Thaam Lo Daman By Hina Asad Readelle50349 (Thaam Lo Daman) Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
(Thaam Lo Daman) Episode 10
A PIA Fokker F27 bound for Switzerland crashes into a field and bursts into flames shortly after takeoff from Lahore, killing 41 passengers and crew members were also killed.
ایل ۔ای۔ڈی۔پر چلتی ہوئی نیوز نے تو ان کی پتھر کی کردیں۔۔۔۔اور جسم ساکت۔۔۔۔۔
آج ہی تو اسامہ اور صفا بچوں کے ساتھ سویٹزرلینڈ کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔۔۔
یہ روح فرسا خبر سن کر سب کے دل دہل کر رہ گئے۔۔۔۔
زبیدہ خانم تو دل پر ہاتھ رکھے نیم بے ہوشی کی حالت میں صوفے پر ڈھے گئیں۔۔۔۔
جبکہ طمر اور وامق کا حال بھی ان سے کچھ مختلف نہ تھا۔۔۔۔
حادثہ ہی اتنا بڑا تھا کہ کوئی بھی اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین ہی نا کر پا رہا تھا ۔۔
پل بھر میں ہنستا بستا گھر ویران ہوا۔۔۔۔
گھر میں گونجنے والی قلقاریاں یوں پل بھر میں ختم ہو جائیں گی یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔۔۔۔
ان چاروں کی مسخ شدہ باڈیز ڈی این اے کی شناخت کے بعد گھر آچکی تھیں۔۔۔۔
جو کہ نا قابل شناخت لگیں۔۔۔۔۔
زبیدہ خانم تو ان چاروں کو یوں سفید کفن میں لپٹے دیکھ دھاڑیں مار مار کر روئیں۔۔۔۔
وامق تو خود گہرے دکھ اور صدمے کے زیر اثر تھا۔۔۔۔
اسے کہاں معلوم تھا کہ کبھی ایسا بھی ہو جائے گا سال بھر پہلے بڑے بھائی عمر کی موت کا صدمہ کیا کم تھا کہ ایک نہ دو اکٹھے چار چار اموات۔۔۔۔
وہ رنجیدہ سا نم آنکھیں لیے زبیدہ خانم کے پاس آیا اور ان کے شانے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالا۔۔۔
زبیدہ خانم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
وامق !!!!یہ دیکھو میرا ایک اور شہزادہ مجھ سے چھن گیا۔۔۔۔۔
اس وقت اس ماں کی حالت نا قابل بیان تھی۔۔۔۔۔ان کا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
“حوصلہ کریں “وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ کر انہیں ساتھ لگاتا ہوا بھیگے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔۔
“وامق اس خاندان کے وارث بھی چلے گئے۔۔۔۔
وہ دونوں چھوٹے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے رندھے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔۔
“امی روئیں مت ان سب کے لیے دعا کریں ان کی اگلی منزلیں آسان ہو جائیں”طمر نے بھی ان کے پاس آکر تسلی آمیز انداز میں ان کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“مجھے معاف کر دو اور میرے بچوں کو بھی طمر شاید جو میں نے تم سے رویہ روا رکھا یہ اسی کی سزا ملی ہے مجھے۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر التجائیہ لہجے میں بولی۔
“ایسا مت کہیں امی میں نے کبھی کسی کو بدعا نہیں دی۔۔۔میرے دل میں کسی کے لیے کوئی نفرت نہیں ۔۔۔۔۔”شاید خدا کو یہی منظور تھا۔۔۔۔۔
سارے گھر میں سوگواریت چھائی ہوئی تھی۔۔۔لوگ آرہے تھے اور میتوں کےچہرے دیکھ کر جا رہے تھے۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں جنازے اٹھے تو سارے گھر میں کہرام مچ گیا۔۔۔۔ہر طرف چیخ وپکار اور رونے کی آوازیں گونج اٹھی۔۔۔۔۔
فہیم گردیزی بھی اپنی بیٹی۔داماد اور ننھوں کو کھو دینے کے غم سے نڈھال تھے ۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
بار بار مینجر کی آتی ہوئی کال دیکھ کر نہال جو گاڑی ڈرائیو کرنے میں مصروف تھا ڈیش بورڈ پر پڑا ہوا موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔۔
“کیا مصیبت آن پڑی کیوں بار بار کال کر رہے ہو ؟؟؟
وہ غصیلے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
“سر خان کنسٹرکشنز کی کل میٹنگ ہے دس بجے آپ کو یاد دلانے کے لیے کال کی تھی ،مگر سر مجھے ان کی فائل نہیں مل رہی ۔۔۔اس نے اصل پریشانی کی وجہ بتائی۔۔۔۔
“وہ میرے آفس میں ہے ،ٹیبل کے تھرڈ ڈراور میں ۔۔۔۔
“سر مگر وہ تو لاکڈ ہو گا ….
“ہممممم لاکڈ تو ہے اس کی کیز آفس میں ہی ہیں فائلز رینک میں فرسٹ رو میں فائلز کے نیچے ہو گی نکال لو وہاں سے کیز اور پھر فائل۔۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے تھینکس سر “وہ بے حد ممنونیت سے بولا۔۔۔۔
“اگر ڈھونڈھنے میں کوئی مشکل پیش آئے تو مجھے کال کر لینا ۔۔۔۔
جی سر ۔۔۔۔۔
آدھ گھنٹے کی مسافت طے کیے اب وہ شاندار بنگلے کے سامنے رکے۔۔۔۔۔
اماں بی اور بدرا دونوں نیچے اتری تو اس محل نما بنگلے کی شان و شوکت سے مرعوب ہوئے بنا نہ رہ سکیں۔۔۔۔
میں سامان کسی ملازم سے کہہ کر اندر رکھواتا ہوں آپ اندر چل۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ اپنی بات پوری کر پاتا فون پر آتی پھر سے مینجر کی کال کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔
اور انہیں اندر جانے کا اشارہ دیا ۔۔۔
وہ دونوں ہولے ہولے چلتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
تعبیر جو لاؤنج میں موجود صوفے پر بیٹھی پارلر سے بلوائی گئی ایک بیوٹیشن سے مینی کیور اور پیڈی کیور کروا رہی تھی۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہوئے ایک عمر رسیدہ عورت اور لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔
اور سوچنے پر مجبور ہوئی کہ میں نے اسے کہاں دیکھا ہے ۔۔۔۔۔
ایک لمحے میں دماغ نے کام کیا اور اسے یاد آیا کہ نکاح کے وقت اس عورت کونہال کی ماں کے روپ میں دیکھا تھا۔۔۔۔
جب اس کے پاپا نے اس کا نہال سے نکاح کروایا تھا تب وہ چند لمحوں کے لیے اس تقریب میں شامل ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر تعبیر نے اسے لو کلاس بڑھیا کہہ کر انہیں کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا ۔۔۔
اس کے پاپا چاہتے تھے کہ وہ نکاح کر کہ نہال کے ساتھ اس کے گھر جائے۔۔۔
مگر تعبیر نے بھی اسی بات پر نہال سے نکاح کی حامی بھری تھی کہ وہ اسی گھر میں رہے گی اور نہال بھی۔۔۔۔
اپنی بہو کا رویہ دیکھتے ہوئے انہوں نے پھر دوبارہ کبھی اس گھر میں قدم نہ رکھا اور نا ہی کبھی نہال نے اصرار کیا۔۔۔۔
شاید وہ بھی اپنی بیوی کی فطرت سے واقف ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
“اے بڑھیا کدھر ؟”
تعبیر نے وہیں بیٹھے ہوئے ابرو اچکا کر سپاٹ لہجے میں پوچھا۔۔۔
وہ تو اپنی بہو کے اس ہتک آمیز انداز تکلم سے بھونچکا رہ گئیں۔۔۔۔۔
“جب عورت ماں نہ بن سکے اتنے سالوں تک تو وہ اپنے آپ ہی چڑچڑی اور آدم بیزار ہو جاتی ہے شاید یہ بھی اسی لیے انہوں نے اس کی بدتمیزی کو بھی منفی کی بجائے مثبت انداز میں لیا۔۔۔۔۔
“مجھے نہال اپنے ساتھ لے کر آیا ہے “انہوں نے اپنی آمد کی وضاحت دی۔۔۔۔
نہال جو مینجر سے بات ختم کیے اندر آرہا تھا اپنی ماں کو یونہی راستے کے درمیان کھڑے ہوئے دیکھا تو حیرانگی سے بولا۔۔۔۔
اماں آپ چلیں نہ اندر آئیں بیٹھیں آپ کی پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں”
“یہ تم کس شیخ فریدی پر انہیں اس گھر میں اٹھا لائے مجھ سے پوچھا بھی نہیں “وہ طنزیہ انداز میں بولی
“میں تم سے ہو چھنا ضروری نہیں سمجھتا “
“ضروری ہے،کیونکہ یہ گھر میرا ہے کوئی تمہارے باپ دادا کا نہیں جو ہر ایرے غیرے کو جب چاہے اٹھا کر یہاں لے آؤ گے”
“زرا تمیز سے میری ماں ہیں یہ اور تمہاری بھی “
اس نے تنبیہی انداز میں کہا۔
“ابھی کے ابھی چلتا کرو انہیں میں انہیں اپنے گھر میں ایک منٹ بھی برداشت نہیں کروں گی ۔۔۔۔
بدرا جو کب سے ان دونوں کی آپسی گفتگو سن رہی تھی سہم کر اماں بی کا بازو پکڑا۔۔۔۔۔
اماں بی ان بھی اس کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا اس نے کہاں دیکھا تھا اب تک اس طرح کا جنگ و جدل کا میدان
“ٹھیک ہے تمہیں تمہارا گھر مبارک میں بھی نہیں رہوں گا یہاں میں ان کے ساتھ ہی چلا جاتا ہوں ۔”
نہال کو پٹری سے اترتا ہوا دیکھ اس نے فورا ہوش کے ناخن لیے اور پینترا بدل لیا۔۔۔۔
“نہال تم ایسے مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔۔۔ٹھیک ہے یہ رہ سکتی ہیں مگر یہاں نہیں باہر انیکسی میں ان کا انتظام کروا دیتی ہوں ۔
اب خوش ۔۔۔۔آخر بات اس نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے کہی ۔۔۔۔
نہال نے اماں بی کی طرف ایک نظر ڈالی ۔۔۔۔
“انہوں نے اسے آنکھوں کے اشارے سے تسلی دی۔۔۔۔
ملازم جو ان کا ایک سوٹ کیس اٹھائے اندر لا رہا تھا تعبیر نے اسے اندر آتے دیکھا تو کہا۔
“اسے باہر انیکسی میں رکھ دو اور اپنی سرونٹ ہیڈ فرحت کو کہا کہ انیکسی کی چابیاں لے کر جائے اور انہیں اپنے ساتھ لے جائے۔
“جی ٹھیک ہے وہ مؤدب انداز میں کہتے ہوئے باہر نکلی تو اماں بی بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل گئی بدرا کو ساتھ لیے۔۔۔۔
فرحت نے دروازہ کھولا تو بدرا نے اماں بی کے ہاتھ کو پکڑ کر انہیں سہارا دئیے ہوئے اندر لا کر بستر پر بٹھایا۔۔۔۔
فرحت بھی ان کے پاس بیٹھی۔
اور اماں بی سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان سے باتیں کرنے لگی۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ نہال اندر آیا۔
اور سر جھکائے شرمندہ لہجے میں بولا۔
“میں معزرت خواہ ہوں اماں تعبیر کے روئیے کے لیے۔۔۔اور شرمندہ بھی ۔۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا میں نے بالکل بھی برا نہیں منایا مجھے اس کی عادت کا پہلے سے ہی اندازہ ہو چکا ہے۔
بدرا اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔
اسے نہال کی سرد نگاہوں سے وحشت ہوتی تھی۔۔۔۔
“بہت شکریہ اماں میرے ساتھ آنے کے لیے اور میرے ساتھ رہنے کے لیے۔۔۔۔اب میں مزید آپ سے دور نہیں رہ سکتا خود کو بہت تنہا محسوس کرتا ہوں ۔اور اوپر سے آپ کی طبیعت کی بھی فکر لگی رہتی ہے میں چاہتا ہوں آپ ہمیشہ اب میری نظروں کے سامنے رہیں۔۔۔۔۔
“بس اب میری بھی عمر ہو چکی ہے وہ سرد آہ بھر کر بولی۔۔۔
“مجھے تو بس اس بچی کی فکر لگی رہتی ہے میرے بعد اسے کون سنبھالے گا۔۔۔۔ان کے لہجے میں فکرمندی کی جھلک تھی۔
“خدا نہ کرے آپ کو کچھ بھی ہو ،آپ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رہیں ۔۔۔۔”
‘بیٹا مرنا تو حق کا راہ ہے کون جانے اگلا سانس بھی لے پائے گا یا نہیں “وہ آزردگی سے بولی۔
“اماں پلیز ایسی باتیں مت کریں کچھ نہیں ہوگا آپ کو میں ہوں نہ آپ کا دھیان رکھوں گا۔۔۔۔۔
وہ اس کے سر پر دست شفقت رکھ گئیں۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
فرحت ایک بیوہ عورت تھی تقریبآ چالیس سال کے لگ بھگ ایک پڑھی لکھی سلجھی ہوئی خاتون ،
اماں بی کے پاس اپنا کام مکمل کرنے کے بعد آکر وقت گزارتی۔۔۔۔۔
ان دونوں میں اب کافی جان پہچان ہو چکی تھی فرحت نے اماں بی کو اپنے بارے میں سب بتا دیا تھا،
وہ ایک گاؤں کی رہائشی تھی ،وہاں رہتے ہوئے بھی اس کی تعلیم کے شوق کی وجہ سے اس نے کیسے تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں کے ایک گورنمنٹ سکول کی ٹیچر لگ گئی۔۔۔
اس کا شوہر اس کے گاؤں کا ہی رہائشی تھا۔جوتعبیر کے والد کا ڈرائیور ہوا کرتا تھا،شادی کے بعد فرحت کو اپنے ساتھ شہر ہی لے آیا تھا۔مگر ایک بھیانک حادثے میں اس کی جان چلی گئی۔
بس تب سے فرحت یہیں تھی،واپس نہ گئی کیونکہ وہ اکلوتی اولاد تھی اور پیچھے والدین بھی حیات نہ رہے تو کس کے پاس جاتی اس لیے عزت سے وہی سر چھپانے کے لیے ٹک گئی۔۔۔۔
تعبیر نے اس کی تعلیم اور سلجھے ہوئے رکھ رکھاؤ کو دیکھتے ہوئے اسے سرونٹس کا ہیڈ بنا دیا۔۔۔۔
دو ماہ ہو چکے تھے انہیں یہاں آئے ہوئے نہال ان کا ہر طرح سے خیال رکھتا ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے لے کر جاتا ،کھانا پینا ہر چیز کا دھیان رکھتا۔اور کبھی کبھار ان کے ہاتھ پر کچھ رقم بھی تھما جاتا کہ اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ خود منگوا لیں۔۔۔۔
اس وجہ سے ان کے پاس کچھ رقم بھی جمع ہو چکی تھی۔
اماں بی بدرا کی سکول کی تعلیم کو لے کر پریشان تھیں۔
انہوں نے فرحت سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے انہیں راہ سجھائی کے میں کسی بھی نزدیکی پرائیویٹ سکول میں بات کرتی ہوں اس کی اسے کتابیں لے دیں میں پڑھا دیا کروں گی ۔۔۔
پھر جب پیپرز ہوں گے تو میں اسے ساتھ لے جا کر دلوا دیا کروں گی۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے “اماں بی کو بھی اس کا مشورہ پسند آیا۔۔۔۔تو انہوں نے حامی بھر لی۔
بس اسی طرح سے بدرا کی پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اماں بی یہ دیکھیں ۔۔۔۔وہ خوشی سے بھاگتی ہوئی ان کے پاس آئی اور ہاتھوں میں اخبار تھا۔۔۔۔
“ارے باؤلی ہو گئی ہو کیا جو یوں چیخ و پکار مچائی ہے”انہوں نے اسے دیکھ کر ڈپٹا۔۔۔
“ہائے اماں بی بات ہی ایسی ہے “اس کے لہجے میں خوشی کے آثار نمایاں تھے۔۔۔۔۔
“کیا بات ہے جس نے میری بیٹی کو اتنا خوش کر دیا ہے زرا میں بھی تو دیکھوں ،انہوں نے اس کے ہاتھ سے اخبار لینا چاہا۔۔۔
وہ کل کا پرانا اخبار تھا جو فرحت ردی کی نظر کرنے جا رہی تھی اور بدرا نے اس سے پڑھنے کے لیے لیا تھا۔۔۔۔
“یہ دیکھیں اماں بی لڈو کی تصویر اخبار میں ۔۔۔بدرا نے اس کی تصویر پر ہاتھ رکھ کر اماں بی کو دکھایا۔۔۔۔
“اماں بی لڈو نے میٹرک میں لاہور بورڈ میں ٹاپ کیا ہے “اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اب تو میرا گفٹ پکا۔۔۔۔۔وہ مسرور انداز میں بولی ۔۔۔۔۔
“لو بھلا ٹاپ اس نے کیا ہے گفٹ تجھے کیوں ؟؟انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔
“رہنے دیں اماں بی آپ نہیں سمجھیں گی ,اماں بی یہ بتائیں ہم واپس کب جائیں گے ؟؟؟؟اس کی آنکھوں میں امید کے جگنو چمک رہے تھے۔۔۔
“بدرا بیٹا وہاں اکیلے رہ کر کیا کریں گے اب یہاں نہال ہے اور تمہاری ٹیچر فرحت بھی نہ میں نہال کو ناراض کر کہ یہاں سے جانا چاہتی ہوں اور نا تم اپنی ٹیچر کو ۔۔۔۔
مگر اماں بی ۔۔۔۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر خود میں ہمت نہ پاتے ہوئے خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔
ادھر آؤ تمہارے بالوں میں تیل لگاؤں انہوں نے ہاتھ میں ناریل کے آئل کی بوتل پکڑے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“نہیں اماں بی مجھے نہیں لگوانا ۔۔۔۔
وہ برا سا منہ بنا کر بولی۔۔۔۔
“ایسے کیسے نہیں لگوانا بال خراب ہو جائیں گے تیل ہی تو بالوں کی غذا ہے “””چلو جلدی آ جاؤ شاباش ۔۔۔۔انہوں نے اسے پچکارتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔
“مگر اماں بی یہ تیل لگانے کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر اس کے بعد آپ کو کھینچ کھینچ کر زور سے میری چٹیا کو بل دیتی ہیں کیا بتاؤں سر میں بہت درد ہوتا ہے “
بدرا ڈرامے مت کرو جلدی بیٹھو ورنہ لگاؤں گی ایک ۔۔۔۔۔ایسے زور سے ہی چٹیا گوندھنے سے بال لمبے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
“کیا اماں بی اب اور کتنے لمبے کرنے ہیں یہ دیکھیں کمر سے نیچے تک تو آرہے ہیں ۔۔۔۔بس اب گھٹنوں کو چھونے کی کسر رہ گئی ہے ۔۔۔وہ اپنے لمبے شہد آگہیں بالوں کی چٹیا کھول کر انہیں دکھانے لگی۔۔۔۔
“ہاں میں یہی چاہتی ہوں کہ تمہارے بال گھٹنوں تک آجائیں ۔۔۔۔اماں بی نے مسکراتے ہوئے اس کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
وہ ان کے آگے بیٹھی تو اماں بی نے تیل ڈالے رگڑ رگڑ کر اس کے سر کی مالش کرنا شروع کردی ۔۔۔۔۔۔
اماں بی ایک نا کارٹون پرنسس ہے راپنزل اس کے بال اتنے لمبے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں سٹوری سنانے لگی۔۔۔۔جو اس نے سٹوری بک میں پڑھی تھی۔۔۔۔۔اور اماں بی دھیان سے اس کی سٹوری سننے کے ساتھ ساتھ اپنے کام میں بھی مگن رہیں۔۔۔۔۔
یونہی دن مہینوں میں بدلے اور مہینے سالوں میں وہیں رہتے ہوئے وہ نہال کے دئیے گئے خرچ سے وہ بدرا کو پرائیویٹ تعلیم دلوا رہی تھیں اور اس کام میں فرحت نے ان کی بھرپور مدد کی۔۔۔۔
وہ دونوں گھر میں نہیں جاتیں اور نا ہی تعبیر سے ان دونوں کا زیادہ سامنا ہوتا۔۔۔
فرحت ان کا تینوں وقت کا کھانا انہیں انیکسی میں ہی پہنچا دیتی ۔
💖💖💖💖💖💖
اسلام وعلیکم فرینڈز!
مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی ،دراصل کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اب ایپی ایک دن کے گیپ سے آیا کرے گی۔اب پلیز کوئی بھی ناراض مت ہو یہ نا کہے کہ میں نخرے کرتی ہوں یا ڈرامے ۔میری پرسنلز بھی کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ورنہ آپ کو تو پتہ ہے کہ میں روز ایپی دیتی ہوں اور کبھی کبھار تو سرپرائز ایپی بھی ۔مگر معذرت کے اب سے ایک دن کے گیپ سے ایپی پوسٹ کروں گی۔
ایپی 11میں اب منڈے کو پوسٹ کروں گی۔
کیونکہ اس ایپی میں ہوں گا سب کچھ نیا ۔۔۔سب کردار نئے حالات نئے تو منڈے تک انتظار کیجئے۔شکریہ امید ہے آپ میری بات کو سمجھیں گے اور ناراض نہیں ہوں گے۔آپکی اپنی رائٹر حنا اسد۔
