639.7K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 11

بلیک جینز اور گھنٹوں سے کچھ اوپر آتی ریڈ ٹاپ پہنے ،بالوں کی ہائی پونی ٹیل بنائے،گردن میں بلیک اور ریڈ ڈاٹس والا اسکارف گول لپیٹے اب وہ مرر کے سامنے کھڑی لبوں پرلائٹ سا گلوس لگانے کے بعد اس نے خود کو آئینہ میں دیکھا ۔۔۔پھر ایک مطمئن نگاہ ڈال کرسامنے رکھے ہیلمٹ کو اٹھاتے ہوئےباہر نکلی۔۔۔
“گڈ مارننگ ماما۔۔۔”
اس نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔۔۔
“گڈ مارننگ بیٹا۔۔”انہوں نے جوابا کہا۔
“مما۔۔۔مجھے بریک فاسٹ نہیں کرنا یہاں میری کچھ نیو فرینڈز بنی ہیں آج ان کے ساتھ باہر کا پلان ہے ۔۔۔۔۔
“پر بیٹا ناشتہ تو کرتی جاؤ “””
انہوں نے پیچھے سے ہانک لگائی۔۔۔
“ابھی بھوک نہیں۔ مما بعد میں کر لوں گی ۔۔۔۔وہ بنا پیچھے دیکھے لاپرواہی سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
” آج وقت پر تیار ہو گئے حیرت ہے۔۔
اس نے تقی کو تیار ہوئے دیکھ کر کہا۔۔
جو اس وقت بلیو جینز اور وائٹ شرٹ میں فریش سا چلا آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
آج یونی میں فرسٹ ڈے ہے تو امپریشن اچھا پڑنا چاہیے نا برو۔۔۔۔۔
وہ ایک آنکھ ونگ کرتا ہوا شرارت سے بولا۔۔۔
“کس پر پروفیسرز پر یا گرلز پر ؟؟؟
وہ بھی کہاں اسے چھوڑنے والا تھا۔۔۔۔
“یہ تو ہم دونوں ہی اچھے سے جانتے ہیں کس پر امپریشن جمانا ہے ؟؟؟؟
آخر کو آپ کی تیاری بھی کچھ کم نہیں وہ مضربان کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔جس نے بھی بلیو جینز پر بلیک شرٹ پہن رکھی تھی۔۔۔اور بال جیل لگائے اچھے سیٹ کر رکھے تھے۔۔۔۔
“یونی میرے ساتھ جانا ہے یا خود جاؤ گے؟؟؟؟
خود ہی جاؤں گا۔۔۔۔ مضربان نے شانے آچکا کر کہا۔۔۔۔
کیا کسی گرل فرینڈ کو لفٹ دینے کا ارادہ ہے جو اکیلے جانا ہے ؟؟ تقی بھی ابرو اچکا کر شرارتی لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔”جبکہ مضربان نے اسے تیکھےچتونوں سے گھورا۔۔۔۔
“جو خود کرتا ہے ویسا ہی دوسروں کو بھی سمجھ رکھا ہے ؟مضربان کے پاس ان فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ایسے کام تجھے ہی مبارک ہوں۔۔۔۔اس نے جھٹ ہی اس کا حساب بے باک کیا۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
جم میں 50 منٹ تک ٹریڈ مل پر چلنے کے بعد اب وہ دونوں پش اپس لگا رہے تھے۔۔۔۔۔
پورا بدن مسلسل ایکسرسایز کی وجہ سسےپسینے سے تر تھا۔ گردن اور چہرے کی نیلی و سپید رگیں اُبھری ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ ایتھلیٹک باڈی ،بایسپس والے فولادی بازوؤں
ہلکی گندمی رنگت،خوبصورت نقوش کا حامل وہ شخص وجاہت میں کسی یونانی دیوتا کو بھی مات دینے کے لئے کافی تھا۔۔
“بس بڈی میری تو بس ہوگئی “مضربان نے پش اپس لگاتے ہوئے تھک کر وہیں میٹریس پر لیٹا۔۔۔۔
مگر وہ ابھی بھی اپنی مضبوط جسامت میں مزید اِضافہ کر تھا۔۔۔۔
عنابی لبوں پر مسکراہٹ جھپ دکھلا کر غائب ہوئی۔۔۔۔
مضربان سانس لینے کے بعد اب اسی کی تقلید میں ہیوی ویٹ ڈمبلز اٹھائے کرنچز کرنے لگا ۔۔۔
اس کے بائیسپس ڈمبلز کے ویٹ کی وجہ سے مزید نمایاں ہونے لگے۔۔۔۔
“بڈی تیرے بائیسپس اور باڈی دیکھ کر تو گرلز مر مٹیں گی تجھ پر “
مضربان اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوا۔۔۔۔
“تم بھی کچھ ہینڈسم نہیں یار لڑکیاں آج کل سفید رنگت پر مرتی ہیں جو کہ تمہاری خاصیت ہے “
اس نے بھی جوابا کہا۔
مضربان نے اس پر نظر ڈالی جو اب ایک ہاتھ سے گرم پانی کی بوتل منہ سے لگائے اور دوسرے ہاتھ سے منی ٹاول لیے جسم سے پسینے کے گرتے ہوئے قطروں کو صاف کر رہا تھا۔۔۔۔
“تھینکس برو ۔۔۔۔مضربان نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا
“فار واٹ ؟؟؟
وہ متحیر لہجے میں بولا۔
“مجھے گائیڈ کرنے کے لیے ۔۔۔۔
یہاں بھی اور یونی میں بھی “
مضربان اپنی شرٹ پہن کر اس کے بٹن بند کرتے ہوئے بولا۔
“ناٹ آ بگ ڈیل یار “
اینی تھنگ فار یو “
وہ دوستانہ انداز میں بولا۔
“مجھے پتہ ہے کہ تمہارے پاس وقت نہیں ہوتا پھر بھی دراک تم ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتا ۔۔۔۔
“چھوڑ نا یار یہ بتا فٹ بال میچ کی پریکٹس کیسی جا رہی ہے “؟
“زبردست جناب جس کا ٹیچر ایک چیمپئن ہو اسے کس چیز کا ڈر …..
“تم بھی نہ یار میری تعریفیں ایسے کرتے ہو جیسے میں تمہاری کوئی محبوبہ ۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔۔
گالوں میں پڑتے ڈمپلز جھلک دکھلا کر غائب ہوئے۔۔۔۔۔
“تمہیں بڑی پتہ ہیں محبوبہ کی خصوصیات خیر تو ہے کتنی بھگتا چکے ہو اب تک ؟؟؟؟
مضربان بھی شرارتی لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
“سچ میں ایک بھی نہیں بس ایسا سن رکھا ہے۔”
وہ دونوں جم سے باہر نکلے تو اپنی اپنی بائیک پر بیٹھے ۔۔۔۔
“بڈی !!!!!!!سن ……مضربان نے اسے آواز لگائی جو بائیک سٹارٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔اور ریس پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔۔
اس نے ہیلمٹ سر سے اتار کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ؟؟؟
“تم گھر جا رہے ہو ؟؟؟
“نہیں میں لائیبریری جا رہا ہوں دو تین بکس ایشو کروانی ہیں ۔۔۔۔
تیرے ۔ C.S.S کا کیا بنا ؟؟؟مضربان نے پوچھا ۔۔۔۔
“بڑی جلدی نہیں یاد آگیا پوچھنے کا” وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔۔
“اچھا چل یاد تو آگیا ۔۔۔۔۔تم تو روٹھی محبوبہ بن کر نخرے دکھانے لگے ہو ۔۔۔۔۔اب بتا بھی دو۔
“بارہ پیپرز ہوئے تھے پاس ہو گیا ہوں ۔۔۔بس اب انٹر ویو کی کال کا انتظار ہے ۔۔۔۔
دعا کرنا پاس ہو جاؤں ۔۔۔۔۔
“ابے میں کوئی پیر بابا ہوں جو مجھ سے دعا کروا رہے ہوئے “
“دعائیں ضروری ہی نہیں نیک لوگوں کی ہی قبول ہوں دعا تو کسی کی بھی کسی بھی وقت قبول ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔”
“چل ٹھیک ہے اپنے بڈی پلس استاد کے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں وہ چہرے پر ہیلمٹ پہنے بولا اور ہیلمٹ کا شیشہ نیچے کیا۔۔۔۔
دونوں نے ایک ساتھ ہی بائیک سٹارٹ کی مگر مختلف سمتوں کی طرف رخ موڑ گئے۔۔۔۔۔
لمحوں میں ایک دوسرے کی نظروں سے اڑتی ہوئی دھول میں اوجھل ہوگئے۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
فٹ بال میچ کی پریکٹس کرتے ہوئے رات زیادہ ہو چکی تھی اس لیے اب اس نے گھر جانے کا سوچا ۔۔۔۔”مام اور ڈیڈ ویٹ کر رہے ہوں گے۔۔۔۔مگر جب موبائل پر وقت دیکھا جو رات گیارہ بجے کا وقت دکھا رہا تھا ۔۔۔
اس نے اپنی بائیک کی رفتار تیز کر دی ۔۔۔۔
شاید سب نے ڈنر کر لیا ہوگا۔۔۔۔کہیں مام ناراض نہ ہو جائیں وہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔کہ
مضربان کی تیز رفتار ہیوی بائیک کا تصادم جب ون وے سے سامنے سے آتی ہوئی ایک اور تیز رفتار بائیک سے ہوا تو اس کی بائیک سڑک پر ڈول کر رہ گئی جبکہ دوسری بائیک زور دار ٹھوکر لگنے سے گھومتی ہوئی روڈ پر ایک طرف گری ۔۔۔۔شکر تھا کہ رات کا وقت تھا اور ٹریفک زیادہ نہ تھی۔۔۔۔
اس بائیک پر موجود جو بھی تھا بری طرح متاثر ہوا تھا۔۔۔۔۔
مضربان نے اپنی بائیک ایک طرف کھڑی کی تقریبا بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا۔۔۔۔
اور اپنا ہاتھ آگے کیا مدد کے لیے تاکہ وہ روڈ سے اٹھ سکے۔۔۔۔۔
دوسری طرف موجود شخصیت جو شاید انا پرست تھی بے رخی سے اس کا آگے بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔ ہیلمٹ اتار کر ایک طرف غصے سے پھینکا۔۔۔۔
جیسے سارا قصور اس کا تھا۔۔۔۔
اور خود اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
وہ چونکا تھا پینٹ شرٹ میں ایک صنف مخالف کو ہیوی بائیک پر دیکھ کر مگر محسوس نہ ہونے دیا۔۔۔۔۔
کمر اور ٹانگوں میں درد اور چوٹ لگنے کے باعث لڑکھڑا کر دوبارہ گری۔۔۔۔
“آپ سے نہیں ہو پائے گا میڈم ۔۔۔۔۔
“ویسے تو تو مصیبت پڑنے پر انسان تو گدھے کو بھی اپنا باپ بنا لیتا ہے میں تو پھر بھی ایک
World coolest handsome boy……
آپ کی مدد کے لیے حاضر ہوں وہ سر کو تھوڑا سا خم دئیے دلبرانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔اور اپنا ہاتھ ایک بار پھر سے آگے کیا۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے گئی۔۔۔۔۔
“پہلے ایکسیڈنٹ کرتے ہو پھر مدد اچھا طریقہ ہے لڑکیوں کو پھانسنے کا۔۔۔وہ استہزایہ انداز میں بولی۔۔۔۔
“اوئے میڈم میں تمیز سے پیش آ رہا ہوں تو سامنے والے سے بھی یہی امید رکھتا ہوں “
“دنیا میں کیا حسین لڑکیوں کا کال پڑ گیا تھا جو مجھے پھانسنے کے لیے تم ہی ملی تھی، چھپکلی کہیں کی”مضربان نے اس کی دبلی پتلی جسامت پر چوٹ کی
“یو ایڈیٹ تمیز تو تمہیں نہیں ہے لڑکیوں سے بات کرنے کی پاکستانی لڑکے ہوتے ہی ایسے چھچھورے اور دل پھینک قسم کے ۔۔۔۔۔
ابھی بھی دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ کو تھام رکھا تھا اور مضربان کی بائیک کی طرف بڑھ رہے تھے مگر زبان کے نشتر بھگو بھگو کر ایک دوسرے کو مار رہے تھے ۔۔۔۔
“تمیز سے زرا۔۔۔۔باقی سب تو ٹھیک ہے مگر یہ پاکستانی لفظ پر کوئی بکواس کی نہ تو میں زبان کاٹ کر گٹر میں پھینک دوں گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ ہو گی اور نہ چلے گی مغربی ممالک کی فسادناً لڑکی یہاں پاکستان میں کیا کر رہی ہے وہیں رہ کر سکون کرنا تھا نا یہاں پاکستان کے لوگوں کی زندگیاں کیوں برباد کرنے آئی ہو ۔۔۔۔
“اوئے اب تم بھی کچھ زیادہ ہی اوور ہو رہے ہو ۔۔۔۔تم بھی تمیز سے زرا۔۔۔۔وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔۔۔
“ہاتھ پاؤں تو چل نہیں رہے مگر واہ رے۔۔۔۔زبان سلامت ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔۔۔۔اصل ایکسیڈنٹ تو اس زبان کا ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔وہ اس کے لڑکھڑا کر چلنے پر چوٹ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
بائیک تک پہنچ کر مضربان اس پر بیٹھا اور سٹارٹ کی۔۔۔۔
“”بیٹھو “”یک لفظی جملہ بولا۔۔۔
“تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ دوں رات کے اس وقت روڈ پر کوئی کیب یا رکشہ نہیں ملے گا۔۔۔۔۔
وہ اس کے شانے پر ایک ہاتھ رکھے دونوں ٹانگیں مردوں کی طرح اِدھر اُدھر رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے بیٹھنے کا انسانوں کی طرح میرا مطلب لڑکیوں کی طرح زرا سلجھے ہوئے طریقے سے بیٹھو۔۔۔۔
اس نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔۔
“میں ایسے ہی بیٹھتی ہوں اور یہ تم مجھ پر روعب تو ایسے جھاڑ رہے ہو جیسے میں تمہاری بیوی ہو۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ اس کی بات پوری ہوتی وہ جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھ گئی۔۔۔۔۔
مگر تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔۔۔۔
وہ سخت نادم ہوئی اور اپنی تیز چلتی زبان کو کوسنے لگی۔۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر دھیمے سے مسکرایا۔۔۔
“م۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔اس نے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی مگر زبان بولنے سے انکاری ہوئی۔۔۔۔
“کس طرف جانا ہے راستہ بتاؤ گھر کا؟وہ اس کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
اور اس کے بتائے ہوئے راستے کی طرف بائیک کا رخ کیا۔۔۔۔۔
“تم کیا گدھا گاڑی چلا رہے ہو تیز چلاؤ نہ کبھی کسی نے ہیوی بائیک بھی اتنی آہستہ چلائی ہے ؟اس نے منہ بنا کر کہا۔
“تمہاری چوٹ کی وجہ سے خیال کر رہا ہوں ۔۔۔
جانے کیوں اسے خوشی ہوئی۔۔۔۔اپنے ہاتھ پر نظر پڑی جو اس کے شانے پر تھا۔۔۔
بائیک کس رفتار سے چلائی جاتی ہے مجھے چلاتے ہوئے دیکھو تو پتہ چلے وہ اکڑ کر بولی۔
“ہاں اسی رفتار کا ایک چھوٹا سا نمونہ میں ابھی کچھ دیر پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔۔۔۔
وہ طنزیہ انداز میں ہنکارا بھر کر بولا۔
“میں تمہارا گلہ دبا دوں گی اور انہیں جھاڑیوں میں پھینک جاؤں گی۔زیادہ بکواس کی تو۔۔۔۔
“واہ رے مولا تیری شان ایک تو لوگوں کی مدد کرو اور پھر جان سے بھی جاؤ ۔۔۔۔
اس کے بتائے گئے پتے پر بائیک روک کر بولا۔۔۔۔
ایک عالیشان کوٹھی تھی وہ۔۔۔۔
“شکریہ “وہ لٹھ مار انداز میں بولی۔۔۔۔
“شکریہ بھی ایسے ادا کیا ہے جیسے کھینچ کر پتھر مارا ہو ۔۔۔۔وہ پھر سے شکوہ کر گیا۔۔۔۔
وہ اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورنے لگی۔۔۔۔پھر مڑ کر اندر داخل ہونے لگی ۔۔۔۔
“جاتے جاتے ایک بات تو سن جاؤ ۔۔۔”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔
“پاکستانی اتنے بھی برے نہیں ہوتے جو کوئی قصور نہ ہوتے ہوئے بھی گھر تک چھوڑ جائیں۔۔۔ادا سے کہتا ہوا وہ بائیک کو واپسی کے راستے پر موڑنے لگا۔۔۔۔
اس نے ایک تفصیلی نگاہ اس پر ڈالی ۔۔۔۔جینزاور ٹی شرٹ میں اس کی سرخ و سفید رنگت۔کسرتی جسم ،ساحرانہ تیکھے نقوش۔۔۔۔
وہ نظریں چرا گئی۔۔۔۔۔
اور بنا کچھ بولے اندر چلی گئی۔۔۔۔
اور وہ اپنے راستے۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖
وہ آسٹریلیا کے ایک مشہور ہوٹل کے پول میں شرٹ لیس سوئمنگ کرنے میں مشغول تھا۔۔۔
آس پاس سے گرزرتی ہوئی ادھ ڈھکے عریاں بدنوں والی گوریاں اسے ستائشی نظروں سے دیکھ کر مسکراہٹ اچھال کر گزر جاتیں ۔۔۔۔
مگر وہ بے نیاز سا تھا ان سب سے جیسے یہ سب اس کے لیے معمول کی بات ہو۔
وہ بے تاثر چہرے سے سوئم کرتا ہوا پول کی ایک طرف آیا۔جہاں اس کے دوست تھے۔۔۔۔
What is the plan of tonight?
اس کے دوستوں میں سے رچرڈ نے پوچھا۔۔۔
Noting ….
وہ فرش پر اپنے بازو رکھ کر اس پر چہرہ جمائے ہوئے بولا۔۔۔۔
باڈی ابھی بھی پول میں تھی۔۔۔۔
گیلے بالوں کو ہاتھوں کی انگلیاں پھنسانے پیشانی سے پیچھے کیا۔۔۔۔۔
جیمی وہاں بیٹھا سیگریٹ پی رہا تھا جبکہ شاذر نے کہا ۔۔۔۔
پلین کا کیا ہے بس چلتے ہیں آج رات کلب میں رنگینیاں دیکھنے۔۔۔۔۔کیوں بذل؟
شازر نے بے ڈھنگے انداز سے ہنستے ہوئے بذل سے تائید چاہی۔
“میں بہت بور ہو گیا ہوں اس مغربی حسن میں زرا کشش نہیں ۔۔۔۔۔۔وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بے تاثر انداز سے بولا۔۔۔۔
بذل نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا
اسے رچرڈ اور جیمی کی یہ عادت بہت زہر لگتی تھی۔۔۔کہ دونوں کلب میں لڑکیوں کو بہت بری طرح سے تاڑتے تھے۔
شروع میں تو دونوں کافی اصرار کر کے اسے کلب لے جاتے مگر آہستہ آہستہ یہ اسکی عادت بن گئی۔۔۔۔کلب جاکر جیمی اور رچرڈ تو ڈرنک کر کے لڑکیوں کو ڈانس کرتا دیکھتے اور ان کے ساتھ جا کر ڈانس کرتے مگر بذل کو ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔۔وہ کلب جاکر صرف سگریٹ پیتا تھا۔۔۔۔یہ بھی انہی دونوں کی عنایت تھی۔۔۔۔۔۔۔زبردستی اسے سموک کرا کرا کے اسکا عادی بنا دیا۔۔۔۔۔۔البتہ ڈرنک بذل نے کبھی نہیں کی اور لڑکیوں میں اسے شروع سے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔۔۔۔
وہ یونہی تھا۔۔۔۔
تم پاکستان جا رہے ہو ؟؟؟
شاذر نے پوچھا۔۔۔
ہممممم فیملی تو چلی گئی ہے میں بھی سوچ رہا ہوں اس بار مما کی بات رکھ ہی لوں اور ایک بار پاکستان جا کر بھی دیکھ لوں ۔۔۔
“آخر پاکستان میں ایسا کیا رکھا ہے جہاں مما کب سے جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖
سب کے پر زور اصرار پر ایپی لکھی ہے جلدی میں پتہ نہیں کیا لکھا ہے۔سوچا تھا آرام سے سوچ سمجھ کر لکھوں گی مگر آپ کی خواہش پر جلدی سے لکھ کر پوسٹ کردی۔
ہمیشہ خوش رہیں اگر ناول پسند آئے تو کمینٹ ضرور کیجئے گا۔اور اپنے دوستوں سے شئیر کیجیے۔۔۔اپنا فیورٹ کریکٹر بتائیں کس کی اینٹری اچھی لگی۔۔۔۔۔
باقی کریکٹرز کی اینٹری نیکسٹ ایپی میں۔