367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 1

رم جھم برستی بارش،پتوں سے ٹپ ٹپ گرتی بوندیں،مٹی سے اٹھتی سوندھی سی خوشبو،اس سہانے موسم میں وہ اپنے من پسند محبوب کے انتظار میں بار بار اپنے ہاتھ میں بندھی ہوئی نازک سی سلور ڈائل والی گھڑی پر نظر ڈال رہی تھی۔آج یونی کے بعد ہاسٹل جانے سے پہلے وہ بارش سے بچتی ہوئی پاؤں میں پمپس پہنے تیز تیز قدم اُٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی۔ پانچ فُٹ ، پانچ اِنچ قد کی حامل وہ لڑکی جلدی میں لگ رہی تھی۔ اِس وقت وہ بلیک جینز اور گُھٹنوں سے تھوڑا سا اوپر آتی شارٹ کرتی میں ملبوس تھی، سر پر سکارف لیا ہوا تھا اور بال شاید جوڑے میں مُقید تھے۔ چہرے کے اطراف میں ایک دو لٹیں ہی جھولتی ہوئی نظر آ رہی تھی باقی تو سکارف کے اندر ہی کہیں چُھپے ہوئے تھے۔ معصومیت چہرے پر سجائے ، سفید و سُنہری رنگت لیے، ہونٹوں کو آپس میں بھینچے وہ آگے بڑھ رہی تھی۔ اُس کے تیز چلتے قدم ایک مخصوص ہوٹل کے سامنے رُکے تھے۔
“ایک چائے کا کپ لادیں۔” وہ وہاں موجود ایک ویٹر کو دیکھ ۔
کر بولی اور خُود ٹیبل کے گِرد رکھی ہوئی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھی۔ اپنا سکارف سر پر ٹھیک کرتے ہوئے،ایک طائرانہ نِگاہ ہوٹل میں موجود افراد پر ڈالی۔ زیادہ تر وہاں آدمی ہی موجود تھے۔ اِکّا دُکّا کہیں کہیں ایک دو ہی خواتین نظر آئیں تھیں اُسے۔
“وقت تو یہی دیا تھا۔” وہ منہ بناتی ہوئی اینٹرینس کی طرف پلٹی تو وہ سامنے سے چلا آ رہا تھا۔
کاٹن کی سفید شرٹ جس پر بلیو چیکس تھے اور بلیو جینز میں ملبوس وہ گھڑی پہ وقت دیکھتا جلدی ہی آفس سے نِکل آیا تھا۔ وہ بس تھوڑی ہی دیر کے لیے وہاں لنچ ٹائم میں اس سے ملنے آیا تھا۔ آنکھوں پہ بلیک گاگلز لگائے،وہ شاید اسی کی تلاش میں نظریں دوڑا رہا تھا۔
اس نے ہاتھ ہلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو وہ شناسا سی مسکراہٹ اچھال کر اسی کی طرف بڑھا۔۔۔
“کیسی ہو “؟
اپنا موبائل اور گاڑی کہ کیز ٹیبل پر رکھتا ہوا شگفتگی سے بولا۔
“آپ تو مجھ سے نکاح کر کہ بھول ہی گئے ہیں کہ ایک عدد معصوم سی منکوحہ بھی موجود ہے آپ کی اس شہر میں “اس نے منہ پھلائے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“بس یار آفس سے وقت نہیں ملتا “,تم بتاؤ سٹڈیز کیسی جا رہی ہیں ؟”
“ٹھیک ہے سب ،آپ کو تو پتہ ہی ہے لاسٹ ائیر سٹارٹ ہو چکا ہے “
“ہم لوگ اپنے پیار کے رشتے کو چوری چھپےنکاح کے بندھن میں خودی باندھ توچکے ہیں ،مگر میری سٹڈیز کمپلیٹ ہوتے ہی آپ میرے گھر رشتہ بھجوائے گے اور پھر ہم دنیا کی نظر میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ہو جائیں ۔۔۔
“تم فکر مت کرو ،ایسا ہی ہو گا”اس نےمقابل موجود صنف مخالف کے سفید رنگت والے نازک سے ہاتھ پر اپنا مردانہ بھاری ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی آمیز انداز میں کہا۔
“چائے پیئیں گے؟
“نہیں اتنا وقت نہیں ‘واپسی پر بھی وقت لگے گا۔ابھی بزی ہوں ۔۔۔
“آج شام علینہ اور علی کی انگیجمینٹ ہے تم آؤ گی ؟”
“آنا تو پڑے گا آخر کو علینہ میری کلاس میٹ اور بیسٹ فرینڈ ہے جبکہ علی آپ کا دوست “
“ٹھیک ہے تو پھر شام کو ملاقات ہوتی ہے تقریب میں ایک ضروری میٹنگ ہے وہ موبائل پر وقت دیکھ کر بولا۔
“مس یو “
وہ اٹھتے ہوئے وجود کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نرم نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
“مس یو ٹو “اس کے بھی ہلکی سی مونچھوں تلے عنابی لب مسکائے۔۔۔۔


“بدرا کہاں ہو باہِر آو۔ دیکھو ناشتہ تیار ہو گیا؟ لڈو اِنتظار کر رہا ہے ،سکول کا وقت ہو چلا ہےاور تُجھے کُچھ ہوش ہی نہیں۔” بی جان نے اسے سکول یونیفارم میں ملبوس دیکھا تو وہ وہیں سے اونچی صدا لگاتی کِچن کی جانِب بڑھی ۔۔۔۔۔
لڈو کے چہرے پر بدرا کو دیکھ کر چمک ابھری۔
وہ بھی کمرے سے باہر نکل کر ایک نظر لڈوپہ ڈال کر جلدی سے کِچن میں چلی گئی۔
اگلے چند مِنٹ میں وہ ناشتہ ٹرے میں سجائے باہر آئی۔۔۔۔
“لڈو ناشتہ کر لو تم بھی!” بدرا نے ٹرے اُس کے سامنے کی اور خُود پاس ہی بیٹھ گئی۔
“نہیں شکریہ تم بس جلدی سے ختم کرو اسے میں نے ناشتہ کر لیا ہے پہلے تمہیں سکول چھوڑنا ہے پھر مجھے بھی وقت پر پہنچنا ہے اپنے سکول ” وہ نہایت متانت سے بولا۔
“تمہیں کِسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟”
“نہیں “لڈو مجھے کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں”وہ جلدی سے پراٹھے کا آخری لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے اپنی جگہ سےاٹھی اور شانے پر بیگ ڈالا۔۔۔
بی جان کی دعاؤں کے حصار میں وہ سر پر اس عمر میں بھی دوپٹہ اچھی طرح سےاوڑھے ہوئے رخصت ہوئی۔۔۔۔
بدرا کی عمر صرف گیارہ سال تھی،بی جان نے اس کی چھوٹی سی عمر میں ہی ایسی تربیت کی تھی کہ وہ اپنے سر سے دوپٹہ اترنے نہیں دیتی اپنے آپ کو ہر وقت دوپٹے میں لپیٹ کر رکھتی۔لڈو ان کا محلے دار ساتھ والے گھر کا رہائشی تھا جو بدرا سے عمر میں تین سال ہی بڑا تھا۔بہت ہی نیک اور صالح بچہ تھا ،وہ بی جان سے قرآن پاک پڑھنے آتا تھا۔بی جان جو اب گھٹنوں کے درد کی مریضہ بن چکی تھی۔زیادہ دور نا چل پانے کی وجہ سے انہوں نے بدرا کو سکول چھوڑنے اور واپسی پر اسے ساتھ لانے کا کام لڈو کے ذمے لگایا تھا۔۔۔۔
جسے وہ بخوشی انجام دیتا۔۔۔۔۔
یہ منظر تھا ایک گاوں کا جہاں رہنے والے لوگوں کے دلوں میں مُحبّت کا سمندر آباد تھا اور انہیں میں سے ایک تھیں” بی جان “
دور تک نظر دوڑاو تو ہر طرف صِرف اور صِرف ہریالی ہی ہریالی نظر آتی تھی۔ اِس ہریالی کے بیچ و بیچ واقع تھا یہ خوبصورت علاقہ۔ سر سبز و شاداب یہ علاقہ خُوبصورتی میں اپنی مِثال آپ تھا۔ کچْے پکّے مکان ایک ترتیب سے اور کُچھ زرا دور دور بنے ہوئے تھے ۔
بی جان کے مرحوم شوہر سکندر شاہ ایک سخت گیر اور غُصّیل طبعیت کے مالِک تھے۔ نرمی اُن کی ذات میں مفقود تھی ،جبکہ بی جان طبیت میں اپنے مجازی خدا سے بالکُل اُلٹ، مِزاج کی نرم اور خُوش اِخلاق، ہر وقت ایک نرم سی مُسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر رکھنے والی۔ کبھی کِسی وجہ سے اُن کے ماتھے پر ناگواری کے بل نہیں پڑے تھے۔ ہر ایک سے خُوش اِخلاقی سے مِلتیں جو اُن کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ محلے کے بچوں کو سپارہ پڑھاتی تھیں۔سارا محلہ ان کی عزت کرتا تھا ،کیونکہ ان کا تعلق سید گھرانے سے جو تھا۔۔۔۔اُن کے دو بچے تھے نہال شاہ، اور عائزہ شاہ۔۔۔۔
عائزہ ایک نٹ کھٹ سی لڑکی تھی ہر کِسی سے گُھل مِل جانے والی اور شوخ و چنچل۔ اپنے بھائی کی لاڈلی اِکلوتی بہن۔ نہال شاہ کی تو جان بستی تھی اُس میں۔
نہال شاہ اپنے مرحوم بابا سکندر شاہ جیسے تو نہیں تھے مگر سختی کا عنصر اُس میں بھی پایا جاتا تھا۔ وہ اپنی ماں کی ہاں میں ہاں مِلانے والے اور اُن کی ہر بات کو حُکم کا درجہ دینے والا اِنسان تھا۔
عائزہ کا ایک اچھا رشتہ آیا لڑکا آسٹریلیا میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا کچھ دنوں کے لیے اپنے پرانے رشتے داروں سے ملنے پاکستان آیا اور ایک شادی کی تقریب میں عائزہ کو دیکھ کر پسند کرلیا ۔۔۔۔
عائزہ کے تو گویا نصیب ہی جاگ اٹھے۔۔۔۔
بی جان نے اور نہال شاہ نے اتنا اچھا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور عائزہ کی رخصتی دائم آفندی سے کردی ۔۔۔
اور اب وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ آسٹریلیا میں ہی مقیم تھی۔اور ایک خوشگوار زندگی گزار رہی تھی۔
جبکہ نہال شاہ نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب شروع کردی۔۔۔۔۔
وہیں اس کے باس نے اس کی کام کو لے کر لگن دیکھتے ہوئے ایک دن اسے ایک آفر دی۔
جسے سن کر وہ بھونچکا رہ گیا۔۔۔۔۔
“میری بیٹی سے شادی کر لو میں اپنا سارا بزنس تمہارے حوالے کر دوں گا ،مگر میری ایک شرط ہے تم اسے چھوڑو گے نہیں کبھی بھی۔۔۔اگر تم نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ساری جائیداد ٹرسٹ میں چلی جائے گی”
پہلے تو کچھ لمحے دماغ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے مفقود ہوا۔۔۔۔۔
اس نے ان سے کچھ وقت لیا سوچنے کے لیے۔۔۔
مگر پھر اپنے خستہ حال گھریلو حالات دیکھ کر اس نے اپنے روشن مستقبل کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھرنے کا فیصلہ لے ہی لیا۔۔۔۔
سکندر شاہ کی وفات کے بعد بی جان نے ان دونوں بہن بھائیوں کو جس طرح کسمپرسی کی حالت میں پالا تھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہ تھا۔زندگی اگر اسے کچھ بن جانے کا موقع دے رہی تھی۔تو وہ اسے اپنے ہاتھوں سے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
اسی لیے اس نے اپنے باس کی بیٹی سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔
نہال شاہ نے اپنے جیون ساتھی کے حوالے سے کئی خُواب بُنے تھے مگر اُن خوابوں کی تعبیر خُوبصورت نہیں تھی۔ نہال شاہ نے یہ نِکاح صِرف اور صِرف اپنے مستقبل کی وجہ سے کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ تعبیر خُوبصورت نہیں تھی۔ وہ خُوبصورت تھی لیکن نہال شاہ ایک ایسا شخص تھا جِسے کم ہی کوئی چیز پسند آتی تھی۔


تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔۔۔۔اس ہوٹل کا شمار شہر کے عمدہ ترین ہوٹل میں سے تھا۔
سٹیج پر موجودکپل مہمانوں سے تحائف اور وشز وصول کر رہے تھے۔۔۔۔
دونوں کی جوڑی شاندار لگ رہی تھی۔
وہ بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس سکائی بلیو شرٹ اور بلیک سکائی بلیو ترچھی دھاریوں والی ٹائی لگائے ہاتھ میں اعلیٰ برانڈ کی گھڑی ڈالے، چمچماتے شوز پہنے ہوئے تھا ،اور خوبرو چہرے پر سجی سیاہ بڑی بڑی آنکھیں جو ہمیشہ شاید نظر نہ لگ جانے کی وجہ سے گاگلز کے پیچھے چھپی رہتی تھیں آج چمکتی ہوئی نظر آئیں تو غضب ڈھا رہی تھیں۔
وہ بھی آج اس کے رنگ میں رنگی بلیک دلکش میکسی زیب تن کیے ہوئے تھی،جو ایک دن اسی نے اپنی پسند سے اس کے لیے خریدی تھی۔۔۔۔
ہلکا سا نیچرل میک اپ کیے وہ بھی اپنی تمام تر خوبصورتی سے مقابل موجود شخصیت کے دل پر بجلیاں گرانے کا سبب بن رہی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں علی اور علینہ کی انگیجمینٹ کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے ان دونوں کا دھیان تقریب میں کم اور ایک دوسرے میں زیادہ تھا۔۔۔۔
نظروں ہی نظروں میں وہ ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے تھے۔
دونوں علی اور علینہ کو وش کرنے کے بعد ایک ہی ٹیبل پر موجود تھے ،
پر تکلف ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا وہ دونوں بھی اس سے محذوذ ہوئے۔۔۔۔
“آج تو آپ میری جان نکالنے کے در پہ ہیں “اس نے کولڈ ڈرنک کا سپ لے کر کانچ کا گلاس میز پہ رکھا اور پھر شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئےبولا۔۔۔۔
وہ جو بریانی کی بائٹ منہ میں ڈال رہی تھی اس کی ذو معنی بات سن کر چاول حلق میں اٹک کر رہ گئے۔۔۔۔
وہ گلے پر ہاتھ رکھ کر زور سے کھانسنے لگی۔۔۔۔
پھر ہاتھ بڑھا کر اسی کا کولڈ ڈرنک کا بچا ہوا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا اور بنا سانس لیے غٹاغٹ گلے میں انڈیل لیا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد کچھ سکون ملا ،مگر اس کی آنکھیں پانیوں سے تربتر ہو چکی تھی۔
ڈنر سے فارغ ہوئے تو سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
“ایک گیم کھیلیں ؟وہ بولا۔
“یہ کوئی عمر ہے ہماری گیمز کھیلنے کی؟”
“یہ گیم ہماری عمر کے لوگوں کے لیے ہی ہے مادام!
“چلو الفابیٹ بولو”۔۔۔
A.
وہ بولی
B.
اس نے اگلا لفظ بولا
C.D.E.F.G.H. I
اس نے کہا ۔
Love
وہ شرارتی لہجے میں بولا۔
You.
بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا۔۔۔
جاندار قہقہہ اس کے منہ سے برآمد ہوا۔۔۔۔
وہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ مصنوعی غصہ سجائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
I Love You…..
وہ جذبوں سے چور لہجے میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
But I more than you….
اس نے بھی اپنی مدھر آواز میں نظریں جھکائے ہوئے ڈولتے دل سے کہا۔۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
ان کی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ ایم ۔بی۔ اے کے فرسٹ ائیر میں تھی جبکہ وہ لاسٹ ائیر میں۔۔۔
اس ایک سال کے دوران ان دونوں میں ایسی محبت پروان چڑھی کے آخر کار ان دونوں نے اپنے پیار کو نام دینے کے لیے خود کو نکاح جیسے مضبوط اور پاکیزہ بندھن میں باندھ لیا۔۔۔۔۔
تقریب ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔۔۔۔
“تم کہاں ؟”اس نے حیران کن نظروں سے اسےباہر جاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔
“ہاسٹل اور کہاں ؟اگر زیادہ لیٹ ہو گئی تو وارڈن گھسنے نہیں دے گی۔”
“کیا آج ہم کچھ وقت ساتھ نہیں گزار سکتے ؟”
تین ماہ ہو چکے تھے انہیں اس رشتے میں بندھے مگر آج تک انہوں نے کوئی لمٹ کراس نہیں کی تھی۔
یہ پہلی بار تھا جب اس نے کوئی فرمائش کی تھی۔۔۔۔
“مگر ہاسٹل “؟
وہ صرف ہی کہہ پائی۔۔۔
“صبح ہوتے ہی چھوڑ دوں گا “
“ابھی چلو گی میرے ساتھ “اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔
اس نے اپنا نازک ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں دے دیا۔۔۔۔
مگر دل میں عجب سا خوف بھی تھا۔۔۔۔
وہ اسی ہوٹل کا ایک روم بک کروا کر اسے وہاں لے آیا تھا۔۔۔۔
دونوں وہاں موجود تھے مگر کمرے میں گھمبیر خاموشی کا راج تھا،دونوں کی آنکھوں کی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔یہ آنکھوں کی باتوں کا شور ان دونوں کے دل کی دھڑکنوں کو اور بھی بڑھانے کا باعث بن رہا تھا۔
دل کی دنیا جیسے تہہ و بالا ہونے کو تھی،
آج اسے پہلی بار اتنا نک سک سے تیار دیکھا تو خود میں مچلتے ہوئے شوریدہ جذبات کو تھپک کر سلانے میں ناکام رہا۔۔۔۔۔
کمرے میں معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔
آخر کو وہ اس کی منکوحہ تھی،ان میں ایک پاک رشتہ قائم تھا تو پھر ڈر کیسا؟؟؟؟
اس نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔
اس کے نرم و ملائم گال کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے اس نے اس پر اپنا محبت بھرا پہلا لمس چھوڑا۔۔۔۔۔
وہ جی جان سے کانپ اٹھی اس کی اتنی قربت پر گلابی گال دہک اٹھے۔۔۔ آنکھوں پر سایہ فگن لرزتی مژگانیں اسے مسمرائز کرنے لگیں۔۔۔
دل تو پہلے ہی بے قابو ہوا چاہتا تھا اب تو اور بھی فدا ہوا اپنے محبوب کی جان لیوا اداؤں پر۔۔۔۔۔
اس کی بڑھتی ہوئی گستاخیوں اسے خائف ہوتے ہوئے وہ پل بھر میں اس سے دوری بنا گئی۔۔۔۔۔
“پلیز ابھی یہ سب ٹھیک نہیں “مقابل کی آنکھوں میں مدھوشی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آباد دیکھ کر لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بمشکل بول پائی۔۔۔۔
“اگر تمہیں یاد نہیں تو میں اچھے سے یاد کروا دیتا ہوں کہ ہم دونوں میں کیا تعلق ہے ….”
“مجھے اچھے سے سب یاد ہے مگر دنیا کی نظروں میں ابھی ہمارا رشتہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا “
“دنیا کی کسے پرواہ ہے ؟
تم اس دل کی پرواہ کرو جس کی دنیا تم پل بھر میں زیر و زبر کر چکی ہو ۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتے ہوئے خمار آلود آواز میں بولا۔
“مگر میرے گھر والے ؟؟؟اس نے اسے روکنے کے لیے حقیقت سے آگاہ کروانا چاہا۔۔۔۔
“فی الحال بھول جاؤ سب کچھ بس یہ یاد رکھو کہ ہم دونوں میں کتنا خوبصورت رشتہ ہے اور یہ اسی رشتے کی نزاکت ہے ،میرے بے بس دل کو قرار چاہیے۔۔۔۔۔آج مجھے مت روکو۔۔۔۔
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ بستر پر گرا گیا۔۔۔۔
اور اپنی محبت کی بارش میں بھگونے لگا۔۔۔۔
دل کی دھڑکنیں جیسے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے لگیں۔۔۔۔
ماحول میں چھائی فسوں خیزی انہیں ایک الگ دنیا میں لے گئی۔۔۔۔
اس نے تھوڑی بہت مزاحمت کی مگر نا کام رہی آج اس کے مجازی خدا کے منہ زور جذبات کو روک پانا اس کے بس سے باہر ہوا۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖