Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 15
آج وامق اور طمر دونوں شاپنگ مال میں آئے فنکشن کے حساب سے خریداری کر رہے تھے مضربان اور تقی کے لیے گفٹس بھی خرید رہے تھے۔۔۔۔۔
وامق جینٹس شاپ میں گیا تو طمر نے سامنے ہینڈ بیگز والی شاپ کی طرف دیکھا۔۔۔
وامق کو اپنے وہاں جانے کا بتا کر خود ہینڈ بیگ پسند کرنے لگی۔۔۔۔
ہینڈ بیگ پسند کر کہ باہر نکلی تو سوچا زبیدہ خانم کے لیے بھی کچھ خرید لیا جائے ۔۔۔۔
وہ اس وقت تھرڈ فلور پر تھی۔۔۔۔
مگر ان کی خریداری کے لیے تو پھر سے گروانڈ فلور پر جانا ہو گا۔۔۔۔۔
وہ سوچتے ہوئے شاپنگ بیگز اٹھائے۔۔۔۔سیڑھیاں نیچے اترنے لگی ۔۔۔۔ابھی اس نے پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ بری طرح سے کسی سے ٹکرائی۔۔۔۔۔۔
دونوں کا جاندار قسم کا تصادم ہوا۔۔۔۔۔
دونوں نے اپنی پیشانی سہلائی۔۔۔۔
“سوری “”””دونوں نے مشترکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
پھر دونوں نے ہی ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئےاپنا اپنا سامان تیزی سے سمیٹا۔۔۔۔۔
“سوری میں تھوڑا جلدی میں تھی “
اس نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہا۔۔۔۔
“اٹس اوکے ہو جاتا ہے کبھی کبھی۔۔۔۔۔طمر نے اس سے کہا۔۔۔۔۔
وہ طمر کے سلجھے ہوئے لہجے سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ طمر آگے بڑھتی اس نے اسے روک کر کہا۔۔۔۔
If you don’t mind…..
کیا میں آپ کا نام جان سکتی ہوں ؟؟؟
“جی بالکل میرا نام طمر وامق گردیزی ہے “
اس نے سہولت سے جواب دیا۔۔۔۔
“اور آپ کا ؟”طمر نے بھی رسمِ آداب نبھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“میرا نام تعبیر ہے “وہ مختصراً بولی۔۔۔۔
Nice to meet you…..
طمر نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔
Same here…..
وہ بھی خوشدلی سے بولی۔۔۔۔۔
“قسمت میں ہوا تو پھر ملاقات ہو گی۔۔۔۔۔تعبیر بولی۔۔۔۔
“جی ضرور “دونوں نے اپنی راہ لی۔۔۔۔۔۔
“یار بیوٹیفل کہاں چلی گئی تھی؟؟؟؟وامق اسے ڈھونڈھتا ہوا اس کے قریب آیا اور پریشانی سے بولا۔۔۔۔
“یہیں تھی میں نے کہاں جانا ہے ابھی ایک لیڈی سے ٹکراؤ ہوا ۔۔۔۔بس اسی میں تھوڑا وقت صرف ہوا۔۔۔۔آپ تو ایسے ہی پریشان ہو جاتے ہیں جیسے میں کوئی بچی ہوں۔۔۔۔آپ کے پاس فون تھا تو مجھے کال کر لیتے ۔۔۔۔۔
طمر نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔۔۔۔
“کہاں ہے تمہارا فون ؟؟؟؟
میں نے تمہیں کال کی تھی۔۔۔۔
“یہیں تو تھا میں نے شاپنگ کے دوران ایک بیگ میں ڈالا تھا۔۔۔۔۔
وہ شاپنگ بیگز میں چیزیں الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
ایک شاپنگ بیگ میں کچھ الگ چیزیں دیکھ کر ٹھٹھکی ۔۔۔۔
یہ شاپنگ بیگ تو میرا نہیں۔۔۔۔۔وہ حیران کن نظروں سے اس میں موجود چیزوں کو دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔
“اوہ شٹ کہیں یہ اس لیڈی کیا نام تھا اس کا ؟؟؟؟
ہاں یاد آیا تعبیر کا تو نہیں.؟”وہ سوچ کر بولی۔۔۔۔۔
“یار دھیان رکھنا تھا نا۔۔۔۔اب اسے کہاں سے ڈھونڈیں گے اتنے بڑے مال میں؟؟؟؟
“وامق چیزوں کی تو کوئی بات نہیں مگر بیگ میں میرا فون تھا ۔۔۔اس میں کانٹیکٹس اور کچھ آفس کی اہم ترین معلومات سیو تھیں۔۔۔۔
“اب کیا کیا جائے ؟؟؟
ایسا کرتا ہوں سم بلاک کروا دیتا ہوں ۔۔۔
سم بلاک کرنے سے کیا ہوگا ؟
معلومات تو گئیں نا ۔۔۔
تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔۔
چلو آؤ باقی کی بھی شاپنگ کر لیں ۔۔۔
نہیں وامق اور نہیں بس اب گھر چلتے ہیں میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔۔۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے جیسے تمہیں ٹھیک لگے ۔۔
لاؤ یہ بیگز مجھے دے دو ۔۔۔
اور تم ایزی ہو جاؤ ۔۔۔وامق نے طمر کے ہاتھ سے بیگز اپنے ہاتھ میں منتقل کیے۔۔۔۔۔
پھر وہ دونوں پارکنگ میں کھڑی ہوئی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوئے ۔۔۔۔
وامق نے ابھی گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ طمر کے نمبر سے کال آتی ہوئی دیکھ کر فورا ریسو کی۔۔۔۔
اسلام وعلیکم!وامق نے مہزب انداز میں کہا۔۔۔
وعلیکم السلام!
“پلیز میری بات طمر سے کروا دیں۔۔۔۔اس نے مردانہ آواز سن کر کہا۔۔۔۔
طمر کو جانچتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وامق نے اپنا فون اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
طمر نے ابرو اچکا کر اشارے سے پوچھا ۔۔۔
کون ہے ؟
“تم بات کرو “وامق نے اسے ہلکی آواز میں کہا۔۔۔
“جی “وہ محض اتنا ہی بولی۔۔۔۔
“اگین سوری “آپ کا بیگ بائے مسٹیک میرے ساتھ ایکسچینج ہو گیا ہے۔۔۔۔
اس میں آپ کا فون تھا خوش قسمتی سے اور آپ کے ہزبینڈ کا نمبر موجود تھا تو اسی پہ کال کر کہ اطلاع دینا مناسب سمجھا۔۔۔۔
آپ کا فون اور چیزیں بحفاظت میرے پاس موجود ہیں جب بھی آپ فری ہوں آکر لے جائیے گا۔۔۔۔اسی بہانے ایک بار پھر سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔۔۔۔۔
“جی ضرور “میں وقت نکال کر آتی ہوں آپ اپنے گھر کا ایڈریس سینڈ کر دیں۔۔۔۔
آج تو ممکن نہیں کل چکر لگاؤں گی۔۔۔۔آج میرے گھر میں ایک چھوٹی سی پارٹی ہے۔۔۔۔۔
طمر نے جوابا کہا۔۔۔۔
“چلیں جیسے آپ کی مرضی۔۔۔۔۔تعبیر بولی۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ہائے اماں بی !!!!کیسی ہیں ؟؟
علینا نے انیکسی میں آتے ہی ان کے گلے لگ کر پوچھا۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں میری پیاری سی گڑیا کیسی ہے ؟
انہوں نے محبت بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔
“ایک دم فٹ “
مجھے کیا ہونا ہے ؟؟؟
اماں بی وہ نا آپ سے ایک کام تھا۔۔۔۔وہ خجالت سے بال کھجاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
“میں بھی کہوں آج یہ سواری بنا بلائے کیسے آگئی ؟؟؟؟
اماں بی !!!!!وہ اپنی بے عزتی پر روہانسی آواز میں بولی۔۔۔۔۔۔
“اچھا بتاو۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟؟؟؟
اماں بی وہ۔۔۔۔۔وہ جھجھکتے ہوئے اس نے اپنی بات کا آغاز کیا۔۔۔۔۔
“اب بتا بھی دو ایسی کیا بات ہے جو ایسے منمنا رہی ہو ؟؟؟؟
“آج بدرا اور میرے دوستوں کے گھر برتھ ڈے پارٹی ہے تو آپ پلیز بدرا کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں۔۔۔۔۔
اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔
“علینا بیٹا دیکھو یوں لڑکیوں کا آدھی رات کو گھر سے باہر نکلنا مجھے بالکل بھی پسند نہیں۔۔۔۔۔تم پوچھ لو بدرا سے اسے بھی معلوم ہے میری عادت ۔۔۔۔۔۔
بدرا جو چھپ کر ساری کاروائی دیکھ رہی تھی ۔۔۔سٹپٹا کر سامنے آئی ۔۔۔
“ج۔۔۔جج۔۔۔۔جی اماں بی۔۔۔۔۔وہ دوپٹے کو اپنی انگلیوں پر لیٹتے ہوئے اٹک اٹک کر بولی۔۔۔۔۔
“اماں بی میں ہوں نا ساتھ کچھ نہیں ہوتا آپ پلیز ہمیں اجازت دے دیں۔۔۔۔
اس نے ہمت نہ ہاری اور ایک بار پھر سے کوشش کی۔۔۔۔۔
اماں بی نے بدرا کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں شاید امید کی چمک تھی۔۔۔۔۔جسے وہ اپنے کسی بھی سخت فیصلے سے ماند نہیں پڑنے دینا چاہتی تھیں۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تم لوگ چلی جاؤ ۔۔۔۔۔
Hurrah!!!!!!
وہ خوشی سے چلائی۔۔۔۔۔
“مگر ؟؟؟؟
اماں بی بولی۔۔۔۔
تو وہ دونوں سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
تمہیں بذل چھوڑ کر آئے گا بحفاظت اور پھر واپسی بھی اسے بھیج دوں گی تم دونوں کو لینے۔۔۔۔۔
“بھیا تو کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔۔۔علینا منہ کے ٹیڑھے میڑھے زاوئیے بنا کر بولی ۔۔۔
“تم اس کو فون کر کہ بلاؤ میرا نام لو دیکھنا کیسے نہیں مانتا۔۔۔۔؟
وہ مان بھرے انداز میں بولیں۔۔۔۔۔
“ہیلو بھائی!!!
ہممممم !!!بولو۔۔۔۔
بھائی مجھے اور بدرا کو اپنے دوستوں کے گھر جانا ہے اماں بی کہہ رہی ہیں کیا آپ ہمیں وہاں لےکر جائیں گے؟؟؟؟اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔۔
“بدرا بھی جا رہی ہے ؟سوال آیا سرد سے لہجے میں۔۔۔۔۔۔
“جی بھائی “
ٹھیک ہے آتا ہوں۔۔۔کہہ کر فون رکھ ۔۔۔
خلاف معمول اس کے یوں مان جانے پر وہ کچھ لمحے حیران ہوئی ۔۔۔۔پھر سر جھٹک کر بولی ۔۔۔بدرا جلدی سے تیار ہو جاؤ بھائی مان گئے ہیں۔۔۔۔
وہ بدرا کے ساتھ دوسرے روم میں آئی۔۔۔۔
کیا پہن رہی ہو؟؟
کچھ بھی پہن لیتی ہوں کون سا نظر آنا ہے ۔ ۔۔وہ سادگی سے بولی۔۔۔
Can’t believe it ….
کہیں تم برتھ ڈے پارٹی میں بھی عبایا پہن کر جانے کا تو نہیں سوچ رہی ؟؟؟؟
وہ حیران لہجے میں بولی۔۔۔۔
بدرا نے اس کے سوال پر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
“قطعاً نہیں’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میرے ہوتے ہوئے تم ایسی کوئی بھی حرکت کرو۔۔
لاؤ دکھاؤ تمہارے پاس کون سے کپڑے ہیں؟
وہ کمرے میں بنی درمیانہ سائز کی لکڑی کی الماری کھول کر اس میں سے اس کے کپڑے دیکھنے لگی۔۔۔۔
واؤ!!!!ایک خوبصورت سا بلیک کلر کا شیفون کا فراک نظر آیا جس کے صرف بازوؤں پر موتی لگے تھے باقی فراک سادہ مگر بہت پیارا سٹچڈ تھا۔۔۔۔۔۔
“یہ پہنو “علینا نے نکال کر اس کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔۔نہیں۔۔۔یہ نہیں ۔۔۔ایسے لگے گا کہ میں کسی کی شادی میں جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔وہ منہ بنا کر بولی۔۔۔
“کبھی کسی کی شادی میں گئی ہو ؟؟؟
اس نے سوال پوچھا۔۔۔
“نہیں “
تو پھر تمہیں کیسے پتہ چلے گا کہ شادیوں میں ایسے ڈریس پہن کر جاتے ہیں۔
شادی پر موجود لڑکیوں کی ڈریسنگ اور تیاریاں تم نے ابھی دیکھی کہاں ہیں ۔۔۔دیکھو تو غش کھا جاو۔۔۔۔
اتنی بھی سادگی اچھی نہیں جناب ۔۔۔
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر ۔۔۔۔
اس نے شعر کی ٹانگ توڑی۔۔۔۔۔
دونوں ہنسنے لگی۔۔۔۔۔
“میں خود ہی نکالتی ہوں۔۔۔۔۔
اس نے الماری میں سے ایک وائٹ کلر کا شیفون کا فراک اور چوڑی دار پاجامہ نکالا۔۔۔۔
اور دو منٹ میں چینج کر کہ باہر آئی ۔۔۔۔۔
بالوں کی چٹیا بنائی اور سوٹ کے ساتھ کا سفید رنگ دوپٹہ گول گھما کر نمازکے سٹائل میں سر پر لیا۔۔۔۔بڑے دوپٹے کی وجہ سے اس کا نازک وجود چھپ گیا۔۔۔۔۔
جلدی چلو بھائی آگئے۔۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کو بھاگی۔۔۔۔۔
باہر سے ہارن کی آواز سن کر وہ اماں بی کو اپنے جانے کا بتا کر باہر نکلیں۔۔۔۔۔
بلیک ہنڈا سوک میں بذل آفندی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے انہیں کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں پیچھے آکر بیٹھنے لگیں۔۔۔۔
“میں تم دونوں کا ڈرائیور ہوں جو پیچھے بیٹھ رہی ہو۔۔۔ایک آگے آئے ۔۔۔۔اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“جی بھائی۔۔۔۔علینا آگے بیٹھی تو بدرا پیچھے بیٹھ گئی۔۔۔۔
بذل نے گاڑی سٹارٹ کی اور علینا سے گھر کا راستہ پوچھا۔۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تقی نے اسے گوگل میپ سے اسے گھر کا ایڈریس سینڈ کیا تھا۔۔۔۔۔
بذل نے دیکھتے ہوئے گاڑی اسی راستے پر ڈال دی۔۔۔۔
ساڑھے سات ہو چکے تھے شام کے سائے گہرے ہوئے رات کے اندھیرے نے اپنے پر پھیلائے۔۔۔
بذل نے فرنٹ مرر بدرا پر رکھ کر سیٹ کیا۔۔۔۔
جس میں سے اب اس کا چہرہ واضح طور پر اسے دکھائی دینے لگا۔۔۔۔۔
وہ ڈرائیونگ کے دوران گاہے بگاہے نظر اٹھا کر اسے دیکھتا۔۔۔۔۔۔
اس نے تو زیادہ تر میک اپ سے لدے ہوئے چہرے ہی دیکھے تھے۔۔۔۔۔
کیا کوئی سادگی میں بھی اتنا سحرکن دکھائی دے سکتا ہے ؟اس کے من نے خودی سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔
اتنا پاک ،شفاف ،بے ریا ،نازک اندام اور دل موہ لینے والا حسن اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔اس کے دل نے اس کے حق میں گواہی دی۔۔۔۔۔
دل نے ایک بار اس مومی مجسمے کو چھو لینے کی تمنا کی۔۔۔۔۔
خواہ وہ اس دنیا کی باسی ہے بھی یا اس کا کوئی الوژن ؟؟؟؟؟
اپنی دلی خواہش کا سوچ کر وہ من ہی من میں مسکرایا۔۔۔۔۔
بدرا نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا سارے راستے نظر باہر گزرتے مناظر پر جمائے رکھی۔۔۔۔۔
بالآخر گھر آیا تو وہ دونوں نیچے اتریں۔۔۔
علینا میسج پر تقی کو اپنے پہنچنے کی اطلاع کر چکی تھی اسی لیے وہ اور طمر گھر سے باہر کھڑے تھے۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم !
علینا اور بدرا دونوں نے انہیں مشترکہ سلام کی۔۔۔۔
“میں دوگھنٹے تک لینے آجاؤں گا۔”بذل نے تھوڑا سا سر باہر نکال کر کہا اور گاڑی کا رخ تبدیل کیے وہاں سے یہ جا وہ جا۔۔۔۔
علینا شرمندہ ہوئی کہ بذل نے ان سے مروتا بھی حال نہیں پوچھا اور نہ رسمی سلام دعا کی۔۔۔
مگر نظر انداز کیا۔۔۔۔۔
علینا سے گلےملنے کے بعد جب طمر نے بدرا کو دیکھا تو اس کی ہو بہو اپنی اور تقی جیسی ہلکی سبز آنکھوں کو دیکھ کر چونکی۔۔۔۔۔
خون کی گردش جیسے بدن میں رکی۔۔۔۔۔
وہ دم سادھے اس کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔
علینا نے بدرا کو گھور کر دیکھا اور اسے آگے ہو کر خود گلے ملنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔
بدرا آگے ہو کر ان کے ساتھ لگی۔۔۔۔
اسلام وعلیکم آنٹی!!!
توطمر نے اسے خود میں زور سے بھینچ لیا۔۔۔۔
بدرا ان کی شدت پر سٹپٹائی۔۔۔۔
یہ خون کی کشش تھی یا رشتے کا احساس جو طمر کو خود بخود ایسا کرنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔
طمر کی آنکھیں جھلملانے لگیں۔۔۔۔
“یہ کیا ایموشنل سین چل رہا ہے ؟”وامق جو کب سے اندر ان سب کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔انہیں نا آتے دیکھ باہر آیا تو طمر کو تقی کی دوست کے ساتھ یوں کھڑے ہوئے دیکھ کر بولا۔۔۔۔۔
“بھئی بیوٹیفل کبھی ہمیں تو ایسے گلے نہیں لگایا ؟؟؟اس کے ہونٹوں سے پیار بھرا شکوہ پھسلا۔۔۔
اس کی بات سن کر طمر بدرا سے دور ہوئی ۔اور آنکھیں صاف کرتے گھور کر وامق کو دیکھا۔۔۔۔
“آپ کہیں بھی ۔۔۔کسی کے بھی سامنے شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ایک بار تو وامق بھی چونکا تقی کی دوست کو دیکھ کر ۔۔۔۔
“بیٹا آپ کی آنٹی تھوڑی ایموشنل ہیں برا مت منانا ۔۔۔۔۔دراصل ہماری بھی آپ جیسی ایک بیٹی کھو گئی تھی۔۔۔۔اسی لیے۔۔۔۔۔
(وامق اور طمر نے مضربان اور تقی کو بس اتناہی بتایا تھا کہ ان کی ایک بہن تھی جو گم چکی ہے اس لیے تقی اس بات سے چونکا نہیں۔)
وامق نے وضاحت کی طمر کے رویے کی وجہ ۔۔۔
“نہیں کوئی بات نہیں انکل مجھے بالکل بھی برا نہیں لگا۔۔۔۔
وہ آہستگی سے بولی۔۔۔۔
بیٹا آپ کے والدین کا کیا نام ہے ؟؟؟؟
طمر نے دماغ میں چلتی ہوئی بات آخر کار پوچھ ہی لی۔۔۔۔۔
“میرے بابا کا نام سکندر شاہ اور والدہ کا نام اماں بی ہے۔۔۔میں نے کبھی ان کا نام نہیں پوچھا۔۔۔۔سب انہیں اماں بی کہتے تھے اسی لیے میں بھی انہیں اماں بی کہتی ہوں ۔۔۔۔
“اب کیا ساری باتیں یہیں دروازے پر ہی کر لینی ہے یا اندر بھی جانا ہے ؟؟؟
وامق نے سب سے کہا۔۔۔۔۔
سب وامق کے کہنے پر اندر کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔
سب نے باہم مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ اپنے دوستوں کے سوا اور کسی کو بھی نہیں بلائیں گے۔۔۔۔۔
اسی لیے وہاں گنے چنے افراد ہی موجود تھے۔۔۔۔
زبیدہ خانم کی طبیعت خرابی کے باعث وہ پہلے ہی دوائی لے کر آرام کرنے جاچکی تھیں۔۔۔۔انہوں نے صبح ہی اپنی طرف سے تحفے تقی اور مضربان کو دے دئیے تھے۔۔۔۔
اب لاؤنج میں طمر ،وامق ،علینا،بدرا اور تقی ہی موجود تھے۔۔۔۔۔
افراد کم تھے اسی لیے لاؤنج میں ہی گیٹ ٹو گیدر کا پروگرام بنایا تھا۔۔۔۔۔
“تقی جاؤ مضربان کو بھی بلا لاؤ ۔۔۔۔ایسی کون سی باتیں ہیں ان دونوں کی جو ختم نہیں ہو رہیں۔۔۔۔۔
جی بابا۔۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ اٹھ کر مضربان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ تینوں باہر آئے۔۔۔۔۔
“واؤ یہاں تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں “؟
علینا نے دراک کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
ہیلو !!!!
اس نے دور سے ہی ہلکی مسکراہٹ اچھال کر کہا۔۔۔۔
بدرا نے علینا کے کہنے پر نظریں اٹھا کر دیکھا تو مضربان کے ساتھ کھڑا وہ شاید اس سے بھی زیادہ درازقد اور کسرتی جسم والا لڑکا جس نے جینز پر وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور کف موڑے ہوئے سادہ سے حلیے میں بھی کسی کو بھی زیر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔۔۔
وہ فورا نظر پھیر گئی۔۔۔۔۔اور مضربان کو سلام کیا۔۔۔۔۔
دراک نے اس کی باریک سی آواز سن کر اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔۔
وہ ٹھٹھکا۔۔۔۔۔۔
بدرا۔۔۔۔۔دراک کے عنابی باریک لبوں نے ہلکی سی جنبش کی۔۔۔۔۔
ان کی آخری ملاقات کو قریبا نو سال کا عرصہ بیت چکا تھا ۔۔۔مگر کسی کے چہرے میں اتنی مماثلت۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔۔
“نہیں وہ جو بھی ہے مضربان کی مہمان ہے میں اپنے کسی بھی شک کی بنا پر ڈائیریکٹ اس سے بات کر کہ نا تو خود شرمندہ ہوں گا اور نہ اسے ہونے دوں گا ۔۔۔جب تک مجھے ٹھیک سے پتہ نہیں چل جاتا کہ یہ بدرا ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔
چلو کیک کٹ کریں۔۔۔۔۔تقی پر جوش لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔
تقی اور مضربان دونوں نے مل کر لاؤنج میں ربنز کی ڈیکوریشن کی ہوئی تھیں۔۔۔۔
دونوں نے ایک ہی نائف ہاتھ میں لیے کیک کٹ کیا ۔۔۔۔اور سب نے انہیں برتھ ڈے وشز دیں۔۔۔۔
تقی نے وامق کے منہ میں اور مضربان نے طمر کے منہ میں کیک کا چھوٹا سا ٹکرا ڈالا۔۔۔۔۔
پھر ایک دوسرے پر سنو سپرے کیے چہروں کو بگاڑا۔۔۔۔۔
سب نے مل کر سیلفیز لیں۔۔۔۔۔اور گفٹس دئیے
اور پھر ریفریشمنٹ کا دور چلا۔۔۔۔۔
دراک جو لاؤنج میں رکھے پیانو کے پاس کھڑا تھا۔۔۔۔۔
اس کی کیز پر اپنی انگلیاں باری باری اس طرح رکھی کہ ایک چھوٹی سی مگر خوبصورت دھن بجی۔۔۔۔۔
تمہیں بجانا آتا ہے “وامق نے دراک سے پوچھا۔۔۔۔
بس تھوڑا بہت ۔۔۔۔ویسے ہی دیکھ کر اپنے آپ ہی پریس ہو گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنے سیاہ سلکی بالوں میں انگلیاں پھنسانے نظریں اٹھا کر بولا۔۔۔۔
“آج ہماری برتھ ڈے کے موقع پر میرا جگری دوست کچھ پیش کرنے جا رہا ہے ۔۔۔۔
مضربان نے ہاتھ کی مٹھی مائیک کی طرح بنا کر جیسے اعلان ِ عظیم کیا ہو۔۔۔۔
دراک اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔۔۔
“مضربان فضول مت بولو میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا۔۔۔۔۔
تمہیں میری طرف سے گفٹ مل چکا ہے۔۔۔۔۔
دراک بولا۔۔۔
اپنا وہ گفٹ تم واپس لے لو ۔۔۔۔مجھے یہ چاہیے۔۔۔۔تو چلو جلدی سے شروع ہو جاو۔۔۔۔۔
دراک نے اچٹتی سی نظر بدرا پر ڈالی ۔۔۔۔۔
جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس کے دیکھتے ہی نظروں کا زاویہ تبدیل کر گئی۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے وہ ہار مانتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
اور پیانو کے پاس رکھے سٹول پر بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پیانو کی کیز پر مخصوص جگہوں پر رکھے دل موہ لینے والی دھن بجانے لگا۔۔۔۔۔
ہوا میں مدھر ساز گونجنے لگے۔۔۔۔۔
ساز کا ردھم سحر انگیز تھا۔۔۔۔۔۔
دراک نے دھن بجاتے ہوئے پیانو کے پیچھے سے تھوڑا سا چہرہ نکال کر بدرا کی طرف دیکھا ۔۔اور لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔۔۔
ساتھ ہی اس نے اپنی دلکش آواز کا بھی جادو جگایا۔۔۔۔۔
انجانے ہوتم، جو بیگانے ہو تم ،جو پہچانے لگتے ہو کیوں ؟؟؟
تم گہری نیندوں میں جب سوئے ہو تو مجھ میں جگتے ہو کیوں ؟
جب تجھ کو پاتا ہے دل مسکراتا ہے ،
کیا تجھ سے ہے واسطہ؟
کیا تجھ میں ڈھونڈھوں میں ؟
میں کیا تجھ سے چاہوں میں ؟
کیا کیا ہے تجھ میں میرا؟
جانوں نہ میں تجھ میں میرا قصہ ہے کیا؟
اے اجنبی اپنا مجھے تو لگا۔۔۔
جانوں نہ میں تجھ سے میرا رشتہ ہے کیا او اجنبی اپنا مجھے تو لگا۔۔۔۔۔
جانے کیوں بدرا کو اپنے دل کی دھڑکن اس کی سحر انگیز آواز میں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
اس کے ہاتھ کیز پر مگر نظریں اسی پر جمیں تھیں۔۔۔۔۔جیسے یہ بول اس کے دل کے عکاس ہوں۔۔۔۔
تجھ سے تعلق جو نہیں کچھ میرا۔۔۔
کیوں تو لگے ہے اپنا سا لگا ؟
دیکھوں جو تجھے اک نظر جائے بھر مجھ ہے میرا جو خلا۔۔۔۔۔
زندگی میں خوشی تیرے آنے سے ہے
ورنہ جینے میں غم ہر بہانے سے ہے
یہ الگ بات ہے ہم ملے آج ہیں۔
دل تجھے اک زمانے سے ہے۔
جانوں نا میں تجھ میں میرا۔۔۔۔۔
او اجنبی اپنا مجھے تو لگا۔۔۔۔۔۔
اس کی نظریں خود پر جمی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔۔دل عجب لے پر دوڑ رہا تھا ۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پیوست کیے نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
پیانو اور اس کی دلکش آواز کے تال میل نے جو مدھر سماں باندھا تھا۔۔۔۔
وہ تھما تو ماحول میں چھائی ہوئی فسوں خیزی ٹوٹی۔۔۔۔
سب نے تالیوں کے ذریعے اسے سراہا۔۔۔۔
اور اس نے سر کو ہلکا سا خم دئیے عاجزانہ انداز میں داد وصول کی۔۔۔۔۔
سب آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔۔
آؤ علینا اور بدرا تمہیں میں اپنا گھر دکھاؤں طمر نے ان دونوں سے کہا۔۔۔۔۔
وہ دونوں ان کی تقلید میں ان کے پیچھے چلنے لگیں۔۔۔۔۔
“ابے یار تقی!!! میری معلومات کے مطابق تو چھپکلیاں تو دیوار پر چلتی ہیں ۔۔ہیں نا؟؟؟
“ہاں یار ٹھیک کہا ۔۔۔۔”
“اور سنا ہے کہ چھپکلیوں کا دیوار سے اتر کر زمین پر چلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے “
‘ہاں یار کہہ تو ،تو ٹھیک رہا ہے وہ کنپٹی پر انگلی رکھتے ہوئے سوچنے کے انداز میں بولا۔۔۔
“مگر یہ دیکھ نا سامنے چھپکلی زمین پر ۔۔۔۔
اس نے سامنے کھڑی علیناکی طرف دیکھتے ہوئے شرارت بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔
اس کی بات علینا کے کانوں سے مخفی نا رہ سکی۔۔۔
وہ اسے شرارے اگلتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے بھنا کر پیر پٹختی ہوئی وہاں سے یہ جا وہ جا۔۔۔۔
پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کھلکھلا اٹھے۔۔۔۔۔
طمر ان دونوں کو گھر دکھانے لگی۔۔۔۔۔
وہ دونوں گھر دیکھ کر متعرف ہوئیں۔۔۔۔
طمر اور علینا آگے تھیں اور بدرا پیچھے۔۔۔۔۔
“بس یار کافی وقت ہو گیا ہے اب چلتا ہوں دراک نے مضربان سے کہا اور اپنی کیز لینے کے لیے مضربان کے کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔
“جا یار اوپر کمرے سے لے آ ۔۔۔اتنی دیر میں اور تقی یہ گفٹس ایک طرف رکھ دیتے ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہے وہ کہہ کر مضربان کے کمرے سے اپنی کیز اٹھائے باہر آرہا تھا سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے اس کی نظر سیڑھیوں کے درمیان میں موجود اسی پر پڑی جو نیچے جا رہی تھی ۔۔۔طمر ان دونوں کو کچھ بتا رہی تھی۔۔۔۔۔
طمر اور علینا نیچے اتر گئیں جبکہ۔۔۔۔۔۔
بدرا کا دوپٹہ سیڑھیوں سے اترے ہوئے ساتھ لگی ریلنگ کے کسی کیل سے پھنسا۔۔۔۔۔تو وہ جو نیچے اتر رہی تھی۔۔۔۔۔
ریشمی شفون کا دوپٹہ پھنسنے کی وجہ
سے پہلے تو سر سے اترا پھر شانے سے ڈھلکا۔۔۔۔
اس کی بل دار لمبی چوٹی جو گھٹنوں تک تھی۔۔۔۔دراک دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔۔
اتنے لمبے بال۔۔۔۔؟بلا اختیار ہی اس کے منہ سے پھسلا۔۔۔۔۔
بدرا نے مڑ کر دیکھا۔ اپنا دوپٹہ سنبھالا تیزی سے اور پھر سے سر پر لپیٹنے کی کوشش کی۔۔۔۔
مگر اتنے میں جب اس نے مڑکر دیکھا تھا تب ہی چاند گرہن کا مخصوص نشان جو اس کی خاصیت اور لڈو کا بچپن سے اس کا فیورٹ تھا وہ دیکھ کر وہیں ساکت ہوا۔۔۔۔
بدرا نے جلدی سے خود کو کور کیا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ سیڑھیاں اترتی ۔۔۔۔دراک ایک ہی جست میں چند سیڑھیوں کا فاصلہ طے کرتا اس کے قریب پہنچا۔۔۔
“بدرا کہاں چلی گئی تھی تم ۔۔۔۔۔واپس لوٹ کر بھی نہیں آئی میں نے تمہارا کتنا انتظار کیا۔۔۔۔۔”دراک نے اس کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے کہا۔۔۔۔۔
“آ۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔آپ پلیز دور رہیں مجھ سے میں آپ کو نہیں جانتی ۔۔۔۔
وہ ڈر کے باعث ہڑبڑا کر بولی۔۔۔۔
اور اپنا ہاتھ اس کی گرفت میں سے نکالا۔۔۔۔
“بدرا میں نے میٹرک کے علاؤہ ہر کلاس ٹاپ کیا۔۔۔اب تو تمہارا گفٹ پکا۔۔۔۔۔
“اس کی بات پر بدرا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
یہ بات تو میرے اور لڈو کے سوا اور کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی۔۔۔۔
مگر دراک نے سن لیا۔۔۔۔۔
وہ اس کی بات پر دل سے مسکرایا۔۔۔۔۔ایسا کرنے سے اس کے گال میں پڑتے ڈمپلز اور بھی واضح ہوئے۔۔۔۔۔
اب تو بدرا کو بھی یقین ہو چلا تھا کہ یہی لڈو ہے کیونکہ لڈو کے ایسے ہی گڑھے پڑھتے تھے گالوں میں ۔۔۔۔۔
مگر اس کی اب کی سحرکن شخصیت دیکھ کر اس سے بات کرنے کہ ہمت مفقود پائی۔۔۔۔۔
بچپن میں اور بات تھی۔مگر اب عمر اور ماحول کا تقاضا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ خاموش رہی۔۔۔۔
بدرا جلدی آو بھائی آگئے ہیں باہر لینے ۔۔۔۔۔علینا کی آواز سن کر وہ تیزی سے نیچے اتری ۔۔۔۔دراک اس کے پیچھے تھا ۔۔۔۔۔
“دراک بھائی تقی اور اس مچھر میرا مطلب مضربان نے بتایا ہے کہ آپ کی ٹریننگ آخری مراحل میں ہے۔۔۔۔اس کے بعد آپ کو بہت اچھی سی جاب ملنے والی ہے ۔۔۔۔۔
“جی بالکل ٹھیک بتایا انہوں نے” وہ جینز کی ایک پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ایک ہاتھ سے اپنے بال سیٹ کرتا ہوا ادائے بے نیازی سے بولا۔۔۔۔
“تو پھر اسی خوشی میں ٹریٹ تو بنتی ہے ؟؟؟علینا نے فرمائش کی۔۔۔۔۔
” مجھے کوئی اعتراض نہیں ٹریٹ دینے میں ۔۔۔مگر میری ایک ہی شرط ہے …..
وہ کیا ؟؟؟؟تقی نے پوچھا ۔۔۔
“پرسوں میں نے واپس جانا ہے میرے پاس کل کا ہی دن ہے تو کل مل کر پھر سے سیلیبریشن کی جا سکتی ہے اور شرط یہ ہے کہ آج جو بھی لوگ یہاں موجود ہیں انہیں کل بھی اسی طرح شامل ہونا ہوگا ۔۔۔ایک بھی پرسن مسنگ نا ہو۔۔۔۔وہ بدرا کی طرف شوخ نظروں دیکھ کر بولا۔۔۔۔۔
اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ ڈائیریکٹ اسے ہی دیکھ کر کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔
بدرا سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اتنے عرصے بعد تو پیاسی نظریں سیراب ہوئیں تھیں۔۔۔۔وہ اس منظر کو نگاہوں سے ہٹنے نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
“تم کیا جانو اس دل نے کب سے تمہارے ساتھ کی تمنا کی ہے ۔۔۔۔۔۔دراک کی زبان خاموش تھی مگر نظریں بول رہیں تھیں۔۔۔۔۔
بدرا نے اس کی بولتی ہوئیں نظریں بخوبی محسوس کیں۔۔۔۔۔
“اوکے ہم سب ہی آئیں گے۔۔۔۔۔
سیلیبریشن کرنی کدھر ہے ؟؟؟
مضربان نے پوچھا۔۔۔۔
یار اب کی بار گھر میں نہیں کچھ نیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔تقی نے مشورہ دیا۔۔۔۔
“بتادو وہیں چلیں گے۔۔۔۔
“یار کسی پانی والی جگہ پر جہاں لہروں کا شور ہو۔۔۔۔۔مضربان نے اپنی خواہش بتائی۔۔۔۔
“اب میں لاہور میں کراچی کا سمندر تو گھسیٹ کر لانے سے رہا۔۔۔۔۔
دراک نے مضربان کی الٹی خواہش پر جل کر کہا۔۔۔۔
تقی نے قہقہ لگایا۔۔۔۔۔
لاہور سے موٹر وے سے جاتے ہوئےدو گھنٹے کی مسافت پر دریائے جہلم ہے وہاں چلتے ہیں ۔۔۔۔۔میں وہاں گیا تھا۔۔۔۔بہت پیاری جگہ ہے اور پانی بھی بے شمار ہے جتنے میں چاہے ڈوبکیاں لگانا۔۔۔۔۔یا غوطے کھانا۔۔۔۔۔
تقی نے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے آخر
