367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 21

کبھی اس طرح میرے ہمسفر
سبھی چاہتیں میرے نام کر
اگر ہو سکے تو کبھی کہیں
میرے نام بھی کوئی شام کر۔
میرے دل کے سائے میں آ ذرا
میری دھڑکنوں میں قیام کر
یہ جو میرے لفظوں کے پھول ہیں
تیرے راستے کی دھول ہیں۔
کبھی ان سے سن میری داستاں۔
کبھی ان کے ساتھ کلام کر۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی ماہر امراض جلد بدرا کے بری طرح جھلس چکے پاؤں کا چیک اپ کیے گئے تھے۔۔۔۔
دراک اب اس کے قریب بیٹھا اس کے جلے ہوئے پاؤں پر مرہم لگا رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ بے ہوشی میں بھی اپنے پاؤں کو ہلا رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کے زخم دیکھ دراک کے دل کو بھی کچھ ہوا۔۔۔۔۔
“کس قدر بے رحمی سے اسے ۔۔۔۔۔۔۔وہ صرف سوچ کر رہ گیا۔۔۔۔
“میں اس کی جان لے لوں گا۔۔۔۔یہ میرا خود سے وعدہ ہے۔۔۔۔۔۔
دوسرے ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیے بتایا کہ ویکنیس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔۔۔۔
اس لیے انہوں نے بدرا کو ڈرپ لگا دی۔۔۔۔
اب وہ اسی کے زیر اثر غنودگی میں تھی۔۔۔۔
دراک اس کے پاس رکھی گئی چئیر پر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
جس کا ہمیشہ سادہ سا چہرہ دیکھا تھا۔۔۔۔
آج اتنے ڈارک میک اپ میں اس کے چہرے کا ایک ایک نقش واضح ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ بلا اختیار ہی اس کے دلکش چہرے سے نظریں ہٹا گیا۔۔۔۔اور کرسی کی پشت پر سر رکھ دیا۔۔۔۔۔
اس کے جاگنے کے انتظار میں۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“سر آپ سے کوئی میڈم علینا ملنے آئیں ہیں۔۔۔
اس کی اسسٹنٹ نے اسے فون پر اطلاع دی۔
“اسے کہہ دو کہ میں میٹنگ میں بزی ہوں۔۔۔
ابھی بات پوری طرح مکمل بھی نا ہو پائی کہ وہ دروازہ کھول کر آفس میں داخل ہوئی۔۔۔۔
“دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپ جاؤ میں تمہیں ڈھونڈھ ہی نکالوں گی۔۔۔۔
“میں بہت بزی ہوں جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر سرد مہری سے بولا۔
“مضربان !!!! وہ خفگی بھرے انداز میں بولی
“آج پہلی بار اس مچھر کی بجائے اسے اس کے نام سے پکارا۔۔۔۔
مضربان نے اپنی نظروں کا زاویہ اس کی طرف کیا۔۔۔۔۔
وہ جو ہمیشہ جینز اور ٹاپ میں ملبوس ہوتی آج لائٹ پنک کلر کی شارٹ فراک اور کیپری میں تھی۔۔۔۔۔ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالے۔۔۔۔
ہیل کی ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ اسی کی طرف بڑھ رہی تھی۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔پھر چلی جاؤں گی۔۔۔۔
“مگر مجھے تم سے کوئی بھی بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔
“پلیز مضربان اس سب میں میرا کیا قصور ؟؟؟؟اس بار وہ رندھے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔۔
آنکھوں میں نمی گھلنے لگی۔۔۔۔
“صرف اتنا کہ وہ میرے ماموں ہیں؟؟؟؟
“مجھے یہ سب پتہ ہوتا تو میں۔۔۔۔۔۔
“کیا میں؟؟؟؟بولو کیا میں؟؟؟”میری بہن تمہارے ساتھ تھی نا تو بولو کہاں ہے وہ ؟؟؟
جواب دو اب بولتی کیوں بند ہو گئی تمہاری؟؟؟وہ دھاڑا تھا۔۔۔۔۔
“دوبارہ یہاں اس طرح منہ اٹھا کر آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔۔
“مضربان دیکھو میرے ساتھ ایسا نہیں کرو “””
“اب میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔مجھے اس راہ پر لاکر بیچ راستے میں چھوڑ دو گے ؟؟؟؟
تم نے ہی مجھے اس راہ کا مسافر کیا ، منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی اپنے قدم واپس لے لیے ایسا کیوں ؟؟؟؟وہ تڑپ کر بولی۔
“ہاں لے لیے قدم واپس۔۔۔۔۔”کیونکہ میں نے اپنی منزل اور راہیں دونوں بدل لیں ہیں۔۔۔۔
اور میرا مفید مشورہ ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔
“جتنی جلدی ہو سکے تم بھی اپنے قدم واپس لے لو۔۔۔۔۔اس سفر کی کوئی منزل نہیں۔۔۔۔۔
وہ سپاٹ انداز میں بولا۔
“میں اپنے قدم واپس نہیں لوں گی۔۔۔۔وہ بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے اٹل لہجے میں بولی۔۔۔۔
“”اور ہاں دوبارہ یہاں آنے کی زحمت مت کرنا۔۔۔۔
مضربان کا کھردرا لہجہ اس نے بخوبی محسوس کیا۔۔۔۔۔۔
اور ایک تفصیلی نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔۔
گرے تھری پیس سوٹ پر ڈارک گرے شرٹ اور ٹائی لگائے۔۔۔۔ہلکی سی بئیرڈ جیل لگا کر بالوں کا سیٹ کیے ہوئے۔۔۔۔
اب وہ اپنے سامنے رکھے فائلز کو یوں منہمک انداز میں پڑھ رہا ہو جیسے ان سے زیادہ ضروری اور کوئی کام نہیں اسے دنیا میں۔۔۔۔
چراؤ نظریں،چھڑاو دامن،
بدل کہ رستہ ،بڑھاو الجھن،
تمہیں دعاؤں سے پھر بھی میں نے،
جو پا لیا تو کیا کرو گے ؟؟؟؟؟؟؟
وہ ایک ایک لفظ اس کی بے توجہی پر چبا کر بولی۔۔۔۔
مگر وہ بے نیازی سے سر جھکائے رہا۔۔۔۔
اور تب تک اسی پوزیشن میں رہا جب تک دروازہ بند ہونے اور اس کی ہیل کی ٹک ٹک کی آواز آنا بند نہیں ہو گئی۔۔۔۔
اس نے سر اٹھایا اور اسی جگہ کو دیکھا جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑی تھی ،پھر ریوالنگ چئیر کی پشت پر ٹیک لگا کر سرد سی آہ بھری۔۔۔۔۔۔
کل تقی کے جواب سے مطمئن نہ ہو سکی تو اس نے خود مضربان سے گھر کی بجائے آفس میں جا کر ملنے کا سوچا۔۔۔۔۔
اسی لیے اس نے گوگل سے گردیزی اینڈ سنز کی لوکیشن معلوم کی اور پھر وہیں اس سے ملنے چلی گئی مگر جانے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
دوپہر کا وقت تھا سورج اپنے پورے آب و تاب سے روشن تھا۔
وہ یونی سے نکلنے سے پہلے بیگ میں موجود سن بلاک ہاتھوں میں نکال کہ چہرے پر لگاتی ہوئی باہر نکل آئی۔۔۔۔۔
سن گلاسز آنکھوں پر چڑھائے ابھی وہ روڈ کراس کرنے ہی لگی تھی کہ ایک تیز رفتار گزرتی ہوئی وین اچانک اس کے پاس آکر رکی۔۔۔۔ٹائروں کی چڑچڑاہٹ سے اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔
ایک لمبی چوڑی جسامت کا آدمی جس نے بلیک پینٹ اور بلیک ہڈی پہن رکھی تھی۔۔۔چہرے پر بلیک ماسک لگائے اسے اچھے سے کور کر رکھا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی اس مضبوط ڈیل ڈول شخصیت کے مالک نے اس کے منہ پر کلوروفارم والا رومال رکھا۔۔۔۔
مگر وہ ہاتھ پاؤں چلانے لگی۔۔۔۔
وہ اس کے قابو میں نہیں آتی دکھائی دی تو اس نے اسے گھسیٹ کر گاڑی میں پٹخا ۔۔۔۔
اور ڈرائیور نے گاڑی چلا دی۔۔۔۔
کچھ کچھ دیر مزاحمت کے بعد وہ ہوش و حواس بیگانہ ہو گئی۔۔۔کیونکہ اب کلوروفارم نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“چھوڑ دو مجھے جانے دو”
“مجھے چھونا مت “
وہ کانپتی ہوئی خوفزدہ آواز میں بڑبڑا رہی تھی۔۔۔۔۔دراک جسکی بدرا کی ڈرپ اتارنے کے بعد ابھی کچھ دیر پہلے ہی آنکھ لگی تھی اس کی ڈری سہمی ہوئی آواز سن کر فورا بیدار ہوا۔۔۔۔۔
“کچھ نہیں ہو گا تمہیں ۔۔۔۔آنکھیں کھولو میں تمہارے پاس ہوں ۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔۔۔۔۔۔”وہ دھیمی آواز سے تسلی آمیز لہجے میں بولا۔۔۔۔
وہ بیدار ہوئی تو سامنے چئیر پر بیٹھے ہوئے دراک کو سامنے پایا۔۔۔۔۔
جو آنکھوں میں کشمکش لیےاسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ابھی تک وہ انہیں کپڑوں میں ملبوس تھی۔۔۔۔
بس پاؤں باہر تھے اور گردن تک کمفرٹر اوڑھے ہوئے تھی۔۔۔۔
پاؤں میں اب درد کا احساس کافی حد تک کم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
“کیسی ہو ؟؟؟
اس کی گھمبیر آواز نے کمرے میں چھائے سکوت کو توڑا۔۔۔۔۔
“ٹھیک “اتنا پوچھنے کی دیر تھی یکا یک اس کی ہلکی سبز آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں۔۔۔
“کون ہے وہ ؟؟؟؟”
“کون؟ “بدرا نے حیرانگی سے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
“اسے امید تھی وہ اس سے یہ سوال ضرور کرے گا مگر اتنی جلدی اس بات کی اسے توقع نہ تھی۔
“وہی جس کی وجہ سے تم وہاں پہنچی …..
اس کے پوچھنے کا انداز انتہائی سخت تھا۔۔۔۔
آنکھوں میں چھائی ہوئی وحشت بخوبی محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔اس بات کو پوچھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں شعلوں کی سی لپک تھی۔۔۔۔
اس سارے واقعے میں سب سے دلدوز بات جو تھی، وہ تھی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی اماں بی جسے وہ کھو چکی تھی۔۔۔۔
جس کو بچپن سے اپنی ماں مان کر ان سے پیار کیا۔۔۔۔۔اور انہوں نے اسے دلار دیا۔۔۔۔۔۔۔
وہی اسے اس جہاں میں تنہا چھوڑے جا چکی تھی۔
یہی دکھ اس کے باقی دکھوں پر حاوی تھا۔
“میں کتنی بدنصیب ہوں نا ،اپنی اماں بی کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا۔۔۔۔”
وہ درد بھری آواز سے سر جھکائے بولی ۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو ؟؟؟دراک پچھلی بات بھلائے اس کی اس بات پر حیران ہوا۔۔۔۔۔
“اماں بی اب میرے ساتھ نہیں وہ اس دنیا کو چھوڑ کر جا چکی ہیں۔۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“میں اکیلی رہ گئی ۔۔۔۔”میں اکیلی رہ گئی۔۔۔
وہ کرب سے آنکھیں میچ کر بولی۔۔۔۔
آنکھوں سے تر بتر آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔
بدرا جو لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔اسے قریب آتے دیکھ تھوڑا اٹھ کر بیٹھی۔۔۔۔۔
“اک بات کہوں ؟”
وہ بستر پہ زرا دوری پر جگہ بناتا ہوا اس کے پاس بیٹھا۔۔۔۔
وہ خود میں سمٹ گئی۔۔۔۔
“جی “وہ دھیرے سے بولی۔
“گر میں ان آنسوؤں کو صاف کرنے کا حق چاہوں تو مجھے دو گی؟”
“جی “وہ نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھ کر بمشکل بولی۔۔۔۔
“میں چاہتا ہوں تمہاری ان آنکھوں میں جتنے آنسو ہیں انہیں اپنی آنکھوں میں بھر لوں،
آنکھیں میری اور درد تمہارا،
اس سے بڑی سوغات دنیا میں میرے لیے کچھ نہیں۔۔۔۔۔”
“چاہو تو عطا کرو ،چاہو تو ٹھکرا دو ۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
“وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔۔۔۔اسی کے رخ ِ روشن پر نگاہیں جمائے۔۔۔۔۔
“اک بار کہوں گر سنتے ہو !!!!!
وہ گہری سانس لیتے ہوئے آزردگی سے بولا
“تم مجھکو اچھے لگتے ہو “وہ من میں اس کا جواب دے گئی مگر منہ پر خاموشی کے قفل لگائے ہوئے تھی۔۔۔۔۔
“میں تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنا بنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔کیا تم میری چاہت کو اپنی چاہت بنا کر اسے قبولیت کی سند بخشو گی۔۔۔۔۔دراک نے اپنی کشادہ ہتھیلی اس کے آگے کی۔۔۔
“آپ کچھ بھی نہیں جانتے میرے بارے میں اسی لیے ایسا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔جب حقیقت سے آشنا ہوں گے تو آپ بھی مجھے باقیوں کی طرح ٹھکرا دیں گے۔۔۔۔۔۔
“میں آپ کے قابل نہیں “وہ سرد لہجے میں بولی۔۔۔۔
“مجھے تمہارے بارے میں کچھ نہیں جاننا۔۔۔۔
تم جو ہو جیسی ہو مجھے قبول ہو ۔۔۔۔
“مگر میں ایسا نہیں چاہتی۔۔۔۔
“نہیں چاہتی زندگی کے ایسے موڑ پر آپ کو سچائی پتہ چلے جہاں میں آگے کی رہوں نا پیچھے کی۔۔۔۔
میں آپ کو بتاتی ہوں کہ میں کیا ہوں ؟؟؟؟
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔۔۔۔
آپ مجھ سے ملیے میں ہوں ایک ناجائز اولاد ۔۔۔
میری ماں مجھے شاید پیدا ہوتے ہی کوڑا دان میں پھینک گئی۔۔۔۔
میں نے تو سنا ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جان بھی قربان کر دیتی ہے مگر مجھے جننے والی ماں کیسی تھی ؟جو مجھے اپنی زندگی بچانے کی خاطر کوڑا دان میں پھینک گئی۔۔۔۔
اس دنیا میں جسے باپ کہتے ہیں سب وہ باپ جو کڑی دھوپ اور تیز بارش کی پرواہ کیے بنا اپنی اولاد کی خواہشات پوری کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اسے بھی میری ذات سے کوئی سروکار نہ تھا ؟اس کی آواز رندھنے لگی۔۔۔
اپنی زندگی کو حسین بنانے کے لیے چند لمحے ساتھ گزارنے کی میرے نام نہاد والدین کی غلطی ہوں میں ؟؟؟؟وہ تڑپ کر بولی
دیکھا جائے تو اصل قصور میرا ہے میں آئی ہی کیوں اس دنیا میں ؟وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا درد بیان کر رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا جو مجھے جنم دینے والی ماں کسی کے پیار کے جھانسے میں آگئی؟؟؟؟(وہ بھی کوئی عورت ہے جسے اپنی عزت کا خیال نہ ہو )
کیا ہوا جو میری ماں کی محبت کا دعویدار چند سحر انگیز لمحوں کی زد میں آ کر بہک گیا ہو ؟؟؟
شاید اس کا بھی کوئی قصور نہیں اسے بھی شیطان نے بہکایا ہوگا۔۔۔۔۔؛(وہ بھی کوئی مرد ہے جسے اپنے نفس پر قابو نہیں؟ ۔۔۔۔۔)
لیکن دنیا والے ایسے مرد کو مرد ہی مانتے ہوں گے یقیناً۔۔۔۔۔
بس کرو پلیز ۔۔۔۔۔اس نے اسے روکنا چاہا۔۔۔
کاش میں اس دنیا میں نہ آتی اور ان کے اس رشتے کا راز ۔۔۔راز ہی رہ جاتا۔۔۔۔
آج مجھے اپنے اندر جو ہے اسے بہا لینے دو ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا اس کرب سے ۔۔۔۔
میں سوچتی ہوں مجھے پیدا کرنی والی ماں نے جب اپنے شوہر کا پہلا بچہ پیدا کیا ہوگا تو کیا اسے میری ایک بار بھی یاد آئی ہو گی؟؟؟؟
میرے باپ کو جب اس کی بیوی نے پہلے بچے کی خبر سنائی ہوگی تو کیا اسے میری یاد چھو کہ گزری ہو گی۔۔۔۔۔
جب میری ماں کے بچے نے اسے پہلی بار ماں کہہ کر بلایا ہوگا تو اسے کوڑا دان میں گری اپنی بچی کی رونے کی چیخیں سنائی دیں ہوں گی؟؟؟؟
جس نے اسے خود سے کاٹ کر پھینک دیا ہوگا۔۔۔۔۔بولتے ہوئے چہرہ آنسوؤں سے تربتر ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔
جب وہ عورت اپنے بچوں کا تعارف کسی سے کرواتی ہو گی تو کیا اسے میری یاد آتی ہوگی ؟؟؟کبھی ماضی میں جھانک کر انہیں اپنا گناہ یاد آیا ہوگا جو میں نے پیدا ہو کر ان کے سر منڈھ دیا ؟؟؟؟
ایسے لوگ بچہ پیدا کرتے ہی کیوں ہیں جب وہ ان کی ذمہ سنبھال ہی نہیں سکتے۔۔۔اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا ہی کیوں؟ جب کسی کو میری ضرورت ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔وہ شکوہ کناں لہجے میں بولی
“خدا نے کوئی بھی چیز بنا مطلب کے پیدا نہیں کی “
ضرور میں نے کچھ اچھا کیا ہوگا جس کے بدلے اس خدا نے تمہیں مجھے عطا کیا۔۔۔۔
اور میں پوری کوشش کروں گا کہ تم بھی مجھے اپنی کسی نیکی کا اجر پاو۔۔۔۔۔
“ہم دونوں تنہا ہیں ،شاید اس خدا نے ہم دونوں کو ایک دوسرے کی تنہائی کا ساتھی منتخب کیا ہو ؟؟؟؟؟
“کیا تم خدا کے فیصلے سے اختلاف کرو گی۔۔۔۔اپنی پیدائش کو لے کر ؟؟؟ان سے ناراض ہو ؟؟؟؟
خدا تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے پھر کیونکر سوچتی ہو کہ اس نے تمہارے ساتھ برا کیا۔۔۔۔۔
اللّٰہ تعالیٰ اپنے پیاروں کوہی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ۔۔۔۔
اور تمہیں پروردگار نے منتخب کیا۔۔۔۔بنا شکوہ کیے اس امتحان کا سامنا کرو ۔۔۔۔بلکہ تم کر چکی ہو۔۔۔۔۔اب میرے ہوتے ہوئے تمہارے طرف آتے ہوئے ہر طوفان کو پہلے مجھ سے ٹکرانا ہو گا۔۔۔۔۔۔
“میں جواب بہت پہلے کا تمہاری آنکھوں میں دیکھ چکا ہوں ۔۔۔۔۔
بے شک بنا بولے جو نظر کہہ جائے اور نظر پہچان جائے اس سے بڑی سوغات اور کچھ نہیں۔وہی پاکیزہ جذبے کی ترجمان ہے۔
“مگر میں تمہارے منہ سے اقرار سننے کا خواہاں ہوں۔۔۔۔
اس کا خالی ہاتھ ابھی بھی بدرا کے سامنے تھا۔۔۔۔
تمہارے نام کے ساتھ کیا میرا نام لگ جانا کافی نہیں ؟؟؟؟
تمہاری پہچان میں بنوں گا۔۔۔۔۔۔اور میری تم ۔۔۔۔۔۔۔
وہ جذبوں سے چور لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔۔
وہ دوغلے،ملاوٹی لوگوں اور غنڈوں کے لیے بھلے ہی ایک کرخت آفیسر تھا ،مگر بدرا کے لیے اس کا وہی بچپن کے دکھ سکھ کا ساتھی اس کا نرم خو دوست ہی تھا۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
کافی دیر سے بجتے ہوئے موبائل فون نے تعبیر کو باتھ روم سے جلدی باہر نکلنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔
وہ تیزی سے باتھ گاؤن پہنے باہر آئی۔۔۔۔
اور اپنے فون پر ایک غیر شناسا نمبر دیکھ کر پریشان ہوئی۔۔۔
دس مسڈ کالز شو ہو رہی تھیں۔۔۔۔
ابھی وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ فون کال ریسیو کرے یا نہیں۔۔۔۔دوبارہ سے اسی نمبر سے کال آئی تو اس نے فورا کال ریسیو کی۔۔۔۔۔
ہیلو !دوسری طرف سے قدرے بھاری آواز میں کہا گیا۔۔۔۔
“آپ کون ؟تعبیر نے چھوٹتے ہی پوچھا۔۔۔۔
“تمہاری بیٹی کہاں ہے اس وقت جانتی ہو ۔۔۔ماوتھ پیس سے پھر وہی آواز ابھری۔۔۔۔۔
“تم کون ہو ؟اور کیوں پوچھ رہے ہو یہ سب ؟
“میری بات دھیان سے سنو !!!!
میں بار بار بات دہرانے کا عادی نہیں۔۔۔۔۔وہ بارعب آواز میں بولا۔
“تمہاری بیٹی ادا میرے قبضے میں ہے اسے زندہ سلامت واپس لے کر جانا چاہتے ہوں تو تم اور تمہارا شوہر اس پتے پر پہنچ جاو۔۔۔میں ابھی سینڈ کرتا ہوں ۔۔۔۔
اور ہاں زیادہ ہوشیاری دکھائی اور پولیس کو اس معاملے میں گھسیٹا تو ۔۔۔۔تیری بیٹی کو زندہ سے مردہ بنانے میں مجھے بس ایک لمحہ لگے گا۔۔۔۔آئی بات سمجھ میں ؟؟؟؟
آدھے گھنٹے میں اس پتے پر پہنچو۔۔۔۔
کہتے ہی اس نے کال کٹ کی۔۔۔۔
تعبیر کے ہاتھ سے فون چھوٹا۔۔۔۔۔۔