Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 6
آج کل اس علاقہ میں ایک گروہ بہت سرگرم ہے ، جو بچوں کو اغوا کرتے ہیں ،پھر ان کے باڈی پارٹس کو نکال کر بیچتے ہیں ۔۔۔۔۔پولیس چاروں طرف انہیں کی تلاش میں سرگرداں تھی۔۔۔۔۔
جب وہ دونوں آپسی جھگڑے میں مصروف تھے تبھی ایک عورت جس نے اپنا منہ چادر سے لپیٹ رکھا تھا ،جو اسی گروہ کی ایک ماہر رکن تھی ،وہ کمال ہوشیاری سے بچی کی واکر کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے دور لے گئی۔۔۔۔
اب وہ چلتی ہوئی قدرے رش والی جگہ پر پہنچ چکی تھی۔وہ بالکل نارمل انداز میں ایک ماں کی طرح چلتی ہوئی بچی کو لیے جا رہی تھی کہ پولیس کی گاڑی کے سائرن کی آواز سنتے ہی اس کے ہاتھ پاؤں پھولے۔۔۔۔
اس کا اڈا تو ابھی یہاں سے کافی دوری پر تھا۔۔۔۔
“کیا کروں اگر پولیس نے مجھے پہچان لیا “؟وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے خود سے بولی۔۔۔۔
سامنے ہی کوڑے کا ڈھیر نظر آرہا تھا ۔۔۔اس کے شاطر دماغ نے لمحوں میں پلان ترتیب دیا۔۔۔۔
“کیوں نہ میں بچی کو اس کوڑے میں چھپا دوں پھر تھوڑی دیر کے بعد پولیس کے رفع دفع ہوتے ہی آکر اسے یہاں سے لے جاؤں گی۔۔۔۔
اس نے بچی کو واکر سے نکالا جو کمبل میں اچھی طرح لپٹی ہوئی تھی۔۔ساتھ ہی اس کا فیڈر بھی پڑا تھا۔۔۔۔
اس نے فیڈر اس کے کمبل کے اندر ہی لپیٹا ۔۔۔یہ کہتے ہوئے کہ بعد میں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔
اور اس کے منہ پر کلوروفارم والا رومال رکھ کر اسے بے ہوش کردیا تاکہ اس کے واپس آنے تک وہ بنا آواز کیے وہاں پڑی رہے۔۔۔۔۔
اور ننھی سی ایک ماہ کی بچی کو کوڑے کے ڈھیر میں چھپا دیا۔۔۔اور پولیس کی گاڑی کی آواز کے مخالف سمت دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
میڈم جی یہ کچھ سامان ہے عمر صاحب کی گاڑی کی صفائی کی ہے آج اس میں سے نکلا ہے۔۔۔۔ملازم نے گاڑی میں سے برآمد شدہ سامان جس میں کچھ کشنز ڈیکوریشن پیس چند دیگر چیزوں کے ساتھ ایک خوبصورت مخملی بلیک کور والی ڈائری بھی اس کے حوالے کی۔۔۔۔
“ان کی گاڑی کی صفائی کیوں ؟؟؟؟
وہ میڈم جی بڑی میڈم نے کہا تھا کہ آج سے یہ گاڑی وامق صاحب کے استعمال میں دے دی جائے گی اسی لیے اس میں سے فالتو سامان نکلوا کر گاڑی کو واش کروا دوں اچھے سے۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ “
طمر وہ سامان اٹھائے سٹور روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔اس نے سامان پر زیادہ توجہ نہیں دی۔۔۔۔
جب وہ سامان کا کاٹن سٹور روم میں رکھنے لگی تو اوپر موجود ڈائری نیچے گری۔۔۔۔
اس نے کاٹن ایک طرف رکھ دیا اس کی نظرادھ کھلی ڈائری کے صفحوں پر لکھی گئی تحریر پر پڑھی۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ کر پھیلیں۔۔۔۔۔
وہ حیرت زدہ سی اسے ہاتھ میں لیے پڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کئی بار زندگی میں ایسے کئی حادثات ہو جاتے ہیں جن کی کسی نے توقع بھی نہیں کی ہوتی۔۔۔۔۔
اور یہی آج اس کے ساتھ بھی ہوا تھا۔۔۔ وہ نہال کا کیا بھلائے اپنی گڑیا کو پاگلوں کی طرح گلیوں میں ڈھونڈھ رہی تھی۔۔۔۔۔
جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا اس کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ۔۔۔۔
وہ بے بسی کی تصویر بنے ہر گلی ہرنکڑاور ہر موڑ پر اسے ڈھونڈھ چکی ۔۔۔ حتی کے شام کے سائے گہرے ہونے لگے۔۔۔۔۔
ہر طرف اندھیرا چھانے لگا آسمان پر ،اس کی قسمت پر اور گڑیا کے نہ ملنے پر اس کی آنکھوں کے سامنے بھی ۔۔۔۔۔۔۔
یا اللہ رحم !!!!
وہ دونوں ہاتھ جوڑے خدا کے حضور سر بسجود ہوئی اور گھٹنوں کے بل زمین پر گرے گڑگڑا کر رونے لگی۔۔۔۔۔
آج وہ اصل معنوں میں تہی داماں رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
آنسو تب نہیں آتے جب آپ کسی کو کھو دیں ،آنسو تب آتے ہیں جب آپ خود کو کھو کر بھی کسی کو پا نہ سکیں۔۔۔۔
کانوں میں اس کے رونے کی آواز گونجنے لگی دماغ شل ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
صدمے کے مارے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی۔۔۔۔۔۔
آج عشق نے اسے بری طرح رسوا کر کہ سب کچھ چھین لیا۔۔۔۔
موسلادھار بارش نے اس کے سجدے میں گرے وجود کو بھونا شروع کردیا ۔۔۔۔وہ بنا ٹھنڈ بنا بارش کی پرواہ کیے پانی اور کیچڑ میں سے گزرتی ہوئی اپنی گڑیا کو تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔
کوئی راہ سجھائی نہ دے رہے تھی۔۔۔وہ دھاڑیں مارتے ہوئے بچوں کی طرح رو دی۔۔۔۔۔
دل سوکھے ہوئے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔آخر اس کے جگر کا ٹکرا اس کی کل کائنات جا کہاں سکتی تھی۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“تو یہ تھی تمہاری اصل حقیقت “؟؟؟؟وہ ڈائری اس کے پاس بستر پر پھینکتے ہوئے غرائی۔۔۔۔۔۔۔
“یہ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔تمہیں کہاں سے ملی ؟؟؟؟وہ حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“جہاں سے بھی ملی ہو اس میں جو لکھا کیا وہ سب سچ ہے ؟؟؟؟مجھے جواب دو اسامہ ۔۔۔۔
“تم میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو میرا نام لے کر بلانے لگی اپنی اوقات مت بھولو ۔۔۔
“میں اپنی اوقات میں ہی ہوں مگر آج تمہاری اصلیت مجھے اچھے سے پتہ چل گئی ۔۔۔۔
ت۔۔۔تم صفا بھابھی یعنی اپنی تایا زاد کو بچپن سے ہی پسند کرتے تھے۔۔۔۔۔
اسی کے بارے میں سب پیار بھرے الفاظ تم اس ڈائری میں لکھ چکے ہو ۔۔۔۔۔۔
یہی کہ تم سے پہلے عمر بھائی کا رشتہ اس سے طے ہوگیا اور تم ان کی خاطر پیچھے ہٹ گئے۔۔۔۔۔
وہ جو ڈائری میں پڑھ چکی تھی سب اسے بتانے لگی۔۔۔۔۔
کہیں عمر بھائی کو یہ سب پڑھ کر تو نہیں اچانک ہارٹ اٹیک آیا۔۔۔۔۔”؟
“میں آج سب کو بتا دوں گی تمہاری اصلیت کہ تمہارے دل میں شروع سے کھوٹ تھا اسی لیے تم نے کبھی بھی مجھے بیوی کا مقام دیا ہی نہیں ایک بار بھی میرے قریب نہیں آئے ۔۔۔۔
“آواز آہستہ رکھو اپنی ۔۔۔۔وہ اس کے قریب آتے پھنکارا۔۔۔۔۔
چہرہ غصے کی وجہ سے سرخی مائل دکھائی دینے لگا۔۔۔۔۔
“تو تم کیوں خاموش رہی ؟؟؟؟
“کیوں بلاوجہ ڈاکٹروں اور حکیموں کے چکر لگاتی رہی ۔۔۔۔۔دنیا دکھاوے کے لیے نا۔۔۔۔۔
وہ اس کا جبڑا اپنی مٹھی میں بھینچ کر غرایا۔۔۔۔۔
“مرد ہوں مرد عورت کی چال دیکھ کر جان لیتا ہے کہ وہ ٹچڈ ہے یا ان ٹچڈ۔۔۔۔۔۔وہ پیشانی پر سلوٹیں لیے استہزایہ انداز میں بولا ۔۔۔۔۔
بات تھی یا گویا پگھلا ہوا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا۔۔۔۔۔
اسامہ کی بات سن کر اس کا رنگ ایک دم پھیکا پڑا۔۔۔۔۔وہ مجرموں کی طرح سر جھکا گئی۔۔۔۔خفت اور شرم کے باعث چہرہ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔۔۔۔
“میری ایک بات کان کھول کر دھیان سے اس بھوسے بھرے مغز میں ڈال لو باہر جب سب اکٹھا ہوں گے تو خود ہی چپ چاپ میری زندگی سے نکلنے کے لیے مان جانا ورنہ ۔۔۔۔۔
وہ چہرہ اٹھا کر اس کی طرف فق نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
“ورنہ تمہاری ذات اور کردار کے ایسے پرخچے اڑاؤں گا کہ کسی کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے سختی سے بولا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️
اماں بی رات کے کھانے کے بعد بچی ہوئی روٹی اور دودھ گھر کے باہر لے کر آئیں انہوں نے ایک مخصوص جگہ بنائی ہوئی تھی جہاں وہ بلی اور کتوں کو روز روٹی اور دودھ ڈالتی تھی۔۔۔۔۔
دور سے ایک کتا آتا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔۔اس کے لیے روٹی نہیں بچی ۔۔۔۔
“ایسا کرتی ہوں اس کے لیے بھی تھوڑا سا دودھ لے آتی ہوں۔۔۔۔وہ اندر جا کر ایک مخصوص پیالے میں اس کے لیے دودھ نکال کر لائیں۔۔۔۔آسمان جو گہرے بادلوں سے ڈھکا تھا ایک دم مینہ برسانے لگا۔۔۔۔۔
لمحوں میں تیز بارش نے چاروں اوڑھ جل تھل مچا دی۔۔۔۔۔۔
جب باہر آئیں تو دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔۔
اس کے منہ میں کمبل کا کونہ تھا۔۔۔۔جسے گھسیٹتے ہوئے وہ لا رہا تھا۔۔۔۔۔
اندر سے ایک چھوٹے سے بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔
انہوں نے لپک کر اس بچے کو کمبل سمیت اٹھایا۔۔۔۔۔
گھسیٹے جانے کی وجہ سے اس ننھے سے وجود کے روئی جیسے پھولے ہوئے جسم پر بے شمار خراشیں آئیں ہوئی تھیں۔۔۔
نرم بازوں سے خون رس رہا تھا۔۔۔۔
ٹھنڈ اور بارش کی وجہ سے اس کے ہونٹ اور چہرہ نیلا پڑ چکاتھا۔۔۔۔۔اس ننھے وجود کی درگوں حالت دیکھ کر ان کا دل دہلا۔۔۔۔۔
وہ اسے اٹھائے اندر لے گئیں۔۔۔۔اور اسے زپ کھول کر کمبل سے پوری طرح باہر نکالا پھر اس کے زخم صاف کیے۔۔۔۔۔اس کے کمبل سے ہی فیڈر برآمد ہوا۔۔۔۔۔
“شاید اسی دودھ کی خوشبو کی وجہ سے کتے نے اسے پکڑا۔۔۔۔
انہوں نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔
“کیا کروں اس بچی کا میں ؟؟؟فی الحال تو بہت رات ہو چکی ہے اور اس تیز بارش میں کہاں ڈھونڈوں اس کے وارثوں کو ؟؟؟ صبح دیکھتے ہیں کہ کیا کروں اس کا۔۔۔۔۔
وہ خود کلامی کرتے ہوئے جلدی جلدی سے ہاتھ چلانے لگیں۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
لیونگ روم میں سب افراد جمع ہو چکے تھے۔زبیدہ خانم ،اسامہ،صفا،طمر ،وامق،اور صفا کے والد فہیم گردیزی جو ان کے خاندان میں سب سے بڑے اور ان کے سربراہ تھے۔۔۔۔
انتظار تھا تو بس طمر کی تائی جان کا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ایک پینتالیس سالہ بھاری بھرکم عورت خراماں خراماں چلتی ہوئی اندر آئی۔۔۔۔تو سب نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
اسلام وعلیکم!!!!
اس نے لٹھ مار انداز سے سلام جھاڑا۔۔۔۔جیسے ان پر بڑا احسان عظیم کیا ہو۔۔۔۔
وعلیکم السلام!!!
فہیم گردیزی اور زبیدہ خانم نے ہی بس مشترکہ طور پر جواب دیا۔۔۔۔۔
“بہن ہمیں آپ سے ضروری بات کرنی تھی اسی لیے آپ کو زحمت دینی پڑی۔۔۔۔فہیم گردیزی نے احتراماً بات کا آغاز کیا۔۔۔۔
“میری بھی ایک بات آپ سب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اگر بات اس لڑکی کو یہاں سے لے جانے کی ہے تو میں ہر گز اسے یہاں سے لے جانے والی نہیں۔۔۔۔ہزاروں جتن کیے تو اسے رخصت کیا تھا ۔۔۔اب پھر سے اس مصیبت کو گلے میں ڈال لوں ۔۔۔نا بابا۔۔۔۔نا۔۔۔۔وہ دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے جان چھڑوانے کے انداز میں بولی۔۔۔
میرا خاوند کویت میں ہوتا ہے یہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں ابھی میری دو بچیاں جوان بیاہنے والی ہیں ۔۔۔۔اسے اپنے گھر لے گئی تو ان کو کون بیاہنے آئے گا۔۔۔۔سب تو یہی کہیں گے پہلی والی واپس آگئی شادی کے بعد ضرور کوئی وجہ ہو گی۔اس کی وجہ سے میری بیٹیوں کا مستقبل خراب ہو ۔۔۔۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔وہ حددرجہ روکھے انداز میں بولیں۔
مجھے تو ان سب سے دور ہی رکھو۔۔۔۔میں تو چلی یہاں سے۔۔۔۔۔وہ ان کی بات سنے بغیر اپنی بات مکمل کیے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔
“بہن ہماری بات تو سن لیں !!!”ایک بار پھر سے فہیم گردیزی نے انہیں روکنا چاہا۔۔۔۔۔
“میں یہاں کسی کی بھی کوئی بات سننے نہیں آئی اپنی سنانے آئی تھی۔۔۔۔اب اس لڑکی کو گھر میں رکھو یا یہاں سے باہر نکالو میری بلا سے۔۔۔۔
وہ پلو جھاڑتی ہوئی بے دامن چھڑائے وہاں سے نکلتی چلی گئیں۔۔۔۔۔
طمر ان کے اس انداز پر ہکا بکا رہ گئی۔۔۔۔اور سر جھکائے ہوئے آنسو بہانے لگی۔۔۔۔
“تایا جان میں صفا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے مجھے آپ کی اجازت درکار ہے۔۔۔۔وہ بے خوف انداز میں دیدہ دلیری سے محو گفتگو ہوا۔۔۔۔۔۔
“زبیدہ خانم یہ اسامہ کیا کہہ رہا ہے ؟؟؟وہ حیران نظروں سے انہیں دیکھتے ہیں بولے۔۔۔۔
“اسامہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے میری بھی یہی مرضی ہے کہ صفا اب ہمارے گھر ہی رہے ۔۔۔اسامہ بچوں کو باپ کا سایہ بھی فراہم کرے گا ۔۔۔۔اور مجھے امید ہے کہ صفا کو بھی خوش رکھے گا۔۔۔۔
“مگر طمر بیٹا کیا تم اسامہ کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دیتی ہو ؟؟؟
انہوں نے ڈائیریکٹ اسے ہی مخاطب کیے ہوئے کہا۔۔۔۔
“جی تایا جان مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔”
وہ گلوگیر لہجے میں ٹھر ٹھر کربولی۔۔۔۔
“مگر مجھے ہے “اتنے وقت سے خاموش بیٹھی صفا بھی آخر بول پڑی۔۔۔۔۔
“کیا بیٹا بتاؤ مجھے ؟؟؟”
فہیم گردیزی نے سوالیہ لہجے میں دریافت کیا۔۔۔۔
“میں نے ایک شرط رکھی تھی نکاح کی حامی بھرنے سے پہلے۔۔۔۔۔وہ اسامہ کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
“کیسی شرط؟وہ اچنبھے سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے۔۔۔۔
“میں بتاتا ہوں۔۔۔اسامہ نے کہا۔۔۔۔
“یہ چاہتی ہے کہ میں طمر کو طلاق دے دوں۔۔۔
“تو تم کیا چاہتے ہو!!؟
میں بھی یہی چاہتا ہوں جو صفا کی خواہش ہے۔۔۔۔میں چاہتا تو اسے خود ہی طلاق دے چکا ہوتا مگر میں نے سب بڑوں کو اس فیصلے میں شامل کرنا ضروری سمجھا۔۔۔۔
“اگر کسی نے میری بات نہ مانی تو میں پھر بھی وہی کروں گا جو میں کرنے کی ٹھان چکا ہوں۔۔۔۔وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
“کوئی طمر سے بھی پوچھ لے اس کی کیا مرضی ہے ؟؟؟؟
فہیم گردیزی نے اس مجسمہ بنی زارو قطار آنسو بہاتی ہوئی طمر کی طرف دیکھ کر کہا۔
“بولوطمر!!!!!
“جب یہی میرے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے راضی نہیں تو میں کب تک زبردستی ان کے سر پر سوار رہوں گی ۔۔۔ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں یہ بے شک مجھے فارغ کردیں ۔۔۔دنیا میں بہت سے یتیم خانے ہیں ،میں کہیں بھی چلی جاؤں گی ۔۔۔۔
وہ رندھے ہوئے لہجے میں آہستہ آواز میں اپنے سوکھے ہوئے لبوں پر زبان پھیر کر بولی۔۔۔۔
“یہ کیسی باتیں کر رہی ہو ؟ جس طرح صفا میری بیٹی ہے تم بھی میری بیٹی ہو۔ ۔
تم نے مجھے اپنا بڑا سمجھ کر فیصلے کے لیے بلایا ہے تو بڑا سمجھ کر میری بات بھی مانو۔۔۔ انہوں پر شفقت انداز میں کہا۔
میرا گھر حاضر ہے اپنی بیٹی کے لیے تم جب تک چاہو اس رشتہ ختم ہونے کے بعد وہاں رہ سکتی ہو ۔۔۔۔
مگر لڑکی کا اصل گھر اس کا سسرال ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔
مجھے بس ایک بات کا جواب چاہیے۔ تم سے بولو دو گی۔۔۔۔۔؟”
اس بات پر وہاں موجود سب لوگوں کے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔اور سب ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔
“اگر میں تمہارے لیے کوئی فیصلہ لوں تو تم اسے قبول کرو گی ؟؟؟؟؟
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے گہرا سانس لیا اور ان کی طرف دیکھ کر بولی۔ “جی تایا جان “”””
“صفا کی عدت ختم ہو چکی ہے طلاق کے بعد اس کا نکاح اسامہ سے کردیں گے ۔۔۔
مگر ۔۔۔۔۔
ان کی بات سننے کے لیے اس کا رواں رواں کان بن چکا تھا ۔۔۔
“تمہاری عدت ختم ہونے تک تم میرے گھر میں رہو گی پھر میں اپنی بیٹی طمرکو اپنے گھر سے رخصت کروں گا۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولے۔۔۔۔
اب کی بار حیران ہونے کی باری سب کی تھی ۔۔۔۔
“مگر کس سے ؟؟؟زبیدہ خانم سے بالآخر صبر نہ ہوا تو وہ درمیان میں بول ہی اٹھیں۔۔۔۔
“وامق سے “
وامق جو شروع سے لے کر اب تک ایک لفظ بھی نا بولا تھا۔۔۔
اب بھی صوفے پر بیٹھ کر سامنے رکھے میز پر کرسٹل کا شو پیس گول گول گھماتے ہوئے جیسے کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔۔۔
“فہیم بھائی یہ کس قسم کا فیصلہ ہوا؟؟؟
آپ کو بڑا جان کر ہم نے آپ کو اپنے گھر کے فیصلے کے لیے بلایا اور آپ ہمارے ساتھ ہی نا انصافی کر رہے ہیں ……وہ غصیلے لہجے میں بولی۔۔۔۔
“میں نے کیا غلط کیا ؟؟؟وہ حیرت انگیز نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔۔
“یہ لڑکی بانجھ ہے ،میرے ایک بیٹے کو اولاد کی خوشی نہ دے پائی اور اب آپ اس بانجھ کو میرے کنوارے بیٹے کے پلے باندھ رہے ہیں۔۔۔۔میں ایسا قطعاً نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔
وہ طمر کو شعلہ بار نظروں سے دیکھ کر ایک ایک لفظ چبا کر بولیں۔۔۔۔۔
