Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 5
پچھلے دنوں ہی تعبیر نے اپنے اور نہال کے کچھ ٹیسٹ کروائے تھے جس کی رپورٹ کلیکٹ کرنے کے لئے آج وہ ہوسپٹل گئی تھی اس نےرپورٹس کو پڑھنے کی کوشش کی مگر کچھ بھی سمجھ نہیں آیا ۔۔۔
“سنو تم مجھے بتا سکتے ہو اس رپورٹ میں کیا لکھا ہے ؟؟؟”تعبیر نے لیبارٹری میں کام کرتے ہوئے ایک لڑکے کو مخاطب کرکے اس سے پوچھا۔۔۔۔
“جی میڈم دکھائیں میں دیکھ کر بتاتا ہوں “
اور اس نے رپورٹس پڑھ کر جو بتایا اس کے تو کھڑے کھڑے زمین پاؤں تلے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
“میرا ایک کام کر سکتے ہو ؟”
“جی میڈم بتائیں “؟
“ان رپورٹس کو ویسا بنا سکتے ہو جیسا میں چاہتی ہوں “
“میڈم یہ غیر قانونی کام ہے “وہ گھبرا کر بولا۔۔۔۔
“اس کے لیے تمہیں منہ مانگی رقم ملے گی سوچ لو ۔۔۔بس ہوشیاری سے کام کرنا کسی کو پتہ نہ چلے ۔۔۔دھیان سے کوئی ثبوت مت چھوڑنا۔۔۔۔
وہ آہستگی سے رازدارانہ انداز میں کہنے لگی۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
طمر کچن میں شام کا کھانے بنانے میں مصروف تھی۔جبکہ زبیدہ خانم سوسائٹی کی دوستوں کے ساتھ واک کے لیے نکلی ہوئیں تھیں۔۔۔۔
صفا دونوں بچوں کو لیے باہر لاؤنج میں موجود تھی ۔۔۔ایک بیٹے کو صوفے پر اپنے پاس لٹایا ہوا تھا جبکہ کو دوسرے کو گود میں ڈالے دودھ سے فیڈر پلا رہی تھی۔۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم !!!
کیسی ہو ؟”
اسامہ جو عمر کے جانے کے بعد آفس کو سنبھال رہا تھا ۔آفس سے تھکا ہارا واپس آیا اور کوٹ صوفے کی پشت پر پھینکتے ہوئے صفا کے سامنے رکھے گئے صوفے پر بیٹھ کر بولا ۔۔۔
“میں تو ٹھیک ہوں مگر مجھے تمہارے تیور کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔”آج اس نے اسامہ سے سیدھے سیدھے بات کرنے کا ٹھان لیا تھا۔۔۔۔
“تم بھابھی بولنے کی بجائے میرا نام لے رہے ہو
زرا تمیز سے رشتے میں تم سے بڑی ہوں “””وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔۔۔۔
“بھائی نہیں رہا تو بھابھی کا رشتہ بھی نہیں رہا “””
“صفا دیکھو میری بات تحمل سے سنو ۔۔۔۔
“مجھے تمہاری بات سننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔۔۔”
“ایک دفعہ سن تو لو بات تمہارے فائدے کی ہی ہے”
“”جلدی بولو مجھے اس کو نہلانا بھی ہے “””
“صفا یہ میرے بھائی کی نشانی ہیں اور ان دونوں بچوں کو میں کبھی اس گھر سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔ایک اکیلی عورت چاہے کتنا ہی فنانشلی سٹرونگ کیوں نہ ہو اسے مرد کے سہارے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔۔۔۔
میں ان بچوں کی اور تمہاری ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔بس تم ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جاؤ ۔۔۔۔میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
“ایک اکیلی عورت کو دیکھ کر اس کے جذبات کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہو آجائیں امی میں انہیں بتاتی ہوں ۔۔۔۔
وہ تلخ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔
“امی کو کیا بتانا ہے وہ پہلے سے ہی یہ سب جانتی ہیں اور وہ بھی ایسا ہی چاہتی ہیں”
وہ حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
“میرے ساتھ اس طرح کی بے ہودہ بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔”
“صفا میری بات پر غور کرنا میں تمہارے فیصلے کا منتظر رہوں گا۔۔۔۔
کہتے ہوئے وہ اپنا کوٹ اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کہاں ہیں آپ ؟؟؟
“یہیں ہوں میں نے کہاں جانا ہے ؟
“آج پورا ایک ماہ ہو گیا ہے آپ کو آئے ہوئے اور آپ کی گڑیا کو بھی اس دنیا میں آئے ہوئے، آج آپ کو یاد نہیں آخری بار آپ نے کیا کہا تھا جاتے وقت؟
“مجھے اچھی طرح سے یاد ہے اپنی بات میں نے کہا تھا کہ ہم ہر سال کی بجائے ہر ماہ اپنی گڑیا کی سالگرہ منائیں گے ۔۔۔۔
وہ اپنی بات یاد کرتے ہوئے مسرور انداز میں بولا۔۔۔۔
اور اس کا نام بھی ابھی تک ڈیسائیڈ نہیں کیا وہ بھی رکھنا ہے ۔۔۔
“تم بتاؤ تم نے کیا سوچا ؟؟؟
“میں نے نہیں کچھ بھی سوچا آپ اپنی پسند کا رکھنا اس سے بھی بہت اچھا لگے گا بڑے ہو کر جب پتہ چلے گا کہ اس کا نام اس کے پاپا نے رکھا ہے تو بہت خوش ہوگی۔۔۔۔”
اچھا ٹھیک ہے میں کچھ سوچتا ہوں اور تم بھی سوچو پھر جس کا نام اچھا ہوا وہی رکھیں گے۔”
“وقت ملتے ہی میں آؤں گا ۔۔۔
“ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی۔۔۔۔
عورت کی خوش قسمتی کا انحصار اس کی اعلیٰ تعلیم یا خوبصورتی پر نہیں ہوتا بلکہ اس کی زندگی میں شامل ہونے والے مرد پر ہوتا ہے ۔۔۔۔
اور
میں بہت خوشنصیب ہوں جو مجھے آپ جیسے ہمسفر کا ساتھ ملا۔۔۔۔
فون رکھتے ہی اس نے مسکرا کر سوچا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کیا کروں میں ؟؟؟؟وہ ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے مخمصے میں پھنسے گھبرا کر بولی۔۔۔۔
کیا ہوا صفا؟؟؟؟
اسامہ جو آج کچھ دن گزرنے کے بعد صفا سے اس کی بات کا جواب سننے آیا تھا۔۔۔
اسے پریشان دیکھا تو حیرت سے بولا۔۔۔۔
“کیا بتاؤں اسامہ میں کچھ دنوں سے ان کا بغور جائزہ لے رہی ہوں جب بھی کوئی چیز ان کی آنکھوں کے سامنے کروں بالکل بھی ری ایکٹ نہیں کرتے ۔۔۔۔
کوئی چیز ان کی آنکھوں کے سامنے لہرانے سے بھی انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔۔مگر کوئی آواز سنیں تو سر گھما کر ادھر ادھر نظریں پھیرتے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کیا کروں ؟؟؟وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔
“تم فکر مت کرو ابھی چھوٹے ہیں شاید اسی وجہ سے ۔۔۔۔مگر پھر بھی تمہاری تسلی کے لیے ہم انہیں چیک اپ کروانے کے لیے لے ضرور جائیں گے۔۔۔۔
ہمممممم۔۔۔۔
“جو میں نے کہا تھا کیا سوچا تم نے اس کے بارے میں ؟؟؟؟
“اسامہ تمہارے ان سوالات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں”””
صفا پلیز !!!اپنے لیے نہیں تو ان بچوں کے بارے میں سوچو انہیں تو اپنے باپ کا پیار چاہیے۔۔۔۔۔
“اسامہ سب سے بڑی بات ہے تمہاری بیوی کیا وہ مانے گی اس شراکت داری پر ؟؟؟؟
“اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ میرے معاملات میں مداخلت کرے”
“تم اپنی بات بتاؤ ،،تم کیا چاہتی ہو ؟؟؟؟
“اول تو میں اس نکاح کے سراسر خلاف ہوں مگر پھر بھی تم اصرار کرتے ہو تو میری ایک شرط ہے “
“کیسی شرط “؟
“اگر میں بچوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھا بھی لوں ،تومیں تب ہی تم سے نکاح کی حامی بھروں گی جب تم طمر سے اپنا رشتہ توڑو گے۔۔۔۔میں کبھی بھی شراکت برداشت نہیں کروں گی۔۔۔
“مگر صفا وہ تو بالکل بے ضرر سی ہے وہ ہمارا کیا بگاڑے گی۔؟؟؟؟
“دیکھو اسامہ میں صاف صاف بات کرنے کی عادی ہوں وہ کم عمر ہے مجھ سے اور خوبصورت بھی تمہارا کبھی بھی دل بدل گیا اور تم اس کی طرف راغب ہوگئے تو میں تولٹ جاؤں گی۔۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا “
“بس اسامہ بات ختم اب آگے کچھ مت کہنا یا تو میری شرط پوری کرو ورنہ بھول جاؤ سب اور جاؤ یہاں سے”وہ سرد مہری سے کہتے ہوئے رخ موڑ گئی۔۔۔۔
وامق جو زبیدہ خانم کے کہنے پر صفا کو باہر کھانے کے لیے بلانے آیا تھا ان دونوں کی آپسی گفتگو سن کر بھونچکا رہ گیا۔۔۔۔۔
مگر الٹے قدموں سے چلتا ہوا واپس پلٹ گیا۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️
وہ جو گاڑی کی کیز لیے دبے پاؤں سے باہر نکلنے لگا تھا وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی اس کے سر پر پہنچی۔۔۔۔
“یہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔”اس نے دو کاغذات اس کے منہ پر زور سے مارے ۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے تعبیر ؟”
“تم نے کہا تھا کہ مجھ میں کمی ہے اب دیکھو رپورٹس کمی مجھ میں نہیں کمی تم میں ہے ،صرف تمہاری وجہ سے میں ادھوری رہ گئی۔۔۔۔میں کبھی بھی ماں نہیں بن پاؤں گی۔۔۔۔یہ سب صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔
صرف تمہاری وجہ سے وہ اونچی آواز میں روتے ہوئے آنکھوں میں جعلی آنسو بھر کر بولی۔۔۔۔
اس نے جھک کر رپورٹس اٹھائیں اور پڑھنے لگا۔۔۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے “؟
وہ فق نگاہوں سے انہیں دیکھتا تو کبھی مگر مچھ کر آنسو بہاتی ہوئی تعبیر کو۔۔۔۔۔
“تم کبھی بھی باپ نہیں بن سکتے نہال “
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
وہ عالم طیش میں پیپرز وہیں پھینک کر بنا کچھ کہے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔۔
“اب تم ساری زندگی کہیں نہیں جاؤ گے ہمیشہ میرے بن کر رہو گے۔۔اسی گلٹ میں رہو گے کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔
ہا۔۔۔ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔جبکہ اصلیت تو یہ ہے کمی مجھ میں ہے ۔مگر یہ بات تمہیں کبھی پتہ نہیں چلنے دوں گی۔۔۔ہمیشہ تم میرے تابع میرے فرمانبردار بن کر رہو گے۔۔۔۔۔
وہ سرشاری سے ہنستے ہوئے صوفے کی پشت پر سر ٹکا گئی۔۔۔۔۔
مگر ہنستے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔۔۔
باہر سے چاہے جیسی بھی ہو اندر سے ایک نرم گوشہ رکھتی تھی ۔آخر اولاد کی خواہشمند ہر عورت ہوتی ہے ،اپنے اندر کی کمی جان کر اندر سے تو پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔مگر ظاہر نہیں ہونے دیا خود کو مضبوط کیا آخر زندگی تو گزارنی تھی تو کیوں نہ اپنے من پسند طریقے سے گزارے شروع سے ہی اس کی طبیعت میں غرور تھا ہر ایک کو اپنے سامنے کمتر سمجھنا اسے اپنا تابع فرمان دیکھنا ہی اس کی سب سے بڑی خواہش رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
وہ واش روم سے فریش ہوئے باہر نکلا تو ڈریسر کے سامنے کھڑا بالوں کو برش سے سیٹ کرنے لگا۔۔۔۔۔
“کھانا لگاؤں آپ کے لیے ؟
“کوئی ضرورت نہیں میرے کسی بھی کام کو ہاتھ لگانے کی “
دفعہ ہو جاؤ میری نظروں سے دور….وہ قمیض کے بازو فولڈ کرتا ہوا بولا
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟؟اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو مجھے بتائیں میں اسے سدھارنے کی پوری کوشش کروں گی۔۔۔۔
طمر نےاس کے پاس آکر کہا۔۔۔
“میں نے کیا لوگوں کو سدھارنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟؟؟؟وہ بستر پر نیم دراز ہوا۔۔۔۔
“اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں “””یہ کہتے ہوئے اس نے اسامہ کی پیشانی پر ابھی ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اس نے طمر کو شانے سے دھکا دے کر خود سے دور کرنا چاہا۔۔۔۔
کتنی بار کہوں مجھے تم اپنے قریب نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔
وہ اس افتاد کے لیے تیار نہ تھی لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے لگی۔۔۔۔اور کنپٹی سے خون نکلنے لگا۔۔۔۔۔
“بس اب میں تمہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی اپنے کمرے میں برداشت نہیں کروں گا۔ نا ہی اس گھر میں “
آج کے آج ہی تمہیں طلاق دے کر اس گھر سے اور خود کی زندگی سے فارغ کرتا ہوں “””
وہ تنفر زدہ لہجے میں اس پر ابل پڑا۔۔۔۔۔
“خدا کا واسطہ ہے مجھے طلاق مت دیجیے گااسامہ۔۔۔اس میں میرا کیا قصور؟؟؟؟
“اگر میری کوئی غلطی ہے تو بتائیں مجھے مگر اس طرح سے مجھ سے منہ نہ موڑیں”””وہ اپنی زخمی کنپٹی پر ہاتھ رکھ کر کرب ذدہ لہجے میں بولی ۔۔۔
“تمہیں فارغ کرکہ میں جلداز جلد صفا سے نکاح کر لوں گا۔۔۔۔۔”
وہ اس کی خواہش پر ششدر رہ گئی۔۔۔۔۔۔
آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟؟
“نا تو تم مجھے بچے کا سکھ دے پائی ہو اور نا سرمایہ…….”صفا کی ایک ہی شرط ہے کہ اگر تمہیں طلاق دوں گا تب ہی وہ مجھ سے نکاح کرے گی”””‘
“مجھے اس گھر کے کسی کونے میں پڑا رہنے دیں مگر مجھے یہاں سے مت نکالیں”۔۔۔۔وہ منت بھرے انداز میں گڑگڑا رہی تھی۔
“طمر !!!! میں وعدہ کر چکا ہوں ،صفا بھابھی ۔۔۔۔میرا مطلب صفا سے”””
بولتے ہوئے اس کی زبان بھی ایک بار لڑکھڑا گئی۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اسامہ آپ جو مرضی کریں میں آپ کو نہیں روکوں گی مگر مجھے یہاں سے مت نکالیں میں کہاں جاؤں گی؟؟؟وہ نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے التجائیہ انداز میں بولی۔۔۔۔۔۔
“میں نے ایک بار جو فیصلہ کر لیا ہے اب اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے تو پھر آپ خاندان والوں سب کو اکٹھا کر لیں سب بڑے جو فیصلہ کریں گے وہ مجھے منظور ہوگا۔۔۔۔۔”
اس کے دل میں ایک موہوم سی امید جاگی شاید کوئی تو اس کے حق میں فیصلہ دے
اور اس کی زندگی کی بیچ منجدھار میں ڈولتی کشتی کو کنارہ مل جائے۔۔۔۔
“ٹھیک ہے ہر انسان سے اس کی آخری خواہش پوچھی جاتی ہے میں بھی تمہاری اس گھر سے جانے سے پہلے کی آخری خواہش ضرور پوری کروں گا۔۔۔کل ہی سب کو اکٹھا کرکہ اس بات کا فیصلہ ہو ہی جائے۔۔۔۔
وہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
جبکہ کل کے بارے میں سوچ سوچ کر اس کا دل و دماغ ابھی سے شل ہونے لگا۔۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
وہ رش ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھر پہنچا ۔۔۔۔
گھر کے باہر لگا تالا اس کا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔۔
اس نے ایک مخصوص فون نمبر ملایا ۔۔۔۔
مگر فون کال ریسیو ہی نہیں کر رہی تھی وہ۔۔۔۔وہ کوئی بیسویں بار کال ملا چکا تھا۔۔۔۔
آخر کار تھک ہار کر اس نے ارادہ ترک کر دیا۔۔۔
پھر ایک خیال کے تحت اس نے ہیلپر کے نمبر پر کال کی۔۔۔۔
دوسری ہی بیل پر کال ریسیو کرلی گئی۔۔۔
ہیلو !!
کہاں ہیں آپ ؟
سر میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اسی لیے میں آج اپنے گھر ہی ہوں نہیں آسکی اس کے لیے معزرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے آپ ریسٹ کریں “
اس نے فون بند کر کہ اس کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔۔۔۔۔۔
“کہاں جا سکتی ہے “؟
وہ اپنی ایک ہاتھ کی مٹھی کو دوسرے ہاتھ دبا کر پریشانی سے خود کلام ہوا۔۔۔۔۔
“بھائی یہ ایک ڈبہ دودھ کا دے دیں۔۔۔۔
“جی کونسا نام بتائیں “
وہ کو گڑیا کا دودھ ختم ہونے کے باعث اسے واکر میں ڈال کر اسے اپنے ساتھ لیے قریب کی مارکیٹ میں سے دودھ لینے آئی تھی ۔۔۔دکان دار سے بولی اور اسے نام بتایا ۔
“یہ لیں اس نے دودھ کا پیکٹ ایک شاپنگ بیگ میں ڈال کر اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
اور جب وہ اسے پیسے پکڑانے لگی تو اس شیطان صفت نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
اس نے حیرانی سے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں اس وقت حوس اور شیطانیت کی واضح جھلک تھی،وہ خباثت سے اپنے پیلے دانتوں سے مسکرایا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ کر اسے کھری کھری سناتی ۔۔۔۔
کسی نے پیچھے سے آکر اس کے منہ پر جاندار قسم کا مکا رسید کیا۔۔۔۔۔
اس نے حیرانی سے پیچھے سے آنے والے کو دیکھا۔۔۔۔
“آپ ؟؟؟؟
“چلو یہاں سے “وہ اس کا بازو پکڑ کر تقریباً گھسیٹنے کے انداز میں اسے وہاں سے لے جانے لگا۔۔۔۔۔۔
اس نے گڑیا کی واکر میں ہاتھ ڈالے اسے بھی اپنے ساتھ ساتھ گھسیٹا۔۔۔۔۔۔
“میری بات تو سنیں “”””یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔۔وہ تیزی سے اس کے ساتھ ساتھ گھسٹتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
قدرے سنسان جگہ پر اس نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا۔۔۔۔۔۔
“کیا ہو گیا ہے آپ کو کیوں اس طرح کا رویہ اختیار کر رکھا ہے میرے ساتھ ؟؟؟؟
“تم ہو ہی اسی قابل “
اس کا بدلا ہوا برتاؤ دیکھ کر اسے جھٹکا لگا۔۔۔
“میں نے کیا ِکیا ہے ؟یہ بھی تو پتہ چلے میرا جرم کیا ہے جس کی پاداش میں آپ یہ سلوک کر رہے ہیں ؟
“واہ اتنی بھی معصوم نہیں ہو تم جتنا میرے سامنے معصوم بننے کا دکھاوا کر رہی ہو ۔۔۔۔
“تم جیسی ہی بد کردار عورتوں کی وجہ سے وفا جیسے پاکیزہ جذبے سے مرد کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔”وہ زہر خند انداز میں پھنکارا تھا۔۔۔۔
“کیا نہیں کیا میں نے تمہارے لیے سب کچھ دیا پیار دیا مان دیا عزت دی اور مانگا کیا تھا اس کے بدلے صرف اور صرف وفا ۔۔۔۔۔
مگر صد افسوس ؟!!
کہ تم وہی نا دے پائی۔۔۔۔۔
“زرا شرم نہیں آتی مجھ پر اتنا گھٹیا اور رذیل الزام لگاتے ہوئے۔۔۔۔۔بیوی ہوں تمہاری تمہیں مجھ پر زرا اعتبار نہیں ۔۔۔۔کسی بھی رشتے کو مضبوط بنانے میں پہلی سیڑھی ہی
اعتبار ہے ،اور تم نے وہی نہیں کیا مجھ پر ۔۔۔۔
میرے کردار پر کیچڑ اچھال کر آج تم نے میرا مان میرا پیار میری عزت سب تار تار کر دیا۔۔۔۔۔
میں نے تم جیسے سنکی گھٹیا انسان سے اپنا رشتہ جوڑا اپنا سب کچھ تم پہ وار دیا اور بدلے میں تم نے کیا دیا مجھے ؟؟؟
نا تو سب کے سامنے ہمارے رشتےکو اپنا نام دے سکے ،اور نہ مجھے۔۔۔۔
“میں کب سے برداشت کر رہا ہوں تمہاری الٹی سیدھی حرکتیں مگر اب بس۔۔۔۔۔وہ ہاتھ اٹھا کر سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
“جانے کس کا گناہ ہے یہ جو تم میرے سر منڈھنے چلی ہو ؟؟؟؟
اس کی بات تھی یا گویا پگھلا ہوا سیسہ جو اس کے کانوں میں جہاں سے گزرتا وہیں سے اسے جھلسائے جا رہا تھا ۔۔۔۔
“یا اللّٰہ !!!!!وہ کرب ذدہ آواز میں آسمان کی طرف دیکھ کر چیخی۔۔۔۔
یہ کونسا میرا گناہ ہے جس کی سزا مجھے اس گھٹیا شخص کے زریعے ملی۔۔۔۔۔؟
“گھٹیا تو تم ہو جو جانے میرے سوا کن کن مردوں سے تعلق بنائے ہوئے ہو “وہ اس کی گردن پر اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت جمائے اسے جھنجھوڑ کر بولا۔۔۔۔
“بس کریں خدا کا واسطہ ہے بس کریں “وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھے گلوگیر لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
میں نے اپنا دل تم سے جوڑا تھا وہ مان تم نے توڑ دیا آج ۔۔۔۔۔مجھ کو میری ہی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔
“نظروں سے تو تم میری گر چکی ہو اب میرے سامنے یہ مگرمچھ کے آنسو بہا کر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش مت کرو۔۔۔۔۔
آج میں تمہارے جھانسے میں آنے والا نہیں ۔۔۔۔نکل جاؤ میری زندگی میں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔آج میں نہال شاہ تمہیں اپنے باقائمی ہوش و حواس میں ۔۔۔
طلاق ۔۔۔۔۔
“نہیں نہال ایسا مت کرنا وہ لپک کر اس کے قریب آئی اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
نہال نے اسے جھٹک کر پیچھے کیا ۔۔۔
“تمہیں طلاق دیتا ہوں “
“تمہیں طلاق دیتا ہوں “
اس کے الفاظ تھے یا گویا صور اسرافیل جو اس کے کانوں میں پھونکا گیا تھا۔۔۔۔
پل بھر میں دنیا اجڑ جانا اور زندگی ویراں ہونا کسے کہتے ہیں یہ اسے آج پتہ چلا تھا۔۔۔۔
وہ شکستہ قدموں سے وہیں ڈھ گئی۔۔۔۔۔
جو جرم میں نے کیا ہی نہیں، کیوں اس کی سزا یہ پائی ہے ۔؟؟؟؟
اب مرنا بھی آسان نہیں میرے لیے کاش میں یہ سننے سے پہلے مر جاتی ۔۔۔۔۔ جی کر بھی کیا کروں گی ،؟ جینا بھی رسوائی ہے ۔آج جیتے جی مار دیا مجھکو۔۔تم نے نہال۔۔۔۔۔
وہ آندھی و طوفان کی طرح جس تیزی سے آیا تھا سب کچھ تہس نہس کر کہ اسی تیزی سے پلٹ گیا۔۔۔۔۔۔
“مگر مجھے جینا ہوگا اپنی بچی کے لیے تمہاری نہ سہی مگر یہ میرے تو جسم کا ٹکرا ہے ،اس نے پلٹ کر دیکھا مگر گڑیا کی واکر کہیں بھی نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔۔
جہاں جہاں تک نگاہ جا رہی تھی صرف خالی میدان اور فصلیں نظر آئیں۔۔۔۔۔۔
اس نے گڑیا کی تلاش میں فق نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔۔۔
