Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28

تینوں تیزی سے باہر آئے ۔۔۔باہر آتے ہی گل جاناں نے دو تھپڑ نشاء کے جڑے ۔۔خطرناک تیوروں سے سوال کیا ۔۔۔۔مسئلہ کیا ہے تیرے ساتھ چپ نہیں رہ سکتی ضروری تھا دوسرا سوال مانگنا ۔۔۔۔منگتی کہیں کی ۔۔۔
میں اپنے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دونگی کل کو میں اپنے بچوں کو کیا بتاونگی ۔۔شادان سر نے مجھ سے ایک سوال کیا وہ کتنے اداس ہونگے اور میں اپنے بچوں کو اداس کبھی نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔نشاء اکڑی
جس طرح تیری حرکتیں ہیں تیرے بچوں نے دنیا میں نہیں آنا ۔۔۔۔
رس گلے بددعا دے رہی ہو ۔۔نشاء روہانسی ہوئ ۔۔
نہیں میری دوست نما دشمن زائچہ بتا رہی ہوں ۔۔اگر تجھے جلد سر شادان نے نہیں مارا تو میں تجھے قتل کردونگی وہ بھی بے دردی سے چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کرکے زمین میں دفناو گی ۔۔گل جاناں نےاپنا ایک ہاتھ دوسرے پر چھری کی طرح پھیرتے پھٹ پڑی ۔۔۔۔۔۔
نشاء رو پڑی ۔۔۔چیل کوے کو نہیں کھلاوگی کیا ؟روتے ذہن میں آتا سوال پوچھا ۔۔۔
بسمہ اور گل جاناں اس بے تکے سوال پر سمجھ ہی نہیں سکی روئیں یا ہنسیں ۔۔
نہیں قطعی چیل کوے کو نہیں کھلاوگی وہ بھی تیری بوٹیاں کھا کر پگلے ہوجائیں گے ۔۔قطعیت بھرے لہجے میں نشاء سے کہا ۔۔
ویسے نشاء کہنا تو یہ چاہیے تھا مجھے مت مارنا مت اذیت دینا مگر کہا بھی تو کہا چیل کوے کا ۔۔بسمہ نے بھی تاسف سے کہا۔۔
وہ میں نے اکثر ولن کو کہتے سنا ہے وہ ہیرو یا ہیروئن کو کہتے ہیں اگر ہماری بات نہیں مانی تو چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کرکے چیل کوے کو کھلائیں گے تو میں کیاکسی ہیروئن سے کم ہوں ۔۔ ۔نشاء نے آنسو پوچھتے ایکٹینگ کی ۔۔
میں کہہ رہی ہوں بسمہ یہ نہیں سدھرنے والی اس کے قتل کا دن فکس کردو ۔۔۔گل جاناں نے عبائے کی آستین اوپر چڑھائ۔۔جیسے فکس کے بجائے آج ہی یہ کام سر انجام دے لیں ۔۔
آستین چڑھانے پر نشاء سہم کر بسمہ کے پیچھے ہوئ اور آدھا سر نکال کر گل جاناں کو تسلی دی ۔۔۔
آرام سے گل جاناں ہم سر شادان سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیں گے ان کی اتنی ہمت پوری کلاس چھوڑ ہم معصوموں سے سوال کیے درست جواب پر بھی ہمیں ہی کلاس سے نکال دیا ۔۔۔
کیسے لیں گے بدلہ ۔۔۔گل جاناں کو اشتیاق ہوا ۔۔
میرے ساتھ چلو ۔۔۔سر کی پارگنگ میں بلیک مرسٹیذ کھڑی ہے اس کے چاروں پہیوں کی ہوا نکال دیں گے سر کو بس یا چن چی سے جانا پڑے گا تو عقل وقل آجائے گی ۔۔۔
آئیڈیا تو اچھا گل کا شرارتی دل مچل گیا کراچی آکر تو تھوڑی سنجیدہ ہوگئ ۔۔شوخیاں شرارتیں بھی ختم ہی تھیں ۔۔نشاء کے مشورے پر عمل کرنے کی حامی بھری ۔۔پارکنگ میں آئ آس پاس دیکھا کوئ نہ تھا ۔۔۔مگر ایک مسئلہ سامنے آگیا ایک جیسی دو گاڑیاں ۔۔اب ان میں سےشادان سر کی کونسی ہے ۔۔۔اندازے اس گاڑی کی طرف بڑھے جو روز مخصوص جگہ پر کھڑی ہوتی تھی ۔۔۔تینوں نے ایک ایک ٹائر کی زمہ داری لی ۔آخر میں چوتھے ٹائر پر ورشہ کے نام تینوں نے مل کر ایک ساتھ پن ماری ۔۔۔۔
یاہو آواز پر بچوں کی طرح خوش ہوئیں جلدی سے اندر آگئ ۔۔گل کی یہ شرارت آج اس کے حق میں بہترین رہی ۔۔۔
جانے کے لیے پارکنگ میں آئے تو بلال سر پکڑے کھڑا تھا ۔۔۔
کیا ہوا آپ کوایسے کیوں کھڑے ہیں کیا سر میں درد ہے ۔۔نشاء کے اندر بیویوں والی فکر جاگی ۔۔۔
نہیں نہ جانے کس خبیث نے میری مرسڈیز کے پہیوں سے ہوا نکالی ایک ساتھ چاروں پنکچر پڑے ۔۔۔
یہ آپ کی مرسڈیز ہے ۔۔۔گل جاناں نے مری مری آواز سے پوچھا ۔۔
ہاں تو پھر میں کیا کسی اور کے غم میں مبتلا ہوں بلال اکھڑا ۔۔۔پلان خطرے میں پڑ گیا ۔۔اگر آج نہ عمل ہوسکا تو نہ جانے کب موقع ملے یا نہ ملے ۔۔۔
ہم تو صبح ریڈ کار میں آئے تھے ۔۔تو یہ کب آئ ۔۔۔
ریڈ کار میرے دوست کو چاہیے تھی تم کو چھوڑ کر میں واپس گیا اور یہ بلیک لے آیا شادان کھڑی کرتا ہے یہاں میں سمجھا آج آف کرے گا اس لیے کار نہیں ہے تو میں نے کھڑی کردی ۔۔۔بلال نے کوفت سے بتایا ۔۔۔زہن پلان پر اٹکا تھا ۔۔۔
بات کرہی رہے تھے پارکنگ میں شادان آگیا اپنی مرسڈیز ان کے پاس روکی ۔۔
کوئ مسئلہ ہے بلال ۔۔
ہاں یار کیسی نے ٹائر پنکچر کردیے ۔۔۔
آو میں لفٹ دے دوں تم میکنک کو یہی بلوالو ۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے مجھے ایک جگہ کام سے بھی جانا ہے کار کا ایشو کل حل کر لیں گے ۔۔۔
چاروں بیٹھ گئے ۔۔۔۔نشاء نے بڑی مشکل سے زبان بندی کی آخر خود کی کارستانی تھی اس لیے آسانی سے منہ سی لیا ۔۔۔
سر گانے ہی لگادیں ۔۔بیگ سے ببل نکالتے بسمہ بولی ۔۔۔
گل جاناں نے گھورا ۔۔۔مگر کوئ اثر نہیں ۔۔۔
شادان نے پلئر اون کیا جہاں اس کا من پسند سونگ ہی لگاہوا تھا وہ بجنے لگا ۔۔۔اور چپ نشاء کی بولتی کھولی ۔۔
کتنی مخمور ہیں تمہاری آنکھیں ۔۔دل کا سرور ہیں تمہاری آنکھیں ۔۔۔
گانا چند بول سنا کر ختم ہوا ۔۔۔بلال نے بیزاری سے پلیئر آف کیا ۔۔
گل جاناں مخمور کا کیا مطلب ہے ۔۔۔۔
نشیلی آنکھیں ۔۔گل جاناں نے آہستہ بولا ۔۔۔
جیسی ہماری گل کی ہیں بسمہ محبت سے بولی شادان کے دل نے تائید کی ۔۔
نشیلی یعنی وہ آنکھیں جو نشہ کرتی ہوں جو چرس پیتی ہوں ۔۔اس لیے وہ مخمور ہوگئ اور چونکہ وہ نشے میں تھی اس لیے دل سرور یعنی نیند محسوس کرنے لگا ۔۔۔یہ گانا کیسی ڈرگ ڈیلر نے گایا ہوگا ۔۔۔اور گل جاناں تیری آنکھیں بھی نشہ کرتی ہیں ۔۔۔نشاء نے جو سمجھا برملہ اظہار کیا ۔۔۔
استغفراللّہ ۔۔گل جاناں بے ساختہ بولی جبکے شادان اور بلال کے بھی لب مسکراٹھے ۔۔
کیا استغفراللّہ ان دیدوں میں چرس لگاتے تجھے شرم نہیں آئ بتا مجھے کتنے سلائ چرس کے آنکھوں میں لگاتی ہے ۔۔نشاء چمک کر بولی۔۔
میں کیوں چرس لگانے لگی اللّہ کا کرم ہے اس نے مجھے اتنی پیاری آنکھیں دی اور تونے اگر ایک لفظ بھی ان آنکھوں کی گستاخی میں ادا کیا تو میں نے ابھی کے ابھی کار سے دھکا دے دینا ہے ۔۔۔گل جاناں غصہ سے بھڑکی ۔۔۔اپنی آنکھوں کے لیے تو ورشہ اور پلوشہ سے لڑ جاتی تھی ۔۔
شادان اس ساری صورتحال سے محظوظ ہوا ۔۔۔خاص کر گل کے بھڑکنے پر ۔۔۔کئ بار فور گروپ کی لڑائ میں گل جاناں کی باتیں سنی ہے لیکن اس کے سامنے تو آواز ہی مدہم نکلتی ہے پوری توجہ سے سننا پڑتا ہے ۔۔۔
او بہن نشیلی کا مطلب ہے ایسی آنکھیں جو اپنے سامنے موجود انسان کے ہوش اڑادے ۔۔۔بسمہ نے سمجھایا ۔۔بسمہ اور سمجھاتی مگر اچانک جھٹکے سے کار رکی تینوں کے سر سیٹ سے ٹکرائے ۔۔لیکن احتجاج کا موقع نہ ملا برابر گاڑی جس نے اوور ٹیک کیا تھا جلدی سے بندے نکلے اور کار کو گھیر لیا ۔۔نشاء کی طرف شیشہ کھولا تھا جلدی سے ایک بندے نے نشاء کے سر پر بندوق تانی ۔۔۔
ان کو لگا شاید چور ہیں مگر وہ تو اغواہ کار نکلے ۔۔۔بلال کو کار سے نکالا اس کی جگہ بندہ بیٹھا ۔۔ بلال نے نکلنے سے انکار کیا تو اس کے سر پر پسٹل کا بٹ دو بار مارا وہ خرد سے بیگانہ ہوا اسے نیچے اتار کر ایک غنڈے نے جگہ لی اور بولا چل ہمارے بتائے ہوئ جگہ پر ۔۔۔نشاء کو اتار کر اس غنڈے کی جگہ پر نشاء کو بیٹھایا ۔۔اس صورتحال نے شادان جیسے سمجھدار کو بھی پریشان کیا اپنی گاڑی میں بیٹھے بندے سے نمٹنا آسان تھا اصل مسئلہ نشاء کا تھا جو غنڈوں کی گاڑی میں تھی ۔۔ ۔۔۔
اغواہ کار ایک خالی بنگلے میں لے گئے ، بنگلے کے لاونج میں جہاں صرف چند کرسیا ں پڑی تھیں جو ظاہر کر رہی ہے شاید لاونج یا ڈرائنگ روم ہے ۔دھول مٹی بتا رہی ہے عرصے سے بنگلہ لاوارث ہے ۔
اف کتنی ڈسٹ ہے یہاں ۔۔چچ تم لوگ بھی نہ ایک نبمر کے نکھٹو ہو صفائ نہیں کرسکتے تھے ۔۔میں کہاں بیٹھو اب ۔۔جھنجھلائ سی نشاء بولی ۔۔۔
ہم نےتمہیں اغوا کیا ہے کوئ دعوت پر نہیں بلایا جو گھر سجاتے کڈنیپرز میں سے ایک بولا ۔ان کو کچھ دیر ایک کمرے میں بند کیا. ۔یہ لمحات صدیوں کے برابر لگے ۔۔نشاء بھی چپ رہی ۔۔۔پھر باس کی آمد کا سن کر واپس لاونج میں لائے ۔۔۔
ویسے ماننا پڑے گا پیس تو سارے ہی اچھے ہیں ۔۔ایک ساتھی نے حریصانہ نگاہیں تینوں کی طرف ڈالی ۔۔اس کی نظروں کی حرص تینوں نے محسوس کی اور جی جان سے لرزی ۔۔۔نشاء کے بھی چہرے کی اب ہوائیاں اڑی ۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے بسمہ گل ۔۔۔نشاء نے جلدی سے دونوں کے بیچ آگئ اور ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
نہ ہم تو بڑے خوش ہیں بلکہ ایسے ہی اغوا ہونے کے خواب سجائے تھے ۔۔بسمہ کلسی ۔۔۔
گل البتہ چپ رہی ۔۔۔دل دعا میں مصروف تھا نظر باری باری اغواکاروں پر پڑ رہی تھی ۔۔۔جن کی حریصانہ نگاہ گل کو کسی طوفان کی آمد کا اشارہ دے رہی ہے ۔۔۔
دیکھو ان تینوں کو جانے دو تمہاری جو بھی ڈیمانڈز ہے میں پوری کرونگا لاکھوں یا کروڑوں ۔۔۔شادان نے بھی خطرہ محسوس کیا اور لڑکیوں کے لیے ایک کوشش کی ۔۔۔
ہاں بیٹا وہ تو پورا کریگا ہی لیکن ان لڑکیوں کیوں جانے دیں ۔۔۔اتنے دن بعد مست مال ہاتھ آیا ہے پہلے تو اپنی طلب مٹائیں گے ۔
بکواس بند کرو شادان مارنے آگے بڑھا ۔ مگر تیسرے ساتھی نے شادان کے سر پر گن رکھی تو وہ دھیمہ پڑا مگر بدستور گھورتا رہا ۔۔موقع چاہیے ۔۔۔
کیوں تیری بہنیں لگتی ہیں کیا ۔۔دوسرا پھر بولا مگر اس بار شادان کچھ نہ بولا ۔۔۔
بس بوس آجائے تو ہم بانٹ لیں کونسی سی کس کی ہے ۔۔اس نے شادان کو پھر سلگایا ۔۔۔
اور سناو سب ٹھیک رہا اندر آکر ایک شخص نے پوچھا ۔۔وہ شخص شکل سے ہی بدمعاش لگ رہا تھا ۔۔۔ان غنڈوں کا سربراہ ۔۔۔
ہاں سب ٹھیک رہا ۔۔۔لیکن یہ بندہ کچھ زیادہ ہی اڑ رہا ہے ۔۔پہلا ساتھی پھر بولا ۔۔۔کیوں بے کیا مسئلہ ہے ۔۔اسکی شکایت پر اس نے شادان سے پوچھا ۔
مجھے رکھ لو اور تینوں کو جانے دو ۔۔۔شادان نے اپنی بات اس کےسامنے رکھی ۔۔۔
آنے والے غنڈے نے اچھنبے سے دیکھا ۔ یہ تو پلان میں شامل ہی نہیں تھا ۔۔تو اب کیا ۔۔کچھ تو غلط ہوا کیا ۔کیا ان میں وہ لڑکی نہیں ہے کیا ۔۔۔اس بار اس نے شادان سے نظریں ہٹائ لڑکیوں طرف دیکھا اور پھر نیلی آنکھوں میں کھو گیا ۔۔۔بالکل ٹھیک تو ہے تین لڑکیاں ہونگی ایک نقاب میں اور دو بناء نقاب کے ۔۔۔لیکن یہ نہیں بتایا تھا لڑکی اتنی حسین ہے ۔۔۔آنکھیں ایسی قیامت تو چہرہ کتنا قاتلانہ ہوگا ۔۔۔ چہرہ دیکھنے کا تجسس جاگاوہ آہستہ آہستہ بڑھا گل کا نقاب کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔لیکن گل جاناں تیزی سے پیچھے ہٹی ۔۔
دور رہو اس سے ۔۔شادان چلایا ۔۔
اوہ لگتا ہے ہیرو گیری جھاڑنا چاہ رہا ہے چلو اس بات کے اضافی چارج لے لیں گے ۔۔اسے مزید ڈائیلاگ مارنے کاموقعہ دے دیتا ہوں ۔۔خباثت سے مسکرایا اور آہستہ چلتا شادان کے پاس آیا اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔
مجھے تو یہ نیلی آنکھوں والی پسند ہے ۔۔۔پہلے میں اس کے بعد تم لوگوں گی ۔۔۔اس کے وہم۔وگمان میں بھی نہ تھا شادان ایسا ریکیشن دے گا ۔۔شادان نے ڈائریکٹ مکہ اس کے منہ پر مارا زور سے لگنے کی بناء پر خون نکل آیا اور جھٹکے سے نیچے گرا، شادان نے جان کی پرواہ کیے بنا ان پر ٹوٹ پڑا گو کہ وہ کوئ فائٹر نہ تھا مگر یہاں موجود پانچوں غنڈوں کے مقابلے میں ڈیل ڈول اچھی تھی ۔۔اچھی خاصی مار پیٹ ہوئ ۔۔۔لیکن وہ پانچ یہ ایک اکیلا اس لیے شادان ان کے ہاتھوں میں جلد آگیا ۔۔۔ان میں سے ایک نے پسٹل سر اور کاندھے پر ماری ۔۔جس سے چند پلوں کی توجہ درد کی طرف گئ اور یہی مات ہوگئ ۔۔
تینوں حد درجہ سہمی کھڑی تھیں ایک دوسرے کے سہارے اگر ایک بھی ہٹتا تو دو گرتی ۔۔تینوں اس لڑائ کے دوران خاموشی سے آنسو بہاتی رہیں ۔۔۔ان کے سر پر پسٹل تانے بندہ بھی ہونقوں کی طرح دیکھتا رہا ۔۔۔بوس کی دھاڑ پر آگے بڑھا شادان کے سر پر پسٹل ماری پھر دوسرا داو کندھے پر لگایا ۔۔۔چار نے پکڑ کر ہاتھ باندھے ۔۔پھر دوزانو زبردستی مار کر بٹھایا ۔۔۔شادان مار پیٹ سے شادان کے ہونٹ پھٹے ۔۔۔اب سر میں سے بھی آہستہ سے خون آنے لگا ۔۔۔گل جاناں کو اپنے لیے لڑتے شادان سے ہمدردی ہوئ
تیری تو، شادان کے چہرے پر ایک بعد دیگرے تھپڑ لگائے ۔۔۔ پلان میں یہ شامل نہیں تھا ۔۔۔تونے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ۔۔بھاڑ میں گیا پیسا ۔۔ اب تو وہ ہوگا جو میں چاہونگا ۔۔۔ تیری خواہش تھی اس لڑکی سے نکاح کرنے کی تو یہ ضرور پوری ہوگی ۔۔۔نکاح تیرا ہوگا دلہن میری بنے گی ۔۔جا بے اوپر والا کمرہ سجا ۔۔۔تمہارا دوست آج بغیر نکاح کے دولہا بنے گا ۔۔
شادان کی سمجھ میں یہ ساری بکواس نہیں آئ ۔۔۔اس نے کب کوئ پلان بنایا ۔۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر گل جاناں کی طرف دیکھا تو ساکت ہوا ۔۔نشیلی آنکھوں میں کیا کچھ نہ تھا ۔۔بے یقینی ، حیرانگی ۔۔۔ڈر ، غصہ ۔۔۔مان ٹوٹنے کی کرچیاں ۔۔۔
گل جان کے قدموں سے زمین سرک گئ ۔۔حق دق غنڈے کی بکواس سنی ۔۔بے یقینی سے شادان کی طرف دیکھا ۔۔مکافات عمل ہے یا بدلہ ۔۔۔ساری محبت تھوڑی دیر قبل جاگتی ہمدردی کافور ہوئ ۔۔۔۔دونوں کو بھی امید نہ تھی ۔۔۔۔
غنڈے نے بازو پکڑ کے گل جاناں کا نقاب کھینچا ۔۔۔گل جاناں تو صدمے میں گھری یک ٹک شادان کو ہی دیکھ رہی تھی اس لیے کوئ احتجاج نہ کرسکی ۔۔۔
نقاب ہٹتے ہی چاند چہرہ روشن ہوا ۔۔۔۔غنڈہ تو اس حسن کو دیکھ کر مسمرائز ہوا ۔۔ایک پل شادان بھی حیران ہوا مگر اگلے پل غم سے آنکھیں موند لیں ۔۔کبھی نہ چاہا تھا یہ چاند چہرہ اس طرح دیکھے اپنا محرم بنا کر ہی دیدار چاہا تھا مگر یہاں اتنے غلیظ و حریص لوگوں میں چاند کی رونمائ تکلیف دہ بنی ۔۔۔
کچھ دیر گل جاناں دیکھتی رہی آنکھوں سے آنسو نکلنا ہی بند ہوگئے۔دل تو چیخ چیخ کر رو رہا تھا مگر آنسو نے آنکھوں سے نکلنے سے انکار کیا ۔۔صدمہ ہی اتنا گہرا تھا آنکھ پھتر ہوگئ ۔۔۔۔۔بدحال چال چلتی شادان کے پاس آئ ۔۔کسی نے نہ روکا ۔۔۔
شادان کو گل جاناں کی چال سے شکست کھائ لگی ۔۔لیکن جب وہ بولی تو ایک ایک بات چابک کے طرح لگی ۔۔۔بے لچک انداز ۔ بے خوف آواز تھی ۔۔میں نے تو یہ پلاننگ نہیں کی میں بے قصور ہوں ۔۔شادان کہہ نہیں پایا گل کی بات نے ہی ششدر کردیا
تم جانتے تھے نہ میں کون ہوں ۔۔۔مجھ سے بدلہ لینے کے لیے یہ سب ڈرامہ کیا ۔۔۔بہت خوب گل جاناں نے خود ترسی اور تلخی سے کہتے تالیاں بجائ ۔۔۔نشاء اور بسمہ بس بدلے کی بات پر حیران و پریشان سب سن اور دیکھ رہی ہیں ۔۔دوبارہ گل بالکل آہستہ بولی کہ صرف شادان کو سنائ دے ۔۔
میں لاروش نہیں ہوں ۔۔۔میں گل جاناں اورنگ زئ جو کسی سے نہیں ڈرتی سوائے اللّہ کے ۔۔۔تم کو شاید پتہ نہیں بغیر ولی کے نکاح ہوتا نہیں اور اگر دلہن رضامند نہ ہو تو تب بھی نکاح نہیں ہوتا ۔۔۔۔یہ لوگ جبراً نکاح کروائیں گے ۔پسٹل کی ضرور پر مجبوراً نکاح ہوگا پھر صرف دنیا کی نظر میں تمہاری بیوی ۔۔۔۔پھر یہ باری باری مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں گے میں کوئ احتجاج نہیں کرونگی ۔۔کل کو سب کو پتہ چلے میں شادان خان آفریدی کی بیوی ہوں ،جو کل اجتماعی زیادتی کاشکار ہو کر مرگئ ۔۔یہ تمہاری سزا ہے بدلہ لینا چاہا تھا نہ بھگتو ۔۔غزنوی کی بہن کی جگہ خود کی نام کی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اذیت سے شادان کے کانوں میں زہر گھلتی گل جاناں اٹھ کر واپس جگہ پر آ بیٹھی ۔۔
قاضی کو بھی گن پوائنٹ پر لایا گیا تھا ۔۔اپنی زندگی بچانے کے لیے جبری نکاح کروانے پر رضامند ہوا ۔۔۔
گل جاناں سے قاضی نے پوچھا سکہ رائج الوقت پندرہ لاکھ حق مہر میں شادان خان آفریدی سے نکاح قبول ہے ۔۔
گل سرد نگاہوں سے شادان کو دیکھتی رہی ۔۔دو باری مکمل ہوئ گل نے جواب نہ دیا ۔۔غنڈے کو غصہ آیا ایک تھپڑ لگایا ۔ بال پکڑے ۔سالی نخرہ دیکھا رہی ہے ۔۔ہاں بول ۔۔
بے داغ صبیح چیرے پر پانچ انگلیاں چھپ گئ ۔۔۔اذیت و دکھ کی شدید لہر شادان کو محسوس ہوئ ۔۔ایسا لگا اسے تھپڑ مارا ۔۔۔
قاضی نے بولا ۔۔رک جاو کرلے گی قبول بیٹا ہاں بول دو ۔۔ایسی اثناء میں غنڈے کا فون بجا ۔۔۔تھوڑی دیر باہر جا کر بات کی واپس آیا اور پوچھا نکاح ہوا ۔۔نہیں سن کر نکاح شروع کرنے کا اشارہ دیا ۔۔۔
تیسری بار میں بھی خاموش رہی تو غنڈے نے پھر بال پکڑے منہ دبوچا بول ہاں ۔.
گل جاناں نے ہاں بولا ۔۔ایسی انداز سے تین بار ہاں کروائ ۔۔۔
شادان نے نکاح سے انکار کیا تو گل استھزاء مسکرائ آنکھ سے آنسو گرا ۔۔۔
ٹھیک ہے اگر تونے ہاں نہیں بولا تو میں اس لڑکی کو ابھی کے ابھی جان سے ماردو نگا کہتےہی بسمہ پر گولی چلائ نشانہ ہاتھ کا لیا گولی بازو چھوتے گزر گئ ۔ بسمہ چیخ مار کر بے ہوش ہوئ ۔۔نشاء بے جان ہوتی زمین پر بیٹھ گئ ۔۔۔
مجبورا شادان کو ہاں بولنا پڑا ۔۔۔نکاح کے بعد قاضی کو ایک بندہ چھوڑنے چلا گیا ۔۔
یار جلدی جلدی میں بس بیڈ پر گلاب کے پھول ہی ڈالیں ہیں ۔۔یار ہمیں بھی جلد بلوا لینا ۔۔۔دوسرا ساتھی کمینگی سے بولا ہاں یار تم سب کا بھی حق ہے ۔۔میں چلتا ہوں چل بھئ جل پری اپنے جلوے دکھا ۔۔غنڈے نے گھٹیاپن کی حد پار کی ۔۔گل جاناں کے پاس آکر بولا ۔۔۔
شادان تڑپ کر اٹھا اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کوئ اس کی بیوی سے ایسے بات کرے ۔۔کوشش کرکے کھڑا ہوا ۔۔۔
اور اپنے ساتھ کھڑے غنڈے کے ساتھی کی پیٹ میں لات ماری وہ بندہ تیورا کر گرا ساتھ ہی اس کے منہ سے چیخ نکلی ۔جب تک دوسرے ساتھی کوئ عمل کرتے شادان نے پھر اپنی لات چلائ ۔۔سامنے والے کوڈھیر کیا ۔۔۔اب کے ایک ساتھ دو لپکے لیکن شادان کے جنوں کے آگے وہ بھی بے بس تھے ۔۔شادان تو ماردو یا مر جاو کیفیت میں تھا بے خوفی سے جدوجہد شروع کی ۔۔جو پہلے لات کھا کر گرا وہ جلدی دوبارہ اٹھا اس نے پیچھے سے شادان کی کمر پر اپنی ٹانگ ماری ۔۔شادان جو دوسرے سے لڑ رہا تھا ایک دم درد کی تکلیف سے آہ نکلی مگر رکا نہیں ۔۔غنڈے نے اپنی پسٹل سے نشانہ لیا گولی شادان کی ٹانگ کو چیرتی آر پار ہوئ ۔۔شادان تکلیف کی شدت سے نیچے زمین پر منہ کے بل گرا ۔۔اور مکمل بے بس ہوا ۔۔گل جاناں تکلیف سے مسکراتی۔۔۔بیوی کے لیے جدوجہد کی بدگمانی سے سوچا ۔۔غنڈے کے ساتھ اوپر گئ ۔۔
تو بڑی اطمینان سے ہے پتہ ہے میں یہاں کیوں لایا ہوں ۔۔۔غنڈہ اپنی پتلی مونچھوں کو تاو دیتے گل جاناں کے خاموش آسانی سے چلے آنے پر اپنی حیرانگی چھپاتا پوچھ گیا ۔۔
جانتی ہوں بہن بنانے تو لائے نہیں ہو ۔۔مگر کیا ہے مجھے اللّہ پر اچھی بری تقدیر پر ایمان ہے ۔۔۔اگر کائنات کے خالق نے مجھے بناتے وقت میرے نصیب میں پامالی لکھ دی تو مجھے کوئ بچا نہیں سکتا ۔۔۔اگر اس نے پامالی نہیں لکھی تو تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ۔۔میں نہ تو تمہارے اندر کے حیوان کے آگے فریاد کرکے اسے تسکین دونگی ۔۔نہ ہی کوئ واویلا کرکے اللّہ کو ناراض کرونگی ۔۔۔صرف آخری وقت تک دعا کرونگی ۔۔یہ کہہ کر گل جاناں نے آنکھیں موند لیں اور اپنے ہاتھ اللّہ کی بارگاہ میں پھیلا لیے ۔۔۔
بلال کو چند لوگ بے ہوش پڑا دیکھ کر ہوسپٹل لے گئے ہوش میں آتے ہی بلال نے دو فون کیے ایک اپنے دوست کو . دوسرا شہروز مینشن ۔۔۔۔بلال نے دوست کو بتایا معاملہ پوراالٹ ہوگیا جلدی سے ہائر کردہ غنڈوں سے بات کرے ان کی لوکیشن اسے بھیجے اس کے دل میں ڈر جاگا ۔ وہ خود وہاں ہوتاتو الگ بات ہے مگر اب تک تو ساری پلاننگ پر پانی پھیرا ۔۔کہیں وہ لوگ شادان سے نکاح نہ کرادیں ۔۔میرے اللّہ خیر کر ۔۔بے ساختہ اللّہ پاک کو یاد کیا ۔۔۔۔
چل پھر تو امداد کا انتظار کر اور میں اپنا کام شروع کرو سر شار سا گل جاناں کے پاس آیا اور عبائے کا دوپٹہ اتار پھینکا ۔گل جاناں کے ہاتھ جھکے مگر زبان نہ رکی ۔۔۔۔۔دوبارہ گریبان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا ہی تھا زور دار آواز سے کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔
وزیر کی بھتیجی اغواہ ہوئ ایک دم پولیس کے چند جوانوں کو الرٹ کردیا کہ بات خفیہ رکھ کے بازیاب کرائیں ۔۔غزنوی کو بھی اطلاع دے دی گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔اسوقت لاہور ایرپورٹ پر ہی تھا پشاور جانے کے بجائے کراچی کے لیے روانہ ہوا ۔۔۔
ہاں یار یہ کیا غلطی کی غلط بندے کو لے گئے اصلی بندہ وہیں چھوڑ گئے ۔۔۔۔دوست فون پر غنڈے پر غصہ ہوا ۔۔
کیا مطلب جو کچھ نشانی دی سب وہی تھیں ۔۔یہی کہا تھا بلیک مرسڈیز پر تین لڑکیا ں ہونگی ایک نقاب دو بنا نقاب بندہ خود ڈرایونگ کررہا ہوگا ۔۔غنڈے نے پریشانی سے بتایا ۔۔۔
ہاں عین وقت پر کچھ مسئلہ ہوگیا سب کو چھوڑ دو اب تم ۔۔تمہارا پیسہ تم کو پورا ملے گا ۔۔۔
نہیں پیسہ نہ دو لیکن اب میرا ارداہ بدل گیا ۔۔۔غنڈے نے فون بند کردیا ۔۔۔
دوست نے بلال کو بتا یا ۔۔
بلال نے جھوٹ بولا کہ ان میں سے ایک کے بھائ کو تاوان کا فون آیا ہے اس نے رابطہ کرکے مجھے یہ نمبر سینڈ کیا ہے اس نبمر کی آخری لوکیشن معلوم کرلیں ۔۔۔چند منٹ لگےفورا اسپیشل ٹیم روانہ ہوئ ۔۔۔۔
غنڈہ مسکراتے ہوئے بڑھ رہا تھا دروازے کی آواز طرف متوجہ ہوا تو ہاتھ گل کے کاندھے پر چلا گیا ۔۔
اندر تیزی سے آتے گل شیر کی نظروں نے یہ منظر دیکھا غصہ کی شدت سے لمحے کی تاخیر کیے بناء گل شیر جاناں کے پاس پہنچا اور جھٹکے سے غنڈے کو دور پھینکا دوپٹہ اٹھا کر گل جاناں کو اوڑھایا ۔۔۔۔غنڈہ گل شیر کو مارنے لپکا ۔۔۔لیکن۔سامنے بلیک بیلٹ گل شیر تھا دو ہی وار میں مقابل کو دھول چٹائ ۔۔۔جس ہاتھ کو جاناں کے کندھے پر دیکھا تغا بے دردی سے توڑ ڈالا ۔۔ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا ۔۔گل شیر کا غصہ ختم نہیں ہوا ہاتھ توڑ کر بھی سکون نہ ملا آس پاس دیکھا کانچ کا جگ پڑا تھا ۔۔اٹھایا پوری قوت سے غنڈے کے چہرے پر مارا ۔۔کانچ ٹوٹ کر غنڈے کے چہرے اور آنکھوں میں پیوست ہوئے ۔صرف چند منٹوں میں غنڈے کی حالت بدل گئ ۔غنڈہ تڑپ کر حواس کھو گیا ۔۔پولیس آفسر نے گل شیر کو روکا ورنہ وہ تشدد کے ذریعے ہی جان سے مار دیتا ۔۔۔
جاناں یہ تمام صورتحال خاموشی سے دیکھتی رہی اللّہ پاک کی بروقت امداد پر سن ہوئ آنکھ بھی تشکر کے احساس سے رو پڑی ۔۔گل شیر نے جاناں کے سر پر ہاتھ رکھا تو پھر خاموشی سے روتی جاناں چیخ چیخ بلک بلک کر روئ آوازیں نیچے شادان کے کانوں میں بھی پڑی ۔۔یہ رونا عام رونا نہ تھا ۔۔محبت کی بدترین صورت پر تھا ۔ اپنی ذات کے بکھر جانے پر تھا ۔۔۔اپنی حیا پر جو حملہ سہا اس تکلیف کا تھا ۔ بے یقینی سے جب محب کو دیکھا تو چھپی محبت کے سامنے آنے کا تھا،
گل شیر کی بھی آنکھیں نم ہوئ ۔۔۔گل شیر نے دل ہلکا کرنے دیا ۔روتے روتے گل جاناں بے ہوش ہوگئ ۔۔۔بسمہ پہلے ہی بے ہوش تھی گل جاناں کو جاتے دیکھ نشاء بھی برداشت نہ کرسکی حواس چھوڑ دیے ۔۔شادان سر تاپا زخمی تھا ۔۔چاروں کو فوری ہوسپٹل روانہ ہوا ۔۔۔
بلال بھی سخت شرمندہ اور خوف زدہ تھا ۔۔ ۔۔۔مگر اب شرمندگی کا کرنا بھی کیا ۔۔۔
غزنوی سیدھا ہوسپٹل آیا ۔۔۔ان سب کو ذہنی سکون کے لیے نیند کا انجکیشن دے دیا گیا ۔۔۔غزنوی نے آنے والے کل میں ہی سب سے ملنے کا سوچا اور زخمی غنڈے کے روم میں پہنچا ۔۔۔۔اگر پرانا غزنوی ہوتا تو جان سے مارنے میں لمحہ کی کوتاہی نہ کرتا مگر اب سلجھا غزنوی ہے ۔۔تحمل مزاج ۔۔۔
میرے بھائ نے تم کو زندہ چھوڑ دیا اگر مجھے سچائ نہیں بتائ تو میں نہیں چھوڑو گا سچ کا پتہ کسی دوسرے ذریعہ سے لگا لونگا ۔۔۔اس لیے جھوٹ بولے بناء سب اگلو ۔۔۔کمرے میں گل شیر غزنوی اور قابل اعتماد ایس پی پی کے ساتھ کھڑے غزنوی نے دو ٹوک بات کی ۔۔
بتاتا ہوں ۔۔۔غنڈے نے ڈر کر گہری سانس لی ۔۔۔
ف فو فون آیا ۔۔۔دس لاکھ میں ۔۔۔۔ڈیل ہوئ ۔۔۔اغواہ کر کر غنڈے کی اٹک اٹک بول کر ہمت جواب دے گئ ۔تھوڑی دیر رکا ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *