Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30
سوری بے دھیانی ہوگئ آئندہ احتیاط کرونگی ۔۔لاروش نے جلدی سے معافی مانگی ۔۔۔
مجھے منس کیا ۔۔شجاع نے محبت سے پوچھا ۔۔
بہت زیادہ ۔۔اور آپ نے ۔۔۔
میں نے بھی بہت منس کیا یار میس میں دل ہی نہیں لگ رہا ۔۔۔بارڈر کی مجبوری نہ ہوتی تو کبھی نہ بہیجتا ۔۔۔شجاع بے بسی سے بولا ۔۔
جی میں سمجھتی ہوں اس مجبوری کو ۔۔۔لاروش کی آنکھیں نم ہوئیں ۔۔۔
تم رو رہی ہو ۔۔
نہیں تو ۔۔گھبراکر کر کہا ۔۔
تمہاری آنکھیں نم ہیں آنسو بے آواز بہہ رہے ہیں ۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ چلا ۔۔آنسو پونچھتے حیرت سے پوچھا ۔۔
میرا دل کہہ رہا ہے میری لاروش کی آنکھ نم ہے ۔۔محبت سے چور لہجہ ایک بار پھر لاروش کو رولا گیا ۔۔لیکن۔اس بار خوشی کے آنسو ۔۔۔
آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔
ہاں ۔۔
لیکن آپ کی امی نہیں کرتی ۔۔بہت ستا رہی ہیں ظالم ساس بنی ہوئ ہیں ۔۔شرارتی آنکھیں ۔۔لیکن لہجہ سنجیدہ ۔۔سامنے دونوں ماوں کو دیکھ کر شرارت کی ۔۔اسپیکر اون کردیا ۔۔۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں اور اپنی ماں سے بھی محبت کرتا ہوں ۔۔اور میری ماں مجھ سے محبت کرتی ہیں ۔۔اس لیے مجھے پورا یقین ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا ۔۔وہ تمہارا پورا خیال رکھ رہی ہونگی ۔۔شجاع کے لہجے میں ماں کے لے محبت ہی نہیں یقین بھی موجود ہے ۔۔۔
اچھا جی تو میں جھوٹ بول رہی ہوں ۔لاروش نے مصنوعی تیکھے پن سے کہا۔۔
میں نے یہ کب کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو ۔۔تم شرارت بھی کر سکتی ہو ۔۔۔
بس میرے بیٹے سے بہت شکایتیں کرلی ۔۔اب مجھے تھوڑی بات کرنے دو ۔۔۔۔بیگم اکبر بولی ۔۔
ہاں تو آپ کے بیٹے نے کون سا سچ مان لیا لیں بات کریں ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کرکے پھر کل فون کرنے کا وعدہ کرکے شجاع نے کال بند کی ۔۔
پھر رات گئے تک لاروش کی چہکار سب کو اچھی لگی ۔۔۔
شجاع کو گئے پندرہ دن ہوگئے ۔۔لاروش کا بھی نواں مہینہ شروع ہوچکا ہے ۔۔کشمیر بارڈر پر حالات سنگین ہوگئے ۔۔بھارتی فوجی دن رات فائرنگ کرنا شروع کردیتے ۔۔چھوٹے بم بھی آبادی کی طرف پھیکنے لگے ۔۔۔میجر شجاع خود بھی جوانوں کے ساتھ مورچوں پر پابندی سے ڈیوٹی سرانجام دے رہاہے ۔۔رات میں اطلاع ملی صبح طبیعت کی خرابی کے سبب کیپٹن نثار ڈیوٹی نہیں دے سکیں گے ۔۔شجاع نے پھر خود ڈیوٹی دینے کا فیصلہ کیا ۔۔
وقتاً فوقتاً گولہ باری جاری تھی ۔۔کبھی وہاں سے فائرنگ مسلسل ہوتی کبھی تھوڑی ۔۔۔مورچوں میں الرٹ رہنا پڑتا ۔۔آبادی بھی نزدیک ہے اس لیے دفاع فوری ضروری ہوتا ۔۔دوپہر دو بجے تک فائرنگ تھمی ۔۔شجاع اور باقی سپاہیوں نے باری باری نماز ظہر ادا کی ۔۔اور باری باری کھانا کھایا ۔۔۔یہ سب کرتے تین بج گئے ۔شجاع سوچ میں پڑا آج تو لاروش سے بات ہی نہیں ہوپائے گی رات میں بھی ڈیوٹی ہے ۔۔۔۔۔ابھی سوچ میں مگن تھا پھر فائرنگ شروع ہوئ لیکن گھن گرج نہ تھی اس بار ۔۔۔لیکن پاک فوج کے سپاہیوں نے پوزیشن لے لی نہ جانے کب دشمن شر انگیزی دکھا دے اور خدشہ ٹھیک تھا فائرنگ رکی پھر کچھ وقفہ آیا ایک دم شجاع کی نظر آبادی سے نکلتے تین چار سال کے معصوم بچے پر پڑی جو کسی ڈر وخوف کے اپنا فٹ بال لیے گھر سے باہر کھیلنے آگیا ۔۔۔
سر جی یہ امائیں بھی نہ کبھی بہت لاپرواہی کرتی ہیں ۔۔
تم پوزیشن سنبھالے کھڑے رہو ۔۔میں جاتا ہوں ۔۔۔شجاع نے مورچے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
سر جی یہ کیا حماقت ہے ۔۔۔سپاہی بوکھلایا ۔۔
ہم صرف سرحدوں ہی کی نہیں اپنے عوام کی بھی حفاظت کے لیے ہیں ۔۔اور یہ معصوم میرے ملک کے کل معمار ہے ۔۔۔
دشمن کی نظر بھی معصوم بچے پر پڑ گئ ۔۔اس نے بھی نشانہ باندھ لیا ۔۔۔پاکستان کے شاہین نے بچے کو اپنی پروں میں چھپا کر محفوظ جگہ چھوڑا جہاں اس کی ماں اسے ڈھونڈتے آرہی ہے ۔۔شجاع بچے کو لگنے والی گولی اپنے پیٹھ پر تمغے کی طرح سجائے ۔۔ماں اور بچے کے ملاپ سے دل کو بے حد مطمئن پاتا زخمی حالت میں ہی اپنے مورچے پر پہنچا جہاں ایک بار پھر گھن گرج شروع ہوگئ ۔۔دشمن معصوم بچے کو مار نہ سکنے کے سبب شرمندگی سے ہائپر ہوگیا ۔۔۔
سر جی آپ کے خون نکل رہا ہے آپ واپس کیوں آئے ہم سنبھال رہے ہیں ۔۔
میرا فرض ہے یار میں اب اتنا بھی زخمی نہیں اپنے فرض سے منہ موڑ لو ۔۔تکلیف کی شدت چھپائے تندہی سے دشمن کو جوابی کاروائ دینے میں مصروف ہوگیا ۔۔بدترین حالت کو دیکھتے سپاہی نے وائرلیس کے ذریعے خبر دی ۔۔وہاں سے زخمی میجر کو لینے کے لیے ایمبولنس اور تازہ دم سپاہی روانہ ہوئے ۔۔۔
شجاع کی حالت بگڑنے لگی مگر اعصاب پر قابو پاتا جواب دینے میں مصروف تھا ۔۔شجاع کو محسوس ہونے لگا شہادت آرہی ہے ۔۔آنکھیں بند کیا تصور کے پردے پر ماں کا ۔۔باپ کا بھائ کا اور آخر میں لاروش کا بھرابھرا سراپا دیکھا ۔۔۔مسکراتے کلمہ طیبہ کا ورد زبان کرنے لگا ۔۔دشمن بھی فائرنگ کرتے تھک گیا ۔۔اور اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے چھوٹا میزائل فائر کیا جو سیدھا شجاع کے مورچے پر لگا ۔۔اور تین جانیں وطن عزیز کا دفاع کرتے خوبصورت ابدی سفر پر روانہ ہوئیں ۔۔۔
___________________________
لاروش سوتے سے اٹھ گئ ۔۔کوئ خواب نہ دیکھا ۔۔۔لیکن دل گھبرایا ۔۔زور سے دھک دھک کرنے لگا ۔۔دل کی دھڑکنیں سنبھالتی باہر آئ ۔۔
مورے اور بیگم اکبر باتیں کرتے سبزی بنا رہی تھیں ۔۔لاروش سیدھا مورے کے پاس آئ اور ڈری سہمی آواز میں بولی ۔۔
مورے میرا دل پریشان ہورہا ہے ۔۔مجھ کچھ اچھا نہیں لگ رہا. ۔۔
لاروش گھبراو نہیں اس حالت میں کبھی ایسا ہوجاتا ہے ۔۔بچے پریشان نہ ہو میں انار کا شربت پلاتی ہوں دل کو سکون ملے گا ۔۔۔
نہیں مورے میرا دل ڈر رہا ہے کچھ غلط ہونے کا اشارہ دے رہا ہے ۔۔۔
بیٹا پریشان نہ ہو ابھی ڈاکٹر کو بلاتے ہیں ۔۔۔۔۔آج میرا دل بھی بے سکون سا ہے ۔۔بیگم اکبر اداس سی بولی ۔۔
گل زریں ٹھٹکی ۔۔الہی خیر ۔۔۔
دونوں کو تسلی دے کر شربت منگوایا زبردستی پلایا ۔۔۔محب دل نے لاروش کو بتادیا اس کا محبوب اب نہ رہا مگر وہ انجان رہی ۔۔۔
شام چھ بجے آنے والے فون نے آفریدی حویلی کی فضا کو اداس کردیا ۔
آنافانا تیزی سے یہ خبر پہھلی ۔۔شجاع آفریدی شہادت کے رتبے پر پہنچ گئے ۔۔
لاروش کی طبعیت کے پیشِ نظر گل زریں نے چھپانے کا اردہ کیا لیکن اکبر خان کے کہنے پر جب شجاع کا جسد ِ خاکی لایا گیا ۔۔تو پھر لاروش کو ڈائریکٹ دکھایا ۔۔۔
ہرے پرچم میں لپٹا زخموں سے چور شجاع کا جسد خاکی لایا گیا ۔۔جہاں جہاں سے فوجی گاڑیاں گزری لوگوں نے نم آنکھوں سے پھول برسائے ۔۔شہید کی موت پر روتے نہیں ہیں لیکن یہ آنسو شکریہ کے بہائے ۔اگر تم شہید نہ ہوتے تو ہماری حفاظت نہ رہتی شکریہ اے شہید ۔۔۔
حویلی کے آنگن میں جہاں تھوڑا سا بچپن گزرا آج اس کڑیل جوان کی باڈی شان سے رکھی ہے ۔۔
بیگم اکبر کل سے آنسو رک رہی ہیں مگر ناممکن کام ہے یہ ۔۔۔ماں نے پالا محبت سے پروان چڑھایا اور اب کیسے اتنا حوصلہ لائیں کے اس کی موت پر نہ روئیں ۔
اکبر خان دکھ و فخر بیک وقت لگا ۔۔۔ اپنا بازو کٹ گیا یہ دکھ ۔۔اپنی دھرتی ماں کے کام آیا یہ فخر ۔۔۔
شادان کو شجاع کی لازوال قربانی بھائ کیسے وطن کے لیے اپنی جوانی قربان کردی ۔۔
جسٹس داور نے بھی اطلاع ملتے ہی ساری مصروفیت ترک کی اور ہنگامی طور پر رات گئے تک پہنچ گئے ۔۔
ادھر شمروز اورنگ زئ حویلی میں بھی غزنوی کے پیروں سے زمین نکلی ۔۔اس کی اچانک پڑتی نظر اتنی بری تھی کہ لاروش کی خوشیاں کھا گئ ۔۔۔
غزنوی تو کیسا ہے ۔۔انس نے سلام کے بعد اگلا سوال کیا ۔۔لہجہ حد درجہ سنجیدہ تھا ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں تو بتا ثنا کو لیکر کب آرہا ہے ۔۔غزنوی نے مصنوعی بشاشت ظاہر کی ۔۔شام سے ہی دل کو بے چینی لاحق ہے جیسے کوئ پیارا تکلیف میں ہے ۔۔نماز مغرب کے بعد مسجد سے گھر آگیا امو بابا سے ملا گل جاناں سے فون پر بات کی جو پھو پھو کے گھر عیسی کی بیٹی کی پیدائش کی خوشی کی وجہ سے رکی تھی ۔۔سب ہی خیریت ہے مگر دل پریشان ۔۔پھر حشمت صاحب سے بات کی ۔وہ بھی ٹھیک ہیں ۔۔لاروش کا خیال آیا دل یکدم شور مچا بیٹھا ۔۔لاروش کو میں نے دیکھا تھا اپنے ہسبینڈ کے ساتھ خوش ہے ۔۔لیکن وہم دل میں سر اٹھانے لگے ۔۔معوذ پڑھ کر وہم سے نجات کی دعا کی ۔۔پھر عشاء پڑھنے چلاگیا ۔۔واپس آیا کھانے کا دل نہ چاہا ۔۔۔اب رات میں انس کی کال پر تھوڑا دھیان بٹا ۔۔۔
ہاں کل صبح آئیں گے ۔۔انس نے بتایا ۔۔
رات میں سفر کروگے ۔۔۔نہیں یار صبح نکلو دوپہر تک یہاں ہوگے ۔۔۔رات سفر میں خطرے کے سبب غزنوی نے مشورہ دیا ۔۔
نہیں ثنا کی ضد ہے لاروش کے پاس پہچنے کی ۔۔۔تاکہ اسے سنبھال سکے ۔۔۔انس نے آہستہ مدعے پر آیا ۔۔
غزنوی جو لیٹ کر بات کر رہا تھا چونکا فورا اٹھا ۔۔اور بے تابی سے پوچھا ۔۔
اسے کیا سنبھالنا ۔۔۔بتا انس جلدی ۔۔
شجاع بھائ شہید ہوگئے ۔۔۔دن میں شہادت پائ ۔۔کچھ دیر قبل شادان نے کال پر بتایا ۔۔۔۔غزنوی سن ہوگیا ۔۔کیا لاروش کی خوشیوں کو میری بد نظری کہا گئ ۔۔
یا اللّہ رحم کر لاروش پر ۔۔اسے حوصلہ عطا کر ۔۔غزنوی کی آنسو بہہ نکلے ۔۔۔اللّہ پاک کی بارگاہ میں ہاتھ پہیلالیے ۔۔۔
ہمت کی ۔۔۔اور اسی وقت شمروز کو بتا کر حویلی جانے لگا مگر شمروز نے روک دیا ۔
ابھی مت جاو غزنوی ۔کل جانا جب جسد خاکی آئے ۔ ابھی تمہارا جانا لاروش کے غم کو بڑھا نہ دے ۔۔کل لوگ زیادہ ہونگے ۔۔تو چل جائے گی تمہاری موجودگی ۔۔۔۔
جی بابا ۔۔غزنوی واپس کمرے میں آیا ۔۔رات آنکھوں میں کٹی ۔۔نماز فجر اور اشراق کی ادائیگی کے بعد زاور آفریدی کی حویلی پہنچا جہاں شہید کو خراج عقیدت دینے گاوں والے پلکیں سجائیں بیٹھے ہیں ۔۔۔شادان اور زاور نے مردانے میں غزنوی کو دیکھ لیا مگر کچھ نہ کہا غزنوی بھی خاموشی سے سپارا پڑھنے لگا ۔۔۔
اسپیشل ہیلی کاپٹر کے زریعے جسد خاکی گاوں لایا اور بڑی شان سے جنازے کو کندھے دیتے افواج پاکستان کے چند سپاہی اور میجر موجود ہیں ۔۔۔
غزنوی نے پھولوں کی بارش میں بھی حصہ لیا ۔۔لاروش کی وجہ سے غزنوی کو شجاع سے بھی محبت ہوگئ تھی ۔۔۔جن سے دل کو سچا عشق ہوجائے تو ان کے چاہنے والوں سے بھی دل محبت کرتا ہے ۔۔
چلو لاروش یہ چادر اوڑھو ۔۔ایسے اپنے گرد اچھے سے لپیٹو ۔۔۔گل زریں نے ایک بڑی براون چادر دیتے ہدایت دی ۔۔۔لاروش کو باہر لیجانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ بھی شہید کے جنازے کی دھوم دیکھ لے کیے سب محبت اور عقیدت سے اپنے سارے کام چھوڑ شجاع کو خراج پیش کرنے آئے ہیں ۔۔
کیوں مورے ۔۔ہم کہیں جارہے ہیں ۔۔اور یہ آپ کے چہرہ کیوں سوجا سا ہے ۔۔
کچھ نہیں بس نیند پوری نہیں ہوئ ۔۔۔
میں تو کچھ زیادہ ہی سو گئ لگ رہا ہے جیسے نیند کی گولی کھائ ہو ۔۔۔سر اب بھی بھاری ہے ۔۔لاروش چادر ٹھیک کرتے بولی ۔۔
آرام سے سیڑھیاں اتری ۔۔۔بیٹا باہر شجاع آیا ہے ۔۔آنسو برداشت کرتے بولی ۔۔۔
کیا شجاع آئے ہیں ۔۔کل فون اسی لیے نہیں کیا کہ آج ملنے آرہے ہیں ۔۔۔۔کہہ کر تیزی سے بھاگی ۔۔خوشی سے چہرہ دمکا ۔۔قدم اتنا رش دیکھ کر ٹھٹکے ۔باہر دروازے پر لاروش کا انتظار کرتا شادان ۔۔لاروش کو روکتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھا ۔۔
لالہ یہ سب کیوں آئیں ہیں ۔۔۔۔گھبراکر بولی ۔۔۔
شجاع سے ملنے ۔۔۔آو تم بھی مل لو ۔۔۔شادان افسردگی سے کہتا اپنے حلقے میں لیے آگے بڑھا ۔۔۔۔لاروش ناسمجھی سے دیکھتی ساتھ چلتی رہی ۔۔۔ایک تابوت کے آگے جا کر روک گئے ۔
ڈر سے تابوت کو دیکھا ۔۔کہاں ہیں شجاع ۔ ۔۔کپکپاتی دھیمی آواز نکلی ۔۔
شادان نے تابوت کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔وہ شہادت کے رتبہ پر فائض ہوگیا ۔۔
اشارہ کی رخ پر سفر کرتی نظریں تابوت پر رک گئ ۔۔ کان بچھڑنے کا صدمہ سن کر بہرے ہوگئے ۔۔اور پھر نہ نظر بولی تابوت کے علاوہ نظر نے کچھ اور دیکھا نہ زبان بولی کوئ سوال نہ پوچھا ۔سب ایک دم ساکت ہوگیا ۔۔
لاروش کا سکتہ بڑی مشکلوں سے توڑا گیا ۔۔جس نے جو مشورہ دیا اس پر عمل کیا ۔۔بالاخر زاور آفریدی کے فریادی دہائیوں نے لاروش پر اثر کیا اور کیفیت ٹھیک ہوئ ۔۔سکتہ ٹوٹتے پر لاروش پاگلوں کی طرح حویلی کے صحن کے جانب بڑھی ۔۔۔شادان نے اسے روکا ۔۔دونوں بازو سے اسے مضبوطی سے پکڑا اور گود میں اٹھا کر کمرے کی طرف بڑھا
لالہ میرا شجاع باہر ہے ۔۔مجھے جانا ہے ۔۔جانے دیں لالہ ۔۔چھوڑیں مجھے ۔۔۔لاروش مچلی ۔۔خود کو چھڑانے کے لیے زور لگانے لگی لیکن بے سدھ کیونکہ شادان کے ہمراہ اب اسے گل زریں نے بھی تھام لیا تھا اس ڈر سے کہ شادان نہ گرادے ۔۔۔
سنبھل میری بچی گل زریں کی کل سے روتے تکلیف سہتے حالت بری ہوچکی تھی ۔۔پورا گھرانہ نڈھال تھا پہلے شجاع کی شہادت پھر لاروش کا سکتہ ۔۔۔
شادان اور مورے نے بامشکل بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔لیکن لاروش کو سنبھالنا مشکل لگا ۔۔لاروش نےباہر جانے کی کوشش کی مگر بے سود ۔۔۔شادان مورے اور زاور نے مل کر سنبھالا ۔۔کوششوں سے تنگ آکر لاروش نے اپنے دونوں ہاتھ مورے کے آگے جوڑے ۔۔بلک کر روتی بولی ۔۔
مجھے شجاع کے پاس جانا ہے مورے جانے دو خدا کا واسطہ ۔۔۔
باہر شجاع نہیں ہے اپنے آخری آرام گاہ کی طرف جا چکا ۔۔۔
مورے کے بجائے اکبر بولے ۔۔جو ابھی دوسری بار قبرستان کا چکر لگا چکے ۔۔۔فخر محبت سب اپنی جگہ ۔۔ بیٹے کا بچھڑ جانا اپنی جگہ ۔۔دل کو کل سے کئ بار دلاسہ دیا ۔۔پر صبر آتے آتے تھوڑا وقت تو لگے گا ۔
آخری دیدار کے لیے کیوں نہیں روکا ۔۔ایسے کیسے ملے بغیر مجھے چھوڑ کر منوں مٹی چلے گئے۔۔۔ہچکیاں بند گئ ۔۔لاروش کو روتا دیکھ نئے سرے پھر سب ہی کا غم جاگ گیا ۔۔۔لیکن لاروش کا غم زیادہ ہے ۔۔۔
ماں باپ کی ایک اولاد مرجائے تو اس کے پاس دوسری اولاد موجود ہوتی ہے جو اس کی تسلی کا باعث بنتا ہے ۔۔ مگر ایک عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی حالت یتیم والی ہوتی ہے ۔۔بالکل بے آسرا ۔۔باپ بھائ کے در کی محتاج یا پھر سسرال والو کی محتاجگی ۔۔۔زندگی کی ساعتیں کھٹن ہوجاتی ہیں ۔۔راہ میں قدم قدم روکاوٹیں ملتی ہیں ۔ ۔۔۔
میرا بچہ مت رو ۔۔صبر کرو ۔۔رندھی آواز میں بیگم اکبر اپنے آنسو صاف کرتے بولی ۔۔۔
لیکن لاروش کوئ جواب نہ دے پائ درد کی شدید لہر اس کے جسم میں سرائیت کرگئ وہ درد کی شدت سے چیخ پڑی پیٹ پر ہاتھ رکھے درد میں کیفیت سے دہری ہوگئ ۔۔لاروش کی حالت دیکھ کر ایک دم سارے پریشان ہوگئے ۔
گل زریں سمجھ گئ ۔۔فوری طور پر ہوسپٹل لیجانا پڑے گا ۔شادان اسے گود میں اٹھاو ۔۔۔ خان جی آپ گاڑی نکلوائیں ۔۔۔ٹھہرو پہلے میں چادر اڑا دو عدت میں ہے لاروش ۔۔۔۔۔حواس باختہ ہوئیں جلدی جلدی ہدایت دی ۔۔
سب گاوں کے قریبی اکلوتے ہوسپٹل لے گئے ۔۔۔جہاں وقت کے ساتھ ترقی ہوئ ۔۔
لاروش کا بی پی خطرناک حد تک ہائ ہے ایسے میں آپریٹ کرنا مشکل ہے ۔۔گائنالوجیسٹ نے لاروش کی کنڈیشن چیک اپ کے بات بتائ ۔۔۔بتایے میں رسک لو یا نارمل ہونے کا انتظار کرنا ہے ۔۔۔۔
رک جاتے ہیں تھوڑی دیر ۔۔۔شاید بہتری ہوجائے ۔۔گل زریں نے جواب دیا ۔۔
کارویڈر میں سارے ہی افسردہ ہیں شجاع کے بعد ہمت نہیں کسی اور کو کھونے کی ۔۔۔
لاروش کی طبیعت نہ سنبھلی ۔۔گائنا لوجیسٹ نے آپریٹ کرنے کا ٹھان لیا ۔۔یوں بھی انتظار میں بچے کی جان کو خطرہ ہی تھا ۔ڈاکٹر نے شادان کو روم میں بلایا ۔
شادان کے حامی بھرنے اور سائن کرنے پر آپریٹ شروع ہوا
صبح آٹھ بجے آپریشن کیا گیا ۔۔صحت مند بچہ ہوا جس کو سانس لینے میں دقت ہورہی تھی ۔۔بچے کو نرسری میں ٹریمنٹ کے لیے بھیج دیا
شادان نے روایت کے مطابق بچے کے کان میں اذان دی ۔۔۔
چار دن لاروش ہاسپٹلائز رہی ۔۔اکبر خان نے دادا اور زاور آفریدی نے نانا بننے پر پورے گاوں میں میٹھائ بانٹی ۔۔۔۔۔
_________________________
لاروش کی سکتہ کی کیفیت نے غزنوی کو بہت غم زدہ کیا ۔۔تدفین کے بعد غزنوی نے حویلی واپس آکر دو رکعت نفل حاجت پڑھی ۔جسمیں لاروش کے لیے دل کی شدتوں سے دعا مانگی ۔۔۔۔
رات کے پھر دل نہ لگا ۔۔صبح اٹھ کر حویلی گیا تو پتہ چلا لاروش کی طبیعت خراب ہے ہوسپٹل لے گئے ۔۔یہ سن کر ہوسپٹل دوڑا ۔۔مگر پھر قدم رک گئے ۔۔اندر سے دل بولا
کس رشتے سے جا رہے ہو غزنوی ۔۔تم کو دیکھ کر اس کی طبیعت نے مزید بگڑنا ہے ۔۔اور کیا بھول گئے لاروش کی والدہ سے کیا گیا وعدہ ۔۔۔واپس چلو غزنوی ۔۔
نہیں غزنوی جاو اسے تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔تمہارے سہارے کی ضرورت ہے ۔۔۔دماغ نے گم سم کھڑے غزنوی کو اندر جانے پر اکسایا
نہیں غزنوی وعدہ خلافی گناہ ہے ۔۔۔دل نے سرزنش کی ۔۔۔
بے شک وعدہ خلافی گناہ میں مانتا ہوں مگر دور سے دیکھ لونگا ۔۔۔دماغ نے نئ راہ سجھائ ۔۔۔
غزنوی نے واپس قدم موڑے ۔۔۔دل مطمئن ہوا ۔۔دماغ اداس ۔۔۔ غزنوی سیدھا مسجد گیا وہاں بیٹھ کر اپنے اور لاروش کے لیے عافیت کی دعا کی ۔۔۔
ایک گھنٹہ مسجد میں گزار کر پھر ہوسپٹل کی راہ لی ۔۔جہاں ہوسپٹل کے چوکیدار سے معلوم کیا ۔۔
لالہ زاور آفریدی آئیں ہوئے ہیں ۔۔ان کا رشتہ دار اب ٹھیک ہوگیا ۔۔۔
ام کو پتہ چلا بیٹا ہوئ ہے ۔۔بچی کی طبیعت بھی اب بہتر ہے ۔۔۔
اللّہ کا شکر ہے ۔۔یہ خبر سن کر بے ساختہ غزنوی نے کہا ۔۔
جزاک اللّہ لالہ یہ تو اچھی خبر ہے ۔۔۔
کیسی اچھی خبر بچے کا باپ پرسوں تو شہید ہوا اور آج بچہ پیداہوا پیدائشی یتیم بن گیا ۔۔
چوکیدار کی بات سے باہر آتے زاور کے دل پر گھونسہ پڑا ۔۔تکلیف سے آنکھ نم ہوئ ۔۔
کوئ نہیں لالہ ۔۔۔وہ یتیم نہیں میں ہوں نہ اس کا باپ جیسا ۔۔۔
اور تم کیسے ہو ۔۔غزنوی سے سوال کیا
مجھے بہت افسوس ہوا شجاع کا ۔۔اللّہ پاک ان کی شہادت قبول فرمائے ۔آمین ۔غزنوی کی دعا پر تینوں نے آمین کہا ۔۔
زاورنے شجاع کا چہرہ دیکھا آیا واقعی افسوس ہے یا پھر دکھاوے کی ہمدردی ۔۔۔لیکن غزنوی کا چہرہ غم کی تصویر بنا ہوا تھا آنکھیں بھی ویران سی لگی ۔۔۔بالکل اپنایت سی محسوس ہوئ ۔۔غزنوی کے ظاہر و باطن کابدلاو واضح اس کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے ۔جب معافی مانگنے آیا تھا تب بھی الگ پھر اکثر مختلف لوگوں سے غزنوی کی تعر یفیں سنی ۔۔۔۔
اللّہ پاک کی یہی مرضی ہے ۔اللّہ کاشکر ہے شجاع کو شہادت نصیب ہوئ ۔۔۔زاور نے جواب دیا
جی شہادت خوش نصیبوں کو ہی ملتی ہے۔۔۔غزنوی نے بھی تائید کی ۔۔۔میں چلتا ہوں اب اجازت دیں ۔۔۔غزنوی کا جانے کا دل نہ تھا پھربھی اجازت لی ۔۔
حویلی آکر امو کی گود میں سر رکھا ۔۔۔اور بولا
امو لاروش کے لیے بہت اداس ہوں ۔۔میرا دل کر رہا ہے لاروش کے سارے آنسو پونچھ دو ۔۔مگر میں بے بس ہوں ۔۔میں تو اس کا دوست بھی نہیں جس سے اسے اپنے لفظوں سے تسلی ہی دے سکو ۔۔۔
اس کے لیے دعا کرو ۔۔بڑا ہی دکھ آیا ہے بچی پر ۔۔۔امو نےغزنوی کے بال سہلاتے کہا ۔۔اچانک ان کے ذہن میں خیال آیا جس کا اظہار شمروز سے کرنے کا سوچا ۔۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد شمروز سے مہر بانو نے اپناخیال ظاہر کیا ۔۔
دیکھیں ہمارے بیٹے نےماضی میں جو سلوک کیا اس کی تلافی کاموقع ملا ہے ۔۔تو ہمیں عمل کرنا چاہیے ۔۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں ۔۔وضاحت کرو ۔۔شمروز الجھے
غزنوی نے لاروش کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی تلافی اس بچی کوپھر سے آباد کرکے کی جا سکتی ہے ۔۔۔مہر بانو نے سمجھایا
ایسا کیسے ممکن ہے ۔۔دنیا کیاکہے گی ہمارے اکلوتے بیٹے کے لیے ایک بیوہ ہی رہ گئ ۔۔شمروز ناراضگی سے بولے ۔۔۔
دنیا کا کام ہے فضول بولنا ۔۔۔دنیا چھوڑیں ۔۔اسوقت اپنے لاڈلے کو دیکھیں کل سے ایک نوالہ بھی حلق میں نہیں ڈالا ۔۔غم کی المناک تصویر لگ رہا ہے جیسے لاروش نہیں وہ خود بیوہ ہوا ہے ۔۔۔مہر بانو نے بھی خفگی سے کہا ۔۔
بیوہ والی بات پر شمروز مسکرادیے ۔۔
ابھی تازہ غم ہے ۔۔اس لیے وہی کیا وہاں حویلی جاو سارے ہی فخر کے ساتھ غم میں مبتلا ہیں۔۔اسلیے غزنوی بھی اداس ہے ایک دو دن میں ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔شمروز نے سمجھانے والے انداز اپنایا
لیکن پھر بھی خان جی سوچیں۔۔۔۔
نہیں یہ بات یہی ختم کردو ۔۔۔ وہ صرف بیوہ ہی نہیں ایک بیٹے کی ماں بھی ہے ۔۔آفریدی والے اپنا وارث کبھی نہیں دیں گے ۔۔اور بھلے آپ کا بیٹا اچھائ کی طرف راغب ہو کر نیک بن گیا ہے مگر ہے تو ایک مرد ہی اترن کبھی پسند نہیں کرے گا ۔۔۔اس لیے اس قصے کو یہی دفن کردو ۔غزنوی سے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔شمروز نے کڑوی گہری بات کی ۔۔۔
لیکن مہر بانو دفن نہ کرسکی ۔۔۔اس کا اظہار گھر آنے پر گل جاناں سے کیا ۔۔۔گل جاناں بھی امو کی خواہش سے خوش ہوئ ۔۔
ٹھیک کہا آپ نے امو میں نے اکثر لالہ کو لاروش کے لیے تڑپتے دیکھا ہے دعا میں سسکتے دیکھا ہے وہ اپنے فعل پر شرمندہ ہیں اگر تلافی کی یہ صورت ہے تو بہت اچھی لالہ اور لاروش ایک ہوجائیں ۔۔بہت اچھا لگے گا ۔۔آپ بابا کو رہنے دیں لالہ سے بات کریں لالہ راضی تو بابا بھی راضی ہوجائیں گے ۔۔
جاری ہے
