Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08

موڈ آف ہونے کی بنا پر ریش ڈرائیونگ کرتا سوات روانہ ہوا ۔۔۔
کہاں ہے یار آدھے گھنٹے کا کہا تھا 45 منٹ ہونے کو آئے ہیں شہروز نے فون پر غزنوی سے شکوہ کیا ۔۔۔۔سوات جا رہا ہوں ۔۔۔
غزنوی نے بتایا ۔۔۔اوئے ہمارے بغیر جارہا ہے ۔۔۔تیری اموں اور بابا کی اینورسری میں تو ہمیں نہیں بلائے گا ۔۔کیسا بے وفا دوست ہے ۔۔۔۔شہروز کو جانے کا سن کر شاک لگا ۔۔۔۔
جیسے میں بلاوں گا نہیں تو تم لوگ آو گے نہیں ۔۔۔ڈھیٹ کہیں کے یہ بیویوں کی طرح شکوے کسی اور سے کیا کرو ۔۔۔پارٹی سنڈے کو آجانا ۔۔۔۔۔۔۔غزنوی نے اوقات بتائ ۔۔۔
بس اسی بے عزتی کے منتظر تھے ۔۔۔شہروز مسخرے پن سے بولا ۔۔۔
لے انس سے بات کر جس کو پتہ نہیں کون سا دورہ پڑ رہا ہے ۔۔۔مجھ سے موبائل چھینے جارہاہے ۔۔۔موبائل انس کو دیا ۔۔۔۔
یار تو مجھے میسج کر دیتا دو دن سے ایک ضروری بات کرنی تہی موقعہ ہی نہیں ملا ۔۔۔۔اداس بولا ۔۔۔
کوئ نہیں تو دو دن اور سوچ بچار کر لے میں آجاوں تو پھر بتا دینا ۔۔۔غزنوی نے طنزیہ پچکارا
میں اتنا انتظار نہیں کرسکتا ۔۔۔سن لے تو بھی اور یہاں پر سب بیٹھے بھی ۔۔۔انس زور سے بولا ۔۔۔یونی کے سنسان حصے میں بیٹھے سگریٹ اور چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دوستوں کو بھی کہا ۔
غزنوی نے تیزی سے کان سے موبائل ہٹایا اور گھورا جیسے ابھی انس کی شکل بھی نظر آرہی ہے
سلو بول کیا کان کے پردے پھاڑےگا۔ ۔۔کوفت سے انس کو ٹوکا ۔۔۔
انس نے انسنا کیا بولا ۔۔۔۔مجھے محبت ہوگئ ہے ۔۔۔۔
ماشاءاللّہ دسویں بار محبت کرنے پر بھی پہلی محبت جیسا حال ہے ۔۔دوسروں کاٹائم بہت قیمتی ہے تیری ہر دوسرے تیسرے دن والی محبت کا فسانہ نہیں سن سکتے ۔۔۔غزنوی کو انس کے اظہار محبت نے تپ چڑھائ ۔۔۔زبان نے طنز کا جوہر دیکھا یا ۔۔۔پر وہاں پرواہ ہی کب ۔۔۔
یار اب کے سچی مچی والی ہوئ ہی جیسے تجھے لاروش بھابھی سے ہوئ ۔۔۔۔انس نے جلدی میں غزنوی کو مثال دی ۔۔۔
لاروش کے نام پر بیک وقت محبت اور غصہ دونوں آیا ۔۔۔۔
کون ہے وہ کوہ نور جس پر انس صاحب سچی مچی کا دل ہار بیٹھے ہیں ۔۔۔غزنوی نے لڑکی کانام جاننا چاہا ۔۔۔
وہ وہ ۔۔۔مجھے شرم آرہی ہے ۔۔۔انس نے شرمیلی حسینہ کی نقل کی۔ ۔۔۔
فضول ڈرامہ نہ کر بتانا ہے تو بتا میں فون رکھ رہا ہوں ۔۔۔غزنوی نے دھمکایا ۔۔۔
نہیں نہیں میں بتاتا ہوں آخر مستقبل میں دوستی رشتے داری میں بدلنی والی ہے ۔۔۔انس نے روکا ۔۔۔۔
مطلب ۔۔غزنوی الجھا ۔۔۔۔
یار ثنا ۔۔۔مجھے پارٹی والے دن بہت اچھی لگی ۔۔۔۔
انس نے نام بتایا ۔۔۔
کیا وہ حیرت کدہ۔۔میک اپ کی پوٹلی تجھے پسند آئ۔۔۔۔سلام ہے تجھے ۔۔۔۔غزنوی کو تعجب ہوا ۔۔باقی دوستوں کی ہنسی غزنوی کی بات پر گونجی ۔۔۔
غزنوی ایسے نہ بول تیری بھابھی ہے عزت کر ۔۔۔۔انس ثنا کے حوالے سے غزنوی کے طنز پر تڑپ اٹھا ۔۔۔۔
ہمم کرنا پڑی گی عزت ۔۔۔۔تونے اظہارِمحبت کرلیا کیا ۔۔۔۔غزنوی نے عزت دینے کا اقرار کیا ۔۔۔
ہاں آج ہی سوچا ہے بلکہ پیریڈ آف ہونے والا ہے ۔۔۔میں نےابھی ہی کردینا ہے ۔۔۔انس پرپوز کرنے کو پرعزم ۔۔۔
چل ٹھیک ہے تو پرپوز کر جو رزلٹ ملے واٹس اپ کردینا ۔۔۔۔بائے ۔۔۔۔
________________________________________________
انس آج یونی آتے ہوئے ریڈ روز بوکے اور کٹکیٹ چاکلیٹ لے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔دوستوں سے شیئر کرکے ثنا کی طرف بڑھا جو بینچ پر بیٹھی اپنا میک اپ ٹھیک کررہی تہی ۔۔۔
انس نے محبت سے دیکھا ۔۔بوکے پیچھے کمر کی سائیڈ چھپایا۔ ۔۔۔قریب جا کر کھنکھکارہ ۔۔۔ہوووووو
اپنے دوستوں کو ایک نظر دیکھا جو چھپ کرثنا کا ردعمل دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔۔۔
ہنکارے کی آواز پر ثنا نے انس کو دیکھا گھبرا کر کھڑی ہوئ ۔۔۔رٹو طوطے کی طرح شروع ہوئ ۔۔۔۔
میں نے غزنوی لالہ کو لاروش کے جانے کی ٹائمنگ بتادی تھی ۔۔۔۔دیکھو اس نے غلط بتایا تو میرا قصور تو نہیں ۔۔۔میں خود آکر اسکیکوز کرلیتی ۔۔۔آپ کو خواہمخواہ بہیجا ۔۔۔چلیں ۔۔۔۔میرا منہ کیا دیکھ رہے ہیں دیر سے گئے تو غزنوی بھائ پریشان ہونگے ۔۔۔
زبان جو چلی تو رکے بنا چلتی رہی ۔۔۔
انس خاموشی سے سے اس کے چپ ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔
کتنا بولتی ہو یار ۔۔۔میں اپنے پرسنل کام سے آیا ہوں ۔۔۔۔انس نے پرشوق نگاہوں سے تکتے کہا ۔۔۔
۔۔۔ثنا ریلکس ہوئ ۔۔۔جان چھوٹی۔۔۔اس چیلے کو مجھ سے کیا کام ۔۔۔۔دل میں سوچا ۔۔۔مسکرا کر بولی ۔۔۔جی کیسا کام ۔۔۔؟
ول می میری می ۔۔۔۔۔بوکے اور چکلیٹ ثنا کے سامنے کیا۔۔۔۔
ثنا چند پل حیران اور ساکت ہوئ ۔۔۔پھر خوشی سے چہکی ۔۔۔۔جواب یہ ہے میری شادی کا فیصلہ میری دادی کریں گی ۔۔۔جو ان کا فیصلہ وہ میرا فیصلہ ۔۔۔۔میں نے آگے پڑھنے کی یہی شرط رکھی تھی آپ پرپوزل گھر لیجائے ۔۔۔میں یہ چاکیلیٹ اور پھول لے لیتی ہوں ۔۔۔پھول اچھے ہیں ۔۔۔۔خوشی خوشی دونوں چیزیں تھام لی اس ڈر سے کہیں واپس نہ لے لی جائے ۔۔۔
انس نے اپنے سر میں ہاتھ پھیر کر بولا ۔۔۔ایڈریس ۔۔۔
میں کسے دوں ایڈریس ۔۔۔یہ پھول تو آپ ہی لائیں تھے آپ کو ہی معلوم ہوگا ۔۔۔۔ثنا معصومیت سے بولی ۔۔۔۔
افف ۔۔۔یہ دل کس جھلی سے لگا بیٹھا ۔۔۔انس نے تحمل سے سوچا ۔۔۔
میں آپ کے گھر کا پوچھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔بتایے ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ثنا نے ایڈریس لکھوایا۔ ۔۔بوکے لے کہ بڑھ گئ ۔۔۔
آگے کا مرحلی آسانی سے حل ہوا انس نے اس دن اپنی ماں کو بتایا ماں نے لاہور فون کر کے اجازت لی ۔۔۔اور تیسرے دن ہاں کرکے ہی لوٹے ۔۔سسمٹر کے بعد منگنی اور ثنا کی ماسٹرز کے بعد شادی طے ہوئ۔ ۔۔۔
انس نے غزنوی کو پل پل کی رپوٹ دی ۔۔۔ __________________________________________________
گل جاناں اون کے پیچ خم میں الجھی بیٹھی رونے کی تیاری پکڑ ہی رہی تہی ۔۔۔ورشہ نے آکر بریک لگائ ۔۔۔گل پلیز اپنے کالے جھمکے دے دو ۔۔۔
کیوں دے دوں ۔۔۔لاسٹ ٹائم تم۔ کو بالیاں دی تہیں تم نے کھودی ۔۔۔میں بار بار کسی پر بھروسہ نہیں کرتی ۔۔۔لاروش نے صفاچٹ انکار کیا ۔۔۔
دے دو یار مجھے ماوری کی شادی میں جانا ہے میری اسکول فرینڈ ہے ۔۔۔میں نے کل مارننگ شو سے اسموکی آئ میک اپ سیکھا ہے ۔۔۔بلیک سوٹ اسموکی میک اپ پر تمہارے بلیک جھمکے جچیں گے ۔۔۔تم دیکھنا کل شادی میں سب سے اچھی میں ہی لگوں گی ۔۔۔دلہن کو بھی پیچھے چھوڑ دونگی ایسا غضب کا آئ میک اپ کرونگی سب مجھ سے ہی کرانے آئیں گی ۔۔۔۔ ورشہ نے خود کی تعریف میں مبلغہ آرائ کی انتہا کردی ۔۔۔۔
گل جاناں کو ہنسی آئ ۔۔۔ورشہ بی بی مارننگ شو سے صرف ٹائم پاس ہوتا ہے ۔۔۔۔کچھ سیکھنا سیکھانا نہیں ۔۔۔تم جتنا اچھا میک اپ کرلو گی تب بھی تمہاری آنکھیں میری نشیلی آنکھوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔۔۔ایک دفعہ منع کردیا کیا لکھ کر دو ۔۔۔نہیں دینا ۔۔۔
ورشہ گل کےصاف منع کرنے پر تپی ۔ ۔ پھر گل کو بھی سلگانے سے بعض نہیں آئ ۔۔۔
تمہاری آنکھیں نہ بی بی ایسا لگتا ہے دو گلاس بھنگ پی کر ٹن ہوگئ ۔۔۔۔
لاروش کی اپنی آنکھوں کی شان میں گستاخی سر تاپا سلگا گئ ۔۔۔
مانتی ہوں ہمارے صوبے میں چھپ کر یا کھل کر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے مگر ہمارے علاقے میں نہیں اس لیے میرا دور دور تک واسطہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور پیاری ورشہ تم اور پلوشہ میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔پلوشہ لمبی ۔۔۔تم سے زیادہ گوری ۔۔۔گھنگریالے لمبے بال ۔۔۔اور تم چھوٹا قد ۔۔۔نارمل گوری رنگت اور پرکٹی ۔۔۔۔بس صرف یہ زبان ہی کے جوہر ہیں جو یہ ثبوت دیتی ہے تم دونوں بہنوں کو جڑواں ہونے کا معصومیت سے ورشہ کو اور تپایا ۔۔۔وہ اپنا فیورٹ کام پیر پٹکتی دروازہ بند کرتی یہ جا وہ جا ۔۔۔۔
یہ فرش ٹوٹا نا کسی بھی دن ایک کی دو کرکے بابا کوبتاوں گی ۔۔۔بد تمیز ان نشیلی آنکھوں کو جو بھی دیکھے دیوانہ ہوجائے ایسے بھنگ سے ملادیا ۔ویسے کیا واقعی میری آنکھیں بری ہیں جو شادی میں آئے اس ہیرو کو متاثر نہ کرسکی اگر وہ دیوانہ ہوتا تو میری کھوج لگاتے یہاں تک آجاتا ۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا گل کیا بکواس ہے ۔۔۔۔نامحرم کو رجھانے کی باتیں ۔۔۔توبہ کر توبہ ۔۔۔۔یا اللّہ مجھے معاف کرنا میں جذباتی ہوگئ ۔۔۔یااللّہ تو تو کن کہتا ہے تو کن کہہ دےگا تو وہ مجھے مل جائے گا۔ ۔۔۔یااللّہ مجھے معاف کرنا بڑی مشکوں سے اسے دل سے نکالا ہے اپنا دل بہلانے کے کیا کیا جتن کیے وہ کام بھی کیے جو نہ کرنے کا ارداہ باندھا تھا ۔۔۔کروشیے کی ٹوپی بنائ ۔۔اب یہ اون سے سوئیٹر بننا سیکھ رہی ہوں ۔۔۔مجھے معاف کرنا ۔۔۔
خود سے باتیں کرتی ۔۔۔دعا کرتی پلوشہ کےروم کی جانب چلی ۔۔۔۔اور انجانے میں ہی سہی اللّہ کو اس کی شاندار صفات کا واسطہ دے کر اپنے حق میں دعا کرگئ ۔۔۔۔
___________________________________
اچھا امو جان اور خالا میں چلتا ہوں ۔۔۔رات ہوگئ ۔۔آپ امو کل
شام آجایے گا ۔۔۔غزنوی نے حویلی جانے کی اجازت لی ۔۔۔
جاو بیٹا مگر گاوں جانے والی سڑک بن رہی ہے تم کو پہاڑی کی طرف سے جانا ہوگا ۔۔۔امو نے کہا
کیوں امو ابھی تک تو سڑک ٹھیک ہی تہی ۔۔۔۔
تمہارے چاچا بنارہے ہیں ۔۔۔
یہ چاچا بھی نہ الیکشن سر پر آنے پر ہی کام کرواتے ہیں ۔۔۔ویسے سوئے رہتے ہیں ۔۔۔کوفت بیزاری سے بولا ۔۔۔۔
اچھا اجازت دیں ۔۔۔
اللّہ کی امان ۔۔۔۔امو نے دعاوں میں رخصت کیا ۔۔۔کسی نے بھی روکنے کی کوشش نہ کی ۔۔۔پتہ ہے روکے گا ہی نہیں ۔۔۔
غزنوی خراب موڈ کے ساتھ ڈرائیونگ شروع کی ۔۔۔آدھے راستے میں کسی کپل نے لفٹ کے لیے ہاتھ دیا ۔۔۔پہلے تو گاڑی آگے لے گیا پھر سوچا اتنی رات کو کوئ دوسرا نہیں آئے گا اس لیے لفٹ دینا چاہیے ۔۔۔پھر ریورس کر کے پیچھے آیا ۔۔۔
کار کا شیشہ نیچے کیا ۔۔۔اندہیرے کے سبب چہرہ صاف نظر نہ آیا ۔۔۔
بیٹا ہماری گاڑی خراب ہوگئ ہمیں کالام کی سڑک پر اتار دینا وہاں سے ہمارا گاوں قریب ہے ۔۔ہم چلے جائیں گے ۔۔غزنوی کے حامی بھرنے پر خاتون پیچھے اور آدمی آگے سیٹ پر بیٹھے ۔۔۔
میرا نام زاوار آفریدی ہے ۔۔۔اور یہ میری بیوی ہیں ۔۔۔آدمی نے تعارف کرایا ۔۔۔۔
نام سن کر غزنوی چونکا ۔۔۔چہرے سے ظاہر نہ کیا ۔۔۔۔
اوہ ساس سسر ہیں ۔۔۔۔اچھا ہوالفٹ دی ۔۔۔شاباش غزنوی ۔۔۔خود کو شاباشی دی ۔۔۔۔
جی میں غزنوی شمریز اورنگ زئ ہوں ۔۔۔مسکرا کر اپنا بتایا ۔۔۔
اچھا اچھا ہم پڑوسی ہوئے ۔۔۔پھر تو ہماری طرف سے ہی جانا ہوگا سڑک بن رہی ہے ۔۔۔چلو اسی بہانے ساتھ چائے پیے گے ۔۔۔۔۔۔زاور نے خوشمزاجی سے کہا ۔۔۔
جی انکل ۔۔۔۔
کار کو آفریدی حویلی میں داخل کی ۔۔۔بہت ہرا بھرا پورچ ۔۔۔چوڑی روش ۔۔۔۔سائیڈ میں شاندار مرسیڈیز کھڑی ہیں۔۔۔
کار پارک کر کے حویلی کے اندر گئے رات ہونے کے سبب مردانےحصے کے بجائے ۔۔۔حویلی کے اندر ہی لے گئے ۔۔۔خوبصورت فرینچر اس بات کی نشان دہی کررہا ہے یہاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ترقی ہورہی ہے ۔۔۔
آو بیٹھو ۔۔۔۔بیٹا پہلے ڈنر کرلیتے ایک بج رہے ہیں پھر چائے ۔۔۔۔
نہیں ڈنر نہیں ۔۔۔میں کرچکا ہوں ۔۔۔بس چائے پیونگا پھر حویلی جاوں ۔۔۔
میں تم کو جانے نہیں دونگی ۔۔اتنی رات ہوگئ ہے بارش بھی ہورہی ہے ۔۔یہاں روکو صبح جانا ۔۔۔گل زریں نے محبت سے کہا۔ ۔
غزنوی دل سے راضی ۔۔۔مگر دنیاداری بھی کوئ چیز ہے ۔۔۔مصنوعی منع کیا ۔۔۔مگر آفریدی کے زور دینے پر رضا مندی ظاہر کی ۔۔۔
میں چائے لاتی ہوں ۔۔پتہ نہیں یہ لڑکی مایوں سے آئی کے نہیں ۔۔۔
گل چائے کا کہتی لاروش کے لیے فکرمند ہوئ ۔۔۔۔
میں آگئ ۔۔آپ نے دل سے یاد کیا ۔۔۔بابا جانی بہت مزہ آرہا تھا بس اس بارش کی وجہ سے سارے گھروں کو بھاگے ۔۔۔اتنا دل تھا رتجگہ کرنے کا ۔۔۔لاروش نے لاونج میں داخل ہو کر یہ دیکھے بنا کون کون بیٹھا ہے ۔۔۔اپنی باتیں شروع کردی ۔۔۔
غزنوی مہبوت ہوگیا پرشوق نگاہیوں نے لاروش کو اپنی حصار میں لیابھول گیا کہ لاروش کے بابا اور مورے بیٹھی ہیں اس کی سمجھ نہ آیا بلیو ڈریس میں لاروش زیادہ اچھی لگی یا آج یلو ریڈ کنٹراسٹ میں ۔۔۔
لمبے گھنیرے بال پشت پر کھلے بارش کاہی منظر لگے ۔۔۔کالی آنکھیں کاجل سے سجی کالے بادلوں کا عکس لگی ۔۔۔ریڈ لپ اسٹک لگے ہونٹ پر اولے لگے جو بارش کے ساتھ برس کر بارش کی خوشی کو بڑھادیتے ہیں ۔۔۔۔
مورے اور بابا بھی لاروش کی طرف متوجہ تھے غزنوی کا بت بن جانا محسوس ہی نہ کرسکے ۔۔۔
اچھا بھلا مورے نے کہا تھا یہاں تقریب رکھ لو لیکن لیلی کی مورے نہ مانی ۔۔۔اب سارا مزہ خراب میں تو دوپہر سے ہی چلی جاوں گی ۔۔۔۔
ہاں چلی جانا ۔۔۔اب جاوں چینج کروں کپڑے گیلے لگ رہے ہیں اور لالہ کا کمرہ کھلواو ۔۔۔مہمان ٹھیرے گا ۔۔۔
کون مہمان ۔۔پوچھتے اطراف کا جائزہ لیا غزنوی کو دیکھ کر گھبراکر کھڑی ہوئ بوکھلاہٹ سے پاس پڑے گلدان پر ہاتھ میں پکڑا پرس مارا وہ گلدان یہ سلامی قبول کرتا زمین بوس ہوا ساتھ ہی غزنوی بھی گڑبڑا کر حواسوں میں آیا ۔۔
مسکراہٹ کو قابو میں کیا اور فورا سر جھکایا ۔۔۔
بدحواسی سے سلام کیا ۔ ۔ ۔۔۔تیزی سے اوپر سیڑھی چڑھنے لگی ۔۔۔
گاہے بگاہے نظرسیڑھیاں چڑھتی لاروش پر ڈالی ۔ ۔
مورے کچن کی جانب بڑھی ۔۔۔زاور نے اپنا رخ غزنوی کی طرف کیا اور ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے ۔۔چائے پینے کے بعد ملازم کے زریعے غزنوی کو شادان کے کمرے میں بہیجا ۔۔
ملازم لاسٹ کے روم تک لے گیا ۔۔اس روم کے آگے کھڑے ہوکر غزنوی نے ملازم سے پوچھا ۔۔۔۔یہ باقی رومز کس کے ہیں ۔۔۔؟
ملازم نے ادب سے بتایا ۔۔۔ام کے بڑے صاحب کے چھوٹے بھائیوں کے اوربچوں کے کمرے ہیں ۔اور سب سے آخر والا لاروش باجی کا ہے ۔۔۔۔
ہمم مطلب کی معلومات ملنے پر غزنوی روم میں داخل ہوا ۔۔۔زبردست روم ۔۔۔۔واو دونوں طرف گیلری زبردست ویو ۔۔۔جہاں سے فلک بوس پہاڑ اپنی بلندی سمیت قریب دیکھائ دے رہےتھے ۔۔۔
فریش ہونے کے بعد گیلری آیا ۔۔۔باہر کا جائزہ لیا ۔۔۔ترتیب سے روم ہونے کی وجہ سے سب کی گیلری کے بیچ تھوڑا فاصلہ تھا ۔۔۔بآسانی جمپ کرکے لاروش کے روم تک پہنچا جاسکتا تھا اور یہی غزنوی نے کیا ۔۔۔۔
گیلری کا دروازہ کھلا ملا ۔۔۔لاروش روم میں نظر نہیں آئ ۔ واش روم سے پانی گرنے کی آواز پر غزنوی روم میں رکھے صوفے پر بیٹھا ۔۔۔۔
_________
لاروش اطمینان سے باہرنکلی اس کے گمان میں بھی نہ تھا غزنوی روم میں آئے گا ۔۔۔ورنہ ٹیرس کے دروازے کو دو تالے لگاتی ۔۔۔
ڈھیلی ڈھالی کرتی اور ٹراوزر پہنے بالںوں کو ٹاول سے سکھاتے آئینے کے سامنے کھڑی ہوئ سوچ کے گھوڑے غزنوی کے گرد گھوم رہے تھے جب ہی پاس آتا غزنوی مرر سے نظر ہی نہ آیا ۔۔۔
غزنوی نے کھانس کے متوجہ کرنا چاہا ۔۔۔مگر ندارد ۔۔۔سوچ گہری تہی۔ ۔۔مجبورا بازو پکڑا ۔۔۔جس پر لاروش کے حواس جلدی ہوش میں آئے ۔۔۔غزنوی کو دیکھتے ہی چیخ نکلتی ۔۔۔غزنوی نے دوسرا ہاتھ سختی سے منہ پر رکھا ۔۔۔
ششش میں ہوں ۔۔۔چیخو مت ۔۔۔ہاتھ ہٹا رہا ہوں ۔۔۔۔اوکے ۔۔۔
لاروش نے سرہلایا ۔۔۔ ہاتھ ہٹتے ہی دو قدم پیچھے ہوئ۔ ۔۔
تم یہاں کیا کررہے ہو کسی نے دیکھ لیا تو ہم کل کا سورج بھی نہیں دیکھ سکیں گے ۔۔۔پلیز جاوں ۔۔۔۔۔۔لجالت سے ہاتھ جوڑے ۔۔۔
سانوریا جانو چلا جاوں گا میرے ہوتے تم ٹینشن نہ لو ۔۔۔۔تھوڑی گپ شپ کرتے ہیں ۔۔۔آوبیٹھو ۔۔۔۔۔۔کہہ کر لاروش کے بیڈ پر ہاتھ سے تکیہ بنائے کروٹ کے بل لیٹا ۔۔۔۔
لاروش کی تو جان نکلی جارہی ہے فکر سے ۔۔۔۔
ایک تو تم لڑکیوں میں کھڑے کھڑے سو چنے کی بڑی بری عادت ہے ۔۔۔خیر ۔۔۔بارہ کا ٹائم بتا کر سات بجے ہی چلی گئ ایسی کیا ایمرجنسی تہی۔ ۔۔اچانک لہجہ بدلہ ٹائمنگ چینج کا استفسار کیا ۔۔۔
وہ وہ ڈرائیور چاچا کو کام تھا انھوں نے ریکویسٹ کی میری تیاری تہی اس لیے آگئ ۔۔۔روانی سے ڈرتے جھوٹ گھڑا ۔۔۔۔۔چونکہ جھوٹ بولنا ہے پہلے ہی سوچ لیا تھا اس لیے ابھی دقت نہیں ہوئ مگر سامنے بھی گھاٹ گھاٹ پانی پیے بندہ تھا ۔۔۔جھوٹ اور سچ کا فرق آرام سے پکڑا ۔۔ ۔
ہممم ہے تو جھوٹ مگر سانوریا تم کہہ رہی ہو تو سچ مان لیتے ہیں ۔۔۔لیکن یہ سچ آخری مرتبہ ہی ہے اگلی مرتبہ سزا ملے گی ۔۔۔غزنوی نے ٹھرے لہجے میں باور کرایا ۔۔۔
خیر صبح سے جتنی کوفت اور تھکن تہی سب تم کو ، تمہارے روپ کی خوبصورتی دیکھ کر ایک پل میں غائب ہوئ ۔۔۔تم میں جادو ہے سانوریا جانو ۔۔۔ دل اور میں تمہارا اسیر ہوتا جارہا ہوں رہائ اب ممکن ہی نہیں ۔۔۔دوری برادشت نہیں ۔۔۔۔میں نے سوچ لیا کل ہی بابا سے بات کرکے رشتہ لاتا ہوں میرا ماسٹرز ختم ہوتے ہی شادی ۔۔
دیکھیے ۔۔۔ایسا ممکن نہیں ۔۔۔مجھے پڑھنا ہے پھر کالج بنانا ہے ۔۔شادی میری ترجیحات میں نہیں ۔۔۔میرا مطلب ہےلاسٹ میں شادی کرونگی ۔۔۔جلدی سے وضاحت دی ۔۔۔لاروش دل میں مضرب ہوئ۔ ۔
غزنوی فورا اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔سانوریا جتنا پڑھنا ہے پڑھو ۔۔۔منع نہیں ۔۔ایک کیا دو کالج بناو ایک اپنے میکے اور دوسرا سسرال ۔۔۔کل ساتھ چلتے ہیں اپنی پسند کی جگہ بتاو پرسوں سے تعمیر اسٹارٹ ۔۔۔
ساتھ چلنے کو تو ایسے بول رہا ہے جیسے ہم امریکہ میں رہتے ہیں باہر نکلتے ہی غیرت کے نام پر گولی لگی ۔۔۔۔جب اس ٹھرکی عاشق کو پتہ چلے گا ۔۔۔
کیا ہے مجھے ابھی ذہن پڑھنے کا علم نہیں آتا لیکن اندازہ ہورہا ہے کچھ کچھ نہ بول رہی ہو ۔۔
نہیں میں سوچ رہی ہوں پہلے پڑھ لوں ۔۔پھر شادی یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔لاروش نے صفائ دی ۔۔۔
ہممم تو پھر رشتہ کب بہیجو ۔۔۔آبرو اچکائ ۔۔۔تیکھا لہجہ ۔۔۔
کبھی نہیں۔ ۔۔دل میں کہا ۔۔۔زبان سے ۔۔۔پڑھائ تک ۔۔۔۔
اب جایے نہ پلیز ۔۔۔التجا دوبارہ کی ۔۔۔۔
سانوریا ایک بات اپنے ذہن کے خانے میں فٹ کرلو ۔۔۔۔تم میری ہو ۔۔۔مجھ سے ہی شادی کروگی ۔۔۔۔ابھی یا سال بعد ۔۔۔۔ہٹ دھرمی سے لاروش کو باور کرایا ۔۔۔۔۔۔۔میں چلتا ہوں ۔۔۔صبح ناشتے کی ٹیبل پر ملتے ہیں ۔۔۔۔اب جلدی سے ایک ہگ ہی کردوں تاکہ اچھی سی نیند آئے ۔۔۔فرمائش کی ۔۔۔
لاروش بدک کر پیچھے ہٹی جیسے بات نہیں سانپ پھینکا ہو ۔۔۔۔
تیزی سے سر ہلاتے ہوئے منع کیا ۔۔۔غزنوی مسکراتا ٹیرس پر پہنچا اور دوسرے روم میں جمپ لگائ ۔۔۔۔
غزنوی کے جاتے ہی لاروش نے ڈور لوک کیا ۔۔۔سنگل صوفہ لگایا ۔۔۔
روم کا دروازہ ٹھیک سے بند کیا ۔۔۔پھرسکون کا سانس لیا ۔۔۔بندر کہیں کا ۔۔۔لنگور آوارہ ۔۔۔نہ جانے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔۔سوچتے کڑتے بالآخر نیند آگئ ۔۔۔
دوسرے دن صبح ہی غزنوی کے اٹھنے سے پہلے ہی لیلی کے گھر چلی گئ ۔۔۔غزنوی کا صبح یار دیدارکا تصور ، تصور ہی رہا ۔۔۔
بددلی سے اپنے گاوں روانہ ہوا ۔۔۔جہاں دھوم سے امواوربابا کی اینورسری منائ ۔۔۔پانچوں دوست نے خوب رنگ ڈالا ۔۔۔دوسرے دن ساتھ ہی شہر روانہ ہوئے ۔۔۔
____________
برات اور ولیمہ خوش اسلوبی سے نمٹا ۔۔۔لاروش بقیہ دن حویلی میں گزارنے پر مسرور تہی ۔۔۔ولیمے کے دوسرے دن مورے لاروش کے روم میں آئ ۔۔۔
میں اپنی بچی کے لیے آلو قیمےکے پراٹھے لائ ہوں ۔۔۔جلدی اٹھو ۔۔۔
میری پیاری امو ۔۔۔لاڈ سے ماں کے گلے کا ہار بنی ۔۔۔
ایسے کھلادیں ۔۔۔نہار منہ ۔۔۔لاروش نے کہا ۔۔۔
تم ہوسٹل جا کر بے حد نکمی ہوگئ ۔۔۔اس سے پہلے مجھے غصہ آئے جا کر منہ ہاتھ دو ۔۔۔
لاروش منہ بسورے واش روم گئ ۔۔۔تب تک گل زریں بیگم نے کمبل طے کیا ۔۔۔بیڈ کی چادر ٹھیک کی ۔۔۔
واہ مورے واہ سچی ہوسٹل کا بس ایک یہی نقصان ہے بندہ کھانے پینے کو ترس جاتا ۔۔
جب ہی منع کررہی تہی نہ جاو مگر میری سنتا کون ہے ۔۔۔
اس سے پہلے گل مزید سناتی باتوں کا رخ ثنا کی طرف موڑا ۔۔۔
مورے بھی ثنا کا سن کر ہنسی بڑی پیاری بچی ہے اگلی بار اس کے گھر والے اجازت دیں تو ضرور لانا ۔۔۔
جی مورے سعادت مندی دکھائ ۔۔۔۔
بیٹی تم میری اچھی فرمانبردار بیٹی ہو۔ایک بات کرنی تہی ۔۔گل نے تمہید باندھی ۔۔۔۔
جی ایک کیا دو کریں بلکہ چار کریں ۔۔۔فراخدلی سے اجازت دی ۔۔۔
مورے مسکرائ ۔۔۔۔
یہ مسکراہٹ کچھ کچھ مشکوک لگ رہی ہے مورے ۔۔۔۔لاروش ٹھٹکی ۔۔۔
ہاں کہہ سکتی ہو ۔۔۔۔تمہاری بڑی چچی کی طبعیت خراب ہے انھوں نے تمہیں بلایا ہے ۔۔۔بچہ اسکی بیٹی قطر میں ہے آنہیں سکتی اور گھر میں ایک سمجھدار لڑکی کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔اس لیے تیاری پکڑو ۔۔۔جلال چھوڑ آئے گا ۔۔۔گل زریں نے لاروش کے سر پر دھماکہ کیا ۔۔۔جس سے لاروش سہم گئ ۔۔۔۔۔۔
میں سمجھدار کب سے ہوگئ یہ آج کا اچھا مذاق ہے نہ ۔۔اور اور یہ بڑی چچی کو ابھی بیمار نہیں ہونا تھا جب پتہ ہے صاحبزادی پردیس میں ہے ۔۔۔
لاروش میں نے چپل اٹھا لینی ہے ۔۔گل زریں نے مسکراہٹ دبائ ۔۔
یہ اچھا نہیں کرا آپ نے ۔۔۔۔بکری کو حلال کرنے سے پہلے اس کی خدمت کی جاتی ہے اس کو اچھا کھلایا جاتا ہے ۔۔۔ایسے ہی ابھی آپ نے کیا ۔۔۔لاروش نے شک کو زبان دی ۔۔۔۔
مجھے پتہ ہوتا یہ پراٹھہ مجھ پر اتنا بھاری پڑے گا ۔۔۔میں نہیں کھاتی ۔۔۔مصنوعی آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
لاروش بس جلدی کرو ۔۔۔ہاں ایک بات اور ہے ابھی کرو یا پھر کبھی ۔۔۔۔گل زریں نے لاروش کو مزید بھی بتاناچاہا ۔۔۔ لاروش کا سر گود میں رکھا ۔۔۔اور سہلاتے بولی ۔۔۔
کیا ۔۔۔۔مورے ۔۔۔بتایے ۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *