Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 7
ہاتھ کے قریب کرسٹل کا شو پیس جو گھوم رہا تھا اسے ہاتھ ہی سے روک کر اٹھایا اور پوری قوت سے فرش پر دے مارا۔۔۔۔
جو ایک زور دار چھناکے سے ٹوٹ کر ان گنت ریزوں میں منقسم ہو گیا۔۔۔۔۔
“بار بار ایک ہی بات کر کہ آپ لوگ کیوں انہیں نیچا دکھاتے ہیں “
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بلند آواز سے دھاڑا۔۔۔۔
اس سکونت بھرے ماحول میں اس کی گرجدار آواز کی گونج نے سب کو ٹھٹھر جانے پر مجبور کردیا۔۔۔۔
“میں ان سے نکاح کروں گا۔۔۔۔”
اگر بھائی کی بات مانی جا سکتی ہے تو میری کیوں نہیں ؟؟؟؟
“طمر تو یوں ساکت بیٹھی تھی جیسے کاٹوں تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔۔۔۔
“میں اب کسی کے بھی سر پر زبردستی مسلط نہیں ہونا چاہتی۔۔۔۔آخر کار اس نے چپ کا روزہ توڑ دیا اور سرد لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
فہیم گردیزی کو رات کی بات یاد آنے لگی جب وامق ان کے گھر آیا تھا اور اس نے بتایا تھا کہ اسامہ اور صفا کیا چاہتے ہیں ۔۔۔۔پہلے تو انہوں نے اسکی بات کا یقین نہیں کیا مگر جس طرح سے اس نے ساری بات تفصیلی طور پر انہیں بتائی وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے۔۔۔۔۔۔اسی لیے آج جب انہیں وہی سب کچھ اسامہ اور صفا کے منہ سے سننے کو ملا تو وہ زیادہ شاک نہیں ہوئے۔۔۔بلکہ ہر بات کونارمل انداز میں حل کیا۔۔۔۔۔
ان کے کانوں میں وامق کی کہی گئی کل کی بات پھر سے سنائی دینے لگی۔۔۔۔
“میری آپ سے درخواست ہے کہ اگر کل بھائی طمر بھابھی کے لیے کو سخت فیصلہ لیتے ہیں تو میں اسے اپنی ہمراہی میں لینے کو تیار ہوں ۔۔۔۔
“کیا تمہارے دل میں پہلے سے ہی کچھ ہے طمر کے لیے؟؟؟وہ مشکوک انداز میں بولے۔۔۔
“استغفر اللہ ‘یہ آپ کیسی باتیں کر رہیں ہیں تایا جان میں طمر کے ساتھ اس گھر میں ہوئے مظالم کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔اس نے اس گھر میں جتنی بھی مشکلات کا سامنا کیا سب کی طرف سے دئیے گئے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔اور جو بات آپ نے کہی باخدا اس میں ایک فیصد بھی سچائی کا عنصر نہیں،میں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں مگر انہیں یوں در بدر ہوتے نہیں دیکھ سکتا بس اسی لیے یہ فیصلہ لیا۔۔۔۔۔
انہوں نے اس کی شانے کو تھپک کر اسے تسلی دی۔۔۔۔۔
“میں آپ کو یہاں سے کہیں جانے نہیں دوں گا سمجھیں آپ ؟”
وہ طمر کی طرف دیکھ کر اٹل لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
فہیم گردیزی ہوش کی دنیا میں لوٹے اس کی آواز پر ۔۔۔۔۔
وامق اپنا فیصلہ سناتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
ماحول میں گھمبیر خاموشی طاری ہو گئی۔۔۔۔ہر کوئی اس نئی افتاد پر غور و خوض کرنے میں محو تھا۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
“تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
لڈو جو اماں بی سے سپارہ پڑھنے کے لیے آیا تھا بدرا کو ڈھونڈھتے ہوئے کچن کی طرف آیا اور اسے چولہے کے پاس کھڑے ہوئے دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔
“تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا”وہ اچانک اپنے پیچھے آواز سن کر بدک کر مڑی۔۔۔۔۔
“اماں بی کے لیے کھچڑی بنانے کی کوشش کی ہے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسی لیے۔۔۔صبح سے انہوں نے چائے اور رسک ہی کھائیں ہیں ،میں نے سوچا کچھ نرم غذا بنا لوں ان کے لیے۔۔۔۔۔”
تمہیں بنانی آتی ہے ؟؟؟
“بنانی تو نہیں آتی بس ایک بار اماں بی کو دیکھا تھا بناتے ہوئے تو سوچا تجربہ کر کہ دیکھتی ہوں شاید بن جائے۔۔۔۔۔
“اس نے دم سے اتارتے ہوئے دیگچی کا ڈھکن اٹھایا اور چمچ لے کر ایک پلیٹ میں تھوڑی سی کھچڑی نکالی۔۔۔۔
“کیسی بنی ہے “وہ لہجے میں اشتیاق لیے اسے تکنے لگی۔۔۔۔
“بہت مزے کی ہے “اس نے ایک چمچ بھر کے اپنے منہ میں ڈالا پھر بولا۔۔۔۔۔
بدرا (معنی پورا چاند) کی ہلکی سبز آنکھوں میں خوشی کے مارے روشنی بھرے جگنو لہرائے۔۔۔۔
“سچ میں ؟”وہ اس کی تعریف پر کِھل اٹھی۔۔۔
“لاؤ میں بھی کھا کر دیکھوں کیسی بنی ہے اس نے لڈو کے ہاتھ سے چمچ لینا چاہا اسے چکھنے کے لیے۔۔۔۔۔
وہ پلیٹ لیے باہر کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر مسکراتے ہوئے دوستی پلیٹ میں کھچڑی نکالنے لگی۔۔۔۔
ٹرے میں کھچڑی والی پلیٹ ،پانی کا گلاس رکھے وہ اندر اماں بی کے پاس آئی۔۔۔۔
“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے اب ؟؟؟
ٹرے ان کے پاس بستر پر رکھ کر اس نے پوچھا۔۔۔۔۔
“ہاں بیٹا ٹھیک ہوں میں “وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔
“تم نے کچھ کھایا ؟؟؟اماں بی فکرمندی سے اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
“نہیں “وہ ہولے سے نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔۔
“چلو آؤ پھر دونوں مل کر کھاتے ہیں “انہوں نے ایک چمچ بھر کے بدرا کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔۔
منہ میں تیز ترین نمک کا ذائقہ گھلتے ہی اس نے برا سامنہ بنا کر لبوں پر ہاتھ رکھا اور باہر بھاگی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد منہ دھوئے اندر آئی تو اماں بی کھچڑی کھا رہی تھیں۔۔۔۔
“اماں مت کھائیں اسے یہ بہت خراب بنی ہے۔۔۔۔”
“میری چندا نے پہلی بار بنائی ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھے پسند نہ آئے “
اس کی آنکھیں اتنے پیار پر پانیوں سے بھر گئیں۔۔۔۔
اچانک ہی لڈو کی حرکت بھی یاد آئی جو اس کی بنائی ہوئی کھچڑی کی تعریف کر کہ گیا تھا ۔۔۔۔اس کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکان سمٹ آئی۔۔۔۔
فون پر کال آتی دیکھ انہوں نے کال ریسیو کی نہال شادی سے پہلے انہیں ایک چھوٹا سا موبائل دے کر گیا تاکہ ان سے وقتاً فوقتاً رابطہ کر سکے۔۔۔۔۔
ہیلو مما ۔۔۔۔۔
اسلام وعلیکم!!!
وعلیکم اسلام !!!!دوسری طرف سے اپنی بیٹی عائزہ کی آواز سن کر ان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔۔
کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔۔انہوں نے شہد بھرے لہجے میں پیار سے پوچھا۔۔۔۔
میں بالکل ٹھیک مما آپ کیسی ہیں ؟؟؟؟
وہ قدرے اونچا بول رہی تھی کیونکہ وہاں آسٹریلیا کا موسم اس وقت خوشگواری لیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔۔۔وہ ویکینڈ ہونے کی وجہ سے عائزہ اپنے ہزبینڈ دائم آفندی اور بچوں بذل اور امید کے ساتھ قریبی پارک میں آئی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
دونوں بچے سلائیڈز کے پاس موجود تھے دائم انہیں جھولا جھلا رہا تھا۔۔۔۔
“میں بھی ٹھیک ہوں ،تم میری فکر مت کرو تم سناؤ بچے اور دائم ٹھیک ہیں؟؟؟؟
جی مما شکر الحمد للّٰہ سب ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔
مام میں نے بھی گرینڈ مام سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔بذل نے آکر عائزہ کے ہاتھ سے موبائل کھینچنا چاہا۔۔۔۔۔
“رکو بذل “”””مجھے پہلے بات کرنے دو۔۔۔۔اس نے بذل کوتیز آواز میں ڈپٹا۔۔۔۔۔
“نہیں مام ۔۔۔۔مجھے چاہیے ۔۔۔چاہیے ۔۔۔۔تو بس چاہیے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے میں زمین پر زور سے پاؤں مارتا ہوا ضد کرنے لگا۔۔۔۔
“بذل میں اب پٹائی کروں گی جاؤ پاپا کے پاس ۔۔۔۔۔”
یہ کہنے کی دیر تھی بذل نے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑ کر زمین پر کھینچ کر مارا۔۔۔۔۔
جو دو حصوں میں بٹ گیا اور بیٹری باہر گری۔۔۔۔۔
وہ غصے میں پاؤں پٹختا ہوا دائم کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
اس نے شعلہ بار نظروں سے جاتے ہوئےبذل کی پشت کو گھورا۔۔۔۔۔
دیکھا ۔۔۔۔دیکھا آپ نے دائم یہ کتنا خودسر ،ضدی اور بدتمیز ہوگیا ہے۔۔۔۔۔
“اچھا غصہ مت کرو میں سمجھاتا ہوں اسے ایسا کرو تم میرا فون لے کر اپنی بات مکمل کر لو۔۔۔۔۔
دائم نے اپنا فون پینٹ کی پاکٹ سے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھا۔۔۔۔
وہ لمبی سانس لے کر خود کو پر سکون کرنے لگی۔۔۔۔۔
دوبارہ سے نمبر ڈائل کیے اس نے باقی کی کچھ ادھر ادھر کی باتیں کر کہ فون رکھا۔۔۔۔۔
کس کا فون تھا اماں بی ؟؟؟
اممممممم۔۔۔۔۔وہ سوچتے ہوئے بولیں ۔۔۔
تمہاری آپا کا فون تھا۔۔۔۔
تو میری بھی بات کرواتی نا۔۔۔۔ان سے ۔۔۔۔
اچھا اگلی بار جب فون آئے گا تو ضرور کرواؤں گی۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ آنکھیں موند گئیں۔۔۔۔
اگر عائزہ کو بدرا کے بارے میں بتایا تو وہ اس کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گی۔۔۔۔اسے کیا بتاؤں گی۔۔۔۔۔وہ سوچنے لگیں۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
صبح ہوتے ہی اس نے سب سے پہلے پولیس اسٹیشن جا کر گڑیا کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوائی۔۔۔۔۔
دو ماہ تک وہ اسی رینٹ کے گھر میں رہ کر اس کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔۔شاید کہیں سے اسے گڑیا کا سراغ مل جائے مگر اس کی یہ امید بھی جلد ہی ٹوٹ گئی جب اس کے ایم ۔بی ۔اے کے پیپرز سر پر تھے ۔پولیس نے بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔۔۔۔
اور وہ خود بھی اسے ڈھونڈھنے میں ناکام ہوئی۔۔۔۔۔
اسے ڈھونڈھے کی ہر کوشش اکارت جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
مالک مکان گھر کے کرائے کے لیے اس پر زور ڈالنے لگے۔۔۔۔اسی لیے وہ رقم کی عدم موجودگی کے باعث اس گھر کو چھوڑایک بار پھر سے ہاسٹل منتقل ہوگئی۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اسامہ نے وکیل سے بات کر کہ جلد از جلد طلاق کے کاغذات بنوائے اور طمر کو اس نام نہاد رشتے سے آزاد کردیا۔۔۔۔
اب طمر تایا جان کے گھر رہائش پذیر تھی۔۔۔اور اپنی عدت کے دن گزار رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ جائے نماز بچھائے اپنے خدا کے آگے سربسجود ہوئے صدق دل سے اپنی غفلت میں کیے گئے گناہوں کی مغفرت طلب کر رہی تھی۔۔۔
جبکہ دوسری جانب،،،،،،،،،، نکاح کے ایک ہفتے بعد صفا اور اسامہ دونوں چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس آئے تھے آج ان دونوں بچوں کے چیک اپ کے لیے اپائنٹمنٹ لی تھی انہوں نے ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم ڈاکٹر !!!اسامہ نے ان کے روم میں آتے ہی کہا۔۔۔
وعلیکم السلام!!وہ بھی سلام کا جواب دیتے ہوئے ان دونوں کو اپنے سامنے رکھی گئی نشستوں پر بیٹھنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔
اسامہ چئیر گھسیٹ کر بیٹھا تو صفا نے بھی اس کی تقلید کی۔۔۔۔
آپ نے مجھے ان کی جو علامت بتائیں ہیں اس کے حساب سے میں سب سمجھ تو چکا ہوں مگر ایک بار معائنہ بھی ضروری ہے وہ ان دونوں بچوں کو ایک سپیشل روم میں لے گئے جہاں آپٹومٹری کی تمام مشینز اور آلات موجود تھے۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئے تو صفا اور اسامہ جو ان کے ہی منتظر تھے بے چینی سے ان کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگے ۔۔۔
“سب ٹھیک ہے نا ڈاکٹر؟؟؟”
“آئی ایم سوری ٹو سے ۔۔۔۔۔آپ کو شاید پتہ نہیں کہ آپ کے دونوں بچے پیدائشی نابینا ہیں۔۔۔آپ نے شاید ان کا کبھی بھی چیک اپ نہیں کروایا اسی لیے آپ اتنی دیر بے خبر رہے۔۔۔وہ اپنے ماہر پیشہ ورانہ انداز میں بولے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر ان دونوں کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔۔۔۔وہ دم سادھے ،ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کو تکنے لگے۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
آج بھی انہیں ماضی کا وہ دن اچھے سے یاد تھا جب چھوٹی سے بچی ان کی گود میں آئی تو انہوں نے ساری رات اس کی خوب دیکھ بھال کی صبح ہوتے ہی ساتھ کے گھر سے لڈو کی ماں صندل ان کے گھر آئی اماں بی کو جب سے ان کا بیٹا نہال اکیلا چھوڑ شادی کر کہ اپنی بیوی کے ساتھ اسی کے گھر چلا گیا تھا ۔۔۔کیونکہ اس کے باس نے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ شادی کے بعد ان کے گھر رہے گا۔۔۔۔۔
شادی کے کچھ ماہ بعد ہی دل میں سوراخ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔۔۔۔۔
ان کے بیٹے نہال کی بیوی اسے یہاں آنے نہیں دیتی اور کچھ وہ ذاتی مصروفیات کی بنا پر بھی ادھر نہیں آپاتا بس کبھی کبھار کال پر اپنی ماں کا احوال دریافت کر لیتا۔۔۔۔۔
اس تنہائی کے دور میں صندل ان کا سہارا بنی جو خود ایک بیوہ تھی اور اس کا ایک ہی بیٹا تھا۔۔۔۔وہ سلائی کڑھائی کر کہ گھریلو نظام چلاتی۔۔۔۔اور کبھی کبھار ان کے لیے کھانا بنا کر لے جاتی ۔۔۔
آج بھی وہ ناشتہ تیار کر کے اماں بی کے گھر آئی۔۔۔۔۔
وہاں آتے ہی کسی چھوٹے سے بچے کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔
اس نے اچنبھے سے اندر جھانکا۔۔۔۔واقعی ان کی گود میں ایک ننھا سا وجود تھا۔۔۔۔۔
“یہ کون ہے ؟؟؟؟
“صندل !! میں ابھی تمہیں ہی بلانے والی تھی اچھا کیا جو تم خود ہی چلی آئی۔۔۔۔
یہ بچی رات کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ایک کر کہ ساری بات تفصیلی طور پر اسے بتانے لگی۔۔۔۔
“اب تم بتاؤ کیا کروں ؟؟؟”وہ پریشانی سے بولیں۔۔۔۔
“دیکھیں اماں بی آپ اسے کسی پولیس والے کے حوالے کریں گی تو جانے وہ اسے کیسے رکھیں ہے بھی لڑکی آج کل جو حالات چل رہے ہیں جوان تو کیا بچیاں بھی محفوظ نہیں۔۔۔۔۔
آپ کو اسے کسی کو بھی نہیں دینا چاہیے ۔۔۔
اگر کسی کو اس کی ضرورت ہوتی تو وہ اسے یوں پھینکتا نہیں ۔۔۔۔۔۔
مجھے تو کچھ اور ہی معاملہ لگ رہا ہے۔۔۔۔شاید کسی نے اپنی جان چھڑوانے کے لیے اس معصوم کو پھینک دیا۔۔۔۔۔
آج کل نئی نسل اپنی غلطیوں کو ایسے ہی چھپاتی ہے۔۔۔۔اگر کبھی کوئی اسے ڈھونڈھتے ہوئے یہاں آگیا تو دیکھا جائے گا۔۔۔۔مگر ابھی آپ خاموش رہیں۔۔۔۔۔
روز محلے کے بچے آپ سے سپارہ پڑھنے کے لئے آتے ہیں ۔اگر کسی نے بھی اپنے گھر جا کر
بتا دیا اس بارے میں تو سب آپ سے سوال کریں گے۔۔۔۔۔
ایک منٹ رکیں۔۔۔۔وہ کچھ لمحے خاموش ہوئی پھر سوچنے کے انداز میں بولیں۔۔۔
“ایسا کریں میں گھر کو باہر سے لاک لگا دیتی ہوں آپ گھر میں ہی رہیں کوئی پوچھے گا تو میں کہوں گی کہ آپ اپنے بیٹے کی طرف گئی ہیں۔۔۔۔۔
دو ماہ ایسے ہی گزرنے دیں۔۔۔۔میں آپ کو ہر چیز اوپر چھت سے آکر دے جایا کروں گی۔۔۔۔
پھر بعد میں بہانہ کر کہ بتا دیجیے گا کہ یہ میرے دور پار کے رشتہ دار کی بچی ہے۔۔۔۔۔
وہ صندل کے دئیے گئے مشورے پر غور کرنے لگیں۔۔۔۔۔
دروازے پر ہوئے کھٹکے نے انہیں ماضی کی یادوں سے حال میں لا پٹخا۔۔۔۔۔
“بدرا بیٹا دیکھو دروازے پر دستک کون دے رہا ہے ؟؟؟؟
جی اماں بی میں دیکھتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے دروازے پر گئی اور چٹخنی کھول کر دیکھا تو سامنے ایک سوبر سا سوٹڈ بوٹڈ شخص کھڑا تھا۔۔۔۔۔
آپ کون ؟؟؟؟
بدرا نے اس سے پوچھا۔۔۔۔
“پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟؟؟؟
اس آنے والے شخص نے اس کے سوال کو نظر انداز کیے اپنا سوال داغا۔۔۔۔۔۔
