367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 28

اس دن کے بعد سے ادا یونیورسٹی ہی نہیں گئی۔۔۔ وہ بذل کی اصلیت دیکھ کر بری طرح دل برداشتہ ہوگئی تھی۔۔ یہ کیا ہوگیا تھا اس سے۔۔؟؟؟ وہ کیسے بھول گئی تھی کہ وہ اب شادی شدہ ہے۔۔۔۔۔
کیوں اس شخص کو اتنا اپنے اعصاب پر سوار کر لیا۔۔؟؟؟
پھر کیسے اپنی آنکھوں کو اجازت دے بیٹھی ان خوابوں کو دیکھنے کی جن کی کوئی تعبیر ہی نہیں تھی۔۔؟؟
وہ تو اچھا تھا کہ اسے بر وقت سچائی سے روشناس کروا دیا گیا تھا۔۔ اور وہ جو اندھا دھند ایک سراب کے پییھے بھاگ رہی تھی۔۔ اچانک رک گئی تھی، تھم گئی تھی، ٹھہر گئی تھی اور اب اسے واپس مڑنا تھا۔۔ خود کو سنبھالنا تھا۔۔ اس راہ کو چھوڑنا تھا جس کی کوئی منزل نہیں تھی۔۔
مگر یہ کیا ہوگیا تھا اس سے کہ تقی اب لاتعلقی برتنے لگا ۔ وہ اسے بری طرح اگنور کرکے آگے بڑھ گیا۔۔۔
وہ بے چین سی ہوئی اور تقی کے پیچھے بھاگی مگر وہ تب تک واش روم میں جا چکا تھا اور ادا ہاتھ ملتی رہ گئی۔۔۔۔۔۔ پھر وہ بے چینی سے باہر کھڑی اس کا ویٹ کرنے لگی۔ اور جیسے ہی وہ باہر آیا۔۔۔۔ادا بے قرار سی ہوکر اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔۔۔
“کیا بات ہے تقی۔؟؟؟ آپ مجھے اگنور کیوں کر رہے ہیں میری کوئی بات بری لگی آپکو۔۔؟؟؟ ” وہ اپنے سامنے کھڑے تقی سے پوچھنے لگی۔۔۔ ۔ جو دوبارہ اس ساحرہ کو دیکھ کر اس کے طلسم میں جکڑنا نہیں چاہتا تھا۔
“ہٹو راستے سے ان سارے سوالوں کے جواب تمہارے خود کے پاس ہیں ۔۔۔روڈ سے لہجے میں بولا۔
تمہاری اور میری سوچوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔ جو کام تمہاری نظر میں “جائز” ہے وہ میری نظر میں “ناجائز” ہے۔۔
مجھے اس رشتے میں ملاوٹ قطعاً قبول نہیں۔۔۔۔دل کا کھرا ہوں اور اگلے بندے میں بھی مخلصی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔۔۔۔۔جھوٹھے اور فریبی لوگوں سے سخت نفرت ہے مجھے۔۔۔۔
اسی لئے تم مجھ سے دور رہو۔۔۔ اب مجھے تم سے مزید کوئی بات نہیں کرنی ہے۔۔ کیونکہ میں کچھ پل کے لیے بھول گیا تھا کہ زبرستی کا بنایا ہوا بندھن زیادہ دیر نہیں چلتا۔۔۔۔
وہ تلخی سے بولتا ہوا باہر جانے کے لئے پلٹا۔۔۔ مگر ادا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف موڑا۔۔۔۔
تقی نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اسے رہ رہ کر وہ وقت یاد آرہا تھا اگر وہ کچھ لمحوں کی دیری کر دیتا وہاں پہنچنے میں تو آج کیا ہوتا اس کی بیوی اپنی عزت کے ساتھ ساتھ اس کی عزت کی بھی دھجیاں بکھیر چکی ہوتی ۔۔۔۔۔۔یہی سوچ کر اس کا دماغ کھولنے لگتا۔۔۔۔۔
اس دن اس کے فون پر میسج آیا کہ آپ نے اس نمبر پر کال کی تھی مگر تب یہ نمبر بند تھا اب یہ نمبر ایکٹو ہو گیا ہے آپ اس نمبر پر کال کر سکتے ہیں۔۔۔
تقی نے اس نمبر کو غور سے دیکھا مگر وہ انجان نمبر تھا۔۔۔جو اسے شش و پنج میں مبتلا کر گیا۔۔۔۔
اس نے دراک کو کال کی کہ کسی سے کہہ کر اس نمبر کی لوکیشن ٹریس کروا دو ۔۔۔۔دراک نے اپنے ایک خاص دوست کو کال کر کہ وہ نمبر سینڈ کیا۔۔۔۔لوکیشن معلوم ہوتے ہی تقی وہاں کے لیے نکلا۔۔۔۔۔اور وہاں جا کر جس حقیقت کا سامنا ہوا ۔۔۔ وہ اس کی جان نکالنے کو کافی تھی۔۔۔۔۔
رات کو بستر پر دراز ہوتے ہی اسے تھکاوٹ کی وجہ سے بہت گہری نیند آئی تھی۔۔ اور ابھی اسے سوئے ہوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ تبھی کسی نے بے حد سختی سے اس کے بازو کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ اس نے نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں کو کھول کر چھت کی طرف دیکھا تھا۔۔ مگر پھر دھیرے دھیرے جیسے ہی اس کا ذہن بیدار ہوا اس کے کانوں میں تقی کی جنھجھلائی ہوئی تیز آواز پڑی تھی۔۔ جو زور زور سے اسے پکار رہا تھا۔۔
اس نے ذرا سا بلینکٹ ہٹا کر گردن موڑ کر تقی کی طرف دیکھا ۔۔۔ ۔ اور اس بار سچ میں اس کی آنکھیں حقیقتاً پوری طرح کھل گئی تھیں
۔ تقی اسے غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ،کیونکہ اس کے پاس بلینکٹ نام کی جو چیز سونے سے پہلے اس نے دیکھی تھی اب اس چیز پر ادا نے پورا قبضہ کیا ہوا تھا۔۔ پورا بلینکٹ ادا کے چاروں طرف اچھے سے لپٹا ہوا تھا۔۔ جبکہ تقی بنا کچھ اوڑھے ایسے ہی پڑا ہوا تھا۔۔ وہ نیند میں نجانے کب اپنی ٹانگیں اس پر رکھ گئی ۔۔
ادا کی نیند کھلتے دیکھ کر تقی اس کی ٹانگیں اپنی ٹانگوں کے اوپر سے اتار کر بیڈ پر پٹختا ہوا خود اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“یہ کیا حرکتیں ہیں ہاں۔۔؟؟؟؟
بیڑا غرق کرکے رکھ دیا۔۔ میری نیند کا رات سے اب تک۔۔ مجھے بھی پُرسکون نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔
تم نیند میں اتنی “بے قابو” ہو گئی ہو۔۔۔ جانتی ہو مجھ پر چڑھی چلی آ رہی تھی بار بار ۔۔ کتنی ہی بار میں نے اٹھ اٹھ کر تمہیں پیچھے دھکیلا ہے۔۔ پوری رات ایک منٹ کے لئے بھی سکون سے نہیں سو سکا ہوں میں۔۔ حد ہوتی ہے کسی بات کی۔۔۔۔
کل بھی ساری رات صوفے پر بے چینی سے کاٹی تھی۔۔۔سوچا آج رات سکون سے اپنے بستر پر گزاروں گا۔۔۔۔
آج سے تم واپس صوفے پر جا رہی ہو ۔۔۔ذلیل کر کہ رکھ دیا ۔۔۔ وہ بری طرح اس پر برس پڑا تھا جبکہ ادا خجالت سے سرخ چہرہ لئے شرمندہ ہوتی خود بھی بلینکٹ اتار کر بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“آئم۔۔ س۔۔ سو۔۔ سوری تقی۔ مجھے بچپن سے اکیلے سونے کی عادت ہے نا تو میں پورے بیڈ پر ایسے ہی سوتی ہوں۔۔ آج پہلی بار کسی کے ساتھ اس کا بستر شیئر کیا ہے۔۔ اسی لئے غلطی ہوگئی معاف کر دیں۔۔ ۔۔” وہ چہرہ جھکائے شرمندگی سے بولی تھی جبکہ تقی اس کی بستر شیئر کرنے والی بات پر سٹپٹا کر رہ گیا تھا۔۔
“بے وقوف بستر شئیر کیا ہے ۔۔۔”وہ منہ میں بڑبڑایا۔۔۔۔اور اس کے جھکے سر کو دیکھا تھا۔۔
” آج کے بعد سے یہاں بیڈ پر میرے پاس سونا تو دور۔۔ اس طرف دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔ ۔ کیونکہ مجھے اپنی نیند بہت پیاری ہے۔۔ اور میں کسی کے بھی ساتھ اس معاملے میں کمپرومائز نہیں کر سکتا۔۔”
وہ بھنا کر بولتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ ادا کے دل پر اس کی باتوں سے بہت زور سے چوٹ لگی تھی۔۔ کیا وہ اس قابل نہیں تھی کہ اس بیڈ پر سو سکتی۔۔؟؟؟ وہ ڈبڈبائی نظروں سے اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔
جو زور سے باتھ روم کا دروازہ بند کرتا ہوا اندر بند ہوگیا تھا۔۔ حالانکہ تقی نے یہ بات اپنی نیند خراب ہونے کی وجہ سے کہی تھی مگر ادا نے اس بات کو دوسرا رخ دیتے ہوئے دل سے لگا لیا تھا۔۔۔۔
اور بلا اختیار ہی آنسو آنکھوں سے امڈ آئے۔۔۔۔
تقی باہر آیا تو اسے روتا ہوا پاکر جھنجھلا گیا۔۔۔۔۔
” آؤ میرے پاس تمہیں بستر پر سونا ہے نا ۔۔۔اور میرے ساتھ بستر شئیر کرنا ہے تو تمہیں بتاتا ہوں ۔۔۔اس کا اصل مطلب “
وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اسکو اپنے بہت قریب بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا تھا
وہ جو پہلے ہی پریشان اور گھبرائی ہوئی اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخا رہی تھی اسکی سرد اور تیز آواز پر جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا جو اس پر نظریں جمائے ہوئے لیٹا تھا
دونوں کی نظریں ملی ایک کی نظر میں ڈر تھا پریشانی تھی پچھتاوا جانے کتنے ہی جذبات جبکہ دوسرے کی نظریں کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری اور سرد تھی اسکا ننھا سا دل پل میں سہما تھا
” تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا یہاں آؤ یا ساری رات ایسے ہی کھڑے کھڑے گزارنے کا ارادہ ہے تمہارا مائی سویٹ وائف”
اس بار وہ طنزیہ انداز میں بولتا اٹھ بیٹھا جبکہ نظریں ابھی بھی اس پر جمی ہوئی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کی وہ خوبصورت تھی اور اس وقت وہ ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر شرٹ میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی اس نے فورا ہی اپنی سوچ کو جھٹکا تھا
وہ جو اپنی جگہ کھڑی تھی اسکے الفاظوں کی سختی محسوس کر کے اسکی طرف آہستہ سے قدم بڑھاتی ہوئی بڑھی
“م۔۔۔۔مجھے معاف۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں کر پائی تھی جب وہ اسکی کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا اسکو بےدردی سے اپنے قریب کھینچ چکا تھا
ادا جو اس حملے کے لئے تیار نہ تھی اسکی سخت گرفت سے سیدھا اسکے سینے سے آ لگی
” نہیں ” ایک لفظ بھی نہیں “
وہ اسکے دوسرے بازو پر بھی اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا اسکی گرفت کے ساتھ اسکے لہجے میں بھی سختی آ گئی تھی
اس وقت ان دونوں کے چہرے بےحد قریب تھے ادا اسکی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی دل بہت تیز رفتار سے دھڑکا تھا
اسنے ایک بار بھی خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی یہ وہی شخص تھا اس کا مسیحا جس نے اس کی عزت بچائی اس کا محرم ۔۔۔۔
“” تم جانتی بھی ہو تم کس جگہ گئی تھی؟؟؟ایک بارتو سوچ لیا ہوتا میری نہیں تو اپنی عزت کا خیال کیا ہوتا۔۔۔۔۔
اسکی آنکھیں خطرناک حد تک لال ہو چکی تھی اور اسکے لفظ ادا کے سینے میں کسی تیر کی طرح پیوست ہو رہے تھے
لیکن وہ ٹھیک بھی تو کہہ رہا تھا اس پر پورا حق ہونے کے باوجود بھی وہ اس پر اپنے سارے حق بہت پہلے ہی کھو چکی تھی۔۔۔وہ کس منہ سے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔۔
“” خبردار .. اگر تم نے ایک لفظ بھی مزید بولا تم جیسی لڑکی کبھی کسی کی نہیں ہو سکتی “”
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
اس واقع کو سننے کے بعد دراک نے اس کو خود کی حفاظت کرنے کے لیے ٹریننگ دینے کا سوچا۔۔۔۔۔کبھی اگر میں تمہارے پاس نہ ہوں تو خود کا بچاؤ کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔اور اس کے نرم و نازک وجود کو ایکسرسائز کے زریعے مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔
وہ جو اپنی مخصوص بلیک ٹراوزر اور بلیک ہی ویسٹ میں بیڈ روم سے ملحق روم میں پش اپس لگانے نے میں محو تھا ۔۔۔دروازہ کھلتے ہی پل بھر کو رکا۔۔۔۔
مگر مڑ کر نہ دیکھا کیونکہ آنے والی ہستی کون ہے اس بات کا اسے اچھے سے اندازہ تھا۔۔۔۔
وہ اسے ویسٹ میں دیکھ واپس مڑنے لگی تھی۔۔۔
“رکو کہاں جا رہی ہو ؟؟؟؟اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔۔۔۔
“آپ پہلے کپڑے تو پہن لیں “وہ منہ دوسری طرف کیے شرمسار لہجے میں بولی۔۔۔
“”یار ایکسرسائز ایسے ہی کی جاتی ہے ،
تمہیں جو ڈریس دیا تھا پہنا یا نہیں۔؟؟؟
اس بار اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔
وہ اسی کے لائے ہوئے بلیک ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔۔
اس کے لبوں پر مسکان بکھری جس سے اس مردانہ وجاہت کے شاہکار کے گالوں میں پڑے ہوئے ڈمپلز جھلک دکھلا کر غائب ہوئے۔۔۔۔۔
“میں جا رہی ہوں “وہ مڑی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتی اس نے مقابل کی ٹانگ میں پاؤں پھنسائے اسے جھٹکا دیا۔۔۔
اور خود پلٹ کر فرش پر سیدھا ہوا۔۔۔۔
وہ اس اچانک پڑی افتاد پر خود کو سنبھال نہ پائی اور لڑکھڑاتی ہوئی اس پر گری۔۔۔۔
وہ اس سچوئیشن کے لیے بالکل تیار تھا ۔۔۔
اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اسے مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔۔۔
اچانک لائٹ جانے کی وجہ سے کمرے میں صبح ہونے کے باوجود بھی اندھیرا چھا گیا۔۔۔
کھڑکی کے پردے جو گرے ہوئے تھے۔۔۔۔
اندھیرے میں گزرے ہوئے وہی تلخ پل اس کی آنکھوں کے پردوں کے سامنے لہرانے لگے۔۔۔۔
خوف کے باعث پورے بدن میں کپکپی طاری ہوئی۔۔۔۔۔
وہ اُس کے اس طرح لرزنے پر کان کے قریب اپنا چہرہ کیے سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔۔
“میری جانم ڈری ہوئی ہے “؟
اس کے دونوں ہاتھ تھام کر وہ نرمی سے سوال کر رہا تھا
وہ نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔۔
ہاتھ میں موجود چوڑیوں کی کھنک سے سارا کمرہ جھنجھنا اٹھا۔۔۔۔۔۔
جس کو وہ محسوس کرنا چاہتا تھا
آج وہ سچ تھا اسکی جانم اسکے حصار میں تھی وہ کھنکُ وہ دن رات سن سکتا تھا۔ اسےچھو سکتا تھا ۔۔۔۔۔
ان جھیل سی گہری سبز آنکھوں کو دن رات دیکھ سکتا تھا۔
اس کی ان آنکھوں میں بے انتہا خوف تھا
وہ اسکی اواز کی سمت رخ کر کے اسکے چوڑے سینے میں قید ہو گئی۔۔۔۔
دونوں بازوں کا حصار باندھ کر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جانم مجھے دیکھو کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔
اپنی ویسٹ پر نمی محسوس کرتا وہ اسکے شہد آگہیں بال سہلانے لگا۔۔۔۔
وہ نم انکھیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
کچھ نہیں ہے دیکھو اپنی آنکھیں کھولو۔۔۔
وہ اسے یوں کہنے پر خوف سے نفی میں سر ہلاتی ہے
اففف میری ڈرپوک جانم ۔۔۔۔
لائٹ آتے ہی اسے اپنی کنڈیشن کا معلوم ہوا۔۔۔کہ وہ اس کے اوپر موجود ہے ابھی تک ۔۔۔خفت کے مارے معصوم سے چہرے پر گلال ٹوٹ کر بکھرا۔۔۔۔
وہ اس سے اپنا آپ چھڑواتی ہوئی کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
“ایکسرسائز تو تم نے مس کردی اب نیکسٹ کلاس سٹارٹ۔۔۔۔۔وہ بھی اپنا جگہ سے اٹھ کر بولا۔۔۔
“چلو ایسا کرو تم مجھے مارو “””
“میں کیسے تمہیں مار سکتی ہوں ؟وہ حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
“میں نے کہا نہ مارو۔۔۔۔۔
“مارو۔۔۔۔اس بار اس کی جاندار قسم کی آواز سن کر وہ پوری طرح کانپی۔۔۔۔۔
پھر اپنے نازک سے ہاتھ کا پنچ بنا کر اس کے منہ پر مارا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے منہ پر لگتا۔۔۔وہ اپنے ہاتھ سے اس کے نازک سے پنچ کو روک چکا تھا ۔۔۔۔
“پہلے خود ہی کہہ رہے تھے کہ مارو ۔۔اور جب میں نے مارا ہے تو خود کا بچاؤ کر رہے ہو ۔۔۔وہ منہ پھلائے مصنوعی غصہ چہرے پر سجائے بولی۔۔۔۔
“اچھا جانم مجھے ایک بات تو بتائیں زرا…..
“وہ کیا ؟”
آپ کو جو اگر کوئی مارے تو آپ اپنا بچاؤ کریں گے ؟یا اپنا منہ اس کے آگے پیش کردیں گے کہ یہ لو سُجاؤ ہمارا منہ مار مار کر۔۔۔۔
“میں کوئی دماغ سے فارغ تھوڑی نا ہوں جو اپنا منہ آگے کروں ؟؟؟؟
“چلیں تو پھر زرا دماغ کو چھوڑ کر آج زرا دل کی باتیں نہ ہو جائیں۔۔۔۔وہ اس کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے خمار آلود آواز میں بولا۔۔۔اس وقت اس کی پشت اس کے سینے سے چھو رہی تھی۔۔۔۔اور اس کی گرم سانسیں اس کی گردن کو جھلسائے دے رہی تھیں۔۔۔۔
اس کے پل پل بدلتے روپ اور حد درجہ قربت پر وہ سوکھے پتے کی مانند کانپنے لگی۔۔۔۔
دراک نے اس کی گردن پر بنے ہوئے چاند گرھن کے نشان پر اپنے عنابی لب رکھ دئیے۔۔۔۔پل پل
اس کے سلگتے ہوئے جذبات بے قابو ہونے جا رہے تھے ۔۔۔۔
بدرا نے اپنی آنکھیں زور سے میچیں۔۔۔۔
گردن اس کے پر حدت لمس سے جھلسنے لگی۔۔۔۔
بدرا کا دل جو زورں و شوروں سے دھڑک رہا تھا ایسے لگا اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔۔
اس کی وہ ایک بار پہلے کی جنوں خیزیاں اور شدت یاد آتے ہی جسم بھی لرزنے لگا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ مزید وہ بے خود ہو جاتا پاس پڑا موبائل شور مچانے لگا ۔۔۔۔۔
وہ سخت بدمزہ ہوا۔۔۔۔۔۔
اور اپنا موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔۔
جبکہ بدرا نے اس وقت فون کرنے والے کو لب خلاصی پر دل میں ہزاروں دعائیں دے ڈالیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ جان چھڑوا کر بھاگتی دراک نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کیا۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم !
“وعلیکم السلام !
کیسے ہیں دراک بھائی آپ ؟؟؟
“میں ٹھیک اور تم سناؤ سب ٹھیک ہے “؟
“جی شکر ہے اللّٰہ پاک کا سب ٹھیک ہے ۔۔۔
“مضربان کیسا ہے ؟؟؟کافی دنوں سے کال ہی نہیں کی اس نے ۔۔۔۔
“بھائی بس ٹوٹے ہوئے دل کا مارا بندہ ہے بھلا اسے کیا ہوش زمانے کی ۔۔۔۔تقی شرارتی انداز میں بولا۔
“کیوں کیا ہوا اسے ؟؟؟
“کچھ نہیں بس ویسے ہی کہہ رہا تھا وہ دراصل آفس کے کام کے برڈن کی وجہ سے شاید مصروف رہا ہو ۔۔۔۔
مما بابا نے پلان کیا ہے کہ آج رات مہندی کی چھوٹی سی رسم رکھ لی جائے اور کل ریسیپشن ۔۔۔۔تقی نے کہا
“وہ کس کا ؟”
“میرا اور کس کا ؟ میں نے خودی نکاح کر لیا تھا زرا الگ سٹائل کا ۔۔۔اب مما بابا بھی اپنے ارمان نکالنا چاہتے ہیں اپنے لاڈلے بیٹے کو دلہا بنے دیکھ کر ۔۔۔آپ کو آنا ہے اور بھابھی کو بھی لے کر آئیے گا ۔۔۔۔اسی بہانے ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔۔۔۔۔
“کیوں نہیں ضرور آئیں گے ۔۔۔۔وہ خوشدلی سے بولا۔۔۔۔
دراک بھائی آپ سے کچھ اور بھی کہنا تھا ۔۔۔۔اس لیے مضربان کی بجائے میں نے آپ کو کال کی ۔۔۔۔وہ جھجھکتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“مجھے پتہ ہے تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔۔۔ڈونٹ وری وہ میری بہنوں جیسی ہے میں اس دن کے بارے میں کسی سے بات نہیں کروں گا تم بھی بھول جاؤ سب ۔۔۔۔اور نئی زندگی کی شروعات کرو ۔۔۔۔۔زندگی بہت مختصر سی ہے جھگڑوں میں اسے نا گنوا دینا ۔۔۔۔جتنی خوشیاں سمیٹی جا سکتی ہیں سمیٹ لو ۔۔۔۔وہ نا صحانہ انداز میں بولا
تھینک یو دراک بھائی ۔۔۔وہ ممنون لہجے میں بولا۔
نو نیڈ ۔۔۔۔۔
“چلیں تو پھر رات کو ملاقات ہوتی ہے ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اللّٰہ حافظ “
“آپ کہاں جا رہی تھیں جانم ؟؟؟وہ فون رکھتے ہی اس کی طرف دیکھ کر لہجہ بدلتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
“کس کی کال تھی ؟بدرا نے اس کا دھیان بٹانے کو پوچھا۔۔۔
“آپ کے دوست پلس بھائی تقی کی ۔۔۔آج شام اس کی مہندی ہے ۔۔۔۔
“سچ “وہ خوشی سے چہکتی ہوئی بولی۔۔۔۔
دراک نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
بدرا نے اس کے گالوں میں پڑتے ڈمپلز کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔
“آپکے ہی ہیں جانم ۔۔۔۔۔جیسے میں آپ پر حق رکھتا ہوں ویسے ہی آپ بھی مجھ پر رکھتی ہیں ۔۔۔۔اتنا دل کر رہا ہے تو قریب آجائیں اور حسرت ِ دل پوری کر لیں ۔۔۔۔۔وہ اس کے سامنے اپنا گال کیے بولا۔۔۔۔۔
“ابھی نہیں “اس کے گلے میں سے بمشکل پھنسی ہوئی آواز نکلی۔۔۔۔
اس کی ہلکی سی گرفت توڑ کر باہر نکلی ۔۔۔۔
“ہم جائیں گے وہاں ۔۔۔میرا بہت دل ہے تقی بھائی اور مضربان سے ملنے کا ۔۔۔۔
“ضرور جائیں گے ۔۔۔۔
“مگر میرے پاس تو مہندی کے لحاظ سے کوئی بھی ڈریس ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
“اس میں کیا پرابلم ہے آج ہی لے لیں گے فنکشن میں تو شام کو جانا ہے ۔۔۔۔ایسا کرو تم تیار رہنا ۔۔۔دوپہر کو لنچ کے وقت میں آفس سے آؤں گا پھر میرے ساتھ چلنا اور اپنی پسند کا ڈریس لے لینا ۔۔۔۔
“آپ خود ہی لے آنا آپکی پسند بہت اچھی ہے ۔۔۔۔۔
“یہ تو تم نے ٹھیک کہا میری پسند واقعی بہت اچھی ہے وہ اس کے چہرے کو نگاہوں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
“آپ ہر بات میں اپنی پسند کا پہلو کیسے نکال لیتے ہیں ؟؟؟وہ حیرانی سے بولی۔
“کیونکہ میری ہر بات آپ سے شروع اور آپ پہ جو ختم ہوتی ہے جانم ۔۔۔۔۔جاتے جاتے ہوئے بھی وہ اس کے گال پر خوشنما سی جسارت کر گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے اسی کے سحر میں
جکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
رات مہندی کا فنکشن گردیزی ولا کے لان میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔۔۔ سب کچھ بہترین تھا ۔۔
تقی گردیزی چہرے پر بشاشت لیےہر دم فٹ فاٹ اور تروتازہ رہتا تھا تو ادا بھی اسی کی ٹکر کی تھی دونوں کی جوڑی چاند ستاروں کی جوڑی تھی۔۔۔
مہندی کا فنکشن اپنے عروج پر تھا ادا کو بھی وہاں سب لڑکیوں کے ساتھ باہر لان می لایا گیا ۔جب اپنی تمام تر وجاہت سمیت تقی بھی ایک ادا سے اوپر سے سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا پیلے رنگ کے سٹائلش کرتے اور وائٹ پجامہ پر پیلے رنگ کا دوپٹہ گلے اتر رہا تھا۔۔۔ سیڑھیوں کے نیچے ہی کیمرہ مین بالکل چوکس کھڑا تھا جیسے ہی اس نے سیڑھیاں اترنا شروع کی فوٹو گرافر نے ڈھرا ڈھر کئ تصویریں اس کی کھینچ ڈالی تھیں۔۔۔
مضربان بھی سیم اسی جیسی ڈریسنگ میں پاس آیا وہ تقی کے کندھے پر بازو پھیلاتا اس کے گلے سے لگا ۔۔۔کیمرے کی آنکھ نے بروقت اس خوبصورت منظر کو محفوظ کیا تھا ۔۔۔
ادا سامنے بیٹھی اداسی سے مسکراتے ہوئے تقی کو یک ٹک دیکھ رہی تھی جو کہ اس کی دھڑکنوں میں اک تلاطم برپا کر چکا تھا ۔
ادا کو اس پر سے نگاہیں ہٹانا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔۔۔
ارے ماما ،بابا آپ کہاں جا رہے ہیں آج تو ایک سیلفی آپ کے ساتھ بھی بنتی ہے اپنے کمرے سے نکل کر تیار ہوئے وامق اور طمر باہر آئے جب مضربان اور تقی نے انہیں راستے میں ہی جا لیا اور ان کے کندھے پر بازو پھیلاتے کیمرہ مین کی طرف مسکرا کر دیکھا کیمرے کی آنکھ نے فورا سے پیشتر اس منظر کو محفوظ کر لیا ۔۔۔
اپنی شادی کے دن تو ان شرارتوں سے پرہیز کر لو دو وامق نے تنبیہی انداز میں کہا
بابا شادی پر ہی تو ان چھچھوڑی حرکتوں کا اصل مزہ آتا ہے نہ وہ باپ کی کسی بھی بات کا اثر لئے بنا بول کر مسکرانے لگا۔۔۔۔
ڈیزائنر مختلف رنگوں سے مزین ہلکے پھلکے سے غرارہ اور شارٹ کرتی پر ست رنگی دوپٹہ سیٹ کیے پھولوں کے زیورات سے آراستہ ہوئے بہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ایک اور بالکل ادا کی طرح کے کپڑوں میں ملبوس دوشیزہ کو سب لڑکیاں اپنی ہمراہی میں لا کر ادا کے ساتھ لان میں بنے سٹیج پر بٹھا گئی۔۔۔۔
مضربان نے حیران کن نظروں سے تقی کو دیکھا ۔۔۔۔۔
“یہ کون ہے ؟؟؟اس نے اچنبھے سے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔
“ابھی پتہ چل جائے گا جب میری مہندی پر تیرا نکاح ہو گا۔۔۔۔۔
تقی کی بات سن کر اس کے دماغ میں جھکڑ چلنے لگے۔۔۔۔۔
“کیا کہہ رہا ہے تو ؟؟؟یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟
ضرور تیری ہی کوئی گھٹیا شرارت ہے ۔۔۔باز آ جا تقی ۔۔۔۔وہ تنبیہی انداز میں انگلی کے اشارے سے وارن کرتا ہوا بولا۔۔۔۔
“اس بار تقی کی شرارت نہیں ہمارا فیصلہ ہے ۔۔۔۔کیا تم ہمارے فیصلے کو قبول کرو گے ۔۔۔۔طمر نے سامنے آکر مان بھرے انداز میں پوچھا۔۔۔۔
وہ اپنے بابا وامق کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔جن کی آنکھوں میں خود کے لیے ہمیشہ پیار دیکھا وہ کیسے ان کو اپنا کوئی غلط فیصلہ سنا کر ان کی آنکھوں میں جلتے ہوئے امید و مان کے دئیے کو بجھا دیتا ۔۔۔۔۔
“آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔والدین اپنی اولاد کا کبھی برا نہیں چاہتے میں آپکے ہر فیصلے پر راضی برضا ہوں۔۔۔۔وہ عقیدت مندانہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
طمر اور وامق اسے دیکھ آسودگی سے مسکرا دئیے۔۔۔۔۔
ان سب کی نظریں گیٹ سے اندر داخل ہونے والی گاڑی پر پڑی جس میں سے دراک اور بدرا نکل رہے تھے۔۔۔۔۔
بدرا کو دراک کے ساتھ دیکھ سب اپنی جگہ ساکت ہوئے ۔۔۔۔۔
دراک نے بلیو جینز پر وائٹ کرتا پہن کر گلے میں گول گھما کر بلیک ہی پٹکا ڈال رکھا تھا جبکہ بدرا نے زرد اور پستہ کلر کے کنٹراسٹ میں لانگ فراک اور چوڑی دار پاجامہ پہنے پاؤں میں کھسہ پہنے ہلکا سا میک اپ کیے لمبے بالوں کی چٹیا بنا کر شانے کی ایک طرف رکھے ۔۔۔لبوں پر دھیمی سے مسکان سجائے اسی طرف آرہی تھی۔۔۔۔دراک کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ دیکھ سب نے اسے حیران کن نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔