کر بولا۔۔۔۔
“کمینے ہوش میں تو ہے تو کیا بول رہا ہے ؟؟؟
“یار مذاق نہیں کر رہا سیریس ہوں ۔۔۔۔
جلدی آ۔۔۔۔۔دس منٹ ہیں تیرے پاس۔۔۔۔
“کس کی قسمت پھوڑنے کا پلان ہے مضربان نے پوچھا۔۔۔۔
“سرپرائز ہے پہنچنے پر ملے گا میرے بھائی۔۔۔۔
تقی بابا کو پتہ چلا تو۔۔۔۔۔۔
“بانی کوئی بھی ٹینشن کری ایٹ نا کرنا انہیں بتا کر ۔۔۔۔۔دس منٹ میں پہنچ ورنہ تیرے بغیر ہی کر لوں گا۔۔۔۔۔
کہتے ہی اس نے کال کاٹی۔۔۔۔
“کہاں پھنس گیا ہوں یار میں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
جب تک وہ واپس گیا دونوں طرف سے ایجاب و قبول کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا اور سب دراک کے گلے لگے اسے مبارک باد پیش کررہے تھے۔۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو….مضربان نے بھی اس کے گلے لگے کہا۔۔۔۔
“خیر مبارک اب اللّٰہ پاک تمہیں بھی جلد ہی اس صف میں کھڑا کردے ۔۔۔۔
“کیوں ظلم کر رہا ہے ایسی دعا دے کر ۔۔۔۔کچھ دن آزادی سے جی لینے دے مجھ سے یہ سر درد نہیں لگائی جاتی ۔۔۔۔وہ منہ بسور کر بولا۔۔۔۔۔
مضربان نے پلیٹ میں سے ایک گلاب جامن نکال کر دراک کے منہ میں پورے کا پورا زبردستی ٹھونسا۔۔۔۔۔
دراک کے گارڈز اور ڈرائیور جو وہاں موجود تھے اپنے سوبر سے آفیسر کی اس کے دوست کے ہاتھوں درگت بنتے دیکھ مسکرا اٹھے۔۔۔۔۔
“اپنی بہن سے تو مل لوں ۔۔۔۔مضربان بولا۔۔۔۔
“ہاں آؤ اندر مل لو ۔۔۔۔۔
وہ دونوں اندر گئے تو ڈی ۔ایس۔پی کے بچوں نے اندر خوب دھما چوکڑی مچا رکھی تھی۔۔۔
جبکہ ان کی امائیں اس کی نئی نویلی دلہن کے گرد ڈیرہ جمائے بیٹھی تھیں۔۔۔۔
انہوں نے دراک کو اندر آتے دیکھ کر شرارت سے بدرا کے سر پر موجود دوپٹے کو کھینچ کر نیچے کر دیا اور گھونگھٹ کی طرح اوڑھا دیا۔۔۔
مضربان اور دراک اندر آئے ۔۔۔۔۔
مضربان نے بدرا کے قریب آکر اس کہ سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی دعائیہ کلمات ادا کرتا اس کے فون پر پھر سے تقی کی کال آتے دیکھ ۔۔۔۔پریشانی سے لب بھینچے دراک کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر نکلا۔۔۔۔
“کیا ہوا ؟؟؟؟دراک نے اسے پریشان دیکھ کر پوچھا۔۔۔
“یار تقی نے ضرور کوئی پنگا لیا ہے ۔۔۔۔اب مجھے کالز پر کالز کیے جا رہا ہے۔۔۔۔سوری یار جانا پڑے گا۔۔۔۔اپنی بہن سے پھر کسی دن مل لوں گا۔۔۔۔پرامس ۔۔۔۔۔
“اوکے یار کوئی بات نہیں ۔۔۔تم جاؤ دیکھو اسے ۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“آئیں آئیں مولانا صاحب!
ایک بزرگ شخص کو اندر آتے دیکھ کر وہ بولا۔۔۔۔۔
چلیں مولانا صاحب نکاح پڑھانا شروع کریں۔۔۔۔
“مگر نکاح ہو کس کا رہا ہے نہال شاہ چپ نہ رہ سکا۔۔۔۔
“میرا اور آپ کی بیٹی کا ۔۔۔۔
“مگر میں کسی صورت تم سے نکاح نہیں کروں گی ۔۔۔۔میں تمہیں اچھے سے جانتی بھی نہیں ۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔
“نہیں جانتی تو کیا ہوا ،نکاح کے بعد جان جاؤ گی ۔۔۔۔وہ تمسخر اڑانے والے انداز میں بولا۔۔۔۔
“میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں ۔۔۔۔وہ بے خوف انداز میں بولی۔
“ایسے الفاظ منہ سے مت نکالو جس کا خمیازہ بھگتنا تمہارے لیے ناممکن ہو جائے وہ غرایا۔۔۔۔۔
اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔۔۔۔۔
ان دونوں نے گنز نکال کر ایک نے تعبیر کی کنپٹی پر رکھی اور دوسرے نے نہال شاہ کی۔۔۔۔
اب چپ چاپ نکاح نامے پر سائن کردے اگر انہیں ذندہ دیکھنا چاہتی ہے تو۔۔۔۔۔
“مگر بیٹا زبردستی نکاح نہیں۔۔۔۔۔۔مولانا صاحب نے مداخلت کی۔۔۔۔
“مولانا صاحب آپ کی زندگی کے دن آگے ہی کم ہیں اسے اور مختصر کرنا ہے تو صاف صاف کہییے۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
وہ تنبیہی انداز میں بولا۔
وہ سر جھکا گئے۔۔۔۔۔
“ادا بنت نہال شاہ
کیا آپ کو تقی گردیزی
ولد وامق گردیزی
یہ نام سنتے ہی تعبیر اور نہال شاہ دونوں چونکے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔۔
مگر مجھے قبول نہیں ۔۔۔۔تعبیر اور نہال دونوں ایک ساتھ بولے۔۔۔۔
بعوض حق مہر ایک لاکھ روپے
سکہ رائج الوقت اپنے نکاح میں قبول ہے ؟؟؟
“اس نے گن کا رخ ادا کی طرف کیا۔۔۔۔۔
“اب بتا کسے قبول نہیں تم تینوں میں سے ؟؟؟
اس کی آواز کا سرد پن اور ٹھٹھرتا ہوا لہجہ دیکھ وہ ٹھٹھکے۔۔۔۔
اس وقت اس کے سر پر جنون سوار تھا اس وہ کچھ بھی کر جانے کے آخری دہانے پر تھا۔۔۔۔
اس نے چہرے سے ماسک اتار کر پھینکا۔۔۔۔
ادا نے اس کی طرف دیکھے نخوت سے سر جھٹکا۔۔۔۔۔
تقی نے ایک چبھتی ہوئی نکاح اس پر ڈالی ۔۔۔۔
چلیں مولانا صاحب آپ کو کیا پھر سے بولنے کی دعوت دینی پڑے گی۔۔۔۔؟
مولانا صاحب جو خاموشی سے ساری کروائی ملاحظہ فرما رہے تھے۔۔۔اس بات اس لڑکے کو خشمگیں نگاہوں سے گھورا۔۔۔۔
جوابا تقی نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائی۔۔۔
وہ سٹپٹاہٹ سے دوبارہ بولے۔۔۔۔۔
“ادا بنت نہال شاہ
کیا آپ کو تقی گردیزی
ولد وامق گردیزی
بعوض حق مہر ایک لاکھ روپے
سکہ رائج الوقت اپنے نکاح میں قبول ہے ؟؟؟
اس کی چپ نا ٹوٹی۔۔۔۔
ٹھاہ ۔۔۔کی آواز سن کر سب نے ڈر کے مارے کانوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
تقی نے ہوا میں فائر کیا۔۔۔۔۔
جلدی بولو ورنہ اگلا نشانہ چونکے گا نہیں بالکل نشانے پر لگے گا۔۔۔۔
وہ دھاڑا۔۔۔۔۔
“قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے ….”
وہ ایک ہی سانس میں بول گئی۔۔۔۔
چلو بھئی جلدی سے اس کے باپ کے بھی دستخط کرواؤ۔۔۔۔۔
مولانا صاحب نے نہال شاہ کے آگے صفحات کیے تو اس نے نا چاہتے ہوئے بھی دستخط کر دئیے۔۔۔۔
چلو بھئی اب مولوی صاحب کو باعزت طریقے سے باہر چھوڑ کر آؤ ۔۔۔۔
اس کے یونی کے دو دوست جو اس کام میں چہرے پر ماسک لگائے اس کا ساتھ دے رہے تھے۔۔۔۔انہیں چھوڑنے باہر تک گئے۔۔۔۔۔
“تم لوگ کیا منہ کی طرف دیکھ رہے ہو ۔۔۔تمہارا کام ختم اب نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔
تقی نے سپاٹ لہجے میں ان دونوں کی طرف سے دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اور خود آرام دہ انداز میں صوفے پر بیٹھا۔۔۔۔
ادا موقع دیکھتے ہی بھاگ کر تعبیر کے پاس پہنچی اور اس کے گلے سے لگے بھبھک بھبھک کر رونے لگی۔۔۔۔
“یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا ۔۔۔بہت پچھتاؤ گے تم ۔۔۔۔۔تعبیر دھمکی آمیز انداز میں بولی
“تم لوگوں نے اتنی غلطیاں کیں تم نہیں پچھتا رہے تو میں کیوں ؟؟؟؟
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ادا کے قریب آیا۔۔۔۔
“اٹھو یہاں سے “اس کی کلائی سے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔۔۔۔
“اور تم لوگ نکلو یہاں سے فوراً۔۔۔۔وہ گن سے انہیں باہر نکلنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔۔۔
“مگر تم نے تو کہا تھا ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دو گے۔۔۔۔؟؟؟تعبیر نے کہا۔۔۔۔
“جاؤ پہلے میری بہن کو ڈھونڈھ کر لاؤ پھر آکر اپنی بیٹی کو لے جانا۔۔۔۔۔
“اور ہاں تم ۔۔۔۔۔وہ نہال شاہ کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔
اگر میری بہن کو ڈھونڈ کر نا لا پائے تو اسے بھول جانا ۔۔۔۔
اس کے ساتھ وہی سب کچھ کروں گا جو تم نے میری ماں کے ساتھ کیا۔۔۔۔۔
نہال شاہ اس کی بات سن کر نظریں اٹھانے کے قابل بھی نہ رہا۔۔۔۔۔
“ان دونوں کو نکالو باہر اگر نہیں نکلتے تو دھکے دے کر باہر پھینکو۔۔۔۔۔
تقی کے دونوں ساتھی اس کی آواز سن کر ان دونوں کی طرف بڑھے۔۔۔
“اور ہاں ایک اور بات تھانے میں شوق سے میرے خلاف رپورٹ درج کروانا۔۔۔۔
“میں بھی کہہ دوں گا ہم بالغ ہیں اپنی پسند سے نکاح کر لیا ۔۔۔۔
“الٹا آپ لوگوں پہ خود پر جبر و تشدد کا الزام لگا کر نا اندر کروایا تو میرا نام بھی تقی گردیزی نہیں۔۔۔۔
اس کے پھنکارتے ہوئے لہجے سے خائف ادا اس سے ہاتھ چھڑوا کر جاتے ہوئے نہال اور تعبیر کی طرف بھاگی۔۔۔۔
تقی کے اشارہ کرنے پر اس کے دونوں دوست باہر نکل گئے اور باہر سے دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔
وہ دروازے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ بند دروازہ دیکھ کر شدت سے روتے ہوئے دروازہ دونوں ہاتھوں سے بجانے لگی۔۔۔۔
چچچچچچچچہ۔۔۔۔۔
“سویٹ ہارٹ اپنے نازک ہاتھوں پر اتنا ظلم اچھی بات نہیں۔۔۔۔۔
وہ طنزیہ لب و لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
“نفرت ہے مجھے تم سے چیپ انسان !!!وہ غرائی۔۔۔۔۔
“نفرت کیا ہوتی ہے اس کی تو الف بے بھی تمہیں نہیں معلوم بڑی کچی کھلاڑی ہو اس کھیل میں۔۔۔۔
“نفرت کا اصل سبق تو میں پڑھاؤں گا تمہیں ۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ سے اس کی نازک گردن کو زور سے دبوچ کر بولا۔۔۔۔
درد اور سخت گرفت کے باعث اس کی سفید گردن سے نیلی رگیں ابھرنے لگیں۔۔۔۔
“کسی کی گھٹیا پرورش کا گھٹیا نتیجہ ہو تم “وہ اس کے ہاتھ کی گرفت پر اپنا ہاتھ رکھے خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی پھنکاری۔۔۔۔۔۔
تقی کا ہاتھ اس کی صراحی دار گردن سے اٹھا اور اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔
اور وہاں گونج پھیلی۔۔۔۔۔۔
تھپڑ اتنا جاندار تھا کہ وہ لہراتی ہوئی دور جا گری۔۔۔۔۔
اور سر میز کے کارنر سے لگنے کہ باعث وہ وہی ہوش و حواس کھو گئی۔۔۔۔۔
باہر سے کسی نے ڈور ناک کیا تو وہ کھولنے کے لیے اسی طرف بڑھا۔