Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 14
یونی میں ان سب کا دوسرا سمسٹر چل رہا تھا آج اس کا آخری پیپر تھا کیسا ہوا پیپر۔۔؟تقی نے پوچھا۔۔۔۔
بہت اچھا ہوا ۔۔۔بدرا نے بتایا۔۔۔۔
کل کہیں گھومنے چلیں سب مل کر انجوائے کریں گے۔۔۔۔۔۔مظربان نے مشورہ دیا۔۔۔۔
ارادے تو اچھے ہیں اور پیپر تو بہت اچھا گیا پر میں بھی تھک گیاہوں اس بہانے اوارہ گردی کرنے کو ملے گی تقی نے بھی خوش ھو کر کہا۔۔
معزرت خواہ ہوں کہ مجھے پرمیشن نہیں ملے گی۔۔۔۔ بدرانے اپنی مجبوری بتائی۔۔۔۔۔۔
دور سے بھاگتی ہوئی علینا بھی ان کے پاس آئی۔۔۔۔
سب سے زیادہ تو وہ خوش لگ رہی تھی، جیسے سارے پیپرز میں اسی نے ٹاپ کرنا ھو ان سب کے برعکس وہ اس لیے خوش تھی کہ پیپر جیسی بلا سر سے اتری
کیسے ہو تم لوگ۔۔؟
ہم تو ٹھیک ہے تم اتنی دیر سے کہاں تھی ؟
تقی جانتا تھا کہ وہ ضرور کچھ کارنامہ سر انجام دے کر آئی ہوگی۔۔۔۔
وہ میں کچھ لڑکوں کا منہ توڑ کر آئی ہوں وہ مجھ سے بلا وجہ فری ھونے کی کوشش کر رہے تھے ابھی وہ مجھے جانتے نہیں ہے کراٹے کی کلاسز لیں ہیں میں نے۔۔
وہ ایسے فخر سے بتا رہی تھی جیسے ورلڈ ریکارڈ قائم کر کے آئی ہو۔۔۔۔۔
ان تینوں کی دوستی
تھی ہی انمول یہ تینوں پورے یونی میں اپنی دوستی کی وجہ سے مشہور ہو چکے تھے ، تینوں ایک دوسرے سے بلکل الگ تھے، پھر بھی ان تینوں میں دوستی گہری اور ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والی تھی کوئی بھی پریشانی میں ھوتا تو سارے کام چھوڑ کر ایک دوسرے کی مدد کے لے پہنچ جاتا ایسی انوکھی دوستی تھی ان کی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
باہر سے گاڑی رکنے کی آواز آئی تو بدرا جو انیکسی کے باہر بیٹھی ہوئی اپنی ہی سوچوں میں محو تھی تیزی سے اٹھ کر اندر چلی گئی۔۔۔۔
وہ تینوں اندر داخل ہوئے اور عائزہ کو پتہ تھا کہ اماں بی یہاں ہی ملیں گی۔۔۔۔
رات کافی ہو چکی تھی ۔۔۔۔اماں بی دوائی لے کر سو چکی تھیں ۔۔۔۔بدرا نے دروازے پر ہوتی دستک سن کر فوراً دروازہ کھولا معا کہیں اماں بی کی نیند نہ خراب ہو جائے۔۔۔۔۔
سامنے عائزہ اور علینا کو دیکھ کر سلام کیا۔
اسلام وعلیکم!
وعلیکم السلام!
عائزہ نے جواب دیا۔۔۔
“کیسی ہو بیسٹی؟’علینا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
اماں بی جاگ رہی ہیں “عائزہ نے پوچھا۔
“نہیں اماں بی تو تھوڑی دیر پہلے ہی میڈیسن لینے کے بعد سوئی ہیں “اس نے مطلع کیا۔۔۔۔
“دراصل مجھے انہیں کسی سے ملوانا تھا۔۔۔۔
چلو کوئی نہیں پھر ملاقات ہو جائے گی۔۔۔۔۔عائزہ نے خوشدلی سے کہا۔
بدرا نے اچنبھے سے دیکھا کہ وہ کس کی بات کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔
“یہاں کیا مہمانوں کو دروازے سے فارغ کرنے کا رواج ہے ؟؟؟؟عائزہ آفندی کے عقب سے ایک بھاری قدرے گھمبیر آواز آئی۔۔۔۔
بدرا نے جلدی سے اپنے چہرے اور گردن پر لی گئی بڑی سی چادر کو مزید درست کرکہ اپنے گرد پھیلایا۔۔۔۔۔
یونیورسٹی میں تو وہ سارا دن عبائے اور حجاب میں ہوتی تھی اسی لیے کمفرٹیبل رہتی تھی۔۔۔۔۔
“گھبرانے والی کیا بات ہے بدرا یہ میرے بھائی ہیں بذل آفندی ۔۔۔۔۔
بدرا نے اثبات میں سر ہلایا مگر ایک بار بھی نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا۔۔۔۔
“دراصل بھائی صبح ہی آئے ہیں تو اس لیے سب سے ملنے چلے آئے ۔۔۔۔۔
“آؤ اب نہال بھائی اور تعبیر بھابھی سے بھی مل لیں اس سے پہلے کہ وہ سو جائیں ۔۔۔عائزہ نے علینا کو دیکھ کر کہا۔
بذل نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔
وہ دروازے میں ایستادہ تھی اور اندر سے لائٹ آف تھی ۔۔۔بس آسمان سے آتی چاند کی چمکتی ہوئی چاندنی اس کے چہرے پر پڑ کر اسے سحر انگیز بنا رہی تھی ۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔۔۔۔
کہاں دیکھا تھا اس طرح کا ڈھکا چھپا پاکیزہ حسن،لرزتی جھکی ہوئی پلکیں۔۔۔۔
نظروں میں حیا ،لہجے میں سادگی،اور دلسوز
آواز ،وہ تو پل بھر میں مسمرائز ہوا ۔۔۔۔۔۔
کیا یہ وہی ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔۔۔۔
وہ اپنے پیشانی پر بکھرے بالوں میں انگلیاں پھنسانے انہیں پیچھے کرتا ہوا سوچ رہا تھا کہ ٹھک کی آواز سے دروازہ بند ہوا اور وہ ہوش میں آیا ،وہ پری چہرہ اسے اپنی جھب دکھلا کر اب غائب ہو چکی تھی ۔۔۔۔
دل جیسے کسی پرستان کی سیر سے واپس لوٹا ہو۔۔۔۔۔
مگر اتنی تھوڑی دیر کی دید سے سیر حاصل نہ ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔
دل اک دم جیسے ہر شے سے اچاٹ ہو گیا ۔۔۔۔
“مما گھر چلیں ؟”بذل بیٹا کیسی باتیں کر رہے ہو ابھی تو آئے ہیں ۔۔۔۔ملے بنا ہی چلیں جائیں گے۔۔۔۔۔۔
“چلو آؤ اپنے ماموں سے تو مل لو۔۔۔۔تمہیں اچھا لگے گا ۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے مام وہ بے دلی سے چلتا ہوا ان کی تقلید میں اندر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
سب ایک دوسرے سے ملنے کے بعد اب ٹی وی لاؤنج میں ڈیرہ جمائے ہوئے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
“ادا نظر نہیں آ رہی ؟عائزہ نے تعبیر سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
اپنی دوستوں کے ساتھ باہر ڈنر کا پلان تھا اس کا ہم سے پوچھ کر پی گئی ہے آجائیے گی کچھ دیر میں تعبیر نے کہا۔۔۔۔۔
کوئی بھی بچہ نہ ہونے کی وجہ سے تعبیر نے یتیم خانے سے ایک بچی گود لی تھی۔۔۔۔نہال اس حق میں قطعاً نہیں تھا مگر تعبیر کے اٹل فیصلے پر اسے ہار ماننی پڑی۔۔۔۔۔
تعبیر نے اپنی ممتا کی پیاس اسے گود لے کر بجھائی۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
بابا اس سال ہماری برتھ ڈے پارٹی خوب دھوم دھام سے منائی جائے گی ۔۔۔
It’s final…..
تقی نے زور دے کر کہا۔۔۔۔
پچھلی بار بھی آپ دونوں عین برتھ ڈے سے دو دن پہلے ایک امپورٹینٹ بزنس ڈیل کے سلسلے میں آؤٹ آف کنڑی چلے گئے۔۔۔۔اس بار ہم پہلے سے آپ کو بتا رہے ہیں کہ اب کی بار کوئی دوسرا پروگرام سیٹ نہ کرئیے گا۔۔۔۔
مضربان نے تنبیہی انداز میں کہا۔۔۔۔
Ok done…. Don’t worry……
وامق نے ان دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
“بابا کیوں نہ ہم سب مل کر شاپنگ پر چلیں برتھ ڈے کی سب ایک ہی کلر کے ڈریسز پہنیں گے۔۔۔۔کیوں کیسا لگا آئیڈیا ۔۔۔تقی نے کہا۔۔۔۔۔
ایک دم فلاپ ۔۔۔۔مضربان نے برا سا منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔
“کچھ نیا سوچو”
دفع ہو تم خود کچھ بتاتے نہیں اور میرا بتایا پسند نہیں آتا۔۔۔۔۔۔
ہنہہہ۔۔۔۔۔وہ ہنکارا بھر کر رہ گیا۔۔۔۔
ایسا کرو بچوں تم لوگ اپنی اپنی شاپنگ اپنی پسند سے کر لو میں تمہاری ممی کے ساتھ جا کر خودی شاپنگ کروں گا ۔۔۔۔۔
وامق نے کہا۔۔۔
“صاف صاف کہییے نا بابا آپ اور مما اکیلے میں وقت سپینڈ کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔کباب میں دو ہڈیوں کو نکال کر باہر کیسے پھینکا ہے آپ نے ؟؟؟؟؟
مضربان نے منہ پھلائے کہا۔۔۔۔
“ارے نہیں یار تم تو ناراض ہی ہو گئے۔۔۔۔۔”
کوئی بات نہیں بابا آپ اور مام دونوں اپنی شاپنگ کریں ہم اپنی خودی کرلیں گے اسے تو ویسے ہی شوق ہے ہر وقت مما سے چپک کر رہنے کا۔۔۔۔۔
“تو کیا ہوا مما اس کی ہی ہے ۔۔۔۔۔طمر نے مضربان کے گال پر پیار سے سہلا کر کہا۔۔۔۔
“Love you so much mama…..
وہ بھی جوابا لاڈ سے بولا ۔
اور طمر کے ساتھ لگ گیا ۔۔۔۔
“میرے دشمنوں میں سر فہرست میری ہی اولاد ہے ہر وقت میری بیوی سے چمٹی رہتی ہے۔۔۔۔۔”وامق کے لبوں سے شکوہ پھسلا۔۔۔۔
طمر ،تقی اور مضربان تینوں مسکرائے۔۔۔۔۔
بابا ہم اپنے سب فرینڈز کو بھی انوائیٹ کریں گے۔۔۔۔۔
تقی بولا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے لسٹ بنا لو کتنے لوگ ہیں پھر اسی حساب سے ارینجمینٹ کروائیں گے۔۔۔۔وامق نے کہا۔
میرا تو صرف ایک ہی دوست ہے اس کا نام تو سب کو پتہ ہی ہے ۔۔۔۔۔
جی بیٹا جی اب تو ہمیں بھی حفظ ہو چکا ہے دراک صاحب کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوبیس گھنٹے آپ اس کے نام کی مالا جپتے رہتے ہیں۔۔۔۔طمر نے اسے کہا۔۔۔۔۔
وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
ارے اب تو مجھے بھی اشتیاق ہے دراک سے ملنے کا وامق نے کہا۔
بابا میری بھی دو فرینڈز ہیں۔۔۔۔۔
اس کی فرینڈ لسٹ میں لڑکیاں ۔۔۔۔۔؟بھئی بیوٹیفل اپنے اس بیٹے پر نظر رکھو اس کی فرینڈ لسٹ میں دونوں لڑکیاں ہیں ۔۔۔۔وامق نے طمر سے کہا۔۔۔۔۔
بابا ایسی کوئی بات نہیں ہم تینوں جسٹ فرینڈز ہیں۔۔۔۔۔
آپ ان دونوں سے ملیں گے تو دیکھنا بہت اچھا لگے گا ایک مشرق اور دوسری مغرب۔۔۔پھر بھی ہم تینوں میں گاڑھی چھنتی ہے۔۔۔۔۔
تقی نے کہا۔۔۔۔
“ارے اس چھپکلی کو بلا کر پارٹی کا مزہ مت خراب کرو تقی۔۔۔۔۔
مضربان نے کہا۔۔۔۔
جوابا وہ اس کی بات کو ہوا میں اڑا گیا اور باقی افراد کا نام لکھنے لگا۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
یکا یک سیاہ بادلوں نے آسمان پر اپنا ڈیرہ جما لیا..ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائوں نے سرگوشیاں کرنی شروع کردی..اور کچھ ہی دیر میں موسلا دھار بارش شروی ہو گئی….
ادا شدید کوفت میں مبتلا ہوئی…
او گاڈ! یہ بارش بھی ابھی ہونی تھی..سارا موڈ خراب ہو گیا..لاہورکی صاف سڑکوں پرڈرائیونگ کرتے ہوۓ ادا نے شیشے پہ پڑتے ہوۓ بارش کی ننھی بوندوں کو نفرت سے دیکھا…..شاید ادا ہی دنیا کی ایسی لڑکی ہے جسے بارش میں کوئ دلچسپی نہیں تھی…
چچچچچچریر کی آواز کے ساتھ ہی ادا کی بلیک کرولا نے بھی جواب دے دیا. ایک دم سے گاڑی خراب ہونے پر اسے ایک اور جھٹکا لگا…
وٹ دا ہیل!!.اب اسے کیا ہوا ….آج کا دن ہی عجیب ہے..پتا نہیں کس منحوس کی شکل دیکھی تھی صبح..صبح۔۔۔۔۔وہ بھی اپنی مام تعبیر کی طرح ان کی صحبت میں رہ کر تھوڑی نخریلی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
اب اسے باہر نکل کر دیکھنا تھا کہ کیا مسئلہ پیش آگیا ہے گاڑی کو پر بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی…تھوڑی دیر مزید انتظار کے بعد بارش کی رفتار میں کمی آئی تو وہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکل آئی۔۔۔ کہ کہی پھر سے بارش نہ شروع ہو جاۓ…
آدھے گھنٹے سے اپنا دماغ استعمال کرکے بھی ادا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا…
اففف اب کیا کروں؟؟
نیٹ ورک بھی نہیں آرہا یہاں..پتہ نہیں اب کوئی مکینک بھی ملے گا یا نہیں..اب پیدل ہی چلنا پڑے گا…ادا نےاکتا کر کہا اور اپنا بیگ اور سیل فون لیا ..گاڑی لاک کی اور پیدل چلنے لگی…
ادا کی گاڑی جس جگہ خراب ہوئی وہ لاہور کی ایک اچھی سوسائٹی کے قرب کا ایریا تھا.یہاں کی بڑی بڑی سڑکوں پر ٹریفک بہت کم …اور کچھ برسات کی وجہ سے بھی اکا دکا گاڑیاں نظر آرہی تھی..
بارش کے باعث دھلی دھلی سڑکیں, درختوں کی شادابی, اور ٹھنڈی فضا ایک خوبصورت منظر پیش کرہی تھے..
ہوا کے دوش پہ اڑتے ادا کے کالےریشمی بال اپنی ہی دھن میں اڑہے تھے..یلو کلر کی خوبصورت کرتی جسکے ساتھ وائٹ کلر کی کیپری اور یلو کلر کا شفون کا دوپٹہ جو ادا نے زیب تن کیا ہوا تھا۔ادا کے حسن کو چار چاند لگا رہاتھا…بڑی بڑی سیاہ پرکشش آنکھیں, صاف رنگت .گلابی لب..بلاشبہ ادا ایک پرکشش شخصیت کی مالک تھی…
ابھی اداکچھ دور ہی گئی ہو گی کہ بارش کی رفتار میں اضافہ ہونے لگا..
میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے ایسا؟؟ جس چیز سے بچنے کی کوشش کروں اسی سے سامنا ہونا ہوتا…
بارش کی برستی بوندوں کو کو فت سے دیکھتے ہوۓ ادا نے خود کلامی کی.
بارش میں بھیگتی وہ تیز تیز قدم اٹھا نے لگی ساتھ ساتھ موبائل پہ بھی نظر ڈال رہی تھی کہ شاید سگنل آجاۓ…
ایسے میں اس کی ٹکر سامنے سے آنے والی گاڑی سے ہوتے ہوتے بچی…ادا گاڑی سے چند انچ کے فاصلے پر تھی کہ گاڑی چلانے والے نے جلدی سے گاڑی کے بریکس لگائے ۔۔۔۔ٹائروں کی چڑچڑاہٹ کی آواز خاموشی کے سبب دور تک پھیلی۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف ایک جھٹکے سے ادا پیچھے کی طرف ہوئ ہی تھی کہ ہیلز کی وجہ سے اسکا پاؤں سلپ ہوا اور وہ نیچے گر گئی..
بارش کے باعث پیدا ہوا کیچڑ اداکے کپڑوں پر نقش و نگار بنا گیا۔۔۔۔
اس دوران آسمان میں بجلی زور سے کڑکی اور بارش نے زور و شور سے برسنا شروع کردیا…شاید نہیں یقیناً آج بارش کا ارادہ سب کو خود میں بھیگونے کا تھا..
اچانک رونما ہونے والے حادثے کے باعث تقی فورا گاڑی روک کر باہر نکلا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف ادا کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ اسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے..پہلے یہ بارش ,پھراچانک گاڑی خراب,اور اب یہ حادثہ…وہ زمین پہ بیٹھی اسی سوچ میں گم تھی۔۔۔۔
آئم سو سوری میم..آپ ٹھیک ہیں؟؟
آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟؟ تقی نے فکر مندی سے پوچھا..
وہ فوراً اٹھی اور سامنے کھڑے شخص کو غصے سے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا…
اندھے ہو کیا؟.. دیکھ کر ڈرائیو نہیں کر سکتے؟؟اگر ڈرائیو کرنا نہیں آتا تو نکلتے ہی کیوں ہو روڈ پر؟؟
آئم سوری ..شاید میری ہی غلطی ہو ۔۔۔۔..
سامنے کھڑی ہوئی لڑکی کے چہرے پرکیچڑ سے بنے نقش و نگار دیکھ کر وہ اپنے لبوں پر امنڈنے والی مسکراہٹ کو روک نا پایا۔۔۔۔اور منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹا۔۔۔۔..
“ت۔۔تمہیں تو میں دیکھ لوں گی …
وہ اسے دھمکا کہ پلٹ کر جانے لگی تو کیچڑ میں پاؤں پھسلا۔۔۔۔۔اور ایک بار پھر وہ گری۔۔۔۔۔۔۔
اس بار تو شرم سے وہ اس سے نظریں ملانے کے بھی قابل نا رہی۔۔۔۔۔۔
تقی نے اس کے سفید چہرے کو دیکھا جو خفت کے باعث سرخی مائل دکھائی دینے لگا ۔۔۔۔۔۔۔اب بارش کی ننھی منی بوندیں اس پر گر رہی تھیں۔۔۔۔۔
تقی نے اپنا ہاتھ اس کے آگے کیا۔۔۔۔تاکہ اسے اٹھنے میں مدد دے سکے۔۔۔۔۔
“مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔ادا نے دانت پیستے ہوئے سختی سے منع کیا..ابھی وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ ایک بار پھر ڈگمگاگئی۔۔۔۔ پر اس بار تقی نے اسے بنا اجازت تھام لیا..
دیکھیں ۔۔۔۔۔مس آپ جو کوئی بھی ہیں مجھ پر غصہ بعد میں کر لینا..پہلے خود کو سنبھالیں ..تقی نے اسکی باتوں کا اثر لیے بغیر کہا..
برستی بارش کی بوندوں میں بھیگتے ہوئے تقی نے ادا کے نقوش کواتنے قریب سے دیکھا۔۔۔۔کہ چند پل ساکت رہا۔۔۔۔
اداکے چہرے پہ کیچڑکے نشان اب بارش کی برستی تیز بوندوں سے دھلنے لگے…
بارش سے دھلا نکھرا نکھرا چہرہ,چہرے سے لپٹی بھیگی زلفیں …وہ مسمرائز ہوا۔۔۔
او..ہیلو مسٹر!!! روڈ پر کھڑے کھڑے سونے کی بیماری کب سے ہے ؟؟؟؟؟
جبکہ تقی کے ہونٹوں پر ابھی جان لیوا مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔.گم سم سا کھڑا اسےخود سے دور جاتا دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل ہوگئ..
جادوئی طلسم تب ٹوٹا جب بادل زور سے گرجے اور تقی ہوش میں آیا..پر وہ تب تک جا چکی تھی.وہ مبہم سا مسکرایا اور پھر سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖
اس گزرے ایک سال میں دراک کا ایم ۔بی۔اے بھی کلئیر ہوچکا تھا ،اور انٹرویو بھی اب وہ ٹریننگ سینٹر میں تھا۔۔۔۔۔
ٹریننگ کے دوران صرف ایک بار ہی دراک اور مضربان دونوں کی ملاقات ہوپائی تھی وجہ تھی دراک کی مصروفیت۔۔۔۔۔
آج مضربان، دراک سے ملنے اس کے ٹریننگ سینٹر گیا تھا اور اسے اپنی اور تقی کی مشترکہ برتھ ڈے پارٹی میں شمولیت کے لیے دعوت دے کر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔کہ واپسی پر اپنی ہیوی بائیک کو قدرے ایک کم رش والی شاہراہ پر ڈال دیا چینجنگ اور انجوائے منٹ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے حال میں مست بائیک رائڈنگ کر رہا تھا کہ پاس سے ایک دوسری ہیوی بائیک گولی کی سی برق رفتاری سے قریب سے گزری۔۔۔۔۔اس نے زیادہ محسوس نہ کیا۔۔۔۔
آگ تو تب لگی جب اسے آگے نکل جانے کے بعد مقابل نے لوزر کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔
مضربان نے ریس پر ہاتھ رکھتے اسے گھمایا۔۔۔۔
450سی سی ہیوی بائیکس اپنی تیز رفتاری سے خالی شاہراہ پر آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
کبھی ریڈ بائیک آگے تو کبھی بلیک ۔۔۔۔۔۔
ریڈ بائیک پر موجود مضربان نے ہیلمٹ کا شیشہ اٹھا کر مقابل کو ایک آنکھ ونگ کی اور بائیک کو خطرناک حد تک تیز ترین رفتار پر لاتے لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوا۔۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری بائیک پر موجود شخصیت نے اس کی تقلید کو میٹر کی آخری حدوں کو چھوتی رفتار میں اس کی تقلید کی۔۔۔۔۔
اور پہلی بائیک کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے اسے ایک بار پھر سے انگوٹھا نیچے کر کہ ہار کا نشان بناتے ہوئے اس کے قریب سے گزرا دی۔۔۔۔۔۔
ہارنا اس نے بھی کہاں سیکھا تھا۔۔۔۔
بائیک کو مزید ریس دیتے ہوئے اس کا تعاقب کیا۔۔۔۔
سامنے ہی فائنل ڈیسٹینیشن پر نظر پڑتے دونوں بجلی کی رفتار سے وہاں ایک ساتھ پہنچے۔۔۔۔۔
نا ایک کم نا ایک زیادہ۔۔۔۔
دونوں برابر تھے۔۔۔۔۔
مضربان نے ہیلمٹ اتار کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے ایک طنزیہ مسکراہٹ اچھالی۔۔۔۔
جبکہ دوسری جانب اس نے ہیلمٹ اتار کر شانے پر بکھرے بالوں کو اپنے بازو میں موجود مختلف رنگوں کے بینڈز میں سے ایک اتار کر انہیں اس میں مقید کیا۔۔۔۔۔
علینا آفندی نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ادا سے پونی میں مقید بالوں کو پیچھے جھٹکتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔
اور کسی کو خود سے جیت جانے دینا مضربان کے کاغذوں میں نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اس کے بندھے بالوں میں سے بینڈ ایک جھٹکے سے نکالتا ہوا آنکھ ونگ کر کہ بولا۔۔۔۔
یا یوں کہہ لو ہار مضربان کے مقدر میں نہیں۔۔۔۔وہ تفاخر سے کالر اچکا کر بولا
اس قدر گھمنڈ بھی جائز نہیں !!
وہ استہزایہ انداذ میں بولی۔۔۔۔
کس کے مقدر میں کیا ہے ؟؟؟یہ فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھوں سے اپنا بینڈ واپس کھینچ کر بولی۔۔۔۔
مضربان گردیزی خدا سے اپنی جیت کامقدر لکھوا کر اپنے ساتھ لایا ہے۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
اسلام وعلیکم فرینڈز کیسے ہیں؟
کسی کو بھی سٹوری سے کوئی پرابلم ہے تو شئیر کریں مگر اس طرح رسپانس کم نہ کریں۔جب 500لائکس آتے ہیں تو مجھے اپنے آپ ہی جلدی ایپی پوسٹ کرنے کا دل کرتا ہے مگر کل کی ایپی پر 500لائکس بھی نہیں دل تو نہیں کر رہا تھا ایپی دینے کو پر دے دی ان کے لیے جو اپنے پیارے پیارے لانگ کمینٹس کرتے ہیں اور لائک بھی۔اگر اگلی ایپی کل ہی چاہیے تو جلدی 500لائکس پورے کریں۔اور اس ایپی پر کمینٹس کرنا نہ بھولیں۔آپ سب کو یہ سین اچھا لگا تھا بائیک والا تو اس ناول میں ڈال دیا۔💖
اگر شارٹ لگے تو معزرت ۔روز اتنا ہی وقت ملتا ہے لکھنے کا۔
