Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode (Watching)
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
مار کے لیے خواہ کوڑا استمعال کیا جائے یا کوئ لکڑی ۔۔دونوں ہی اوسط درجے کا ہونا چاہیے ۔۔نہ بہت موٹا نہ پتلہ اور نہ سخت اور نہ نرم ۔۔۔موطا میں امام۔مالک کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے ضرب تازیانہ کے لیے کوڑا طلب کیا اور وہ کثرت سے استمعال ہونے کے سبب کمزور ہوچکا تھا ۔۔آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔فوق ھذا ۔(اس سے زیادہ سخت لاو ) پھر کوڑا لایا گیا وہ استمعال سے نرم نہ تھا ۔۔۔آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔دونوں کے درمیان لاو ۔۔۔پھر ایسا کوڑا آیا جو سواری میں استمعال ہوچکا تھا ۔۔اس سے آپ نے ضر ب لگوائ ۔۔۔اسی سے ملتی جلتی روایت ابو عثمان الجہدی نے حضرت عمر ؓ کے متعلق بھی بیان کی ہے ۔۔وہ اوسط درجے کا کوڑا استمعال کرتے تھے ۔۔احکام القران جصاص ۔۔ج٣ ص 322…….گرہ لگا کوڑا یا دوشاخہ سہ شاخہ بھی استمعال کرنا ممنوع ہے ۔۔۔۔
مار بھی اوسط درجے کی ہونی چاہیے ۔۔حضرت عمر مارنے والے کو ہدایت کرتے تھے ” اسطرح مار کہ تیری بغل نہ کھلے ” یعنی پوری طاقت سے ہاتھ کو تان کر نہ مار ۔۔(احکام القرآن ابن عربی ج2 ص84 ….اور سارے فقہا ءکرام اس بات پر متفق ہیں کہ ضرب مبرح نہ ہو یعنی زخم ڈالنے والی ۔۔۔۔۔۔ایک ہی جگہ نہیں مارنا چاہیے بلکہ مار کو پورے جسم پر پھیلانا چاہیے ۔۔منہ ، شرمگاہ کو (امام ابو حنیفہ کے نزدیک سر کو بھی ) بچالینا چاہیے ۔۔
ابو داود میں حدیث پاک ہے ۔۔۔” جب تم میں سے کوئ مارے تو منہ پر نہ مارے “
ایک اور روایت ہے حضرت علی ؓنے ایک شخص کو کوڑا لگواتے ہوئے وقت فرمایا ۔۔ہرعضو کو اس کا حق دے اور صرف منہ اور شرمگاہ بچا لے ۔۔۔(احکام القرآن جصاص ج3ص 321)
اس طرح مرد کو کھڑا کرکے اور عورت کو بیٹھا کر مارنا چاہیے ۔۔۔
کیا ایسا نہیں ہوسکتا ہم سزا کے بجائے کوئ فدیہ دے لیں ۔۔بہروز نے سوال کیا ۔لاونج میں سناٹا تھا سب توجہ سے حشمت کو سن رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں اس کی سزا ہی مقرر ہے ۔۔۔یہ گناہ انسان کو بے حیائ کی طرف موڑ لیتا ہے اور انسان آہستہ دین سے دور کفر کے نزدیک ہوجاتا ہے ۔۔اس لیے پہلے اس جرم کی سرسری پھر حتمی سزا آئ ۔۔تاکہ لوگ عبرت کریں اور اس بے حیائ سے دور رہے ۔۔۔اس ضمن میں ایک روایت موجود ہے ۔۔جو بخاری ، نسائ ، ترمذی ، ابن ماجہ اور امام احمد نے نقل کیا ہے ۔۔۔حضرت ابو ہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے ۔۔۔۔۔۔۔دو اعرابی نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لائے ۔۔۔ایک نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے گھر اجرت پر کام کرتا تھا ، وہ اس کی بیوی سے ملوث ہوگیا ۔۔میں نے اس کو سو بکریاں اور ایک کینیز دے کر راضی کرلیا ۔مگر ایک اہل علم نے بتایا کہ کتاب اللّہ کے خلاف ہے ۔۔۔اور دوسرے نے بھی کہا کہ آپ کتاب اللّہ کے مطابق فیصلہ کردیں ۔۔۔۔حضور اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں اللّہ پاک کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروگا ۔۔۔۔۔بکریاں اور کینیز تجھے واپس ۔۔تیرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ۔۔۔پھر آپ ؐ نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو کہا اے انیس جا کر اس کی بیوی سے پوچھ ۔۔۔اگر وہ اعتراف کرے تو اسے رجم کردینا ۔۔ چنانچہ اس کے اعتراف کے بعد وہ رجم کردگئ ۔۔۔
جلاوطن کی سزا قاضی چاہے دے یا نہ دے ۔۔۔ ماشاء اللّہ غزنوی اب گناہوں سے توبہ کرچکا ہے ۔۔تو مجھے یقین ہے جلاوطنی کی سزا نہیں ملے گی ۔۔۔
کوڑے کے ساتھ رجم نہ شروع کردیں ۔۔۔شہزاد نے بھی سوال کیا ۔۔
نہیں سنت میں کہیں ثابت نہیں ہوا کہ یہ دونوں سزائیں ساتھ دی گئ ہوں ۔۔۔شادی شدہ مرد عورت رجم اور غیر شادی شدہ مرد و عورت ضرب تازیانہ ۔۔۔
ایک واقعہ ہے اس میں شخص نے نہیں بتایا شادی شدہ ہے ۔۔جب تازیانے کی سزا ہوگئ اس کے بعد پتہ چلا تو پھر رجم کیا گیا ۔ اس کے علاوہ کوئ مثال نہیں ۔۔کسی صحابہ کے دور میں بھی ۔۔۔یہ تو ہمارے ملک کے جرگہ کا یا قانون ہے کہ بس ہر ایک کو رجم کی سزا دے دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔
لڑکی کا نام نہیں بتائیں گے اور کوئ گواہ بھی نہیں تو پھر سزا کیسےدی جائے گی ۔۔شمروز نے پوچھا ۔۔۔
ہاں اگر کسی وجوہات کی بناء پر لڑکی کانام نہ بتایا جائے تو ہرج نہیں کیونکہ یہ زنا بالجبر ہے اور اسلام عزتوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے ۔۔نام لینے سے بچی کی زندگی میں فرق پڑ سکتا ہے ۔۔اس صورت میں غزنوی کا اقرار کافی ہے ۔۔چونکہ صرف غزنوی کے اقرار پر سزا دی جارہی ہے تو مار کی ابتداء قاضی کرے گا ۔میں نے پڑھا ہے ٹھیک سے یاد نہیں آرہا مگر میں بتا دیتا ہوں ۔۔۔۔حضرت علی کا واقعہ ہے . ایک شخص شراحہ کے اقرار پر رجم کا فیصلہ ہوا ۔۔حضرت علی نے فرمایا اگر اس کے جرم کا کوئ اور گواہ ہوتا تو اسی کو مار کی ابتداء کرنی چاہیے تھی ۔۔مگر اس کو اقرار کی بنا پر سزا دی جا رہی ہے تو ابتدا میں خود کرونگا ۔۔۔۔۔۔۔حنفیہ کےنزدیک ایسا کرنا واجب ہے ۔۔شافیعہ اس کو واجب نہیں مانتے ۔۔مگر سب کے نزدیک اولی یہی ہے ۔۔۔۔
بھائ صاحب آپ سے بات کی ۔۔کافی سکون ملا ۔۔بہت دن بعد صاحب علم سے بات کی ۔شمروز اورنگ زئ نے کہا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاور آفریدی کو جرگہ میں کافی عرصے بعد بلایا گیا ۔۔شجاع کے جانے اور لاروش کی حالت کے پیش نظر جرگہ کے فیصلوں میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا ۔۔لیکن ایمرجنسی بلاوے پر پہنچے تو ۔۔تو ارد گرد گاوں کے معززین بھی موجود تھے ۔۔۔
السلام علیکم اہلیان محفل ۔۔۔
بلند آواز میں سلام کرتے سب سے مصافحہ کیا ۔۔۔جرگہ کے سردار سے پوچھا ۔۔۔اتنی جلدی جرگہ بلایا کون سا مسئلہ تھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں مجھے خود شمروز کا فون آیا تھا اس نے ہی سب کو دعوت دی ہے ۔۔۔
زاور اچھنبے میں پڑے ۔۔ایسا کیا مسئلہ ہوسکتا ہے ۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد شمروز اورنگ زئ ،غزنوی اور ایک صاحب اور تشریف لائےسلام دعا کے بعد حشمت کا تعارف اور استفسار پر مدعا پیش کیا اور سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔۔زاور تو کچھ بھی بولنے کے لائق نہیں رہے ۔۔کیا ایسے بھی کوئ تائب ہوتا ہے ۔۔کیا ایسے بھی کوئ محبت کے لیے قربانی دے سکتا ہے ۔۔کیا ایسے بھی آخرت کی لو لگ سکتی ہے ۔۔۔۔ان گنت سوال زہن میں گردش ہوئے ۔۔۔۔۔۔
میرا بیٹا غزنوی ایک سال قبل جوانی کے جوش میں ایک سنگین غلطی کا مرتکب ہوا ہے ۔۔۔اور آخرت میں سخت سزا سے بچنے کے لیے دنیاوی سزا چاہتا ہے ۔۔۔
کیا گناہ کیا ہے ۔۔۔۔جرگہ کے فرد نے سوال کیا ۔۔۔
یونی ورسٹی کی ایک لڑکی کا ساتھ زیادتی ۔۔۔۔لڑکی کا نام اس لیے نہیں۔لیا جا رہا کیونکہ وہ بے گناہ تھی اسے اغوا کیا تھا ۔۔اب اس کی شادی ایک معزز فرد سے ہوگئ ہے ۔۔۔لیکن چونکہ میرا بیٹا گناہ گار ہے ۔۔ہمارے علاقوں میں عدالت سے زیادہ جرگہ چلتا ہے تو اسلامی تعلیمات کے مطابق اس کو سزا دی جائے ۔۔۔۔اور اسلامی سزا کیا ہے وہ حشمت صاحب بتائیں گے ۔۔حشمت نے پھر شروع سے وہی تفصیل بیان کی ۔۔اور سمجھایا ۔۔۔
کچھ دیر خاموشی چھا گئ ۔۔
غزنوی تم اقرار کرتے ہو ۔ہاں میں اقرار کرتا ہوں میں زانی ہو ۔۔۔
ہوش وحواس میں اقرار کرتے ہو ۔۔ہاں میں ہوش وحواس میں اقرار کرتا ہوں ۔۔۔
بغیر کسی دباو کے اقرار کرتے ہو ۔۔۔ہاں بغیر کسی دباو کے اقرار کرتا ہوں میں زانی ہو ۔۔۔
سوچ سمجھ کر سچ میں اقرار کرتے ہو ۔۔ہاں میں سوچ و سمجھ کے سچ میں اقرار کرتا ہوں میں زانی ہوں ۔۔۔ندامت سے جھکا چہرہ ۔۔۔خاموشی سے بہتی آنکھیں ۔۔۔سب ہی کا جی چاہا معافی دے دیں ۔۔لیکن حکم ربانی کی اہمیت افضل ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔پھر جس طرح یہ روشن چہرہ والا نوجوان اقرار کرتا ہے ۔۔تو سزا پھر جلد دی جائے گی ۔۔۔کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے ہے کب آجائے ۔۔بے شک اس کی نیک نیتی اسے بخشوانے میں مدد دے سکتی ہے ۔۔۔
کل تین بجے کا وقت مقرر ہے ۔۔سب اپنے گاوں کے نوجوان طبقے کے ساتھ پہاڑی کے سائیڈ میدان میں آجانا ۔۔۔
زاور حویلی آئے ۔۔ان کے حویلی پہنچتے ہی شمروز کا فون آیا ۔۔۔
میرا بیٹا کل شرط پوری کرنے جا رہا ہے ۔۔۔گو کہ اس کی نیت شادی نہیں لاروش کی معافی ہے ۔۔۔میری درخواست ہے آپ سے اسے دونوں بآسانی مل جائے ۔۔۔زخموں سے چورہوگا میرا بچہ اور بیوی سے بہترین تیماداری کوئ نہیں کرسکتا ۔۔۔ایک باپ کی التجا ہے ۔۔سزا کے چند دن بعد اگر لاروش غزنوی کا نکاح اور سادگی سے رخصتی ہوجائے تو یہ باپ احسان نہیں بھولے گا ۔۔۔۔اللّہ حافظ ۔۔اپنی بات مکمل کرنے کے بعد زاور کی کچھ بھی سنے بغیر فون بند کیا ۔۔
کیا ہوا لالہ جرگہ کیوں بلایا تھا ۔۔۔اکبر نے لاونج میں گم سم بیٹھے زاور سےپوچھا ۔۔۔
گل اور شادان کو بھی بلاو ۔۔۔ملازم کا حکم دیا ۔۔
ان کے آنے پر سارا ماجرا اور شمروز کا فون بتایا ۔۔۔۔
شکریہ اس بچے کا ۔۔میری بیٹی کا نام نہیں لیا ۔۔۔اللّہ اسے کل ہمت وطاقت دے ۔۔۔گل زریں نے دعا دی ۔۔۔
پرسوں فون آیا تھا معافی کا لیکن لاروش نے سختی سے منع کردیا ۔۔۔اگر وہ معافی دے دیتی تو آج جرگہ نہیں ہوتا ۔۔شادان بھی افسردہ ہوا ۔۔
خیر کل چلنا ہے ابھی لاروش کو کچھ نہیں بتاو ۔۔۔۔
۔……………………………………..
جس نے بھی سنا حیرت میں پڑا ۔۔آج کے دور میں خودسے سزا کون لیتا ہے ۔۔عورتوں کا بھی دل کیا جا کر دیکھیں لیکن ان کا جانا ممنوع تھا ۔۔۔پہاڑی کے میدان میں لگتا ہے آج آس پاس کے گاوں۔کے سارے مردآگئے ۔۔پیر رکھنے کی جگہ نہ تھی ۔۔کچھ دور بین لیے پہاڑ پر ہی چڑ ھ گئے ۔۔کچھ درختوں پر ۔۔۔اشتیاق ایسا تھا جیسے سزا نہ دیکھنے آئے ہوں کوئ کرکٹ میچ ہو یا کوئ سیاسی جلسہ ۔۔۔بھانت بھانت کی باتوں سے شور گونج رہا ہے ۔۔
ابھی مار دیکھی نہیں نہ اسلیے چہروں پر جوش ہے ۔۔۔میدان میں جرگہ کے فرد اور غزنوی آیا تو پل بھر کو سناٹا چھا گیا ۔۔۔پھر ہلکی آواز میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئ ۔۔کوئ تعریف تو کوئ افسوس کرنے لگا ۔۔۔سب کو خاموش رہنا کا کہا گیا ۔۔۔
ایک بار پھر غزنوی سے گواہی لی ۔۔۔مار کا آغاز سردار نے کیا ۔۔چند لوگوں کی باری لگائ جس میں حشمت صاحب بھی تھے ۔۔۔
باری باری آتے گئے تازیانے لگاتے گئے ۔۔جب مسلسل چند ہی جگہوں پر کوڑا پڑے گا تو خون رسنا شروع ہوجائے گا ۔۔۔ہر کوڑے پر غزنوی کراہ جاتا ۔بیس کوڑوں کے بعد تو ایسا لگنے لگا جسم میں جان نہیں ۔۔۔آنکھوں سے تکلیف سے آنسو نکلنے لگے مگر ہمت و حوصلے سے کھڑا رہا ۔۔جو مار رہے تھے مارنے کے بعد آکر نم آنکھوں سے دوسروں کو دیکھنے لگتے ۔۔آہستہ آہستہ مجمعے میں بھی ڈر جاگنے لگا ۔۔کچھ کے جسم پر سوچ کر کپکپی چڑھ گئ ۔۔کوئ باقاعدہ رونے لگ جاتا ۔۔کسی کے پسینے چھوٹنے لگے ۔۔۔کچھ کی آنکھوں کو لگا اب یہ منظر شاید نہ بھولیں ۔۔کچھ التجا کرنے لگے روک دو ۔۔مجمعے میں بار بار اعلان ہوتا گیا یہ ہے زنا کا انجام دنیا کا ساتھ آخرت کا بھی بتاتے گئے ۔۔تو جو زبانیں روکنے کی التجا کر نے لگی تھی خاموش ہوگئ ۔۔۔ساٹھویں ضرب پر تکلیف کی شدت سے غزنوی گر گیا ۔۔قریب کھڑا شادان اور عیسی دوڑ کر پاس آئے ۔۔صرف پانی پلایا ۔۔۔۔تھوڑی دیر سزا روک دی گئ ۔۔۔۔۔لیکن نماز عصر سے پہلے سزا مکمل کرنی تھی ۔۔اس لیے ہوش دلایا ۔۔پوچھا باقیی سزا کیا کل دیں ۔۔۔۔لیکن غزنوی نے منع کردیا ۔۔درخت کے سہارے سے کھڑا کیا ۔۔۔پھر حالت کے مد نظر ہلکے کوڑے مارے ۔۔جسم نیل و نیل ہوگیا ۔۔احتیاط کے باوجود زخم بننے لگے ۔۔اس لیے اگر ہلکا بھی مارا تو تیز ہی لگنا ہے ۔۔۔پھر بالاخر سو کوڑے مکمل ہوئے ۔۔غزنوی ادھر گرا شمروز نے دل پکڑا ۔۔دونوں باپ بیٹے کو ہوسپٹل لے گئے ۔۔۔ایمبولنس میں ابتدائ ٹریمنٹ شروع کی ۔۔۔۔۔
سکندر کے لیپ ٹاپ سے شروع سے لیکر آخر تک کی حویلی میں کاروائ دیکھتے ہوئے ۔۔مہر بانو کئ بار غشی میں گئیں ۔۔۔حویلی کی سب ہی عورتیں روتی تھیں جب تکلیف سے غزنوی کی آواز بلند ہوتی ۔۔۔گل جاناں کی ہمت بیس کوڑوں کے بعد ہی ٹوٹ گئ جا نماز بچھائے ۔۔سب کے گناہوں کی معافی مانگنے لگی ۔۔۔۔۔ہدایت کی دعا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔
شادان نے گھر آکر موبائل سے بنائ گئ تھوڑی وڈیو لاروش کو دکھا ئ ۔۔۔اسے یقین تھا غزنوی سزا کبھی نہیں لے گا ۔ اس کا دل بھی یہ مناظر دیکھ نہ سکا آنکھیں رو پڑی اور زباں سے بے ساختہ نکلا ۔۔غزنوی میں نے دونوں جہاں میں تمہیں معاف کیا ۔۔۔۔میرا اللّہ بھی میرے ساتھ کی گئ تمہاری بد سلوکی کو معاف کرے ۔۔۔آمین ۔۔لالہ آپ گواہ رہو میں نے معاف کردیا ۔۔۔شادان نے سر ہلا کے لاروش کو گلے لگایا ۔۔
لاروش تو شرط بھول گئ تھی ۔۔یاد ہی نہ تھا کیاکہا ۔۔۔
سزا کےسات دن بعد شمروز کے دوبارہ فون کرنے پر دو دن بعد نکاح و رخصتی طے کی گئ ۔۔۔
بیٹا شمروز کا فون آیا تھا ۔۔۔۔زاور نے خود بات کرنے کی ٹھانی ۔۔
کیوں ۔۔لاروش کے دل میں انہونی جاگی ۔۔۔۔۔
تمہاری شرط مکمل ہوگئ ۔۔ غزنوی نے سزا پوری لے لی ۔۔تمہارا نام بھی درمیان میں نہیں آیا ۔۔۔تم نے کہا تھا غزنوی اگر شرط پوری کرے گا تو تم شادی کرلوگی۔۔
بابا مجھے معاف کردیں میں شادی نہیں کرسکتی ۔۔۔
تم چاہتی ہو اب میں شمروز کے آگے جھوٹا پڑ جاوں۔شرط پوری ہونے کے بعد ہی میں نے ہاں کہہ دی۔۔۔
۔میں نے پرسوں کا دن نکاح و رخصتی کے لیے طے کرلیا ۔۔شجاع کو گئے ہوئے چار ماہ سے زیادہ ہوگئے ۔۔بیٹا اس کو بھولنا ممکن نہیں بس تھوڑی سی جگہ غزنوی کو بھی دے دو ۔۔۔ویسے بھی یوشع تمہارے ساتھ ہی جائے گا ۔ اس لیے یوشع کا بھی کوئ بہانہ نہیں چلے گا ۔۔۔
ہم نے تم پر جبر نہیں کیا تھا ۔۔بیٹا تم نے غزنوی کے لیے ہاں کی تھی ۔۔ورنہ ہمارا دل تو وجاہت پر تھا ۔۔خیر غزنوی اچھا بن گیا ہے ۔۔تھکے قدموں سے زاور کمرے سے چلے گئے ۔۔۔
لاروش کی آنکھوں میں آنسو کی لڑی بن گئ ۔۔۔رات روتے تدبیریں بنتے گزر گئ ۔۔۔۔۔۔دن بھی ادھیڑ بن میں گزرا ۔۔دل میں حد سے زیادہ تکلیف سانس لینے میں بھی تکلیف ۔۔۔۔مورے کی تایا کی تائ کی سب کی منتیں کرلی ۔۔۔لیکن کوئ نہ مانا ۔۔ثنا بیٹے کے ولادت کے سبب نہ آسکی لیکن فون پر خود تسلی ودلاسہ دیا ۔۔لیکن دل کو قرار ہی نہ آیا ۔۔رات کو غزنوی کے گھر سے نکاح کا سرخ جوڑا آیا اور دیگر سامان آیا ۔۔۔جو لیلی دینے آئ ۔۔۔کل دوپہر میں پہن لیجیے گا ۔۔۔۔
لاروش نے سوجی نم آنکھوں سے لیلی کو دیکھا شاید وہی نجات دہندہ بن جائے ۔۔لیکن لیلی نظریں چرائے کمرے سے باہر تیزی سے چلی گئ ۔۔۔۔
تھک ہار کے لاروش نے سائیڈ پر رکھی شجاع کی تصویر نکالی ۔۔۔
اپنے ہونٹوں سے چوما ۔۔سختی سے گلے سے لگایا ۔۔۔
شجاع آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔آپ نے مجھے میرے عیبوں سمیت اپنا کر قیمتی موتی کی طرح سنبھالا ۔۔۔یہ لوگ چاہتے ہیں اس موتی کو توڑنا ۔۔کسی اور کو سجانا ۔۔۔میرے لیے ناممکن ہے ۔۔آپ ہی نے تو ایک اچھی بیوی کے فرائض بتائے تھے تو میں غزنوی کے لیے وہ فرائض کبھی اد ا نہیں کر پاونگی اور گناہ گار بن جاو نگی ۔۔یہ لوگ مجھے گناہ گار بنانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔شجاع میرا دل آپ سے عشق کرتا ہے اور جو عشق کرلے وہ دوبارہ کسی کا نہیں بنتا ہے ۔۔محبت میں گنجائش ہوتی ہے عشق میں نہیں ۔۔۔۔کیسے سمجھاوں سب کو ۔۔۔میرا دل پتہ ہے کیا کہہ رہا ہے میں بہت جلد آپ سے ملنے والی ہوں ۔۔میرا استقبال کی تیاری کریں ۔۔اور ہمارے بچے کی مجھے فکر نہیں ۔۔اس لیے اسے سب بہت پیار کرتے ہیں ۔۔۔اور میں نے شہیر کو گود دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔۔۔
شجاع سے باتیں کرتی پرسکون سو گئ ۔۔۔ صبح نماز پڑھی ۔۔یوشع کو بہت پیار کیا ۔۔۔۔شادان سے کہا مجھے شجاع کی قبر پرلے چلو ۔۔۔
شادان نے بات مان لی ۔۔۔۔وہاں پر پھول برسائے ۔۔فاتحہ پڑھی ۔۔اپنے محب کے پاس آکر دل پرسکون ہوا۔۔۔حویلی واپس آئ ۔۔۔شہیر کو میسج سینڈ کردیا ۔۔۔ ۔۔
گل زریں نے کہا تیار ہوجاو ۔۔۔اور سوٹ اٹھا کے کھڑی ہونگئ ۔۔۔
جی مورے ۔۔آواز کانپی ۔۔۔لرزتے ہاتھوں سے سوٹ تھاما ۔۔۔دل میں شدت سے شجاع سے دور کا خیال آیا بس وہی ڈر جان لیوا ہوا ۔۔۔لاروش کی سانس اکھڑ گئ ۔۔سوٹ ہاتھ سے پھسلا ۔۔
لاروش ۔۔۔کیا ہوا میری بچی ۔۔گل چیخی اور بدحواس لاروش کی طرف بڑھی ۔۔۔ان ہیلر کہاں ہے ۔۔۔۔شادان شادان زور زور سے چلائ ۔۔۔
اور ان ہیلر الماری میں نہ جانے کس کونے میں پڑا تھا ۔۔۔۔
شادان نے مصنوعی تنفس دینا چاہا تو لاروش نے دل پکڑ کرلیا ۔۔۔خوف کی تیز لہر نے شادان کو لپیٹ لیا ۔۔کیونکہ ایک دم لاروش ساکت ہوگئ ۔۔۔پہلے بھی اٹیک پڑے بڑی دیر دیر تک سانس رکی لیکن اس دفعہ چند منٹ ہی جان لے گئے ۔۔۔۔۔۔مصنوعی تنفس بھی کام نہ آیا ۔۔۔۔زہن پر دباو اتنا تھا سانس برداشت ہی نہ کرسکی ۔۔روح اپنے اصل کی طرف گامزن ہوگئ ۔۔۔
غزنوی نے زخموں کے سبب سادہ شلوار قیمض میں تیار ہوگیا تھا ۔۔کل رات سے طبیعت بے چین تھی ۔ گل جاناں کو بتایا وہ سمجھی زخموں میں تکلیف ہوگی اس لیے نیند کی گولی دے دی ۔۔۔نیند کی ٹیبلیٹ کھانے کے بعد بھی بے چینی رہی ۔۔۔۔اور قبل از وقت آنکھ کھلی ۔۔ہمت سے اٹھا وضو کیے اپنے اور لاروش کے لیے بہتری کی دعا کی ۔۔۔۔فجر میں گل جاناں اٹھانے آئ تو حیرت زدہ ہوئ ۔۔۔پھر بارہ بجے تک غزنوی کے پاس رہی ۔۔۔غزنوی کی بے چینی بھانپ لی ۔۔۔
لاروش سے ملنے کی جلدی ہے آپ کے دل کو اس لیے بے چین ہورہا ہے ۔۔فکر والی بات نہیں ۔۔ماہرانہ تجزیہ دیا ۔۔غزنوی پھیکا ہنس دیا ۔۔
شاید ہاں شاید نہ ۔۔۔۔۔ان لوگوں نے لاروش سے میری شادی کے لیے کوئ بوجھ تو نہ ڈالا ہوگا ۔۔
لالہ جیسے بھی راضی کیا اگر وہ یہاں آجائیں گی تو آپ انہیں اتنی محبت دینا وہ سب بھول جائیں ۔۔
ان شاء اللّہ میری کوشش ہوگی ۔۔۔۔غزنوی لالہ پلوشہ ورشہ بھی آگیں مگر غزنوی کا دل بدستور انہونی کا اشارہ کرتا رہا ہے بالاخر فون آگیا ۔۔جس میں لاروش کی جدائ کی تصدیق کردی ۔۔۔۔غزنوی کا دل خوب رویا مگر آنکھیں جامد رہی ۔۔۔نڈھال ہوگیا ۔۔۔
آہوں سسکیوں میں شجاع کے برابر لاروش کو سپرد خاک کردیا گیا ۔۔دو محبت کرنے والے ہمیشہ کے لیے ایک ہوگئے ۔۔۔
______________________________حال
مینیزہ کو ہوسپٹل سے اورنگ زئ حویلی لے آئے ۔۔۔جیسے بھی اس وقت ممکن ہوا پرتپاک استقبال کیا ۔۔۔
رات غزنوی ہوسپٹل میں رکا رہا ۔۔۔شمروز نے اصرار نہیں کیا ۔۔دولہا دلہن دونوں کو موقع دیا گیا ۔۔۔
دوپہر میں گل جاناں کی بارات تھی ۔۔۔خوب دھوم دھڑکے سے بارات آئ ۔۔شمروز کی اجازت سے نکاح ہوا پرتکلف کھانے کے بعد دعاوں کے سنگ رخصت ہوئ ۔۔۔
آفریدی حویلی میں بشری اور ماہ وش نے خیر مقدم کیا ۔۔ صدقے کے لیے سات بکرے لائے گئے ۔۔۔گل جاناں ان کو دیکھ کر ڈری ۔۔
جاناں ان پر ہاتھ پہیروں ۔۔۔۔نہیں میری ان سے نہیں بنتی ۔۔یہ کہہ کر گل جاناں پیچھے ہوئ ۔۔۔۔
تمہیں ان سے بنانی بھی نہیں ہے ۔۔یہ شادان نہیں بکرے ہیں ۔۔۔وجاہت نے برجستہ کہا ۔۔۔سارے ہنس پڑے ۔۔۔
شادان نے وجاہت کو گھورا ۔۔۔
تنگ مت کرو میری بیٹی کو چلو ۔۔۔شادان تم ہاتھ پکڑ لو جاناں کا ۔۔۔۔گل زریں نے مشورہ دیا ۔۔
شادان نے جھٹ پکڑ لیا ۔۔شہیر نے سیٹی بجائ ۔۔واہ لالہ کیا تیزی تھی ۔۔ساتھ ہی داد دی ۔۔۔
بھائ میرے شہرکی بھی ایک رسم ہوگی ۔۔۔ماہ وش حق سے بولی ۔۔
جو حکم بہنا ۔۔۔۔۔شادان نے سر خم کیا ۔۔۔
ہتھیلی پر رکھ کر دولہا دلہن مٹھائ کھلائیں گے ۔۔۔ماہ وش نے رول بتایا ۔۔
پھر شور شرابے ہوٹنگ میں مٹھائ کھلانے کی رسم ہوئ ۔۔۔۔شادان نے خوش دلی سے جاناں کو سکون سے کھلائ مگر جاناں کی باری میں وش نے بڑا تنگ کیا ۔۔جیسے شادان مٹھائ کھانے جھکتا ۔۔وش جاناں کا ہاتھ کھینچ لیتی ۔۔لالہ تین بار کھالیا کافی ہے رہنے دو وش تنگ کر رہی ہے ۔۔۔لیکن شادان نے بھی ڈھیٹ بنے سات بار ہی مٹھائ کھا ئ ۔۔۔۔
کمرے میں جانے سے پہلے کمرہ روکائ کہ لیے شہیر وجاہت کھڑے ہوگئے ۔۔
کیا مسئلہ ہے یہ ہمارا حق ہے ۔۔ وش نے آستین چڑھائ ۔۔اور میدان میں کودی ۔۔
بس کرو صبح سے میرے لالہ کو یر غمال بنایا ہوا ہے ۔۔رسموں کے نام پر لوٹا جا رہا ہے ۔۔شہیر نے بھی کمر کس لی ۔۔مقابلے کے لیے تن کر کھڑا ہوا
ہاں تو ہمارا حق ہے ۔۔۔
تو ہمارا بھی حق ہے ۔۔۔
جی نہیں یہ خالص بہنوں کی رسم ہے ۔۔۔
آجکل کچھ خالص نہیں ۔۔۔۔دونوں باز نہ آئے تکرار بڑھ گئ ۔۔۔
بس بہت ہوگیا ۔۔۔شادان ہی دھاڑا ۔۔۔میں کسی کو کچھ نہیں دونگا ۔۔
اب دونوں پارٹیاں ایک ہوگئ ۔۔۔زاور کی مداخلت پر شادان کو سکھ ملا برابری دس دس ہزار چاروں کو دیے ۔۔اور ہمارے بچوں کا وجاہت بولا ۔۔۔
اپنے پوتوں کا بھی لے لو ساتھ ۔۔شادان کلسا ۔۔۔
نہیں یار بس معاف کیا تم بچوں کا دے دو ۔۔۔
شادان نے پورا پرس پکڑایا اور ہاتھ جوڑے مجھے معاف کرو ۔۔۔بالاخر کمرے میں جانا نصیب ہوا ۔۔۔۔
گل جاناں کا دل زور زور سے دھڑکہ ۔۔حیا سے آنکھیں بوجھل ہوئیں ۔۔۔
شادان نے آکر سلام کیا ۔۔گل ایزی رہے ۔۔بات شروع کی ۔۔
اچھا کیا غزنوی نے شادی کرلی ورنہ میں دو سال بھی انتظار نہ کرتا ۔۔
بس پھر کیا تھا ۔۔۔جاناں کو بات بری گی ۔۔شرماتی دلہن بننے پر تین حرف بھیجتی گھونگھٹ الٹا اور تیکھے تیور لیے پوچھا ۔۔۔
نہ کیا کرتے آپ اس پر روشنی ڈالیں گے ۔مجھے پتہ تھا آپ دوسری لے آتے مگر یہ کیا دو سال میں ہی ۔۔۔۔
میں نے یہ کب کہا ۔۔اشتیاق سے محبت بھری نظروں سے دلہن بنی جاناں کو دیکھا ۔۔یہی تو چاہا تھا ۔۔۔اس طرح حق سے دیکھے ۔۔۔۔
ابھی کہا نہ ۔۔جاناں الجھی ۔۔
پوری بات سنی نہیں اور بدگمانی پال لی ۔۔۔آئندہ پہلے پوری بات سننا ۔۔۔میں یہ کہہ رہا تھا دوسال انتظار نہیں کرتا بلکہ سچ مچ اغوا کر لیتا ۔۔۔۔
جاناں جھینپ گئ ۔۔اب جبکے میں نے منہ دیکھ لیا تو منہ دکھائ کی تو ضرورت ہی نہیں ۔۔یہ گفٹ میں پھر کبھی دے دونگا ۔۔۔سائیڈ دراز سے ایک جیولری بکس نکا لکر شادان نے کہا
جاناں کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔آپ کنجوس بھی ہیں ۔۔۔۔منہ بسورا کر رخ بدل لیا ۔۔۔
ارے یار ناراض نہ ہو ۔۔۔تمہارا ہی ہے یہ پکڑو ۔۔بلکہ میں پہناتا ہوں ۔۔اپنے نام کی زنجیر ۔۔۔۔گولڈ کی بنے ہوئ موتیوں کی مالا گل کے گلے مں ڈالی ۔۔۔اور محبت سے گل جاناں کی پیشانی چومی ۔۔
شکریہ جاناں میری زندگی کو بہار بنانے کے لیے ۔۔۔۔
قسمت بھی اس خوبصورت ملن پر مسکرائ ۔۔۔
___________________________
گل جاناں کی رخصتی کے بعد غزنوی نے بھی اپنے مطلوبہ مقام کی طرف قدم بڑھا لیے ۔۔جہاں ہر مہینے باقاعدگی سے جا کر فاتحہ خوانی اور خیرات کرتا تھا ۔۔۔لاروش اور شجاع کی قبر پر
۔۔۔
رات گئے واپسی ہوئ ۔آج ہی جاناں کےے ساتھ ولیمہ کی سنت ادا کی گئ تھی ۔شمروز اور مہر بانو لاونج میں بیٹھے تھے ۔۔غزنوی بیٹا الحمد للّہ سمجھدار ہو اپنی نئ زندگی کی شروعات کرو مینیزہ بیٹی کو انتظار مت کروانا ۔۔۔۔شمروز نے سمجھایا ۔۔
یہ سیٹ منہ دکھائ کے لیے ہیں ۔۔۔مہربانو بولی
میں لے آیا ہوں ۔۔۔غزنوی کے بتاتے ہی دونوں کے چہرے کھل اٹھے ۔۔جاو پھر ۔۔۔
روم میں ہلکی روشنی تھی غزنوی نے آکر لائیٹ کھولی ۔۔۔بیڈ پر ہی مینیزہ سوتی نظر آئ ۔۔آدھا چہرہ ڈھکا تھا ۔۔غزنوی نے کبھی مینیزہ کو غور سے نہ دیکھا ۔۔بیماری اور جاناں کی پریشانی میں الجھا رہااس لیے دھیان نہ دیا ۔غزنوی نے نیند سے جگانا مناسب نہ سمجھا ۔۔لیکن مینیزہ کمرےمیں دوسرے فرد کی آہٹ سے ہوش میں آگئ ۔۔ہڑ بڑا کر اٹھی اور سلام کیا ۔۔۔صوفے پر سوچوں میں الجھا غزنوی چونکا ۔۔سلام کا جواب دیا صوفے پر بیٹھنے کا ارادہ ترک کیے مینیزہ کی طرف بڑھا ۔۔۔
بیڈ پر بیٹھا ۔۔۔چند منٹ کےتوقف کے بعد بولا ۔۔۔آپ میرا ماضی جانتی ہیں ۔۔
اور آپ میرا ۔۔۔مینیزہ نے بھی بے ساختہ کہا ۔۔
ہو ۔۔۔یقیناً اللّہ پاک نے ہمیں ایک دوسرے کے لیے ہی بنایا ہوگا اس لیے بھٹک کر مل گئے ۔۔۔میری پوری کوشش ہوگی ایمانداری اور محبت کے ساتھ آپ کے حقوق ادا کرو ۔اگر کوئ کوتاہی ہوجائے تو ناراض ہونے سے پہلے میری کوتاہی مجھے بتا دینا ۔۔دل میں کوئ بدگمانی نہ پالنا ۔۔جہاں بھی جو بھی شکوہ ہو کرلینا ۔۔بد گمانیاں رشتے میں دارڑ کا سبب بنتی ہیں ۔۔۔اور لوگوں کو بتاتے بنانے کا موقع مل جاتا ہے ۔۔۔میری ایک چھوٹی سی درخواست ہے میرے دل کے ایک کونے میں لاروش کو رہنے دینا ۔۔۔غزنوی نے التجا کی ۔۔
جی لیکن میں آپ کو یقین دلاتی ہوں میرے دل میں اب کوئ نہیں ہے ۔۔۔اور مجھے لاروش سے کوئ فر ق نہیں پڑھے گا محبت میں وسعت ہوتی ہے ۔۔اپنے محبوب کی خوشی ۔۔۔نکاح ہوتے ہی آپ کے پاس میرے تمام اختیار آگئے ۔۔۔مجھے یقین ہے بہت جلد آپ میرے صرف شوہر نہیں محبوب شوہر ہونگے ۔۔۔۔۔
کیا میں آپ کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں ۔۔غزنوی نے اجازت چاہی ۔۔
آپ پورا حق رکھتے ہیں ۔۔۔
غزنوی نے گھونگھٹ الٹ دیا اور چند پل اس ماہتاب چہرے کو دیکھ کر حیران ہوا ۔۔۔اللّہ پاک نے خوب سیرت کے ساتھ خوبصورت بیوی عطا کی ۔۔۔۔غزنوی نے جیسا آئیڈیل چاہا پہلے بھی ملا اور اب بھی تقریباً ملتا جلتا ملا ۔۔۔
کالی آنکھیں ۔۔دونوں گال پر پڑتا ڈمپل ۔۔ لمبے گھنے بال کالے نہیں گولڈن تھے قد بھی ٹھیک تھا ۔۔۔غزنوی کی دل میں لاروش کی یاد چمکی ۔۔ دھیان کا دھاگہ مینیزہ کی سمت کیا ۔۔
ماشاء اللّہ آپ بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔یہ آپ کا گفٹ ۔۔۔۔پیارے سے کنگن مینیزہ پہنائے ۔۔شب ِ زفاف کی دعا پڑھی ۔۔اور پھر ایک دوسرے کا حق ادا کیا ۔۔
غزنوی نے مینیزہ کا ساتھ اللّہ کی رضا کے لیے دل سے قبول کیا ۔۔۔اور لاروش کو دل کے نہاں خانوں میں سے ایک خانے میں چھپا لیا ۔۔اور آہستہ آہستہ یہ خانہ بھی مینیزہ کا ہی ہوجائے گا ۔۔۔۔
اللّہ پاک نے غزنوی کو بہترین دیا ۔ لاروش بہتر تھی ۔۔لاروش کے دل پہلے ہی اللّہ پاک کے ایک شہید بندے کے عشق سے لبریز تھا ۔۔وہ بندہ بھی اللّہ کو بے حد عزیز ہے تو اس کی محبت کیوں ختم کرتا ۔۔جبکہ اب غزنوی بھی اس کے نیک بندوں میں شمار ہوتا ہے تو اسے وہ دل عطا کرے گا جو غزنوی کی محبت سے لبر یز ہوجائے ۔۔۔
اور اللّہ پاک سے بہتر عشق و محبت کوئ نہیں جانتا ۔۔اللّہ ہی عشق کے درجات جانتا ہے ۔۔انسان کا دل اللّہ ہی کے تابع ہے ۔ بس قوی بھروسہ یقین ہونا چاہیے ۔۔۔۔
تمت بالخیر ۔۔۔۔۔
