Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 24
کھڑکی کے پردوں کے ہٹنے کے باعث چھن چھن کرتی دھوپ اسک کے سفید چہرے پر سرخائی گُھلانے لگی تو وہ آنکھیں میچتے ہوئے دوسری کروٹ پر ہوئی۔۔۔۔۔اسکی جھٹکے سے آنکھ کھلی۔۔۔وہ وہاں پر تھا ہی نہیں۔ نیند غائب ہوئی۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھی اور گھڑی پر نظر دوڑائی۔۔۔صبح کےآٹھ بج رہے تھے۔۔۔
وہ کہیں پہ بھی دکھائی نہیں دیا جانے کیوں ۔۔۔بے ساختہ بدرا کی آنکھوں میں نمی اتری۔۔۔دل میں غصہ ابھرا جس کا اظہار اس نے تکیہ زور سے پھینک کر کیا پر وہ تکیہ سیدھا روم میں داخل ہوتے دراک کے چوڑے سینے پر لگا۔۔۔۔وہ حیرت سے بدراکو دیکھنے لگا۔۔۔اور بدرا۔۔۔۔۔
وہ بھی بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ نہیں گیا تھا۔۔۔وہ یہیں پر تھا اسکے پاس۔۔۔
صبح صبح لڑنےکا ارادہ ہے؟؟؟؟۔۔۔جانم
اس نے شرارتاً پوچھا تو بدرا نے سبکی محسوس کرتے ہوئے اپنا نچلا لب دانتوں تلے دبایا پھر اٹھ کر جلدی سے واشروم میں غائب ہوگئی۔
کچھ دیر بعد نہاکر وہ بالوں کو خشک کرتے ہوئے روم میں آئی تو دراک روم میں نہیں تھا۔
اس نے جلدی جلدی بال سنوارے اور وہی اجرک اوڑھتے ہوئے کچن میں ناشتہ بنانے کے غرض سے گئی۔۔۔پر ڈائیننگ ٹیبل پر پہلے سے ہی ناشتہ تیار دیکھ اسے اچھنبا ہوا۔۔۔تبھی پیچھے سے دراک نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا
کیسا لگا۔۔۔
وہ گردن گھوما کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی
” آپ نے کیوں۔۔۔”؟
“کیوں اچھا نہیں لگا۔۔؟”
اسکی بات کاٹتے ہوئے دراک نے مصنوعی خفگی سے پوچھا تو بدراجلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی
اچھا ہے پر آپ نے کیوں بنایا۔۔؟
اس نے پھر ڈائننگ ٹیبل پر سجے ناشتے کو دیکھ کر کہا
“تو کیا شادی کی پہلی صبح اپنی نئی نویلی دلہن سے کام کرواتا؟؟؟؟
بیٹھو اور کھا کر بتاؤ کیسا بنا ؟؟؟۔پھر اسے چئیر پر بیٹھا کر ناشتہ سروو کیا۔۔۔۔۔۔۔
“آج مجھے چھٹی ملی ہے تو کیوں نا سارا دن ساتھ گزاریں ؟؟؟؟؟
کل سے پھر آفس جوائن کرنا ہے ۔۔۔۔۔
کل کافی پھیلاوا پڑگیا۔۔۔۔۔وہ نظریں ادھر ادھر دوڑاتے ہوئے بولا۔
آج وہی سارا صاف کرلیتا ہوں ۔۔۔۔
“آپ کیوں صفائی کریں گے میں ہوں نا ؟؟؟
آپ رہنے دیں میں کر لوں گی۔۔۔۔
“اپنا کام کرنے میں کیسی عار ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو اپنا کام خود کرتے تھے وہ تو اپنے کپڑوں کو پیوند بھی خود لگاتے تھے ۔۔۔وہ بنی ہونے کے باوجود سب کرتے تھے تو پھر ہم کیوں نہیں ؟؟؟؟
مگر تمہیں اتنا ہی میری مدد کروانے کا شوق ہے تو ۔۔۔۔۔۔
چلو۔۔۔ایسا کرو کہ تم ڈسٹنگ کرو۔۔۔
اور آج کا کھانا میں بناؤں گا۔۔
اسکے آئیڈیے پر بدرا بوکھلا کر کھڑی ہوگئی
نہیں نہیں کھانا میں ہی بناوں گی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ناشتہ اچھا نہیں لگا کیا تمہیں۔۔؟
اس نے بدرا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔۔
نہیں۔۔نہیں ناشتہ اچھا تھا لیکن۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں اگر اچھا نہیں بھی بنا تو کیا ہوا۔۔۔میں پھر بھی کھانا بناؤں گا۔۔۔
اس نے روعب جماتے ہوئے کہا تو بدرا منہ بناگئی۔۔۔۔۔
دونوں نے مل کر پہلے سارے گھر کی صفائیاں کیں۔۔۔۔ اب وہ ڈسٹنگ کر کے روم میں اکیلی بیٹھی ہوئی بور ہورہی تھی۔۔۔پتا نہیں وہ کچن میں کیا کررہے ہوں گے اکیلے؟
۔۔۔یہ سوچ کر اسے تجسس ہورہا تھا کچن میں جانے کا۔۔۔مگر دراک کی خفگی کے ڈر سے ہمت نہیں تھی۔۔۔جب بوریت بڑھنے لگی۔۔۔تبھی وہ کچھ سوچتے ہوئے اٹھی۔۔اور روم سے نکل کر کچن کی طرف گئی۔
ایک چولہے پر چاول چڑھائے جبکہ دوسرے پر وہ موبائل میں ریسیپی دیکھتے ہوئے مصالحے ڈال رہا تھا۔۔۔اسکو کچن میں اسطرح مصروف دیکھ بدرا کو شرارت سُوجھی
تمہں منع کیا تھا میں نے۔۔
بدراکو کچن میں داخل ہوتا دیکھ دراک نے خفگی سے کہا
وہ میں تو آپ کو یہ بتانے آئی تھی کہ میرا کیا دل کررہا ہے کھانے کو۔۔
وہ معصوم سا منہ بنا کر بولی تو دراک کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ایک تو پہلے سے معصوم دکھتی اوپر سے ایسا چہرہ بنانے پر اور کیوٹ لگ رہی تھی۔۔۔
میری جانم کا کیا کھانے کو دل کررہا ہے۔؟۔۔
محبت سے اسکے معصوم چہرے کو دیکھ کر دراک نے پیار سے پوچھا
اسکے لہجے پر بہت کوشش کے باوجود بھی بدرا کے گال سرخی مائل ہوگئے۔۔۔
وہ۔۔۔ہاں۔۔۔میرا آج روٹی کھانے کو دل کررہا ہے۔۔۔
اس نے سنبھلتے ہوئے جلدی سے کہا تو دراک کی مسکراہٹ غائب ہوئی
روٹی۔۔۔؟؟؟؟
اس نے دہرایا
جی مجھے روٹی کھانی ہے ۔۔۔آپ بنائیں گے نا؟؟؟؟۔۔
اور میٹھے میں کھیر۔۔۔۔۔
اس نے پھر بھولپن سے کہا اور اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیے نگاہ پھیر گئی۔۔۔اب کے دراک کو یہ فکر لگ گئی کہ وہ روٹی کیسے بناپائے گا۔۔۔۔اوپر سے کھیر کی فرمائش۔۔۔۔
بدرا ایسا کرو۔۔۔ابھی تو میں نے چاول بنادیے۔۔۔تو روٹی پھر کبھی کھالینا۔۔۔اور روٹی کے ساتھ جو بولو گی وہ بناؤں گا میں اپنی جانم کے لیے۔۔۔ابھی جلدی سے یہ چکھ کر بتاؤ۔۔۔کیسا بنا ہے۔۔۔
وہ بات بدلتے ہوئے بولنے لگا
نہیں۔۔۔مجھے آج ہی روٹی کھانی ہے۔۔۔اور میٹھا کھانے کو بھی بہت من ہے۔۔۔۔
وہ نروٹھے پن سے بولی تو دراک بےبسی سے اسے دیکھنے لگا
ایک تو کیوٹ اتنی لگتی ہو کہ سمجھ نہیں آتا کہ کام کروں یا تمہیں دیکھوں۔۔۔
بے ساختہ اسکے منہ سے جملہ نکلا جو بدرا کے چہرے کو سٹابری بنا گیا۔۔
یہ۔۔۔بٹرنگ مجھ پر نہیں چلے گی۔۔روٹی اگر نہیں بنانی تو کوئی بات نہیں میں خود بنالوں گی۔۔۔
اسکا یہ طریقہ کام کر گیا۔۔دراک نے اس کے کچھ کرنے سے پہلے ہی کیبنٹ کھول کر آٹے کا ڈبہ نکالا۔۔۔۔
بدرا نے اپنی ہنسی بمشکل روکے دراک کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جو آٹا گُوندھ کم اور خود پر لگا زیادہ رہا تھا۔۔پانی ڈال ڈال کر اسنے آٹے کا حشر خراب کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔
یہ تو نہیں ہورہا یار۔۔۔وہ عجیب وغریب مرغوبے کو ہاتھ میں لیے بولا ۔۔۔جو اب انگلیوں سے پھسل رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ لاچاری سے بولتے ہوئے بدرا کو دیکھنے لگا جسکا چہرہ ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوچکا تھا۔۔۔
تمہیں ہنسی آرہی ہے مجھ پر۔۔۔؟؟؟؟
وہ تیکھے نقوش سے اسے گھورتا ہوا بولا
ارے نہیں نہیں۔۔۔آپ بہت اچھا گوندھ رہے ہیں۔۔
باوجود کوشش وہ یہ جملہ بولتے ساتھ کھلکھلا کر ہنس دی
بڑی ہنسی آرہی ہے نا۔۔۔۔اب میں بتاتا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔
وہ غصے میں بولتا ہوا سنک میں ہاتھ دھونے لگا ۔۔۔۔۔
بدرا اس سے بچنے کے لیے کچن سے باہر کو بھاگی۔۔۔۔
رکو ۔۔۔تم اب بچ کے دکھاؤ۔۔
دراک اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے بولا۔۔۔
سوری۔۔۔سوری۔۔ اب پکا نہیں ہنسوں گی۔۔۔۔
وہ اس سے بچنے کے لیے لاؤنج کے صوفے کے گرد گھومتے ہوئے بولنے لگی پھر جلدی سے روم کی طرف بھاگی۔۔۔
مگر دراک نے اسے مزید بھاگنے کا موقع دئیے بغیر بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔تو وہ کچی ڈال کی طرح اس کے سینے سے آ لگی۔۔۔۔
بول بھی رہی ہو اور ہنس بھی رہی ہو۔۔۔
دراک نے اسے مسلسل ہنستا دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
اچھا نا۔۔اب نہیں ہنس رہی۔۔۔۔
اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش جب ناکام لگی تب بدرا چہرہ بلکل سیریس بناکر بولی مگر ہلکی سبز آنکھوں میں شرارت صاف واضح تھی۔
پہلے سوری۔۔۔بولو۔۔۔۔
دراک نے گردن اکڑا کر کہا
سوری۔۔۔ٹھیک۔۔اب چھوڑیں۔۔
وہ کہہ کر اس سے دور ہونے لگی
ایسے سوری نہیں چلے گا۔۔
وہ اسے ایک جھٹکے میں اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا
چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔وہ دراک کے سینے پر غصے سے مکے مارنے لگی۔
مجھے کچھ نہیں ہونے والا جانم۔۔۔تمہاری اس نازک سی مزاحمت سے۔۔۔
اپنے کندھے پر بدرا کے ناخن گڑھتے دیکھ دراک نے مسکراکر کہا اور اسکے بھرے بھرے گلابی ہونٹوں کو دیکھنے لگا
چھوڑیں نا پلیز ۔۔۔درد ہورہا ہے ۔وہ اپنی کمر کے گرد اس کی مضبوط ترین گرفت سے جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔
اسکی جھنجھلاتی آواز میں جملہ مکمل ہوتے ہی دراک نے بدرا کے کٹاؤ دار لب پر اپنے عنابی لب رکھ دیے۔۔۔بدرا کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں تھیں۔۔۔۔وہ بےخودی میں اس پر جھکا رہا۔۔۔بدرا کی ہارٹ بیٹ جیسے بند ہونے لگی تھی۔۔۔اپنی پشت پر اسکے ہاتھ کا بڑھتا دباؤ محسوس کرکے وہ دراک کو دھکا دینے لگی۔۔۔
جو اس کی گردن میں ایک ہاتھ ڈالےاپنی شدتیں اس پر لٹانے میں مصروف تھا۔۔۔ہونٹ پر شدید جلن ہوتے ہی بدرا نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔
اس کی قربت اتنی جان لیوا ہی ثابت ہو گی اس بات کا اندازہ نہیں تھا اسے۔۔۔۔۔
تبھی دراک نے آہستگی سے اسکے لبوں کو آزادی بخشی۔۔۔وہ اپنی منتشر دھڑکنوں کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نڈھال ہونے لگی۔۔۔آنکھیں تکلیف برداشت کرنے کی وجہ سے حد سے زیادہ سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔
گہری سانس بھر کر کچھ سنبھلنے پر بدرا نے اپنے نچلے ہونٹ پر انگلی رکھ کر اسے دیکھا۔۔۔خون کی بوندیں دیکھ وہ نم آنکھوں سے دراک کو دیکھنے لگی۔۔۔جو اب کافی حد تک خود کے بےلگام ہوتے جذبات پر قابو پاچکا تھا۔۔۔اور اب اسکے چہرے پر تھوڑی شرمندگی کے آثار نمودار ہوئے تھے۔۔
سوری۔۔۔
وہ خود حیران تھا۔۔۔کیوں اتنا آؤٹ آف کنٹرول ہوگیا تھا وہ اسکے سامنے
“مجھے کوئی بات ہی نہیں کرنی آپ سے۔۔۔
بدرا نے بھرائی ہوئی آواز میں بولتے ہوئے اسے خود سے پیچھے کیا۔۔۔اور بھاگتے ہوئے روم میں گئی اور زور سے دروازہ بند کردیا۔۔۔۔۔
جانم ۔۔۔سوری یار۔۔۔سو سوری۔۔
وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا اسکے پیچھے گیا۔۔۔مگردروازہ بند دیکھ کر کھٹکھٹاتا ہوا بولنے لگا
سوری بدرا۔۔یار پتا نہیں کیسے میں۔۔؟؟؟بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہوا تھا اسے ہرٹ کرنے پر۔۔۔اتنی مشکل سے تو وہ ہنسنے لگی تھی پر اب۔میری ہی بے وقوفی نے۔۔۔۔ خود پر غصہ ہوتے ہوئے زور سے دیوار پر مکا مارا۔۔۔تبھی کچھ جلنے کی سمیل پر وہ بوکھلاتے ہوئے کچن میں بھاگا۔۔۔
سب کچھ جل چکا تھا۔۔۔۔۔۔
“کیا ہے یار۔۔؟؟؟؟؟
اسکا غصہ بڑھا تھا اپنی بےخودی پر۔۔۔۔۔وہ چولہا بند کر کہ کچن سے باہر آیا۔۔۔۔
پھر کچھ سوچتا ہوا اپنا والٹ چیک کرتا باہر نکلا اور گیٹ کو باہر سے لاکڈ کر کہ چلا گیا۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تیز دھوپ کے چہرے پر مسلسل پڑنے سے اسنے اپنی سُوجی ہوئی آنکھیں بمشکل کھولیں۔۔۔۔چند پل وہ یونہی بیڈ پر پڑی چھت کو گھورتی رہی۔۔۔۔دماغ سُن ہورہا تھا۔۔۔کچھ ہمت کر کے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔ابھی وہ کھڑی ہی ہوئی تھی کہ پھر چکراکر گری۔۔۔۔رات کو لگاتار رونے کی وجہ سے اب اسکا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔۔
سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیتے ہوئے وہ اٹھی۔۔۔واشروم میں جاتے ہوئے اسکی نظر ڈریسنگ کے شیشے پر پڑی تو وہ چونک کہ رہ گئی۔۔۔بکھرے بال ملگجہ سا حلیہ
کل رات کا منظر کسی فلم کی طرح ادا کے دماغ میں گھوما۔۔۔۔۔بے اختیار اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔کس قدر بے بس ہوگئی تھی وہ۔۔۔کیوں وہ صرف اپنی کررہا تھا۔آنسو حلق میں اتارتے ہوئے وہ واشروم میں چلی گئی۔۔۔۔
منہ دھو کر باہر نکلی تو سارا فلیٹ دیکھا۔۔۔۔جہاں کچن نظر آیا وہاں رکی۔۔۔۔
اندر سلیب پر جوس،دودھ ،بریڈ ،انڈےوغیرہ دیکھ کر بھوک چمکی ۔۔۔مگر ہاتھ کون ہلائے جسے ہر وقت نوکروں کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا ملے اور ہاسٹل کی میس سے بنا بنایا کھانا مل جائے۔۔۔۔وہ ہاتھ کہاں ہلاتی۔۔۔۔
یعنی کہ وہ بددماغ جانے سے پہلے اس کے لیے ناشتے کا انتظام کر کہ گیا تھا۔۔۔۔اس کا خیال آتے ہی تنفر سے سر جھٹکا۔۔۔۔۔
گلاس اٹھا کر اس میں جوس بھرا ۔۔۔اور غٹاغٹ اپنے اندر انڈیل لیا۔۔۔۔
بھوک سے بلبلاتی ہوئی آنتوں کو سکون ملا تو دماغ بھی چلنے لگا۔۔۔
“شاید ہی وہ میری مدد کریں۔۔۔۔رات کو تو انہوں نے مجھ سے ہمیشہ کی طرح ٹھیک سے بات ہی نہیں کی۔۔۔۔میں پھر سے کوشش کروں گی۔۔۔۔مما ،بابا تو مجھے اس سے نہیں بچا سکے وہ ضرور مجھے یہاں سے نکالیں گے۔۔۔۔میں ایک بار پھر سے کوشش کروں گی۔۔۔وہ سوچنے لگی۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
تقریبا دو گھنٹے کی طویل مشقت کے بعد وہ گھر پہنچا۔۔۔۔۔
دروازہ ابھی بھی بند تھا۔۔۔۔
“دورازہ کھولو بدرا پلیز۔۔۔۔اس نے پھر سے ڈور ناک کیا۔۔۔۔۔
اس بار شاید غصہ کچھ کم ہوا جو دروازہ کھل گیا ۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر دوبارہ بستر پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
دراک نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے شاپنگ بیگز اس کے پاس رکھے۔۔۔۔
اور تھوڑی کو اپنی پوروں سے چھو کراسکا چہرہ اوپر کیا تو وہ منہ موڑ گئی۔۔۔اسکا روٹھنے کا انداز بھی پیارا لگا دراک کو۔۔۔
سوری۔۔۔
اس نے ہلکی آواز میں کہا
اسکے لہجے میں گِلٹ کا عنصر محسوس کر کے بھی بدرا نے منہ پھیر کر ہی رکھا۔
جانم سوری یار۔۔
بدرا نے جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔سرخ آنکھیں،آنسووں سے بھیگے گال اور۔۔۔اسکے کٹاؤ دار لب پر زخم دیکھ کر دراک کو مزید شرمندگی نے آگھیرا
آپ بہت ظالم ہیں۔۔۔
کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد وہ نم آواز میں بولی۔۔۔
” جانم۔۔۔جانے کیوں تمہارے سامنے خود کو بےبس محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔
وہ اٹھ کر اس سے دور ہوا۔۔۔۔۔
“اس میں تمہارے لیے کچھ ڈریسز اور ضروری چیزیں ہیں دیکھ لو ۔۔۔۔۔وہ سادہ سے لہجے میں بولا۔۔۔۔
تو بدرا بھی نارمل انداز میں شاپنگ بیگز کھول کر اس میں موجود سب دیکھنے لگی۔۔۔۔
سات آٹھ ریڈی میڈ ڈریسز تھے جو دکھنے میں ہی بہت عمدہ لگ رہے تھے ۔۔۔اس نے ستائشی نظروں سے سب دیکھا۔۔۔۔
آخر میں جو ہاتھ آیا ۔۔۔۔۔
اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے دوبارہ بیگ میں واپس ڈالا۔۔۔۔
گال دہکنے لگے اور کانوں کی لوئیں تک سرخ ہو گئیں۔۔۔۔
وہ سینے پر ہاتھ باندھے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا اسی کی حرکت دیکھ حذ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
“چیک کر لو سب سائز ٹھیک ہے نا۔ ؟؟؟میں نے تو اپنے اندازے سے لیا۔۔۔۔
“آپ پہلے بھی اتنے ہی بے شرم تھے یا تازہ تازہ یہ واردات ہوئی ہے ؟؟؟؟
چہرہ گلال تھا مگر زبان و انداز ُاسے شرم دلاتا ہوا۔۔۔۔۔
“تھا تو نہیں ۔۔۔۔پر اب تمہیں دیکھ کر ہر وقت بے شرم ہونے کا دل کرتا ہے ۔۔۔۔
“”دراصل میں قصور وار نہیں ۔۔۔قصور سارا اس دل کا ہے ۔۔۔جو اس سینے میں دھڑکتا ہے۔۔
یہ بے شرم دل میری بیوی کو دیکھ کر بے ایمان ہو جاتا ہے””” ۔۔۔۔۔وہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر دل کو چھو جانے والے انداز سے بولا۔۔۔۔
پھر چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور بستر پر گرنے کے انداز میں اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹا۔۔۔۔۔
“یہ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟؟؟؟ابھی میں پہلے سے ہی ناراض ہوں آپ سے ….وہ ایک دفعہ پھر سے منہ بنا کر بولی۔۔۔۔۔
“ناراض نا ہوا کرو جانم مجھے منانے کا وہی طریقہ آتا ہے جو تمہیں پسند نہیں۔۔۔۔۔
“مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔۔وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔۔۔۔
“پر مجھے پیاس لگی ہے سٹابری جوس کی ۔۔۔۔
وہ سٹپٹا گئی اس کی فرمائش اور نظروں کے ارتکاز پر ۔۔۔۔
“میں زیادہ والا ناراض ہو جاؤں گی۔۔۔اب۔
اس نے دھمکایا۔۔۔۔۔
“سوری یار پہلی بار تھا نا کنٹرول نہیں ہوا۔۔۔۔
وہ خجالت سے کہہ گیا ۔۔۔
اٹھیں پلیز ۔۔۔۔جلدی چلیں مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔۔
“آؤ میں باہر سے ہی کھانا لے آیا ہوں ۔۔۔مل کر کھاتے ہیں ۔۔۔۔
وہ دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
رات دیر سے وہ گھر پہنچا تھا۔۔۔۔شایدعلینا اور عائزہ دونوں سوچکے تھے۔۔نشے کی وجہ سے اس نے خود کے قدموں پر ہوتی لڑکھڑاہٹ پر بمشکل قابو پایا۔۔۔پھر مشکل سے اپنے روم تک پہنچا۔۔۔روم میں انٹر ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور واشروم کی طرف گیا۔۔۔
پانی کی تین چار چھینٹے چہرے پر مارنے سے وہ تھوڑا سنبھلا۔۔۔۔پھر واپس روم میں آکر وہ گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔۔۔
آنکھ بند ہوتے ہی اس معصوم کا چہرہ سامنے آیا۔۔۔دل میں شدت سے خواہش ابھری کہ اسے خود میں سمالے۔۔۔۔بےساختہ بذل نے تکیہ پکڑ کر خود میں سختی سے بھینچ لیا
آج کس قدر وہ اسے یاد آرہی تھی کوئی یہ بذل آفندی سے پوچھتا۔۔۔۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔۔دل کو کسی طور قرار نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔تبھی اس نے پاکٹ سے اپنا موبائل نکالا۔۔۔
اور گیلری کھول کر اسکی پِک نکالی۔۔۔۔وہ کتنی حسین اور معصوم تھی۔۔۔۔بذل اسکی تصویر کو دیکھا گیا۔۔۔۔پھر موبائل کو اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔بدرا کی تصویر اس نے علینا کے موبائل سے لی تھی۔۔۔۔
اس دن نشے میں کچھ زیادہ ہی کر گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے جکڑے پریشانی کن لہجے میں جکڑ کر خود سے بولا۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
شام میں یونی سے آنے کے بعدوہ صوفے کی پشت پر سر ٹکائے لیٹنے کے انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔۔جب سے اسکی سوچوں کا محور ادا اور اپنے رشتے پر تھا۔۔۔وہ اس قصے کو اب جلد ہی سلجھانے کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔اور اسے اپنے ساتھ گردیزی ولا لے کر جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔جانتا تھا اس کے ماما،بابا اور دادی جان سب کو اس شادی پر اعتراض ہوگا ۔۔۔۔
مگر کبھی نا کبھی تو یہ سچ ان کے سامنے آئے گا ہی۔۔۔اور اگر یہ سچ اس کی بجائے انہیں کہیں اور سے پتہ لگے گا تو بہت دکھ ہو گا۔۔۔
سب شام کی چائے روزانہ لان میں ہی بیٹھ کر پیتے تھے۔۔۔۔وہ بھی فیصلہ لیتے ہوئے اٹھ کر باہر آیا۔۔۔۔۔
طمر ،وامق اور دادی زبیدہ خانم تینوں چائے پیتے ہوئے باتوں میں مشغول تھے۔۔۔۔۔
“ماما بابا مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے”تقی کا سپاٹ انداز دیکھ وہ تینوں اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔
“کیا بات ہے ۔۔۔ادھر آؤ بیٹھ کر بتاؤ۔۔۔۔طمر نے تقی کا ہاتھ پکڑ کر قریب رکھی ہوئی خالی چئیر پر بٹھایا۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
