Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25
چلنا ہے یہی یا مجسمہ بن کہ یادگار بن جانا ہے لوگوں کو پتہ چلیں یہ ہیں وہ نشاء جس نے معصوم سا سوال کیا تھا ۔۔ورشہ نے مسکراہٹ دبا کر نشاء کوچھیڑا ۔۔
ہاں نہیں وہ میں اردو سیکھنے کا سوچ رہی تھیں ۔۔۔نشاء سٹپٹائ
ہاں کل سے ایکسٹرا کلاس لیں گے ۔۔ابھی تو چلیں ۔۔ کینٹین کی رونق تو دیکھیں ۔۔۔
آفیس کے اندر بیٹھا شادان بھی اس پورے خطبہ سے مستفید ہوا ۔۔دل چاہا اٹھ کر دیکھے کون ہے جسے اردو سے اتنی محبت ہے مگر اسے یہ مینرز کے خلاف لگا خلاف تو باتیں سننا بھی ہے لیکن جذبہ محبت نے ان کی آوازیں اتنی بلند کردی کہ بآسانی حرف بہ حرف کان لگائے بنا سنائ دیا ۔۔
تم دونوں نقاب میں کیسے کھاوگی ۔۔۔نشاء نے پھر سے سوال پوچھ لیا اس بار معصوم نہ تھا سادہ سوال تھا ۔لیکن ڈر گئ ۔۔۔جواب ورشہ دے گی ۔۔ساتھ ہی ورشہ کی طرف منہ کیے اس کا نام لیا ۔۔
گل جاناں مسکرادی ۔۔۔
سمپل یار ہم نے نقاب الگ سے لگایا ہوا ہے ۔۔اسے نیچے سے تھوڑا اوپر کی طرف اٹھاو ۔۔اور دوسرے ہاتھ سے کھاو ۔۔پردہ بھی رہے گا اور آپ کا پیٹ بھوکا نہیں رہے گا ۔۔۔پردہ کرنا بہت آسان ہے ۔۔اس میں کسی کام کے لیے مشکل نہیں ۔۔جب میں بول رہی ہوں تمہیں آواز صاف آ رہی ہے ۔۔تم بول رہی ہو میں صاف سن رہی ہوں ۔۔علحیدہ نقاب میں کھانا سکون سے کھا لیا تو مسئلہ کیا ہے ۔۔ کوئ نہیں ۔۔پھر بھی لڑکیاں نقاب نہیں لگاتی ۔۔۔گل جاناں نے تاسف سے کہا ۔
تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔میں بھی کل سے کوشش کرونگی نقاب لگانے کی ۔۔۔بسمہ نے کہا ۔۔۔
ہوسٹل چلیں ورشہ بولی ۔۔
کیا ۔۔ابھی اکنامکس کی اہم کلاس باقی ہے ۔۔وہاں انٹرو دیں لیں پھر چلیں گے ۔۔بسمہ نے بک ورشہ کے سر پر ماری ۔۔۔
منہ بسورتی ان کے ساتھ اگلی کلاس میں چلی ۔۔۔
جہاں جا کر اردو کے لیے جوش سے بولتی گل جاناں کی بولتی بند ہوئ ۔۔۔کلاس میں تقریبا سب ہی اسٹوڈنٹ آگئے تھے ان کو پیچھے سیٹ ملی ۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔
کلاس میں چہل پہل تھمی ۔۔خوبصورت مردانہ لہجہ کلاس میں چھا گیا ۔۔۔اس قدر ہینڈسم سر دیکھ کر لڑکیاں تو لڑکیا ں لڑکے بھی ایمپریس ہوئے ۔۔۔گل جاناں کو سکتہ ہوا ۔۔
کیا ہوا اسٹوڈنٹ میں نے سلام کیا ہے ۔۔۔شادان نے خاموشی سے اکتا کر شائستہ لہجہ ہی رکھا ۔۔۔
ہوش میں آکر سب نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔
آج فرسٹ ڈے ہے۔۔آپ اپنا سب باری باری انٹرو دیں ۔۔
پہلے میں بتاتا ہوں ۔۔میرا نام شادان خان آفریدی ہے ۔۔۔پڑھانا میرا شوق ہے ۔۔پڑھائ کے وقت صرف پڑھائ مجھے چاہیے ۔۔۔میں اپنا بسیٹ دونگا بدلے میں آپ سب کا بیسٹ رزلٹ چاہیے ۔۔۔
اب آپ کی باری ۔۔۔ایک ایک کرکے سب نے انٹرو دیا لاسٹ میں فور گروپ بچا ۔۔۔گل جاناں پورے وقت بے چین رہی دل کررہا تھا سامنا پھر نہ ہو کیسے دل کو سنبھالا ہے ۔۔دوسری بات جب دیکھا تھا تب ہی سوچ لیا تھا اسے وہ محبت کرنی ہے جس میں اس کے محبوب کی خوشی ہو ۔۔محبت پانا ضروری نہیں ۔۔محبت تو پاک ہوتی ہے ۔۔کبھی بھی کہیں بھی ہوسکتی ہے ضروری ہے اسے نبھانا ۔۔۔اور نبھانا بھی ایسے نہ خود کو تکلیف ہو نہ خود کے رشتوں کو ۔۔۔پھر سال سکون سے گزرا ۔۔مگر ایک بار پھر روبرو دل آگیا کیا ممکن ہوگا وہی عمل دہرانا ہاں ممکن ہوگا کیوں پانا تو ہے ہی نہیں تو پھر مشکل نہیں ہوگا ۔۔کول گل جاناں ۔۔شاباش تجھے کر دکھانا ہے۔۔۔
ہماری باری آگئ گل ۔۔ورشہ نے کہنی ماری ۔۔۔
میرا نام ورشہ گل شیر ہے ۔۔کے پی کے سے تعلق ہے ۔۔
گل جاناں کھڑی ہوئ ۔۔۔نظر اٹھائ ۔۔۔اور جھکائ ۔۔
اس بار شادان گل کو اپنی کلاس میں دیکھ کر چونکا ۔
جی میرا نام چپ ہوئ ۔۔۔
کسی منچلے اسٹوڈنٹ نے آواز لگائ ۔۔ابھی رکھا نہیں ۔۔سر آپ رکھ دیں ۔۔۔
دبی دبی ہنسی کلاس میں گونجی ۔۔۔
بری بات ۔۔۔شادان نے تنبیہ کی ۔۔۔ میرا نام گل جاناں شمروز ہے ۔۔میرا تعلق بھی کے پی کے سے ہے ۔۔
گڈ ان شاء اللّہ کل سے شروعات کریں گے ۔۔۔کلاس ٹائم اوف ہوتے ہی بسمہ نے حیرت کا اظہار کیا ۔۔
آج صبح سے ہر کلاس میں ایک دم ٹھیک انٹرو دیا ۔۔اب کیا ہوا ۔۔
کچھ نہیں میرا سر درد ہورہا تھا چل ٹھیک ہے ۔۔
دوسرے دن روٹین جاری رہی ۔۔ہر کلاس میں گل اور بسمہ آگے رہتی لیکن شادان کی کلاس میں چپ ہوجاتی ۔۔۔پورا ہفتہ یہی روٹین رہی لیکن بسمہ روز ایک پیریڈ اوف کرنے لگی ۔۔۔گل جاناں کو تشویش ہوئ ۔۔آج کلاس میں شادان نے کوئسچن کا غلط آنسر دینے پر گل جاناں کے گروپ کو ڈانٹا تو گل کو یاد آیا کل اسی ٹوپک کی بسمہ اور گل نے مل کر تیاری کی تھی اگر وہ ہوتی تو گروپ کی انسلٹ نہ ہوتی ۔۔۔مگر سب پیریڈ ساتھ تھے تو وہ آخر کہاں گئ ۔۔۔
ماشاء اللّہ بی اے میں نوے سے زیادہ نمبر لینے والے کچھ زیادہ نکمے ہوگئے ۔۔ورشہ نے کلاس اوف کے بعد گل جاناں کی کلاس لی ۔۔
بس پتہ نہیں یار مجھے لگ رہا ہے نظر لگ گئ ۔۔گل جاناں نے ٹالا ۔۔
نظر اس پورے ہفتے تم نے اکنامکس کلاس میں ایسی کونسی اعلی کارکردگی دکھائ جو نظر لگ گئ انٹرو سے لیکر اب تک دو بار انسلٹ ہوچکی ہے ۔۔اور بی بی ۔ورشہ نے اپنا رخ نشاء کی طرف موڑا ۔۔یہ روز تمہاری کزن کسی نہ کسی پیریڈ میں گدھے کے سر پر سینگ جیسی غائب ہوجاتی ہے آخرجاتی کہاں ہے
مجھے کیا پتہ میں تو خود تمہارے ساتھ ہوتی ہوں ۔۔لو وہ آرہی ہیں میڈم خود پوچھ لو ۔۔نشاء نے سامنے سےآتی بسمہ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔اور اپنی جان خلاصی پر اللّہ کا شکر ادا کیا ۔۔
ورشہ جلالی موڈ میں آگے بڑھی کہاں تھیں تم ۔۔غصے سے گھورتے پوچھا انداز ایساتھا آنکھوں ہی آنکھوں میں نگل لے گی ۔۔
یہ کیا تم ناگنوں کی طرح گھور رہی ہوں یہی تھیں ۔۔۔فیض کو سن رہی تھیں کیا غضب کہتا ہے فیض نے ۔۔۔
بے شرم بے حیا ۔۔شرم نہیں آتی اپنے کرتوت اپنی زبان سے بتاتے ۔۔ماں باپ نے بھروسہ کرکے اتنی دور پڑھنے بہیجا ہے ان کا نام روشن کرنے کے بجائے ڈوبونے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔اگر ایسے ہی لچھن رہے آگے تو میں سیدھا تیرے گھر جاونگی خود بتاونگی تیرے اور فیض کے قصے ۔۔مجھے ان دوستوں میں مت سمجھنا جو دوستی ٹوٹنے کے ڈر سے دوستوں کے عیب ان کے گھر والوں سے چھپالیتے ہیں ۔۔باز آجا ابھی اور اسی وقت عہد کرو تم کبھی اس فیض سے نہیں ملو گی ۔۔پیاری بسمہ یہ لڑکے ایسے ہی جھوٹی باتیں کرکے سنہرے خواب دیکھا کر لڑکیوں کو پھنساتے ہیں ۔۔غلط نیت سے غلط مطلب سے دیکھتے ہیں ۔۔۔جب لڑکیاں ان کے دام میں پھنس جاتی ہیں تو وہ محبوب سے لٹیرے بن کر اپنا اصل چہرہ دکھاتے ہیں ۔۔بلیک میل کرتے ہیں ۔۔میری پیاری دوست تو عہد کرلے تو کسی نا محرم سے دوستی نہیں کرے گی ۔۔اپنے گھر والوں کو مان نہ توڑنا ۔۔۔۔پلیز مجھے بتا یہ فیض ہے کہاں میں خود اس سے بات کرونگی تیرا پیچھا چھوڑ دے ۔۔گل جاناں جذباتی ہوئ
بس بہت ہوگئ ۔بسمہ کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
پہلے تو بسمہ گل جاناں کے بھڑکنے پر ڈری پھر اس کے سمجھانے پر بسمہ کا فشار خون بلند ہونے لگا ۔۔۔۔اس نے مدد لیتی نظروں سے دونوں کی طرف دیکھا نشاء آنکھوں میں آنسو بھرے اور ورشہ تاسف بھری نظروں سے بسمہ کو دیکھ رہی ہیں ۔۔۔لیکن بس بہت ہوا ۔۔
کیا اول فول بک رہی ہو ۔۔کہاں سے ہوں میں بے شرم ۔۔۔اور میرے کرتوت اور عیب مجھے بھی تو ذرا بتانا ۔۔۔
اچھا تم چیخو گی تو ہم یہ سمجھیں گے تم سچ بول رہی ہو بتاو روز پیریڈ بنک کرکے کہاں جاتی ہو اور فیض تمہارا ماموں ہےکیا ۔۔اس بار ورشہ بولی ۔۔۔بسمہ کے چلانے پر گل زرا تھمی ۔۔
اوہ میرے اللّہ ۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا ہے کیا کہوں بہن یہ بات شرافت سے بھی پوچھی جاسکتی تھی ۔۔ایویں اتنی باتیں الزام لگائے ۔۔فیض میرا ماموں ہر گز نہیں ہے میں فیض احمد فیض کی بات کررہی تھیں ۔میری ناسمجھ جلد باز دوستوں ۔۔۔۔۔اور میں تو روز پیریڈ بنک کرکے دوسرے ڈپارٹ میں لیکچر سننے جاتی ہوں ۔۔میں اپنی فیلڈ میں ماسٹر ہوں یعنی اچھا پڑھتی ہوں اس لیے میں نے سوچا ہاتھ کے ہاتھ دوسرے مضامین بھی پڑھ لیے جائیں تو میرے علم میں اضافہ ہوگا ۔۔
علم میں اس طریقے پر اضافہ ہونے پر تینوں کو انگشت بداں کردیا بچاری حیرانی سے سن رہی ہیں ۔جہاں بسمہ مگن اپنا لائحہ عمل بتانے لگی ۔۔
سنا ہے نہ علم حاصل کو چاہے چین جانا پڑے ، تو میں نے سوچا چین دور ہے پاس میں جب سہولت موجود ہے تو استفادہ حاصل کرنا چاہیے ۔ایک دن اردو ادب ایک دن اسلامیات ایک دن سیاست ایک دن کمپیوٹر اور ایک دن سائنس کی کلاس لونگی ۔۔واہ جی واہ ایک ساتھ مجھے ڈھیر سارے علوم سے واقفیت ہوگی ۔۔فیوچر میں اپنے بچوں کو ٹیوشن دینا بھی آسان ہوگا ۔۔آخر میں شرمائ ۔۔
اوئ اللّہ ۔۔۔بسمہ چیخی ۔۔۔
ورشہ نے بک کی مدد سے دوتھپڑ بسمہ کی کمر پر ٹکائے ۔۔۔
بس کرو بی بی انسانوں کی طرح صرف اپنے سبجیکٹ میں دلچسپی لو سر نے دو دن کے نوٹس پر اسائمنٹ دیا ہے ۔۔۔ورنہ ایگزام میں نمبر نہیں ملیں گے ۔۔
تم بھی پڑھ لیا کرو ان بکس کو کیا ہمیں مارنے کا ہی کام لیتی ہو ۔۔بسمہ کلسی ۔۔
ایم سوری ۔۔میں فیض سے کچھ اور سمجھ بیٹھی ۔۔بہتان لگایا ۔۔مجھے معاف کردو ۔۔۔گل جاناں نے آنسو بھری آنکھوں سے بسمہ کو بولا ۔۔
نہیں میری جان رو مت ۔۔یہ بہتان نہیں تھا ایک طرح سے میری فکر ہی تھی مجھے اچھا لگا میری سہیلیاں میرا خیال رکھتی ہیں میری سچی دوست ہیں جو میرے عیبوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔اور اچھا دوست وہی ہوتا ہے جو آپ کی اصلاح کی کوشش کرے ۔۔۔
نہیں بہتان تھا مجھے پہلے پوچھنا چاہیے تھا مگر جلد بازی کی ۔۔مجھے لالہ نے بتایا تھا ۔۔۔
نشاء نے بات کاٹی ہیں تو نے ذکر نہیں کیا کبھی تیرا لالہ بھی ہے ۔۔۔۔
اللّہ کے فضل سے میرے بہت لالہ ہیں ۔۔۔بات کاٹنے پر فضول سوال پر دانت پیستے جواب دیا ۔۔۔
لو اتنے سارے لالہ ہیں تیرے تجھے ہم سہلیاں نظر نہیں آئ ۔۔بھئ فرینڈز کو بھابھی بنا ۔۔۔گھر کا ماحول فرینڈ لی رہے گا نہ لڑائ کی جھنجھٹ ہوگی نہ ہی نند بھاوج کی روایتی چپقلش ۔۔۔نشاء نے ادا سے پرپوزل دیا ۔۔۔
میرا لالہ لاکھوں میں ایک ہے اورتم دس میں بھی ایک نہیں ۔. گل جاناں نے ریجیکٹ کیا ۔۔۔
کیا ۔۔۔نہ کر یار ۔۔۔میں اتنی خوبصورت ہوں اور دس میں سے ایک بھی نہیں یہ میرا قد ۔۔۔یہ میری بروان آنکھیں اور یہ گھنے بال ۔۔شولڈر تک ہیں جلد بڑے ہوجائیں گے ۔۔صراحی دار لمبی گردن ۔۔ نشاء کو صدمہ لگا ۔۔اپنی نادیدہ خوبصورتی گنوائ. .
میرا لالہ چھ فٹ سے اوپر اور تم ٹھہری پانچ فٹی ۔۔میرے لالہ کو کالی بڑی آنکھیں پسند ہیں ۔۔اور تمہاری چائنہ آنکھیں ۔۔۔اور گھنے بال تو ہیں لمبے ہونے ہوتے اب تک تو کل آپ مجھ سے ٹوٹکا نہیں پوچھتی اور یہ صراحی دار گردن یہ بھی اچھا مذاق تھا ۔۔پرسوں زنیرا کی چین تمہارےگلے میں فٹ آگئ تھی جو اس بچاری کے ڈھیلی تھی ۔۔۔موٹی تو تم ہوں ۔۔گل جاناں نے نشاء کی خوبصورتی کا پورسٹمارٹم کیا ۔۔
اوہ نہیں بنانا بھابھی نہ بنا مگر تمہیں کوئ حق نہیں میری بہن کی ان دیکھی خوبصورتی کو بدصورت بولو ۔۔بسمہ نشاء کے ہونق چہرے کو دیکھ کر لطف لینے کو بولی ۔۔۔
جس کی تم دونوں جیسی دوستیں ہو اسے کبھی دشمنوں کی ضرورت نہیں۔۔۔نشاء روہانسی ہوئ ۔۔جا مجھے نہیں کرنا تیرے لالہ سے شادی ۔۔۔
ہاں تو میں بھی تجھے کہاں گھانس ڈال رہی ہوں ۔خود ہی بیچ میں کودی اچھا بھلا میں معافی مانگ رہی تھی ۔۔صاف گوئ میں تو گل جاناں ماہر تھی ۔۔۔
پلیز مجھے معاف کردو میں نے صرف فیض سن کر تم پر بہتان لگایا ۔۔۔تم پر وہ عیب ڈالنے کی کوشش کی جو تمہارے میں نہیں تھا ۔۔خاص کر بدکاری کا الزام لگایا اور کسی عورت پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگانا کی سزا اسی کوڑے ہیں ۔پلیز مجھے معاف کردو اگر تم معاف کردوگی تو پھر میری یہ دنیا اور آخرت کی سزا معاف ہوجائے گی ۔۔۔
گل جاناں نے بھرائ آواز میں معافی مانگی ۔۔۔
آفیس کے اندر بیٹھا شادان کو اپنے دل کے انتخاب پر فخر ہوا ۔۔
یار الزام کی ٹرم اور کنڈیشنز ہوتی ہیں تیرا یہ الزام غلط فہمی اور اصلاح کی طرف تھا ۔۔لیکن اگر تجھے لگتا ہے میری معافی تم کو سکون دے گی تو میں تجھے معاف کرتی ہوں ۔۔اللّہ پاک سے درخواست ہے اللّہ کریم بھی معاف کرے ۔۔آمین ۔۔۔ چل اب تلافی کے طور پر مجھے چاٹ کھلادے ۔۔۔بسمہ نے مطالبہ کیا ۔۔
ٹھیک ہے چلو ۔۔چاروں سہلیوں کا قافلہ کینٹین روانہ ہوا ۔۔یونی کے دو دن چاروں بے حد مصروف رہی ۔۔بلکہ بچاریوں کو کھانے کا بھی ہوش نہ رہا کھانے کے لیے باقاعدہ الارم لگانا پڑا ۔۔
اللّہ کرے شادان سر کو ڈینجر ساس ملے ۔۔ورشہ نے اتنے گراف دیکھ کر بدعا دی ۔۔۔
ہیں یہ کیسی بدعا ہے ۔۔بدعا دینی ہے تو یہ دو اللّہ کرے ان کو چڑیل بیوی ملے ۔۔۔بسمہ نے لب کشائ کی ۔۔
تم دونوں ہی غلط بدعا دے رہے ہو ۔۔یہ بدعا دو سر کو بہت ساری فضول خرچ سالیاں اور ہاتھ چھٹ سالے ملیں ۔۔۔
نشاء لیز چپس منہ میں ڈالتے بولی ۔۔پھر ان تینوں نے گل جاناں کی طرف دیکھا شاید وہ ان بدعاوں کو رد کرتے کوئ دوسری بدعا دے ۔۔
مگر بچاری تو ان بدعاوں پر سہم گئ ۔۔اگر ایسا ہوا تو اس کا کوئ چانس ہی نہیں ۔۔نہ اس کی امو ظالم ۔۔۔نہ ڈھیر سارے سالے سالیاں اور نہ ہی تو وہ چڑیل مطلب اس کی دوستوں نے اسکا پتہ ہی سرے سے کاٹ دیا ۔۔۔
کیا اول فول بک رہی ہوں ۔۔ایسی بددعا سے تمہارا کیا فائدہ ۔۔۔
کیوں فائدہ نہیں بہت فائدہ ہوگا ۔۔چڑیل بیوی جب انہیں تگنی کا ناچ نچائے گی تو وہ بچارے ہوجائے گے اور ہر وقت چڑیل سے بچنے کی پلاننگ کریں گے ۔۔۔اس میں ان کی توجہ ہم سے ہٹ جائے گی اور ہم مزے سے پڑھ لیں گے ۔۔۔۔۔ورشہ نے حل بتایا ۔۔
بات سنو چڑیل تو ڈراتی ہے خون پیتی ہے ۔۔لیکن ایسی کون سی چڑیل ہے جو صرف نچوائے گی ۔۔ہائے سر ناچتے کیسے لگیں گے ۔۔نشاء نے پرسوچ دہائ دی ۔۔اور ورشہ کے پاس سے لیز پیکٹ اٹھایا کھول کر کھانے لگی
۔گل نے ایسا بھیانک منظر تصور کرنے سے پہلے ہی جھر جھری ۔
لاحول ولا قوة ۔۔۔
نشاءمثال دی ہے ۔۔گراف سے سر اٹھا کر ورشہ نے جواب دیا اور اپنے اطراف نظر ڈالی جہاں لیز کا پیکٹ غائب تھا ۔۔۔ موٹی یہ میرے لیز ہیں ورشہ نے لیز چھینے ۔۔۔
سوچ لے میری رس گلے اگر تونے اس ورشہ کو اپنی بھابھی بنانے کا سوچ رکھا ہے تو کینسل کردے جو ایک لیز کا پیکٹ نہیں دے سکتی تو تجھے عید بقرعید عیدی کسے بہیجے گی ۔۔۔نشاء کو لیز چھین لینے کا دکھ لگا ۔۔
تم فکر نہ کرو اس کے اچھے بھی بھیجیں گے ۔۔گل نے تسلی دی اللّہ کا شکر ہے شادان پر سے ان کا دھیان ہٹ کر لیز میں توآیا ۔۔گل جاناں نے سکون کا سانس لیا اگلے ہی پل وہ سانس غارت ہوا
کیا خیال ہے رس گلے ورشہ کی شادی شادان سے کرادیتے ہیں ۔۔ورشہ اور چڑیل ایک ہی بات ہے ۔۔نشاء نے مشورہ دے ڈالا
گل کے بجائے ورشہ نے ہاتھ میں پکڑی بک نشاء کے دے ماری ۔۔۔
نشاء کی بچی تجھے اپنی یہ کزن بسمہ نظر نہیں آئ ۔۔۔
ہمم جاو کیا یاد کروگی تم تینوں کے لیے یہ قربانی دی ۔۔مگر مجھے تگنی کا ناچ نچانا نہیں آتا ۔۔۔بسمہ فراخدالانہ اسٹائل میں بول کر ناچ کا سوچ کر پریشان ہوئ ۔۔۔
بس کرو تم سب اپنی بکواس ۔۔۔کوئ ایک تک کی بات نہیں کی ۔۔سارا وقت ٹر ٹر میں گزار دیا ۔۔۔کام کرو نہیں تو سر نے وہ بے عزتی کرنی ہے ہم سب کو اپنی مرحوم پر نانی یاد آجانی ہے ۔۔۔شادی کے پیچھے پڑ گئ ۔۔۔گل جاناں کی برادشت ختم ہوئ ۔۔۔ڈانٹ کر چپ کرایا ۔۔
انتھک محنت کے بعد شاندار اسائمنٹ تیار ہو ہی گیا ۔۔۔چاروں کا آج اعتماد دیدنی تھا ۔۔بول چال میں چہکار تھی ۔۔نہ جانے اسائمنٹ بنایا تھا یا پھر کے ٹو پہاڑ سر کرنے کا معرکہ مارا فخر سے گردن تانے چاروں شادان کے پیریڈ میں بیٹھی منتظر تھیں اور وقت سے پہلے کلاس میں آکر ہر آنے والے اسٹوڈنٹ کو حیران کیا کیوںکہ شادان کے پیریڈ میں لاسٹ بیٹھنے کی عادی آج فرسٹ بینچ پر جو بیٹھیں شادان جو معمول وقت سے صرف پانچ منٹ لیٹ تھا اور اب چاروں کو یہ پانچ منٹ پانچ سال لگے ۔
حد ہوتی ہے غیر ذمہ داری کی ۔۔۔اتنی دیر کردی ۔۔نشاء بڑبڑائ ۔۔
ہاں نہ ان کی وجہ سے آج کمپیوٹر کی کلاس میں ہونے والا پھڈا دیکھ کرآئ اور ابھی تک تم لوگوں کو بتا بھی نہیں پائ ۔۔بسمہ تاسف سے بولی ۔۔
ہاں نہ ڈی سے شکایت کرنا پڑے گی بھلا بتاو اسائمنٹ دینے کے چکر میں ناشتہ ٹھیک سے نہیں کیا ۔۔۔ورشہ نے تائید کی ۔۔تینوں نے گردن موڑے گل کو دیکھا ۔۔وہ کچھ نہ بولی ۔۔بس تینوں کو دیکھکر کندھے اچکائے ۔۔تینوں تاسف اور ترحم بھری نظروں سے گردن ہلاگئ ۔۔کچھ نہیں ہوسکتا ضرور اس کلاس میں گڑبڑ ہے ۔۔آتے ہی بچاری کی بولتی بند ہوگئ ۔۔نشاء نے ورشہ کے کان میں کہا وہ الگ بات ہے مستفید تینوں ہوئ ۔۔۔گل جاناں نے کلس کر گھورا ۔۔۔
نشاء ڈر کر پیچھے ہوئ ۔۔۔
بدتمیز میرے پیچھے ہی پڑ گئ ۔۔ہروقت بولنا کیا ضروری ہے ۔۔آج بول کہ دیکھاونگی گل جاناں غصے سے دل میں خود سے بات کرنے لگی مزید سوچتی ۔۔گڈ آفٹر نون سر ۔۔۔کی آواز پر چونکی ۔۔۔
ساری کلاس بیٹھ گئ ۔۔مگر گل جاناں کھڑی رہی ۔۔
شادان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
بس پھر کیا ۔۔۔آگئے آپ ۔۔فرصت مل گئ جناب کو ۔۔۔پورے پانچ منٹ لیٹ ہیں ۔۔۔شادان اور پوری کلاس نے اچنبھے سے دیکھا ۔جو اسٹوڈنٹ کے برعکس بیویوں والا لہجہے میں سوال کرگئ ۔۔۔پوری کلاس گل کے اسٹائل پر حیرت اور شادان دل میں محظوظ ہوا ۔۔ لیکن چہرے کے تاثر سے سنجیدہ رہا اور دوستیں جو شادان کو بچارا بنانے کے چکر میں تھیں خود گل جاناں کی پوچھ گچھ پر حیرت اور شادان کے ڈر کے خوف سے بے چاری ہوگئ ۔۔
بیٹھ جا گل ۔۔۔سر کو کوئ کام ہوگا ۔۔بسمہ نے عبایا کھینچا ۔۔
سر کوئ نہیں اسائمنٹ کے چکر میں ناشتہ نہیں کیا اس لیے ڈپریشن سے میرا مطلب ہے بھوک سے سوال کیا ۔۔ورشہ نے سر کو سنبھالنے کا بیڑہ لیا ۔۔
آپ کی بیٹی جیسی ہے سر غلطی ہوگئ معاف کردیں نشاء نے بھی حصہ لینا ضروری سمجھا ۔۔
لاحول ولا قوة ۔۔میری کہاں سے بیٹی ہوئ ۔۔میں تو اپنی بیٹی کی اماں بنانا چاہتا ہوں ۔۔اور یہ مجھے ہی باپ بنانے پر تلی ہے ۔۔شادان سخت بدمزہ ہوا اور غصہ سے نشاء کو گھورا ۔۔۔۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے میں اتنا عمر والا ہوں جس کی بائیس پچیس کی بیٹی ہوگی ۔۔سخت لہجہ میں نشاء سے پوچھا ۔۔
نہیں سر میرامطلب استاد روحانی باپ ہوتا ہے اور دوسرا اکیس کی ہے گل جاناں ۔۔میں نے آئ ڈی کارڈ دیکھا ہے اس کا ۔۔۔نشاء نے وضاحت دی ۔۔۔
شادان نے گہرا سانس لیا ۔۔۔میرا انتظار کیوں ہورہا تھا ۔۔اب کے گل جاناں سے براہ راست پوچھا ۔۔۔
جی وہ جی وہ گل جاناں نے تھوک نگلا ۔۔۔خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔یہ وہ اسائمنٹ ہاتھ میں اٹھا کر شادان کے سوال کا جواب دیا ۔۔۔ساری بہادری ایک سوال میں اڑن چھو ہوئ ۔۔۔
اوہ تو آج اسائمنٹ بنا ڈالا ۔۔گڈ ۔۔اور آپ نے اپنا کام پہلی مرتبہ وقت پر کیا اس خوشی میں ابھی چیک کرکے رزلٹ بتاتا ہوں ۔۔
دس منٹ بعد ویری امپریسیو ۔۔پانچ میں سے چار نمبر دیے ۔۔شادان نےخوشگواریت سے کہا ۔۔۔
اور ایک نمبر کسے دیں گے جب چار ہمیں دیے ۔۔نشاء کو ایک نمبر نہ ملنے کا غم جاگا ۔۔۔
شادان نے لاپرواہی سے کہا وہ ایک نمبر میں لاسٹ ویک اور اس ویک میں ہونے والی غلطی کی پاداش میں کاٹونگا ۔۔۔
چاروں کو مسکرا کر شادان نے دیکھا اور اپنا لیکچر شروع کیا ۔۔
۔…………………………………
گل جاناں آج کیا پکا رہی ہو ۔۔گل جاناں کو چولھے کے پاس کھڑی مصروف دیکھ کر بسمہ بولی ۔۔
چکن فرائ بسمہ پر نظر ڈالے بنا جواب دیا ۔۔
کیا اکیلے اکیلے کھاوگی ۔۔نشاء نے معصوم صورت بنا کر پوچھا ۔۔
نہیں پوری ہوسٹل کی لڑکیوں کو دعوت دی ہے آتی ہونگی ۔۔گل نے تڑخ کر جواب دیا ۔۔۔
سب کو بلایا میں اور بسمہ نے تیری مرغی چرائ تھی جو ہمیں دعوت نہیں دی ۔۔۔جواباً نشاء تلملائ ۔۔۔
لو دعوت دی تو تھی ۔۔۔گل نے کہا ۔۔مصنوعی حیرت سے بسمہ سے پوچھا ، بسمہ تم نے نشاء کو نہیں بتایا کیا ۔۔؟
کب دعوت دی میں تو ایسے ہی گندے کپڑوں میں آگئ ۔۔لڑکیاں کیا سوچیں گی ۔۔۔نشاء کپڑوں کی فکر میں مبتلا ہوئ ۔۔۔آخر تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا دعوت کا میں کہاں تھیں ۔۔ نشاء نے بھرپور طاقت سے بسمہ کو جھنجوڑا ۔۔۔
پگلی تم اسکول گئ تھیں ۔ ورشہ نے جواب دیا کیوں جھنجوڑنے پر بیڈ کے سرہانے بیٹھی بسمہ زمین بوس ہوئ پڑی نشاء کو اب گھورنے میں مصروف ہے ۔۔۔
جھوٹ مت بولو ۔۔میں اسکول نہیں گئ کبھی ۔۔۔جذبات میں الٹ بول گئ ۔۔۔
ہاں بالکل ورشہ تو اکثر جھوٹ بولتی ہے اور تم بالکل سچ کہہ رہی ہوں تمہاری باتوں سے کبھی لگتا تھا تم نے اسکول کی شکل نہیں دیکھی ہوگی مگر اب تمہاری بات نے سچ سے پردہ اٹھایا کہ تم کبھی اسکول نہیں گئ ۔۔۔گل جاناں نے میٹھا طنز کیا
اوہو میرا مطلب ہے یہ فضول جوک ہے’ تم چپ کیوں ہو بسمہ ۔۔بول کیوں نہیں رہی ۔۔نشاء نے جھلا کر بولا ۔۔
تم نہایت اندھی لڑکی ہو ۔۔ایک تو مجھے گرا دیا اور اٹھایا بھی نہیں اوپر سے تمہیں چولہے پر دیگ نظر آرہی ہے یا ننھا سا فرائ پین ۔۔۔دانت پیستے نشاء کو جواب دیا۔۔۔
تم بہت بری ہو رس گلے ۔۔۔نشاء نروٹھی ہوئ اور دھپ سے بیٹھ گئ ۔۔
میں بری اچھی اب تم میں سے کوئ بھی شرافت سے روٹی ڈال دے ۔۔میں جب تک نماز پڑھ لوں ۔۔۔گل جاناں نصیحت کرتی وضو کرنے چلی ۔۔۔
چل بسمہ مل کر ڈالیں ۔۔۔ورشہ نے بازو سے پکڑ کر بسمہ کو کھڑا کیا ۔۔
تم نہایت پوستی ہو سات روٹیاں ڈالنے کے لیے بھی مدد چاہیے ۔۔بسمہ نے منہ بنایا ۔۔
بی بی تین روٹیاں میں آرام سے ڈال لو تم میری ماں تو ہو نہیں جو خدمت کرو تم دونوں کی ۔۔۔ورشہ نے تنک کر کہا ۔۔
کھانے کے بعد نشاء نے چائے بنائ ۔۔۔چائے پیتے ورشہ کو یاد آیا آج تم دو کڑیوں کا جھگڑا بتارہی تھیں کیا قصہ ہے سناو ۔۔ورشہ نے اشتیاق ظاہر کیا ۔۔۔
ارے ہاں کمپیوٹر کی کلاس میں اسلامیات کے ایک اسٹوڈنٹ گل شیر کے لیے جھگڑا ہوا ۔۔دونوں بلیوں کی طرح لڑ رہی تھیں ایک دوسرے کے منہ بھی نوچ لیے ۔۔اف کیا لڑی ۔۔
جاری ہے
