Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01

وادی سوات اور کالام کے درمیان پہاڑی سلسلوں میں کئی چھوٹے بڑے گاؤں آباد ہیں ۔۔۔کہا جاتا ہے کہ پہاڑوں میں رہنے والوں کے دل بھی پہاڑ جیسے سخت ہوتے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوتا زندگی کا نظام چلانے کے لیے توازن ہر جگہ موجود ہے پہاڑ پر رہنے والے اگر کچھ سخت ہیں تو کچھ موجود ہریالی کی طرح نرم بھی ۔۔۔۔۔۔
انہی علاقوں میں دو قبیلے اورنگ ذئ اور آفریدی بھی آباد ہیں جنہیں اللہ نے دولت ذہانت اور خوبصورتی سے بےتحاشا نوازا ہے ۔۔۔روایتیں ، تہذیبیں ، اصول پسندی اور حتی کےقانون بھی انہیں کا بنایا ہوا ہے ۔۔۔۔ایک چھوٹی سی پہاڑی ان دونوں علاقوں کی سرحد ہے جس سے آرپار جانا آسان ہے ۔۔
__________________________________
شمروز اورنگ زئ فکرسے کبھی کمرے کے دروازے پر نظر ڈالتے ہیں کبھی اپنی گھڑی پر ۔۔۔۔ایسا لگ رہا وقت تھم گیا ہے چل ہی نہ رہاہو۔ ۔۔۔ لب اللہ پاک کی بارگاہ میں محو دعا ہے ۔ ۔ ۔۔۔ دعا کیوں نہ کریں یہی تو موقع ہے کیا پتہ اس بار کرم ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔
لالہ فکر نہ کریں اللہ بہتر کرے گا ۔۔۔بہروز کو بھائی پر ترس آیا وہی کیا اس کا پورا ہی خاندان دعاگو ہے شادی کے تین سالوں میں دوبار باپ بننے کی خوشی نامکمل ہی رہی ۔۔۔دونوں بار مردہ بیٹوں کی پیدائش نے تمام ارمانوں کو خاک میں ملا دیا ۔۔۔تیسری بار پھر صاحب اولاد ہونے کی خبر سن کر کعبہ شریف میں اللہ کے دربار میں گڑگڑا کر دعا مانگی اور روضئہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جالیاں تھام کر بھی مناجات کیں۔ ۔۔۔
اوونن۔ ۔اوننا۔ ۔۔بچے کی رونے کی آواز سن کر شمریز کچھ پلوں کے بے یقینی کا عالم چھا گیا ۔۔۔مگر بدستور رونے کی آواز سے ہوش آیا ۔۔۔۔بے ساختہ جہاں کھڑے تھے وہیں سجدہ شکر ادا کیا ۔۔۔بچے کی آواز سن کر سب بھائیوں نے بھی حویلی کے وارث کے لیے خوشی کا اظہار کیا شمریز نے جلدی جلدی بچے کا صدقہ ا تارا اور پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹنے کا حکم دیا ۔۔۔۔۔۔
گل بدئ نے بچہ لا کر شمریز کو دیا ۔۔۔کیسی ہے مہر بانو ۔ ۔۔بچے کو چومتے ہوئے پوچھا۔ ۔۔۔
ماشاءاللّہ کتنا خوبصورت بچہ ہے خانا۔ ۔ اور خانی ٹھیک ہے۔شمریز کی بہن گل بدئ خوشی سے سرشار گویا ہوئ ۔۔۔بھائ مجھے اور میری بیٹیوں کو سونے کی چوڑیاں دینا ۔۔۔۔
ہاں ضرور ۔۔۔آج تو شمروز کی خوشی ہی الگ تہی جو مانگو دینے کو تیار ۔۔۔۔۔
میں آج سب گاوں والوں کے قرضے معاف کرتا ہوں ۔۔۔شہزاد اعلان کردو اور یہ بھی کے بہت جلد گاوں میں ہوسپٹل بنے گا اب کسی کو برابر گاوں جانا نہیں پڑے گا۔ ۔ ۔
لیکن بھائ بڑا خرچہ ہوگا ۔۔۔۔بہروز کو یہ فیصلہ کچھ پسند نہ آیا فورا اعتراض اٹھایا ۔۔۔۔
تم پریشان نہ ہو تمہارے حصے سے کچھ نہیں لونگا اور ویسے بھی الیکشن آرہے ہیں اس سے تم کو بھی فائدہ ہے ۔۔۔۔شمریز نے بھائ کا اعتراض رد کیا ۔۔۔۔سب کی رضا مندی سے بچہ کا نام غزنوی رکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں گاوں میں شمریز کے اعلان سے خوشی کا سما ہے تو دوسرےبرابر گاوں میں اداسی کا ڈیرہ ہے ۔۔۔۔
بدر آفریدی غم سے نڈھال ہیں ۔۔۔کچھ دیر قبل اپنی محبوب بیوی کو دفنا کر آئے تھے۔۔صرف ایک سالہ رفاقت کا ساتھ رہا ۔۔۔حویلی میں خاموشی چھائی ہے ۔۔بس وقفے وقفے سے ننھے بچہ کی رونے کی آواز گونج رہی ہے اسے بھی لگتا ہے پتہ چل گیا کہ وہ ماں جیسی نعمت سے محروم ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________________________
تم کو بچے کے خاطر دوسری شادی لازمی کرنی ہوگی ۔۔۔۔۔۔اور ماں کےبعد خالہ ہی دوسری ماں کا بہترین نعم البدل ہوتی ہے ۔۔۔
مگر بیجان زریں کے بھی کچھ ارمان ہونگے وہ کیسے ایک شادی شدہ ایک بچے کے باپ سے شادی کرلے
تم شاید بھول رہے ہو ہمارے خاندان میں باہر رشتہ نہیں کیا جاتا ،تمہارے بھائی جس نے چار کلاس کیا پڑھ لی شہر میں شادی رچا کر خاندان سے دور ہو بیٹھا اور تیسرا پھو پہی کی بیٹی سے منسوب ہے باقی خاندان میں سب چھوٹے ہیں اب تم ہی بتاؤ اس یتیم بچی کا کوی جوڑ ہے کیا ؟ اور ویسے بھی میں نے اس سے پوچھا ہے وہ راضی ہے . .
جیسے آپ کی مرضی بی جان ہار مانتے ہوئے بے بس ہوئے . . . . . .
چالیسویں کے بعد سادگی سے نکاح ہوا ،زریں نے اپنی اولاد کی طرح شادان کو پروان چڑھایا شادی کے ایک سال بعد بھی زریں کو اولاد نہ ہوئی تو اللہ کی رضا سمجھ کر شادان پر ہی خوب ممتا نچھاور کی تین سال بعد زریں پر اللہ نے کرم کیآ
آج زاوار کا دل بڑا پریشان ہے وسوسے دل میں جگہ بنا رہے ہیں چار سال پہلے اپنی بیوی کو کہو چکے تھے اب جب دل زریں کی محبت سے سرشار ہے تو کیا آج بھی اپنی بیوی کو نہ کھودیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں نہیں یا اللہ خیر کر وس وسوں سے بچتے ہوئے دعا کی
بیٹا مبارک ہو، اللہ نے رحمت سے نواز دیا اور زریں بھی ٹھیک ہے خوشیوں سے بھرپور لہجے میں بی جان بو لی
اللہ کا شکر ادا کرتے بیٹی کو زاور نے گود میں لیا گود میں آتے ہیں بچی ٹکر ٹکر باپ کی شکل تکنے لگی . .
یہ کیا بی جان کالی آنکھیں لہجا حیرانگی لیا ہوا .
ہانا کتنی پیاری لگ رہی ہے بیجان مسکرائی . . . .
مگر ہمارے خاندان میں تو اگلے پچھلےکہیں بھی کسی کی کالی آنکھیں ہی نہیں ہے بچی بدل تو نہیں گئی تشویش کا اظہار کیا
لگتا ہے پاگل ہوگئے ہو اس چھوٹے سے ہسپتال میں ابھی ایک ہی ولادت ہوئی ہے اتنی نازک سی پیاری سی بچی ہوئی ہی تمہارے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہےہے بیجان بڑبڑ اتی ہوئی بہو کے پاس چلی گئی زاوار نے بچی کا نام لاروش رکھا جو حویلی میں سب کو ہی پسند آیا
وقت گزرنے لگا بچے دھیرے دھیرے بڑے ہونے لگے شادان میٹرک کے بعد ابروڈ تعلیم کے لئے چلا گیا گاوں کا اسکول مڈل سے میٹرک تک کردیا گیا اور گاؤں میں مزید ترقیاں جاری ہے بیجان انتقال کرگی بی جان کی وفات پر سارے بھائی پھر سے مل گئے زاوار سے چھوٹے بھائی داور جسٹس بن گئے اور کراچی میں تعینات ہیں
۔۔۔۔۔__—————–_ _____۔———–۔ ۔۔۔۔۔۔،___________ ۔
غزنوی کو بڑے لاڈوپیار سےپالنا شروع کیا۔ ۔یہ لاڈو پیار حد سے تب بڑھا جب غزنوی کے بعد بھی ایک اور مردہ بیٹا پیدا ہوا ۔۔۔اسی بے جا لاڈو پیار نےغزنوی کو بےحدضدی اور خود پسند بنادیا ہے جو پسند ہے وہی چاہیے ۔ ۔ اپنے چھوٹے بڑے کزن کا جینا حرام کردیا ان کی فیورٹ چیزیں لینا معمول بن گیا ۔۔۔
مجھے یہ ایروپلین چاہیے بلال کا ایروپلین دیکھکر غزنوی بولا ۔۔۔
ننھا دل ایک دم سہم گیا ۔۔۔نہیں نہیں میں نہیں دوں گا میرے لئے بابا لائے تھے ۔۔ڈر کر اپنے پیچھے چھپا لیا۔ ۔۔
منع کرنے پر اپنے سے چھوٹے بلال کا ایروپلین چھین کرپوری قوت سے سامنے پلر پر دے مارا ۔۔۔پلین ٹوٹ کر بکھر گیا ۔۔۔پلین کے ٹکڑے دیکھ کر بلال رو دیا ۔۔۔
میرا نہیں تو تمہارا بھی نہیں ہوگا سمجھے انگلی اٹھا کر تنبہی کی گردن اکڑا کرحویلی کے اندر چلا گیا ۔۔۔۔
سارے بچے ٹوٹے پلین کو دیکھ کر اداس ہوگئے ، بلال اگر اب غزنوی کچھ مانگے تو دے دینا دیکھو توڑ دیا اگر تم دے دیتے تو مل کر ہم سب کھیلتے فلک اداسی سے بولا۔ ۔۔
بچوں کی اسی سوچ نے اس کی “میں “میں اضافہ کردیا ۔۔۔
غزنوی کےچھ سال بعد پھر شمریز کے گھر ایک کلی کھلی ۔۔جسکا نام گل ِ جاناں رکھا ۔۔غزنوی نےاس کا نام گڑ کی ڈلی رکھا ۔۔۔خوبصورت نین نقش والی گوری چٹی گل کی ڈلی میں غزنوی کی جان تھی ۔۔۔غزنوی کی ضداگر کوئی ختم کر سکتا تو وہ گل کی ڈلی ہی کے بس میں تھا ۔۔
چند سال بعد۔ ۔۔۔۔۔۔۔
___________________________________
مورے میری پیاری مورے ۔۔۔اماں میں نے آپ کی خاطر سوات کالج سے بی اے کرلیا ۔۔۔لیکن اب مجھے پشاور یونی سے ماسڑرز کرنا ہے پلیز مورے مان جایے ۔۔۔بابا نےتو اجازت دے دی ۔۔۔۔
پتہ نہیں میرا دل ڈر رہا ہے تجھے وہاں بہیجتے ۔۔ویسے بھی بیس کی ہوگئ اس بار شادان آجائے تو تیری شادی کرتی ہوں ۔۔۔۔
جی نہیں پہلے بھائ کی ہوگی پھر میری ۔۔۔۔اور مورے ماسٹرز کرناہے میرا خواب ہے ،مجھے اپنے گاوں میں کالج کھولنا ہے ۔۔۔مورے میرے خواب نہ چھینے ۔۔لاروش نے روتے ہاتھ جوڑے ۔۔۔۔
اکلوتی بیٹی کے ہاتھ جوڑنے پر مورے کا دل پسیجا ۔۔۔اچھا ٹھیک ہے ۔۔جاو پڑھ لو ۔۔۔۔
یاہو ۔۔۔شکر ہے اللّہ ۔۔۔اور شکریہ اللّہ کی پیاری نعمت میری مورے ۔لاڈ سے کہتی مورے کو گلے لگایا ۔۔۔۔میں جلدی سے بابا کو بتاتی ہوں ۔۔۔اور پھر شکرانے کے نفل بھی ادا کرنے ہیں ۔۔مسکراتی کمرے سے باہر دوڑی ۔۔اور کمرے میں داخل ہوتے بابا سے ٹکرائ ۔۔۔آرام سے بیٹا ۔۔۔کون سی بھینس پیچھے لگ گئ جو اندھا دھند بھاگ رہی ہو ۔۔۔۔
بھینس کی مجا ل جو میرے پیچھے پڑے ۔۔۔میں تو خوشی سے بھاگ کر آپ کے پاس آرہی تہی ۔۔۔۔
کسی خوشی کیا ۔۔شان نے تم کو اپنے آنے کا بتادیا دیکھو ذرا مجھ سے کہہ رہا تھا سرپرائز دونگا ۔۔۔
ؐلاروش اور مورے یہ سن کر حیران اور خوش ہوئ ۔ ۔
کیا لالہ آرہے ہیں ۔۔۔۔چچ چچ آپ نے بھائ کا سرپرائز خراب کردیا ۔۔۔جبھی کہتے ہیں پہلے پوری بات سن لو ۔۔۔لاروش نے افسوس کے ساتھ مدبرانہ اسٹائل اپنایا ۔۔۔۔
زاور نے گھورا ۔۔۔۔جب سے تمہاری پڑھائ ختم۔ ہوئ ہے تب سے تمہارا ساتھ زیادہ مل رہا ہے بس اسی کا اثر ہوگیا۔۔۔۔
مطلب در پردہ نہیں براہ راست آپ اپنی غلطی میرے سر پر ڈال رہے ہیں ۔ ۔۔لاروش نے تیوری چڑھائ ۔ ۔ ۔ ۔۔
زاور اس انداز پر ہنس پڑے ۔۔۔۔
اگر آپ باپ بیٹی کی بات چیت ختم ہوگئ ہو تو مجھے بتائیں گے کب تک آرہا ہے میراشہزادہ ۔۔۔زریں نے مداخلت کی۔ ۔۔
کل آرہا ہے مگر ٹائم نہیں بتاونگا اب اتنا تو سرپرائز باقی رہنے دو ۔۔۔۔زاور بےچارگی سے بولا ۔۔۔
جی اچھا ۔۔۔۔۔میں کھانے پکانے کی تیاری کرتی ہوں ۔۔
بیوی وہ کل آرہا ہے ۔۔۔اور قحط زدہ ملک سے نہیں آرہا ۔۔۔جو ابھی سے پکوان پک رہے ہیں ۔۔۔
مورے کچھ کچھ جلنے کی بو آرہی ہے ۔۔
ہاں کچھ نہیں بہت کچھ جل رہا مورے یہ بول کر باہر چلی گئ ۔۔۔۔
ہاں جی اب تو لاڈلا آرہا ہے ہمیں کوئ کیوں پوچھےگا ۔۔۔زاور نے مصنوعی سرد آہ بھری ۔۔۔۔
یہ تو غلط ہے بابا ۔۔۔مورے کتنا خیال رکھتی ہیں ۔۔۔کبھی لوکی دال ۔۔۔تو کبھی ٹینڈے کا سالن ۔۔لاروش نے نمک چھڑکا ۔۔۔۔
ایک زرا سا بی پی کیا ہائ رہنے لگا سارے کھانوں کو میرے لیے حرام کردیا ۔۔۔۔زاور نے منہ بنایا
آپ کی فکر ہے اور بابا مجھے مورے نے اجازت دے دی ۔۔۔میرا جلدی ایڈمیشن کرایے ۔۔۔۔میں ہوسٹل رہوں گی ۔۔۔چاچا جی کے گھر نہیں ۔۔۔۔۔
اچھا جیسے تمہاری مرضی شادان کے ساتھ جانا ۔۔
میرے پیارے اچھے والے بابا ۔۔
_______________________________________
مورے میں نے شادی میں نہیں جانا میرے پیپرز ہیں ۔ویسے ہی میں روز کے سفر میں تھک جاتی ہوں ۔۔ ۔
میں نے کہا ہے پڑھو ، یہ تو غزنوی کی شہہ پر تم کو اجازت ملی ہے ورنہ ہمارے یہاں بس میڑک تک پڑھتے ہیں ۔۔۔مہر بانو نے غصہ کیا ۔۔۔۔
اس سے پہلے پڑھائ پر مزید باتیں سننے کو ملتی گل جاناں نے فورا ہامی بھر لی۔ ۔۔
اچھا نہ مورے چلی جاوں گی پر روکوں گی نہیں ۔۔۔۔
میری پیاری بچی ۔۔۔جا جلدی سے تیار ہوجا آج مہندی ہے تم بلال کے ساتھ جاوگی ۔۔۔میں کل آونگی بس ایک دن ہی تو رکنا ہے ۔۔۔
اچھا مورے گل نے بددلی سے ہامی بھری ۔۔۔
اج تو بڑی خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔بلال نے تعریف کی
ہممم میں خوبصورت ہوں مجھے پتہ ہے ٹھیک سے گاڑی چلاوں ۔۔۔۔زیادہ بک بک کی تو بھیا کو کال کر دونگی ۔۔۔۔گل نے ڈرایا ۔۔۔۔
بلال نے بھیا کے نام پر دانت پیسے ۔۔۔کب تک پہلوتہی کروگی ۔۔۔آنا تو میرے پاس ہی ہے ۔۔۔گن گنکر بدلہ لونگا ۔۔۔۔تنفر سے بلال نے سوچا ۔۔۔۔۔
خالہ کے گھر پہنچ کر کوفت سے اندر کی طرف بڑھی مگر باہر نکلتے بندے سے زوردار ٹکر ہوئ ۔۔۔۔
اندھے ہو دیکھ کر نہیں چل سکتے میرا دماغ گھوما دیا۔ ۔۔۔گل نے ماتھا سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور نظر اٹھائ اور پھر جھکانا ہی بھول گئ ۔۔۔ اور سامنے بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ۔۔۔کئ نیلی آنکھیں دیکھی مگر ایسی نشیلی نہ دیکھی ۔۔۔موبائل کی بپ سے دونوں کو ہوش آیا ۔۔۔
معافی چاہتا ہوں ۔۔۔دراصل ایک ضروری کال سننی تھی اس لیے جلد بازی میں باہر آیا ۔۔۔۔سامنے بندہ معزرت کرکے چلا گیا اور ساتھ ہی گل کا دل بھی لے گیا ۔۔۔۔۔اور شاید اپنا بھی ہار گیا ۔۔۔۔۔
_______
یار میرا کام یاد سے کردینا ۔۔ جلدی جلدی آنے کے چکر میں بھول گیا ۔۔۔اللّہ حافظ ۔۔۔
شادان باہر کیوں آگئے ۔۔۔کیا دل نہیں لگ رہا ۔۔۔۔اویس نے پوچھا ۔۔۔۔
دل پر شادان کو پھر سے وہ ٹکراو یاد آیا جس میں پری وش سے ملاقات ہوئ ۔۔۔لب سوچ کر مسکرائے ۔۔۔
ہمممم یہ کس بات پر مسکرایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں بس ایک بات یاد آئ ۔۔۔۔۔تمہاری بہن کی شادی پانچ ماہ بعد ہوجاتی۔۔۔۔ ۔۔اتنی ایمرجنسی میں آنا پڑا ۔۔۔اسائمنٹ بھی جمع نہیں کرواسکے ۔۔۔۔ایگزام کی ٹینشن الگ اور صرف ایک ہفتہ ہی رک سکتے ہیں ۔۔۔۔
بھائ ابھی تو ایگزام کی یاد نہ دلا ۔۔۔۔۔اور تجھے کیا غم ۔۔۔ایک ٹوپر کو ٹیچر کچھ نہیں کہتے ۔۔۔پھر آدھی یونی کی گوری لڑکیاں تیری دیوانی ہے کال ملا سارے اسئمنٹ سبمنٹ ہوجائیں گے ۔۔۔۔
بکواس نہ کر ۔۔چل اندر چلیں ۔۔۔۔شادان نے اندر کی طرف دھکا دیا ۔۔۔۔۔
پوری شادی میں گل جاناں کی نظریں تلاش کرتی رہی مگر اسے وہ خوبصورت شخص پھر دکھائ نہ دیا ۔۔۔۔بھلا وہ خواتین کی سائیڈ کیوں آئے گا ۔۔۔۔یہ بات جانتے ہوئے بھی نظریں انتظار میں متلاشی ہی رہی ۔۔۔۔
________________________________________________
میری پیاری مورے میرے لیے بہت ساری دعا کرنا میرا فائنل ہے انشاءاللّہ پانچ ماہ بعد میں ہمیشہ کے لیے پاکستان آجاوں گا ۔۔۔۔شادان نے لاڈ سے زریں کے گود میں سر رکھا ۔۔۔
ہاں بچے میں دعا کرتی ہوں ۔۔۔۔اور جب تک میں زندہ ہوں کرتی رہونگی ۔۔۔۔
کچھ اس غریب بچی کے لیے بھی کردیا کریں ۔۔۔۔لاروش نے منہ بنایا ۔۔۔۔۔
کیوں تم خود نہیں کرسکتی جو میری ماں سے فرمائش کر رہی ہو ۔۔۔۔شادان نے چڑایا ۔۔۔۔
اور زریں نے تائیدکی ۔۔۔
نہ آج مجھے یہ بتا ہی دیں ۔۔۔مجھے کون سے باغیچے سے اٹھایا ہے یا کون ہے جو دروازے پر مجھ پری کو چھوڑ گیا ۔۔۔لاروش نے پرانی ہیروئن کو مات دی ۔۔۔
چچچچ آپ نے مورے اسے بھی تک سچ نہیں بتایا ۔۔۔تم کو ہم نے کچرے کے ڈبے سے اٹھایا ۔۔۔تم چیخ چیخ کر رو رہی تہی ۔۔۔مورے کوترس آیا ۔۔بس پھر گھر لے آئے۔ ۔۔شادان نے مزے سے کہا ۔۔۔
نہیں اماں کہہ دیں یہ جھوٹ ہے اللّہ یہ سننے سے پہلے میرے کانوں میں سونے کے جھمکے کیوں نہی ہیں ۔۔اپنے ہی انداز میں دہائ دی ۔۔۔
ڈرامہ ہیروئن بننے کی ضروت نہیں ہے ۔۔۔۔پیکنگ کرلی ۔۔۔مورے نے ایک تھپڑ لگایا ۔۔
اف مورے اتنی زور سے کوئ مارتا ہے ۔۔۔میں نہیں کر رہی شہر سے پینٹ شرٹ لونگی وہی پہنوں گی ۔۔۔۔
لاروش کی بات سن کر مورے کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔
بے شرم بھا ئ کے سامنے کیا اول فول بک رہی ہو ۔۔۔ابھی بتاتی ہوں مورے نے چپل اٹھائ ۔۔۔۔
ؓمذاق کررہی ہوں ۔۔۔مت ماریں ۔۔۔۔جلدی سے لاروش نے کہا مبادا جلال میں آکر جانا کینسل نہ کردیں ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ام بولتاہے ہمیں بھی ساتھ لے چلو ۔۔۔لیلی افسردگی سے بولی ۔۔۔۔
جس دن تم بولتی بولو گی اس دن لیجاوں گی ۔۔۔چاچی جلد چکر لگائیں گی ۔حویلی کے ملازموں کی بول چال ٹھیک ہوئ یا نہیں ۔۔۔پشتو کی طرح اردو بھی ٹھیک سے بولو ۔۔۔سارے تی اور تا پر مذاق اڑاتے ہیں ۔۔۔ لاروش نے تیار ہوتے لیلی کو سمجھایا ۔۔۔۔۔
اچھا مورے کا خیال رکھنا ۔۔۔لاروش نے گلے لگایا ۔۔۔
لیلی نے ہامی بھری ۔۔۔
مورے اجازت کے لیے پھر شکریہ ۔۔۔
لاروش کے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھ کر مورے دقت سے مسکرائ ۔۔۔اجازت دے تو دی مگر دل مطمئن نہیں ہے کچھ غلط کا دھڑکا لگا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ پریشانی دھڑکا غلط بھی نہ تھا آنے والے وقت نے ثابت کردینا ہے۔ ۔۔ ۔
اماں جانی لاروش کو ڈراپ کرکے میں بھی چلا جاوں گا ۔۔۔آپ اپنا اور بابا کا خیال رکھنا ۔۔۔۔
جاوں بچوں اللّہ کی امان میں ۔۔۔۔دعاوں تلے دونوں ماں باپ نے رخصت کیا ۔۔۔۔
______________________________
اماں میرے پیپر سر پر ہیں اور آپ نے مجھے چپلی کباب بنانے کا آرڈر پاس کردیا
نی اگر بنا دوگی تو کیا ہوگا ۔۔۔بلال بچے نے مجھ سے فرمائش کی اگر میری طبیعت خراب نہ ہوتی تو میں بنادیتی جا میرا بچہ بنادے۔ ۔۔اور لال مرچ لا تیری نظر اتارو، جب سےشادی سے آئ ہے گم سم لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔
مہر بانو نے تشویش کا اظہار کیا ۔۔۔۔۔۔
شادی کے ذکر پر گل جاناں کی آنکھیں نم ہوگئ ۔۔۔دل تو اس اجنبی کی نظر ہوگیا اور دماغ سوچوں کے تانو میں الجھ گیا ۔۔۔ خودپر قابو پایا ۔۔۔نہیں امو جان پیپرز کا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔
بھاڑ میں جھونکو ایسی پڑھائ کو جو بندے کی شکل پر بارہ بجا دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مہر بانو نے مشورہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری پیاری امو جان پڑھائ کو ایسے نہیں کہتے یہ علم تو حاصل کرنے کا حکم شریعت بھی دیتا ہے ۔۔۔۔قرآن میں اقرا کہہ کر رب نے بھی کہا پڑھو ۔۔۔۔۔۔یہ تو تیاری نہیں ہے اس لیے پریشان ہوں ۔۔۔گل نے پیار سے سمجھایا ۔۔۔ ۔ ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔جاو کباب بنا دو بچہ انتظار میں ہوگا ۔۔۔۔۔۔
یہ چپلی کباب بنائیں کس نے خواہ مخواہ اتنی پیاری ڈش کا نام چپلی رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔دل تو چاہ رہا ۔۔۔۔کباب کی جگہ چپل دے دوں ۔ اس بلو کو ۔۔۔اپنی مورے سے نہ کہا میری امو سےفرمائش کردی اور بڑ بڑ کرتی کیچن کے جانب رواں دواں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔شکر ہے امو نے نہیں سنا ورنہ پہر کلاس لگ جاتی ۔۔۔۔۔
اوہو زہے نصیب آج ان خوبصورت ہاتھوں کے بنے کباب کھانے کو ملیں گے ۔۔۔بلال شوخ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
گل تو پہلے ہی غصے میں تھی اوپر سے بلال کی شوخی ۔۔۔۔۔تحمل کا مظاہرہ کیا اور کچھ نہ کہا ۔۔۔اس خاموشی سے بلال پھیلا ۔۔۔۔۔میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب تم اپنے پیارے ہاتھوں سے مجھے کھلاؤں گی بھی ۔۔۔۔ ۔
گل کا پیمانہ ختم ہوازور سے چمچ سیلیب پر پٹکا ۔۔۔۔اور غرائ۔۔۔۔۔شرم نہیں آتی مجھ بچی سے گندی بات کرتے ہوئے ۔۔۔میں آج ہی لالے کو بتاوں گی ۔۔۔۔۔۔۔وہ آپ کا منہ توڑ کر ہاتھ میں رکھ دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
غزنوی کی دھمکی اور اس کے طرز عمل سے بلال بوکھلایا ۔۔۔۔۔
میں تو بکواس کررہا تھا ۔۔۔۔۔غزنوی کو بتانے کی کیا ضرورت ہے ؟
تو اس پوری حویلی میں بکواس کرنے کے لئے آپ کو میں ہی ملی تھی۔۔۔۔۔۔
غلطی ہوگئی، معاف کردو بلال نے اپنی جان چھڑائی ۔۔۔
آج آپ نے بلال بھائی بکواس کرلی آئندہ نہ کیجیے گا ورنہ میں تو سچ میں لالے کوبتادونگی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
بھائ کہنے پر بلال کو غصہ آیا ۔۔۔ضبط کیا ۔۔۔موڈ چینج کرنے کو بولا ۔۔۔تم بچی کہاں ہو اس مہینے اٹھارہ کی ہوجاوگی ۔۔۔۔۔گہری نظر گل پر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔
گل کا دھیان کباب پر تھا اس لیے گہری نظر کا پتہ نہ چلا ۔ ورنہ لالے کو تو بلا ہی لینا تھا ۔۔۔۔
ہاں تو میں اپنے ماں باپ کی اور لالے کی بچی ہی ہوں آپ اپنے دماغ پر زور نہ دیں ۔۔۔یہ کھائیں کباب میرا دماغ نہیں ۔۔۔۔کباب کی پلیٹ بلال کو دی اور کچن سے غائب ہوئ ۔۔۔
جلتے ہوئے دل میں بلال نے پھر عہد کیا بس ایک بار بیوی بنا لوں پھر دیکھنا یہ بچپنا کیسے ختم کرتا ہوں ۔۔۔۔اور غزنوی اسے تو وہ مزہ چھکاوں گا سالہ ساری اکڑ بھول جائے گا ۔۔۔۔۔
_______________________________________
یونی میں آج بہار آئ ہوئ ہے نت نئے ،خوشیوں سے بھرپور ۔۔۔کچھ کرلینے کا عزم چہروں میں نمایاں ہے ۔۔۔ پرانے اسٹوڈنٹ نئے آنے والوں کو ریکینگ کرنے اور نئے آنے والے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔
چل غزنوی ریکنگ کریں ۔۔۔انس نے اکسایا ۔۔۔
کوئ ضرورت نہیں ۔۔۔۔آنے والوں کی رہنمائ کرنی چاہیے ۔۔غزنوی کے بجائے آفتاب نے جواب دینا لازم سمجھا ۔۔۔۔مولوی تو تو خاموش رہے جب دیکھو نصیحت شروع کردیتا ہے ۔۔۔انس نے بیزاری سے ٹوکا ۔۔۔۔
آج یونی میں بڑے پیارے پیارے پیس آئے ہیں ۔۔۔شہروز نے ایک نظر آفتاب کو دیکھا ، انس کو آنکھ مار ی اور پیپسی کین غزنوی کی طرف اچھالا ۔۔۔۔
سب چھوڑو اپنے بزنس ڈپارٹ کا بتاو وہاں کیا سین ہے ۔۔۔غزنوی نے کین کیچ کیا اور کھول کر پینے لگا ۔۔۔
آفتاب نے تاسف سے سر ہلایا ۔۔۔ان کو سمجھانا مطلب بھینس کے آگے بین بجانا ہے ۔۔۔
بزنس میں تو کوئی خاص نہیں ، مگر انگلش ڈپارٹ میں ایک سے ایک بیوٹیفل آئی ہیں ، یار افسوس ہو رہا ہے کاش انگلش لٹریچر ہی پڑھ لیتا ۔۔مصنوعی افسردگی طاری کی۔ ۔۔
افسردہ نہ ہو پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کے بہت حقوق ہوتے ہیں ۔۔۔بلاول نے تسلی دی ۔۔۔
ہاں بس یہی حقوق تو ہوتے ہیں آفتاب جل کر بولا ۔۔۔اور دوستوں کو یہ گروپ ہنس پڑا ۔۔۔۔۔
عادت سے مجبور آفتاب نے سمجھانا چاہا۔ ۔۔یار پیس لفظ برا ہے ۔۔۔ہمیں لڑکیوں کا احترام کرنا چاہیے ۔۔مخلوط ادارے میں پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم احترام کرنے جیسی نعمت سے محروم ہوجائیں ۔۔کل کو ہماری بہنیں بھی۔ ۔۔۔۔بس مولوی ۔۔۔غزنوی نے بات کاٹی ۔۔۔
ہم ان خواتین کا احترام کرتے ہیں جو کروانا جانتی ہوں ۔۔۔۔۔ان ہی لڑکیوں کے ساتھ ڈیٹ مارتے ہیں جو پکے پھل کی طرح خود آگے آتی ہیں ۔۔۔۔ہماری بہنیں اپنا احترام کروانا جانتی ہیں ۔۔۔وہ ان ماڈرن لڑکیوں کی طرح بالکل نہیں ۔۔۔اس لیے آئندہ بہنوں کا ذکر نہیں ۔۔۔غزنوی نے مغرور لہجے میں تنبیہ کی ۔۔۔
آفتاب غزنوی کے غصہ کرنے پر خاموش ہوگیا ۔۔۔۔ ۔ ۔
اوکے ۔۔۔چلو پریڈ شروع ہونے والا ہے ۔۔۔۔سب اٹھنے لگے ۔۔۔۔اچانک انس بولا روکو ۔۔۔۔
سوالیہ نگاہوں سے سارے دوستوں نے دیکھا ۔۔۔
یار غزنوی تونے ایک بار اپنا آئڈیل بتایا تھا زرا پھر بتانا ۔۔۔۔۔انس نے نظریں ایک جگہ ڈال کر استفسار کیا۔۔۔
غزنوی سمجھا کچھ دیر پہلے کی گرما گرمی کے ماحول کو کم کرنا چاہتا ہے اسلیے فورا بتانے لگا۔ ۔۔
لمبا میرے جیسا قد برابری ہونی چاہیے ، کالی بڑی آنکھیں ، میری گرے ہے تو اچھا کمبینیشن بنے گا۔ ۔ ۔خوبصورت گول چہرہ ۔۔ایک گال پر ڈمپل بنے ۔۔۔دو ڈمپل پسند نہیں ۔۔۔ کالے گھنے بال ۔۔۔لمبے بھلے نہ ہو ۔۔۔پر گھنے ہو ۔۔۔دودھ جیسا رنگ جسمیں گلابی رنگ جھلکے ۔۔۔سرخی میرے رنگ میں ہے ۔۔کافی ہے ۔۔۔جذب سے تصور باندھتے ہوئے بتایا۔ ۔۔۔
واہ جی واہ ایک ہی لڑکی میں اتنی خوبصورتی ، تو کنورا ہی مرے گا ۔۔۔شہروز نے مایوسی سے سر دھنا ۔۔۔
ًغزنوی نے آنکھیں دکھائ اور لتاڑا ۔۔۔بکواس کرنے کی نہیں ہورہی ۔۔منہ اچھا نہ ہو تو بات اچھی کرلینی چاہیے ۔۔۔ملے گی ضرور ملے گی ۔۔۔ایک یقین غزنوی کے لہجے میں تھا ۔۔۔
ملے گی نہیں میرے یار مل گئ یہ کہہ کر غزنوی کا رخ پیچھے کی طرف موڑا ۔۔۔
جہاں غزنوی کا آئڈیل جیتا جاگتا موجود کھڑا ہے ۔۔۔جسے دیکھ کر سارے ہی دوست حیران ہوگئے ۔۔۔۔اور غزنوی تو بت بن گیا ۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *