367.6K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Episode 2

وہ مسلسل آدھے گھنٹے سے لاونج کا چکر کاٹ رہی تھی۔ڈیزائنر سیاہ رنگ کی پرنٹڈ قمیض پر سرخ شلوار اور سرخ رنگ کے ہی ڈوپٹے کو شانوں پر پھیلائے دوپٹے کے پلو کو دونوں ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے وہ شدید پریشان لگ رہی تھی۔
گھر میں موجود ملازم بھی اپنی مالکن کے غضب سے خوب واقف تھے۔۔۔ساری رات ان کے صاحب گھر نہیں آئے تھے تو آج تو اس بات پران کے صاحب کی کلاس لگنا تو بنتی تھی۔وہ سب بھی اپنی مالکن کی طرح اپنے صاحب کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
حالانکہ ان لوگوں کو اچھے سے پتہ تھا کہ یہ کلاس صرف دو منٹ تک ہی لگنی تھی کیونکہ ان کی مالکن تعبیر جب اپنے شوہر نامدار پر غصہ ہوتی تھی اتنی ہی جلدی نہال شاہ اُسے اپنی باتوں میں الجھا کر ہمدردیاں بٹورتا ہوا نظر آتا تھا۔
بس بہت ہوا۔۔
اچانک تعبیر کے کہنے پر وہ لوگ چونک گئے جو اب پلو چھوڑے غصے سے گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
آج انہیں نہیں چھوڑوں گی میں،دوپہر کے بارہ بجنے کو ہیں اور ان کا کچھ اتا پتا نہیں۔۔۔۔
وہ غصے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ کر بڑبڑائی۔۔۔۔
کدھر تھےآپ؟
اسے سامنے سے آتا ہوا دیکھ کر تلخ لہجے میں کہا۔۔۔۔
وہ جو ڈریس پینٹ اور شرٹ پہنے(جس کے پہلے دو بٹنز کھلے ہوئے تھے)اور کوٹ بازو پر ڈال رکھا تھا۔۔۔۔اور آنکھیں نیند کی خماری سے بوجھل تھیں۔۔۔۔
پارٹی میں ہی گیا تھا دوست کی اور کدھر جانا تھا۔۔بس دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کا پتہ ہی نا چلا اس نے بیزاری سے جواب دیا۔۔۔۔
“آپ کو زرا بھی احساس ہے کہ ساری رات آپ کی غیر موجودگی میں میں کتنا پریشان ہوئی”
تعبیراسے کھری کھری سنانے لگی جبکہ وہ اس کے پیچھے ملازموں کو دیکھ رہا تھا جو اپنے صاحب کی درگت بنتے ہوئے دیکھ کر اس پر بے آواز ہنس رہے تھے۔۔
“دفعہ ہو جاؤ سب اپنے کام پر لگو ۔۔۔۔وہ ملازمین پر برسا۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
گرمیوں کے دِن تھے اُنہیں چُھٹی ڈیڑھ بجے ہو جاتی تھی۔ چُھٹی کی بیل بجتے ہی وہ سکول بیگ اُٹھائے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی دوپٹے کو اپنے ہاتھوں سے درست کرتی سکول کے گیٹ سے باہِر کی جانِب بڑھی۔
اُس کی کوئی خاص دوست نہیں تھی۔ کلاس میں وہ سب سے کم ہی بات کرتی تھی وہ بھی بس کام کی۔ پہلے اُس کی جو سہیلیاں تھیں وہ بھی اُس کے کھیل کود میں شِرکت نا کرنے کی وجہ سے اُس سے ناطہ توڑ چُکیں تھیں۔ وہ بہت کم گو تھی۔ عام لڑکیوں کی طرح شرارتیں اُس میں نا پید تھیں۔
بدرا اِس وقت پانچویں کی طالِب عِلم تھی۔ اُس کے چوتھی جماعت کے پیپر ہو چُکے تھے اور اب نئی نئی جماعت شروع ہوئی تھی۔ رِزلٹ آنا ابھی باقی تھا۔ وہ بہت لائق تھی اُسے اُمید تھی کہ اچھے نمبر آئیں گے ویسے بھی اُس نے بہت محنّت کی تھی۔
وہ دور تک پھیلے کچّے راستے کو دیکھنے لگی جو گرمیوں کے باعث کُچھ اور سُنسان ہو گیا تھا۔ اُس نے ایک نظر ٹولیوں کی شکل میں جاتی لڑکیوں کو دیکھا پھر خُود بھی اُسی راستے پر چلنے لگی جو گھر کی طرف جاتا تھا۔
بدرا تم کیوں وہاں سے اکیلے نکلی ؟وہ تقریباً بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا۔۔۔
مجھے بس تھوڑی دیر ہو گئی آج میرا ٹیسٹ تھا ،بس اسی وجہ سے اور تم ایسے۔۔۔۔۔
اماں بی کو پتہ چلا تو ناراض ہوں گی کہ میں نے تمہارا خیال نہیں رکھا۔۔۔۔۔
اس نے بدرا کو ڈپٹنے کے انداز میں کہا۔
“میں سمجھی تم مجھے لینا بھول گئے بس اسی لیے۔۔۔وہ ہلکی سی آواز میں منمنا کر بولی۔۔۔۔۔
“آگے کبھی ایسا ہوا ہے کہ میں تمہیں لینا بھول جاؤں “وہ خفگی بھرے انداز میں بولا
وہ کھیتوں میں سے گُزر کر گھر کی طرف جا رہے تھے۔کہ ایک آوارہ کتا جانے کہاں سے اچانک وہاں آن دھمکا۔۔۔۔
کتے کو مسلسل اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ صحیح معنوں میں اس کے اوسان خطا ہوئے۔۔۔
بدرا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور سر پٹ دوڑ لگا دی۔۔۔۔
وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگا۔۔۔۔
ابھی وہ گلی میں پہنچی ہی تھی کہ لڈو نے اسے جالیا۔۔۔۔
“بدرا رک جاؤ “وہ بلند آواز سے چلایا۔۔۔۔
بھاگتے ہوئے اس کی سانسیں پھول چکی تھیں۔۔۔اور گلہ سوکھنے لگا۔۔۔
“ٹھیک ہو تم “اس کے پاس پہنچ کر پوچھا۔۔۔۔
“پپ پا پانی۔” وہ لرزتی ہوئی آواز میں نے یہی بول پائی تو وہ جو پریشانی سے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا فورا بیگ میں سے پانی کی بوتل نکال کر اُس کے سامنے بیٹھا اُسے پانی پِلانے کے لیے بوتل کا ڈھکن کھول کر اس کے منہ سے لگائی۔
“تُم ٹھیک ہو اب؟” اُس نے بدراکو گہرے سانس لیتے دیکھ کر پوچھا تو اُس نے گردن اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔ لڈو نے اس کی حسین سبز سمندروں سی گہری آنکھوں میں دیکھا۔وہ ڈر کے باعث ابھی بھی ہرنی کے مانند سراسیماں نظروں سے اسے ہی تک رہی تھی۔۔۔۔
اُس کے نقوش بہت خُوبصورت تھے، بہت معصوم اور پُرکشش۔
چھوٹی سی پتلی ناک، گہری بڑی بڑی سبزآنکھیں، بھرے بھرے گرمی کی شِدّت سے سُرخ سنہری مائل ہوتے رُخسار، چھوٹی سی تھوڑی، وہ سراپا حُسن تھی جِس کی رنگت سُورج کی مانِند سُنہری تھی۔ اُس کی نظریں پھسل کر اُس کی گردن پر جا پڑی جو دوپٹہ بھاگنے کی وجہ سے ڈھیلا ہونے سے واضح ہو رہی تھی۔ اُس کی صراحی دار سفیدگردن پر موجود جو چاند گرھن کا نشان تھا،وہ اس کی دلکش و سحر انگیز خوبصورتی کو نظر نہ لگ جانے کے لیے جیسے نظر کا ٹیکا لگا۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
نہال شاہ ابھی ابھی میٹنگ سے فارغ ہو کر باہر نکلا تھا۔ اس کی میٹنگ بہت شاندار رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی یہ پراجیکٹ اسے ہی ملے گا۔ وہ مسکراتے ہوئے اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا۔ پلیز ایک کافی بھیج دیں۔ اس نے بیٹھتے ساتھ ہی اپنی سیکرٹری کو کافی کا کہا تھا۔وہ رات بھی کافی دیر تک پراجیکٹ کے لیے فائل تیار کرتا رہا تھا اور صبح بھی جلدی اٹھ گیا تھا ۔ اب اسے شدید تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
“اس بارے میں سوچنا ضرور” اسے تعبیر کی بات یاد آئی۔ اف اللہ! یہ تعبیر کو بھی پتا نہیں جلدی کیا ہے؟۔ ابھی شادی کو وقت ہی کتنا ہوا ہے ؟اس نے بے دلی سے سوچا تھا۔ وہ اپنے خیالوں میں گم تھا کہ دفعتا دروازہ ناک ہوا تھا۔ کم ان ! اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے اب اس کی سیکرٹری کافی لے کر اندر آ رہی تھی۔
سر آپ کی کافی۔ سیکرٹری نے پیشہ وارانہ انداز سے مسکراتے ہوئے نہال شاہ کی طرف کافی بڑھائی۔ ادھر رکھ دو ۔ اس نے سیکرٹری کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔ اس کا دماغ اب کسی اور نہج پر سوچ رہا تھا۔ سیکرٹری ایک حیران نظر اس پر ڈالتے ہوئے باہر نکل گئی
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
طمر کے والدین ایک حادثے میں فوت ہو چکے تھے اُس وقت طمر کی عمر صرف آٹھ سال تھی اپنوں کے نام پر اُس کے صرف تایا ہی تھے اس لیے طمر اُن کی ذمےداری بن گئی تایا ابو کا برتاؤ اُس کے ساتھ لیا دیا ہی تھا لیکن تائی امی کو وہ زہر لگتی تھی تایا ابو کویت میں نوکری کرتے تھے اس لیے مہینوں بعد ہی گھر واپس آتے تھے اور اُن کے پیچھے تائی اُس کے ساتھ نوکروں سے بھی بدتر سلوک کرتی تھیں اُن کی باتیں طعنے ہمیشہ طمر کا دل چھلنی کر دیا کر دیتے تھے لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی جب اللہ نے ہی اُس کی قسمت میں یہ سب لکھا تھا تائی امی اُس سے گھر کا سارا کام کروایا کرتی تھی اپنی خدمت کروایا کرتی تھی ۔
تائی امی کو دیکھ اُن کی بیٹیاں بھی اُس پر ایسے ہی حکم چلاتی تھی اور وہ چپ کرکے سہتی رہتی تایا جی کے کہنے پر انہوں نے دسویں کے بعد اُس کا داخلہ تو آگےکروا دیا تھا لیکن اُنھیں اُس کا پڑھنا بھی بہت کھٹکتا تھا۔۔۔۔جبھی اس نے تایا سے کہہ کر اپنے لیے پڑھائی جاری رکھنے کی منت کی تو وہ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد مان گئے اور اس کا داخلہ یونیورسٹی میں کروا دیا تاکہ وہ اپنی پڑھائی مکمل کر سکے۔۔۔۔جبکہ تائی جلد سے جلد اُس کے لیے کوئی رشتہ ڈھونڈھ کر اپنے بوجھ کو کم کر دینا چاہتی تھی ۔
دو دن پہلے اُس کے لیے ایک رشته آیا تھا اور اُن لوگوں کو وہ پسند بھی آگئی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کے وہ لوگ بہت رئیس اور اونچے گھرانے کے لوگ تھے اسی لیے طمر تھوڑا ڈری ہوئی تھی وہ جانتی تھی تائی امی اُس سے چھٹکارا پانے کے لیے کسی بھی طرح اُس کی شادی کرنا چاہتی ہے اس لیے اُسے کچھ غلط ہونے کا اندازہ ہو رہا تھا وہ سات سال کی عمر سے اتنا کچھ سہتی آئی تھی اب آگے کی زندگی میں پتہ نہیں اُسے اور کیا کیا دیکھنا تھا لیکن وہ صرف رو سکتی تھی کچھ کر نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
تائی امی نے اُسے روکا
میری بات کان کھول کر سن لے۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس گھر میں صرف دو دن کی مہمان ہے ۔۔۔۔۔۔دو دن بعد تو شادی کرکے اُس گھر میں رہنا چاہتی ہے یا سڑک پر یہ تیرا فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔۔
کیوں کے میں اب تجھے اس گھر میں تو نہیں رکھنے والی ۔۔۔۔۔۔تجھے میں نے جتنا برداشت کرنا تھا کر لیا۔۔۔۔۔ تیری بھلائی اسی میں ہے کے بنا منہ کھولے چپ چاپ شادی کر لے۔۔
زیادہ نخرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
اب دفع ہو یہاں سے اور ہاں شادی کے بعد اپنے گھر کے بکھیڑے خود ہی سمیٹنا۔۔۔۔
یہاں قدم بھی رکھنے کی کوشش کی نہ تو ٹانگیں توڑ دوں گی ۔اب تیرا جینا مرنا اسی گھر میں ۔۔آئی بات سمجھ میں ؟
تائی امی گرجی تھی اور وہ روتی ہوئی باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔
وہ وقت بھی آن ٹہرا ۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین بار قبول ہے کہنے کے ساتھ اُس نے اسامہ گردیزی کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنے شوہر کے طور پر قبول کیا تھا بلکہ اپنی آنے والی زندگی کی تکلیفوں اور مشکلوں کے لیے بھی خود کو تیار کیا تھا جن سے وہ نا واقف تھی۔۔۔۔
پہلے ہی اپنی زندگی میں بہت کچھ بھگت چکی تھی۔
اور ابھی تک ایک ڈر اُس کے دل میں قائم تھا جانے کیا ہونے والا ہے؟
رخصتی کے وقت اُسے اپنے ماں باپ شدّت سے یاد آرہے تھے تایا ابو سے گلے لگ کر وہ بہت روئی تھی اور اُس گھر کو الوداع کہہ کر وہ نئے گھر میں آئی تھی لیکن وہ نیا گھر صرف گھر نہیں ایک محل تھا گزرتے وقت کے ساتھ اُس کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
گردیزی ولا میں اس نے قدم رکھا تو رسم و رواج کے ختم ہوتے ہی لاؤنج میں لگے ہوئے صوفے پر اسے بٹھایا گیا۔۔۔
وہاں اسکی ساس زبیدہ خانم تھی جبکہ سسر وفات پا چکے تھے۔
اس کے جیٹھ عمر گردیزی اور جیٹھانی صفا جن کے دو جڑواں بیٹے تھے جو ابھی صرف دو ماہ کے تھے۔وہ بھی موجود تھے
اس کے بعد اس کے شوہر اسامہ گردیزی۔جو اس کے بالکل ساتھ والے صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔
“بھابھی جی گود بٹھائی کی رسم کے تحت میں آپ کا گھنٹہ پکڑنے کی بجائے آپکی گود میں ہی بیٹھوں گا۔بھئی کو اصل رسم ہے میں تو وہی کروں گا۔۔۔۔۔”
اس کا شوخ مزاج دیور وامق گردیزی جو شاید اسی کا ہم عمر تھا جھٹ سے آکر اس کی گود میں بیٹھا۔۔۔۔
طمر کی حیرت کی زیادتی سے آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔۔۔اور کچھ اس کا وزن بھی اپنی ٹانگوں پر محسوس کیے اب تو اس کی جان نکلنے کے در پہ تھی۔
نیا گھر نئے انجان لوگ کہے بھی تو کیا؟
بس بمشکل ضبط کیے سانسیں روکے بیٹھی تھی۔
اپنے ساتھ بیٹھے مجازی خدا کی طرف مدد طلب نظروں سےدیکھا جو اپنے بھائی کی حرکت پر ہنس رہا تھا۔۔۔۔
طمر نے جلدی سے کلچ کھول کر اس میں ملے حق مہر کے پیسوں میں سے بغیر گنےچند نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھے۔۔۔
“ارے یہ کیا بھابھی جی بس اتنے سے ؟؟؟”
اس کی نظر طمر کی آنکھوں پر پڑی۔۔۔وہ اس کے اتنے قریب تھا ۔۔۔۔بھابھی کی آنکھیں جھلملاتے ہوئے دیکھ فوراً اس کی گود سے نیچے اترا۔۔۔۔
اور فرش پر دو زانوں بیٹھ کر ہاتھ اس کے گھٹنے پر رکھا۔۔۔۔
I am really very sorry…..
بھابھی اگر آپ کو برا لگا ۔۔۔
میں صرف مذاق کر رہا تھا۔
آپ میرے لیے قابل احترام ہستی ہیں۔
ہوسکے تو مجھے معاف کردیں اگر آپ کو برا لگا ….
اس نے شرمندگی بھرے انداز میں کہا۔۔۔
“چلو اب معاف کر بھی دو میرے بچے کو کب سے تمہارے قدموں میں بیٹھا ہے حالانکہ یہ تو رسم تھی کیا ہوا تھوڑا سا مذاق ہی تو کیا تھا۔۔۔وہ منہ بنا کر تلخ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔
“کوئی بات نہیں مجھے بالکل بھی برا نہیں لگا۔۔۔۔
چلو بھئی اب سب اپنے اپنے کمرے میں اسامہ اور طمر کو بھی آرام کرنے دو۔۔۔۔
زبیدہ خانم نے کہا تو سب آہستگی سےاپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اماں بی کو شروع سے ہی پالتو جانوروں سے بہت ہمدردی اور محبت تھی۔
جب بھی گھر کے باہر کوئی بھی بلی یا کتا نظر آتا اسے دودھ یا روٹی ڈال دیتی ۔
اسی لیے اب ان جانوروں کو بھی پتہ چل چکا تھا اور کہیں سے کچھ کھانے کو ملے یا نہ ملے یہاں سے ضرور مل جائے گا اسی لیے وہ اماں بی کے دروازے کے آگے ڈیرہ جمائے رکھتے۔۔۔۔
جبکہ بدرا اتنا ہی ان سب سے خوف کھاتی۔۔۔
کبھی جو اماں بی اسے روٹی باہر ڈالنے کو کہتی تو وہ انکار کر دیتی۔۔۔
صرف ایک یہی بات تھی جس پر وہ اماں بی کی ایک نہ سنتی ورنہ وہ ہر لحاظ سے اماں بی کی تابع فرمان تھی۔
اور صبح بھی اسی لیے کتے کوسامنے دیکھ کر وہ ڈر کر بھاگی تھی۔