367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 18

ڈور بیل کی آواز پر ہیڈ ملازمہ فرحت نے دوسری ہیلپر سے کہا کہ وہ دروازہ کھولے۔۔۔۔
چند منٹوں کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔۔۔
“جی کس سے ملنا ہے آپ کو “اس نے پوچھا۔
“مجھے تعبیر سے ملنا ہے “
“اچھا جی آپ میڈم صاحبہ کی مہمان ہیں ۔۔آئیے اندر جی۔۔۔۔”
وہ سب اس کی ہمراہی میں چلنے لگے۔۔۔۔۔
مضربان انیکسی کے پاس ہی رک گیا اس کے دروازے میں علینا کو کھڑا دیکھ کر ۔۔۔۔۔
“مام آپ لوگ جائیں میں ابھی آیا۔۔۔مضربان بولا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تم آجانا”کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔۔۔۔
“تم یہاں کیسے ؟؟؟
دراصل تقی کے لیے آئے ہیں۔۔۔جلد ہی تمہارے گھر بھی آئیں گے۔۔۔پہلے زرا اس کا معاملہ سلجھ جائے ۔۔۔
“کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔۔۔
“تقی کے لیے ادا کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔۔۔۔
“سچ”وہ خوشی سے لبریز لہجے میں بولی۔
“مچ”
دیکھو اب اس کی نیا پار لگے گی یا نہیں۔۔۔۔
مضربان مسکرا کر بولا۔۔۔۔
“اچھا میں دعا کروں گی۔۔۔۔۔
“کس کے لیے ؟؟؟تقی کے لیے یا ہم دونوں کے لیے ؟؟؟وہ شرارتی لہجے میں سوال کر گیا۔۔۔۔
“مجھے تنگ مت کرو مچھر آگے ہی میں پریشان ہوں ۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا؟؟؟
اماں بی کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔بدرا بھی کافی پریشان ہے۔۔۔۔ان کی وجہ سے۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا انہیں۔۔۔کدھر ہیں وہ ؟؟؟؟
ہاسپٹل میں ہیں۔۔۔بھائی ابھی آنے والے ہی ہوں گے میں نے انہیں کال کی تھی۔۔۔۔
پھر ہم دونوں ان کو دیکھنے کے لیے ہاسپٹل جا رہے ہیں۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے بدرا اور اماں بی دونوں سے میری طرف سے پوچھنا ۔۔۔اب میں زرا اندر جاؤں ۔۔۔ورنہ مام سے ڈانٹ نہ پڑ جائے ۔۔۔۔
ہممممم ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔
مضربان گھر کے اندر آیا ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم !!!
تعبیر کو میڈ نے بتایا تو وہ روم سے نکل کر باہر آئی۔۔۔اور سب کو دیکھ کر مشترکہ سلام کیا۔۔۔۔
وعلیکم اسلام !طمر نے جواب دیا۔۔۔
“بہت اچھا کیا جو آپ اکیلی نہیں آئیں اپنی فیملی کو بھی ساتھ لائیں۔۔۔مجھےبہت اچھا لگا۔۔۔۔تعبیر خوش دلی سے بولی۔۔۔۔
پھر طمر کے ساتھ خالی جگہ پر بیٹھی۔۔۔۔۔
فرحت میرے روم میں ڈریسنگ کے فرسٹ ڈروار سے ایک بیگ ہے وہ تو نکال کر لانا زرا۔۔۔
اس نے حکم جاری کیا۔۔۔۔
“مگر میڈم جی وہاں تو صاحب ہیں۔۔۔وہ برا نا منائیں میرے وہاں جانے سے۔۔۔۔
وہ منمنا کر کہنے لگی۔۔۔
“کچھ نہیں کہتے وہ انہیں بتانا کہ مہمان آئے ہیں باہر آئیں۔۔۔۔
“جی میڈم جی۔۔۔۔
“آپ کے کتنے بچے پیں؟؟؟طمر نے ہی بات کا آغاز کیا۔۔۔۔۔
“میری ایک ہی بیٹی ہے ادا۔۔۔۔تعبیر نے بتایا۔۔۔۔
“دراصل ہم یہاں ایک خاص مقصد سے آئے ہیں ۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ طمر اپنی بات مکمل کرتی سامنے سے چل کر آتے ہوئے نہال شاہ کو دیکھ کر طمر کی زبان وہیں ساکت ہوئی۔۔۔۔۔
وامق اور طمر دونوں بیک وقت اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔
“یہ تمہارا گھر ہے “؟؟؟؟وامق کی آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
جیسے نظریں یقین کرنے سے عاری ہوئیں۔۔۔۔
نہال شاہ کا حال بھی ان دونوں سے کچھ مختلف نہ تھا۔۔۔۔۔
وہ بھی ان دونوں کو سامنے دیکھ جامد ہوا۔۔۔
“آپ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ؟؟؟تعبیر نے حیران کن نظروں سے سب کو دیکھا۔۔۔۔
وہ سچوئیشن کو سمجھنے میں ناکام ہوئی۔۔۔۔
“چلو یہاں سے “وامق آگ اگلتے ہوئے انداز میں دھاڑا۔۔۔
مضربان اور تقی کی طرف دیکھا۔۔جیسے انہیں یہاں سے چلنے کا اشارہ کیا۔۔
“مگر بابا ابھی تو “تقی نے اچنبھےسے انہیں دیکھ کر کہا ۔۔۔
“سمجھ نہیں آئی تم دونوں کو تمہارے بابا نے کیا کہا
ہے ؟؟؟؟
“طمر کی آواز میں بھی غصے کی جھلک تھی۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھی ان کے کہنے پر اپنی جگہ سے اٹھے۔۔۔۔
“ایسے کیسے جا سکتے ہیں آپ ؟؟؟
“آخر ہوا کیا ہے ؟؟کوئی مجھے بھی بتائے گا۔۔۔
تعبیر جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔۔
“یہ بات تم اپنے شوہر سے پوچھنا ۔۔وہ زیادہ بہتر بتا سکتا ہے تمہیں۔۔۔کہ خود کی بیوی ہوتے ہوئے کسی غیر کی بیوی پر نظر رکھنا اوراس کی زندگی میں زہر گھولنے والے انسان سے کوئی تعلق نہیں رکھا جاتا۔طمر سرد و سپاٹ لہجے میں آہستہ آواز میں کہا تاکہ بچے نہ سن لیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ بچوں کو ان سب سے دور رکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ زہر خند نگاہ نہال شاہ پر ڈالی۔۔۔۔۔
اور لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہوئی باہر نکلی۔۔۔۔
وامق بھی ساتھ ساتھ تھا۔۔۔۔
اپنے والدین کا رویہ تقی اور مضربان دونوں کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔
وہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔ایک دوسرے کو نا سمجھی سے دیکھا۔۔
مضربان تقی کو بے چارگی سے دیکھتے ہوئے شانے اچکا کر رہ گیا۔۔۔۔
وہ دونوں بھی ان کی تقلید میں باہر نکلے۔۔۔۔
علینا مضربان کے واپس باہر آنے کا انتظار وہیں دروازہ کھول کر کھڑے کر رہی تھی کہ پتہ چلے تقی کے رشتے کا کیا جواب ملا ہے ۔۔۔بدرا کو باتھ لیے باہر آتے دیکھ دروازہ کھلا چھوڑے خود فریش ہونے واش روم میں چلی گئی۔۔۔۔۔
بدرا جو نہا کر نکلی تھی بال سکھا رہی تھی۔۔۔پاس سے گزرتی ہوئی طمر کی اچانک نگاہ اس پر پڑی۔۔۔
تو پلٹنا بھول گئی۔۔۔۔۔
قدم وہیں تھمے۔۔۔۔۔
اور سانس بھی۔۔۔۔۔۔
وقت بھی شاید۔۔۔۔۔
بدرا کی گردن کے ایک طرف وہی مخصوص چاند گرھن کا نشان جو اس کی گڑیا کا بھی اس جگہ تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھوں پر یقین نا کر پائی۔۔۔۔
“تو کیا نہال شاہ تم نے ؟؟؟
“تم نے اسے اغوا کروایا تھا ۔مجھے اس سے اتنے سالوں دور رکھا۔۔۔۔۔
“بہت برا کیا تم نے ۔۔۔۔میری بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر ۔۔۔اسے مجھ سے جدا کر کہ۔۔۔۔
“تم کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گے کبھی نہیں۔۔۔اس نے دل میں سوچا اور کرب سے وہیں کھڑے کھڑے اپنی آنکھیں موندیں۔۔۔
دل ایک ساتھ اتنے جھٹکے برداشت نہیں کر پایا۔۔
وہ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے ڈگمگائی۔۔
وامق نے اسے گرنے سے بچانے کے لیے تھاما۔۔۔
تقی اور مضربان دونوں فورا اس کے پاس پہنچے۔۔۔۔
“کیا ہوا مام ؟؟؟؟
تقی نے تڑپ کر کہا۔۔
بے شک وہ اپنی ماں سے ناراض تھا کہ وہ بنا بات کیے ہی وہاں سے اٹھ آئیں۔۔۔۔مگر اس وقت ان کی جان اس کی ناراضگی سے بڑھ کر تھی۔۔۔۔۔۔
طمر نے ڈولتے ہوئے وجود اور ادھ کھلی آنکھوں سے انیکسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
مگر سب نے نا سمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں لمحوں میں وامق کے حصار میں بے جان ہوئی۔۔۔
مضربان گاڑی سٹارٹ کرو۔۔۔۔
وامق نے طمر کو بانہوں میں بھر کر اٹھایا۔۔
مضربان باہر کی طرف بھاگا اور گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔۔
بذل نے گاڑی روکی تو گھر کے باہر سے تیز رفتاری میں جاتی ہوئی گاڑی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھا ۔۔۔۔۔
ان میں سے اسے کچھ جان پہچان کے لگے۔۔۔۔
“اوہ یہ تو علینا کے دوست کی فیملی تھی ،مگر یہاں کیوں ؟؟؟
اس نے سوچا اور گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
انیکسی میں آیا تو دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا وہ انگلی پر گاڑی کی کیز گھماتا ہوا اندر آیا۔۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ کر قدم وہیں تھمے۔۔۔۔۔
اس کا رخ آئینے کی جانب تھا۔۔۔۔وہ اپنے لمبے بالوں میں برش پھیر رہی تھی۔۔۔۔۔
دراز گیسوؤں میں سے قطرے موتیوں کی مانند بوند در بوند ٹپک رہے تھے۔۔۔۔۔گیلے بالوں کی وجہ سے لباس جسم سے چپک چکا تھا۔۔۔۔۔
اور جسمانی خدو خال کے دلکش نشیب و فراز واضح ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
جو اس کے ہوش اڑا دینے کو کافی تھے۔۔۔۔۔
اس کا مدھوش کن سراپا اس کی نگاہوں میں جم گیا۔۔۔۔
وہ بھول گیا تھا کہ وہ یہاں آیا کیوں تھا۔۔۔نظریں بس اس مرمریں وجود پرتھی۔۔۔
جو طلب بن کر اس کی رگ رگ میں رواں تھی۔۔۔۔۔
اس کا دلکش وجود جو تمام تر حشر سامانیوں سمیت اس کے رہے سہے حواس بھی مختل کیے دے رہا تھا۔۔۔۔۔
بذل نے آج تک اسے ڈھکے چھپے دیکھا تھا۔۔۔
کبھی بھی بغیر دوپٹے کے نظر نہیں آئی۔۔۔۔
اور آج وہ ہوشربا وجود لیےاس کے دل پر قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔۔
آج اس حالت میں وہ اس کے دل کی دنیا میں طلاطم برپا کر گئی۔۔۔۔
دل اسے پانے کو چھونے کو مچل اٹھا۔۔۔۔
بس ہاتھ بڑھائے اور اس تراشے ہوئے مجسمے کو چھو لے۔۔۔۔۔
اس نے آئینے میں دیکھتے ہوئے اپنے کانوں میں موجود جھمکوں کو چھوا۔۔۔۔۔اور دھیرے سے مسکائی۔۔۔۔۔
بدرا نے خود پر کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیا تو پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔
اور تیر کی تیزی سے پاس پڑا دوپٹہ اٹھا کر خود کے گرد لپیٹا۔۔۔۔۔
مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔۔۔۔
وہ ہوش میں آیا اس کی سٹپٹاہٹ سے۔۔۔۔
علینا کہاں ہے ؟
وہ ۔۔۔بس آرہی ہے۔۔۔۔
آگئے آپ بھائی ؟ چلیں ہم تیار ہیں۔۔۔۔علینا نے آکر بذل سے کہا۔۔۔۔
بدرا دوسرے کمرے میں گئی اور بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی بڑی چادر خود کے گرد پھیلا کر باہر نکلی۔۔۔۔۔
پھر وہ تینوں ہوسپٹل روانہ ہوئے۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
ان سب کے نکلتے ہی تعبیر نے نہال کو حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔
“یہ لوگ دوبارہ مجھے اس گھر میں نظر نہ آئیں۔۔۔۔
نہال نے ان سب کے وہاں سے باہر نکل جانے کے بعد کاٹ دار آواز بلند آواز سے تعبیر کو کہا۔۔۔
اور ہاں ایک اور بات ادا دوبارہ ان میں سے کسی کے ساتھ نظر آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔
آئی بات سمجھ میں؟؟؟؟؟وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنے کے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
“اپنی یہ گلی سڑی ہوئی دھمکیاں ان کو دینا جنہیں ان کی پرواہ ہو ۔۔۔۔۔۔
وہ تنفر بھرے انداز میں بولی۔۔۔۔
پہلے میری بات کا جواب دو وہ طمر کیا کہہ کر گئی ہے کہ تم اس پر نظر رکھے ہوئے ہو۔۔۔۔
شرم آنی چاہیے اس عمر میں تمہیں ایسی حرکتیں کرتے ہوئے۔۔۔۔
اب اگر تم مجھے اس کے آس پاس بھی دکھے تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔۔۔
تم میں اتنا بڑا نقص ہوتے ہوئے بھی میں تم جیسے شخص کے ساتھ گزارا کر رہی ہوں۔۔۔۔
اور تم ہو کہ میری مہربانیاں اور قربانیاں بھلا کر چلے ہو عشق رچانے۔۔۔۔۔
ہنہہ۔۔۔۔بوڑھی گھوڑی لال لگام۔۔۔۔۔
پہلے تو نرم لہجہ پھر انداز بدلا۔۔۔۔
“گرگٹ کی طرح پل پل بدلتی عورت “وہ صرف سوچ ہی سکا۔۔۔۔۔۔
“اگر مجھے اس عورت کے ساتھ تمہارے کسی بھی قسم کے روابط کا پتہ چلا نہ نہال تو میں تم سے سب کچھ چھین لوں گی۔۔۔یہ گھر پراپرٹی اور آفس ۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔
وہ مغرورانہ انداز میں اسے دھمکا رہی تھی۔۔۔۔
جس کی دولت پر عیش کر رہے ہو اسی سے دھوکہ؟؟؟؟
سب کچھ چھین کر تمہیں بھکاری نہ بنا دیا تو میرا نام بھی تعبیر نہیں۔۔۔۔۔
“اتنے سالوں سے میں نے خودمحنت کر کہ اس بزنس کو یہاں تک پہنچایا ہے۔۔۔۔۔
اور تم ہوتی کون ہو مجھ سے سب چھیننے والی۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ تمہارا باپ مرنے سے پہلے خود میرے نام کر کہ گیا ہے۔۔۔۔۔
شکر تو تم ادا کرو میں نے تم جیسی بدزبان عورت کو اب تک برداشت کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
میرے دماغ کا میٹر گھوما تو یقین جانو بہت برا پیش آؤں گا۔۔۔۔۔
وہ الٹا اس پر چڑھ دوڑا۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے سے کم نہ تھے ۔۔۔ایک سیر تو دوسرا سوا سیر۔۔۔۔۔
“کیا ہوا آپ لوگ کیوں لڑ رہے ہیں ؟؟؟ادا اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی ۔۔۔تیز آوازوں کی وجہ سے باہر آئی اور حیرانی سے کہا ۔۔
“ادا میں پہلی اور آخری بار تمہیں سمجھا رہا ہوں اگر اب تم مجھے گردیزی خاندان کے کسی بھی فرد کے ساتھ نظر آئی تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا”۔۔۔۔۔
اس کے گھمبیر لہجہے میں دھمکی کی آمیزش تھی۔۔۔۔
“خبردار !!!!!
“جو میری بیٹی پر حکم چلایا یا اس پر کوئی پابندی لگائی۔۔۔۔
بچپن سے لے کر آج تک کبھی ایک بار بھی تم نے اسے باپ والا پیار دیا۔۔۔۔؟؟؟
اس کے لاڈ اٹھائے ؟
اس کی خواہشات پوری کیں ؟؟؟
جب تم نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں ۔۔اسے کبھی بیٹی کا درجہ دیا ہی نہیں تو تم کیسے اسے دھمکانے یا اس پر رعب جمانے کا حق رکھتے ہو ؟؟؟؟
“اپنی یہ بودی سی دھمکیاں نہ اپنے پاس سنبھال کر رکھو۔۔۔۔۔
پاس کھڑی ادا کی آنکھیں جھلملائیں۔۔۔۔۔
ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا۔۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک وہ ان دونوں کے مابین جھگڑے میں پستی آئی تھی۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ وہ یتیم ہے۔۔۔۔اس کے نام نہاد باپ نے کبھی بھی اسے والد کا ایک بھی پر شفقت لمس نہیں نوازا۔۔۔۔
نہ کبھی پیار بھرا جملہ بولا۔۔۔۔
اپنے کام سے کام رکھنے والا۔۔۔وہ ہمیشہ اس کی ایک پیار بھری نظر اور توجہ کی خواہاں رہی جو آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔۔۔۔۔
اور ماں ۔۔۔۔۔وہ اپنی ممتا کی تسکین کے لیے اسے لا تو چکی تھی۔۔۔۔مگر ایک مغرور عورت کے خانے میں فٹ بیٹھتی تھی۔۔۔۔
اپنا دل کیا تو پیار کر لیا۔۔۔موڈ نہ ہوا تو اسے خود سے دور سال ہا سال ہاسٹل بھیج کر اس کی خبر نہ لی۔۔۔۔۔
یتیم خانے میں ہوتی تو شاید خوش رہتی۔۔۔
مگر اس طرح کے والدین کے ساتھ رہ کر وہ اندر سے بری طرح ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔
اس طرح کے بچے میں جو کمی رہ جاتی ہے وہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس مشکل میں سے گزر رہا ہو۔۔۔۔۔
اصل والدین کا علم نہ ہو اور جو میسر ہوں وہ اسے نظر انداز کریں۔ایسا نامکمل بچہ دوسروں میں اپنی خوشیاں تلاش کرتا ہے۔۔۔
شاید یہ ہم میں موجود جو کمی ہے اسے دور کر سکے۔۔۔۔۔
جس طرح ادا نے بذل کی ظاہری خوبصورتی سے متاثر ہو کر اس میں اپنی خوشی کو تلاشنا چاہا۔۔۔۔۔
مگر اس نے بھی اسے ٹھکرا دیا۔۔۔۔۔
اور اس کا نام نہاد باپ اسے ان لوگوں سے ملنے جلنے سے پرہیز کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا جن کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر مردہ قدموں سے اپنے کمرے میں واپس لوٹ گئی۔۔۔۔۔
اپنے والدین کی درمیان چھڑی جنگ کی آوازیں ابھی بھی اس کے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔
وہ پھر سے بستر پر لیٹ کر آنکھیں موند گئی۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح تکیہ اس کے بےمول آنسو خود میں جذب کرنے لگا۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“آپ کیسی ہیں اماں بی “ہاسپٹل پہنچ کر بدرا نے ان کے قریب جاتے بھرے ہوئے لہجے سے پوچھا….آنکھوں میں نمی گھلنے لگی انہیں یوں ہسپتال کے بستر پر لیٹے دیکھ کر
“فکر مت کرو میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔یہ ڈاکٹر تو ویسے ہی مجھے یہاں رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔”
“کوئی تو بات ہوگی نا اماں بی ایسے تو نہیں وہ آپ کو یہاں روکے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔
“آپ اپنا خیال رکھیں خود کے لیے نہیں تو میرے لیے۔۔۔۔میرا آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔۔۔۔
مجھے آپ کے پیار کی بہت ضرورت ہے۔۔۔۔
وہ رندھے لہجے میں بولی۔۔۔۔
“بدرا میری چندا ۔۔۔۔رو مت تمہیں پتہ ہے نا مجھے تمہارا رونا پسند نہیں۔۔۔۔میں مر جاؤں تو جی بھر کر رو لینا۔۔۔۔
اسے چپ نا ہوتا دیکھ وہ خفگی بھرے انداز میں بولیں۔۔۔۔
اماں بی !!!!!وہ تڑپ اٹھی ان کی اس بات پر ۔۔۔۔اور لیٹی ہوئی اماں بی کے سینے پر سر رکھ گئی۔۔۔۔
“اماں بی کبھی بھی ایسا مت کہیے گا پھر۔۔۔۔
عائزہ اور علینا ان دونوں کی آپسی گفتگو سن کر آبدیدہ ہوگئیں۔۔۔۔۔
آپ نے کچھ کھایا ؟
بدرا نے پوچھا۔۔۔
“مجھے بتا دیتے کہ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے انہیں دینے کے لیے میں گھر سے بنا لاتی۔۔۔۔۔
“رہنے دو بدرا جیسے میں جانتی نہیں تعبیر کا تم لوگوں سے کیا رویہ ہے۔۔۔۔
عائزہ بولی۔۔۔۔
بدرا نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
یہیں باہر سے فریش فروٹ جوس مل جائے گا وہ لے آو۔۔۔۔
بذل فارمیسی سے میڈیسن لینے گیا ہے۔۔۔۔
میں اور بدرا لے آتے ہیں۔۔۔۔۔
علینا نے کہا۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے عائزہ نے ہینڈ بیگ میں سے پیسے نکال کر علینا کو پکڑائے۔۔۔۔۔
تو وہ دونوں باہر نکل گئیں۔۔۔۔۔
اماں بی آج تک میں نے کبھی آپ سے نہیں پوچھا ، دل میں کئی بار آیا کہ آپ سے پوچھوں۔۔۔۔مگر ہمت ہی نہ ہوئی۔۔۔۔
“اگر آپ کو برا نہ لگے تو کیا آپ مجھے بتائیں گی کہ بدرا کو آپ نے کہاں سے لیا۔۔۔۔کون ہے وہ۔؟؟؟؟؟
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئیں۔۔۔۔
پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
اور بدرا کے بارے میں سب سچ بتا دیا۔۔۔۔۔۔
وہ تو سمجھی کہ انہوں نے صرف عائزہ کو بدرا کی سچائی بتائی ہے مگر انہیں کیا خبر کہ اس راز سے کوئی اور بھی واقف ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مما آپ گھر جا کر فریش ہو جائیں آج میں اماں بی کے پاس رکوں گی۔۔۔۔۔
علینا نے کہا۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز نے کچھ ٹیسٹ کروائے تھے جن کی رپورٹ کلیئر نہیں تھی۔۔۔اسی لیے انہوں نے اماں بی کی طبیعت کے پیشِ نظر انہیں ابھی ہاسپٹل میں رہنے کی ہی تاکید کی ۔۔۔کیونکہ ان کی ہارٹ بیٹ نارمل نہیں تھی۔۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔”عائزہ نے حامی بھری۔۔۔
میں بھی آج یہیں رک جاؤں ؟بدرا نے عائزہ سے پوچھا
“نہیں بیٹا یہاں صرف ایک اٹینڈٹ کے رکنے کی اجازت ہے۔۔۔
“علینا رک جائے گی۔۔۔۔
تم گھر چلی جاؤ بذل پہلے بدرا کو گھر چھوڑ دیتے ہیں پھر ہم گھر چلیں گے۔۔۔۔۔
“جی مام “وہ فقط اتنا ہی بولا۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
سب کچھ دیر پہلے ہی طمر کو لے کر شہر کے سب سے اچھے ہاسپٹل میں پہنچے تھے۔۔۔۔۔
اندر اس کی ٹریٹمنٹ چل رہی تھی۔۔۔۔
باہر وہ تینوں بے چینی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے۔۔۔۔
وامق نے کرب میں ڈوبی ہوئی نظروں سے آئی سی یو کے بند دروازے کو دیکھا۔۔۔۔
جہاں اس کی کل کائنات تھی۔۔۔۔
دل ہی دل میں اس کی صحت یابی کیلئے دعا گو تھا۔۔۔۔۔
تقی نے آکر اپنے بابا کے شانے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
تو وامق نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
“بابا فکر نہ کریں ماما ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔۔
وہ تسلی آمیز انداز میں بولا۔۔۔۔۔
“بابا تقی ٹھیک کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہو گا مما کو آپ حوصلہ رکھیں۔۔۔۔۔دیکھنا وہ جلدی ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔۔مضربان بھی ان کے قریب آکر نم آنکھوں سے انہیں دیکھ کر بولا۔۔۔۔
تینوں کی مضطرب حالت ایک دوسرے سے مختلف نہ تھی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کے اتنے دیر بعد بھی باہر نا آنے پر اسے تشویش لاحق ہوئی۔۔۔۔۔
تقی دیکھو بیٹا ڈاکٹرز باہر کیوں نہیں آرہے ؟؟؟سب ٹھیک تو ہے۔۔۔۔؟؟؟
میں دیکھتا ہوں بابا۔۔۔۔وہ ہولے سے وامق کا شانہ دبا کر چھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ابھی یہ کہنے کی ہی دیر تھی کہ آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آئے۔۔۔۔
“ڈاکٹر کیسی ہے طمر ؟؟؟؟
وامق تیزی سے ان کے قریب جا کر پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
“ان کو مائنر ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔ہم نے ٹریٹمنٹ کردی ہے ،اب وہ ٹھیک ہیں پریشانی والی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔
آپ بس ان کا خیال رکھیے گا مریضہ کو کسی بھی سٹریس سے دور رکھنے کی پوری کوشش کریئے گا۔۔۔۔ڈاکٹر نے اپنے پیشہ ورانہ انداز میں کہا اور وہاں سے آگے بڑھنے لگے۔۔۔۔
ڈاکٹر کیا ہم مل سکتے ہیں ؟؟؟وامق نے پوچھا۔۔۔۔۔
ابھی پیشنٹ ہوش میں نہیں ۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد مل لیجیئے گا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
رات کا پہر تھا ،ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔۔۔سب نیند کی حالت میں تھے ۔۔۔۔
آج شام کو ہی بیرونی گیٹ پر لگی بیل بجلی کے بار بار آنے اور جانے کی وجہ سے خراب ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے بیل بجائی مگر کوئی بھی باہر نہیں آیا گیٹ کھولنے۔۔۔۔۔
شاید سب سو چکے ہوں ؟؟؟اس نے دل میں سوچا۔۔۔۔
اور گیٹ کو ہاتھ میں موجود کیز سے زور سے بجایا۔۔۔۔۔
بدرا جو ابھی نماز تہجد ادا کر کہ فارغ ہوئی تھی۔۔۔دروازےچپر دستک کی آواز سن کر باہر آئی ۔۔۔۔
“کون “اس نے ہوچھا۔۔۔۔۔
دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔میں بذل ۔۔۔۔اس نے باہر سے بتایا۔۔۔۔
“جی اچھا “بدرا نے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔
اور پھر انیکسی کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
بذل نے دروازہ بند کیا اور اس کے پیچھے آیا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ بدرا انیکسی کا دروازہ اندر سے بند کرتی ۔۔۔۔
بذل نے دروازے کے درمیان اپنا ہاتھ رکھ کر اسے بند ہونے سے روکا۔۔۔۔۔۔
“مجھے کچھ بتانا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔وہ نرم مگر پر اسرار لہجے میں بولا ۔۔۔۔
بدرا نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
دیکھو بدرا کو بات میں تمہیں بتانے لگا ہوں اسے تحمل سے سننا ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب سے گزر کر اندر آیا۔۔۔۔۔
وہ حیران رہ گئی ۔۔۔۔آدھی رات کو اس طرح اس کے کھلے عام جرات مندانہ اقدام پر ۔۔۔۔۔
“میں تمہیں یہ بتانے کے لیے یہاں آیا ہوں کہ ۔۔۔۔وہ تھوڑا سا رکا پھر بولا۔۔۔۔۔
“اماں بی اب ہمارے بیچ نہیں رہیں۔۔۔۔۔”
“آپ کو پتہ بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟؟؟
وہ چلانے کے انداز میں بولی۔۔۔۔
“ابھی کچھ دیر پہلے ہی اماں بی سوئر ہارٹ اٹیک سے جانبر نہ ہو سکی ۔۔۔اور ہم سب کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلی گئیں۔۔۔۔۔۔
بذل نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
وہ بے یقین نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
ساتوں آسمانوں کا سر پر ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یہ آج اسے پتہ چلا تھا ۔۔۔۔۔
وہ بھری دنیا میں تنہا رہ گئی تھی۔۔۔۔۔
آنسو اس کے گالوں کو بھگونے لگے۔۔۔۔۔۔
وہ دیوار کے ساتھ لگی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔۔۔۔
وہ نڈھال وجود سے نیچے فرش پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔۔۔
“پانی پیو ۔۔۔۔۔
بذل نے جگ میں سے پانی کا گلاس بھر کر اس کے منہ کے پاس کیا ۔۔۔۔۔
“نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی جائیے آپ یہاں سے ۔۔۔۔۔
بدرا نے پانی کا گلاس جھٹک کر دوسری طرف پھینکا۔۔۔۔۔۔
جس کے کچھ چھینٹے اس کے کپڑوں کو بھگو گئے۔۔۔۔۔
گلاس کے گرتے ہی ماحول میں ارتعاش پیدا ہوا۔۔۔۔۔۔
بذل دروازے کی طرف مڑا جانے کے لیے۔۔۔۔۔
بدرا گھٹنوں میں منہ چھپائے زارو قطار رونے لگی۔۔۔۔
مگر چٹخنی لگنے کی آواز سے حیرانگی سے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک گیا نہیں تھا۔۔۔۔وہیں موجود تھا۔۔۔۔
اور دروازہ اندر سے بند کیے اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟
اس کے اپنی جانب بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر وہ اونچی مگر کانپتی ہوئی آواز میں بولی ۔۔
“جائیں یہاں سے ۔۔۔۔۔”
وہ چلائی۔۔۔۔۔۔