Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29

غزنوی اپنے اندر کا اضطراب چھپائے سرد نگاہوں سے غنڈے کے بولنے کا منتظر رہا ۔۔۔
ڈرائیور کے ساتھ پردے والی کا نکاح کروا دینا ۔۔۔اور چھوڑ دینا ۔غنڈا پھر سانس لینے رکا ۔
نکاح کا سن کر غزنوی کے اعصاب کو جھٹکا لگا ۔۔۔۔یہ کیا ہوگیا اس کی گل کی ڈلی کے ساتھ ۔۔۔
آگے بتاو غزنوی کے چہرے کے بدلتے رنگ پر گل شیر نے سوال کیا ۔۔
نکاح کروادیا تھا مگر میری نیت میں فتور آیا اور میں یہاں آگیا ۔۔
گل شیر کون تھا ساتھ ۔۔۔گل شیر نے نظر چرائ ۔۔ابھی اس قصے کو رہنے دیتے ہیں گل جاناں کو ہوش آلینے دیں پھر بات کرتے ہیں ۔۔۔ایس پی صاحب آپ اس کے موبائلز کالز سے پتہ کریں آخر یہ فون والا بندہ کون ہوسکتا ہے ۔۔۔۔
غزنوی کی نظروں کو نظرانداز کیے گل شیر نے ایس پی کو کام سونپا ۔۔۔
غزنوی کو یہ نظر اندازی کھلی ۔۔اس بار ایس پی سے ہی پوچھ ڈالا ۔۔آپ بتایے سر کون ساتھ تھا ۔۔۔۔
جسٹس دوار کا بھاتیجا ۔ ان کو بھی انفارم کردیا گیا ۔۔آپ کی سسٹر کے برابر والے روم میں ہے ۔۔۔۔۔
آج صبح سے اعصاب شکن جھٹکے مل رہے ہیں ۔۔ورطہ ء حیرت میں مبتلا ہوا ۔۔۔کیا بدلہ لیا پہلی سوچ دماغ میں گونجی ۔۔تیزی سے باہر نکلا ۔۔روم کے دروازے پر رک کر خود پر کنٹرول کیا ۔ پھر دروازہ کھول کر داخل ہوا تو شادان فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔چونک کر شادان نے دیکھا دونوں کی نظریں ملی ۔۔۔غزنوی کی آنکھوں میں بھی شک کی پرچھائیاں تھیں ۔.
آہستہ آہستہ شادان کی آنکھوں میں دیکھتا غزنوی آگے بڑھا ۔۔۔
قریب رک کر سینے پر دونوں ہاتھ باندھے سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
بدلہ لینا تھا تو مجھے معاف کیوں کیا ۔۔میں قصوار تھا تو میرے سینے میں بارود اتار دیتے ۔۔۔لیکن میری بہن کو کیوں تکلیف دی ۔۔۔
میں اتنا بے غیرت نہیں عورتوں سے بدلہ لو ۔۔میرے اندر اتنی ہمت اور طاقت ہے تمہیں چیر کے رکھ دوں ۔۔۔لیکن جب تم اپنی سزا بھگت چکے ہو اور لاروش نے بھی معاف کردیا تو میں کم ظرف نہیں ۔۔مجھ پر شک اور لعن طعن کرنے سے بہتر ہے اصل مجرم ڈھونڈو ۔۔اور اللّہ کا شکر ادا کرو تمہاری بہن کی ناموس سلامت رہی ۔۔۔۔میری صرف اتنی غلطی ہے کہ میں نے کار میں لفٹ دی ۔۔۔شادان نے ٹھہرے لہجے میں صاف صاف بات کی ۔۔۔
غزنوی پلٹا ۔۔۔۔لیکن شادان کی بات پر رکا مڑا نہیں ۔۔۔
گو کہ جن حالات میں نکاح ہوا وہ جائز نہیں تھا ۔۔مگر میرےنام کے ساتھ تمہاری بہن کا نام جڑ گیاہے اور ہم پھٹانوں کے اصول سے واقف ہو تم ۔۔میں کوشش کرونگا جلد رشتہ لیکر آوں باضابطہ کاروائ ہو ۔۔۔۔
کیا ہم سب ایک بار پھر ماضی کو بھول سکتے ہیں ۔۔۔شادان نے جواب دیے بناء جاتے غزنوی کو رک کر پوچھا ۔۔۔۔
ہاں کوئ ہرج نہیں ۔۔۔تم بھیجو اپنے بڑوں کو دھوم سے رخصت کریں گے ۔۔۔غزنوی نے پلٹ کر دقت سے مسکرا کر جواب دیا ۔
اور باہر چلا گیا ۔۔۔۔
کہنے کو دونوں فریقین نے کہہ دیا ایک بار پھر بھول جائیں ۔۔تو کیا پہلے جو کوشش ہوئ تھی اس میں مکمل نہیں بھولے جو دوبارہ کوشش ہوگی ۔۔۔کیا ہواتھا ماضی میں اتنا پرانا ماضی بھی نہ تھا ۔۔۔۔
ماضی ڈھائ سال قبل ۔۔۔۔۔۔. وہیں سے شروع کرتے ہیں ۔۔۔
استخارے سے اطمینان نہ ملا ۔۔وجاہت کو منع کردیا ۔۔
وجاہت کی شادی بشری کی چھوٹی بہن یسری سے ہوگئ ۔ ۔شجاع لاروش میں محبت بڑھتی رہی ۔۔۔لاروش شجاع کا ساتھ پا کر بے حد مطمئن ہوئ.۔جو ہوا اسے بھولنا ممکن نہیں لیکن نظرانداز کیے آگے بڑھنا لاروش نے شروع کردیا ۔۔۔
میرا دل سچ میں گول گپے کھانے کا کر رہا ہے ۔۔لاروش رات کے دو بجے شجاع کو اٹھا کر بولی ۔۔۔
یار رات کے دو بجے میں کہاں سے گول گپے ایجاد کرو ۔۔اگر میں گینگسٹر ہوتا تو ابھی اپنے بندوں سے کہتا وہ جاتے گول گپے والے کو گول گپوں سمیت اغوا کر کے لے آتے میں ٹھہرا معصوم فوجی بتاو کیا کرو ۔نیند سے اٹھانے پر غصہ کرنے کے بجائے شگفتہ انداز میں بہلایا ۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ مجھے گول گپے کھانے ہیں تو بس کھانے ہیں ۔۔لاروش نے ہٹیلے پن سے کہا یہ اعتماد بھی شجاع کا دیا ہوا ہے جو ضد کی ۔۔۔
یہ سب میرے سنیئر کی غلطی ہے ۔۔۔شجاع نے سنجیدگی سے جمائ لیتے کہا ۔۔۔
یہ گول گپوں میں سینئر کی کیا غلطی ۔۔لاروش نے حیرت سے پوچھا ۔۔
بھئ جب میں کیڈٹ تھا تو مجھے بریانی پکانا سیکھائ وہ الگ بات ہے وہ بریانی کے نام پر چاول کھانے کے قابل ہوتے ہیں ۔آٹا گوندھوایا ۔۔نقشے میں نے کبھی معاشرتی علوم میں ٹھیک نہ بنائے لیکن روٹی کے بہترین بنائے ۔۔۔پھر قورمہ کے نام پر سالن بھی بنا لیتا ہوں ۔۔گول گپے نہیں بنوائے ورنہ میں ابھی بنا دیتا ۔۔۔شجاع نے بے چارگی سے بات ختم کی ۔۔۔
ہیں فوج میں کھانا پکانا بھی سیکھاتے ہیں لاروش خوش ہوئ ۔
ہاں جی سینئر کا بس نہ چلے ایک سگھڑ لڑکی کا روپ دے دیں ۔۔۔شجاع نے آہ بھری پرانے زخم ہرے ہوگئے ۔۔
لیکن یہ ٹریننگ کیوں دی جاتی ہے ۔۔۔لاروش نے پوچھا ۔۔
میری معصوم بیوی یہ جبری ٹریننگ ہے جو ہر سینئر کا اپنے جونیر پر حق ہے ۔۔تم پریشان نہ ہو ۔۔۔شجاع نے تسلی دی ۔۔کیا بتائے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر سنیئر کے ہاتھوں ایسی درگت بننا کتنا ضروری ہے ۔۔۔
میں کیوں پریشان ہوں فوج کی مرضی اپنے کیڈٹ کو ساس بننا سیکھائے یا نند ۔۔میرا مسئلہ تو گول گپے ہیں ابھی میں حویلی ہوتی میری دونوں مائیں مجھے گول گپے دیتی ۔۔لاروش نے بات کے آخر میں معصوم صورت بنائ ۔۔
میری پیاری زوجہ ابھی کچھ اور کھالو پکا صبح نہیں دوپہر میں گول گپوں کا ٹھیلا لے آونگا جتنے دل چاہے کھا لینا ۔۔۔
سوجائیں آپ میں کچھ نہیں کھاونگی کھایا ہی نہیں جائے گا کچھ اور اور صبح تک اللّہ کو پیاری ہوجاونگی ۔۔۔لاروش نے ڈرانا چاہا مگر خود ڈر گئ ۔۔۔
شٹ اپ ۔۔بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔انسانی زندگی اتنی سستی ہے کہ گول گپوں کے پیچھے مرجایا جائے ۔۔ناگواری سے شجاع نے کہا ۔۔۔شجاع کے لہجے کی سختی لاروش نے کبھی نہیں دیکھی ابھی جس طرح شجاع نے کہا لاروش سہم گئ ۔.
میں کھالیتی ہوں کچھ ۔۔خاموشی سے اٹھ کر ٹیبل پر رکھے فروٹس اٹھائیں دل نہ چاہتے ہوئے بھی ایک کیلا کھانا شروع کیا ۔زبردستی کھانے کی وجہ سے آنسو سے آنکھیں بھری ۔۔اور یہی شجاع کا دل نرم ہوا ۔۔ موبائل لیا ۔۔۔
بیڈ سے اتر کر آیا کیلا ہاتھ سے لیکر رکھا ۔۔کھڑا کیا ۔۔اور لاروش کو لیکر چل پڑا ۔۔۔۔۔لاروش نے ڈبڈبائ آنکھوں سے دیکھا اگر آنسو نکل آتے تو شجاع ناراض ہوجاتا اس لیے آنکھیں جھپک کر آنسو روکے ہم کہا ں جارہے ہیں کمرے سے باہر نکلتے پوچھا مگر جواب دینے کی ضرورت نہ پڑی ۔۔کچن کا دروازہ کھول کر اندر آگئے ۔۔یہاں بیٹھو ۔
نیٹ کی مدد سے گول گپے بناتا ہوں ۔۔تم یہاں بیٹھو سامان بتاتے جاو کہاں رکھا ۔۔۔لاروش خوش ہوگئ سہمہ موڈ نو دو گیارہ ہوا۔۔
یار ترکیب تو بے حد آسان ہے ۔۔آٹا تو موجود ہے کیا سوجی ہوگی گھر میں ۔۔۔لاروش کو اپنی جانب دیکھتے پوچھا ۔
ہاں وہ سیکنڈ کبڈ میں ہے ۔۔لاروش نے نشاندہی کی ۔۔
اب برابری سے دونوں چیزیں لی ۔ پھر سخت گوندھ لو ۔۔
میں گوندھوں ۔۔لاروش نے مدد کرنا چاہا ۔۔اسے شجاع کا آٹا گوندھنا عجیب سے لگا۔۔
نہیں یار میں آٹا اچھا گوندھتا ہوں ۔۔تم بس دیکھتی جاو ۔۔اگر مدد کرنی ہے ۔۔تو مجھے املی نکال کر دو ۔۔ یہ املی کیا ہوتی ہے شجاع نے پوچھا ۔۔
آپ کو نہیں پتہ ۔۔سچ میں غضب ہوتی ہے میں تو اکثر کھاتی ہوں ۔۔۔کٹاروں سے بنتی ہے ۔۔۔ہائے منہ میں پانی آگیا ۔۔۔لاروش شجاع کو بتاتی املی نکالنے لگی ۔۔یہ ہوتی ہے املی ۔۔
یار یہ کچھ زیادہ کالی نہیں ہے ۔۔۔شجاع نے املی کی شکل پر اعتراض کیا ۔۔
ہم نے اسے کھانا ہے آپ کا رشتہ نہیں دینا جو کالی ہے ۔۔ لاروش نے منہ بنایا ۔۔
تم کو کیا لگتا ہے میں کالا اور گورا کرنے والا ہوں ۔۔شجاع نے آٹے سے نبرد آزما ہوتے لاروش سے پوچھا ۔۔
نہیں آپ بہت اچھے ہیں بیسٹ ۔لوگوں کے عیبوں کو چھپاتے ہیں ان میں عیب نہیں ڈھونڈتے ۔لاروش نے محبت سے کہا اور شجاع کا بازو تھامے کندھے پر سر رکھ دیا ۔۔
یہ تو کچھ زیادہ تعریف کردی ۔۔نہیں یار میں اتنا اچھا بھی نہیں ہوں ۔۔
جی نہیں میرے شجاع بیسٹ ہیں ۔۔خبردار آپ نے کچھ کہا تو سزا میں یہ پوری املی کھانے کو دونگی ۔۔لاروش نے دھونس جمائ ۔۔
اس میں کونسی بڑی بات ہے جتنی دل چاہے املی دو میں کھالونگا ۔۔یہ کہہ کر شجاع نے املی کی پیالی سے ایک دانہ اٹھا کر منہ میں ڈالا ۔۔
اختھو ۔ اس قدر کھٹا ۔۔۔فوراً کلی کی ۔۔۔
لاروش نے آبرو اچکائ ۔۔جیسے پوچھ رہی ہو بتایے اب کیا کہنا ہے
میں بہت اچھاہوں جھٹ شجاع نے اعتراف کیا ۔۔۔لاروش شجاع کے اسٹائل پر ہنس دی ۔۔جلدی بنائیں نہ ۔۔۔پھر لاروش نے کہا جو لاروش کو ہنستے دیکھ محبت بھری نظروں سے تکنے لگا ۔۔
جو حکم ۔۔شجاع بولا ۔۔
کڑاہی میں تیل گرم کیا ۔۔روٹی بیلی ۔۔اب سرکل کے لیے کچھ چاہیے ۔۔یار کس سے سرکل کروں ۔۔نیٹ والی کے پاس تو سرکل تھا ہمارے پاس ہے کیا بے چارگی سے پوچھا ۔۔
سرکل شیپ نہیں ہے تو ہم چائے کے کپ سے شیپ بنالیتے ہیں ۔۔لاروش نے جھٹ مشورہ دیا ۔۔۔
ہوں گڈ یار ۔۔شجاع نے سراہا ۔۔کپ اٹھایا ۔۔۔
میں شیپ کرتی ہوں آپ تلیں ۔۔۔نیٹ پر ایک بار پھر ترکیب پر مختصر نظر ڈالی ۔۔
یہ بھی ٹھیک ہے ۔۔پھر لاروش نے شیپ بنائیے شجاع نے تلے ۔۔
یار یہ پھول کر گول کیوں نہیں ہورہے ۔۔شجاع چپٹے چپٹے گول گپے دیکھ کر جھنجھلایا محنت کھٹائ میں پڑتی نظر آئ ۔۔
اوہو گھبرائے نہیں ۔۔ایک ایک کرکے تلتے ہیں اور تلتے وقت شیپ پر تیل ڈالتے رہیے ۔۔۔لاروش نے مشورہ دیا ۔۔شجاع نے عمل کیا ۔۔
واو یار زبردست لگ رہے ہیں بڑھاپے میں ہم دونوں گول گپوں کا پارلر کھولیں گے ۔۔
نہیں جی میں بڑھاپے میں کوئ کام نہیں کرونگی بہووں پر رعب جمانے کے علاوہ ۔۔۔لاروش نے لا پرواہی سے کہا. .
چلو پھر میں بھی یہی کرونگا لیکن یار وہ پھر شکایت لگائیں گی بیٹوں سے بڈھا بڈھی سھٹیاگئے ہمیں تنگ کر رہے ہیں ۔۔
ُبات سنیں ۔۔لاروش نے بیلن ریک پر پٹخا ۔۔شجاع کی طرف گھومی ۔۔بڈھے ہونگے آپ وہ چڑیلیں میرے بیٹوں کے کان تو بھرے کان سے پکڑ کر سیدھا میکے کا رستہ دکھاونگی ۔۔میں تو جب بھی جوان ہونگی اور ملکہ حسن بھی ہونگی ۔۔لاروش اترائ ۔۔
بالکل یار ۔۔۔شجاع نے ہاں میں ملائ ۔۔۔لاروش کی سمت نگاہ کی جس پر ممتا کا چھایا روپ اسے دلکش بنارہا ہے ۔۔۔حق ہوتے ہوئے بھی لمٹ میں رہنا شجاع کو کبھی بہت کڑا لگتا مگر ابھی عشق و دین کا امتحان ہے صبر کرنا ہے۔۔۔
گول گپے تیار ہوگئے ۔۔شجاع نے خوش ہو کر کہا ۔۔
ابھی کہاں اس کا پانی کون بنائے گا ۔۔لاروش بولی ۔۔
یار اتنا کھٹا کھانے سے بی پی ہائ ہوتا چھوڑو ۔ دہی میں ڈبو کر کھا لو پلیز ۔۔۔شجاع نے التجا کی
جی نہیں گول گپوں کا پرفیکیٹ کپل ہے میں تو انہیں جدا نہیں کرونگی نہ ہی آپ کو ظالم سماج بننے دونگی ۔۔۔لاروش نے التجا ماننے سے انکار ۔۔۔
مجھے ظالم سماج بننے کا شوق ہے آج یہ شوق پورا کرنے دو ۔۔۔شجاع مسکرایا ۔۔
لاروش نے مسکراہٹ دبائ ۔۔۔جی نہیں میں ان گول گپوں پر ہر گز ظلم نہیں ہونے دونگی ۔۔۔ایسا کرتی ہوں پانی میں بناتی ہوں آپ دیکھیں ۔۔۔کہیں سچ میں املی کے پانی کو زمین بوس نہ کردیں ۔۔یہ کہہ کر املی کی پیالی کنٹرول میں لی ۔۔
یہ دیکھیں بس آدھی پیالی ٹھیک اس میں چاٹ مصالحہ کالی مرچ کالا نمک اور پسی مرچ اور کٹی سونٹھ سونٹھ تو ہے نہیں ۔۔ادرک ڈالتی ہوں ۔۔لاروش نے ایک ایک کرکے اجزاء ملائے ۔۔
خوف خدا کرو کچھ یار اتنا کھٹا پہلے ہی اوپر سے اتنا اسپائس ۔۔ شجاع نے سر پکڑا ۔۔
آپ کو نہیں پتہ یہ سب لڑکیوں اور خواتین کی پسندیدہ غذا ہے ۔ہم آرام سے کھاتے ہیں دو سے تین درجن ۔۔۔لاروش نے شجاع کی معلومات میں اضافہ کیا ۔۔
کیا دو سے تین درجن ایک ہی بار میں ۔۔۔شجاع کے چہرے پر شدید حیرت اتری ۔۔۔
ہاں جی میں ابھی کھا کر دکھاونگی ٹینشن نہ لیجیے ۔۔۔لاروش حیرت پر مسکرائ ۔۔بس آپ اس سارے مکسچر میں ایک سے دو گلاس پانی ڈال دیں اور خوب ہلائیں تیار ہوگئے یاہو ۔۔
پھر رات کے ساڑھے تین بجے گول گپوں کا مشن ختم ہوا ۔۔پیسٹ میں پانی ڈالنے سےشجاع کو کچھ تسلی ہوئ ۔۔۔
تیزی سے لاروش نے گول گپے کھائیں آٹھ دس کھا کر شجاع کا خیال آیا ۔۔آپ بھی کھا یے نہ ۔۔۔
نہیں تم کھاو میں تم کو دیکھ رہا ہوں یہ کافی ہے ۔۔
مرضی کندھے اچکائے ۔۔پھر پورے بیس گول اور پانچ چپٹے کھا کر ہی سونے کے لیے گئ ۔۔۔
دن پر دن گزرتے رہے لاروش کا نواں مہینہ شروع ہوا اور ادھرشجاع کی پوسٹنگ آزاد کشمیر بارڈر پر ہوئ تو پھر شجاع نے لاروش کو گاوں بھیج دیا ۔۔۔خود چھوڑنے گیا دو دن گاوں میں رک کر لاروش کو ڈھیر ساری نصیحتیں کیے واپس ڈیوٹی جوائن کی ۔۔۔
_________________________
غزنوی نے انس کے ساتھ مل کر ثنا کو منایا ۔۔سب کے اصرار پر خاص طور پر شجاع کے سمجھانے پر ثنا نے ہاں کی ۔۔۔انس نے فوراً شادی پر زور دیا اور آگے تعلیم شادی کے بعد جاری رکھنےکا وعدہ کیا ۔۔۔شجاع لاروش کے سفر نہ کرسکنے کی بناء پر شادی میں شریک نہیں ہوئے مگر ویڈیو کال پر لاروش نے ثنا کے تینوں روپ دیکھے ۔۔۔۔مایوں بارات اور ولیمہ کی دلہن ہر روپ میں ثنا خوبصورت لگی ۔۔۔۔۔۔۔
غزنوی کو بھی اپنے سر سے ایک بوجھ ہٹنے کی خوشی ہوئ ۔۔غزنوی مختلف دینی جماعتوں کی تبلیغی سفر میں شرکت کرتا رہا ۔۔۔سب سے ہی کچھ نہ کچھ سیکھنے کا عمل جاری ہے ۔۔۔تبلیغ کے سلسلے میں ایبٹ آباد جانا پڑا ۔۔وہاں شجاع کے ساتھ چہل قدمی کرتی لاروش پر نظر پڑی اور پلٹنے سے انکاری ہوئ ۔۔یک ٹک دیکھتا رہا غزنوی درخت کی آڑ میں اس طرح کھڑا تھا کہ اس کے پتوں سے آدھا ڈھک گیا ۔۔۔پیلے اور لال سوٹ پر بڑی سی شال اوڑھے بھرا بھرا سراپا ۔۔دمکتی رنگت روشن کالی آنکھوں کی چمک وخوبصورتی بتارہی ہے لاروش شجاع کے ساتھ خوش ہے ۔۔۔
دل کو اگر یہ سکون ملا لاروش خوش ہے تو یہ بے سکونی بھی ملی کہ اس کے ساتھ نہیں ۔۔بڑا مشکل ہوتا ہے اپنے محبوب کو دوسرے کے ساتھ دیکھنا ۔۔۔۔مگر دل پر قابو پاتا ۔۔اپنی سزا تسلیم۔کرتا ۔۔لاروش کے لیے دعا کی ۔
گل جاناں کے لیے اس کی خالہ باقاعدہ رشتہ لائی۔۔۔
لالہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ۔۔اور اویس سے تو نہیں کرنی اگر اویس کے لیے ہاں کی تو پھر چچا جی کو برا لگ سکتا ہے ۔۔اور مجھے کونسا اویس سے محبت ہے جو اپنے چچا کو ناراض کرو ۔۔آپ منع کردیں مجھے پڑھنا ہے جب تعلیم مکمل ہوجائے گی تب جو بھی اچھا رشتہ لگے اس سے میری شادی کر دینا مگر ابھی مجھے اس چکر میں نہ الجھائیں ۔۔۔گل جاناں رشتہ کا سن کر فوراً غزنوی کے پاس آگئ ۔۔۔
ٹھیک ہے جو تمہاری خوشی وہی میری خوشی ۔۔تم بے فکر رہو ۔۔غزنوی نے ابھی اور آئندہ کے لیے گل جاناں کو اطمینان دلایا ۔۔۔غزنوی کو کبھی کبھی لگتا تھا اس کی گڑ کی ڈلی بھی محبت کا سفر کررہی ہے ۔۔اس لیے اس نے اپنے لفظوں سے اسے مکمل اعتماد دیا ۔۔۔۔
گل جاناں کو غزنوی کی بات سے بے حد خوشی ۔۔شکریہ لالہ غزنوی کے بال محبت سے بگاڑ کر ورشہ اور پلوشہ کو بتانے چلی ۔۔۔
غزنوی نے بھی منع کردیا ۔۔۔تو سب ہی مان گئے ۔۔خالہ نے اویس کے لیے پھر پلوشہ کا ہاتھ مانگا چند دن سوچ کر ہاں کہہ دیا شادی دوسال بعد طے کی ۔۔۔
لاروش بیٹا اداس ہو ۔۔۔گل زریں نے اداس بیٹھی لاروش سے پوچھا ۔۔چھ دن ہوگئے اسے حویلی آئے ۔۔ دو دن تو شجاع ساتھ رہا مگر پھر چلا گیا ۔۔
نہیں مورے میں ۔۔۔۔آدھی بات کہہ کر گل زریں کی طرف دیکھا جن کے چہرے پر شرارتی مسکان کھل رہی ہے ۔۔۔منہ بسورا ۔۔
جب پتہ ہے تو پھر پوچھ کیوں رہی ہیں ۔۔بول کر سر ان کے گود میں رکھ لیا ۔۔۔
ہاں دیکھ رہی ہوں بیٹا جی جس حویلی میں عمر کا ایک حصہ گزرا وہاں اب دل نہیں لگ رہا اور چند دن جہاں گزارے وہاں کی یاد میں اداس ہوگئ ۔۔
ایسا نہیں مورے میں تو کافی عرصے سے حویلی آنا چاہ رہی ہوں مگر شجاع ہی نہیں آنے دیتے تھے ۔۔۔ مجھے تو شجاع کی یاد آرہی ہے ۔آج فون نہیں کیا ۔۔۔۔لاروش نے وضاحت دی
اچھا جی ۔۔۔۔مورے نے محبت سے اپنی بیٹی کو دیکھا جس کی خوبصورتی میں دن با دن نکھار آرہا ہے ۔۔شجاع کی محبت لاروش کے اطمینان اور اداس چہرہ دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے جسمیں وہ پوری پوری ڈوب چکی ہے ۔۔۔
تم فون کرلو ۔۔۔لاروش کے سر پر ہاتھ پھیرتے بولی ۔
نہیں منع کر کے گئے ہیں ۔۔ڈیوٹی بارڈر پر لگی ہے چوکنا رہنا پڑھتا ہے ایسے میں اگر فون کرونگی تو دھیان بٹنے کا اندیشہ ہوگا۔۔اس لیے کہہ گئے تھے میں فون نہ کرو وہ خود کرے گے ۔۔۔لاروش محبت سے بولی ۔۔
شجاع تمہارا خیال رکھتا ہے ۔۔۔کوئ پچھلی بات کا طعنہ تو نہ دیا ۔۔۔گل زریں کا لہجہ تھوڑا ڈرا سا تھا ۔۔۔
کون سی پچھلی بات ۔۔۔میں نے سوچنا بھی چھوڑ دیا۔۔۔آپ کے داماد کے سنگ وقت بہت اچھا گزر رہا ہے ۔۔اتنے چاہنے والے شخص کا ساتھ ملا تو میں اس کی چاہت پورے یقین سے سمیٹ رہی ہوں اللّہ پاک نے میری آزمائش کا اجر دیا ہے ۔۔۔۔تو میں آزمائش کو بھول گئ میں اجر کا لطف حاصل کررہی ہوں ۔۔۔رہ گئ بات خیال رکھنے کی تو ان چار دنوں میں آپ نے ایسا خیال بالکل نہیں رکھا جیسے میرے شجاع رکھ رہے تھے ۔۔جب ہی تو آج ان کی یاد آرہی ہے ۔۔
شجاع کی بات کرتے وقت ایک خوبصورت مسکراہٹ نے لبوں پر ڈیرہ ڈالا ۔۔۔مصنوعی ناراضگی دکھائ ۔۔
ہیں کیسے خیال رکھیں ذرا بتایے گا ۔۔۔لاروش کی بات اندر کمرے میں آتی بیگم اکبر نے سنی ۔۔اور بیڈ پر پاس آکر بیٹھ گئ ۔اور سوال پوچھ ڈالا ۔۔
لاروش اٹھ بیٹھی ۔۔
گھر آنے کے بعد آپ کا بیٹا ہر آدھے گھنٹے بعد مجھ سے کھانے پینے کی بابت پوچھتے رہتے ہیں ۔اور آپ دونوں مائیں ایک گھنٹے بعد ۔۔مجھے روز چہل قدمی کے لیے لے جاتے ہیں. اور آپ لوگوں کو پتہ ہی نہیں چہل قدمی کس چڑیا کانام ہے وہ تو میرے بابا جانی اور شادان لالہ ہیں جو روز جاگنگ اور چہل قدمی پر لے جاتے ہیں ورنہ آپ نے تو مجھے سست بنادینا تھا ۔۔۔ ۔۔میرے سے ڈھیر ساری باتیں کرتے ہیں ۔۔اور آپ دونوں کو گاوں کی خواتین کے جھمیلے نمٹانے سے فرصت ہی نہیں مل رہی جو مجھ معصوم سے دو گھڑی دکھ سکھ پوچھیں ۔۔دونوں مائیں پریشانی سے فراٹے چلتی زبان سن رہی جو چلتی جارہی ہے زبان کے جوہر دکھارہی ہیں ۔۔اتنی شکایتیں صرف تین دن میں ۔۔آگے کیا حال ہوگا ۔۔۔وہ تو کھانے پینے کا ٹھیک حساب رکھ رہی ہیں ۔۔۔چہل قدمی کا اس لیے نہیں بولا اس کی تھکن کا خیال ہے دو ٹائم شادان اور زاور جو لے جارہیں ۔۔۔رہ گئ بات باتوں کی تو وہ بھی کرہی رہیں کہاں سے لائیں باتیں ۔۔گاوں والوں کے جھمیلے سننے سے پہلے ہی دن منع کردیا کہ مجھ سے بیٹھا نہیں جائے گا آپ ہی نمٹایے ۔۔۔اور اب شکوہ ۔۔۔چلتی زبان نہ رکی ان کی سوچیں رکی ۔۔۔
۔رات کے دو بجے بھی نیند سے اٹھا کر فرمائش کرو تو پوری کرتے ہیں ۔۔۔کتنی بار بریانی بنائ ۔۔آپ کو پتہ ہے وہ بریانی تو نہیں بنتی لیکن ان چاولوں میں بے حد ذائقہ ہوتا ہے ۔۔پیٹ بھر کھاتی ہوں اور نیت نہیں بھرتی ۔۔نتیجا دو بار بدہضمی ہوئ ۔۔ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا ۔۔۔ہر بار عزم کرتے اب نہیں پکاونگا ۔۔لیکن ادھر صرف میں اتنا کہتی ہوں حویلی چلی جاونگی سر کے بل کچن جا کر پکاتے ہیں ۔۔۔لاروش نے جوش سے بتایا ۔۔۔
شرم۔نہیں آئ میرے بچے کو باورچی بنا دیا ۔۔بیگم نے مصنوعی خفگی سے کہا ۔۔۔شرم کی کیا بات میرے شوہر ہیں میرا خیال وہ نہیں رکھیں گے تو میں کیا باہرکسی نامحرم سے امید لگاوں ۔۔۔لاروش کو مصنوعی خفگی بھی بری لگی ۔۔۔
میرا بچہ چچی مزاق کررہی ہیں ۔۔۔گل زریں گھبرائ کہیں سمدھن کو یہ بات بری نہ لگے ۔۔۔
آنے دو میں کان کھینچونگی اور کہونگی زیادہ جورو کا غلام نہ بنو ۔۔۔بیگم نے گل زریں کو آنکھ ماری ۔۔اور نظروں سے تسلی دی ۔۔کہ میں نے برا نہیں مانا ۔۔۔
وہ آپ کی غلط بات نہیں مانے گا ۔ وہ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔ان کو بیوی اور ماں دونوں کا درجہ پتہ ہے ۔۔وہ کہتے ہیں ۔۔میں ماں سے ہوں اور تم مجھ سے ۔۔۔۔
کیا مطلب بیگم الجھی ۔۔۔
بھئ آپ نے نو ماہ اپنے شکم میں ان کو رکھا ۔۔پھر پیدا کیا ۔۔۔تو وہ آپ سے ہوئے ۔۔۔۔اور حضرت آدم کی پسلی سے اماں حوا پیدا ہوئیں یعنی زوجیت اس طرح ملی تو ۔۔بقول ان کے میں انکی پسلی کا حصہ ہوں ۔۔۔۔تو پوری ایمانداری سے اپنا کردار ادا کریں گے. ۔نہ آپ کی ناجائز بات مانے گے نہ میری ۔۔۔۔آپ حق پر ہوئ آپ کا ساتھ میں حق پر ہوئ تو میرا ساتھ ۔۔۔مزے سے بولی اور بیگم اکبر کی طرف دیکھا جو بیٹے کی انصاف پسند طبیعت پر خوش ہوئ ۔۔۔وجاہت کے مقابلے میں شجاع ان کی زیادہ خدمت گزار اورمحبت کرنے والا بیٹا ہے ۔۔
ہاں ماشاء اللّہ شجاع بہت اچھا ہے میری بھی بیشتر مرتبہ فون پر خیریت معلوم کرتا رہتا ہے ۔۔۔آج کل کے زمانے میں سو میں سے ایک ہی ایسا بندہ ہوتا ہے جو بیوی اور ماں دونوں کی عزت کرے ۔۔گل زریں نے بھی تعریف کی
بی بی جی شجاع صاب کا فون آیا ہے ۔۔ملازمہ نے آکر بتایا ۔۔
لاروش جلدی سے اٹھی اور تیزی سے لینڈ لائن نمبر کی طرف بھاگی ۔۔
آرام سے لاروش ۔۔گل زریں نے آواز لگائ ۔۔۔لیکن لاروش نے ان سنا کیا ۔۔۔ لاروش کی بے تابی پر سر پکڑ کر بیٹھ گئ ۔۔
اسلام علیکم ۔۔کیسے ہیں آپ ۔۔ریسیور تھام کر فورا سلام کے بعد سوال پوچھ ڈالا ۔۔جلدی جلدی بھاگنے کے سبب سانس پھول گئ تھی ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔میں ٹھیک ہوں اور تم اپنا زرا خیال نہیں رکھ رہی ۔۔شجاع نے شکوہ کیا ۔۔
میں اپنا بہت خیال رکھ رہی ہوں ۔۔۔لاروش نے کہا
ہاں جب ہی مجھ سے بات کرتے ہوئے سانس پھول رہی ہے ۔۔کون سی میراتھن ریس میں حصہ لیا ہے جس کی پریکٹیس کر رہی ہو ۔
لاروش مسکرائ ۔۔آپ کا فون سننے کو دوڑ کر آئ ۔۔افف زبان دانتوں تلے دبائ ۔۔۔
کیا یار آرام سے آسکتی تھیں ۔۔۔شجاع کے لہجے میں ہلکی ناراضگی آگئ ۔۔
میں صبح سے انتظار کررہی تھیں ۔۔اور سنگل بھی نہیں آرہے تھے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *