367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 4

(یہ سب کریکٹرز کا پاسٹ چل رہا ہے ،اس لیے سب واقعات تیزی سے گزریں گے۔میرے پچھلے ناولز میں پاسٹ ساتھ ساتھ چلتا تھا سب کنفیوز ہو جاتے ہیں اسی لیے سٹوری ہی پاسٹ سے شروع کی۔صرف بدرا کے سینز حال کے ہیں۔باقی سب پاسٹ )
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
گردیزی ولا میں دو ماہ گزر جانے کے باوجود بھی سوگواریت کا ماحول تھا آخر کو ایک جوان موت تھی ،عمر گردیزی کو اچانک ہارٹ اٹیک ہوا جس کی وجہ سے وہ خالق حقیقی سے جا ملا۔۔۔
اس کے دونوں جڑواں بیٹے جو ابھی کم عمری کے باعث یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے سر سے باپ کا سایہ چھن چکا ہے۔نجانے کیوں ہر وقت روتے رہتے۔۔۔اور زیادہ تر پلکیں جھپکاتے رہتے۔۔۔۔
صفا نے اپنے بچوں کی خاطر خود کو سنبھال لیا۔۔۔۔
آج تو وہ دونوں ایسا دھاڑیں مار کر رو رہے تھے کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔
“طمر نظر نہیں آتا صفا بچوں کو چپ کروا رہی ہے ایک کو تم ہی پکڑ کر چپ کروا دو ۔۔دو دو سنبھالے نہیں جا رہے اس بے چاری سے۔۔۔۔زبیدہ خانم نے طمر سے کہا جو لاؤنج کی ڈسٹنگ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔
“لائیں مجھے دے دیں”طمر نے اپنے ہاتھ آگے کیے۔۔۔
“خبردار !!!!میرے بچوں کو ہاتھ بھی مت لگانا تم بانجھ لڑکی انہیں بھی کھا جاؤ گی””
صفا نے تنفر بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“آئیں وکیل صاحب”
اسامہ ان کے فیملی وکیل کو اندر لے کر آرہا تھا۔۔۔۔
سب نے جلدی سے سروں پر دوپٹے جمائے۔۔۔۔
“مما یہ وکیل صاحب ہیں عمر بھائی نے اپنی وصیت میں جو لکھوا رکھا ہے وکیل صاحب اسے پڑھ کر سنانے کے لیے یہاں آئیں ہیں۔”
اسامہ بولا۔
سب نے صوفوں پر اپنی اپنی نشستیں سنبھالیں۔۔۔۔
وکیل صاحب نے خاموشی چھاتے ہی فائل کھول کر وصیت پڑھنا شروع کی۔۔۔۔
“میں عمر گردیزی باقائم اپنے ہوش و حواس میں اپنی ساری جائیداد اپنی بیوی صفا کے نام کرتا ہوں ،اگر مجھے کچھ ہو جائے تو اس کی حقدار صرف صفا ہے”
وصیت تھی یا گویا بم جو ان سب کے سروں پر پھوٹا تھا۔۔۔۔
سب حیران کن نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے سوائے طمر اور صفا کے ۔۔۔۔
صفا نے طمر کو فتح کن نظروں سے دیکھا جیسے آج سب کچھ پا لیا ہو ۔۔۔
جبکہ طمر سپاٹ چہرہ لیے وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔
اسے اس جائیداد وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وکیل صاحب کے جاتے ہی صفا بھی بچوں کو لیے اپنے کمرے میں جانے کے لیے مڑی ۔۔۔۔
“امی میری عدت کب کی ختم ہو چکی ہے میں اپنی امی کے گھر کل واپس جا رہی ہوں ویسے تو یہ گھر میرا ہے جیسا کہ آپ یہ جان ہی چکی ہیں کہ وصیت کے مطابق میرے مرحوم شوہر نے یہ گھر میرے نام کردیا تھا ۔۔۔یہ گھر میرے ہی نام رہے گا مگر یہاں مزید رکنے کا اب میرا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔۔
وہ سرد مہری سے کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔
اسامہ اور زبیدہ خانم ایک دوسرے کو نظروں ہی نظروں میں کچھ کہنے لگے۔۔۔۔
“مما روم میں چلیں کچھ بات کرنی ہے “اسامہ اور زبیدہ خانم دونوں بھی ایک کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔
“یہ کیا حرکت کی عمر نے ؟”زبیدہ خانم کمرے میں آکر دروازہ بند کرتے ہی بولی۔۔۔
“مجھے بھی بھائی سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔سارا بزنس وہی سنبھالتے تھے میں بس انہیں اسسٹ کرتا تھا ،مجھے بھی پتہ نہیں چلا کہ بھائی اس طرح کا کوئی فیصلہ لیں گے۔”
“بیوی کے عشق میں پاگل تھا میرا بچہ اسی نے کوئی جادو منتر پھونکا ہوگا میرے معصوم بچے کو قابو کرنے کے لیے “وہ زہر خند لہجے میں بولیں۔۔۔۔
“اب کیا کریں مجھے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ؟؟؟؟
“تم رکو میرے دماغ میں ایک خیال آیا ہے ۔۔۔
وہ کنپٹی پر ہاتھ رکھ کر سوچتے ہوئے ایک دم سے بولی۔۔۔۔
“کیا مما ؟؟؟؟”
“اگر تم صفا سے نکاح کر لو تو بچے بھی ہمارے پاس رہ جائیں گے ہمیشہ کے لیے اورہماری جائیداد بھی ۔۔۔۔۔ویسے بھی تمہاری بیوی تو اولاد جننے سے رہی ۔۔۔ہماری نسل چلانے والے دی الحال یہی بچے ہیں ۔۔۔۔
اور اگر صفا سے شادی ہو گی تو کیا پتہ اللّٰہ تعالیٰ تمہیں اس عورت میں سے تمہارے اپنے بچے دے دیں۔۔۔۔”
انہوں نے اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے مسلے کا حل پیش کیا۔۔۔۔۔
“واہ مما کمال کر دیا ۔۔۔۔۔دماغ ہو تو میری ماسڑ مائنڈ مما جیسا “
“چل اب مجھے زیادہ مسکے مت لگا اور آگے کے کام پر توجہ دے”
“پر مما کیا صفا مانے گی؟؟؟؟
“نہیں مانتی تو منا لینا پیار سے”عورت بھوکی ہوتی ہے عزت کی اور دو بول محبت کی ۔۔۔زرا پیار سے پیش آ دیکھنا کیسے نہیں مانتی ۔۔۔۔
بیوہ عورت کو میکے میں کوئی عزت نہیں ملے گی اس بات کو وہ بھی اچھے سے جانتی ہے بس تم اب خود سوچو اسے منانے کے لیے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے مما میں کچھ کرتا ہوں “آپ آرام کریں میں زرا چینج کر لوں ۔۔۔۔
وہ آستین فولڈ کرتا ہوا روم میں آیا۔۔۔۔
“کچھ بات کرنی تھی آپ سے ۔۔۔۔طمر نے جھجھکتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا۔۔۔۔
“ابھی میرے پاس وقت نہیں تمہاری کوئی بھی فضول کی بکواس سننے کے لیے۔۔۔۔”
“پلیز سن لیں نہ بہت ضروری بات کرنی ہے”
“تم نے ٹلنا نہیں نہ مجھے تنگ کیے بغیر ۔۔۔فرماو کیا تکلیف ہے “؟؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر بولا۔۔۔۔
“وہ مجھے مما کہہ رہی تھیں کہ نا ڈاکٹر اور حکیمی علاج سے کوئی فائدہ ہوا ہے اسی لیے اب وہ مجھے صبح کسی بابا کے پاس لے کر جائیں گی دم درود کروانے کے لیے پلیز آپ انہیں منع کریں مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔آج کل یہ دم درود والے جعلی پیر لڑکیوں کی عزت سے کھیلتے ۔۔۔۔۔۔
آخری بات اس نے نامکمل چھوڑ دی۔۔۔۔۔
“میں مما کی کسی بات سے اختلاف کر کہ انہیں ناراض نہیں کروں گا ۔۔۔۔جو وہ کہتی ہیں ویسا ہی کرو اسی میں تمہاری بھلائی ہے ۔۔۔۔۔
“مگر مجھ میں کوئی کمی نہیں پلیز آپ ایک بار اپنا چیک اپ کروا لیں ہو سکتا ہے شاید آپ ۔۔۔۔۔۔”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسامہ کا بھاری ہاتھ اٹھا اور طمر کے منہ پر پڑا۔۔۔۔۔
وہ جاندار تھپڑ کی تاب نہ لاتے ہوئے لہرا کر فرش پر گری۔۔۔۔
وامق جو یونی سے واپسی پر گھر آیا تھا اور وہاں سے گزر رہا تھا تھپڑ کی آواز سن کر اس کے قدم وہیں تھمے۔۔۔۔۔
“ذلیل عورت !!!!!تیری اتنی ہمت ؟؟؟مجھ پر ۔۔۔۔۔مجھ پر انگلی اٹھاتی ہے مجھ میں کمی ہے زرا شرم نہیں آئی یہ بکواس کرتے ہوئے گدی سے تیری زبان کھینچ لوں گا ۔۔۔۔۔
وہ نیچے بیٹھتے ہوئے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے کھینچ کر بولا۔۔۔۔۔
“بول اب بول ۔۔۔۔زبان چلائے گی میرے سامنے ؟؟؟؟”اسامہ اس کے بالوں سے پکڑ کر جھٹکے دیتے ہوئے زور سے دھاڑا ۔۔۔۔
وہ بے بسی کی مورت بنا بولے آنسو بہائے گئی۔۔۔۔۔
باہر کھڑا وامق خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔وہ میاں بیوی کے بیچ میں نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ہمیشہ خوش رہو میری چندا “وہ اماں بی کے پاس آئی تو انہوں نے اسے پیار سے گلے لگا کر پیار کیا۔۔۔۔
“اماں بی آپ کچھ کھائیں گی میں آپ کے لیے بنا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔”
“ارے تم کیسے بناؤ گی ابھی تم تو بہت چھوٹی ہو تم رہنے دو میں خود ہی بنا لوں گی تم اپنی پڑھائی پر توجہ دو “
“اماں بی آپ کے پاؤں کی مالش کردوں دوں دیکھیں نا کتنی سوجن آئی ہوئی ہے “
وہ تشویش بھرے انداز میں ان کا پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“نہیں میری چندا ۔۔۔رہنے دو تھوڑی دیر لیٹوں گی تو ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔اوہ یاد آیا تمہارا یونیفارم تو دھویا ہی نہیں وہ جو ابھی نیم دراز سی ہوئی تھیں لیٹنے کے لیے پھر اسے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی۔۔۔۔
“آپ لیٹی رہیں آرام کریں میں خود ہی دھو لوں گی۔۔۔۔”
وہ ان پر چادر درست کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔۔
باہر آکر اس نے واشنگ پاؤڈر ڈال کر یونیفارم بھگویا اور پھر باقی بھی کچھ گندے کپڑےڈھونڈھ کر انہیں بھی دھونا شروع کیا ۔۔
سارے کپڑے دھو کر اٹھائے صحن میں آئی اور ایک ایک کپڑے کو اٹھا کر نچوڑنے کے بعد الگنی پر پھیلانے لگی۔۔۔۔
اپنے یونیفارم کا سفید دوپٹہ نچوڑ کر زور سے جھٹکا۔۔۔۔۔
جو باہر سے آنے والے لڈو کے چہرے کو بھگو گیا۔۔۔۔
ایک دم اس نے لڈو کا چہرہ دیکھا جس کے چہرے پر پانی کے ننھے ننھے قطرے نظر آئے ۔۔۔
وہ کھکھلا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔
“سوری سوری “”””تم نے برا تو نہیں منایا ۔۔۔۔
وہ جو یک ٹک اسے پہلی بار یوں کھل کر ہنستا ہوا دیکھ رہا تھا اپنی جگہ ساکت ہوا۔۔۔۔
اس کی بات سن کر ہوش میں آیا۔۔۔۔
“نہیں بالکل بھی برا نہیں منایا کسی کی وجہ سے اگر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئے تو اسے بہت نیکیاں ملتی ہیں ایسا میری امی کہتی ہیں وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کوئی دس بار کال کر چکا تھا اس کے فون پر مگر پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کا موبائل بزی کا رہا تھا جھنجھلا کر اس نے فون ایک طرف رکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا اور کار کی کیز لیے باہر نکلا۔۔۔۔
شہر کی حدود سے باہر نکلتے ہی آدھے گھنٹے کی مسافت طے کیے وہ گھر پہنچا۔۔۔۔
“کہاں تھی تم ؟”اس کے دروازہ کھولتے ہی وہ غصیلے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
“گھر پر ہی تھی اور کہاں ہونا ہے ؟؟؟
کچھ سے فضول سوال جواب مت کیا کرو جتنا پوچھا ہے اس کا جواب دیا کرو “
“کیا ہوا ہے ؟تم یہ آج مجھ سے کس ٹون میں بات کر رہے ہو ؟؟؟؟
“کب سے تمہیں کال کر رہا تھا کدھر مصروف تھا ؟؟؟؟وہ سوالیہ انداز میں ابرو اچکا کر بولا۔۔۔۔
“علینہ سے بات کر رہی تھی اتنی کلاسس مس ہو گئیں ہیں انہیں کی ڈیٹیل لے رہی تھی۔۔۔
اس نے مجھے سارا کام واٹس ایپ کردیا ہے مگر کچھ پوائنٹس مجھے سمجھ نہیں آرہے تھے وہی اس سے ڈسکس کر رہی تھی “
اس نے اسے ڈیٹلز بتا کر اپنے تئیں اسے مطمئن کرنا چاہا ۔۔۔
جس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بھی اس کی بات سن کر پوری طرح مطمئن نہیں ہوا۔۔۔۔
چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
ان نو ماہ کے دوران آئے دن چند ایسے واقعات ہونے لگے جو مقابل کے دل میں اس کے کردار کو مشکوک کرنے لگے۔۔۔۔۔
بالآخر ڈیلوری کا وقت بھی آن پہنچا وہ اپنی حالت کے پیش نظر اپنی ہیلپر کے ساتھ قریبی ہسپتال پہنچی۔۔۔
اسلام وعلیکم سر !
وعلیکم السلام !
سر وہ آپ کی مسسز کی طبیعت ٹھیک نہیں اسی لیے ہم ہوسپٹل آئے ہیں آپ بھی آجائیں۔۔۔
“ٹھیک ہے میں کچھ دیر میں نکلتا ہوں “
کہہ کر اس نے کال کٹ کی۔۔۔۔
آج اتوار کا دن تھا وہ گھر پر ہی تھا۔۔۔۔۔
کدھر جا رہے ہو ؟؟؟؟
تعبیر نے اسے یوں ہڑبڑاہٹ میں باہر جاتے ہوئے دیکھا تو پیچھے سے آواز لگائی۔۔۔۔
“ایک ضروری کام تھا بس کچھ دیر میں آتا ہوں “
“مجھے بھی تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے “
“واپس آتا ہوں تو بتانا “
“مجھے ابھی کرنی ہے “وہ بھی اپنی بات پر جمی رہی۔۔۔۔
“اچھا بولو کیا بات ہے “
میں ڈاکٹر کے پاس گئی تھی ہماری شادی کو سال ہونے والا ہے پہلے بھی میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم اپنا ٹیسٹ کروا لو کہ کیوں ہمیں اولاد کیسی نعمت نہیں مل رہی مگر تم نے میری ایک نہیں سنی ۔۔۔۔اب بولو کرواؤ گے اپنا ٹیسٹ کے نہیں ۔۔۔۔
“اچھا بابا کروا لوں گا ویسے تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مجھے کوئی بیماری نہیں الحمداللہ میں بالکل تندرست ہوں ۔۔۔۔۔”
“تو تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے کہ میں بیمار ہوں ؟؟؟؟وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز میں بولی۔۔۔
“ٹیسٹ کروا لو پتہ چل جائے گا”وہ سرسری سا انداز اپنائے کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
پیچھے وہ اس کی بات سن کر تلملانے کے سوا اور کچھ نہ کر سکی۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“لاؤ صفا اسے مجھے دو ” بڑا بیٹا جو صفا کو بہت تنگ کر رہا تھا اسامہ نے اسے صفا کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ اچنبھے سے اسامہ کی طرف دیکھنے لگی اور اور لفظ صفا پر غور کرنے لگی اس کا دیور جو آج تک بھابھی بھابھی کی گردان کہتے نہ تھکتا تھا آج اس کا سیدھا نام لے کر مخاطب کر رہا تھا۔۔۔۔
مگر وہ نظر انداز کر گئی۔۔۔۔۔
اس کی ساس زبیدہ خانم نے اسے کچھ دن یہیں رہنے کے لیے منا لیا تھا ۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ وہ سب بچوں سے بہت اٹیچ ہو چکے ہیں اس لیے ابھی کچھ دن یہیں رک جائے۔۔۔
ان کے کہنے پر صفا ابھی یہیں تھی۔۔۔۔
بس اسامہ کا بدلہ رویہ اس کی طرف جھکاؤ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔
وہ کشمکش میں مبتلا تھی اس کے رویے کو لے کر کہ آج کل اس پر اتنی مہربانیاں کیوں کی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“سر آپ کی گڑیا “
نرس نے اس کی طرف گلابی کمبل میں لپٹا ہوا چھوٹا سا وجود اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
جس میں اس کا صرف فرشتوں جیسا معصوم چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
اسے گود میں لیتے ہی بلا اختیار اس کے سرخ و سفید نرم روئی جیسے پھولے ہوئے گالوں پر پیار کیا۔۔۔۔
“وہ ٹھیک ہے “اس نے نرس سے پوچھا “
“جی سر آپکی مسسز بالکل ٹھیک ہیں نارمل ڈیلیوری ہوئی ہے آپ مل سکتے ہیں ان سے ۔۔۔۔
“”تم سوچ نہیں سکتی آج میں کتنا خوش ہوں “””
‘آج ہم دونوں مکمل ہوگئے۔۔۔۔یہ دیکھو کتنی پیاری ہے بالکل تم جیسی “”
اس نے ننھی پری کو اس کے پاس لٹایا۔۔۔
“یہ بالکل آپ پر گئی ہے “””
“نہیں دیکھو نہ اس کی آنکھیں بالکل تم پر ہیں “وہ اس کی ادھ کھلی آنکھوں کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“گھر کب جانا ہے ؟
“آج شام تک چھٹی ہو جائے گی۔۔۔۔”
“میرے پیپرز بھی قریب ہیں ،ایک بار ان سے فارغ ہو جاؤں تو گھر جاؤں گی تم پلیز میرے گھر ساتھ چل کر سب کو ہمارے رشتے کی سچائی بتا دینا اب میں مزید انتظار نہیں کر سکتی ۔”
“تم فکر مت کرو میں جلد ہی کچھ کرتا ہوں “””
وہ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔
“تم آرام کرو اسے میں باہر ہیلپر کو دیتا ہوں اس کا خیال کرے “
“نہیں اسے میرے پاس ہی رہنے دیں “””
“میں شام کو آتا ہوں پھر تمہیں گھر چھوڑ آؤں گا”””
اس کی بات سن کر وہ محض ہولے سے سر ہلا کر رہ گئی۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
ایک بات کا میں نے اندازہ لگایا ہے ویسے جو رائیٹر عوام کو ترسا ترسا کر ایپی دیتی ہیں وہ بالکل ٹھیک ہی کرتی ہیں جو کئی دن بعد ان کے ایپی پوسٹ کرنے پر ڈھیروں ڈھیر لائکس نظر آتے ہیں ۔میں ہی پاگل ہوں جو دن میں دو ایپی کا سرپرائز دیتی ہوں ۔میں اب کسی سے نہیں کہوں گی لائک کرنے کو۔۔۔۔مجھے کسی کے لائک کرنے سے کون سے پیسے ملتے ہیں۔بس دل ہی خوش ہوتا ہے کہ اتنے لوگ پڑھنا چاہتے ہیں ٹھیک ہے جو نہیں پڑھنا چاہتا شوق سے نہ پڑھے میرا تو شوق ہے لکھنے کا میں تو لکھوں گی۔بے شک کوئی نہ پڑھے ۔۔۔۔۔۔یہ میں ان سے نہیں کہہ رہی جو ابھی تک میرے ساتھ اپنی موجودگی بنائے ہوئے ہیں ان سے کہہ رہی ہوں جو میرے پیج کو لائک کرنے کے باوجود بھی غائب ہیں۔
ابھی تو ناول سٹارٹ ہے۔اس میں ابھی سب آنا باقی ہے تھرلر ایکشن ،رومینس فن