639.7K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Thaam Lo Daman) Last Episode Pt.2

“ڈیڈ مجھے نکالیں یہاں سے “
سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہوئے بذل نے دائم آفندی کو سامنے کھڑے دیکھ تڑپ کر کہا ۔۔۔۔۔
“بذل یہ کیا کرلیا تم نے اپنے ساتھ ۔۔۔۔وہ دل گرفتگی سے بولے ۔۔۔۔۔
“ڈیڈ میں مانتا ہوں کہ مجھ سے غلطیاں ہوئیں ہیں مگر وہ اتنی بڑی بھی نہیں تھیں کہ مجھے ایسی سزا ملے ۔۔۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔یقین کریں مجھ پہ۔۔۔۔
“مجھے نکالیں ڈیڈ یہاں سے۔۔۔ورنہ بدرا مجھ سے دور ہو جائے گی ۔۔۔۔مجھے بدرا چاہیے ہر حال میں ۔۔۔۔پلیز ڈیڈ مجھے بدرا لے دیں ۔۔۔۔اس کے لہجے میں جنون اور پاگل پن کی رمق تھی۔۔۔۔
“پاگل پن مت کرو بذل ۔۔۔۔دائم نے اسے ٹوک دیا۔۔۔۔
“بدرا اب کسی کی بیوی ہے ۔۔۔وہ کوئی چیز تھوڑی ہے جو ہر بار کی طرح تمہاری ضد کرنے پر میں پوری کروں گا۔۔۔۔۔
بذل کی بھوری آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے ۔۔۔۔
وہ اپنے بیٹے کی نا قابل فہم حالت پر غمزدہ ہوئے ۔۔۔۔۔
“بذل مجھے سب تفصیل سے بتاؤ تب ہی میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں گا ۔۔۔۔۔
دائم آفندی نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی آمیز انداز میں کہا ۔۔۔۔۔
وہ چند لمحے خاموش رہا پھر بولا ۔۔
“ڈیڈ جب میں پاکستان آیا تو مجھے ایک ڈائیریکٹر نے ایڈ کی شوٹنگ کے لیے کہا ۔۔۔
میں مان گیا ۔۔۔ اسی ایڈ کی شوٹنگ کے لیے دبئی گیا تھا ۔۔۔۔بس وہیں سے یہ سب سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔۔۔
وہ ان کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ایسے جیسے پچھلے سب منظر اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگے ۔۔۔۔۔
وہ ۔۔۔وہ ڈائریکٹر نہیں تھا ۔۔۔۔وہ دبئی کا ایک بہت بڑا ڈان تھا ۔۔۔۔یہ بات مجھے بعد میں پتہ چلی جب ۔۔۔۔۔
میرے سامان میں سے ائیر پورٹ پر ڈرگز برآمد ہوئی۔۔۔۔۔
میں بھونچکا رہ گیا ۔۔۔۔مجھے اس بارے میں کچھ علم نہ تھا۔۔۔۔۔
وہاں کی پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔۔۔۔۔
وہاں کی جیل میں بھی ان کے آدمی پہلے سے موجود تھے ۔۔۔۔۔
وہ دن رات میری برین واشنگ کرتے کہ وہ مجھے یہاں سے نکال سکتے ہیں مگر اس کے عوض مجھے ان کی بات ماننا ہو گی ۔۔۔۔۔
پہلے تو میں نہیں مانا ۔۔۔۔۔مگر پھر کوئی مدد نہیں پا کر میں نے حامی بھر لی۔۔۔۔۔
ان لوگوں نے مجھے کسی نا کسی طرح وہاں سے آزاد تو کروا لیا۔۔۔۔مگر وہ اپنے کام مجھ سے کروانے لگے ۔۔۔۔۔
میں شراب نہیں پیتا تھا۔ ۔۔۔۔مگر انہوں نے ذبردستی مجھے اس پر لگایا۔۔۔۔۔شراب میں مخصوص قسم کی ڈرگز ملا کر مجھے پلاتے ۔۔۔۔شروعات میں تو مجھے وہ سب بالکل بھی اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔مگر آہستہ آہستہ میں اس کا عادی ہو گیا۔۔۔۔یہ سب جیل میں ہی شروع کیا انہوں نے ۔۔۔۔اس بات کی سمجھ مجھے اب آئی۔۔۔کہ انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا۔۔۔۔
جب بھی مجھے وہ شراب نہیں ملتی میں آپے سے باہر ہو جاتا۔۔۔۔۔
میں کیا کر رہا ہوں مجھے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ میں اس کا عادی ہوتا گیا۔۔۔۔
وہ لوگ لڑکیوں کی سمگلنگ بھی کرتے ہیں۔۔۔۔
ایک دن میں نشے کی حالت میں بدرا کے پاس گیا۔۔۔۔۔
“میں اس سے بہت پیار کرتا تھا ڈیڈ۔۔۔۔مگر اس نے مجھ پر تھوک دیا۔۔۔۔مجھے بہت غصہ آیا ۔۔۔۔بہت غصہ آیا اس پر میں نے اسے دھمکی بھی دی ۔۔۔۔۔مگر ڈیڈ وہ صرف دھمکی تھی ۔۔۔۔۔میں نےاس کے ساتھ کچھ برا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔اور نا میں نے کیا۔۔۔۔۔
I swear dad.
میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔
جانے کہاں سے ان لوگوں کو میری خبر ہو گئی کہ میں کہاں ہوں ۔۔۔۔شاید وہ لوگ میرا پیچھا کر رہے تھے۔۔۔۔۔
میری آنکھوں نے بند ہونے سے پہلے جو آخری منظر دیکھا ۔۔۔۔
تب وہ لوگ بدرا کو اپنے ساتھ لے جا رہے تھے۔۔۔۔
اس کے بعد مجھے کچھ بھی یاد نہیں۔۔۔۔
صبح جب آنکھ کھلی تو خود کو ان کے اڈے پر پایا۔۔۔۔۔
“بدرا کہاں ہے ؟؟؟سب سے پہلا سوال جو میں نے ہوش میں آتے ہی ان سے کیا۔۔۔۔۔
“وہ اپنے اصل ٹھکانے پر پہنچ گئی ۔۔۔۔ہم نے اسے کوٹھے پر بیچ دیا۔۔۔۔تجھے تیرا حصہ مل جائے گا۔۔۔۔۔
ویسے مال تو نے کمال کا چنا تھا۔۔۔۔ڈان کا ایک عزیز خبیث غنڈے نے کہا۔
“ذلیل انسان وہ میری ۔۔۔۔۔تو نے اسے ۔۔۔۔۔میں اپنے آپے سے باہر ہوا۔۔۔۔۔
کہاں ہے وہ ؟؟؟بتاو مجھے ۔۔۔میں ڈان کے ایک ساتھی پر ابل پڑا ۔۔۔۔۔
ہوا میں فائر کی آواز گونجی ۔۔۔۔
میں نے اسے چھوڑا۔۔۔۔۔
اگر خود کی سلامتی چاہتا ہے تو بھول جا اسے ۔۔۔۔۔اب وہ تیرے کسی کام کی نہیں رہی ۔۔۔۔ان کا سربراہ گن کی نال پر پھونک مار کر بارعب آواز میں بولا۔۔۔۔
میں نے اسے ڈھونڈھنے کی بہت کوشش کی مگر ڈھونڈھ نا سکا۔۔۔۔
اس ڈان نے اپنے کتے چوبیس گھنٹے میرے پیچھے چھوڑے ہوئے تھے جو جگہ جگہ میری بو سونگھتے پھر رہے تھے۔۔۔۔۔
پھر ایک دن بدرا مجھے ایک اجنبی شخص کے ساتھ نظر آئی۔۔۔۔
یہ وہی آفیسر تھا جس نے مجھے ڈان کے اڈے سے فرار ہوتے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
نہال شاہ کی بیٹی مجھ سے مدد مانگنے آئی تھی پتہ نہیں کس سلسلے میں ۔۔۔۔اس وقت بھی میں نشے میں بری طرح دھت تھا۔۔۔۔۔
مجھے کچھ خبر نا تھی میں کیا کر رہا ہوں ۔۔۔
من میں دن رات صرف ایک ہی نام گونج رہا تھا ۔۔۔۔۔بدرا ۔۔۔۔صرف بدرا۔۔۔۔۔
ہر طرف صرف وہی دکھائی دیتی ۔۔۔۔۔
اس دن بھی شاید میں نشے میں بدرا کو ہی سوچ رہا تھا اسے ہی اپنے قریب محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔
ہوش تو تب آیا جب اس آفیسر نے مجھے مارا ۔۔۔۔
میں اسے پہچان گیا وہ وہی تھا جو بدرا کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔
میں نے اسے بدرا کے خلاف کرنا چاہا تاکہ وہ اسے چھوڑ دے ۔۔۔۔اور بدرا صرف میری ہو جائے ۔۔۔۔۔
مگر ڈیڈ اس نے مجھے بدرا سے دور کر دیا ۔۔۔۔
مجھے یہاں سے نکال دیں ایک بار ۔۔۔۔۔مجھے وہی چاہیے ۔۔۔۔ڈیڈ میں اس سے معافی مانگ لوں گا۔۔۔۔میری وجہ سے سب غلط ہو گیا۔۔۔۔
“ڈیڈ میں نے بہت غلطیاں کیں مگر اس سب میں سب سے ضروری بات ۔۔۔۔۔میں بدرا کو خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔۔مجھے وہ لا دیں۔۔۔۔
وہ سلاخوں پر سر رکھے دھاڑیں مار کر رونے لگا۔۔۔۔
اپنے بیٹے کی دگرگوں حالت پر دائم کو ترس آیا۔۔۔۔وہ بھی آبدیدہ ہو گیا۔۔۔۔
بذل چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔بدرا کو بھول جاؤ۔۔۔۔۔
ڈیڈ میرے پیچھے کوئی نہیں آیا مجھے بچانے مجھے یہاں سے نکالنے ۔۔۔۔میں نے خود کو بچانے کی بھی بہت کوشش کی ۔۔۔موقع ملتے فرار بھی ہونا چاہا تاکہ آپ کو مام کوخبر دوں اپنے بارے میں۔۔۔۔۔۔مگر کامیاب نا ہو سکا ۔۔۔۔وہ دکھی دل سے بولا۔۔۔۔
میں یہاں سے نکلنے میں تمہاری مدد کروں گا۔۔۔۔مگر تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا ۔۔۔تم اس کی زندگی سے دور چلے جاؤ گے۔۔۔یہ مان لو گے کہ وہ تمہارے مقدر میں نہیں تھی۔۔۔۔۔
بولو کرو گے وعدہ ۔۔۔۔دائم آفندی نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔۔۔۔۔
بذل نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے ڈیڈ کو دیکھا۔۔۔۔۔
اس کی بھوری آنکھوں میں آنسو دیکھ دائم کا دل پھٹنے لگا۔۔۔۔مگر بذل کے لیے یہی ٹھیک فیصلہ تھا۔۔۔۔۔
دو دن بعد کورٹ میں بذل کے کیس کا فیصلہ تھا۔۔۔۔۔
سب ثبوت اور پولیس کے سپاہیوں کی گواہی کے مطابق اسے سات سال کی قید با مشقت سنائی گئی ۔۔۔۔۔۔دائم آفندی اسے سزا سے بچا نا سکے ۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
علینا مکلاوے کی رسم کے لیے واپس گھر آئی تو اسے اور مضربان کو بھی دائم آفندی نے ڈھکے چھپے الفاظ میں بذل کے بارے میں بتا دیا۔۔۔۔۔
مضربان نے دائم آفندی سے اس بات کا اظہار افسوس کیا۔۔۔۔
اس کے سامنے تو علینا با اعتماد رہی مگر مضربان کے جاتے ہی اپنی مما کے گلے لگ کر خوب روئی اپنے اکلوتے بھائی کے بارے میں سن کر اس کے آنسو نہیں تھم رہے تھے ۔۔۔۔
دکھ کی ایک بڑی لہر نے ان کے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔۔۔۔۔
دائم آفندی نے اپنا بزنس آسٹریلیا سے پاکستان شفٹ کر لیا۔۔۔۔۔یہاں عائزہ کو اس حالت میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔۔۔اور عائزہ آسٹریلیا جانے کو راضی نہیں تھی کسی صورت۔۔۔۔اس کا کہنا تھا اس طرح وہ اپنے بیٹے سے تو مل سکتی ہے کبھی کبھی اس کا چہرہ تو دیکھ سکتی ہے یہاں رہتے ہوئے ۔۔۔۔اس کا چھبیس سالہ نوجوان بیٹا اس سے دور ہو گیا۔۔۔۔۔جانے کون سے جرم کی پاداش میں۔۔۔۔جو گناہ اس نے کیا بھی نہیں ۔۔۔۔وہ اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے ۔۔۔اے میرے مولا! مجھے اور میرے بیٹے کو ہمت دے اس سزا کو جھیلنے کی ۔۔۔وہ خدا کے آگے سر بسجود تھی ۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
ایک سال بعد !
یہ منظر تھا ایک اولڈ ہاؤس کا جہاں مختلف عمر کی مختلف عورتیں آپس میں گفتگو میں مشغول تھیں۔۔۔۔
مگر ایک عورت جو طبعاً خاموش رہتی ۔۔۔سب سے الگ تھلگ وہ اپنے بستر پر بیٹھی آج بھی ہمیشہ کی طرح گم سم تھی ۔۔۔
وہاں کی باقی عورتیں تو ایک دوسرے سے اپنی زندگی کی کہانی شئیر کرتی مگر ایک وہی ایسی عورت تھی جو چپ رہتی آج تک اس نے کسی کو اپنے بارے میں نہیں بتایا۔۔۔۔۔اس کے پاس کسی کو بتانے لائق کچھ تھا بھی نہیں ۔۔۔۔
تھاتو صرف پچھتاوا۔۔۔آج وہ اکیلی تھی تو صرف اپنے اعمال کی وجہ سے ۔۔۔۔اس نے صبر شکر کر لیا اپنی اسی زندگی پر ۔۔۔۔مگر زندگی میں اک خلا باقی تھا ۔۔۔۔جو شاید ہمیشہ خلا ہی رہ جانا تھا۔۔۔۔۔
نہال اسے طلاق دئیے جانے کہاں چلا گیا۔۔۔پیسے نا ملنے آہستہ آہستہ سب ملازم بھی چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔ایک ماہ میں گھر بھی نیلام ہوگیا تو اسے گھر خالی کرنا پڑا۔۔۔۔
سب کچھ ٹرسٹ میں چلا گیا۔۔۔۔۔
اس نے عائزہ کے گھر جانے کی بجائے خاموشی سے اپنی باقی ماندہ زندگی اولڈ ہوم میں گزرانے کا فیصلہ لیا۔۔۔۔اور آج تعبیر ایک اولڈ ہاؤس میں اپنی زندگی گزار رہی تھی۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
بدترین خسارہ یہ ہے کہ آپ ایک شخص پر محبت عقیدت اور اعتماد کے جذبات خلوص دل سے نچھاور کرتے ہیں،اور ایک عرصہ گزر جانے کے بعد وہ شخص اپنے کردار سے یہ ثابت کردے کہ وہ تو ان جذبات کے قطعی لائق نا تھا۔تو ہمارے جذبات کا بہت بڑا خسارہ ہے۔۔۔۔۔طمر نے سوچ سوچ کر کہتے ہوئے وامق کو دیکھا۔۔۔۔۔
آپ نے مجھے پیار دیا مان دیا اس معاشرے میں مقام دیا میں آپ کی دل سے قدر کرتی ہوں ۔۔۔اگر آپ مجھے نا سمیٹتے تو شاید میں بکھر جاتی ۔۔۔۔آپ کی وجہ سے سب ممکن ہوا ہے وامق ۔۔۔۔وہ اس کے شانے پر آسودگی سے سر رکھے بولی ۔۔۔۔
“سارے کھیل تو روحوں کے ہوتے ہیں مٹی کے جسم میں کشش تب جاگتی ہے ،جب روح کا ٹکراؤ ایک دل کو لگ جانے والی روح سے ہوتا ہے “
میری روح نے تمہاری روح کو چنا ۔۔۔۔
ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے سب بھول جاؤ ۔۔۔
“آپ کی قربت نے مجھے سب بھول جانے پر مجبور کر دیا وامق آج میں خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت تصور کرتی ہوں ۔۔۔آج میں جو بھی ہوں سب آپ کی بدولت ہے ۔
یہ گھر ہمارے بچے اور اب ان کے بھی بچے ۔۔۔
وہ مسکرائی سامنے لاؤنج میں اپنے پوتے اور پوتی کے کارٹ کو دیکھ کر جہاں تقی کا بیٹا اور مضربان کی بیٹی اپنی اپنی ماؤں کو خوب تگنی کا ناچ نچا رہے تھے ۔۔۔۔۔
علینا اپنی بیٹی کے لیے فیڈر تیار کر رہی تھی کیونکہ اس نے بھوک کی وجہ سے رو رو کر سارا گھر سر پر اٹھا رکھا تھا۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف ادا اپنے بیٹے کا پیمپر چینج کر رہی تھی ۔۔۔وہ زرا سارا فتنہ بہت نزاکت پسند تھا زرا سا بھی گیلا ہو جائے چیخ چیخ کر گھر میں طوفان برپا کر دیتا۔۔۔ادا کو اس نے صحیح معنوں میں گھما رکھا تھا۔۔۔۔۔
ہر وقت گھر میں رونق لگی رہتی ۔۔۔تقی نے پڑھائی ختم ہوتے ہی ایک نیوز چینل جوائن کر لیا ۔۔۔۔۔
جبکہ مضربان نے آفس کے معاملات اچھے سے سنبھال لیے ۔۔۔۔
تقی اور مضربان جب بھی رات ڈنر پر اکٹھے ہوتے تو محفل زعفران بنائے رکھتے۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہی تو اس گھر کی رونق تھے اور اب تو ان دونوں کے بچے بھی اس رونق کو دوبالا کرنے قدم رنجہ فرما چکے تھے۔۔۔۔
جب کبھی بدرا اور دراک ویکینڈ پر آجاتے تو سب مل کر خوب ہلا گلہ کرتے۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
سرکاری جیل میں کچے فرش پر بیٹھا ہوا وجود دنیا و مافیہا سے بیگانہ اپنی الگ دنیا بسائے ہوئے تھا ۔۔۔
جہاں بذل اور بدرا کے علاؤہ تیسرا کوئی نا تھا۔۔۔۔۔
دیواروں پر ہر جگہ کوئلے سے صرف ایک ہی نام کنندہ کیا گیا تھا۔۔۔۔
بدرا۔۔۔۔بدرا۔۔۔۔ صرف ۔۔۔بدرا۔۔۔۔۔۔
اب وہ فرش پر بیٹھا مٹی پر اپنی انگلی سے بھی وہی لفظ لکھ رہا تھا ۔۔۔۔
بدرا ۔۔۔۔
پھر دوسرے ہاتھ سے مٹاتا۔۔۔۔
پھر انگلی سے وہی لفظ لکھتا ۔۔۔۔
بدرا ۔۔۔۔۔یہی عمل دہراتے ہوئے دن سے رات اور رات سے دن ہو جاتا ۔۔۔۔
وہ دن رات سے بے خبر اپنے عمل میں مگن رہتا۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
“آج اتوار ہے چھٹی کا دن اسی لیے مختص کیا تھا کہ ہم مل کر انہیں وہاں لے جائیں گے ۔۔۔
اور آپ ابھی تک اٹھے ہی نہیں ۔۔۔۔وہ دراک کو بازو سے پکڑ کر ہلاتی ہوئی اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔
“کیا جانم ……ایک تو ساری رات یہ دونوں اپنا بینڈ بجا کر مجھے سونے نہیں دیتے اور آج تم صبح صبح ۔۔۔۔۔۔سونے دو نا ۔۔۔۔وہ پھر سے تکیے کے نیچے اپنا چہرہ چھپا گیا ۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اب سوتے ہی رہیں۔۔۔۔وہ خفگی بھرے انداز میں بولی اور اس کے قریب سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔
“ایک شرط پر اپنی نیند قربان کروں گا ۔۔۔۔تم ان دونوں کو چھوڑ کر مجھے وقت دو گی ۔۔۔۔
وہ اس کی کلائی تھام کر اسے اپنے حصار میں لیے نیند سے بوجھل آواز میں بولا۔
“دراک پلیز وہ روئیں گے ۔۔۔۔وہ منمنا کر بولی۔۔۔
“ارے ان کو تو رونے کے سوا کوئی کام نہیں ۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولا۔۔۔۔
جب سے آئے ہیں میری جانم پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔اب تو مجھے حسد ہونے لگا ہے ان سے ۔۔۔۔سارا دن ساری رات تم سے چپکے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
“کیسے باپ ہیں آپ اپنے بچوں سے ہی ۔۔۔۔وہ مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“آج یہ جتنا ڈھول پیٹیں رونے کا رونے دو انہیں ۔۔۔تم زرا میرے پاس آؤ ۔۔۔۔۔
دراک نے اسے اپنے ساتھ لٹا کر خود اس پر جھکا۔۔۔۔۔
بدرا اپنی آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔”اپنے کرم کی کر ادائیں ۔۔۔۔کردے ادھر بھی تو نگاہیں ۔۔۔۔۔دراک سریلے انداز میں اپنی پوروں سے اس کا چہرہ تھوڑی سے اونچا کرتے ہوئے گنگنایا۔۔۔۔
وہی آنچ دیتا روح میں حائل ہوتا ہوا دلنشیں انداز۔۔۔۔اس کی جسارتیں حد سے بڑھنے لگیں۔۔۔۔
“دراک !ایک بار کہوں “وہ دھیرے سے بولی ۔۔۔
“کہیں جانم “وہ اسکی گردن پر بنے ہوئے چاند گرھن کے نشان پر اپنے لب رکھے فسوں خیز آواز میں بولا۔۔۔۔۔
“مجھے آپ کی آواز بہت اچھی لگتی ہے “
“اور میں ؟”اس نے مسکرا کرپوچھا ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دے پاتی درید کا باجا فل سپیڈ سے سٹارٹ ہوا۔۔۔۔
“لو پھر گیا میرے سارے رومانس پر پانی ۔۔۔۔وہ بدمزہ ہو کر اٹھا اور اپنے بکھرے بالوں کو انگلیاں پھنسانے ٹھیک کرنے لگا۔۔۔۔
بدرا اس کا بنا ہوا منہ دیکھ کر کھلکھلائی۔۔۔
اور جا کر درید کو گود میں لیا۔۔۔۔۔
“یہ میری پیاری بیٹی ہے بالکل بھی مما ،بابا کو تنگ نہیں کرتی ۔۔۔دراک نے ننھی سی بیٹی جو ہلکے گلابی رنگ کے کمبل میں لیپٹی ہوئی تھی اسے گود میں بھر کر کہا۔۔۔۔
اس کے سرخ وسفید پھولے ہوئے گالوں پر پیار کیا۔۔۔۔
دراک نے اس کے ننھے سے ہاتھ میں اپنی انگلی پکڑائی تو اس نے مضبوطی سے اسے تھام لیا۔۔۔۔
اب وہ دراک کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔دراک کے چہرے پر بھی خوشی سے بھرپور مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔۔۔
دراک اور بدرا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی بیٹے کا نام درید اور بیٹی جو بالکل بدرا کی ڈک ٹو کاپی تھی ۔۔۔۔طمر نے جب اس ننھی سی بچی کو دیکھا تو ایک بار تو بالکل چونک گئی۔۔۔۔
بدرا یہ تو بالکل تمہاری کاپی ہے ۔۔۔تمہارا بچپن۔۔۔۔تم بالکل ایسی ہی تھی ۔۔۔۔
وہی سرخ وسفید رنگت،وہی ہلکی سبز آنکھیں،صرف ایک چیز کا فرق تھا ۔۔۔ڈمپلز اس نے اپنے باپ سے چرائے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ درید ،شکل و صورت کے لحاظ سے دراک اور بدرا کر مسکچر تھا۔۔۔۔
“دراک بچے تیار ہیں میں بھی بس آپ کا ہی انتظار ہے ۔۔۔
“میں بس پانچ منٹ میں آیا ۔۔۔وہ تیزی سے اپنے کپڑے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
اس دوران دراک کی پرموشن ہو چکی تھی ،بذل کے زریعے اس گینگ کے کافی اہم افراد وہ پولیس کے ساتھ مل کر پکڑ چکا تھا۔۔۔
دونوں بچوں کی پیدائش کے دوران بدرا کی حالت بہت نازک تھی ۔۔۔اس لیے اس وقت بدرا اور بچوں کی صحت و تندرستی کے لیے دراک نے منت مانی تھی ۔کہ وہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مزار پر حاضری دے گا۔۔۔۔۔
آج وہ دونوں بچوں کو ساتھ لیے وہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
دعا تقدیر بدل دیتی ہے تم مانگ کر تو دیکھو ،ممکن نہیں جو کبھی نہیں ملا وہ کبھی ملے بھی نا ۔۔۔تم مانگ کر تو دیکھو اس رب العزت سے ۔۔۔
جب اللّٰہ تعالیٰ نے اتنے برسوں بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام لوٹا دئیے ،ویران صحرا میں حضرت ہاجرہ کے لیے پانی کا انتظام کردیا۔تو تمہاری دعا بھی ضرور قبول کرے گا،وہ سب بدلنے پر قادر ہے ،اس کی ایک کُن تمہاری تقدیر بدل دے گی ۔۔۔۔
وہ ضعیف سا جھریوں زدہ وجود شکستہ حالت میں موجود تھا ۔۔۔۔لوگ اس سے دعائیں لینے آتے تھے ۔۔۔۔مگر وہ خالی آنکھوں میں کسی کی دید کی پیاس لیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
“ایسا کریں ایک کو آپ اپنے ساتھ ادھر مردوں والی سائیڈ پر لے جائیں ایک کو میں دوسری طرف اپنے ساتھ لے جاتی ہوں میں دونوں کو سنبھال نہیں پاؤں گی ۔۔۔۔۔
بدرا نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے دراک سے کہا۔۔۔۔۔
آج بھی مزرا پر کافی رش تھا ۔۔۔۔وہ دونوں بھیڑ میں سے گزرتے ہوئے اندر جانے لگے کہ سیڑھیوں پر سے گزرتے ہوئے کسی نے بدرا کے دامن کو تھام لیا۔۔۔۔۔
بدرا نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔
اس کے تعاقب میں دراک نے ۔۔۔۔۔
دراک نے اس بزرگ کو غور سے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کی ۔۔۔۔
مگر بدرا ان کے ضعیف العمر ہونے کے باوجود بھی پہچان گئی۔۔۔۔
اتنی عمر نا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی عمر سے دوگنا دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔۔سارے بال سفید ہو چکے تھے ۔۔۔۔
یہی ان کی غم کی پہلی نشانی ۔۔۔۔رونے کے باعث سوجے ہوئے پپوٹے ۔۔۔سفید پلکیں ۔۔۔۔۔سفید داڑھی ۔۔۔۔۔کمزور ہڈیوں والا جھریوں زدہ ہاتھ جس سے انہوں نے بدرا کا دامن تھام رکھا تھا ۔۔۔
بدرا کی آنکھیں جھلملائیں۔۔۔۔۔
بدرا کی آنکھوں میں اپنے لیے شناسائی کی رمق دیکھ کر جیسے ویران کھنڈر ہوئیں آنکھوں میں خوشیوں کے چراغ جل اٹھے ۔۔۔۔
ان کی دید کی ترسی ہوئی آنکھیں سیراب ہوئیں۔۔۔۔۔
دراک نے بدرا کی گود سے درید کو بھی اپنی گود میں منتقل کیا۔۔۔۔۔
اس آدمی نے بدرا کے سامنے اپنے دونوں کپکپاتے ہوئے ہاتھ جوڑ دئیے ۔۔۔۔۔
بدرا جو انہیں دیکھ ساکت تھی ۔۔۔۔
ان کے دونوں جڑے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے وہیں ان کے قریب گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی۔۔۔۔
“م۔۔۔مجھے معاف ۔۔۔۔۔ان کی آواز کپکپانے لگی ۔۔۔۔
بدرا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
دونوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔۔۔۔زارو زار روتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
بدرا نے ان کے سینے سے سر لگایا۔۔۔۔۔
جیسے سالوں سے بھٹکتے ہوئے دل کو آج قرار ملا ہو ۔۔۔۔کہیں کوئی کسک تھی کوئی کمی تھی ۔۔۔۔آج اسے اپنا وہ ادھورا پن پورا ہوتا ہوا دکھائی دیا۔۔۔۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر دراک کی طرف دیکھا۔۔۔۔
دراک اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ اسکی ہر بات بنا کہے جان جاتا تھا ۔۔۔تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اب بدرا کی آنکھوں میں چھپے ہوئے مفہوم کو نا سمجھتا۔۔۔۔۔
بدرا کی آس بھری نگاہوں کو کیسے نظر انداز کر دیتا۔۔۔۔۔
دراک نے بنا کچھ کہے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔اس کے اس عمل پر
بدرا کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔۔۔۔۔
وہ نہال شاہ کا ہاتھ تھامے انہیں اپنے ساتھ گاڑی تک کے جانے لگی ۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
اٹھارہ سال بعد !!!!!
کالج کے ٹرپ پر شمالی علاقہ جات کی سیرو تفریح پر آئی تھی وہ ۔۔۔۔حسین علاقے کے خوبصورت ترین مناظر میں کھو چکی تھی۔۔۔
سامنے کسی کا فارم ہاؤس تھا ۔۔۔جہاں ایک سفید بالوں والاخوبصورت براق گھوڑا نظر آیا۔۔۔۔۔
وہ اس کے پاس جانے لگی اسے چھونے کے لیے۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے پاس جاتی وہ خود بھاگتا ہوا اس کے قریب آنے لگا ۔۔۔۔
وہ خوفزدہ ہوئی۔۔۔۔اور اس کے ڈر واپس بھاگنے لگی ۔۔۔۔۔
مگر اس گھوڑے کی ٹانگ پڑتے ہی وہ دور جا گری ۔۔۔۔۔۔
یا اللہ میں بچ گئی کیا؟؟؟
اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔۔
ٹانگ پر درد کی شدید لہر اٹھی ۔۔۔۔
ہمت کر کہ اٹھنے کی کوشش کی مگر درد کے باعث اٹھنے میں ناکامی ہوئی ۔۔۔۔۔
اس کی نظر سامنے گھوڑے پر بیٹھ کر آتے ہوئے ایک شخص پر پڑی ۔۔۔۔۔
بلیک چست جینز ،بلیک ہائی نیک اور اس پر بلیک کوٹ پہنے گلے میں مفلر لیے پاؤں میں لانگ شوز پہنے ۔۔۔۔۔چہرے پر عجب سی تمکنت ،حد سے زیادہ سفید رنگت سپاٹ باروعب چہرہ ،چہرے کے تنے دلکش نقوش ۔۔۔
یہی تو تھا اس کا مسٹر پرفیکٹ ۔۔۔۔۔
اس کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی تھی کہ اسے کسی میچور اور ڈیسینٹ انسان سے شادی کرنی ہے ۔
اور آج اسے سامنے دیکھ اپنی آنکھوں پر یقین کرنا ناممکن ہوا۔۔۔۔
اس کی لائف میں اس کے خوابوں کے شہزادے کی اینڑی وہ بھی شہزادوں والے انداز میں گھوڑے پر ۔۔۔۔ہو چکی تھی وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔۔۔
ہوش تو تب آیا۔۔۔۔جب اس گھڑ سوار نے اسے ایک ہاتھ سے اٹھا کر گھوڑے پر لیا۔۔۔۔
تیزی سے گزرتے ہوئے مناظر کو دیکھ کر احساس ہوا کہ وہ اس کے بہت پاس ہے ۔۔۔
اور گھوڑا برق رفتاری سے دوڑتے ہوئے ہوا سے باتیں کر رہا ہے۔
اس نے چہرہ موڑ کر اس خوبرو شہزادے کو دیکھا ۔۔۔۔
ایسا کرنے سے اس کا چہرہ مقابل کے چہرے سے تھوڑا چھو گیا۔۔۔۔
اس کی گرم سانسیں خود پر محسوس کیے وہ جی جان سے کانپی۔۔۔۔۔
“کچھ نہیں ہوگا ڈرو مت ۔۔۔۔اس کی پرکشش آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
جب وہ بولا تو مقابل کے لب اس کے کان کی لو کو چھوگئے۔۔۔۔
دل کی دھڑکنیں معمول سے ہٹ کر دوڑنے لگیں۔۔۔۔
کان کی لوئیں سرخی مائل دکھائی دینے لگیں ۔۔۔
وہ اسے کہاں لے جا رہا تھا ۔۔۔یہ بات تو وہ سوچنے کے قابل بھی نا تھی ۔۔۔۔
وہ منزل پر پہنچ کر ایک ہی جست میں نیچے اترا۔۔۔۔
اور اپنا ہاتھ آگے کیا تاکہ اسے بھی اترنے میں مدد دے سکے ۔۔۔۔۔
اسنے دل کی حالت پر قابو پاکر نظر انداز کرتے ہوئے خود اترنا چاہا۔۔۔۔
مگر پاؤں پر چوٹ لگنے کی وجہ سے خود کو سنبھال نا پائی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی ۔۔۔۔
اس کی مضبوط بانہوں نے اسے پھولوں کی طری خود میں بھر لیا۔۔۔
مقابل کے قرب سے اٹھتی دلفریب مہک اس کے حواس مختل کیے دے رہی تھی۔۔۔۔۔
“میں چل سکتی ہوں ۔۔۔پلیز مجھے نیچے اتاریں ۔۔۔۔اس نے اپنے سوکھے لبوں پر زبان پھیر کر کہا۔۔۔۔
اس نے اسے نیچے اتارا۔۔۔۔۔
بذل آفندی جو چوالیس کا ہونے کے باوجود بھی فٹنس کی وجہ سے بمشکل پینتیس کا دکھائی دیتا اپنی زیر کر دینے والی شخصیت کے باعث۔۔۔اس کے دل و دماغ پر چھا رہا تھا
وہ ہمت مجتمع کیے پلٹ کر جانے کو تھی کہ شاید اسی نے پیچھے سے اس کا دامن تھام لیا۔۔۔۔۔
“بدرا !!!!پیچھے سے اس کی سحر انگیز آواز نے اس کے بڑھتے ہوئے قدم روکے ۔۔۔۔
“آپ کو کیسے پتہ چلا میری مما کا نام بدرا ہے ۔۔۔۔۔؟اس نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔
“تمہارا نام ؟؟؟اس بھوری آنکھوں والے شہزادے نے گہری سانس لیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
حنا ۔۔۔۔وہ مسکرا کر اپنا نام بتانے لگی ۔۔۔
اور آپ کا ؟؟؟وہ ابرو اچکا کر پوچھی۔۔
“بذل آفندی ۔۔۔۔۔
اس نے گھمبیر آواز میں کہا۔۔۔۔
اس نے ابھی بھی اس کا دامن تھام رکھا تھا۔۔۔۔
وہ دامن چھوڑے پلٹا۔۔۔۔۔
“سنیں “وہ بے قراری سے پکاری ۔۔۔۔
مقابل نے وہیں کھڑے بنا پلٹے چہرے کا رخ موڑے ترچھی نگاہوں سے پیچھے دیکھا۔۔۔۔
( اختتام)